Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم  پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں

    انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں

    ابھی ہم سے امریکہ میں گزشتہ پینتیس سال سے مقیم محترم ظفر عالم فون پر پاکستانیوں کی انگریزی غلامی پر افسوس کا اظہار فرما رہے تھے۔ پاکستانی کسی بھی میدان میں آگے نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کی انگریزی غلامی نے ان کو کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے کہا لمز کا طالب علم امریکہ آ کر انگریزی میں فیل ہوگیا۔ہم یہ بات سن کر سناٹے میں آگئے۔ لمز؟ جی! لمز! یہی تو وہ طبقہ جو اپنے مفادات کی خاطر ننانوے اعشاریہ نناوے فیصد عوام پر انگریزی مسلط کئے بیٹھاہے۔اپنی ساری جہالت’ نالائقی کو انگریزی کے پردے میں چھپائے بیٹھا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ جب لمز کا طالب علم بھی امریکہ جا کر انگریزی میں فیل ہو جاتے ہیں تو پھر بائس کروڑ پاکستانیوں پر انگریزی کیوں دن رات مسلط ہے؟ جو انگریزی پاکستانیوں کو امریکہ و برطانیہ میں اعلی ملازمت نہ دلوا سکی پاکستان کا لمز کا گریجویٹ بھی وہاں درجہ چہارم کی ملازمت کررہا ہے تو پھر کیوں نہ پوری دنیا کی طرح اپنا تمام کاروبار مملکت اپنی قومی زبان میں کیا جائے۔ جس نے امریکہ یا برطانیہ جانا ہے وہ انگریزی زبان کے کورس کرلیں جیسے پوتی دنیا کررہی ہے۔۔
    لمز’ جی ائی کے’ فاسٹ’ ایچی سن ‘ وغیرہ جو پاکستان میں انگریزی کے اعلی اور مہنگے ترین ادارے ہیں یہ بتادیں کہ کہ انہوں نے اس ملک کو کتنے عالمی سطح کے سائنسدان’ انجنیئر’ ماہر معیشیت دئیے ہیں؟
    ہمیں محترم ظفر عالم نے بتایا کہ میں نے اپنے بچوں کو اپنی ذاتی کوشش سے اردو ‘ عربی بھی سکھائی ہے۔ انہوں نے ہمیں اپنے ایک واقعہ سنایا کہ وہ ایک گورے کو انٹرویو دے رہاتھا۔۔میرے ایک غلط جملے پر اس نے مجھے ٹوک دیا۔ تو ظفر عالم نے اس کو کہا کہ تم شکر ادا کرو کہ میں تمہاری زبان بول رہا ہو ‘ تم تو میری اتنی زبان بھی نہیں بول سکتے ! یہ ہوتی ہے قومی حمیت ! یہ ہوتی ہے خود داری!!
    انہوں نے مذید کہا کہ پاکستانی الٹا بھی لٹک جائیں تو کبھی بھی امریکیوں جیسی انگریزی بول ہی نہیں سکتے۔۔ترقی کرنا تو دور کی بات ہے! انہوں نے بتایا کہ اس وقت امریکہ میں چالیس ہزار ست زیادہ بھارتی ڈاکٹر ہیں ۔ پاکستانی صرف چار ہزار۔۔ہم نے ان کو بتایاکہ بھارت میں انگریزی ایسے مسلط نہیں جیسے پاکستان میں ہے بھارت میں کوئی اے لیول سسٹم نہیں۔۔وہاں مقابلے کا امتحان اردو’ انگریزی سمیت سترہ زبانوں میں دیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں پرائمری تعلیم مادری زبان اور ھندی میں دی جاتی ہے۔مودی سرکار ہر جگہ ھندی میں اپنا مافی الضمیر کھل ڈھل کر بیان کرتی ہے! اب وہ زیادہ سے زیادہ ھندوستانی زبانوں کو فروغ دے رہے ہیں۔۔انگریزی کی بالادستی ختم کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں انگریزی کے تسلط نے اس قوم کو غلامی ‘ بوٹی مافیا’ رٹا بازی’ جعلسازی’ دونمبری’ قومی احساس کمتری کے سوا کچھ نہیں دیا۔۔انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں! اس کا حل یہی ہے کہ پاکستان کی ترقی’ خوشحالی’ یکجھتی’ سائنس وعلم کے فروغ کے لئے فوری طور پر اردو کو ہر شعبہ زندگی میں نافذ کردیا جائے۔۔ورنہ اس قوم کے پلے کچھ نہیں رہے گا!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں   تحقیق

    فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل کمیونی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی ’فائیو جی‘ انسانی صحت کےلیے بالکل محفوظ ہے۔

    باغی ٹی وی :’جرنل آف ایکسپوژر سائنس اینڈ اینوائرونمنٹل ایپی ڈیمیولوجی‘ کے تازہ شمارہ جات کے مقالہ جات نمبر 1، نمبر 2 کے مطابق اب تک کی سب سے بڑی اس سائنسی تحقیق میں دو الگ الگ جائزے لیے گئے جن میں 6 گیگاہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں (ملی میٹر ویوز) کی کم مقدار سے انسانی صحت کےلیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے 138 سابقہ مطالعات اور 100 سے زائد تجربات کا نئے سرے سے تجزیہ کیا گیا۔

    جائزے کا کام ’آسٹریلین ریڈی ایشن پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی‘ (ARPANSA) اور سوئنبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مطالعہ اب تک فائیو جی ٹیکنالوجی اور انسانی صحت میں تعلق کے حوالے سے کیا گیا سب سے بڑا مطالعہ ہے لیکن اس ضمن میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    6 گیگا ہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں کے خلوی تقسیم، خلیوں میں جینیاتی تبدیلیوں، خلیوں کے مابین پیغامات کے تبادلے اور خلوی جھلی کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کے علاوہ ایسے ہی دوسرے کئی پہلوؤں پر کی گئی سائنسی تحقیقات کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین کو ’ایسی کوئی مصدقہ شہادت نہیں ملی جو یہ ثابت کرتی ہو کہ فائیو جی نیٹ ورک میں استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں انسانی صحت کےلیے خطرناک ہیں۔

    واضح رہے کہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کو موبائل کمیونیکیشن کی ’اگلی نسل‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں 28 گیگاہرٹز سے 39 گیگاہرٹز فریکوئنسی تک کی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں سے چند سائنسی تحقیقات ایسی ضرور تھیں جن میں فائیو جی فریکوئنسی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے کیے گئے تھے لیکن اوّل تو ان میں کئی طرح کی خامیاں تھیں اور دوسرے یہ کہ ان میں حاصل شدہ نتائج کی کسی بھی دوسرے معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔

  • فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

    فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

    دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے سائٹ سے تناؤ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فیس بک کے بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم پرقواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے سیاسی و سماجی گروپوں کو مہم اور ان کو جوائن کرنے کی پروموشن کو ختم کررہی ہے –

    فیس بک کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد فیس بک کے قواعد وضوابط توڑنے والے گروپوں کی رسائی کو محدود کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی ایسےگروپس تک الگورتھم سفارشات کے ذریعے عوام کی رسائی بھی محدود کرنا ہے جوماضی میں فیس بک کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔

    اپنے ایک انٹرویو میں فیس بک انجینئرنگ کے نائب صدر ٹام ایلیسن کا کہنا تھا کہ فیس بک تیزی سے گروپوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور صارفین چاہتے ہیں کہ ہم فیس بک پر موجود سیاسی مواد میں کمی لائیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب صارفین کو کسی بھی عنوان پر بنائے جانے والے گروپ کو سفارشات کے حصول کے لیے 21 دن انتظار کرنا پڑے گا تاکہ کمپنی یہ جان سکے کہ گروپ کو آپریٹ کیسے کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ بھی جنوری میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی گروپوں کو دی جانے والی سفارشات کو کم کیے جانے کا مقصد بیان کرچکے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ صارفین فیس بک پر سیاسی مواد کم دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ محققین اور سول رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے فیس بک کو تنبیہ کی جاچکی تھی کہ عوامی دلچسپی میں اضافے سے متعلق بنائے گئے گروپس بھی ماضی میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

  • جنوبی آفریقہ سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی دوسری کرونا ٹیسٹ رپورٹ آگئی

    جنوبی آفریقہ سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی دوسری کرونا ٹیسٹ رپورٹ آگئی

    جنوبی آفریقہ سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی دوسری کرونا ٹیسٹ رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی : پی سی بی کے مطابق دورۂ جنوبی افریقا کے نامزد اسکواڈ میں شام تمام ارکان کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ آگئی ، اطمینا کی بات یہ ہے ک یہ رپورٹ بھی منفی آئی ہے۔

    ان کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ کل لاہور میں کیا گیا تھا، وبائی بیماری کا خطرہ ٹل جانے کے بعد قومی اسکواڈ آج سے ٹریننگ شیڈول کے مطابق شروع کرے گا۔

    میڈیا کو پی سی بی نے بتایا کہ اسکواڈ کے 35 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جو کہ منفی آئی ہے یہ ٹیسٹ جمعرات کو کیے گئے تھے جس کے لیے کھلاڑی لاہور پہنچے تھے .

    خیال رہے کہ گزشتہ روزدورہ جنوبی افریقہ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ کی پہلی کرونا ٹیسٹنگ شروع ہوئی تھی۔

    نمائندہ ہم نیوز کے مطابق اعلان کردہ قومی اسکواڈ کی پہلی کرونا ٹیسٹنگ آج اپنے اپنے شہروں میں ہوئی اور پہلے مرحلے میں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کھلاڑیوں کے ساتھ آفیشلز کی ٹیسٹنگ بھی ہوئی۔

    18 مارچ کو تمام اسکواڈ کو لاہور رپورٹ کرنے پر دوسری ٹیسٹنگ کی جائے گی جبکہ قومی وائٹ بال اسکواڈ کی تیسری اور چوتھی ٹیسٹنگ 21 اور 24 مارچ کو لاہور میں ہو گی۔

  • ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کے سینیٹ‌الیکشن جیتنے کی خوشی میں ظہرانہ

    ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کے سینیٹ‌الیکشن جیتنے کی خوشی میں ظہرانہ

    ننکانہ صاحب میں معروف سیاسی و سماجی رہنماء اقبال سہیل شاہ کی طرف سے سینٹ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی خوشی میں پارٹی رہنماؤں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا،مسیحی برادری کے قدیم گاؤں مارٹن پور میں دیئے گئے ظہرانے میں وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ کے کوآرڈی نیٹر اور سابق چیئر مین یونین کونسل رائے جہانگیر خاں بھٹی مہمان خصوصی تھے جبکہ ظہرانے میں زین شاہ،ملک عرفان اعوان،ایوب گل اور ڈاکٹر اے ڈی سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور معززین علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی

    ،مارٹن پور پہنچنے پر رائے جہانگیر بھٹی کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رائے جہانگیر بھٹی نے کہا کہ سینٹ الیکشن نے اپوزیشن کی رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے،

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی قیادت میں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے،آنے والا وقت انشاء اللہ بہت بہتر ہو گا،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اعجاز احمد شاہ کی بھرپور کوشش ہے کہ مسیحی برادری کے قدیم دیہات ینگسن آباد اور مارٹن پور میں سوئی گیس فراہم کی جائے،انشاء اللہ بہت جلد اس حوالے سے بہت اچھی خبر آئے گی۔

  • دعوت فکر ہے یاران نکتہ دان کے لیے

    دعوت فکر ہے یاران نکتہ دان کے لیے

    سلام،سفیر سری لنکا۔۔۔جنرل(ر)سعد خٹک
    (تحریر،علی عمران شاہین)
    ……..
    سری لنکا میں مسلم خواتین کے نقاب لینے پر پابندی کی خبریں سامنے آنے کے بعد مسلم دنیا نے حسب روایت اسی بے حسی بلکہ بہرے اندھے گونگے پن کا مظاہرہ کیا جیسا وہ طویل عرصے سے امت کے ہر چھوٹے بڑے دکھ درد پر کرتی آئی ہے۔ لیکن اسی دوران جب سری لنکن حکومت صاف کہہ چکی تھی کہ مسلم خواتین کے نقاب اور مسلم مدارس پر پابندی کا فیصلہ ہو چکا ہےاور اسے فقط پارلیمان سے روایتی منظوری کی ضرورت ہے،دنیائے اسلام سے پہلی اور واحد آواز سری لنکا میں متعین پاکستانی سفیر میجر جنرل(ر)سعد خٹک کی سنائی دی جنہوں نے سری لنکن حکومت کو اس فیصلے پر آڑے ہاتھوں لے لیا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیااور سری لنکن حکومت کوویڈ 19کے تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہی ہے مقامی حکومت کا عام مسلمانوں پر دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر نقاب پر پابندیاں لگانا یہاں اور دنیا بھر کے اہل اسلام کے لئے تکلیف کا باعث اور مسلم اقلیت کے بنیادی انسانی حقوق چھیننے کے مترادف ہوگا۔اس سے دنیا میں انسانوں کی باہم نفرت اور تقسیم میں اضافہ ہوگا۔۔۔۔۔(انہوں نے ساتھ ہی سری لنکا کی مسلم خواتین کے پردے پر پابندی لگانے کے حوالے سے بی بی سی کی شائع کردہ خبر بھی شئیر کی)
    ٹوٹر پر بیان جاری کرنے کے بعد دوسرے دن پاکستانی سفیر نے سری لنکا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور ان کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا اور ان کو بتایا کہ سری لنکن حکومت کی اس طرح کی پالیسیوں سے پاکستانی عوام میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اس عمل کی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔
    سعد خٹک کی سری لنکن وزیر خارجہ سے ملاقات کے تھوڑی دیر بعد ہی سری لنکا کی حکومت کی جانب سے حیران کن بیان جاری ہوا جس میں ایک سینئر سری لنکن وزیر اور وفاقی کابینہ کے ترجمان کہیلیا رمبوک ویلا نے کہا کہ سری لنکا کی حکومت کو مسلم خواتین کے پردے پر پابندی عائد کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور یہ کہ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ مکمل اتفاق رائے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیاجائے گا اور تمام فریقوں کو اس پر اعتماد میں لیا جائے گاـ
    اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ لنکن حکومت کے ہفتہ وار مشاورتی اجلاس میں یہ معاملہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں آیا۔
    یاد رہے کہ سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارتھ ویرا سیکرا نے 13 مارچ کو اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے کابینہ کے ایک حکم پر دستخط کر دیئے ہیں جس کی رو سے سری لنکا میں برقعہ پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے گی جبکہ 1000 کے قریب مسلم مدارس بھی بند کر دئیے جائیں گے ۔ کابینہ کا یہ حکم پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور رسمی کارروائی کے بعد یہ پابندی عائد کر دی جائے گی۔ مسلم ممالک کی نمائندہ سمجھی جانے والی تنظیم او آئی کے رکن
    57 ممالک میں سے پاکستان کے سفیر وہ پہلے اور واحد عہدے دار تھے جنہوں نے سری لنکا کی مسلمان ماؤں بہنوں کی عصمت اور عزت کے لئے آواز بلند کی اور اس پر شاندار کامیابی حاصل کی یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے میجر جنرل(ر)سعد خٹک کی کوششوں سے ہی سری لنکا میں کرونا سے فوت ہونے والے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تدفین کی اجازت ملی ورنہ سری لنکن حکومت نے مسلمانوں کو بھی ان کی میتیں جلوانے پر مجبور کر رکھا تھا اور یہ کام حکومت خود اپنی نگرانی میں کرتی تھی اور مسلمانوں کی میتیں بھی ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتی تھیں۔اس ضمن میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہےکہ جب حال ہی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سری لنکا کے دورے پر گئے تو وہاں کی حکومت نے مسلم پارلیمنٹرینز کو عمران خان سے ملوانے سے صاف انکار کر دیا تھا لیکن جنرل(ر)سعد خٹک نے ایک بار پھر جراتمندانہ کردار ادا کیا اور اپنے طور پر نہ صرف مسلم پارلیمنٹرینز کی عمران خان سے ملاقات کرائی بلکہ سری لنکا کے قائد حزب اختلاف کو بھی عمران خان سے ملوایا اور عمران خان کے دورے کے خلاف بعض حلقوں کی جانب سے جاری تنقید کو خاموش کرا دیا۔
    سری لنکا کی حکومت کی جانب سے یہ اقدام دو سال قبل ملک میں ایسٹر سنڈے پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے متعدد منظم حملوں کے بعد کیا جا رہاتھا جب اپریل 2019 میں خودکش حملہ آوروں نے متعدد مقامات پر حملے کیے جن میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
    اس وقت جب حکام نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کی کوشش کی تھی تو عارضی طور پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اب حکومت اس پابندی کو مستقل کرنے جا رہی تھی۔
    سری لنکا میں مسلم خواتین کے برقعے پر پابندی کے خلاف سوشل میڈیا پر کھل کر آواز بلند کر کے جنرل سعد نے بجا طور پر پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے جس پر وہ خراج تحسین کے لائق ہیں۔ہم تو اس موقع پر اللہ سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ پاکستان کو ہر جگہ ایسے ہی سفیر میسر آئیں جو دینی و ملی معاملات پر ایسے ہی مسلم امہ کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرنے والے ہوں۔۔۔۔
    سچی بات تو یہ ہے کہ جنرل ر سعد خٹک نے چند ماہ کی قبل ملنے والی اس ذمہ داری میں جتنا بڑے معرکے سر کئے ہیں دو ارب کے لگ بھگ مسلمان اس کا آج تک سوچ ہی سکتے تھے اور کسی میں اتنی حمیت و غیرت نہیں دکھائی دی کہ وہ گنگ زبان کو جنبش ہی دےدیتا۔ اگر آج چار دانگ عالم میں صرف اور صرف مسلمان ہی ہر طرح کے ظلم و تعدی کا شکار ہیں تو اس کی وجہ ان کا یہی مردہ لاشیں بن جانا اور محض یہ سوچ کر وقت گزارنا کہ میں تو محفوظ ہوں کے علاوہ کچھ اور نہیں۔یہ امہ یہ بھی نہیں سوچتی کہ اگر ان کے ملکوں میں کسی کافر کو اس کی اپنی غلطی سے اگر کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کا ذمہ دار بھی انہیں گردان کر ہر طرف سے عالمی سطح پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا جاتا ہےاور عالمی طاقتیں اور ان کے گماشتہ ادارے مسلم ملکوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔اس کھلی ناانصافی اور دوعملی پر بھی اس امت کی آنکھیں کھلنے کا نام نہیں لیتں اور یوں ان کی حیثیت برائلر مرغیوں جیسی ہوچکی ہے جو باری باری کٹتی جاتی ہیں اور کسی کو یہ نظر نہیں آتا کہ جو ہاتھ باربار پنجرے میں آتا ہے وہ سب کو دبوچ دبوچکر ذبح کرتا جارہا ہے اور بچ جانے والی آخری مرغی بھی چھری پھرنے تک بے فکر دانا چگ رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
    اس سب کے ساتھ حیران کن مذموم کردار ہمارے اس پاکستانی میڈیا کابھی ہے جس نے اپنے ملک کے ایک سفیر کے اتنے بڑے کارنامے کو کسی سطح پرم معمولی جگہ دینا گوارہ نہ کیا جبکہ بھارتی میڈیا اس کی کوریج کررہا ہے کہ پاکستانی سفیر کے ردعمل کی وجہ سے سری لنکن حکومت اپنا طے شدہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوئی ہے۔
    دعوت فکر ہے یاران نکتہ دان کے لئے

  • واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی

    واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی

    دنیا بھر میں مقبول ایپ واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 (iOS9) کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی ہے اور اب صرف آئی فون 5 یا اس کے بعد نئے آنے والے ایپل اسمارٹ فونز پر ہی واٹس ایپ چل سکے گا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے حال ہی میں شائع ہونے والے سپورٹ ڈاکومنٹ میں بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ نے آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ ختم کر دی ہے اور اب صرف 2016 میں ریلیز ہونے والے آئی او ایس 10 پر چلنے والے فونز پر ہی واٹس ایپ چلےگا۔


    خیال رہے کہ اب تک آئی او ایس 9 والے آئی فونز پر بھی واٹس ایپ استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن اب سپورٹ ختم ہونے کا مطلب ہے کہ آئی فون 4s رکھنے والے صارفین کو واٹس ایپ دستیاب نہیں ہو گا۔

    یا اگر آپ آئی فون 5 یا اس کے بعد کا کوئی ماڈل رکھتے ہیں اور اس پر ابھی تک آئی او ایس 9 انسٹال ہے تو فوراً اپ گریڈ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ پہلی مرتبہ نہیں کیا جا رہا ہے، گزشتہ سال واٹس ایپ نے آئی او ایس 8 پر چلنے والی ڈیوائسز کے لیے بھی سروس بند کردی تھی اس لیے جو صارفین آئی فون 4s استعمال کرتے ہیں تو فوراً اپنی چیٹ کا بیک اپ بنا لیں تاکہ اسے کسی دوسرے فون میں منتقل کر سکیں۔

  • جعلسازی سے بچانے والے وہ خاص لیبل جو دکھائی نہیں دیتے

    جعلسازی سے بچانے والے وہ خاص لیبل جو دکھائی نہیں دیتے

    روس کی آئی ٹی ایم او یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے لیبل ایجاد کرلیے ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن انہیں ایک خاص اسکینر کی مدد سے دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے جعلسازوں کےلیے اس غیرمرئی لیبل کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ہوگا-

    باغی ٹی وی :آج کل ’نقالوں سے ہوشیار‘ کرنے والے ہولوگرافک اسٹیکرز اور لیبلز بہت عام ہوچکے ہیں لیکن وہ سب کے سب دکھائی دیتے ہیں لہٰذا کوئی بھی جعلساز انہیں دیکھ کر ان کی ہوبہو نقل تیار کرکے صارفین کو دھوکا دے کر اصل کمپنی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    آن لائن ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق تاہم روس کی آئی ٹی ایم او یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے لیبل ایجاد کرلیے ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن انہیں ایک خاص اسکینر کی مدد سے دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے جعلسازوں کےلیے اس غیرمرئی لیبل کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ہوگا’نادیدہ‘ لیبل تیار کرنے کےلیے ماہرین نے سلیکان پر مشتمل انتہائی باریک فلم استعمال کی، جو بالکل شفاف ہوتی ہے۔

    اگلے مرحلے پر اس فلم میں باریک باریک چھید کردیئے گئے جن میں سے چند سوراخوں کے اندر، ایک خاص ترتیب سے، اربیئم نامی ایک نایاب عنصر کے ذرّات بھر دیئے گئے جبکہ باقی سوراخ خالی رکھے گئے۔

    اس لیبل پر ایک مخصوص نظام سے منسلک اسکینر کے ذریعے لیزر ڈالی جاتی ہے جس سے ان سوراخوں میں موجود اربیئم کے ذرّات ایک منفرد رنگ سے روشن ہوجاتے ہیں یوں ایک شناختی نمونہ (پیٹرن) بن جاتا ہے جس کے فوری اور خودکار موازنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق کس کمپنی سے ہے۔

    لیبل چونکہ غیر مرئی ہوتا ہے اور صرف مخصوص لیزر ڈالنے پر ہی دکھائی دیتا ہے، لہذا جعلسازوں کےلیے بھی اس کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔

  • کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں    ڈاکٹر مصباح احمد

    کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں ڈاکٹر مصباح احمد

    سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد نے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے نصاب کا مسئلہ اجاگر کرنے پر باغی ٹی وی شکریہ ادا کیا ہے-

    باغی ٹی وی :سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سکولز نے ایک بار پھر بہت مایوس کیا پہلے جہاد کی آیات نصاب سے نکالیں پھر ختم نبوت کے معاملے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا پھر قادیانیوں کو نوازا جہلاء کو منصب تعلیم پر بٹھایا اسلامی ہیروز کے ہوتے ہوئے مسٹر چپس کا رٹا لگوایا شروع سے لے آخر تک مسلمان بچوں کی زبان پر اللہ اور اس کے رسول کا نام نہ آنے دیا الف انار تو پڑھایا الف اللہ یا اذان نہ دماغ میں بٹھایا-


    انہوں نے برہمی کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن اب تو حد ہو گئی ہے آٹھ سالہ بچی کے سیکسوئل ریلیشن کا پوچھ کر کیا دماغ میں بٹھانا چاہتے ہیں اس کے دماغ میں کیا ڈالنا چاہتے ہیں دیکھ نہیں رہے آج کل ہمارے اسکولز کالجزیونیورسٹیز میں کیا کچھ ہو رہا ہےڈرگزرومان خودکشی بس تعلیم نہیں باقی سب کچھ ہے پرائیویٹ سکولز مافیا کے ڈسے لوگوں کی آخری امید سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں ،مگر جب وہاں بھی گوروں کے سکولز کا نظام چلے تو بتائیے کہ مسلمان کہاں جائیں-

    ڈاکٹر مصباح احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہو بے حیائی طوفان بدتمیزی اور طلباء کی ناکامی کی اصل وجہ سرکاری نظام اور نا اہل انتظامیہ ہے علم کے نام پر سوائے علم کے باقی سب کچھ سکھایا جاتا ہے میوزک پیریڈ کے نام پر بچوں کو ڈسکو سکھایاس کے نام پر ننگا کر کے اوچھی حرکات سکھائی جاتیں ہیں کرایٹیویٹی کے نام پر کری یٹر سے ہی دور کیا جاتا ہے اسلام کا کون سوچے کا دین کا درد کون سمجھے گا ہم اپنے گھریلو مسائل ذاتی کاروبار جاب کی فکر سے ہی نکلتے جو دین اور تعلیم کا کچھ سوچیں –

    انہوں نے کہا کہ باقی بکاؤ میڈیا کا بھی کردار آپ کے سامنے ہے بھلا ہو باغی ٹی وی کا جس نے اس معاملے کو اجاگر کر کے ہمیں خبردار کیا-

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری سکولوں کے بچوں اور بچیوں میں ایک پرفارما تقسیم کیا جارہا ہے جس میں کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں. جس میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا آپ کبھی جنسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں.اگرچہ اس پرفارما کی ہیڈنگ میں لکھا ہے کہ یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ہے تاہم معصوم طلبہ جو کہ دس گیارہ سال کی بچے ہیں ان سے یہ سوال کیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوں .

    اس پرفارما میں بچوں کے متعلق کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن میں بچوں کی صحت کے متعلق عنوان کے تحت میڈیکل ہسٹری کے سوالات ہیں. جس میں والدین کی سرجیکل ہسٹری ، میڈیکل ہسٹری ، بچے کا وزن کم ہونا یا زیادہ ہونے کے بارے میں سوالات ہیں.

    اسی طرح جنرل اوور آل فزیکل ایگزائمن کے تحت بچے کا قد ، وزن ، بلڈ پریشر اور دیگر سوالات ہیں. جنرل زہنی صحت کے بارے میں کئی سوالات ہیں جس میں سیلف کیئر یعنی خود اپنا کتنا خیال رکھتا ہے ، رپورٹ بلڈنگ ، صورت حال کو سمجھنا اور اپنے نگران کو اس بارے بتانے کی صلاحیت بارے سوالات ہیں.

    نفسیاتی ہسٹری کے تحت بھی کافی سوالات ہیں جس میں ، سگرٹ نوشی ، کسی طرف سے ہراساں کیے جانے کا واقعہ. چوری کی عادت ، سکول لیٹ آنا، بری صحبت، منشیات کا استعمال جنسی سرگرمی وغیر ہ شامل ہے .

    ریاست مدینہ کا نام اور کمسن طالبات سے جنسی سوالات، فرید پراچہ، ناصر اقبال پھٹ پڑے

    کیا آپکی آٹھ سالہ بیٹی جنسی تعلقات قائم کرتی ہے؟ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں والدین سے سوال

  • کثرت کی طلب ایک فتنہ  بقلم: عمران محمدی

    کثرت کی طلب ایک فتنہ بقلم: عمران محمدی

    کثرت کی طلب ایک فتنہ

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    حرص و ہوس میں مبتلا انسان اپنی آخرت سے غافل ہو جاتا ہے

    فرمایا باری تعالیٰ نے
    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ
    تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔
    التكاثر : 1

    حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
    یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔
    التكاثر : 2

    كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
    ہرگز نہیں، تم جلدی جان لو گے۔
    التكاثر : 3

    ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
    پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لو گے۔
    التكاثر : 4

    كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ
    ہرگز نہیں، کاش! تم جان لیتے، یقین کا جاننا۔
    التكاثر : 5

    لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ
    کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔
    التكاثر : 6

    ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ
    پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔
    التكاثر : 7

    ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ
    پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔
    التكاثر : 8

    کثرت کی حرص میں مبتلا انسان حلت و حرمت کے پیمانے بھول جاتا ہے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنْ الْحَرَامِ
    (بخاري ،كِتَابُ البُيُوعِ،بَابُ مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ المَالَ،2059)
    لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔

    کثرت کی طلب میں فقراء کو نظر انداز کرنے کا انجام

    سورہ قلم میں ایسے لوگوں کا ایک واقعہ اللہ تعالیٰ نے نقل کیا ہے
    یہ چند بھائی تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے بہت شاندار باغ عطا فرمایا تھا، مگر بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالتے، انھوں نے قسم کھالی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے، کسی مسکین کو نہ آنے دیں گے اور نہ انھیں کچھ دیں گے، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے جانے سے پہلے ہی آگ لگنے یا کسی اور آسمانی آفت سے باغ برباد ہو گیا۔ صبح گئے تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
    یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
    القلم : 17
    وَلَا يَسْتَثْنُونَ
    اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔
    القلم : 18
    فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ
    پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔
    القلم : 19
    فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
    تو صبح کووہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو گیا۔
    القلم : 20
    فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ
    پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
    القلم : 21
    أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ
    کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگرتم پھل توڑنے والے ہو۔
    القلم : 22
    فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ
    چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔
    القلم : 23
    أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ
    کہ آج اس (باغ) میں تمھارے پاس کوئی مسکین ہر گز داخل نہ ہونے پائے۔
    القلم : 24
    وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ
    اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔
    القلم : 25
    فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ
    پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔
    القلم : 26
    بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
    بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
    القلم : 27
    قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ
    ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔
    القلم : 28
    قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
    انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
    القلم : 29
    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ
    پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا،آپس میں ملامت کرتے تھے۔
    القلم : 30
    قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ
    انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
    القلم : 31
    عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ
    امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔
    القلم : 32
    كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
    اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
    القلم : 33

    کاروبار، تجارت اور مال وزر میں اتنا کھو جانا کہ دعوت و جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے دوری ہوجائے، یہ ہلاکت ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
    اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
    البقرة : 195

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت ہم انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی اور اس کے مددگار بہت ہو گئے تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے چھپا کر دوسروں سے کہا کہ ہمارے اموال (یعنی کھیت اور باغات وغیرہ) ضائع ہو گئے، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی ہے اور اس کے مدد گار بہت ہو گئے ہیں، چنانچہ ہم اگر اپنے اموال میں ٹھہر جائیں اور جو ضائع ہو گئے ہیں انھیں درست کر لیں(تو بہترہے)، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری بات کی تردید کرتے ہوئے یہ آیت اتار دی
    لھذا ’’ہلاکت‘‘ ہمارا اپنے اموال میں ٹھہر جانا، انھیں درست کرنا اور جنگ کو چھوڑ دینا تھا۔
    ابو ایوب رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے ہی میں نکلے رہے یہاں تک کہ روم کی سرزمین میں دفن ہوئے۔
    [ ترمذی، التفسیر، باب و من سورۃ البقرۃ : ۲۹۷۲ و صححہ الألبانی ]

    آدمی کے مال کی حقیقت

    ابو مُطرّف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ مَالِيْ، مَالِيْ، قَالَ وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! مِنْ مَّالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟ ]
    [ مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن : ۲۹۵۸ ]
    ’’ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اے آدم کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تونے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور پرانا کر دیا، یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا۔‘‘

    مالداری سے اخروی فائدہ اٹھائیں

    عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

    «اِغْتَنِمْ خمساً قَبْلَ خمسٍ، شَباَبَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ وَ صِحَتَكَ قَبْلَ سُقمِكَ وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَ حَیٰوتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»

    ”پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو! اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔”

    رواه الحاكم وصححه الألباني في صحيح الجامع الصغير (رقم 1077)

    ابن آدم کی حرص کی انتہا

    ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَّالٍ لاَبْتَغٰي ثَالِثًا، وَلاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ تَابَ ]
    [ بخاري، الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال: ۶۴۳۶ ]
    ’’اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا اور آدم کے بیٹے کے پیٹ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس کی طرف پلٹ آتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔‘‘

    مال و جاہ کی محبت آدمی کے دین کو کس قدر نقصان پہنچاتی ہے

    سب سے زیادہ نقصان دہ چیز، دو چیزوں کی حرص ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ]
    [ ترمذي، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان… : ۲۳۷۶، وصححہ الألباني ]
    ’’دو بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اتنا خراب نہیں کرتے جتنا آدمی کے مال اور شرف ( اونچا ہونے) کی حرص اس کے دین کو خراب کرتی ہے۔‘‘

     اے طائرِ لاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھّی
     جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

    وہ لوگ سب سے زیادہ نقصان والے ہوتے ہیں جن کی ساری محنت اور کوشش محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے

    قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا
    کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔
    الكهف : 103
    الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا
    وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔
    الكهف : 104

    ’’جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا

    انسانی طبیعت میں حرص اور کنجوسی ہے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ
    اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے
    النساء :128

    اور فرمایا
    قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
    کہہ دے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے اور انسان ہمیشہ سے بہت بخیل ہے۔
    الإسراء : 100

    سورہ نساء میں ہے
    أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا
    یا ان کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟ تو اس وقت تو وہ لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے نقطہ کے برابر نہ دیں گے۔
    النساء : 53

    مال کی حرص بڑھاپے تک آدمی کے ساتھ رہتی ہے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ، وَ يَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَتَانِ حُبُّ الْمَالِ، وَطُوْلُ الْعُمُرِ ]
    [ بخاري، الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ… : ۶۴۲۱ ]
    ’’آدمی بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بڑی ہوتی جاتی ہیں، مال کی محبت اور لمبی عمر کی محبت۔‘‘

    جتنی زیادہ نعمتیں، اتنا زیادہ محاسبہ

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ]
    [ مسلم، الأشربۃ، باب جواز استتباعہ غیرہ… : ۲۰۳۸ ]
    ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں ( بھی) سوال ہوگا۔‘‘

    کھجوریں اور جو کی روٹی کھا کر چٹائی پر سونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ}
    تم سے ایک دن تمام نعمتوں کی بابت لازماً پوچھا جائے گا۔

    ذرا سوچیے کہ پھر ہمارا کیا بنے گا !!

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
    اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا۔
    الإسراء : 36

    دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راستہ چلنے والا رہتا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
    «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»
    (بخاری ،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»،6416)
    ” دنیا میں اس طرح ہوجاجیسے مسافر یا راستہ چلنے والا ہو “

    حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا
    اضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا
    (ابن ماجہ، كِتَابُ الزُّهْدِ،بَابُ مَثَلُ الدُّنْيَا،4109)
    (السلسلۃ الصحیحۃ 1388)
    :رسول اللہ ﷺ چٹائی پر (آرام کرنے کے لئے) لیٹے تو اس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر ظاہر ہوگئے ۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں فرماتے توہم آپ کے لئے کوئی چیز (بستر وغیرہ)بچھادیتے جس کے ساتھ اس (چٹائی کی سختی)سے بچاؤ ہوجاتا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘میرا دنیا سے کیاتعلق ! میری اور دنیا کی مثال توایسے ہے، جیسے کوئی سوار (مسافر)سائے کے لئے درخت کے نیچے ٹھہرا،پھر اسے چھوڑ کر روانہ ہوگیا’’

    اخراجات میں میانہ روی اختیار کریں گے تو کثرت کی حرص کنٹرول ہوسکتی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو فضول خرچی اور بخل کے بغیر
    (ابو داؤد و علقہ البخاری)

    خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کیجئے
    وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا
    اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا۔
    الإسراء – آیت 29

    اور فرمایا
    وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا
    اور مت بےجا خرچ کر، بےجا خرچ کرنا۔
    الإسراء – آیت 26
    اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا
    بیشک بےجا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔
    الإسراء – آیت 27

    کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کریں
    يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ المسرفین
    اے آدم کی اولاد ! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بیشک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔  الأعراف – آیت 31

    قناعت پسند شخص کامیاب ہوگیا

    حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ
    (مسلم ،كِتَابُ الزَّكَاةِ،بَابٌ فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ2426)
    ” وہ انسان کا میاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی

    اپنے سے زیادہ مالدار لوگوں کی طرف نہ دیکھیں

    کثرت کی حرص سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے سے زیادہ مالدار لوگوں کی طرف دیکھا ہی نہ جائے اور نہ ہی ان کی شاہانہ زندگی زیر بحث لائی جائے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى
    اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

    میزان بینک کے مالک کا بیٹا

    اونچے سٹیٹس اور ٹھاٹھ باٹھ کی باتیں سننے، کرنے اور دیکھنے سے انسان کی طبیعت میں اسی طرح کے ماحول اور سہولیات کو حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے اور پھر اگر یہ حاصل نہ ہو سکے تو مایوسی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے

    ہمارے استاذ گرامی جناب یوسف طیبی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک واقعہ سنایا
    وہ فرماتے ہیں کہ میزان بینک کے مالک کا بیٹا کراچی کے ایک مہنگے سکول میں تعلیم حاصل کرتا تھا کہ جہاں پر یورپ کے مالدار لوگوں کے تذکرے اس کے نصاب تعلیم میں پڑھائے جاتے تھے کچھ دنوں کے بعد دیکھا گیا کہ بچہ مایوس اور پریشان سا رہتا ہے باپ نے وجہ پوچھی تو بیٹے نے بتایا کہ ابا جی ہمارے گھر میں سویمنگ پول نہیں ہے میں اس لیے پریشان ہوں

    وائٹ بورڈ پہ لگی لائن کو چھوٹا کریں

    کہتے ہیں ایک استاد نے وائٹ بورڈ پہ مارکر کے ساتھ ایک لکیر کھینچی اور کلاس میں موجود تمام شاگردوں سے کہا اس لکیر کو کسی طرف سے کاٹے بغیر چھوٹا کریں سب شاگرد حیران رہ گئے کہ کاٹنا بھی نہیں اور چھوٹا بھی کرنا ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے
    جب جواب دینے میں ناکام ہوگئے تو استاد نے اسی کے ساتھ اس سے کچھ بڑی لکیر کھینچی
    اور پوچھا بتاؤ کون سی لکیر چھوٹی ہے تو تمام شاگردوں نے کہا ہاں جو پہلے تھی وہ چھوٹی ہے
    استاد صاحب نے کہا دیکھا ناں کیسے یہ لکیر بغیر کاٹے چھوٹی ہو گئی ہے
    پھر انہوں نے کہا کہ جب یہ اکیلی تھی اس کا کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں تھا تو اس کو کوئی بھی چھوٹا نہیں کہتا تھا مگر جب اس کا اس سے بڑی کے ساتھ موازنہ ہوا تو یہ چھوٹی محسوس ہونے لگی کیوں کہ کیمپریزن میں بڑی چیز بھی چھوٹی بن جاتی ہے
    یہی حالت ہماری زندگی کی سہولیات کی ہے جب ہم اپنے پاس موجود نعمتوں کو دوسروں کے پاس موجود نعمتوں سے موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنی نعمتیں چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں

    اپنے سے کمزور لوگوں کی طرف دیکھیں تاکہ شکر پیدا ہو

    حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ
    (كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ،بَابٌ «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ»،7430)
    "اس کی طرف دیکھو جو(مال ور جمال میں) تم سے کمتر ہے،اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے فائق ہے ،یہ لائق تر ہے اسکے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے جو تم پر کی گئی۔”

    پہننے کے لیے جوتا نہیں ہے تو شکوہ شکایت کی بجائے اسے دیکھیں جس کے پاؤں ہی نہیں ہیں

    ایک شخص اللہ تعالیٰ سے جوتا مانگ رہا تھا اور کچھ شکوہ بھی کر رہا تھا کہ میں اتنا غریب ہوں کہ میرے پاس پہننے کے لئے جوتا بھی نہیں ہے دعا سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلا تو ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے فوراً کہنے لگا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے جوتا نہیں دیا تو کوئی بات نہیں پاؤں تو دیئے ہیں ناں

    کمزوروں کے ساتھ رہنے کی، نبوی خواہش

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ]
    ’’اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا : ’’یا رسول اللہ! یہ کیوں؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔‘‘
    [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین… : ۲۳۵۲ ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزارے کی زندگی پسند کیا کرتے تھے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ]
    ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔‘‘
    [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : ۱۰۵۵ ]

    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
    (ترمذي،أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​2362صحيح)
    نبی اکرمﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے

    تکلفانہ زندگی کی خواہش کا بہترین تریاق آخرت کی یاد

    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے جبکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مضبوط بٹی ہوئی پٹّی کی چارپائی پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلوؤں اور (چارپائی کی سخت کھردری) پٹّی کے درمیان کوئی چیز (بچھی ہوئی) نہ تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ نرم و نازک جلد والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو بدلا تو (نظر آیا کہ اس سخت) پٹّی کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرم و نازک جلد اور پہلوؤں میں دھنسنے کے نشانات تھے۔ پس (یہ دیکھ کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    اے عمر! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
    یا رسول اﷲ! بخدا میں نہ روتا اگر میں یہ نہ جانتا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اﷲ تعالیٰ کے ہاں قیصر و کسریٰ سے زیادہ مقام و مرتبہ ہے۔ بے شک وہ دنیا میں عیش و عشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اِس حالت میں ہیں جسے میں دیکھ رہا ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    یَا عُمَرُ، أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ لَنَا الْآخِرَۃُ وَلَھُمُ الدُّنْیَا
    اے عمر! کیا تو اِس بات پر راضی نہیں کہ ہمارے لیے آخرت اور اُن کے لئے دنیا ہو۔
    اُنہوں نے عرض کیا :
    (یا رسول اﷲ!) کیوں نہیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    سو (اصل حقیقت) یہی ہے۔”

    جو انعامات اللہ کے پاس ہیں وہ دین سے غافل کردینے والی تجارت سے کہیں بہتر ہے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
    اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
    الجمعة : 11

    یعنی اللہ کی خاطر تم جس لہو (کھیل تماشے) اور تجارت کو چھوڑو گے اللہ کے پاس اس سے کہیں بہتر بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں موجود ہے

    اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین ہوتو دنیا کی مصیبتیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتیں

    اگر کسی سے کہا جائے کہ آگ میں چھلانگ لگا دو تو کوئی بھی آگ میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار نہیں ہوگا لیکن اگر یقین دلا دیا جائے کہ آگ کے دوسری طرف ایک کلو سونا پڑا ہے اگر آپ کسی طرح اس طرف پہنچ جائیں تو وہ آپ کو مل جائے گا تو بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو اس میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہو جائیں گے
    سونے کے حصول کا یقین ان پر آگ کی مصیبت کو ہلکا کر دے گا
    بالکل اسی طرح اگر ہمارے دلوں میں اللہ سے ملاقات کا یقین پختہ ہوجائے اور آخرت کی نعمتوں پر یقین آجائے تو دنیا کی مصیبتیں ہمارے لئے بہت ہلکی ہو سکتی ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں :
    اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنْ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلْ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا
    (ترمذی ،ابْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،باب دعاء اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ،3502)
    یعنی اے اللہ ہمیں اپنی ملاقات اور جنت کی ملاقات اور یوم آخرت کی ملاقات کا ایسا پختہ یقین عطا فرما دے کہ دنیا کی مصیبتیں ہمیں بالکل ہلکی محسوس ہونا شروع ہو جائیں

    اولاد کی تربیت کی فکر کرو سہولیات کی نہیں

    کثرت مال کی حرص اور ہوس پیدا کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے آدمی اپنی اولاد کو نازونعم میں دیکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور پھر اس خواہش کو پروان چڑھانے کے لیے ہر طرح سے کوشش کرتا ہے

    اپنی اولاد کی اچھی تربیت کی فکر کرو
    سہولیات کی فکر مت کیا کرو
    پرندے اپنے بچوں کو اڑنا اور پرواز کرنا سکھاتے ہیں گھونسلے بنا کر نہیں دیتے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو سہولیات کی بجائے تعلق باللہ پر تربیت کرتے ہیں

    فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ
    کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔
    ( Sahih Bukhari#3705)

    ایک آدمی پنکھے سے جھول گیا

    ایک شخص صرف اس وجہ سے خودکشی کرتے ہوئے پنکھے سے جھول گیا کہ اس نے اپنے بچوں کو چھوٹی عید پر کپڑے بنوا کر دیے تھے اور جب بڑی عید آئی تو اس کے بچوں نے پھر کپڑوں کی ڈیمانڈ کی اس کی جیب میں اتنے پیسے نہیں تھے کہ نئے کپڑے بنوا کر دے سکتا
    بچوں نے کہا کہ بابا ہمارے ہمسایوں نے تو اپنے بچوں کو نئے کپڑے بنوا کر دیے ہیں تو وہ دل برداشتہ ہو گیا اور اس نے خودکشی کر لی

    حالانکہ اگر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو سامنے رکھا ہوتا اور اپنے بچوں کو وہی بات سمجھاتا جو نبی علیہ السلام نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سمجھائی تھی تو کبھی بھی خود کشی کی نوبت نہ آتی

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا
    مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میںبہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔
    الكهف : 46

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو دنیا کی زندگی پر آخرت کو ترجیح دینے کا سبق دیتے ہیں

    بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔ اسے ’’ایلاء‘‘ کہتے ہیں

    پھر آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
    الأحزاب : 28
    وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
    اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
    الأحزاب : 29