Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یقین اک صدا ہے  بقلم:جویریہ بتول

    یقین اک صدا ہے بقلم:جویریہ بتول

    یقین…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔

    یقین اک صدا ہے…
    یقین تو وفا ہے…

    دل کی سر زمیں پر…
    جڑ جو پھیلائے…
    شجرِ طیبہ بن کر…
    عمل سے کھلکھلائے…
    یقین تقاضۂ محبّت…
    یقین تو دوا ہے…
    وہ بھی سخت لمحے…
    جو لگتے ہوں محال…
    خیال میں بھی اپنے…
    گزر جاتے ہیں خود پر…
    تو یقین پکار ہے اُٹھتا…
    یہی تو راہِ رضا ہے…!!!
    یاں حوصلے چٹانوں جیسے…
    نہیں ریت کے مکانوں جیسے…
    نشیب کہیں فراز ہیں…
    سوز ہیں کہیں ساز ہیں…
    راہوں کا شکوہ ہے نہ…
    موسموں پہ کوئی خفا ہے…
    درد کی چوٹ سے جب…
    اُٹھتی ہیں کئی ٹیسیں…
    شدت کی دوڑتی ہوئی…
    محسوس ہوتی ہیں لہریں…
    ہر ایسی بے چینی میں…
    بنتا یقین ہی شفا ہے…
    رضا کی تلاش میں پھر…
    یہ اور وہ نہیں ہے…
    جو جو بھی ہے ملتا…
    جسم و روح اُسی کے…
    تابع ہیں ہو کے چلتے…
    پھولوں کی ہو خوشبو…
    یا راستہ کانٹوں بھرا ہے…
    یقین کی راہوں پر کبھی…
    ہوتی نہیں کثرتِ سوال…
    نہ اگر مگر کا کچھ وبال…
    شکوہ فضا کی ناسازی…
    نہ نفس کی کوئی در اندازی…
    اطمینان کا بنتا ہے سَمندر…
    کہ یہ سکون کی برکھا ہے…
    جو دل کی دھرتی پر…
    برستے ہوئے رم جھم…
    دیتی ہے اِک قوت جنم…
    مایوسیوں کو بہا کر…
    اُداسیوں سے بچا کر…
    جو چہرے کو مسکرائے…
    پھر حوصلے کی جِلا ہے…
    اَجر کی اُمید کا دائرہ…
    بڑھتا ہے یہاں مسلسل…
    آنکھوں سے چھلکتی چمک…
    ہے راستوں کی رونق…
    مگر سفر کا اِک تسلسل…
    اس شاہراہ کا تقاضا ہے…
    یقین کا سفر منزل کے…
    ستونوں سے جڑا ہے…
    کہیں راحتوں کے سائے…
    کبھی امتحاں بھی کڑا ہے…
    وسوسہ ہے نہ بہکاوا مگر…
    کہ یہاں شان ہی جُدا ہے…!!!
    ===============================

  • سلام محافظِ نسواں   بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    نہ کر تہذیبِ غیر پر نظر تیرے اپنے دامن میں نور ہے…
    کر نگاہ اپنے نصیب پر،جو شعور تھا وہ شعور ہے…
    ہر اِک تہذیب کے درمیاں،ہے تیرا مقام کِھلا ہوا…
    ہر دَور ہے تازہ دَم تیرا،نہ تھکن سے کہیں یہ چُور ہے…
    تو حصارِ عظمت پہ ناز کر جو چہار جانب سے ہے کھڑا…
    تیرے حُسن پر کوئی مَیل ہے،نہ کوئی عبرتوں کا ظہور ہے…
    اُنہیں مان عزت کو بیچ کر،تجھے ناز حفظ و اماں پر ہے…
    اِسی منفرد سی پہچان سے تو عالمِ دیّار میں مشہور ہے…
    تیرے دشتِ جاں کو سنوار کر تیرے چمنِ دل کو نکھار دیں…
    جنہیں جاں سے بھی تو عزیز ہے وہ مقام تیرا غرور ہے…
    یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری اندر سے ہے جو شکستہ تَر…
    کُچھ کر سکے گی نہ رہبری،جو خود راہ سے مفرور ہے…
    تیرے حقوق کی انمٹ تحریر قرآن و حدیث کی صورت…
    یہی نامہ ہے ابدی بہار کا،ہر خزاں یہاں رنجور ہے…
    نقشِ عائشہ و فاطمہ تیری زندگی کے ہیں راہ نما…
    جنت میں اُن کی سرداری میں گر رہنےکو دل یہ مسرور ہے…؟
    ==========================

  • کیا یکساں نصاب تعلیم ممکن ہے؟

    کیا یکساں نصاب تعلیم ممکن ہے؟

    گزشتہ روز کوسمو پولیٹن کلب میں "کیا یکساں نصاب تعلیم ممکن ہے” کے عنوان پر ایک سیمینار ہوا۔ جس کی صدارت کوسمو پولیٹن کلب کے صدر ڈاکٹر افتخار بخاری نے کی۔ مہمان خصوصی ایچ ای سی کے سابق صدر نشین ڈاکٹر نظام الدین تھے۔

    اس فکر انگیز نشست کے منتظم ضمیر آفاقی اور روزنامہ مشرق کے مدیر سہیل اشرف تھے ۔نظامت ڈاکٹر راشد محمود نے کی۔ مقررین میں پروفیسر اکرار’ محترم حنیف انجم ‘ پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فاطمہ قمر’ لاہور پریس کلب کے سابق صدر شہباز میاں تھے۔ یہ ایک فکر انگیز مکالمہ تھا۔جس میں نجی تعلیمی اداروں کے منتظم بھی شامل تھے۔

    جس میں کچھ مقررین نے کہا کہ ذریعہ تعلیم اہمیت نہیں رکھتا۔ کوالٹی اف ایجوکیشن بہتر بنانا ہوگا۔ لیکن جب خاکسار نے پوچھا کہ کوالٹی اف ایجوکیشن تو موجودہ نسل کو ماضی سے بہترین مل رہی ہے۔ اج کے بچے اے سی کمروں میں بیٹھ کر ‘ برگر پیزے کھا کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔اس کوالٹی اف ایجوکیشن بہتر ہونے سے ملک کو کیا حاصل ہے۔

    تمام مہنگے اعلی تعلیمی ادارے والدین سے بھاری فیسیں وصول کرنے والے دعوی یہی کرتے ہیں کہ ان کے ادارے میں رٹا نہیں لگوایا جائے گا لیکن ذریعہ تعلیم انگریزی ہونے کی وجہ سے تمام تعلیم ہی رٹا ہے۔ فاطمہ قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے بغیر یکساں نصاب تعلیم کا نعرہ محض ‘ دھوکا ہے’ فرق فراڈ ‘ نوسر بازی اور جعلسازی ہے۔

    پوری دنیا میں سب سے پہلے ذریعہ تعلیم کی بات کی جاتی ہے اس کے بعد کوالٹی اف ایجوکیشن پر بات ہوتی ہے۔ اگر تعلیم اپنی زبان میں ہوگی ‘ تو پھر کمرہ جماعت’ اےسی ‘ دیگر سہولیات بے معنی ہوجاتی ہیں بچہ درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر بھی شوق سے علم حاصل کرے گا۔

    اگر یکساں نصاب تعلیم میں ذریعہ تعلیم کی اہمیت نہیں ہے تو والدین سےتعلیم کے نام پر بھاری فیسیں وصول کرنے والے اس ملٹی نیشنل تجارتی دور میں ( کثیرالقومی) اپنے ادارے ترکی’ فرانس’ جاپان ‘ ایران ‘ کوریا میں کھولے۔۔ وہاں جاکر کہیں کہ ائندہ اپ کے بچے صرف انگریزی میں بات کریں گے۔۔اپنی قومی و مادری زبان میں بات کرنا تعلیمی درس گاہ میں ممنوع ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملٹی نیشنل دور میں ان نام نہاد پاکستانی”بین الاقوامی زبان” میں تعلیم دے کر ان کے نونہالوں کو گونگا بہرا کرنے والوں کے ساتھ ان کی عوام کیا سلوک کرتی ہے؟

    اس تقریب کے صدر ڈاکٹر افتخار بخاری نے کہا کہ اس نشست کا عنوان اتنا وسیع ہے جو ایک نشست میں نہیں سمٹ سکتا ۔۔اس کو کم اذکم تین نشستوں میں کیا جائے۔اور وہ ان نشستوں کے میزبان بننے کےلئے حاضر ہیں ۔

    ہم اس نشست کے منتظم ضمیر آفاقی ‘ اور اشرف سہیل کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس تقریب میں بطور خاص مدعو کیا۔۔ائندہ اگر وہ یکساں نصاب تعلیم پر ڈاکٹر افتخار بخاری کی سفارش پر کوئی سہہ روزہ نشست رکھیں تو اس میں پاکستان قومی زبان تحریک کو خصوصی نمائندگی دے۔اس لیے کہ یکساں نظام تعلیم کے موقف کے لئے لڑنے والی پاکستان قومی زبان تحریک ہے جو گزشتہ بارہ سال سے دن رات پاکستان میں نفاز اُردو کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تحریک کی کوششوں سے پاکستان کی ننانوے فیصد عوام نفاذ اردو پر یکسو ہوچکی ہے۔
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما    بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما
    عطیہ وانی

    جب سب تھے مخالف آقا کے
    تب ساتھ دیا جس نے ان کا
    وہ بھی اپنی جان پہ کھیل کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم سب چاہتے ہیں رضا رب کی
    خود اللہ پوچھے رضا جس کی
    وہ بھی جبریل امین کو بیج کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    یوں تو جنت کی بشارت دنیا میں
    تھی ان کو میرے نبی ﷺ نے دی
    پھر بھی رشک کرتے رہے جن پر عمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    میں اک گھاس کا تنکا ہوتا اگر
    کوئی کھائے اور پھر حساب نا ہو
    یوں خوف خدا تھا طاری جن پر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم امتی ہیں وہ ہے مراد
    کوئی ہوتا اگر نبی آقا کے بعد
    جو نبی کی دعاؤں کا ہے اثر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    جو نبی کے سچے یار تھے
    جو عدل کے پہرےدار تھے
    جس نے کھلوائے کعبے کے در
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی عجب ہی ہیبت کفر پر
    وہ لرزتے تھے ان کے نام سے
    جس نے توڑ دی باطل کی کمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی حقومت ان کی ہر چیز پر
    ان کی سوچ بنی قرآن کی آیتیں
    جس کے حکم سے جاری ہو نہر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

  • عورت، عورت کی دشمن ہے  بقلم:عمران محمدی

    عورت، عورت کی دشمن ہے بقلم:عمران محمدی

    عورت، عورت کی دشمن ھے

    عام طور پر عورت کی طرف سے یہ شکایت ہے کہ مرد، عورت کا استحصال کرتا ہے حقوقِ نسواں کی تمام تنظیمیں بھی یہی کہتی ہیں
    اسی بنیاد پر مساوات مردوزن کا نعرہ لگایا جاتا ہے-

    جب بھی عورت کی مظلومیت کا تذکرہ ہوتا ہے تو عمومی تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ عورت مرد کے ہاتھوں جبر کا شکار ہے ہمیں یہ تسلیم کرنے میں ذرا بھی تأمل نہیں ہے کہ کئی ایک واقعات ایسے موجود ہیں جہاں واقعی مرد کی طرف سے عورت پر ظلم ہوا ہے لیکن اس کے مقابلے میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد کی عورت پر رحمدلی، شفقت اور ہمدردی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں-

    چند مثالی ملاحظہ فرمائیں
    شادی کے بعد عورت کو سسر کی طرف سے اتنی پریشانی نہیں ہوتی جتنی ساس کی طرف سے ہوتی ہے اگر دس فیصد عورتیں سسر کی وجہ سے پریشان ہیں تو نوے فیصد عورتیں ساس کی طرف سے پریشان ہی اس کے برعکس بھی ایسے ہی ہے بہو سے سسر اتنا تنگ نہیں ہوتا جتنی ساس تنگ ہوتی ہے اور تناسب یہاں بھی وہی ہے

    غریب والدین کی بیٹی اگر ساتھ جہیز نہ لا سکے تو اسے سب سے زیادہ طعن و تشنیع کا سامنا اپنے خاوند، سسر، دیور، جیٹھ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ساس اور نندوں کے روپ میں وہ عورت ہی ہوتی ہے جو اس کا جینا حرام کررہی ہوتی ہے

    دوسری شادی تقریباً ہر مرد دوسری شادی کا خواہاں ہے کیونکہ فطری طور پر اس میں چار عورتوں کی طاقت ودیعت کردی گئی ہے
    لیکن سو میں سے ایک فیصد کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے باقی ننانوے فیصد بوجوہ اپنی خواہش کی تکمیل نہیں کر پاتے دوسری شادی نہ کرپانے کی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ خود عورت ہے-

    آدمی دوسری شادی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں عبور کر لیتا ہے سب سے مشکل، پیچیدہ اور آخری رکاوٹ بیگمِ اول ہوتی ہے اور یہ ایسا سنگِ میل ثابت ہوتی ہے کہ جسے عبور کرتے ہوئے بڑے بڑے ناموروں کے پِتے پانی ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ مرد سمجھتا ہے کہ چونکہ پوری زندگی مجھے صرف ایک ہی شادی کی اجازت ھے لھذا ہر حال میں صرف کنواری سے شادی ہو گی-

    یوں لاکھوں مطلقہ، بیوہ اور مختلعہ عورتیں، عورت ہی کی خواہش کی بھینٹ چڑھ کر سہاگ کو ترستی رہتی ہیں صرف عورت اگر اس مسئلے میں اپنی اصلاح کر لے تو نسوانی زندگی کی 75 فیصد ٹینشنیں ختم ہو سکتی ہیں

    گاڑیوں اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے بہت دفعہ پایا گیا ہے کہ مرد سیٹوں پر بیٹھے ہوں تو کھڑی عورت کو اپنی جگہ بٹھاتے ہیں اور خود کھڑے ہو جاتے ہیں
    لیکن
    آپ بہت کم ایسا پائیں گے کہ کبھی کسی عورت نے ایثار کرتے ہوئے اپنے سے کمزور کسی عورت کو اپنی جگہ بٹھایا ہوریل گاڑی میں دورانِ سفر ایسا مشاہدہ بآسانی کیا جا سکتا ہے چار افراد والی سیٹ پر تین عورتیں بیٹھ جائیں تو تقریباً ناممکن ہے کہ کسی چوتھی عورت کو ساتھ بیٹھنے کا موقعہ ملے

    نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں کے پاس مردوں سے زیادہ عورتیں جاتی ہیں اور ان میں سے بھی اکثریت کا مقصد کسی عورت ہی کی تباہی ہوتی ہے اپنے بیٹے یا بھائی کے لیے کسی لڑکی کا رشتہ مانگا نہ ملا تو اس پر جادو کروادیا کسی لڑکی کے خاوند کو تعویذ ڈلوا دیے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے میاں بیوی کے درمیان ناچاکی کا جادو کروادیا-

    طلاق دلانے میں کردار مانتا ہوں کہ طلاق کے بہت سے واقعات میں مرد ظلم کرتا دکھائی دیتا ہے مگر یہ تسلیم کیئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں ہے کہ عورت کو طلاق دلانے میں عورت کا ہاتھ بھی عموماً دیکھا گیا ہے بہت سی لڑکیوں کو خود اپنی نالائقی کی وجہ طلاق ہوتی ہے
    یاان کی ماں کی طرف سے غلط ہلا شیری کی بناء پر طلاق ہوتی ہے یا ان کے خاوند پر ان کی نندوں (خاوند کی بہنوں) یا ان کی ساس (خاوند کی ماں) کا پریشر ہوتا ہے یا خاوند کی کسی خفیہ آشنا (عورت) کا مطالبہ ہوتا ہے-

    زوجین کے مابین اختلاف کی صورت میں عموماً طرفین کے بڑے سیانے مردوں کی کوشش صلح صفائی کی ہی ہوتی ہے لیکن عورتوں کی باہمی نوک جھونک اور زبان سے نکلے ہوئے بعض جملے ایسے زہریلے ہوتے ہیں کہ جس کے سامنے مردوں کی پیش نہیں جاتی

    خلع کے بعد رجوع کی ریشومرد طلاق دے تو رجوع کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جبکہ اگر عورت خلع لے تو پتھر پر ایسی لکیر کھینچتی ھے کہ الأمان الحفیظ آج طلاق کی ریشو بہت زیادہ ہے لیکن اگر یہی اختیار عورت کے پاس ہوتا تو شرح طلاق آسمان کو چھوتی نظر آتی-

    لھذا (عربی ادیبوں سے معذرت) آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اس نعرے میں ایک لاحقہ شامل کرلیں
    اور یوں کہیں (آزادیءِ نسواں من النسواں)-

    عمران محمدی
    عفا اللہ عنہ

  • مرد اک جابر یا محافظ     تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ
    تحریر شاہ بانو

    اس وقت یوں لگتا ہے دنیا میں عورتوں کو بڑا مقام دیا جا رہا ہے اور ہر طرف بس عورت کی چلتی ہے جہاں بھی عورت پہ ظلم ہو وہاں عورت کے حامی لوگ پہنچ جاتے ہیں اور پوری دنیا اس عورت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے ۔اب مرد کے لیے عورت پہ ظلم کرنا آسان نہیں رہا ۔

    اس سلسلے میں باقاعدہ women Day بھی منائا جاتا ہے اس دن عورت "کے لیے” بہت کچھ بولا جاتا یے اور اس کے لیے مزید کچھ کرنے کا عزم بھی کیا جاتا ہے مرد کی پابندیوں میں جکڑی عورت کو اس پنجرے سے نکلنے کی راہیں بتائی جاتی ہیں سلوگن دئیے جاتے ہیں۔ مثلا "اپنی روٹی خود پکا لو” "نوکری کرنا میرا حق ہے ” وغیرہ۔

    اب میں سوچ رہی تھی چلو عورت کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوگا جب وہ مرد کے بچھائے گئے جال سے نکلے گی نورالعین کی شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے تھے وہ شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی ۔لیکن اس کی دوست اسی نعرے کی دلدادہ ہو کر اسے بھی سمجھانے لگی اور سہانے خواب دکھانے لگی ۔

    پھر ایک دن اس نے سوچا میں بھی اس شکنجے سے نکلوں گی اور اپنے شوہر کا کام ،اس کے کپڑے دھونا ،اس کی روٹی بنانا ،اس کے چھوٹے موٹے سب کاموں سے جان چھڑوا کر آزاد زندگی بسر کروں گی اپنی خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لیے جاب کروں گی ۔

    بالآخر اس نے ایک دن اپنا حق حاصل کر لیا اور شوہر کے کاموں سے ہاتھ اٹھا کر برقعے کو پٹخ مارا ،ماڈرن طرز کا لباس زیب تن کیا دوپٹے کو بس کندھے پہ لٹکائے خود بازار کے لیے نکلی ۔

    جونہی باہر نکلی چند لڑکے دیکھ کر مسکرانے لگے اور کوشش کرنے لگے کہ قریب سے چھو کر گزرنے کی ۔لیکن وہ پہلی بار نکلی تھی سو پریشان ہو گئی ادھر ادھر دیکھا کہ کسی کی اوٹ میں ہو جائے لیکن کس کی اوٹ میں ہوتی وہاں تو سب غیر تھے اور ہر کوئی اپنی مستی میں تھا ۔ اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو کوئی نہیں دیکھتا تھا اگر کوئی دیکھتا تھا تو وہ شوہر کی اوٹ میں ہو جاتی اور آوارہ لڑکے بھی شوہر کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہو جاتے تھے ۔

    یہی نہیں جہاں رش ہوتا لوگ دیکھتے برقعہ والی عورت یے تو ہٹ کر راستہ دیتے بلکہ کہیں مثلا پٹرول ڈلوانے جاتے یا شاپ پہ تو لوگ اسے دیکھ کر ان کا کام پہلے کر دیتے اور آنکھوں میں عزت ہوتی تھی لیکن اب کیا کر سکتی تھی سووہ تیز تیز چلتی رکشے والے کو روک کر اس میں بیٹھ گئی ۔

    رکشے والا بھی جان بوجھ کر ذومعنی باتیں کرنے لگا وہ پریشان سی ہو گئی اب اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو
    یہ رکشے والے تو بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن کیا کرتی ۔رکشے والا خوامخواہ گھماتا رہا اور وہ بڑی مشکل سے جان چھڑوا کر بازار
    گئی وہاں مزے سے شاپنگ کرنے کے تصور سے آئی تھی لیکن لیکن وہاں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔

    بالآخر وہ گھر آ گئی ۔ اس نے دوست کو کال کر کے سب بتایا لیکن اس نے ہمت بندھائی کہ حقوق حاصل کرنے ہیں تو سب برداشت کرو۔
    سو شوہر کو میسج کیا کہ اب میں کوئی کام نہیں کروں گی کھانے کا بندوبست کرتے آنا رات کو وہ پریشان تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا آتے ہوئے کھانا کھا کر آیا تھا۔

    سارے کاموں سے جواب دے کر زارا دہی بھلے کھا کر سو گئی ۔اگلی صبح شوہر اٹھا چینج کیے اور بغیر ناشتے کے گھر سے نکل گیا۔
    وہ خوش تھی کہ اب تو سکون ہے کچن میں مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے گئی تو مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی کیونکہ کچن میں کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ راشن بھی ایک دم غائب ہو گیا ۔

    اس نے شوہر کو کال کی "راشن کہاں ہے ” جواب ملا جب تم میرے کر کام سے ہاتھ اٹھا چکی تو میری ذمہ داری بھی ختم مغرب میں مرد عورت کے نان نفقہ کا پابند نہیں بلکہ عورت اپنے روٹی پانی کا خود انتظام کرتی ہے اب وہ پریشانی میں نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ لیکن ایک دم کہاں سے ملتی ۔دوست کو کال کی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں حقوق نسواں والوں سے بس تم آ جاؤ میرے پاس ہی ۔وہ بوریا بستر سمیٹ کر اسی کے پاس چلی گئی ۔

    عورت کے حقوق کے علمبرداروں فوری طور پہ ایک جگہ سٹور میں اسے سیلز گرل کی جاب دلوادی ۔(ہاں بھئی کیوں پکائے وہ روٹی )۔
    وہاں پہ ہر آنے والے کو مسکرا کر دیکھنے اور کسٹمر کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ہدایت ملی اس کی عجیب لگا لیکن پھر اسے لگا وہ آزاد ہونے جا رہی ہے کچھ تو مشکلات ہوں گی لیکن آزادی تو مل جائے گی ۔

    اب ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر دیکھتی چاہے کسی دن دل اداس اور پریشان ہی ہوتا ، مسکرانا فرض تھا اس نے محسوس کیا اکثر کسٹمر سودا پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کو بھی جان بوجھ کر ٹچ کرتے ہیں۔اس کی اس نے شکایت کی تو ہدایت ملی کسٹمر کو ناراض نہیں کرنا یہ سب برداشت کریں۔

    اس سب کے ساتھ جب وہ رات کو تھکی ہاری گھر آتی تو اسے رات کو کھانا بنانا پڑتا ،صبح بھی اپنے لیے ناشتہ بنا کر جاب پہ جانا پڑتا تو اسے یاد آتا جب وہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو ناشتہ بنا کر جب شوہر چلا جاتا تو وہ لیٹ جاتی تھی ۔

    گھر ہفتے بعد بیٹھنا نصیب ہوا تو خیال آیا کپڑے بھی دھونے ہیں چاہے اپنے ہی سہی ۔کپڑے دھوئے۔گھر کا کھانا کھائے کتنے دن گزر گئے وہ بھی بنایا۔ہفتے بھر کے لیے دیگر کام بھی نمٹائے۔اپنے کمرے کی صفائی بھی کی اسے یاد آیا کہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو صفائی اور کپڑے تو کام والی ماسی سے کرواتی تھی ۔

    لیکن آج وہ تھک کر چکنا چور ہو کر لیٹ گئی اور ایسی نیند آئی اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی اسے بخار تھا لیکن چھٹی نہیں کر سکتی تھی ، وہ بغیر ناشتہ کیے سٹور پہ پہنچی لیکن وہاں پہ بھی اسے سخت سننی پڑی لیکن اسی حالت میں مسکرا مسکرا کر کسٹمرز کو ویلکم کیا اور سب برداشت بھی کیا۔

    اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے شکنجے میں بخار میں سارا دن بھی لیٹ کر گزار دیتی اور رات کو شوہر کو پتہ چلتا بخار کی وجہ سے اتھ نہیں پائی تو وہ الٹا پریشان ہو جاتا بغیر کھانا کھائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ،واپسی میں جوس، فروٹ اور کھانا بازار سے پیک کروا کر لے آتا۔گھر آتے ہی کھانا خود ڈال کر دیتا، میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا ۔

    صبح ناشتہ بھی بازار سے آتا اور جاب پہ جاتے ہوئے ہدایت ملتی کہ کام نہیں کرنا ۔آتے ہوئے کھانا لے آؤں گا ۔ خیر حقوق حاصل کرنے ہیں تو قربانی تو دینی ہی پڑے گی کچھ دن بعد اس کا پھر جاب پہ جانے کو دل نہ کیا اس نے چھٹی کر لی ۔لیکن اگلے دن جاب پہ گئی تو پتہ چلا کہ بلاوجہ چھٹی کرنے پہ اس کی آدھی تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔اس کی تو جان پہ بن گئی کیونکہ وہ تو قرض اٹھا کر مہینہ گزار رہی تھی
    اب کیا کرے گی ؟

    اسے مشورہ ملا پارٹ ٹائم جاب کر لو اچانک اس کا دماغ جیسے روشن ہو گیا اس کے ذہن میں آیا جب وہ مرد کے شکنجے میں تھی تو صرف شوہر کو مسکرا کر دیکھنے اور اس کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کی پابند تھی ۔

    وہ صرف اسی کی روٹی بناتی تھی اور اسی کی خوشی درکار تھی اب کتنے مردوں کی خوشی درکار ہے دو ٹکوں کے لیے جو اس کا شوہر اسے گھر پہ لاکر دیتا تھا جن کے بدلے وہ دل کی خوشی سے سارا کام کرتی تھی اسے کہا گیا تمہارا مرد تمہاری مرضی سے تمہیں چھو سکتا ہے ،لیکن کسٹمر کے چھونے کو مائنڈ نہیں کرنا ۔

    شوہر کو جی چاہے تو مسکرا کر دیکھو جبکہ کسٹمر کو لازمی مسکرا کر دیکھوبرقعے میں تو کسی مرد کو نظر نہ پڑتی تھی لیکن اب سارا دن میک اپ کیے کھلے منہ پہ مردوں کی چبھتی ہوئی نظریں برداشت کرنی پڑتی تھیں ۔

    راستے میں آنے والے مردوں کے جملے ،چھونے کی کوشش، مسکراتے لبوں کے خاموش پیغام سب برداشت کرو بس شوہر کے شکنجے سے نکلویعنی اسے ایک محافظ چھت سے نکل کر ایک ایسے میدان میں پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ ہر طرف مردوں کی ہوس بھری نظروں کی تسکین تھی۔

    یعنی شوہر کی تسکین بننا غلامی ہے اور کئی مردوں کی بننا آزادی؟یہ کیسی آزادی ہے یہ تو مردوں کی آزادی ہے اسے مردوں کے آگے چارہ بنا کر پھینکا گیا تو دوسری طرف اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا تھا شوہر کو جو ادائیں اور ناز دکھاتی تھی وہ کون دیکھتا؟اب تو بس رپورٹ کی سی زندگی تھی ۔

    اسے سمجھ آ گئی تھی یہ سب بہت بڑا دھوکہ ہے اس اسے حقوق کے نام پہ اس کے حقوق چھینے جاریے تھے اس کی چھت چھینی جارہی تھی۔اس کے سکون کے لمحات چھینے جاری تھے اسے پرانی زندگی یاد آئی تو کے بھائی ،اس کا باپ سب ہی لئے اپنے محافظ نظر آئے۔۔اسے کہیں کوئی رشتہ نہ لگا کہ اس کے لیے عذاب ہے جو وہ پابندیاں لگاتے تھے وہ دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھیں۔

    اس کی آنکھیں کھل چکی تھیں وہ لوٹ آئی تھی اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچی تو شوہر کو کھڑے پایا جو فون پہ ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا اس پہ نظر پڑی تو سرسری دیکھ کر پھر بات کرنے لگا، وہ شرمندہ سی کھڑی تھی اس نے غور کیا تو پتہ چلا کوئی لڑکی یے ۔اسے جھٹکا سا لگا اس نے بے اختیار بڑھ کر سیل چھین لیا شوہر نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟

    کہنے لگی لڑکی سے بات کیوں کر رہے ہو ؟ شوہر نے مسکرا کر کہا کیا تمہیں عورت کے حقوق کا نہیں پتہ وہ جس مرد سے چاہے دل لگی کرے تو مرد بھی جو چاہے مرضی ہو وہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور مغرب میں گرل فرینڈ کوئی ایشو نہیں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

    وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔اور معافی مانگنے لگی اس کا شوہر سمجھ گیا کہ اس کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے وہ اسے گھر کے اندر لے گیا وہاں اس نے اسے ساری داستان سنائی اور بتایا کہ اسے اصل کہانی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب عورت کو عزت کے نام پہ ذلت اور حقوق کے نام پہ اسے سب کا چارہ بنانے کی سازش ہے ۔جبکہ اس کا شوہر بھائی ،باپ تو اس کے محافظ ہیں اور اسلام اسے چھپا کر اسے گندی اور غلیظ نظروں سے محفوظ کرتا ہے نہ کہ قید۔

    اس نے پھر سے برقعہ پہنا ،شوہر کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ،کچھ لڑکے سامنے سے آ رہے تھے لیکن وہ اس کے پاس سے گزرے تو نہ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا نہ کسی نے ٹچ کی کوشش کی ،نہ جملہ کسا وہ مسکرادی اور اپنے ر ب کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ اپنے سائبان میں لوٹ آئی تھی جہاں وہ بےفکری کی نیند سوتی تھی ۔

  • کورونا: پی سی بی دفاتر بند، ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

    کورونا: پی سی بی دفاتر بند، ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دے دی۔ذرائع کے مطابق پی سی بی عملے کے ایک فرد میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر دفاتر بند کردیے گئے اور عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملازمین کے لیے کووڈ 19 ایس اوپیز جاری کردیے ہیں اور ملازمین کو اگلے چار روز گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ میں کورونا کیسز سامنے آنے پر لیگ کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

  • ٹوئٹر نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    ٹوئٹر نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    معروف مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کو بڑی تعداد میں لوگ، کاروباری حضرات، سیاستدان، فنکار اور دیگر شخصیات استعمال کرتے ہیں اگر یہ کہا جائے گا موجودہ وقت میں اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے کئے یہ پلیٹ فارم بڑا ذریعہ بن گیا ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا-

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر پر صارفین کے لئے ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ کچھ بھی پوسٹ کرتے ہوئے کوئی غلطی کر دیں تو اسے درست کرنے کے لیے صارفین کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا ان کے پاس صرف اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا آپشن ہوتا ہے۔

    لیکن اب صارفین کے پرزور مطالبے کے بعد ٹوئٹر پر ٹوئٹ کو اَن ڈو یعنی پوسٹ کرنے کے بعد اسے ایڈٹ کرنے کا فیچر شامل کیا جا رہا ہے۔

    اس فیچر کے بعد جب صارف بٹن پر کلک کر دے گا تو اُس کا یہ ٹویٹ پبلش ہونے کے بجائے ڈرافٹ میں چلا جائے گا جس کو اپنی مرضی سے تبدیل کر کے دوبارہ ٹویٹ کیا جاسکے گا۔


    ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی خاتون صحافی نے چند روز قبل ایک ٹویٹ شیئر کر کے بتایا تھا کہ ٹویٹر انتظامیہ نے ایک نئے فیچر پر کام شروع کردیا ہے جس کو آزمائش کے بعد جلد متعارف کرایا جائے گا-

    اس فیچر کے تحت صارفین کے پاس ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے بعد 5 سیکنڈ کا وقت موجود ہو گا اور اگر وہ ان 5 سیکنڈز میں اپنی ٹوئٹ کو درست کرنا چاہتے ہیں تو وہ اسے ایڈٹ کرسکیں گے۔

    ٹوئٹ ایڈٹ کرنے کا طریقہ:
    ٹویٹ کرنے کے بعد صارف کے سامنے ایک بٹن ظاہر ہوگا جس پر کلک کرنے کے بعد پوسٹنگ رک جائے گی اور صارف اپنے ویٹ کو تبدیل کرسکے گا۔

    دوسری جانب ٹویٹر کے ترجمان نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی یہ فیچر تیاری اور آزمائشی مراحل میں ہے، جیسے ہی کام مکمل ہوجائے گا یہ سہولت تمام صارفین کو دستیاب ہوگی تاہم اس فیچر کی سہولت کب تک دنیا بھر کے صارفین کے لیے پیش ہو گی اس حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

  • پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    آپ نے چھوٹے پالتو جانوروں جیسے بلی، کتا یا بکریوں کو تو کپڑے پہنے دیکھا ہو گا لیکن کیا آپ نے کبھی ہاتھی کو پینٹ شرٹ پہنے دیکھا ہے؟اگر نہیں تو آج ہم آپ کو خشکی کے سب سے بڑے جانور کو پینٹ شرٹ میں دکھائیں گے۔

    باغی ٹی وی :بھارت کے ارب پتی تاجر آنند مہندرا کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہاتھی کی پینٹ شرٹ پہنے ایک تصویر شیئر کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔


    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاتھی نے جامنی رنگ کی شرٹ اور سفید رنگ کی پینٹ پہن رکھی ہے لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ ہاتھی نے بیلٹ بھی باندھ رکھا ہے جب کہ مہاوت (ہاتھی کے نگہبان) نے لنگی پہن رکھی ہے۔

    ہاتھی کی پینٹ شرٹ والی تصویر کو صارفین کی جانب سے جہاں بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے وہیں اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

  • ڈیسک ٹاپ ورژن: موبائل انٹر نیٹ کے بغیرکمپیوٹر کی مدد سے واٹس ایپ کال کرنے کا طریقہ

    ڈیسک ٹاپ ورژن: موبائل انٹر نیٹ کے بغیرکمپیوٹر کی مدد سے واٹس ایپ کال کرنے کا طریقہ

    فیس بک کی زیرملکیت موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ نے حال ہی میں ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے آڈیو ویڈیو کالنگ کی سہولت متعارف کرائی۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اب صارفین بڑی اسکرین پر چیٹ کے ساتھ ویڈیو اور آڈیو کالنگ کی سہولت سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    واٹس ایپ نے براؤزر اور ڈیسک ٹاپ پر آڈیو اور ویڈیو کال کا فیچر متعارف کروادیا

    کمپنی نے صارفین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ کمپیوٹر سے کی جانے والی کالز بھی اینڈ ٹو اینڈ انگرپٹڈ کے تحت کی جائیں گی یعنی بالکل محفوظ ہوں گی۔

    لہذا ڈیسک ٹاپ پر واٹس ایپ کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے صارفین کو ونڈو 1064 بٹ ورژن 1903، ایپل ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کی سہولیات حاصل کرنا ہو گی۔

    واٹس ایپ کی جانب سے فیچر متعارف کرائے جانے کے بعد صارفین نے سوال کرنا شروع کیے کہ جب اُن کے موبائل میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہوگی تو وہ کمپیوٹر کی مدد سے کس طرح کال کرسکیں گے۔


    تاہم اب ڈبلیو اے بیٹا انفو نے اپنی ٹوئٹ میں صارفین کے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر دوران کال صارف کے موبائل میں انٹرنیٹ چلنا بند ہوجاتا ہے تب بھی کمپیوٹر پر کال منقطع نہیں ہوگی بلکہ اس پر معمول کے مطابق ہوتی رہے گی۔

    تاہم اس کے لیے ونڈوز 10 اور واٹس ایپ کے اپ ڈیٹڈ ورژن کی ضرورت ہے اگر کوئی لیپ ٹاپ استعمال کررہا ہے تو اُسے ہیڈ فون کی ضرورت نہیں لیپ ٹاپ میں مائیک اور اسپیکر کا ہونا لازمی ہے۔

    جبکہ اس کے بر عکس عام کمپیوٹر پر استعمال کرنے والے صارف کو مائیک والے ہیڈ فون کی ضرورت ہوگی اگر کوئی صارف ویڈیو کال کرنا چاہتا ہے تو اُسے عام کمپیوٹر میں علیحدہ سے کیمرا لگانا ہوگا اسی طرح لیپ ٹاپ سے ویڈیو کالنگ کرنے کے لیے بلٹن کیمرا ہونا بھی لازمی ہے۔

    واٹس ایپ کا صارفین کے لئے نیا فیچرمتعارف

    واٹس ایپ کی ویڈیوز شئیرکرتے ہوئےغیر ضروری آوازوں کو میوٹ کرنے سے صارفین کی متعلق آگاہی

    واٹس ایپ صارفین ماہانہ کتنے میسجز اور کالز کرتے ہیں ڈیٹا جاری

    واٹس ایپ کا فیس بک طرز کا ’سائن آؤٹ‘ فیچر متعارف کروانے کا فیصلہ

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    ایک فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کرنے کا طریقہ