Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مومنین اور رمضان المبارک     تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک

    تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان خوشی سے باغ باغ ہیں۔اس کی رحمتوں اور برکات کو سمیٹنے کے لیے کمر کسی ہوئی ہے۔گویا کہ ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت بھرپور برسنے کو تیار ہے یعنی جیسے ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آئے مومنین پر رحمت کی بارش بذات خود خوب برسنے کو بے تاب ہے۔یہ کوئی عام مہینہ نہیں بلکہ ماہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، رب العزت کی مومنین کے لیے بنائی گئی پیاری جنت میں داخلے اور جہنم سے آزادی و چھٹکارا پانے کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے لیے ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے کا مہینہ ہے۔ فرائض کے علاوہ نوافل کو کثرت سے پڑھنے اور صدقات و خیرات کو تیز آندھی کی طرح کرنے کا مہینہ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر قسم کی عبادات کا ایک نیکیوں کا موسم بہار ہے۔جس کے آنے سے پوری دنیا کے ہر کونے میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق ان بابرکت ایام میں اپنے خالق حقیقی کی رضامندی حاصل کرنے اور بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بخشش و رحمت کے دروازے کھولے ہوتے ہیں۔حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام ”ریان”ہے۔ اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں سکیں گے۔

    ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے،جو کہ اپنے انداز سے لوگوں کو آواز لگاتا ہے۔ اے بھلائی کے چاہنے والے! جلدی کر،یہ وقت بڑا غنیمت ہے، اتنا بڑا اجر کسی دوسرے وقت میں نہیں ملے گا۔ اے برائی کرنے والے اب تو رک جا کہ یہ وقت عذاب الٰہی کو دعوت دینے کا نہیں ہے۔ پھر جو لوگ نیکی کرتے ہیں اور برائی کرنے سے رکے رہتے ہیں ان کو آگ سے یعنی جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت شروع سال سے لے کر آئندہ سال تک سجائی جاتی ہے۔ جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا جنت کے پتوں کو سرسراتی ہوئی حوروں تک پہنچتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے خاوند بنا دے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: رمضان المبارک سے بہتر مہینہ مومن کے لیے اور کوئی نہیں۔ وہ رمضان کے اخراجات پہلے ہی تیار کر لیتا ہے اور زیادہ عبادت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ جب کہ منافق پر رمضان المبارک کا مہینہ بڑا بھاری ہوتا ہے۔ وہ اس میں مومنوں کو بد نام اور ذلیل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔(ابن ماجہ)

    رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ان ایام کو عام دنوں کی طرح بے توجہی سے گزار دینا اور پرواہ نہ کرنا۔خدانخواستہ اگر کوئی انسان اپنے گناہوں کو معاف نہ کرا سکا،اپنی بخشش اور اپنے مالک حقیقی کی رضا مندی حاصل نہ کر سکا، تو ایسے بدنصیب سے اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر کی پہلی سیڑھی پر اپنا قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین،دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ عجیب بات دیکھی ہے۔ پہلے آپ نے کبھی اس طرح منبر پر چڑھتے ہوئے آمین نہیں کہا۔ تو آپ نے فرمایا منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس شخص نے رمضان المبارک میں روزے رکھے اور جنت حاصل نہ کر سکا، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ میں نے کہا آمین،دوسرے سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل نے کہا۔ جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے تو وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل علیہ السلام نے کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کرآپ پر درود شریف نہ پڑھے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ میں نے کہا: آمین۔(ترمذی)اس حدیث مبارکہ سے رمضان المبارک کی اہمیت و عظمت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ ہم اتنی زیادہ نیکیاں کریں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو کر ہمیں جنت میں داخلہ نصیب کر دے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ ماں باپ کی اطاعت کرنا اور کثرت سے درود شریف کا اہتمام کرنابھی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

  • پی ٹی اے کی  ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی ہدایت

    پی ٹی اے کی ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی ہدایت

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ کی انتظامیہ کو اعلیٰ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس اور ٹرینڈز کو فوری طور پر بلاک یا ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی :پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے ٹوئٹر انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے مواد یا ٹرینڈز کی موجودگی آزادی اظہار کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتی، لہٰذا اسے فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے اور توہین عدالت سے متعلق مواد اتھارٹی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے-


    سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کو ہٹانے کے لیے پی ٹی اے کی درخواستوں پر موثر اور فوری طور پر کارروائی کرے۔

    یان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو معاونت و سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے بشرطیکہ وہ ملکی قوانین پر عمل پیرا رہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹوئٹر پر اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے توہین آمیز ٹوئٹس سامنے آئی تھیں۔

  • سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی
    محمد نعیم شہزاد

    فرد معاشرے کی اکائی ہے اور معاشرہ ایک فرد کی ضرورت ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ خلائق میں انسان کو شرف فضیلت اس کے علم کی بدولت دیا گیا اور علم کا منبع خدائے بزرگ و برتر کی ذات اور وحی الٰہی ہے۔ علم اور آداب و اخلاق کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل اور ادھورے ہیں۔ وہ علم جو انسان کے دل و دماغ میں تکبر اور رعونت بھر دے ایسے علم سے جہالت بھلی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتا چلوں کہ معاشرے میں فرد کے مختلف کردار ہیں جن کے اعتبار سے اسے عزت و تکریم اور فضیلت دی جاتی ہے۔ اس قرابت اور تفاوت کا لحاظ عین حکم ربی بھی ہے اور ہمارے معاشرے کا حسن بھی۔

    "کل بنی آدم خطاؤن” جیسے فرمان نبوی علیہ الصلوۃ و السلام سے ہر بشر سے خطا کا امکان واضح ہے مگر اگر ہمارے آباؤ اجداد یا بڑوں میں سے کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو ہمارے انداز تکلم کچھ اور ہوتا ہے اور ادب و احترام کو لازم ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ شاہ کی غلطی پر وزیر اور مشیر متنبہ کر سکتے ہیں مگر شان کا لحاظ کرتے ہوئے ورنہ گردن زدنی لازم آئے گی اور یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ بات کرنے والا شاہ کا وفادار اور خیر خواہ ہے بلکہ اسے گستاخ محض مانا جائے گا اور اسے اپنے عمل کی سزا بھگتنا ہو گی۔

    دین اسلام میں ایک عام قاعدہ بھی سکھا دیا گیا ہے کہ جو اس جہان فانی سے چلا جائے اس کے متعلق کسی برائی کا تذکرہ نہ کیا جائے مگر جو بات ہمارے سامنے موجود ہے یہ تو ان اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعلق ہے جن کے بارے خود رب لم یزل نے خود رضا مندی کی سند عطا کی۔ جن مالک اپنے بندے سے راضی ہے تو کسی کو اختیار نہیں کہ وہ نقض و نقص بیان کرے اور اپنے تئیں دانش ور و عقل کل قرار دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان اقدس پر ہمارا ایمان ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی رسول بھی بڑے سے بڑے ولی کامل، مجدد اور فقہیہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور کوئی بھی ان کے کف پا کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ "میرے صحابہ کو برا مت کہو”۔

    ان ساری تمہیدات کا مقصد آفتاب اقبال صاحب کا اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر ہے جو ہرگز ان کے شایان شان نہیں ہے۔ ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے خیال کرتے ہیں کہ یہ موصوف کی بشری لغزش ہے اور ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے صرف نظر برتے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ یقیناً اس سے رجوع کریں گے کہ اہل علم و دانش کی شان ہی یہ ہے کہ وہ غلطی پر اتراتے نہیں بلکہ توبہ اور اصلاح کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور تکب و رعونت میں آ کر ابطال حق نہیں کرتے۔

  • امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال   بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال

    (بقلم:جویریہ بتول).

    اللّٰہ تعالٰی اس کائنات کا خالق،مالک،رازق اور وارثِ حقیقی ہے…اس بات کا معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی کہیں نہ کہیں اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے…چاہے وہ رب تعالٰی کی وحدانیت کا قائل ہو یا نہ ہو…
    اُس عظیم ذات نے جب اپنا تعارف اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں کروایا تو کبھی "الغنی” کہہ کر کہ وہ ہر چیز،ضرورت و حاجت سے بے پرواہ ہے… وہ تو خود "البدیع” یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا موجد ہے…وہ "الخبیر” مکمل اگاہی و خبر رکھنے والا… وہ "الحکیم” کمال حکمت اور "العلیم” یعنی کمال علم والا ہے…جس کے سامنے انسان کی تمام بودی دلیلیں،اعتراضات اور سوالات بے وقعت رہ جاتے ہیں…اُس نے جو کچھ تخلیق کیا ہے… ایک خاص اندازے اور مقصد کے تحت پیدا کیا ہے…جسے چیلنج کرنے والے ازل سے سرگرداں ہیں اور ابد تک رہیں گے…!
    اُس ذات نے جب اپنا تعارف کروایا تو کیا ہی بہترین وضاحت کی کہ تمام شبہات پر لَا کی ضرب لگ گئی…نفی کر دی گئی…اور صرف اُس کے وجود کا اثبات باقی رہا…اِلَّا اللّٰہ…! احد و صمد نےفرمایا کہ اے میرے پیغمبر حضرت محمدﷺ اعلان کر دیجئے:
    قل ھو اللّٰہ احد¤ اللّٰہ الصمد¤لم یلد ولم یولد¤ولم یکن لہ کُفُوًا احد¤ (سورۃ اخلاص:1_4)
    "کہہ دیجئے کہ اللّٰہ ایک ہے،اللّٰہ بے نیاز ہے،نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے…!!!”
    وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا…
    Neither He begets and nor (He) is born…
    یعنی وہ اپنی ذات،صفات اور افعال میں…لیس کمثلہ شئیٌ ہے…!
    حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ:
    "اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے،ابنِ آدم مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے،حالاں کہ میں نے نیاز ہوں،میں نے کسی کو جنا ہے،نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے…”
    (صحیح بخاری…کتاب التفسیر).
    یعنی قرآن کی صرف یہ ایک مختصر سی سورت اللّٰہ تعالٰی کا اس قدر جامع اور بلیغ تعارف ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اِسے بآسانی سمجھ سکتا ہے،جو متعدد خداؤں کے نظریہ کا بھی رد ہے…
    اور اُس سوچ کا بھی کہ اللّٰہ کی کوئی اولاد ہے،یا اُس کے شریک ہیں یا وہ نظریہ رکھنے والے جو وجود باری تعالٰی کے قائل ہی نہیں…
    یہ سب سفاہت کی نشانیاں ہیں کیوں کہ انسان یہ تو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والا معمولی سا بلب بغیر کسی بنانے والے یا ایجاد کے ممکن ہے…
    لیکن بسا اوقات اس وسیع کائنات،سورج،چاند اور ستاروں کی باقاعدہ تخلیق سے انکار کر دیتا ہے…!
    جس رب نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو بامقصد بنایا ہے…:
    "ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،اگر ہم یوں کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے،اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے…
    بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر دے مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ نابود ہو جاتا ہے تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعثِ خرابی ہیں…”
    (الانبیآء:16_18).
    اپنی یکتائی،تنہا ہونے اور وحدانیت کی مذید دلیل دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے پس اللّٰہ ہی عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو مشرک بیان کرتے ہیں…”
    (الانبیآء:22).

    "آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے…
    وہی اللّٰــــہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا،ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں…”
    (الانبیآء:33).

    اللّٰه ہی نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کا خالق بھی وہی،اماں حوّا کا خالق بھی وہی…
    مرد و عورت کے حقوق و فرائض اور مقام و مرتبہ کا تعین کرنے والا بھی وہی…
    اُس کے سبھی فیصلے اور ارادے پر ازحکمت ہیں…
    "اور اس چیز کی آرزو نہ کرو،جس کے باعث اللّٰــــہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو انہوں کے کمایا…”
    (النسآء:32).
    اللّٰہ تعالٰی کا مردوں کو ہی انبیاء و رسل بنا کر بھیجنا بھی اس کے کامل علم کی نشانی ہے…یہ اس کی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے…نیکی و اطاعت کے کاموں میں سب کے لیے برابر اجر ہے لیکن ان کے درمیان استعداد،صلاحیت اور قوت کار کا جو فرق ہے وہ محض آرزو سے تبدیل نہیں ہو گا…
    جو خالق ہوتا ہے وہ اپنی مخلوق کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے تبھی فرمایا
    لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا…
    وہ اپنی مخلوق پر بوجھ بھی وسعت و صلاحیت کے مطابق ہی ڈالا کرتا ہے…
    یہ اعتراض کہ عورت نبیہ کیوں نہیں،اور اللّٰہ تعالٰی کی ماں نہیں،معاذ اللّٰــــہ…بیوقوفانہ اور بے معنی دلیل اور سوچ ہے…!
    "جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور تہہِ خاک کے نیچے کی ہر چیز ہے…”(طٰہٰ:6).
    ”وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے…”(البروج:16)
    یعنی اُس کے حکم و مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں،اور نہ ہی اُسے کوئی پوچھنے والا ہے…!!!
    اپنی ذاتِ بلند و برتر کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "شانِ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد رکھے،آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اُس کے بندے ہی بن کر آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر اور پوری طرح گن رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اکیلے اُس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں…!!!”
    (مریم:92_95).
    اللّٰه اکبر…
    حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں سب کو اُس نے گن کر اپنی گرفت و قابو میں رکھا ہے،کوئی بھی اپنے کرتوتوں سمیت اُس سے مخفی نہیں ہے اور اکیلا ہی اُس کی بارگاہ میں پیش بھی ہونے والا ہے…!
    رسول اللّٰہ ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا جنہوں نے قرآن سنا…اللّٰہ تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کو سورۂ جن میں یوں بیان فرمایا:
    "جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے… جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لا چکے اب ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے…اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے،نہ اُس نے کسی کو بیوی بنایا،نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللّٰــــہ کے بارے میں خلافِ حق بات کرتا تھا…”
    (الجن:1_4)
    اللّٰه کی مخلوق جن بھی شعور سے گزرے تو ایسی کمزوریوں سے رب کی تقدیس بیان فرمائی کہ تَعٰالٰی جَدُّ رَبِّنَا…!!!
    ترجمہ درج بالا آیات میں سفیھنا سے مراد ہر وہ شخص یا جنس ہے جو اللّٰہ کے بارے میں گمانِ باطل رکھتا ہے…جھوٹ و باطل میں مبالغہ کر کے…راہِ اعتدال سے دوری و تجاوز کر کے…اور ایسے سارے لوگ افترا پرداز ہیں…
    جو تصوراتی ابہام و ابطال کو زبان پر لے آ کر رب بزرگ و برتر اور خالق و مالکِ کائنات کے بارے میں گستاخانہ زبان کے مرتکب ہوتے اور اپنے اوپر حجت تمام کر کے بدترین سوچ و مثال قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں…ایسے لوگ جو معاشرے میں اُلجھن اور حدود و ادب سے تجاوز کا باعث بنیں اور آئین و قانون اور میڈیائی فورم کا غلط استعمال کریں،ان کے خلاف ایکشن لینا ذمہ داران کی ذمہ داری ہے…تاکہ ایک اسلامی مملکت اور معاشرے میں اصلاح و اثبات کو فروغ ملے نہ کہ منفیت و گستاخانہ ذہنیت کا پھیلاؤ منہ زور ہوتا چلا جائے…!!!

  • کشف الاسرار    تحریر: کاشف علی

    کشف الاسرار تحریر: کاشف علی

    تحریر کاشف علی
    کشف الاسرار

    میڈیا میں زرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ پنجاب میں مکمل لاک ڈاون کا سوچا جارہاہے فیصلہ کل کے اجلاس میں ہوگا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب یو ٹرن نہیں لیں گے اور اپنے فیصلے پہ قائم رہیں گےاور لاک ڈاون لگانے کا دباو مسترد کر دیں گے-

    البتہ ان سرکاری زعماء افسر شاہی، میڈیا اور ڈاکٹروں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ ان غریبوں کے کھانے اور دیگر ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے تو آپ کو لاک ڈاون لگانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام آباد لاہور کے وہ لوگ جو ٹوئیٹر پر بیٹھے ہیں انکے گھروں میں مہینوں کا راشن ہے لاک ڈاون کی حمائت کرتے ہیں۔ لیکن غریب جس کا چولہا ہی تب جلتا ہے دیہاڑی لگتی ہے اسکا احساس کسی کو نہیں ہے-

    آپ سروے کر لو پچھلے سال کے کرونا لاک ڈاون کا اٹھایا گیا قرض ابھی تک نہیں اتار سکے کیونکہ مہنگائی نے پیس دیا ہے ۔ اس رمضان میں لاک ڈاون سے جیسا کہ ابھی اس پہ مشاورت جاری ہے جہاں مذہبی استحصال ہوگا وہیں اس غریب کا معاشی قتل ہے کہ وہ عید پہ کپڑے تو دور کی بات روٹی کے لالے پڑ جائیں گے سفید پوش طبقہ پس کر رہ جائے گا ۔ اور ملک کی معاشی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اس سارے منظر نامے سیکولر لابیز بھی متحرک ہیں جو رمضان میں کرونا کے نام خاص طور پر لاک ڈاون کی حمائت کرکے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں

    ابھی اک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ رشتہ دار سے بات ہوئی کہنے لگے حکومت نے کہا کہ سواریاں آدھی کرو جب کرایا بڑھایا تو ایڈ منسٹریٹرلاری اڈا صاحب آکر جرمانے کر رہے ہیں 5000 دو ورنہ گاڑی بند۔ اب 5000 ہزار بھرنے والے کرایہ تو چاہے نا کم کریں مگر یہ پانچ ہزار کن کن کی جیبوں میں جائے گا ؟ درحقیقت یہ بیوروکریسی میڈیا اور ڈاکٹرز کے علاوہ کسی کا بھلا نہیں ہوگا سب جانتے ہیں کہ پچھلے سالوں مارکیٹوں سے افسر شاہی نے کیسے کمایا اور بند دوکانوں کے اندر ہوتی تجارت سے کون آکر جرمانے کے نام پر جیبیں بھرتا رہا ہے اور ڈاکٹروں کی بھی چاندی ہے پس اور مر عوام رہی ہے-

    دوسری طرف بیماری ہے تو اس بیماری کی دہشت دلوں میں اسقدر کیوں بٹھائی جارہی ہے جبکہ اس سے مرنے والوں کی ریشو پاکستان میں 2% بھی نہیں جبکہ اس میں بھی اک بڑی تعداد ایسے ہی کرونا کے کھاتے میں ڈالی گئی ہےجن کی موت کو کرونا کی وجہ بتایا جارہاہے سائنسی طور پر اور میڈیکلی طور پر ابھی وہ بھی پروف نہیں کیا جاتا بس جو مرگیا اور اسکو کرونا تھا تو بس کرونا کی وجہ سے ہی مرا جبکہ وجہ کچھ اور بھی تو ہوسکتی ہے۔

    پہلے مسلمان حکمران وہ تھے جو کہتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی بھوکا مرا تو وہ ذمہ دار ہیں البتہ آجکل ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ہرآنے والی حکومت ڈالتی ہے-

    آپ sop پر عمل کروائیں مگر آپ لوگوں کو دہشت ذدہ مت کریں کیونکہ خوف سے اموات ہونا بھی بالکل ثابت ہے لہذا بے جا خوف پھیلا کر لوگوں کا قتل عام مت کریں-

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز  از تحریر امجد  خان نیازی

    ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز از تحریر امجد خان نیازی

    9 / 11 کے بعد خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کی آمد کے بعد ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہو گیا .
    پاکستان دشمن عناصر کو اِس سے فائدہ ملا ، کے وہ پاکستان کے خلاف اپنی مذموم کاروائی جاری رکھ سکیں .پشاور اسکول حادثے کے بعد آپْریشَن ضرب عذب شروع کیا گیا اور زمینی محاذ سے دشمن کو پیچھے دھکیلا گیا . Borders پر باڑھ لگا دی گئی اور یوں دشمن کو زمینی کاروای سے روک دیا گیا .
    مگر ساتھ دشمن نے سائبر اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے کارروائی شروع کی . ملک کے اندر کالی بھيڑوں کو خرید کر افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک کی گئی.

    پاکستان کے اندر بہت سے ضمیر فروشوں کو خریدا گیا اور ان کے ذریعے ملک کو بدنام کرنے کی سازشیں کی گئیں .افواج پاکستان نے فوج کے اندر پلنے والے ضمیر فروشوں کو گرفتار کیا . یوں بریگڈیر رضوان کو پھانسی پر لٹکا کر نشان عبرت بنایا گیا. مسلح افواج ایک مظبوط اور منظم ادارہ ہے جس کے اندر سزا و جزا کا مضبوط نظام موجود ہے . اسی زمن میں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس سے افواج پاکستان کے خلاف کام کرنے عناصر کی سَر کوبی کی جائے.  یہ بِل اسی مقصد کے لیےمتعارف کروايا گيا ہے. جس میں افواج پاکستان کی تضحیک و تمسخر کے خلاف سزايئں موجود ہیں.

    ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی درج زیل سزايئں موجود ہیں

    جب کے امریکہ میں بھی افواج کی تضحیک کے خلاف قانون موجود ہے.

    بھارت اور امریکہ دو بڑی جمہوری ریاستیں ہیں جن میں یہ قانون موجود ہے . جب کے دوسرے چھوٹے ممالک میں بھی یہ قانون موجود ہے .جب کے صدارتی نظام رکھنے والے روس اور چائنا جیسے بڑے ملکوں میں بھی یہ نظام موجود ہے .
    بِل پر اٹھائے جانے والے اعتراضات:

    1 . کمیٹی نے بِل کو drop کر دیا تھا اِس لیے یہ بِل دوبارہ نہیں آ سکتا.

    میں نے درخواست بھیجی تھی کے چونکہ میرا بِل ادَم حاضری کی وجہ سے خارج کیا گیا ہے لحاظہ اسکو سنا جائے .جس کی وجہ سے یہ بِل کمیٹی کے سامنے دوبارہ پیش ہوا ہے. اسلئے یہ کہنا کے یہ بِل دوبارہ زیر غور کرنا گھیر قانونی ہے ، غلط بات ہے اور یہ عین رولز کے مطابق ہے.

    دوسرا اعتراض کے کون اِس قانون کا Respondent بنے گا ؟ ؟
    جواب: ریاست ایک وجود رکھتی ہے اور ریاست اپنے وجود کی بقا کے لیے ریاستی اِدارون کے ذریعے اپنے فرائض سَر انجام دیتی ہے.
    وجہ یہ ہے کے ہَم ہر عدالت کے باہر فلان بنام سرکار کی آوازیں سنتے ہیں . اِس زمن میں آئیں کا آرْٹِیکَل 174 بڑا کلیئر ہے جو کہتا ہے

    تيسرا اعتراض کے کاروائی کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟

    جواب: Section500 پہلے ہی مجموعہ تعزيرات پاکستان 1860 ميں شامل ہے اور يہ دفعہ ہر اس فرد جس کی تضحیک یا کردار کشی ہی ہو ، اسکو یہ اختیار دیتی ہے کے وہ ہتک عزت کا مقدمہ دایر کر سکے ..
    میری یہ ترمیم دفعہ 500 الف کا اضافہ کرتی ہے جس کے تحت افواج پاکستان کا جان بوجھ کر تمسخر اڑانے والے کے خلاف عدالتی کاروائی ہو گی. سول عدالت کے تحت یا نارمل طریقے کی کاروائی ہو گی. اِس دفعہ کے تحت defamation suit
    فائل کرنا ہو گا اور اس کی سماعت سول عدالت کے تحت ہوگی.

    چوتھا اعتراض کہ KPK  صوبے کی طرفسے اس بل کی مخالفت کی گئ ہے .
    جواب:  جو بھی جواب دیے دیے گئے وہ بغیر لوجک یا Reasoning  کے ہیں . General opinion یہ آئی کے یہ بِل آئیں اور قانون سے متصادم ہے . مگر دَر حقیقت یہ کسی قانون سے متصادم نہیں . اگر ہوتا یا ہے تو حوالہ دیں . میں کھلا چیلنج کرتا کرتا ہوں کے بتائین کے یہ کس قانون یا شک کے متصادم ہے ؟اڑا دینا کہ یہ قانون آئین سے متصادم ہے غلط اور غیر منطقی بات ہے.
    حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون کسی دیگر قانون سے متصادم نہیں ہے مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قوانین وضع کرنے میں خود مختارہے اور قوانین وضع کرنا اس کا بنیادی کام ہے. constitution اس بنیادی کام کی بھر پور وضاحت کرتا ہے اور اس میں ذرا سابھی ابہام نہیں ہے آرٹیکل 141 اور 142 (2) اور (b) aur آرٹیکل 143 کی وضاحت کرتا ہے کہ مجلس شوریٰ قوانین وضع کرسکتی ہے.

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کو Judicial Review کا اختیار حاصل ہے اور اس review کے تحت جو قانون بھی آئین سے متصادم ہو وہ کالعدم قرار پاتا ہے.

    آرٹیکل 141 :آئین کے تابع ،مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قوانین وضع کرسکتی ہے (بشمول ایسے قوانین جو اضافی علاقائی حدود رکھتے ہوں )
    یہ قوانین پورے پاکستان یا اس کے کسی خطہ کے لیے ہوسکتے ہیں اور کوئی صوبائی اسمبلی صوبہ کی نسبت یا اس کے کسی خطہ /حصہ کی نسبت قوانین بناسکتی ہے
    آرٹیکل 142: آئین کے تابع !(a) مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کو خصوصی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی معاملہ سے متعلق قانون سازی کرسکتا ہے.

    مجلس شوریٰ پارلیمنٹ اور کسی صوبائی اسمبلی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ فوجداری قانون ،ضابطہ فوجداری اور شہادت (گواہی) سے متعلق قانون سازی کرسکتی ہیں
    آرٹیکل 143 : اگر کسی صوبائی اسمبلی کے کسی قانون کی کوئی شق ،مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے قانون کی کسی شق سے متصادم ہو جس سے متعلق مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قانون وضع کرنے کا اختیار رکھتی ہے تو ایسی صورت میں مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کا پہلے بنایا گیا ہو یا بعد میں بنایا گیا ہو ، جو برتری حاصل ہوگی اور صوبائی اسمبلی کا قانون اس تصادم کی حدتک کالعدم قرار پائے گا.

  • مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    ماہرین نے تحقیق کے دوران مصر کے ریگستانی علاقے سے 3 ہزار سال پُرانا’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت کرلیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی ارضیاتی تاریخ کے ماہر زاہی ہواس نے مصری بادشاہوں کی مشہور وادی لکسور کے قریب ریت میں دبا تین ہزار سال قدیم شہر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مصر کی ماہرین آثار قدیمہ یہ قدیم شہر توتخ عنج آمون کے مقبرے کے بعد ملنے والا سب سے اہم اور تاریخی دریافت ہے ریت میں ہزاروں سال سے دبا یہ شہر ’’توتخ عنک آمون‘‘ کا شہر ہے۔

    اس حوالے سے آثار قدیمہ کے پروفیسر بیٹسی برائن نے بتایا کہ یہ شہر تین ہزار سال قبل ریت میں دب گیا تھا یہاں سے زیورات، رنگوں کے برتن، تصویری اینٹیں اور مٹی کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں ان تمام چیزوں پر نویں فرعون آمون ہاٹپ کی مہر ثبت ہیں۔

    مصر میں ​​نوادرات کے سابق وزیر ہواسس نے اس دریافت کو قابل فخر کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے غیر ملکی مشن آئے اور یہاں کھدائی کرکے گمشدہ شہر کی تلاش کی لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشتگردی ،ماؤں کے  مزید  لخت جگر چھین لیے

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشتگردی ،ماؤں کے مزید لخت جگر چھین لیے

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشتگردی ،ماؤں کے مزید لخت جگر چھین لیے

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشتگردی کاسلسلہ جاری ہے . قابض بھارتی فورسزنےضلع شوپیاں میں مزید3کشمیریوں کوشہیدکردیا.بھارتی فوج نےمیں سرچ آپریشن کی آڑمیں نوجوانوں کونشانہ بنایا،مقبوضہ وادی میں4روزکےدوران شہیدکشمیریوں کی تعداد10ہوگئی،بھارتی بربریت کےخلاف حریت رہنماوَں کی کال پرمقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال،بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑمیں نوجوانوں کونشانہ بنایا.

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال

     

    مقبوضہ وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے قتل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وادی میں خوف کے سائے برقرار ہیں جبکہ سری نگر کی جامع مسجد سمیت دیگر مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی جاتی۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے