Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث   بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    ہم میں سے اکثر لوگ پریشان رہتے اور خوشی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں لیکن ہم یہ اہم ترین نکتہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ خوشی کا وجود ہمارے اندر سے پھوٹتا ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اور ہم ہمیشہ اُسے باہر تلاش کرتے رہتے ہیں…

    خوشی اور اطمینان کا بنیادی تعلق یقین،شکر،مثبت سوچ، متوازن اندازِ زندگی اور رضا بالقضا سے ہوتا ہے…

    اس تحریر میں آپ کو چند ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں بتائی جا رہی ہیں جنہیں سفرِ زندگی میں خوش رہنے اور اُداسی و غم اور قلق و اضطراب کے بچنے کے نسخے کہا جا سکتا ہے…!

    ہمیشہ دوسروں کی خوبیوں کو اُجاگر کریں،چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظر انداز کریں…بتدریج اُن کی نشاندہی اور اصلاح کی جانب توجہ دلائیں،کیوں کہ ایک دم کسی کو اُس کی خامیاں ہی خامیاں بتانا اُسے سخت نفسیاتی دباؤ میں لے جا کر چڑچڑا کر سکتا ہے،جبکہ کسی کو اُس کی مثبت خوبیوں اور صلاحیتوں کا یقین دلانا،حوصلہ بڑھانا،گائیڈ لائن دینا اُس کے اندر کی مذید خوبیوں کو اختراع کرنے سامنے لانے اور نکھارنے میں مددگار ہوتے ہیں…وہ بسر و سہولت کے پہلو پر خوشی محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھے گا…کیوں کہ دین اصلًا قلبی اضطراب،بے چینی،ذہنی انتشار اور اجتماعی بے راہ روی سے نجات دلانے کے لیے ہے کیوں کہ یہ ساری چیزیں،اُمید،حوصلہ،تدریج اور نرمی کی متقاضی ہیں…سو اُمید بنیں،مایوسی نہیں…حوصلہ بڑھانے والے ثابت ہوں،گِرانے والے نہیں…!!!

    آزمائش اور رنج و الم دو وجہ سے آتے ہیں…کبھی ہماری اوقات بڑھانے کے لیے…کبھی ہمیں اوقات دکھانے کے لیے…پہلی صورت میں ہمیں ٹیسٹ کرنے کے لیے کہ ہم کتنے مضبوط ہیں…کھرے اور کھوٹےکی پہچان کے لیے…یقین و شک کو جدا جدا کرنے کے لیے…پھر جو اُس امتحان کے معیار پر پورا اترتا ہے و بشر الصبرین¤بشارتوں کے سندیسہ کا حقدار ٹھہرا دیا جاتا ہے…کبھی کبھی جب ہم حد سے باہر پاؤں مارنے لگ جاتے ہیں…بے جا غرور میں کھیلنے لگتے ہیں…گھمنڈ میں مبتلا ہونےلگتے ہیں…زیادہ پھولنے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں تو ہماری حفاظت،ہمیں صحیح راستے پر گامزن رکھنے کے لیے یہ رنج ہی معاون بن جاتے ہیں،ہمیں ہماری اوقات،انسان کی کمزوری اور حقیقت کی پہچان کروا جاتے ہیں…ولا تفرحو بما ما اٰتکم…یہ دو اصول ہمارا نفسیاتی دباؤ کم اور اعصاب کو درست رکھتے ہیں.

    راحت کے بنیادی اسباب میں میں سب سے زیادہ توانائی فراہم کرنے والی چیز قضا و قدر پر ایمان ہے کہ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ تقدیر لکھی جا چکی ہے…میں نے کوشش کرنی ہے باقی میرے رزق،نفع و نقصان،نشیب و فراز،چیزوں کا آنا جانا،غموں کو ٹالنے اور خوشیوں سے نوازنے کا اختیار میرے رب کے ہاتھ میں ہے تو وہ کبھی پریشان نہیں رہ سکتا…واقعات پر افسوس کرتا ہے اور نہ رنجیدہ ہوتا ہے…

    ماضی چلا گیا ہے وہ کبھی لوٹنے کا نہیں،مستقبل ابھی آیا نہیں وہ بہت دُور ہے،ہاں بہت دُور کہ کیا خبر سانس کی آخری ہچکی پہنچ کر یومِ جزا و سزا تک کا فاصلہ پیدا کر دے…ہماری زندگی تو صرف آج ہے…ہم غم و قلق کو اپنے اندر قید کیوں کریں؟نیکی،احسان،شکر و خوشی کا تو ہمارے پاس آج ہی کا دن ہے…اس کی برکات و ثمرات سمیٹ لیں یہی یقینِ مومن ہوا کرتا ہے…!!!

    جب ہم زندگی کا کوئی مقصد بنا لیتے ہیں…چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو…اپنی راہ کی روشنی،نیکیوں میں اضافہ اور دوسروں کی زندگی میں روشنی کی کرن پھیلانے کی ادنٰی سی کوئی کاوش ہی کیوں نہ ہو…تو یہ چیز ہمیں راحت دیتی ہے…

    بندۂ مومن کے دل کو یہ بات اُمید کے باغ و بہار سے ہم آہنگ کر دیتی ہے کہ یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اجر و ثواب ہے،دس گنا سے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک…کسی کا درد بانٹ دیں،بات چیت کا موقع دے کر اُس کے اضطراب و بے چینی کو سمجھیں،کسی کو معاف کر دیں،جہالت پر اندازِ تکریمانہ اختیار کر جائیں،اچھے نام سے پکار دیں،اچھی بات کہہ دیں،اچھی بات اور کام دیکھ کر حسد کی بجائے برکت کی دُعا دے دیں…یہ چیزیں ہمیں حرص،دل کی تنگی سے محفوظ رکھتی ہیں اور اپنےمقصد کو یاد رکھناہمیں متحرک رکھتا ہے.

    ہم لوگ تنہائی اور ملنے ملانے کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار رہتے ہیں…یا مکمل تنہائی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر سوار ہو کر کوئی بھی تعلق نبھانے لگ جاتے ہیں…یعنی کُچھ لوگ اس انتہا تک چلے جاتے ہیں کہ بالکل ہی سب چھوڑ دیتے ہیں خوشی نہ غمی،عیادت نہ مفید اجتماعات میں شرکت…اور کئی ہر وقت ہی اختلاط،محفل،لہو و لعب،ہنسی مذاق،فضول مباحات،قیل و قال یہ دونوں صورتیں ہی نقصان دہ ہیں، ہماری تنہائی کا مقصد غلط معاشرتی اثرات سے محفوظ رہنا،لوگوں کو تکلیف دینےسے بچنا اور مفید سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنا ہو یعنی ولا تعاونو علی الاثم و العدوان…اور ہمارا میل ملاپ کا مقصد حقوق کی ادائیگی،اجتماعی عبادات میں شرکت،اچھے اجتماعی و سماجی کاموں پر تعاونو علی البر والتقوی کی صورت میں ہو یہی اعتدال ہے اور یہی مقصود ہے…!!!

    یہ زندگی بہت سادہ اور آسان بھی ہے لیکن ہم اسے نفس کی تسکین…لوگ کی رضا کے لیے تکلفات کی دلدل میں اُتر کر اِسے مشکل بنا دیتے ہیں…اور ستم یہ کہ اہلِ دنیا راضی پھر بھی نہیں ہوتے…

    ہم جب رب کے احکامات پر عمل اس زندگی کا مقصد بنا لیں تو یہاں ہماری ذات پر ہماری برداشت سے زیادہ بوجھ ہے ہی نہیں…کوئی طعنہ،شرمندگی اور احساسِ کمتری نہیں…قضا و قدر پر یقین ہے…اپنے رزق،پونجی،اور صلاحیتوں پر اطمینان ہے… جو جو بس میں ہے کرتے جانا ہے،ذرا کوتاہی نہیں لیکن جہاں بے بسی یا غیر ضروری بوجھ ہے وہاں کوئی طوق اور بیڑی بھی نہیں…میسر نعمتوں،احسانات اور خیر کا شکر ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ کے عطیات سے مستفید ہو کر انہیں ثمر خیز بنانا ہے لیکن ہم ایسی صلاحیتوں کو عقل و بدن میں خفتہ رکھتے اور پریشان و شکوہ کناں رہتے ہیں…!

    یہ قانونِ فطرت ہے کہ سب لوگ جمال،سیرت،رزق،چستی،ہشیاری اور تعلیم و تعلم میں برابر نہیں ہو سکتے…یہ تفاوت اس کائنات کا حُسن ہے…اگر سبھی لوگ ہر معاملے میں یکساں اور برابر ہوں تو کتنی یکسانیت اور بوریت جنم لے، ایک دوسرے کی قدر کون کرے…؟

    صرف خوب صورتی کی اہمیت ہوتی تو سیرتوں کو صورتوں پر ترجیح کون دیتا؟اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا کہ ہم نے بعض کو بعض سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں،یہ اللّٰہ تعالٰی کی حکمت ہی ہے جس سے کائنات کا یہ نظام بحسن و خوبی چل رہا ہے،برابری میں تو کوئی کسی کے کام کے لیے تیار ہی نہ ہوتا…یہ احتیاجِ انسانی ہی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتی ہے…

    تو ہمیں چاہیے کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے دوسروں کی کمیوں کو اُچھالنے، حوصلےپست کرنے کی بجائے آگے بڑھنے کی جہت دیں…!

    ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرہ ہمیں بدلے گا…ماحول ہمیں متاثر کرے گا…جب کہ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ اور ماحول تشکیل کون دیتا ہے؟سوسائٹی تو انفرادی چیز ہے،اُسے اجتماعیت کا رنگ تو ہم افراد ہی دیتے ہیں…

    لیکن جب ہم نفس کی اصلاح،تزکیہ اور خواہشات کی غلامی سے جان چُھڑانے کی کوشش ہی نہیں کرتے تو آہستہ آہستہ ماحول بھی خراب ہونے لگتا ہے…پھر معاشرہ بدلنے لگتا ہے اور بالآخر ہم بھی اس ماحول کی طلب اور خواہشات کی غلامی کرتے کرتے سٹریس،ڈپریشن اور اینگزائٹی کی وادیوں میں اُتر کر کھوکھلے اجسام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اپنے ہاتھوں ہم وائٹل فورس کا نقصان کرتے ہیں اور پھر شکایتیں لوگوں سے،معاشرے اور ماحول سے کرتے رہ جاتے ہیں…

    بے شک انسان خسارے میں ہے،سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیے…!!!اچھائی اور برائی کی تخلیق کا مقصد انسان کی آزمائش ہے،اگر اچھائی ہی اچھائی کا وجود ہو اور برائی کہیں بھی موجود نہ ہو پھر آزمائش کیسی…؟

    یہ اچھائی یا برائی سوچیں ہیں،نیتیں ہیں،جس طرف دلچسپی بڑھتی جائے گی،ویسے ہی عمل سرزد ہو کر نتائج پر اثر انداز ہوتے چلے جائیں گے…اگر نفس اچھائی کو ریسپانڈ ہی نہیں کرے گا،اُس کی ترجیحات دنیوی سرکل میں ہی گھومتی رہیں گی تو یقینًا وہ تزکیہ کی بھٹی سے گزرنا پسند نہیں کر رہا…برائی اور مفاد ہی اُس کی تسکین بنتی جا رہے ہیں،تو پھل بھی ویسا ہی سامنے آئے گا لیکن اگر مقصد اللّٰہ کی رضا بن رہا ہے تو سارے بند دریچے کھلتے چلے جائیں گے نفس برائی پر مزاحمت کرے گا اور بھلائی کو ریسپانس…تب رب کا سارا سسٹم آہستہ آہستہ اس کی راہ کی رکاوٹیں دور کرتا جاتا ہے،قد افلح من تَزَکّٰی¤

    جو سامنے ہے اُسے دیکھنے،سمجھنے اور ہینڈل کرنے کی کوشش کیجیے…آنے والے واقعات و حالات سے حد سے زیادہ جذباتی وابستگی ہماری توجہ موجود سے ہٹا اور منقسم کر دیتی ہے…پھر انسان اُسی چیز کو سوچتا اور یاد کرتا رہتا ہے جس کے بارے میں یقین سے کُچھ کہا بھی نہیں جا سکتا،ہمیشہ نفس کو اپنا ہمدرد نہ سمجھیں بلکہ حقائق کا مشاہدہ کریں…

    ذہنی سکون کے لیے جو کام گھرکےاندر ہوں اُن کا دباؤ باہر کےکاموں کےدوران اور جو کام باہر کے ہوں،ان کی سوچ گھر میں گزرتے وقت پر مسلط نہ کریں کیوں کہ ایمان داری سے اَدا کیے جانے والے گھر اور باہر کے فرائض پریشان نہیں کر سکتے…لیکن جب جزئیات میں سُقم رہ جائےاور کام دھیان اور یکسوئی سےنہ ہو تو ضمیر میں خلش باقی رہتی ہے…

    اس کا آسان حل حال میں موجود رہنا اور توجہ ہے… ماضی و مستقبل میں نہیں…نفس امارہ انسان کو برائی پر اُکساتا ہے…اگر انسان کسی غلطی یا برائی کا مرتکب ہو جائے تو پھر اُس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو…دو ہی صورتیں ہوتی ہیں کہ یا تو انسان کھلم کھلا یہ بات تسلیم کر لے کہ وہ بُرا ہے،دنیا کے سامنے،دوستوں کے سامنے لیکن یقینًا وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا نفسِ لوامہ ملامت کرنے لگ جاتا ہے…توہین محسوس ہوتی ہے خود کی…تب ایک لمحہ آتا ہے دل کی دنیا میں ہدایت کی طلب کا…لیکن ہدایت صرف منہ سے کہہ دینے سے نہیں آیا کرتی،اس کے لیے تو خلوص درکار ہے…جب وہ پودا اُگ آئے تو پھر ہدایت پر گامزن رہنے کی راہیں بتدریج آسان ہوتی چلی جاتی ہیں…ہدایت کے بعد کوئی آزمائش،تکلیف وبال،مایوسی اور تناؤکا ذریعہ نہیں بنتی کیونکہ نفس مطمئن رہتاہے کہ یہ سب عبث نہیں بلکہ ایک عظیم اجر میں بدلنے والا ہے.

    شہوات،جذبات اور علم تینوں چیزوں میں اعتدال سعادت کی راہ ہے…کیوں کہ انسان کا ہر معاملہ میں معتدل ہونا ہی اُسے سیدھی راہ دکھاتا اور اُس پر سنجیدگی سے گامزن رہنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتا ہے،اگر ایسا نہیں ہو گا تو کشتی ڈانواں ڈول…پھر آدمی شہوات کے بے لگام ہونے سے فسق و فجور کی رخصتیں ڈھونڈتا اور ہلاکت کی طرف بڑھنے لگتا ہے…

    منفی جذبات مثلًا غصہ،حسد،تکبر بڑھے تو انسان سرکشی کی حدیں پار کر جاتا ہے…غصہ میں عقل کا خراج دے کر غلط اقدامات کی طرف بڑھنے لگے گا اور اگر "سب ٹھیک ہے” کہنے والا اور بالکل ہی نرمی اختیار کرنے والا ہو گا تو اہم معاملات میں بھی حمیت سے تہی دست ہو جائے گا،علم میں اعتدال سے ہٹنا شدت پسندی کی طرف مائل کر دے گا…چنانچہ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جہاں نجات ہےفرمایا وکذلک جعلنکم امۃ وَّسَطًا…ہمیشہ دوسروں کی معتدل اور مؤدبانہ حوصلہ افزائی کرتے رہیں…اُن کی خامیوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خوبیوں کو اُجاگر کرتے رہیں اگر چہ وہ آپ کے سخت مخالفین ہی کیوں نہ ہوں،اچھائی کے اعتراف میں بخل نہ کریں یہ چیز لوگوں پر اثر کرتی ہے اور وہ بسا اوقات اپنی غالب صفات کے ساتھ معاشرے کا بہترین فرد بن سکتے ہیں،لوگوں کو قرار واقعی مقام اور حوصلہ دینا تعلیمِ اسلام ہے…

    زندگی کا مزہ دوبالا ہی تب ہوتا ہے جب ہم اپنی تحسین کے ساتھ دوسروں کو بھی خوش دیکھیں اور رکھیں،یہ چوں کہ انسانی نفسیات ہے…سو بہتر آرزوؤں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ محنت پر پانی پھیر کر کردار کی نفی کرتے ہوئے نیچا دکھانے کی کوشش…صرف اپنے آپ کو دیکھنا،نابغۂ روزگار اور نادر العصر بننا اور باقی سب کو قاصروکمتر سمجھنا زندگی کے حُسن کو ماند کر دیتا ہے.

    اپنی ذات پر تنقید کا جواب تنقید کی بجائے ہمیشہ اپنے کردار سے دیجیے…کیوں کہ ناقدین کو ہرانے اور مؤثر انداز میں جواب دینے کا یہی طریقہ سب سے بہترین ہے…جواب میں تنقید کی برسات کرنے سے وہ دس گنا برائی پر آمادہ ہو گا اور ہو سکتا ہے آپ تنقید سے اُسے اپنی کم ظرفی اور غلطی پہ مصر اور اپنا وقار بحال کرنے میں ناکام رہیں اور یہ سلسلہ پھر چل سو چل کی صورت اختیار کر جائے…برداشت کر لینے سے ہی مصائب و معائب دفن ہو جاتے ہیں…

    آپ کا حاسد اُس وقت تھک جائےگا جب اُسےاہمیت ہی نہیں ملے گی…آپ اُس کی منفی باتوں کی پرواہ ہی نہیں کریں گے،اثبات کے فروغ میں جتے رہیں گے اور طرزِ تغافل سے اُسے مات دیں گے…اور حکم بھی یہی ملا…احسن طریقہ سے جواب دو،معاف کر دو،اعراض کرو…فضول گوئی کرنے والے جاہلوں کو سلام کہہ دو…

    یہی بہترین پالیسی ہے،وہ بیماری جوجہدِ مسلسل،عملِ پیہم،مستقل مزاجی،یکسوئی اور عاجزی کی راہ میں اکثر رکاوٹ بنتی ہے وہ عیش و عشرت ہے…تبھی رسول اللّٰہﷺ نے عیش کی زندگی سے بچنےکی تاکید فرمائی ہے… نفس کے نکھار میں بھی یہ چیز رکاوٹ بنتی ہے کیوں کہ اِسے نکھارنے کے لیے تو تھکانا ضروری ہے نہ کہ مطیع ہو جانا…بہت سے لوگ ایسے تو نظر آئیں گے جن کے اقوال اُن کے اعمال کے موافق نہیں ہوتے لیکن بہت تھوڑے ایسے ہوں گے جن کے کردار اُن کی گفتار کے موافق ہیں…اس دنیا کی زندگی میں جائز ضروریات کو ضرور پورا کرنا اور نفع اُٹھانا چاہیے مگر صرف انہیں ہی مقصد حیات نہیں بنا لینا چاہیے…روٹی کا مقصد بھوک مٹانا،پانی کا پیاس بجھانا،کپڑے کا آرائش سے زیادہ آسائش اور ستر پوشی اور گھر کا مقصد رہائش کی مناسب جگہ کا بندوبست ہو…عیش کا گھر تو جنت ہے ناں…!

    اسی طرح خود اعتمادی ہمیں زندگی کی تلخیوں سے نبرد آزما ہونا سکھاتی ہے جب کہ احساسِ کمتری دوسروں جیسا بننے کا بھوت ذہن پر سوار کرنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات حسد جیسی جہالت کو جنم دیتی ہے…یہ بات سچ ہے کہ دوسروں کی نقل اپنی منفرد شخصیت کی خود کشی اور حسد جیسی بیماری واقعتاً جہالت ہے…

    کیوںکہ نفسیاتی پیچیدگیوں کو کم کرنےکے اسباب میں ایک چیز منفرد انداز میں جینا یعنی ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو ویسا ہی سمجھنا جیسا کہ فی الواقع ہے،اپنے نصیب پر راضی رہنا…کیوںکہ اس سے بڑی نامرادی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنی ذات،زندگی،صلاحیتوں،معاملات،واقعات سے بے خبر اپنی رفتارِ ترقی کو پرکھے بغیر دوسروں سے موازنہ میں کھپ جائے،کیوںکہ بآسانی ہو سکنے والےکام،جو ملے اُس پر رضا مندی سے حزن ختم اور اعصابی دباؤ سے نجات ملتی ہے،روح کے لیے مہلک بیماری غرور کرنا،خود کو کامل وبرترسمجھنا …پھر دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھنا یہ ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی سوائے نشانِ عبرت کے…کیوں کہ یہ حقائق کو جھٹلا کر’میں’ کے لبادہ میں لپٹ جانا ہے،تکبر کے زعم میں انسان جتنا مرضی اپنےتئیں کامیاب بن جائےلیکن توبہ و عاجزی اختیار کیے بغیر بالآخر انجام رسوائی ہوا کرتا ہے…

    قرآن ہمیں طاقتور فرعون و مالدار قارون جیسے متکبرین کے قصے سے کیا سبق دے رہا ہے…کہ قدرت کےسامنے سمندر کی لہروں میں ہچکولے کھاتا فرعون پکار اُٹھتا ہے میں موسٰی و ہارون کے رب پر ایمان لایا…اور قارون زمین میں دھنستے ہوئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے…تکبر صرف رب کی شان ہے انسان مٹی سے تخلیق ہوا اس پر ہمیشہ عاجزی ہی جچتی،اور تکبر سوائے ذلت کے کچھ نہیں.

    خوشی ایک روشنی ہے جو ہمارے اندر سے پھوٹتی اور ارد گرد کو روشن کرتی ہے…اُداسی کا بہترین علاج خود کو مثبت کاموں اور تفکر میں مصروف رکھنا ہے…نیکی کے جذبے سے چھوٹے چھوٹے کاموں کو خوب صورتی سے ترتیب دینا ہے… ایسے کام جو ہمیں ذہنی بالیدگی،راحت اور روحانی سکون فراہم کر کے دل کو خوش کریں…اور یقین و اطمینان کی دولت ہمارے باطن میں بتدریج بڑھنے لگ جائے…خوشی کی تلاش کے لیے اگر راستہ ہی غلط اختیار کر لیا جائے اور روح کے لیے مہلک کاموں،چیزوں اور راستوں پر نکل جایا جائے تو بجائے خوشی کے اُداسی ہی بڑھتی ہے-

    اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوشی کی تلاش اُس راستے پر کی جائے جو دل میں نرمی،سوز وگداز،رنگینی اور تابانی لائے،اُداس و فضول لٹریچر،لغو موسیقی،حرام روابط اُداسیوں کو دور کرنے اور خوشی کے راستے ہر گز نہیں ہیں…چھوٹی چھوٹی فکریں ذہن میں پالتے رہنا بندۂ مومن کے لیے باعثِ غفلت بن جاتی ہیں…کسی کے ساتھ احسان کریں تو بھلا دیں اگر چہ وہ نیکی کا انکار ہی کر دے…اِسے سوچتے رہنا رنجیدہ کر دے گا جب عمل خالصتًا اللّٰــــہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو لوگوں کے شکریہ کی اُمید رکھنا ہی فضول ہے کیوں کہ وہ تو اپنی سوچ و مزاج کے موافق ہی سمجھنے کی کوشش اوربرتاؤ و ردعمل کا اظہار کریں گے…

    جو لوگ سنجیدگی اور نتیجہ خیز کام کے اعتبار سے مفلس ہوں اُن کا سرمایہ پریشان خیالات و افواہیں ہوا کرتی ہیں…اس سے بچنے کا راستہ خود کو حرکت میں رکھنا،وقت کو کام میں لانا،بےکار و معطل نہ رہنا ہے…مصروف رہیں،عبادات وقت پر بجا لائیں،کام کریں،لکھنے،پڑھنے کی کوئی سرگرمی تشکیل دیں اور خالی پن و طویل فراغت سے خود کو دُور رکھنا بہت مفید ہے…جس چیز کو خریدنے کی طاقت نہ ہو،اُسے فروخت کرنے سے ہی گریز کیا جائے…
    وہ ایمان ہو…عزت ہو…
    وہ حیا ہو یا کردار ہو…
    ادب و تربیت کے دیرپا نقوش ہوں…

    عملِ صالح کی توفیق کا ملنا ہو یا علمِ نافع کی صورت خود کی پہچان ہو… بہترین اوصاف کی منفرد دولت ہو تو یہ سب قدرت کی عطا کردہ نعمتیں ہیں…انہیں نفس کی خواہش و تسکین یا دنیاوی منفعت کی خاطر کبھی کہیں بھی ضمیر کو سُلا کر بیچیں نہ ضائع کریں…یہی اصل طاقت کے بحال رہنے کی صورت ہے…کیوں کہ جب قوتِ خرید ہی باقی نہ ہو تو پھر مفلسی و معدومیت یقینی ہو جایا کرتی ہے…

    زندگی کے سفر میں کبھی کبھی ایسی مناسب و صحتمند تنہائی جو خیر کا ذریعہ اور شر کے کاموں اور فضول باتوں سے بچائے،سینہ کھولتی اور احتسابِ نفس کے لیے مفید ہے…انسان یکسوئی سے اُس وقت میں استغفار کرتا ہے…جولانِ فکر،گوہرِ حکمت نکالتا،مقاصد پر غور کرتا،تدبر و تفکر کا مزہ لیتا،اور اچھی رائے کا خوب صورت ہیکل تعمیر کر سکتا ہے…ریا کاری سے بھی بچاؤ ہوتا اور انسان تفکرات سے آزاد رہتا ہے…

    بغیر کسی مقصد کے ہر وقت لوگوں کی مجلس میں رہنا ہمیں قیل و قال،نفسیاتی دباؤ میں مبتلا اور سوچیں منتشر کر دیتا ہے بہت خوب کہا ہے کسی نے ”علم سے زیادہ باعزت کوئی چیز نہیں،کاپیاں میری غم خوار ہیں،چراغ سے مجھے محبّت ہے…” ایک مناسب حد تک لوگوں سے فاصلہ پر رہنا محاسن کے چہرے کا حجاب،مناقب کا غلاف اور فضیلت کا صدف ہے…!!!

  • اصل سکندر اعظم کون ؟

    اصل سکندر اعظم کون ؟

    اصل سکندر اعظم کون ؟؟

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا الیگزینڈر (سکندر اعظم )

    ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ الیگزینڈر 20 سال کی عمر میں بادشاہ بنا 23 سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا اس نے سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا پھر ‏ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ،

    ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ‏ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ-

    ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ‏ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟

    ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیےﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ‏ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ-

    ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ‏ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ‏ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

    ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻکھ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ‏ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔

    ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ‏ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ‏ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ بغاوتیں‏ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ-

    ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.‏ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

    ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ‏ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17‏ﻻکھ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ‏ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ-

    ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ کسی‏ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

    ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 4 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ‏ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ‏ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

    ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ‏ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
    ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ‏ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام ‏میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا.”

    ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ عمر فاروق تھے جن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی کھوئی ہوئی شاندار عظمت رفتہ پر غور و فکر عطا فرمائے اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلائے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین

    (سوشل میڈیا وائرل پوسٹ)

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • کوئی خواہش نہ رہی باقی  از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی…!
    ✍️از قلم: ام شاہد
    اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی
    نہ رہی باقی…………….
    اتنا روئے کہ کوئی آنسو
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا تڑپے کہ کوئی درد
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا ترسے کہ کوئی خواہش
    نہ رہی باقی………………
    اتنا جاگے کہ کوئی خواب
    نہ رہا باقی…………….
    آنکھیں بھول گئی خوب
    کیا ہوتے ہیں…………….
    اچھا ھے کوئی خواب نہ آئے
    یقین دلائے کہ وہ ھیــــں……
    یہیں ھیــــں……….
    آہ خواب نہیں آتے…
    خیال آتے ھیــــں……
    وہ کب آئے گا…….
    وہ آئے نہ آئے……
    اس کا سایہ تو آئے………
    قلم چلتے چلتے رک گیا…….
    خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا….
    میں خاموش رہیں کیونکہ….
    سائے نے بھی ساتھ چھوڑ دیا…………..
    کتنی عجیب بات ھیــــں…..
    زندگی دکھ سے بھری پڑی تھی……………
    مگر قلم خالی ہو گیا………
    میں نے گہری سانس لی کیونکہ……………………….. حالات و خیالات اک نیا انداز اپنا رہے تھے…………..
    میں نے خاموشی سے ڈائری
    بند کر دی………….
    ساتھ ہی آنکھیں بند ہو گئی..
    تصورات کے ادھورے سپنے…
    خیالات میں ابھر نے لگے…..
    سنجیدگی سے سوچنے لگیں
    کہ یہ اتفاق ھیــــں…….
    یا قلم کی شرات………
    قلم وہاں رکا جہاں تمناؤں کی………..
    شدت دعائیہ انداز اپنا رہی تھی……….
    خاموشی کے ساتھ آنسوؤں
    کے ساتھ……….
    شدت غم کے ساتھ……..
    آہ جدائی کے ساتھ…….
    آہ جدائی کے ساتھ…….

  • جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    اگر آپ بھی چاند پر جانے کے خواہشمند ہیں تو اب آپ کی یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے جی ہاں جاپان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی یوزاکامیزاوا چاند پر جانے والی ایلن مسک اسپیس فلائٹ کے لیے کسی گروپ کی تلاش میں ہیں جو انہیں جوائن کرسکے۔

    باغی ٹی وی :کچھ دن قبل یوزاکا کی جانب سے ٹوئٹ کے ذریعے چاند پر جانے کے خواہشمند افراد کو خوشخبری سنائی گئی اور فری ٹکٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یوزاکا نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ میں آپ کو چاند پر جانے والے مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، دنیا بھر میں سے 8 افراد اس مشن کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔


    یوزاکا کی ویڈیو کے مطابق ڈیئر مون نامی مشن کا آغاز 2023 میں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر پس منظر کے لوگ اس میں شامل ہوں۔

    یوزاکا کی جانب سے اپنی پوسٹ میں درخواست جمع کروانے والوں کے لیے لنک بھی شیئر کیا گیا ہے، انہوں نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ انہوں نے تمام سیٹیں خرید لی ہیں لہٰذا یہ نجی سواری ہوگی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق درخواست دینے والے کو دو معیاروں پر پورا اترنا ہوگا درخواست دہندگان کو کسی بھی قسم کی سرگرمی، دوسرے لوگوں کی مدد،معاشرے کی بہتری اور ان جیسی خواہشات رکھنے والے افراد کی مدد کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

  • ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور آزادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی آزادی بہت ہے

    ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور آزادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی آزادی بہت ہے

    آج ہمارے لئے بہت ہی فخر کا مقام تھا کہ آج ہم بتیس سال بعد اپنی عظیم تعلیمی درس گاہ میں گئے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے ہمیں آج کالج میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ کسی بھی طالب علم کے لئے یہ ایک خصوصی اعزاز ہوتا ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اپنی درس گاہ میں بطور مہمان مدعو کیا جائے۔الحمدللہ! ہمارے نفاذ اردو مشن نے ہمیں اس فخر سے بھی نواز دیا۔

    یقیناً ہمارے اس فخر کا باعث گورنمنٹ سمن آباد کالج کی منتظم اعلی ڈاکٹر حلیمہ آفریدی ہیں جو ہماری بہت پیاری دوست ہیں ۔نفاذ اردو مشن میں ہماری ہمنوا ہیں۔ ہماری پوسٹ غور سے پڑھتی ہیں ۔ ہماری بہت حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر حلیمہ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے مشن سے متاثر ہو کر گزشتہ سال تقریب تقسیم اسناد (کانووکیشن) کی کاروائی اردو میں کرتی تھی۔

    لیکن فا طمہ قمر کے نفاذ اردو کے مسلسل پیغامات ملنے پر ہم نے اس تقریب کی کاروائی اردو میں کی۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام مراسلت نفاذ اردو میں کی جائے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے ڈاکٹر حلیمہ آفریدی نے کہا کہ ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور ازادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی ازادی بہت ہے۔ میں اج کچھ ہوں ایک مرد ‘ اپنے والد کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہوں۔جنہوں نے فاٹا جیسے پس ماندہ علاقے سے اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوائی۔

    عورت مرد کا محافظ ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فا طمہ قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج میری زندگی کا ایک انتہائی مسرت آمیز دن ہے۔ کہ میں اپنی مادر علمی میں ایک قومی رہنما کے طور پر مدعو کی گئ ہوں۔ ہمیں غلامی سے نفرت کا جذبہ ہمارے عظیم اساتذہ نے پیدا کیا ۔جنہوں نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو بیدار کیا۔

    ہمیں حق بات کہنے کی تعلیم دی۔ یہ ہمارے اساتذہ کی تعلیم و تربیت ہی کا اثر ہے کہ ہم نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نفاذ اردو تحریک چلائی۔ ہمارا موقف ہے کہ پاکستان کی ترقی’ خوشحالی’ یکجہتی نفاذ اردو سے وابستہ ہے۔ انگریزی کو اختیاری حیثیت دی جائے۔جیسے پوری دنیا میں ہوتا ہے۔

    ہم نے طالبات سے کہا کہ اپ اس کالج کی دور حاضر کی طالبات ہیں ہم ماضی کی طالبہ ہیں۔ تو اپ نفاذ اردو مشن میں اپنی قدیم طلبہ کی ہم آواز بنیں۔ہم لوگ اپ کے مستقبل کے لئے چاہتے ہیں تاکہ اپ کے لئے دنیا کےدیگر ممالک کی طرح تعلیم حاصل کرنا آسان ہوجائے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے اسلام نے ہمیں جو حقوق دئیے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دیا۔ اسلام نے عورت کو اس وقت اعلی مقام دیا جب اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔

    عورت کے محرم رشتے ہی اس کے محافظ ہیں۔کوئی عورت بھی معاشرے میں مقام اپنے محرم مردوں کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں کرسکتی۔تحریک پاکستان میں بھی ان ہی خواتین نے ہی ملکی ترقی میں بے مثال کردار ادا کیا جنہوں نے اپنے گھریلو فرائص منصبی کو بہت عمدگی سے انجام دیا۔

    تحریک پاکستان میں علی برادران کی والدہ بی اماں’ محترمہ فا طمہ جناح’ بیگم رعنا لیاقت’ بیگم محمد علی ‘ بیگم سلمی تصدق حسین کا کردار دور جدید کی خواتین کے لئے روشن مثال ہیں یہ وہ خواتین ہیں جو اپنی تہذیب سے بھی جڑی ہوئی تھیں ۔اور روشن خیال بھی تھیں ۔ ہم میرا جسم ‘ میری مرضی کے نعرے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم نعرہ لگاتے ہیں ۔ جسم بھی اللہ کا’ مرضی بھی اللہ کی!
    ڈاکٹر حلیمہ افریدی نے سمن آباد کالج کی اعزازی شیلڈ اور خوبصورت تحفے سے بھی نوازا۔ تقریب کے اختتام پر پرتکلف چائے سے خاطر تواضع بھی کی۔

    ڈاکٹر حلیمہ آفریدی کالج کی تعمیر و ترقی طلباء کی فطری صلاحیتوں کو جلاء بخشنے کے لئےکالج میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔اپنی ماتحت عملے اور طالبات کی رہنمائی بہت شفقت سے کرتی ہیں۔ عالمی یوم نسواں پر ہمیں ہماری درسگاہ میں مدعو کرنے پر ہم ان کا تہہ دل سے ممنون ہیں۔ ان کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو ہیں ۔
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے زمین کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر پتھریلی چٹانوں والے دیگر سیاروں پر موجود ماحول کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ ہو سکتی ہے س نئی دنیا کو ’گلیز 486b ‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے مگر اسے سپر ارتھ بھی کہا جا رہا کیونکہ یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

    سپر ارتھ کے نام کے باوجود یہ کئی لحاظ سے ہماری زمین سے مختلف ہے۔یہ سیارہ ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور تقریباً تین گنا زیادہ بھاری ہے یہ اتنا گرم ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ پگھل سکتا ہے اور وہاں لاوا کے دریا اس کی سطح پر بہتے ہیں۔

    ایک ستارے کے گرد گھومنے والا یہ سیارہ صرف 26 نوری سال دوری پر ہے جو کائنات میں ہمارا سب سے قریبی پڑوسی ہے گلیز 486b مدار میں گردش کرتے ہوئے اور ایک سرخ چھوٹے ستارے سے قربت کی وجہ سے محققین کی نظر میں آیا۔

    اس کی ایک حیرت انگیز وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ’منتقل‘ ہونے والا سیارہ ہے اور جب یہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو سائنس دان اس کا اچھے طرح سے نظارہ کر سکتے ہیں اور اس کے ماحول کی جانچ کرسکتے ہیں یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اسے دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک تو اسے ستاروں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دوسرا ڈوپلر ریڈیل ویلاسٹی کے ذریعے بھی اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں طریقوں کو ملا کر اس سیارے اور اس کے ماحول کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

    اس کا ماحول خاص طور سائنس دانوں کو زیادہ پر پُرجوش بناتا ہے کیوں کہ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے ماحول کے پھیلتے ہوئے درجہ حرارت کی ماہر فلکیات پیمائش کر سکتے ہیں۔

    دوسرے سیاروں کے ماحول کو جاننے کا ایک کلیدی طریقہ ہے کہ آیا وہاں زندگی کے لیے کیا امکانات ہیں۔ اگر اس کا امکان کم ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ستارہ غیر مستحکم ہے جو اسے کبھی بھی مٹا سکتا ہے۔

    شاید اسی وجہ سے یہاں زندگی کے امکانات کم ہیں زیادہ ترقی یافتہ ماحول یہ تجویز کرے گا کہ یہ زندگی کے لیے بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ گلیز 486b کی سطح کا درجہ حرارت 430 ڈگری سیلسیئس ہے اور اس طرح یہاں ہماری جیسی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔

    لیکن سائنس دان امید کرتے ہیں کہ وہ اس ماحول کی مزید جانچ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا اسی طرح کے سیارے انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں اور وہاں زندگی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے۔

    اس مطالعے کے شریک مصنف بین مونٹیٹ نے ایک بیان میں کہا یہ وہ سیارہ ہے جسے دریافت کرنے کا ہم کئی دہائیوں سے خواب دیکھ رہے ہیں-

    ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ قریبی ستاروں کے آس پاس چٹانوں والے سیارے یا سپر ارتھز کا وجود ضرور ہے لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجی نہیں۔‘

    ’یہ دریافت کرہ ارض کے ماحول کے بارے میں ہمارے خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘ سائنس دانوں کو اب امید ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں جدید ترین دوربینوں کی مدد سے اس کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کرسکیں گے۔

    ڈاکٹر مونٹیٹ کا کہنا ہے’گلیز 486b سیارے کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہم اگلے 20 سالوں میں مزید مطالعہ کریں گے۔ یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ اگرچہ کائنات میں سپر ارتھز شاذ و نادر نہیں ہیں لیکن کائنات میں ہمارے اپنے پڑوس میں ان کا ملنا غیر معمولی ہے۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

  • فاطمہ ثناء نے خواتین کے عالمی دن پر کون سا بڑا ایوارڈ جیت لیا

    فاطمہ ثناء نے خواتین کے عالمی دن پر کون سا بڑا ایوارڈ جیت لیا

    فاطمہ ثناء نے ‘ویمن ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر’کا ایوارڈ جیت لیا، پاکستان کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ ثناء نے ویمن ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئرکا ایوارڈ جیت لیا۔فاطمہ ثناء کے لیے اس ایوارڈ کا اعلان آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کیا اور بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے انہیں یہ ایوارڈ دیا۔

    کراچی میں پیدا ہونے والی 19 سالہ فاطمہ ثناء دائیں سے بیٹنگ اور میڈیم پیس بولنگ کرتی ہیں۔ انہوں نے 6 مئی 2019 کو جنوبی افریقا کی ویمن ٹیم کے خلاف میچ سے اپنا ڈیبو کیا جس کے بعد سے وہ 5 ایک روزہ اور چار ٹی 20 میچوں میں قومی ویمن ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہیں

  • اجنبی زبان کو مسلط کرنا حکومتی سطح پروہ ظلم ہے جوآج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کیساتھ نہیں کیا ہوگا

    اجنبی زبان کو مسلط کرنا حکومتی سطح پروہ ظلم ہے جوآج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کیساتھ نہیں کیا ہوگا

    جب حکومت نے تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم کرنا تھاتو راتوں رات ہی حکم جاری کردیا۔ایک رات سو کر اٹھے تو پتا چلا کہ آج سے پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے اج سے انگریزی میڈیم ہوچکے ہیں۔ یعنی وہ بچے جنہوں نے پرائمری سطح تک انگریزی کے حروف تہجی بھی نہیں پڑھے تھے ان پر کی تمام کتابیں سائنس’ معاشرتی علوم’ ریاضی انگریزی میں کردیا۔

    لائق تحسین ہیں وہ اساتذہ جنہوں نے ان بچوں کو کس طرح سے تعلیم سے مزین کیا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ 2009 کے سرکاری انگریزی میڈیم اداروں کا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کا جو آیا۔ وہ انتہائی ہولناک ‘ تھا دنیا کی تاریخ میں اپنے نونہالوں کےزہنی قتل کی پہلی مثال بھی جس میں 20 لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے فیل ہوگئے ۔۔ان میں سے ادھے بچے تعلیم کو خیر باد کہہ گئے ۔

    حکومتی سطح پر یہ وہ ظلم ہے جو اج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کے ساتھ نہیں کیا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سات سمندر پار اجنبی زبان میں تعلیم کا حکم دینے والوں کی کم سے کم سزا پھانسی ہے۔ اس لئے انہوں نے نونہالوں کی فطری صلاحیتوں کا قتل کرکے ان کو تعلیم سے باغی کیا اور وہ تعلیم کو خیر باد کہہ گئے۔

    ہم جب اس سابق حکومت کے اڈ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے تو موجودہ حکومت کے وزیر ہمارے احتجاج میں شریک ہوکر سابق حکمرانوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کرتے تھے۔اب جب حکومت اپ کے ہاتھ میں تو اپ وزیراعظم سے مطالبہ کہیں کے وہ تحریک انصاف کے یکساں نصاب تعلیم بذریعہ اردو زبان میں ایسے ہی راتوں رات عمل کرے جیسے سابق حکمرانوں نے ایک اجنبی ‘ سات سمندر پار زبان کو یہاں مسلط کر کے کیاتھا۔

    جب اس قوم نے سسک سسک کر ایک اجنبی زبان میں تعلیم حاصل کرلی ۔۔تو اردو جو پاکستان کے میڈیا کی سو فیصد زبان ہے’ جو پاکستان کے سڑکوں’ بازاروں’ گھروں کی زبان ہے’ جس میں ابھی بھی نام نہاد انگریزی میڈیم اداروں میں تعلیم دی جارہی ہے تو اس میں تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لئے کیوں مشکل ہوگا؟ اب جب تمام تعلیم اردو میں کرنےکی بات ہورہی ہے تو اس کو "بتدریج” نافذ کرنے کا ڈھونگ رچا کر لیت ولعل سے کام لیا جارہاہے۔لیکن اب 99 فی صد عوام انگریزی تسلط کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے! ان شاءاللہ!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • میری مرضی ؟   تحریر :سفیر اقبال

    میری مرضی ؟ تحریر :سفیر اقبال

    میری_مرضی ؟

    جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا ختم نہ ہو تو ڈاکٹر انجیکشن تجویز کرتے ہیں جو مریض کے لیے وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے…لیکن ڈاکٹر مریض کے ری ایکشن سے ڈرے بغیر انجیکشن لگا ہی دیتا ہے. انجیکشن سے بھی پیپ ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سرجری کر کے پھوڑا جسم سے نکال دیتا ہے…. ورنہ ہسپتال سے ڈسچارج کر کے اسے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا آرڈر جاری کرتا ہے…! یہ سارا کچھ ڈاکٹر کی قابلیت اور اس کے اختیارات پر انحصار کرتا ہے

    بس اتنی سی کہانی ہے جس کی بنیاد پر تین دن سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا ہے…! خلیل الرحمٰن کے الفاظ…. لہجہ….. انداز… کوئی درست کہہ رہا ہے اور کوئی غلط. ان سب لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے جو جہاں بیٹھا ہے اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ نہیں ڈاکٹر کو انجیکشن نہیں لگانا چاہیے تھا پہلے میٹھی دوائی پلا کر دیکھ لیتا… ڈبل ڈوز دے دیتا غیرہ وغیرہ. اسے بڑے ہسپتال منتقل کر کے اسے کوریج نہ دیتا وغیرہ وغیرہ.

    سب جانتے ہیں کہ اسلام نے دعوت کے سارے طریقے بتائے ہیں… اخلاق کی حقیقت بھی سمجھائی ہے اور صحابہ کرام نے گالی کا جواب گالی میں بھی دیا ہے.(جس پر اللہ کے نبی نے خاموشی اختیار کی یا اس پر کسی قسم کے گناہ کا ذکر نہیں کیا . اور وہ واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں )… لیکن اس کے باوجود کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس کا جتنا ایمان ہے وہ اپنے اسی لیول سے ری ایکشن دے گا. اور صحابہ کرام نے بھی مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں مختلف ری ایکشن دئیے-

    لیکن یہ سوچنا کہ نہیں بھائی اس طرح کرنے سے ان کی جارحیت یا مظلومیت میں اضافہ ہوتا ہے… ان کی کوریج بڑھتی ہے….. تو کتنا اچھا ہوتا اللہ کے نبی یا صحابہ کرام بھی ایسا کچھ سوچ لیتے. لیکن نہیں….! انہوں نے تو مسلم ریاستوں میں رہنے والوں سے جزیہ لے کر اور ذلیل انداز میں رہنے پر آمادہ کرنے کا حکم دیا… اللہ کے نبی نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قنوت میں بددعائیں بھی کی… کچھ بدبختوں کو صحابہ کرام نے منہ پر… گالیوں کے جواب میں گالیاں بھی دیں اور کبھی نہیں سوچا کہ یہ مکہ مدینہ چھوڑ کر مظلوم بن کر ہمارے درد سر میں اضافہ کریں گے…. یا ہمارے ان اقدامات سے اس واقعہ کو کوریج ملے گی. اس لیے چپ رہنا یا ہر لمحہ پیار سے سمجھانا ہی بہتر ہے.

    یہ تو وہ باتیں تھی جب مسلم ریاست نہیں تھی.. جب مسلم ریاست بنی تو معاملہ اور شدت اختیار کر گیا. شرعی سزائیں قائم کر کے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے…. زانیوں کو سنگسار کیا گیا اور ایسے فتنوں کو کچلنے کے لیے وہ سب کیا گیا جو کرنا ضروری تھا… ان کی جارحیت مظلومیت کی کوریج کے بارے میں سوچے بغیر…. اور یہی طریقہ ہی عین اسلامی تھا الحمدللہ.

    اگر ذاتی حد تک بات کریں تو پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا اپنا اپنا ایمانی لیول ہے.. فرشتہ کوئی بھی نہیں….! ہم میں سے کچھ افراد اپنی بیٹیوں یا بہنوں کے ہاتھوں میں فور جی نیٹ ورک سے لیس موبائل پکڑا کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بہن کو شریعت کے مطابق گھر کی چاردیواری میں رکھا ہوا ہے الحمد للہ… کچھ نوجوان اپنی بہنوں کو خود موٹر سائیکل پر بیٹھا کر کالج چھوڑنے جاتے ہیں اور اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ میری بہن چونکہ میرے ساتھ آتی جاتی ہے اس لیے محفوط ہے.

    میں خود بچپن میں اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر اس وقت کے "میرے پاس تم ہو” جیسے ڈرامے دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ الحمدللہ ہمارے گھر میں ڈش یا انڈین فلمیں نہیں چلتیں. (صرف بچپن نہیں ابھی بھی میں اتنا پارسا یا دودھ کا دھلا نہیں.) خلیل الرحمٰن صاحب انہی اسلام پسندوں کے ہاتھوں جو آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں "میرے پاس تم ہو ” جیسا ڈرامہ بنانے کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے رہے .

    ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے… اگر ہمت ہو تو اپنے گریبان میں جھانک کر خود بھی دیکھ لیں کہ آپ کون کون سی برائی کو وقت کی ضرورت یعنی اسلامی سمجھتے ہیں اور کون کون سے گناہ کو آپ غیر اسلامی یا غیر اخلاقی گردانتے ہیں . اندازہ ہوتا جائے گا کہ جس کو اللہ رب العزت نے جتنا ایمان، جتنا علم اور جتنا اختیار دے رکھا ہے وہ اس بے حیائی اور غیر اخلاقی اقدار پر اتنا ہی ری ایکٹ کر رہا ہے…. فرشتہ کوئی بھی نہیں…!

    اگر آج ہم خلیل صاحب کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس واقعے کو کوریج دے کر یا ان کے الفاظ سے ہونے والی "متاثرہ” کو مظلوم بنا کر ناچاہتے ہوئے بھی اس ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں تو ہم اپنے بارے میں بھی سوچ لیں کہ ہم کہاں کہاں غیر اسلامی اقدار کا شکار ہیں اور اس کو کوریج دے رہے ہیں . خلیل صاحب کی ہمت ہے کہ وہ جس یقین پر جس مقام پر کھڑے ہیں اپنے طور پر برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بیشک ان کا مقام یا آن کا نظریہ مکمل طور پر اسلامی نہ ہو لیکن کوشش تو وہ اسلام کے لیے…. غیر اسلامی تہذیب کو مٹانے کی ہی کر رہے ہیں….!

    اگر آپ پاکستانی عدالتوں سے مایوس ہیں. اسلام کے لیے ریاستی اقدامات ناکافی لگتے ہیں تو کم از کم یہ تو سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے تا کہ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں… سوشل میڈیا پر…. ہم اسلام کے لیے کام کرنے والے کے دست و بازو بن سکیں…! نا کہ اتنے بڑے طوفان بدتمیزی میں اٹھتی ہوئی ایک احتجاجی آواز کو بھی چپ کروانے میں لگ جائیں کہ کوریج بڑھنے کا خدشہ ہے…!

    تحریر :سفیر اقبال

    رنگِ سفیر