Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فیس بک کو 650 ملین ڈالرز کے ہرجانے کا سامنا

    فیس بک کو 650 ملین ڈالرز کے ہرجانے کا سامنا

    امریکی ریاست الینوائے میں پرائیویسی قانون کی خلاف ورزی پر فیس بک 650 ملین ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرے گی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک نے پرائیویسی قانون کی خلاف ورزی پر 650 ملین ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرنے کے فیصلے پر کہا ہےکہ ہم سمجھوتے پر پہنچنے کا خیرمقدم کرتےہیں۔

    واضح رہے کہ شکاگو کے اٹارنی جے ایڈیلسن نے 2015 میں فیس بک پر مقدمہ چلایا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ فیس بک نے 2008 کے الینوائے رازداری کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چہروں کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کیا تھا۔

    فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کردی

    فیس بُک کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کتنی ہے؟ فیس بُک نے ڈیٹا جاری…

    دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50…

  • واٹس ایپ کی ویڈیوز شئیرکرتے ہوئےغیر ضروری آوازوں کو میوٹ کرنے سے صارفین کی متعلق آگاہی

    واٹس ایپ کی ویڈیوز شئیرکرتے ہوئےغیر ضروری آوازوں کو میوٹ کرنے سے صارفین کی متعلق آگاہی

    بعض اوقات شوٹ کی گئی ویڈیو میں غیر ضروری آوازیں ویڈیو کی اہمیت ختم کر دیتی ہیں تاہم اب ان غیر ضروری آوازوں کی ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے واٹس ایپ نے نئے فیچر سے متعلق صارفین کو آگاہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن ہے جس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے، فیس بک کی زیر ملکیت اس ایپ میں صارفین کے لیے مسلسل نت نئے فیچرز سامنے آتے رہتے ہیں، جو عام صارفین تک پہنچنے سے قبل بیٹا ٹیسٹرز کو دستیاب ہوتے ہیں-

    تاہم اب اپنے ایک ٹویٹ میں مقبول ترین مسیجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو ایک نئے فیچر سے آگاہ کیا ہے-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر واٹس ایپ کے آفشیل ہینڈل کی جانب سے گزشتہ روز مداحوں کو ویڈیو شیئرنگ کے نئے فیچر سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

    واٹس ایپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اب آپ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں سن نہیں سکتے واٹس ایپ نے بتایا کہ اب آپ اپنی ویڈیوز کو اسٹیٹس پر یا دوستوں کے ساتھ شئیر کرنے سے پہلے غیرضروری آوازوں کو میوٹ کر سکتے ہیں یہ فیچر اب انیڈرائیڈ فونز پر بھی موجود ہے-

    اب لازمی نہیں کہ آپ کسی ویڈیو کو میوٹ کرنے کے لیے ایک نیا ویڈیو کلپ ریکارڈ کریں بلکہ اب آپ اپنے فون میں پہلے سے موجود ویڈیو کو اسٹیٹس پر اپلوڈ کرنے یا کسی دوست کو بھیجنے سے پہلے بھی میوٹ کر سکتے ہیں۔

    ویڈیو میوٹ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے-

    1۔ واٹس ایپ چیٹ اوپن کرکے اپنی فون اسٹوریج میں سے ویڈیو منتخب کریں۔

    2۔ ویڈیو منتخب کرنے کے بعد آپ کو ویڈیو کی لمبائی ایڈجسٹ کرنے والے بار کے نیچے ساؤنڈ آئیکون نظر آئے گا۔

    3۔ ساؤنڈ آئیکون پر ٹیپ کریں جس کے بعد آپ جس دوست کو ویڈیو بھیجیں گے یا اسٹیٹس پر اپ لو ڈ کریں گے وہ میوٹ ہو جائے گی۔

    یاد رہے کہ یہ فیچر پہلی بار گزشتہ برس نومبر میں بیٹا ورژن میں استعمال کیا گیا تھا تاہم اب واٹس ایپ انتظامیہ نے اس فیچر کو اینڈرائیڈ فونز کے لیے بھی متعارف کروا دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ واٹس ایپ ایک ایسا فیچر لانے والا ہے جس سے چیٹ ونڈو میں میڈیا بھیجنے کا انداز ری ڈیزائن ہوگا، یہ وہ سیکشن ہے جہاں آپ کسی میسج کے لیے تصویر یا ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں۔

    یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور ممکنہ طور پر بہت جلد تمام صارفین کو دستیاب ہوگا اس تبدیلی کو واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ نے اینڈرائیڈ ورژن کے نئے بیٹا ورژن میں دریافت کیا۔

    اینڈرائیڈ کے 2.21.5.4 بیٹا ورژن میں یہ نیا فیچر سامنے آیا ہے تاہم ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں نئے اور پرانے یوزر انٹرفیس کے درمیان فرق کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا تھا۔ اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں میں فرق موجود ہے، بائیں جانب پلس کے نشان کی جگہ تصویر کا آئیکون لے رہا ہے، اور چیٹ ٹیب میں ہلکے گرے رنگ کا بیک گراؤنڈ بھی نمایاں ہے۔

  • رشتوں میں کشش اور محبّت پیدا کیجیے      بقلم :جویریہ بتول

    رشتوں میں کشش اور محبّت پیدا کیجیے بقلم :جویریہ بتول

    رشتوں میں کشش اور محبّت پیدا کیجیے…!!!
    (بقلم :جویریہ بتول).
    انسان پیدا ہوتے ہی کئی طرح کے خوب صورت بندھنوں میں بندھا ہوتا ہے…
    یہ رشتے سفرِ زندگی کا سہارا،حُسن،اور دنیا میں دل لگی کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں…
    رشتوں کی کمی کا شکار لوگ تنہا،پریشان اور دباؤ کا شکار رہتے ہیں…انسان کو کئی طرح کی ضروریات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ہی اللّٰہ تعالٰی نے یہ حسیں رشتے پیدا فرمائے ہیں…
    ہم لوگ اکثر مصروفیات اور تیز ترین دور کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنے سے جڑے رشتوں کی قدر سے تہی دست ہوتے جا رہے ہیں…
    ہم رشتوں کا دوسرے لوگوں کے رشتوں سے موازنہ کرتے کرتے ہی زندگیاں گزار دیتے ہیں کہ فلاں کا خاندان تو ایسا ہے،ویسا ہے،اور یہی چیز رفتہ رفتہ رشتوں میں دوریوں،تنہائیوں اور احساسِ کمتری کو ہوا دیتی اور اختلافات کو جنم دیتی ہے…
    رشتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے،انہیں تکلفات سے پاک کرنا چاہیے…اور ہمدردی و خیر خواہی کی چاشنی سے آراستہ کرنا چاہیے…
    عزت،احساس اور چھوٹے بڑے کے مقام کا خیال کیا جانا چاہیے یہ رشتے تبھی مضبوط اور اٹوٹ انگ ثابت ہوتے ہیں…
    ماں،باپ،بہن بھائیوں،بیوی بچوں کے ساتھ خوشگوار انداز میں کُچھ وقت گزارنا ہمیں انرجی فراہم کرتا،دل نرم کرتا اور زندگی کے بہت سے آداب سے شناسائی کا ذریعہ ہے…
    اس میں محبّت کی باتیں ہونی چاہئیں،ایک دوسرے کے کاموں کی تائید و تعریف ہو…
    تنقید برائے اصلاح ہو…
    اچھے کاموں کی ترغیب ہو…
    غلط اور منفی کاموں سے روکنا ہو…
    اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے…
    یہ ہر ایک کا ایک دوسرے پر حق ہے چاہے وہ اولاد و والدین ہوں،زوجین ہوں یا دیگر رشتہ دار…
    مل کر کھانا کھانا،کسی وقت سب کا اکھٹے ہونا،خوش گپیاں کرنا،ہلکا پھلکا مزاح یہ ساری چیزیں ہمارے خون کو جلنے کی بجائے اچھی گردش کی راہ فراہم کرتی ہیں…
    اسی طرح ہمیشہ مثبت اور اُمید افزا گفتگو کرنی چاہیے،معاشی،سماجی حالات کیسے ہی تلخ اور کڑے ہوں لیکن ہمارا مقصد ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانا رہے،گرانا نہیں…
    سائنسی تحقیق کے مطابق مایوس اور علیحدگی اختیار کرنے والے دوستوں کے ساتھ بیٹھنا آپ کو بھی ویسی ہی عادات و کردار کا عادی بنا سکتا ہے یعنی وہ باتیں آپ کے قلوب و اذہان پر ویسا ہی اثر کرنے لگتی ہیں اور رشتوں کے بارے میں منفیت کو فروغ کا باعث بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مومنوں کو دوسروں کے درمیان بھی صلح کروانے،ملنے ملانے اور ایک دوسرے کی اذیتوں پر صبر کرنے کی تاکید اور جزا کی نوید دی گئی ہے…
    یہ صلح کسی بھی رشتے کے درمیان کروائی جا سکتی ہے…!!!
    دوستوں کے ذہنوں میں رشتوں کے بارے میں پائے جانے والے اشکالات کو بہتر طریقے سے دور کیا جائے اُنہیں رشتوں کی اہمیت سمجھائی جائے…
    ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمارے سارے رشتے یہاں تک کہ ایک گھر کے افراد کی طبیعتوں میں بھی تنوع پایا جاتا ہے اگرچہ سوچ و فکر بھی ایک سی ہو…یوں ہم سب کو ایک ہی آئینہ میں نہیں اُتار سکتے اور اپنے انداز کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے…بلکہ انہیں ڈیل کرنے کا فن سیکھ کر خوشگوار تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں…!
    آج کل ایک فیشن یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں داخل ہو کر ہم نے رشتے بھی ڈیجیٹل آلات پر منتقل کر دیے ہیں…
    ذرا سی بات بھی ہو تو دوسرے کمرے تک اُٹھ کر جانے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا اور میسیجنگ پر بات چیت جاری رہتی ہے…
    مانا کہ کسی مجبوری کی صورت میں تو یہ چیز ٹھیک ہے لیکن دو قدم چل کر کسی رشتے کے پاس جا کر بیٹھنا،سامنا و زیارت کرنا،مسئلہ دریافت کرنا،حل سوچنا اس ٹائپنگ سے زیادہ مثبت اور قربت کا ذریعہ ہے…
    کیا ہم اپنے لیے یہ ماحول تخلیق کرنا چاہ رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ ہم زبان سے چہکتے لفظوں کو بکھیرنے،دل کے بوجھ ہلکے کرنے،وقت دینے،پاس بیٹھنے اور بات کرنے کے بھی روادار نہ رہیں گے…؟
    یہ چیزیں ہماری نفسیات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں…احساس کی دولت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے،خود غرضی جنم لیتی ہے اور انسان لمیٹڈ ہو کر صرف اپنے مفاد اور خول میں بند سا ہو کر رہنے لگتا ہے…
    صرف اپنے محدود سے مقاصد کے لیے جینے لگتا ہے…اس برق رفتاری نے ہم سے ہماری زندگی کے اصل مقصد،چستی،احساس،اور رشتوں کی اہمیت کو چھین لیا ہے…ہم انسان ہیں صرف روبوٹ نہیں کہ مشینی انداز میں کام اور بس…
    ہمارا مقصدِ تخلیق عبادت و بندگی رکھا گیا ہے اور یہ سفر جہدِ مسلسل،زمینی حقائق،قربانیوں اور اذیتوں کا سامنا کیے بغیر طے ہونا ممکن نہیں…دل کی دھڑکنوں اور گردش کرتے خون کا یہی تقاضا ہے اور ہمیں بیٹھے بیٹھے صرف فارورڈ کی رِیت سے نیکی کمانے کے ساتھ ساتھ باہر نکل کر دن کی روشنی کا بھی مشاہدہ،رشتوں کے لیے عملی موجودگی و کردار بھی اَدا کرنا ہے…
    یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی رشتوں میں مضبوطی،پیار اور اپنائیت کا جذبہ زندہ رکھتی ہیں اور یہی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں شکوے،دوریوں،غلط فہمیوں اور اجنبیت کا باعث بن جاتی ہیں…
    زیادہ دور تک نہیں بلکہ ایک گھر کے اندر والدین و اولاد اور میاں بیوی کے درمیان تک بھی…!!!
    رشتوں کے درمیان جہاں احترام کا خیال رہے وہیں رویہ ہمیشہ دوستانہ رکھیں،کھل کر بات چیت کریں اور موقع دیں،تنازعات کو مکمل سمجھ کر سمجھداری سے ہی حل کرنے کی کوشش کریں…اعتماد کا فقدان نہ ہونے دیجیے…اختلافات کی صورت میں فائٹنگ اسٹائل گھٹیا ہر گز نہ ہو،یعنی ایسی باتیں یا نازیبا گفتگو جو دل و دماغ میں پیوست ہو کر دیر تک تلخی اور کشیدگی کا باعث بنی رہے…بلکہ بہترین انداز میں مجادلہ کا ہنر آنا چاہیے…جو باعثِ اصلاح،غلطی کے خاتمہ اور رشتوں کی خوب صورتی برقرار رہنے کا باعث رہے…!!!

  • کیا ٹوئٹراب صارفین سے ٹوئٹس دیکھنے کے پیسے چارج کرے گا؟

    کیا ٹوئٹراب صارفین سے ٹوئٹس دیکھنے کے پیسے چارج کرے گا؟

    پیغام رسانی کی مقبول ترین ویب سائٹ ٹوئٹر کے مطابق وہ مستقبل میں ہائی پروفائل اکاؤنٹس سے معلومات کے حصول پر سبسکرپشن چارجز لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر نے اپنے سالانہ انویسٹرز اجلاس کے دوران ممکنہ ’نیو سپر فالوز سروس ‘ کا اعلان کیا ہے جو اشتہاراتی اہداف سے ہٹ کر آمدنی کے نئے طریقوں کی تلاش کی جانب ایک قدم ہے۔

    اس حوالے سے ٹوئٹر کے ترجمان کا کہنا ہےکہ سپر فالوز کے ذریعے پبلشرز اور مواد کے تخلیق کاروں کو براہ راست صارفین کا تعاون مل سکے اور اسی فائدے کو دیکھتے ہوئے وہ مزید اچھا مواد تیار کریں گے۔

    ٹوئٹر کے ترجمان نے کہا کہ وہ اپنی سروس کے فوائد کا بھی دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور ایسے طرز عمل کی جانچ بھی کررہے ہیں جو پراڈکٹ فیچر کی حوصلہ افزائی یا ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

    پریزینٹیشن کے دوران دی گئی وضاحت کے مطابق سپر فالوز کے ذریعے ٹوئٹر صارفین کوننٹینٹ کری ایٹرز کی مالی معاونت کرکے نیوز لیٹر، خصوصی مواد اور حتیٰ کہ ورچوئل پیجز وصول کرپائیں گے۔

    اس حوالے سے اجلاس میں شریک ایک ماہر کیرولینامیلانیسی کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ حاضرین خصوصی مواد کی ادائیگی پر رضامند ہوں گے، اس طرح کا ماڈل یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم پر موجود مواد کے لیے معنی رکھتا ہے لیکن ٹوئٹر کے لیے اس پر مزید غور کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ ابھی تک ٹوئٹر کی آمدنی کا ذریعہ صرف اشتہارات اورپروموٹڈ پوسٹس ہیں لیکن سپر فالوز کے ذریعے ایک نئی راہ کھلے گی۔

    دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح صارفین ٹوئٹر پر بھی وائس میسجز بھیج سکیں گے؟

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

  • فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کردی

    فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کردی

    سوشل میڈیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کردی۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیس بک نیو پراڈکٹ ایکسپیریمنٹیشن (این پی ای) کی ٹیم کی جانب سے ایک جانب سے ’بارز‘ نامی ایپلی کیشن کو ابھی امریکا میں آزمائشی طور پر پیش کیا گیا ہے-

    فیس بک کی ایپ بارز کے تحت ایسے لوگ جو ریپنگ کرنے کے خواہش مند ہیں، ان کی کافی مدد ہو سکے گی جبکہ یہ صارفین کو سینکڑوں بیٹس بھی فراہم کرے گی جس پر ریپر 60 سیکنڈز کی ویڈیو ریکارڈ کرسکیں گے۔

    اس کے علاوہ بارز ایپلی کیشن میں ریپنگ لیرکس لکھنے پر ایپ دھنیں، آڈیو اور ویڈیو فلٹرز تجویز کرے گی نئی ایپ میں ٹک ٹاک کی طرح ہی فیڈ ہوگی جس پر دوسروں کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز نظر آئیں گی اور اگر آپ کو کسی کی ویڈیو پسند آئے گی تو اسے لائیک کرنے کے لیے فائر (آئکن) پر کلک کرنے سے وہ ویڈیو لائیک ہو جائے گی۔


    رپورٹ کے مطابق فیس بک کی جانب سے اسمارٹ واچ کی تیاری پر بھی کام شروع کردیا گیا ہےاسمارٹ واچ کے ابتدائی ورژن کو 2022 میں متعارف کروائے جانے کا امکان ہے جس میں اوپن سورس اینڈرائیڈ آپریٹںگ سسٹم اور بلٹ ان سیلولر کنکشن موجود ہوگا۔

    فیس بک کی اسمارٹ واچ فٹنس اور صحت پر زیادہ توجہ دے گی جبکہ میسجنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی اور اسمارٹ واچ میں ویڈیو کالنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ یہ ایپ ابھی صرف امریکا میں محدود صارفین کے لیے ہی ہے جب کہ ایپ کو دنیا بھر کے صارفین کے لیے پیش کرنے کے حوالےسے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

  • عالم برزخ کا پہلا دن       بقلم:عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    عالم برزخ کا پہلا دن بقلم:عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    عالم برزخ کا پہلا دن

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
    اے اطمینان والی جان !
    الفجر : 27
    ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً
    اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی ہے، پسند کی ہوئی ہے۔
    الفجر : 28
    فَادْخُلِي فِي عِبَادِي
    پس میرے ( خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔
    الفجر : 29
    وَادْخُلِي جَنَّتِي
    اور میری جنت میں داخل ہو جا ۔
    الفجر : 30

    آج ہم آخرت کے معاملات میں سے ایک معاملہ کا تذکرہ کریں گے جس کے ساتھ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں گے گے اور اس کے ساتھ ہم اللہ ملک الملک کو یاد کریں گے تاکہ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نفع عطا فرمائے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر انگیز گفتگو

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی

    (یعنی قبر کھودی جا چکی تھی مگر ابھی تک اس کی لحد یعنی قبر کے اندر ایک جانب، نہیں نکالی گئی تھی)

    رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا:
    عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔

    مومن آدمی کی موت کا منظر

    خوبصورت چہروں والے فرشتے جنت کی خوشبو اور جنت کے کفن کے ساتھ نیک روح کو لینے آتے ہیں

    اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:

    ” إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ
    مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نظر جاتی ہے

    (اے مسلمانو❗ یہ روح کے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف نکلنے کے وقت کا منظر ہے جب آدمی کی موت کا وقت آجاتا ہے اور اس کی روح اس کے حلق کی طرف چڑھتی ہے تاکہ جسم سے باہر نکل سکے اور یہ دنیا میں اس کے آخری سانس ہوتے ہیں اور وہ ان سب لوگوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو اس کے ارد گرد ہوتے ہیں اور اللہ تعالی جانتا ہے جب اس کی روح نکل رہی ہوتی ہے جب کہ وہ اس چیز سے بے خبر ہوتے ہیں )

    اسی منظر کو اللہ تعالی نے یوں بیان کیا ہے
    فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ
    پھر کیوں نہیں کہ جب وہ (جان) حلق کو پہنچ جاتی ہے۔
    الواقعة : 83
    وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ
    اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔
    الواقعة : 84
    وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ
    اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے۔
    الواقعة : 85
    فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ
    سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں۔
    الواقعة : 86
    تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
    تم اسے واپس لے آتے، اگر تم سچے ہو۔
    الواقعة : 87

    ملک الموت نیک روح سے مخاطب ہوتا ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ ".
    اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔

    ( أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ کا مطلب ہے کہ تو پاکیزہ روح ہے کیونکہ تو بڑے بڑے بڑے حرام کاموں کے ساتھ گناہوں میں ملوث نہیں ہوئی
    نہ تو نے زنا کیا
    نہ حرام کی مرتکب ہوئی
    اور نہ ہی کسی کی غیبت کی
    تو ایک پاکیزہ روح ہے
    تو خیر کا کام کیا کرتی تھی اور اسی کی طرف لوگوں کو ابھارا کرتی تھی
    اور تو لوگوں کو شر سے ڈر آیا کرتی تھی تو ایک پاکیزہ روح ہے آج شیطان تیرے اندر وسوسہ پیدا کرنے والی کوشش میں کامیاب نہیں ہوا تو ایک پاکیزہ جسم میں رہتی تھی جس کی ساری کوششیں اللہ سے دعا کرنے،
    نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور نیک کام کرنے میں لگی رہتی تھی
    تیری زبان اللہ تعالی کا ذکر کرنے اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر کرنے میں لگی رہتی تھی اور تیری نظر ہمیشہ حلال کو ہی دیکھتی تھی
    اور تیرا جسم اور پاؤں ہمیشہ مساجد اور جہاد فی سبیل اللہ اور صدقہ اور غریبوں کی مدد کیلئے چل کر جایا کرتے تھے
    سو اے پاکیزہ روح❗ تو ایک پاکیزہ جسم میں تھی اب اپنے رب کی رضوان اور خشنودی کی طرف نکل)

    مومن کی روح اس کے جسم سے نکلنے کی مثال

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ
    اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔

    (یعنی جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے وہ جو چمڑے کا بنا ہوتا ہے جب اس مشکیزہ کو الٹا کر دیا جائے تو اس سے سارا پانی نکل جاتا ہے وہ قطرہ جو اس کے اوپر والے حصے میں باقی رہ جائے جب اس کا منہ نیچے کی طرف کرکے اسے لٹکا دیا جائے تو وہ کس طرح آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آتا ہے اور اس کے منہ سے آسانی کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے
    وہ قطرہ مشکیزے کی اوپر والی جانب سے نیچے والی جانب کی طرف بڑی آسانی کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے بہنا شروع کر دیتا ہے نہ اس میں سختی ہوتی ہے نہ کوئی رکاوٹ ہوتی ہے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ مشکیزے کے منہ تک آ جاتا ہے پھر اس مشکیزے سے نکل جاتا ہے
    ایسے ہی مومن کی روح اس کے جسم سے بڑی ہی آسانی کے ساتھ اور نرمی کے ساتھ باہر نکل جاتی ہے)

    پاکیزہ روح کے باہر نکلتے ہی دیگر فرشتے اسے حاصل کرنے کے لیے فورا آگے بڑھتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا
    جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر لیتے ہیں

    (یعنی رحمت کے فرشتے جو موت کے فرشتے کے ساتھ جنت سے کفن لے کر نازل ہوئے تھے اور جنت سے خوشبو لے کر نازل ہوئے تھے وہ پسند نہیں کرتے کہ اس مومن بندے کی روح آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ملک الموت کے پاس رہے لہذا وہ فوراً ہی اس روح کو ملک الموت سے وصول کر لیتے ہیں)

    پاکیزہ روح کا ادب، اکرام اور احترام

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ
    پھر وہ اسے جنت والے کفن اور اس کی خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں

    وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ
    اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے

    یہ خوشبو اِس چیز کی ہے کہ اس روح نے دنیا میں اپنے جسم کو غلاظتوں سے بچا کر رکھا تھا
    اچھے اخلاق کے ساتھ
    اچھی گفتگو کے ساتھ
    مساجد کی طرف چل کر جانے کے ساتھ
    جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ
    امر بالمعروف کے ساتھ
    نہی عن المنکر کے ساتھ
    لہذا یہ روح عزت واکرام کی مستحق ہے

    آسمان کی طرف سفر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    : ” فَيَصْعَدُونَ بِهَا
    پھر فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں

    جب روح کو اوپر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو وہ جسم سے جدا ہو چکی ہوتی ہے اور فوت ہونے والے کے اہل و عیال پیچھے رو رہے ہوتے ہیں آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں مال پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کو یقین آ چکا ہوتا ہے کہ وہ ان کے سامنے فوت ہوگیا ہے اس کے گھر والے اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں اور لوگوں میں اس کا اعلان کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ میں شامل ہو سکیں لیکن اس دوران انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ روح کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالی سب کچھ جانتے ہوتے ہیں اور فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں )

    راستے میں ملنے والے دیگر فرشتے پاکیزہ روح کا تعارف کرتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَلَا يَمُرُّونَ – يَعْنِي بِهَا – عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرَّوْحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا
    اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    مثال کے طور پر، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے
    تو وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ عبدالمنان ہے
    بلکہ کہتے ہیں یہ شیخ الحدیث، استاذ العلماء، حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں

    آسمان کے فرشتے استقبال کرتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں

    پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ
    یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

    فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ
    پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔

    اور وہ اس دوران فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں:
    یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟
    اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    سبحان اللہ
    یہ نیک آدمی ہے اسے آسمان کے فرشتے بھی پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ ملاقات کرنے کو پسند کرتے ہیں
    کیسا پاکیزہ انسان اور خوش قسمت ہے کہ آسمان کے فرشتوں کے درمیان بھی اس کا تذکرہ بہت اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے اور دنیا میں بھی اور آسمان میں بھی اس کے لیے قبول لکھ دیا جاتا ہے

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس روح کے لیے اعزاز

    فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :
    پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں
    اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ ؛ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى ".
    میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔

    روح دوبارہ جسم میں واپس لوٹا دی جاتی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ
    پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے

    یعنی اتنی دیر میں اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں تو قبر میں اس کی روح اس کے جسم میں داخل کردی جاتی ہے

    منکر نکیر سے ملاقات

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ
    پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ دونوں اسے کہتے ہیں
    مَنْ رَبُّكَ ؟
    : تیرا رب کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے
    رَبِّيَ اللَّهُ.
    :میرا رب اللہ ہے۔

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ کہتے ہیں:
    مَا دِينُكَ ؟
    تیرا دین کیا ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    دِينِيَ الْإِسْلَامُ.
    میرا دین اسلام ہے۔

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ کہتے ہیں:
    مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟
    یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ جواب دیتا ہے:
    هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
    وہ اللہ کے رسول ہیں

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں
    وَمَا عِلْمُكَ ؟
    تجھے یہ علم کہاں سے حاصل ہوا کس نے تجھے اس کی خبر دی
    کس نے تجھے اس کے متعلق بتایا تجھے اس چیز کی تعلیم کس نے دی

    یہ فقط کوئی کلام نہیں ہے کہ جس کواپنی زندگی میں نافذ کیئے بغیر یا اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائے بغیر یاد کر لیا جائے

    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ.
    میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی،

    یعنی میں نے کتاب اللہ کو پڑھا اس کو پہچانا اور اس میں جو کچھ لکھا تھا اس کو جانا اس پر عمل کیا

    پھر فرشتے اسے بڑی نرمی محبت اور پیار کے ساتھ کہیں گے کہ تو مطمئن ہو کر سو جا

    قبر میں ملنے والی نعمتیں
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ".
    اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے:
    اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔

    قَالَ :
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
    ” فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ ".
    پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔
    اور ایک روایت میں ہے
    وینظر الی مقعدہ من الجنۃ
    وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھتا ہے

    ایک خوبصورت آدمی کی قبر میں تشریف آوری

    قَالَ :
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
    ” وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ.
    اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا

    فَيَقُولُ لَهُ :
    وہ قبر والا پوچھتا ہے:

    مَنْ أَنْتَ، فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ ؟
    تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔

    فَيَقُولُ :
    وہ جواباً کہتا ہے:

    أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ.
    میں تیرا نیک عمل ہوں۔

    میں تیرے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوں ہوں
    میں تیری وہ نماز ہوں جو تو اس وقت پڑھا کرتا تھا جب لوگ سوئے ہوتے تھے
    میں تیرا روزہ ہوں جو تو سخت دن میں رکھا کرتا تھا
    میں تیری طرف سے کیا ہوا صدقہ ہوں جبکہ لوگ اپنا مال جمع کر کے رکھتے تھے
    میں تیرا سخت دن میں مسجد کی طرف چل کر جانا ہوں
    میں اللہ کے سامنے تیرے کیئے ہوئے سجدے ہوں

    کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ہے❗
    میں تیرا امر بالمعروف ہوں اور نہی عن المنکر ہوں
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتا تھا
    میں تیری وہ آزمائش ہوں جو تم پر دین کی وجہ سے آئی تھی
    میں تیرا جہاد فی سبیل اللہ ہوں
    میں تیری طرف سے کی گئی قرآن کی تلاوت ہوں
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو اپنی اولاد کی بہترین تربیت کیا کرتا تھا اور تو انہیں کہا کرتا تھا کہ قرآن یاد کرو اور اٹھو نماز ادا کرو
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں کو پردے کا حکم دیا کرتا تھا
    میں تیرے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہوں نہ میں زمین سے اگا ہوں نہ آسمان سے اترا ہوں
    میں تیرا وہی عمل ہوں جو تو دنیا میں کیا کرتا تھا اور جو تو نیکی جمع کیا کرتا تھا
    انا عملک الصالح
    میں تیرا نیک عمل ہوں

    نیک آدمی قبر میں خواہش کرے گا

    فَيَقُولُ :
    پھر وہ کہے گا :
    یارَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي ".
    اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔

    اے اللہ میں تیری ملاقات سے خائف نہیں ہوں یقینا تو نے مجھے امن دیا ہے مجھے شوق ہے کہ میں تیرے ساتھ ملاقات کر سکوں میں نے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیا ہے
    وہ ہے میرا محل
    وہ ہیں جنت میں میری بیویاں
    وہ ہے جنت میں میری نعمتیں
    وہ ہیں جنت میں میرے اھل وعیال
    میں انہیں جلدی ملنا چاہتا ہوں
    یارَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ
    اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے

    کافر کی جان نکلنے کا بھیانک منظر

    کالے چہروں والے فرشتے بدبو دار ٹاٹ لے کر کافر کی روح نکالنے آتے ہیں

    پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافر کی روح نکلنے کے متعلق فرمایا:

    ” وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ

    کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں،

    وہ فرشتے مسلسل اس کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور پل بھر کے لئے بھی آنکھ بند نہیں کرتے اور وہ ٹاٹ جو ان کے پاس ہوتا ہے انتہائی بد بو دار گندا اور سخت لباس ہوتا ہے جو اس کو پہنانے کے لیے لایا جاتا ہے اتنا سخت ہوتا ہے کہ جیسے کانٹوں سے بھری کوئی شاخ ہو

    ملک الموت اس سے مخاطب ہوتا ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ ".
    اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ

    أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ
    اے خبیث روح! یعنی تو خبیث ہے اور جس جسم میں تھی وہ بھی خبیث ہے ایسے پاؤں جو کبھی بھی مسجد کی طرف اٹھ کر نہیں گئے
    ایسے کان جنہوں نے ہمیشہ محرمات اور فواحش کو سنا
    یہ کیسے ہاتھ اور کیسے پاؤں ہیں جو ہمیشہ اللہ کی معصیت میں لگے رہے اور دعوت اور خیر کے کام سے محروم رہے

    اے خبیث روح تو ہمیشہ اپنے جسم میں محرمات اور شیطان کے وسوسے ڈالتی رہی ہیں
    اے خبیث روح تو خبیث جسم میں تھی پس تو اپنے رب کے غیض و غضب کی طرف نکل اپنے رب کی لعنت کی طرف نکل

    روح گھبراہٹ میں چھپنے لگے گی

    قَالَ :
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتَفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ،
    وہ روح اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔

    یعنی رعب کی شدت کی وجہ سے وہ روح اس کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے اسے سمجھ نہیں آرہی ہوگی کہ وہ کس طرف بھاگ سکے

    کبھی جسم کے دائیں پاؤں میں جاتی ہے کبھی بائیں پاؤں میں جاتی ہے کبھی ہاتھوں میں آ جاتی ہے کبھی پیٹ میں چلی جاتی ہے یعنی وہ پورے جسم میں متفرق منتشر ہو جاتی ہے

    خبیث روح کے نکلنے کی شدت

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ
    پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔

    جیسے آپ کسی تیز دھار چھری پر گیلی اون لپیٹ دیں پھر اس کو شدت کے ساتھ اس چھوری سے کھینچیں تو کچھ اون چھری کے ساتھ چپکی رہ جائے اور کچھ کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے

    خبیث روح کے ساتھ دیگر فرشتوں کی بے رحمی

    فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ
    جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے

    اس دوران
    اس کے گھر والے پیٹ رہے ہیں اس کا مال تقسیم ہو رہا ہے اس کے بچے اس کی چھاتی پر چڑھ کر رو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس کی موت پر خوش بھی ہو رہے ہیں
    کتنے ہی مظلوم ہیں جو اس ظالم کی موت پر خوش ہو رہے ہیں
    کتنے ہی ستم زدہ ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے اس ظالم کی موت سے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
    اور کتنے ہی وہ ہیں جن کو اس ظالم کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی اور وہ بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے آج وہ بہت خوش ہیں

    کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی موت کی وجہ سے رحمان کا عرش ہلتا ہے اور مسجدوں کے منبر ان کی محبت میں روتے ہیں
    اور کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ مرتے ہیں تو لوگ ان کی موت پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں

    راستے میں ملنے والے فرشتوں کے کمنٹس

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرَّوْحُ الْخَبِيثُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا
    فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں:
    یہ خبیث روح کس کی ہے؟
    اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    (یعنی اس کا وہ بدترین نام لے کر تعارف کروایا جاتا ہے کہ جو اس کا نام دنیا میں اس کی اہانت کے طور پر لیا جاتا تھا اور جس نام سے خود اس کو بہت چڑ اور پریشانی ہوتی تھی)

    فرشتے کہیں گے اے خبیث روح تو کسی بھی قسم کے اکرام اور پروٹوکول کی مستحق نہیں ہے کیونکہ تم نے اپنے جسم کی عزت نہیں کی کہ وہ نماز پڑھنے والا بنتا نہ اپنے ہاتھوں کی عزت کی کہ وہ صدقہ کرنے والے بنتے
    تو نے خود اپنے نفس کی عزت نہیں کی کہ وہ فرشتوں کے ہاں معزز بنتا اور نہ ہی تو نے خود اپنے نفس کی قدر کی آسمان والوں کے ہاں قدر والا بنتا

    آسمان کے فرشتے اس کے ساتھ کیسا رویہ اپناتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” { لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ }
    یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا
    پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَاِؑ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔}
    (سورۂ اعراف:۴۰)
    یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔

    اللہ تعالیٰ کا غضبناک حکم

    فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى. فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا ".
    اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے

    نیک روح کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا تھا
    اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ
    اس کے نامہ اعمال کی کتاب علیین میں لکھ دو

    اور اب اس بد روح کے متعلق اللہ تعالی فرما رہے ہیں
    اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى.
    اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو

    پھر اللہ تعالی فرمائیں گے اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ اسی سے میں نے اس کو پیدا کیا ہے اسی میں اسے لوٹاؤں گا اور پھر اسی سے دوبارہ اس کو نکالوں گا

    خبیث روح کے بلندی سے نیچے گرنے کی منظر کشی

    ثُمَّ قَرَأَ :
    اس موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    ” { وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ }،
    (سورۂ حج:۳۱)
    یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔

    خبیث روح واپس اپنے جسم میں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ،
    اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے

    یعنی اتنی دیر میں اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں تو قبر میں اس کی روح اس کے جسم میں داخل کردی جاتی ہے

    منکر نکیر سے سامنا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ
    اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں

    وہ آتے ہی اس کو حرکت دیتے ہیں ہیں لیکن یہ حرکت کوئی شفقت و نرمی، آسانی اور پیار کی نہیں ہوتی بلکہ وہ سختی کے ساتھ اس کو جھنجوڑتے ہیں وہ گھبرا کر اٹھتا ہے

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:
    مَنْ رَبُّكَ ؟
    تیرا رب کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا

    فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟
    ۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟
    فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا

    فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟
    وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟

    فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    ۔وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا

    یعنی تو کس کا بندہ تھا کس کی عبادت کیا کرتا تھا کیا تو ایک اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا یا اپنی شرمگاہ کا غلام تھا
    اپنے مال کا غلام تھا
    اپنی کرسی عہدے کا غلام تھا اپنی خواہش کا غلام تھا ❓

    اور اس آدمی کے بارے میں تو کیا جانتا ہے جس کو تمہارے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا تھا
    کیا تو اس کو جانتا ہے
    کیا تو اس کی سیرت کو جانتا ہے
    کیا تو نے اس کے بارے میں پڑھا
    کیا تو اس کی صفات کو جانتا ہے
    کیا تو نے اس کی پیروی کی
    کیا تو نے اس کی عزت کا دفاع کیا

    جب تمام سوالوں کے جوابات دینے میں ناکام ہو جائے گا تو فرشتہ اس کو کہے گا نہ تو نے پڑھا نہ کسی اہل علم کا پیچھا کیا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی
    نہ قرآن پڑھتا تھا نہ اس کی تلاوت کرتا تھا نہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا تیرا سارا مقصد خواہشات اور دنیا اکٹھا کرنا تھا
    یا پھر عہدہ، کرسی، بادشاہت اور پروٹوکول تیرا مطمع نظر رہتا تھا
    یہی تیرا ہر وقت مقصد ہوتا تھا اور رہا آخرت کا ڈر تو اس کو تو نے قدموں کے نیچے پھینک دیا تھا

    سوالات میں ناکامی کے بعد عذاب کا سامنا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس کو ہتھوڑے کے ساتھ مارا جائے گا ایسا ہتھوڑا کہ اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دے
    پھر اسے زمین میں ستر ہاتھ نیچے تک دھنسا دیا جائے گا

    وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ
    اور اس پر اس کی قبر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کی دونوں طرف کی پسلیاں بھی آپس میں پیوست ہوجائیں گی

    فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوا لَهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ. فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا
    اللہ تعالی کہیں گے اس بندے نے جھوٹ بولا ہے پس اس کے لئے آگ کا بچھونا لگاؤ اور جہنم کی طرف اس کا دروازہ کھول دو
    پھر وہ جہنم کی گرمی محسوس کرے گا جہنمیوں کی چیخ و پکار اور آوازوں کو سنے گا

    ایک بد صورت آدمی کی تشریف آوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ
    ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آئے گا

    (ایسا بدصورت ہو گا کہ آنکھ اس کی طرف دیکھ نہیں سکے گی اور ایسا بدبودار ہوگا کہ اس کی بد بو سونگھی نہیں جائے گی)

    فَيَقُولُ :
    وہ کہے گا
    أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ
    تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے

    یعنی اس وقت تو جو تکلیف اور عذاب دیکھ رہا ہے اس سے بھی بڑی تکلیف اور برا عذاب تیرے پاس آنے والا ہے

    تجھے قبر میں ہتھوڑا لگا ہے لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے
    تجھے قبر میں دبایا گیا ہے کہ تیری پسلیاں ایک دوسرے میں مل گئی ہیں لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے
    تو نے جہنم دیکھ لی ہے اس کی گرمی بھی محسوس کر لی ہے
    اس کی بد بو بھی تجھ تک پہنچ چکی ہے
    لیکن یہ سب کچھ بھی نہیں ہے تیرے پاس اس سے بھی بڑا عذاب آنے والا ہے
    أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ

    اور یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا

    فَيَقُولُ :
    وہ اس کی طرف دیکھ کر کہے گا
    مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ ؟
    تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟

    فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ.
    وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں

    میں تیرے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوں تیرے ہی ہاتھوں کا کیا ہوا عمل ہوں

    وہی زنا جو تو کیا کرتا تھا
    وہ شراب جو تو پیا کرتا تھا
    وہی جو تو باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھایا کرتا تھا
    وہی جو تو کمزوروں پر ظلم کیا کرتا تھا
    وہی جو تو اپنے والدین کی نافرمانی کیا کرتا تھا
    وہی جو تو نماز کے وقت سویا رہتا تھا
    وہی جو تو لوگوں کو قتل کیا کرتا تھا
    وہی جو تو شریعت کے خلاف حکم دیا کرتا تھا
    وہی جوتو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے خاموش رہا کرتا تھا
    وہی تیری غیبت
    وہی تیری چغلی
    انا عملک الخبیث
    میں تیرا وہی خبیث عمل ہوں

    قبر میں اس کی خواہش

    فَيَقُولُ :
    ۔ وہ قبر والا کہے گا
    رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ ".
    اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا

    یہ بات وہ اس وجہ سے کہے گا کہ وہ وہ جہنم میں اپنا عذاب دیکھ چکا ہوگا

    یہ مکمل واقعہ مسند احمد اور سنن ابی داؤد میں موجود ہے
    حكم الحديث: إسناده صحيح رجاله رجال الصحيح

    اے مسلمانو❗ یہ ہیں لوگوں کے ان کی قبروں میں پیش آنے والے حالات
    اگر مردے بات کریں اور تم ان کی چیخ و پکار کو سن سکو اور اگر تم قبروں کی زیارت کرو اگر آپ بادشاہوں سرداروں اور بڑوں کے جنازے دیکھو جب کہ وہ اپنی زندگی میں بڑی عزت دولت اور شان و شوکت میں رہا کرتے تھے جب کہ اب وہ کیڑوں مکوڑوں اور حشرات الارض کی خوراک بن چکے ہیں

    اگر آج وہ بول سکیں اور اپنی قبروں سے کھڑے ہو سکیں اور اپنے کفن اتار سکیں اور اللہ تعالی ان کو اجازت دے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بات کریں
    تو ان میں سے کوئی بھی آپ کو زنا اور شراب خوری کا حکم نہیں دے گا اور نہ ہی یہ کہیں گے کہ اے جوانو موج مستی کرو
    بلکہ وہ نماز پڑھنے کا کہیں گے
    وہ کہیں گے دنیا سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اللہ کی ملاقات کو مت بھولو

    ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہماری ہمارے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی آخرت اور قبر بہتر فرمائے

    عذاب قبر کے متعلق ہمارا عقیدہ

    اے بھائیو❗ عذاب قبر اور اس کی نعمتوں کے متعلق سینکڑوں دلائل کتاب و سنت میں موجود ہیں

    اور آدمی کا ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ عذاب قبر اور اس کی نعمتوں پر یقین نہ کریں

    قبر میں دفن نہ ہونے والا انسان

    رہا وہ انسان کے جس کو دفن نہیں کیا جاتا وہ جل جاتا ہے یا پانی میں غرق ہوجاتا ہے اس کو پانی کی مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا حشرات الارض کھاجاتے ہیں یا وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں بکھر جاتا ہے یا اس جیسا کوئی اور حادثہ اس کے ساتھ پیش آ جاتا ہے تو یہ لوگ بھی عذاب قبر یا اس کی نعمتوں کا سامنا کریں گے
    اور یہ اس لیے کہ عذاب قبر اور اس کی نعمتیں روح پر ہوتی ہیں اور جسم اس کے تابع ہوتا ہے

    زندگی کی تین اقسام

    اے مسلمانو❗ جسم اور روح کے باہمی تعلقات کے اعتبار سے زندگی کی تین اقسام ہیں

    نمبرایک یا تو نعمتیں جسم پر ہوتی ہیں اور روح اس کے تابع ہوتی ہے جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے مثال کے طور پر جسم کوئی لذیذ مشروب پیتا ہے تو اس سے اس کی روح بھی خوش ہوتی ہے اور فائدہ اٹھاتی ہے یا جسم کوئی خوشبودار چیز سونگھتا ہے تو اس سے جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی فائدہ اٹھاتی ہے لہذا جسم پہلے فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ روح اس کے بعد فائدہ اٹھاتی ہیں

    دوسری زندگی قبر کی زندگی ہے یعنی برزخ والی زندگی جو موت کے بعد سے لے کر قیامت قائم ہونےتک ہے یعنی یہ دنیا اور آخرت کی دونوں زندگیوں کے درمیان کی کیفیت ہے
    یہ وہ زندگی ہے جس میں عذاب اور نعمتیں روح پر ہوتی ہیں اور جسم اس کے تابع ہوتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی کسی نیک آدمی کی قبر کھود دی جائے یا کسی برے آدمی کی قبر کھولی جائے تو اس میں نعمتیں نظر آتی ہیں اور نہ ہی عذاب نظر آتا ہے
    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ عذاب قبر یا اسکی نعمتیں واقع ضرور ہوتی ہیں لیکن ان کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے
    کیونکہ ہم روح کے اصل کیفیت نہیں سمجھتے اور روح کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے لیکن ہم یقین رکھتے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قبر میں نعمتیں بھی ہوں گی اور عذاب بھی ہوگا اگرچہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے

    اور زندگی کی تیسری قسم وہ زندگی ہے جو آخرت میں ہوگی یا جنت میں یا جہنم میں اور یہ وہ زندگی ہے جس میں نعمتیں اور روح دونوں پر اکٹھے ہوں گے

    ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ چیزیں برحق ہیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں ان لوگوں میں شامل کر لے کہ جن پر قبر کی نعمتیں ہوں گے اور جو قبر کے عذاب سے محفوظ رہیں گے
    اے اللہ ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہم پر موت کی سختی آسان کردے

    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

  • شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا     شاعری :سفیر اقبال

    شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا شاعری :سفیر اقبال

    لوٹ_آنا

    شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا
    وہ شوقِ پرواز گر دوبارہ کبھی ستائے تو لوٹ آنا

    وہ گھونسے تھپڑ وہ سب چپیڑیں جو بھول جاؤ تو غم نہیں ہے
    مگر میری جاں تمہیں وہ عزت نہ راس آئے تو لوٹ آنا

    ابھی نئے منظروں نئی مستیوں میں جی لو مگر کبھی بھی
    وہ خودکشی کا دوبارہ جب کوئی حکم آئے تو لوٹ آنا

    شاعری :سفیر اقبال

  • سرجیکل سٹرائیک اور انٹرنیشنل سرپرائز ڈے   ازقلم غنی محمود قصوری

    سرجیکل سٹرائیک اور انٹرنیشنل سرپرائز ڈے ازقلم غنی محمود قصوری

    سرجیکل سٹرائیک اور انٹرنیشنل سرپرائز ڈے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    فرد ،قبیلے،خاندان اور ممالک کی عزت کا پتہ اس کے پڑوس سے لگتا ہے کہ وہ کس قدر حقوقِ ہمسائیگی کا ادا کرنے والا ہے اگر اس کے ہمسائے اس سے خوش ہونگے تو اس کی عزت کی گواہی سب سے پہلے اس کے پڑوس سے ملے گی
    ہمارے پڑوس میں بھارت بھارت نامی ملک واقع ہے جس کی شر سے اس کے ہمسائے سب سے زیادہ متاثر ہیں
    چائنہ،پاکستان ،بنگلہ دیش،بھوٹان،میانمار،نیپال غرضیکہ کوئی بھی ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی اپنے پڑوسی پاکستان سے ابتک 1947,1965,1971 اور 1999 میں کارگل جنگ ہو چکی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر ہر گھنٹے ہی کشیدگی رہتی ہے چائنہ سے بھارت کی جنگ 1962 میں ہو چکی ہے نیز بنگلہ دیش ،بھوٹان میں بھی انڈین شر انگیزی کے ثبوت ملے ہیں تاہم سب سے زیادہ پاکستان بھارت کے شر کا شکار ہے جنگوں کے علاوہ بھارت نے اپنی دشمنی برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے اندر کئی علیحدگی کی خودساختہ تحریکیں چلائی ہوئی ہیں جن کے تعلقات بھارت سے ثابت ہوئے اور عالمی برداری نے بھی وہ ثبوت مانیں
    بھارت نے 1947 سے ہی کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے جس کے لئے کشمیری اپنے جانوں کے نذرانے دینے کے ساتھ انڈین فوج کو ناکوں چنے بھی چبوا رہے ہیں مگر بھارت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے الزام پاکستان پر لگاتا ہے تاکہ دنیا کو غلط حقائق بتائے جا سکیں مگر دنیا جانتی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قابض ہے
    14 فروری 2019 کو پلوامہ میں انڈین سی آر پی ایف کا کانوائے گزر رہا تھا کہ انڈین فوج سے دل برداشتہ کشمیری عادل احمد ڈار نے اپنی بارود سے بھری کار سی آر پی ایف کے کانوائے سے ٹکڑا دی جس کے نتیجے میں 46 فوج مردار اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے حسب سابق کی طرح بھارت نے الزام پھر پاکستان پر لگا دیا حالانکہ عادل احمد ڈار کی ویڈیو بھی خودکش حملے کے بعد وائرل کی گئی جس میں اس نے انڈیا کو مزہ چکھانے اور انتقام لینے اور انڈین فوجیوں کو کشمیر چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے مگر بھارت نا مانا اور دھمکیاں دینے لگا جس سے لائن آف کنٹرول پر حالات سخت کشیدہ ہو گئے
    26 فروری کی رات بھارتی جنگی جہاز نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود کو روندا جس پر پاک فضائیہ کے شاہین فوری جھپٹے مگر بزدل ہندو جان بچانے کی خاطر اپنا پے لوڈ پھینک گیا تاکہ سپیڈ کم نا ہو اور بھاگنے میں آسانی رہے پیڈ لوڈ بالاکوٹ نامی قصبے کے قریب گرا جس سے دھماکہ ہوا اور اسی دھماکے کو بنیاد بنا کر بھارت سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کر دیا اور کہا کہ ہم نے ایل او سی کے پار جا کر پاکستانی علاقے میں مجاھدین کے ٹریننگ کیمپ تباہ کئے ہیں جن میں ہزاروں مجاھدین شہید ہو گئے ہیں
    بھارت کی اس حماقت پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کی اور اور دنیا کو مخاطب کرکے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کو سچ کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ بھارت سرپرائز کیلئے تیار رہے
    27 فروری 2019 کی صبح دو پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایل او سی کو کراس کیا اور مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی سیکٹر میں انڈین علاقے میں چکر کاٹے تاکہ پتہ چل سکے سرجیکل سٹرائیک کیسے کیا جاتا ہے اور سرپرائز کیسے دیا جاتا ہے پاکستانی طیاروں کو دو انڈین طیاروں نے گھیرا تو پاکستانی شاہینوں نے سرجیکل سٹرائیک کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا جن میں سے ایک انڈین طیارہ انڈین مقبوضہ کشمیر کی حدود جبکہ دوسرا پاکستانی علاقے میں گھرا اور پاکستانی جانباز باحفاظت اپنی پاک سرحد پر اتر گئے
    پاکستان میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے لایا گیا جس نے اعتراف کیا
    پوری دنیا 27 فروری کو پاکستان کی طرف سے دیئے گئے سرپرائز کو بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ پاکستان نے جو کہا کر کے دکھایا ناکہ انڈیا کی طرح جھوٹے دعوے کرنے پر ہی اکتفا کیا
    27 فروری کو بھارت کی بولتی بند تھی اور ہوری دنیا انٹرنیشنل سرپرائز پر بھارت پر تھو تھو کر رہی تھی اور انٹرنیشنل میڈیا پاکستانی افواج ذور خاص کر پاکستان ائیر فورس کی تعریف کر رہا تھا اور مان رہا تھا کہ کہہ کر کرنے والے سرجیکل سٹرائیک کو سرپرائز ہی کہا جاتا ہے

  • نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    ازدفتر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ٹریفک کراچی

    مورخہ 13 رجب المرجب 1442 ہجری(26 فروری2021) بوقت 1600 بجے ایک جلوس بسلسلہ ولادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ غفور چیمبر سے نکالا جائے گا جو محفل شاہ خراساں پر اختتام پزیر ہوگا:۔
    جلوس کا روٹ:
    غفور چیمبر ، عبداللہ ہارون روڈ، شارع عراق، زیب النساء اسٹریٹ، آغا خان روڈ، ایم اے جناح روڈ، فادر جیمنس روڈ تا شاہ خراساں۔
    متبادل راستے
    بہادر یار جنگ روڈ استعمال کرنے والے
    گرومندر سولجر بازار نمبر 3 سگنل ، سولجر بازار نمبر 2 سگنل سے آنے والی ٹریفک کو سولجر بازار نمبر 1 سگنل
    کوسٹ گارڈ ، انکل سریا سگنل سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جا سکتے ہیں۔

    ایم اے جناح روڈ استعمال کرنے والے
    ٹاور ، فریسکو، عید گاہ چوک سے ایم اے جناح روڈ آنے والی ٹریفک کو ڈاکخانہ سے بائیں جانب جوبلی سے نشتر روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ یا تبت سینٹر دائیں جانب ریگل چوک کی طرف جا سکیں گے۔

    عبداللہ ہارون روڈ استعمال کرنے والے
    فوارہ چوک ، زیب النساء مارکیٹ سے آنے والی ٹریفک کو پیراڈائز سگنل سے بائیں جانب پاسپورٹ آفس یا دائیں جانب صدر یا لکی اسٹار کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    آغا خان سوئم روڈ استعمال کرنے والے
    نشتر روڈ، گارڈن باغیچہ سے آنے والی ٹریفک کو گارڈن چوک سے دائیں جانب ایم اے جناح ، تبت چوک سے بائیں جانب ریگل چوک سے اپنی منزل کی طرف جا سکیں گے۔
    عوام الناس سے گذارش ہے کہ زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے نیو ایم اے جناح روڈ (صدر دواخانہ سے پی پی چورنگی )۔ نشتر روڈ (گارڈن باغیچہ سے لسبیلہ )اور بہادر یار جنگ روڈ (گرومندر سے سولجر بازار 1 نمبر سگنل سے انکل سریا) کے متبادل راستوں کا انتخاب کریں.

  • NA-75 ڈسکہ کایا پلٹ گئی ، مریم نواز کا  دعویٰ جو مبشر لقمان بھی ماننے پر تیار

    NA-75 ڈسکہ کایا پلٹ گئی ، مریم نواز کا دعویٰ جو مبشر لقمان بھی ماننے پر تیار

    NA-75 ڈسکہ کے ری الیکشن پر مریم نواز کے دعوے کو پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان بھی ماننے پر مجبور ہو گئے-

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹوب چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ بڑا ہی اہم فیصلہ الیکشن کمیشن کا سامنا آ گیا ہے NA-75 ڈسکہ کے اوپر انہوں نے دوبارہ الیکشن کروانے کا کہہ دیا ہے اور یہ ایک لینڈ مارک فیصلہ ہے لینڈ مارک ججمنیٹ ہے مریم نواز نے اس حوالے سے ڈسکہ والوں کو مبارکباد دی ہے عمران خان اور ان کی حکومت کے اوپر اب بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے


    سینئیر صحافی نے کہا کہ ڈسکہ میں خونی انتخاب ہوا خونی اس لئے کہ اس میں دو معصوم بچوں کی جانیں لی گئیں اور سارے سیست دان ان بچوں کی میت کے اردگرد اپنی سیاست چمکا رہے ہیں جو انتہائی گھٹیا اور چھوٹی بات ہے اورساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ میں کسی ایک جماعت کی بات نہیں کر رہا سارے کے سارے ہی اس میں برابر ملوث ہیں دوسری بڑی بات یہ ہے کہ س میں 7 لوگ زخمی ہوئے تھے ان کا بھی کوئی پُرسان حال نہیں نہ ہی ان کا کوئی والی وارث ہے جب مرتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں تو وہ پارٹیاں اون کر لیتی ہیں لیکن پھر ان کے گھر جاتے وقت موت پڑ جاتی ہے ان کی کفالت کرنے میں پرابلم ہو جاتی ہے تو اللہ کرے کہ ہمارے جو ووٹ ہیں جس کو عزت ملنی ہے تو ووٹر کو بھی عزت ملے اور ووٹر کی بھی زندگی کا تحفظ ہو اور ووٹر کی بھی عزت نفس پامال مت ہو-

    مبشر لقمان نے کہا کہ NA-75 الیکن کمیشن نے بہت ہی سولڈ ججمنٹ دی ہے اور اس میں الیکشن کمیشن کو سلام ہے کہ انہوں نے اتنی جلدی اس کیس کو نمٹایا اور اس کے اوپر فیصلہ دیا پی ٹی آئی ڈیمانڈ کر رہی تھی کہ 20 پولنگ بوتھز کے اوپر ری الیکشن کرائے جن کے اوپر جھگڑا ہوا اور پاکستان مسلم لیگ اور مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر ری الیکشن ہونا ہے تو پورے حلقے میں ہونا ہے ایک میں نہیں ہونا بات تو ان کی صحیح تھی کیونکہ میرا نہیں خیال کہ الیکشن کے طریقہ کار میں اس چیز کی کوئی provision ہے کہ ایک چند حلقوں کے اندر پولنگ ہو تو یہ تو اس کے لئے نئی آئین سازی قانون سازی کرنی پڑتی جو کہ اس الیکشن میں تو ممکن نہیں تھا تو بہرحال الیکشن کمیشن نے آزادانہ فیصلہ کیا اور ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میں ان پر کسی کا بوجھ نہیں ہے کسی کا زور نہیں ہے نہ حکونمت کا نہ عدالت کا نہ کسی ادارے کا -اور الیکشن کمیشن نے اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے 18 مارچ کو اس حلقے میں ری الیکشن کا کہہ دیا-

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ نواز شریف کے بیانیے کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے ووٹ کو عزت دو- ڈسکہ کے عوام کا شکریہ کہ انہوں نے نا صرف ووٹ دیا بلکہ ووٹ پر پہرہ بھی دیا اور ووٹ چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ قانون کے حوالے کر دیا تو میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز نے یہ بالکل صحیح بات کہی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی چھوٹی بات نہیں کہ خریدے ہوئے الیکشنز میں لوگوں نے اتنی گہما گہمی دکھائی اتنا ہائی ٹرن آؤٹ ہوا کیونکہ دو فیصد کے قریب 53 فیصد کے قریب اور وہاں پر لوگوں نے اس دھاندلی کو بلاک کیا اور ہر حلقے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں اور غیر قانونیت بھی ریکارڈ ہوئی فائرنگ بھی ریکارڈ ہوئی-

    مبشر لقمان نے کہا کہ سیالکوٹ اور ڈسکہ کے عوام کا میں بھی بڑا فین ہوں کبھی یہ دل کرتا ہے تو ائیر پورٹ بنا لیتے ہیں دل کرتا ہے تو ائیر لائن بنا لیتے ہیں اب ان کا دل کیا تو انہوں نے اپنی ووت کی ھفاظت کر لی یہ تو مریم نواز نے صحیح کلیم کیا ہے کہ ان لوگوں کو سلام ہے ڈسکہ والوں کو کہ ان لوگوں نے اپنے ووٹ کی حفاظت کی –

    انہوں نے کہا کہ لیکن مجھے ایک بات کی درخواست کری ہے میں نے پاکستان مسلم لیگ ن سے بھی کروں گا پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے بھی کروں گا جتنی بھی جماعتیں اور کارکنان ہیں سب سے کہوں کہ کوئی بھی ہمار سیاسی لیڈر اس قابل نہیں ہے کہ جس کے لئے آپ اپنی جان قربان کر دیں پلیز یہ ایک دوسرے کو مارا ماری اور لڑائی جھگڑا ہماری سیاست صرف سیاست رہنی چاہیئے وہ اس لیول پر نہیں آنی چاہیئے کہ کوئی زخمی ہو کسی گھر کا چراغ گُل ہو اگر یہ چیزیں ہونا شروع ہو جائیں تو ہم جیسوں کو جمہوریت کے اوپر سے اعتبار کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر اس میں معصوم انسانی جانیں ضائع ہونا شروع ہوں اور اس پر جو مرضی کوئی کہے کہ میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتا ہوں یا نہیں کرتا ہوں قطعاً اگر اس پر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے وہ لااینڈ آرڈر کو تیار کر کے رکھے-

    اینکر پرسن نے حال ہی میں ہونے والے الیکشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے اس دن ہم نے دیکھا کہ آئی جی ، ڈی آئی جی آپریشنز غائب تھے چیف سیکرٹری ، انٹیرئیر سیکرٹری یہ سب غائب تھے تو پنجاب حکومت کی انتظامیہ کے اوپر یہ بہت بد نما داغ ان کے چہرے پر یہ پڑا ہوا اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس دفعہ آنکھیں کھول کر دل کھول کر اور اپنے ضمیر کو جگا کر یہ الیکشنز کروائیں گے کیونکہ یہ NA-75 الیکشن آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے پاکستان کی سیاست کے لئے ایک لینڈ مارک الیکشن ثابت ہو سکتا ہے یہ NA-75 بہت ہی اہم الیکشن ہے سینیٹ کے الیکشن سے بالکل پہلے لیکن ابھی کی ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس میں دوبارہ پولنگ کا کہہ دیا ہے اب دوبارہ مارچ کو ڈسکہ NA-75 میں الیکشن ہو گا –

    مبشر لقمان نے پیشن گوئی کہ کہ لگتا یہ ہے کہ عدالتی طور پر یا الیکشن کمیشن کی حد تک پاکستان مسلم لیگ ن کو واضح جیت مل گئی ہے آج وہ سیلیبریٹ کر سکتے ہیں ان کے سپورٹرز اور ان کے ووٹرز میں جو ش و جذبہ بڑھ جائے گا اور مجھے لگتا ہے کہ جب آنے والے دنوں میں جب یہ NA-75 الیکشن ہو گا تو مسلم لیگ ن آرام سے الیکشن جیت ہو سکتی ہے کیونکہ موڈ جو وہ پورے کا پورے وہاں پر سینٹرل پنجاب کے کئی حلقوں میں نہ صرف ڈسکہ مسلم لیگ ن کے حق میں جا رہا ہے –