Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قلم کارواں کی ادبی نشست    بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست
    ڈاکٹر ساجد خاکوانی

    منگل 17نومبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں معروف شاعراوردانشور جناب محمداکرم الوی کامقالہ”مصطفائی کلچرکے بنیادی تصورارت؛فکراقبال کی روشنی میں“طے تھا۔یہ نشست ماہ ربیع الاول اوریوم اقبال کے حوالے پر مبنی تھی۔نوجوان ادیب،شاعر،نقاد اور محقق جناب سیدمظہرمسعودسابق سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق اسلام آباداورنائب صدرخواجہ فرید سنگت نے صدارت کی۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے تلاوت قرآن مجید،جناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ،اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔
    صدرمجلس کی اجازت سے جناب اکرم الوری نے اپنا پرمغزمقالہ پڑھ کر سنایا،صاحب مقالہ نے تصورعلم،تصورعبادت،حیات بعد الموت،کائنات کاحرکی تصور،وحدت نسل انسانی اور ختم نبوت پرثقافتی زاویوں سے روشنی ڈالی اور اقبال کے فکروفلسفہ کو بطورثبوت معاون کے پیش کیا،مضمون اگرچہ طویل تھالیکن بہترین مواد کے باعث شرکاء نشست کی دلچسپی اخیرتک موجود رہی۔حاضرین میں سے جناب حبیب الرحمن چترالی،جناب ساجد حسین ملک اور جناب عالی بنگش نے سوالات بھی کیے۔تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ اخلاقیات میں زوال کے باعث سیاسی زوال واقع ہوا۔جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے مقالے کی تعریف کی اورکہاکہ مصطفائی کلچردراصل نبی ﷺکے طریقے پر عمل کرتے رہنے کانام ہے،انہوں نے متعددقرآنی آیات اوران کے ہم معنی علامہ اقبال کے اشعارپڑھ کر سنائے۔جناب شاہد منصورنے اپناتحریری تبصرہ پیش کیاجس میں پہلے سیرۃ النبیﷺکاتذکرہ تھا اوربعد میں مختلف شعراکرام کے نعتیہ اشعارپیش کیے گئے تھے۔جناب ساجد حسین ملک نے پہلے قلم کاروان میں وقت کی پابندی پر اپناخوبصورت تبصرہ کیااوربعد میں کہاکہ قرآن مجیدکاکلچرہی مصطفائی کلچرہے،انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا یہ چھوٹی ہجرت تھی اور بڑی ہجرت گناہوں کو ترک کر کرناہے۔جناب عالی بنگش نے کہا کہ مضمون میں علامہ کے اشعارسے بہت کم استفادہ کیاگیاہے۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپنا حاصل مطالعہ پیش کیا۔
    صدرمجلس جناب سیدمظہرمسعودنے اپنے صدارتی کلمات میں پیش کیے گئے مقالے کی تعریف کی اور کہا کہ قومی زبان میں قومی تقاضوں کے مطابق تیارکیاہوانصاب رائج ہونے سے مصطفوی کلچراور علامہ محمداقبال کی تفہیم ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سیکولرمغربی نظام نے سیرت النبیﷺ کے مقابلے میں بہت سارے نظام فکربناڈالے ہیں جن میں سے کچھ تواپنی موت مرچکے ہیں اور باقی بھی بہت جلد مات کھاجائیں گے۔انہوں نے موجودہ نصابی کتب پر سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ اگر انگریزی ہی پڑھانی ہے تو انگریزی میں علامہ اقبال کے لیکچرزبھی تو پڑھائے جاسکتے ہیں،قرآن مجیدکاانگریزی ترجمہ اور انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت النبیﷺ پر مبنی تحریریں بھی تو پڑھائی جاسکتی ہیں،انہوں نے موجودہ نصابی مواد کے بارے میں کہاکہ یہ مواد پوری نسل کو محض گمراہ کرنے کا باعث بن رہاہے اور اسی نظام تعلیم اور زبان تعلیم کا نتیجہ ہے کہ آج کی پوری نسل قائداعظم ؒ کے افکاراور فکراقبال سے کوسوں دورجاچکی ہے۔صدرمجلس نے حکومتی ذمہ داران سے پرزورمطالبہ کیاکہ مصطفوی کلچراوراقبالیات درسی کتب کاحصہ بناکرقرآن مجیدکی تعلیمات کو نسل نوتک پہنچانے کاانتظام کیاجائے۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

  • پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟   بقلم: رحیق اطہر

    پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟ بقلم: رحیق اطہر

    پاکستان ترقی کر سکتا ہے مگر کیسے؟؟؟
    رحیق اطہر

    احسن اقبال صاحب کا شمار معروف پاکستانی سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ آپ مسلم لیگ نواز کے سرگرم راہنما ہیں اور اکثر و بیشتر پرمغز بیانات داغتے رہتے ہیں جس پر عوام کی طرف سے انھیں "ارسطو” کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز عوامی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انھوں نے ایک پیغام شئیر کیا جس کی مخاطب پوری قوم کے سارے طبقات تھے مگر عوام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ موصوف کی نگارشات کو کئی ایک لوگوں نے سراہا مگر مجھے بھی ان کی نگارشات سے کچھ کہنے کا موقع مل گیا۔ اپنی نگارشات عرض کرنے سے پہلے ضروری خیال کرتا ہوں کہ احسن اقبال صاحب کا "بیانیہ” بھی آپ کو بتا دوں چنانچہ موصوف کہتے ہیں :

    ‏پاکستان ترقی کر سکتا ہے اگر جج “عدالت” تک، جرنیل “بارڈر” تک، عوامی نمائندے “پارلیمنٹ” تک، علماء “یگانگت” تک، افسران “عوامی خدمت” تک ، سرمایہ دار “کاروبار” تک “اور میڈیا “سچ” تک اپنا اپنا کام دیانت اور محنت سے کریں – اپنا کام چھوڑ کر سب کو دوسروں کی پڑی ہے- یہی ہماری بد قسمتی ہے-
    احسن اقبال

    ذیل میں ان کی اس ٹویٹ کا لنک دیا جا رہا ہے۔

    اس پر میری گزارشات بالاختصار کچھ یوں ہیں :

    جج عدالت تک رہیں تو آپ ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں
    (اور مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں)

    جرنیل بارڈر تک رہیں تو آپ انھیں سیاست میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں
    (ملک میں کوئی اہم مہم یا کام درپیش ہو، بھاگ کر فوج کی خدمات لی جاتی ہیں)

    عوامی نمائندے سوائے پارلیمنٹ کے ہر جگہ خوشی محسوس کرتے ہیں
    (کسی بھی عوامی نمائندے کی پارلیمنٹ میں حاضری کا ریکارڈ چیک کر لیں)

    علماء کو ہر کوئی پوائنٹ سکورنگ کے لیے آگے کر دیتا ہے
    (علماء کو سب لوگوں نے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھ رکھا ہے اور اس سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھاتے ہیں)

    افسران کو پروٹوکول سے فرصت نہیں، آخر نوکری بھی تو بچانی ہوتی ہے۔
    (سرکاری افسران کار سرکار کی بجائے عوامی نمائندوں کی نوکری میں مشغول رہتے ہیں)

    سرمایہ دار کاروبار تو کرتا ہے مگر حلال و حرام کی تمیز نہیں، ویسے آج سے ہی اعلان کر دیں کوئی سرمایہ دار کسی سیاسی پارٹی کو جوائن نہیں کر سکتا تو امید ہے پاکستان سے سیاست دانوں کا وجود ختم نہ بھی ہوا تو آٹے میں نمک کے برابر رہ جائے گا۔

    میڈیا سچ دکھائے تو آپ برا مان جاتے ہیں
    (کسی کے بارے میں سچ پیش کیا جائے تو ذاتی زندگی میں مداخلت اور نہ جانے کون کون سے اعتراض سننے کو ملتے ہیں)

    رحیق اطہر

    احتساب کا عمل ہر ایک کو درست سمت میں گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے، قوانین و ضوابط اسی لیے بنائے جاتے ہیں مگر ان کا اطلاق بھی اسی صورت ممکن ہے کہ ایک دوسرے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ ہر کسی کو اس کے حال پر چھوڑ دینا سوائے تباہی کے کچھ نہیں ۔

    صاحب آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ کوئی احتساب نہ ہو، ہر کوئی اپنے دائرہ کار تک محدود رہے، کوئی کسی کو دیکھے نہ پوچھے، تو ملک کا پھر خدا پہ حافظ ہو گا۔

    ریاستی امور میں ہر ایک کو رائے دہی کا حق ہے، یہی اصل جمہوریت ہے۔ اور دوسرے کی رائے سے اتفاق ہو یا اختلاف، احترام بہرصورت لازم ہے۔

    ان گزارشات کی تفصیل سے احباب بخوبی آگاہ ہوں گے تاہم اگر کسی دوست کو کوئی بات سمجھ نہ آئی ہو تو پوچھ سکتے ہیں

  • پاکستان سپر لیگ کی  12 رکنی ڈریم ٹیم کا اعلان

    پاکستان سپر لیگ کی 12 رکنی ڈریم ٹیم کا اعلان

    پاکستان سپر لیگ کی 12 رکنی ڈریم ٹیم کا اعلان

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کی طرز پر پاکستان سپر لیگ کی بھی 12 رکنی ڈریم ٹیم بنا دی گئی، شاداب خان کپتان قرار پائے۔

    پی ایس ایل فائیو کی ٹرافی اور جیت پہلی بار کراچی کنگز کےنام رہی، بارہ رکنی ” ٹیم آف ٹورنامنٹ ” کا بھی اعلان کر دیا گیا جس کی قیادت پہلے مرحلے سے آؤٹ اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان کو دی گئی۔

    کھلاڑیوں میں بابراعظم ، کرس لین، ایلکس ہیلز ، حیدر علی ، محمد حفیظ ، بین ڈنک، ڈیوڈ ویزے، محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین جبکہ فخر زمان کو بارہواں کھلاڑی چنا گی


    پی ایس ایل کے کامیاب ایونٹ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے شرکاء، آفیشلز، مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    گو کہ کورونا وائرس کے باعث ایونٹ کا پلے آف مرحلہ خالی انکلوژرز میں کھیلا گیا۔ تماشائیوں کے بغیر کھیلے گئے ان سنسنی خیز میچوں میں ان کی کمی بھی شدت سے محسوس کی گئی۔اس سے قبل ایونٹ کے تیس لیگ میچز کو کُل 6 لاکھ افراد نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھاتھا۔بلاشبہ ان مشکل حالات میں بھی ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا کامیاب انعقاد ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

    ایونٹ کے فائنل میں آمنے سامنے آنی والی لاہور اور کراچی کی ٹیمیں لیگ میچز میں بھی دو مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھیں، ان دونوں میچز میں اسٹیڈیم کھچاکھچ تماشائیوں سے بھرے ہوئے تھے مگر کوویڈ 19 کی وجہ سے روایتی حریفوں کے درمیان یہ فائنل بند دروازوں میں کھیلا گیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال وعدہ کیا تھا کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 اپنے آغاز سے اختتام تک پاکستان میں ہی ہوگی،ایونٹ کے تعطل کے دوران بھی انہوں نے اسی وعدے کو دہرایاتھا اورانہیں خوشی ہے کہ ہر طرح کے چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کے بعد وہ ملک میں کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک مکمل اور کامیاب ایونٹ کے انعقاد کو یقینی بناسکے ہیں۔

    پی ایس ایل 5 میں‌ ریکارڈ ہی ریکارڈ بنے ، کس نے کیا معرکہ سر کیا.

  • شائقین کرکٹ کیلیے خوشخبری، چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے اہم خبر دیدی

    شائقین کرکٹ کیلیے خوشخبری، چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے اہم خبر دیدی

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم اکتوبر 2021 میں پاکستان کا دورہ کرے گی، یہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا 16 سال بعد پاکستان کا پہلادورہ ہوگا، جنوری میں کھلاڑیوں کی مصروفیت کے باعث انگلینڈ نے یہ دورہ اکتوبر میں شیڈول کرنے کی تجویز دی تھی،

    اس دورے کو حتمی شکل دینے کے لیے گزشتہ سال سے کام کررہے تھے، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن کی گزشتہ سال پاکستان آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، دنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے، اس سے قبل ہم ایک دہائی کے بعد پاکستان میں کسی بھی ٹیسٹ سیریز کی میزبانی کرچکے ہیں، انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد سے یہاں موجود کرکٹ فینز بہت خوش ہوں گے،

  • ملک میں زیادہ تر ٹیسٹ سینٹرز کی پچز بنانے والے ہیڈ گراؤنڈ انتقال کر گئے

    ملک میں زیادہ تر ٹیسٹ سینٹرز کی پچز بنانے والے ہیڈ گراؤنڈ انتقال کر گئے

    پی سی بی کے سابق ہیڈ گراونڈ مین حاجی بشیر حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے،حاجی بشیر نے 50 سال سے زائد پاکستان کرکٹ بورڈ میں خدمات انجام دیں

    ملک میں زیادہ تر ٹیسٹ سینٹرز کی پچز حاجی بشیر نے بنائیں،پی سی بی سے ریٹائرمنٹ کے بعد حاجی بشیر لاہور قلندرز کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں خدمات انجام دے رہے تھے

    ماجد خان، حنیف محمد ، عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق ،ویوین رچرڈز سمیت دنیا کے ٹاپ سٹارز حاجی بشیر کی بنائی وکٹوں پر کرکٹ کھیلتے رہے ہیں کرکٹ کے حلقوں نے حاجی بشیر کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے

  • پاکستانی شوبز ستاروں کی کراچی کنگز کو چیمپئن بننے پر مبارکباد

    پاکستانی شوبز ستاروں کی کراچی کنگز کو چیمپئن بننے پر مبارکباد

    پاکستان سپر لیگ 5 کا پلے آف، فائنل کل کھیلا گیا جس میں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان میچ کو لے کر جہاں کھلاڑی پر جوش تھے وہیں پاکستانی عوام اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے ستارے بھی سوشل میڈیا پر کافی متحرک نظر آرہے تھے اور اپنی اپنی پسندیدہ ٹیم کو سپورٹ کر رہے تھے –

    باغی ٹی وی : پاکستان سپر لیگ کے فائنل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین نے بھرپور انجوائےکیا ساتھ ہی شوبز شخصیات نے بھی میچ دیکھا اور نتیجے پر جیتی ہوئی ٹیم کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی لاہور قلندر کی بھی کارگردگی کو سراہا-


    اداکارہ مہوش حیات نے اپنے ٹویٹ میںHBLPSLV #( پی ایس ایل) کے فائنل کو سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے کراچی کنگز کو جیت پر مبارک باد دی۔

    انہوں نے لکھا کہ کراچی کنگز کی جانب سے آنجہانی کوچ ڈین جونز کو میچ جیت کر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔


    اداکار عدنان صدیقی نے بھی خوشی کا بھر پور اظہار کرتے ہوئے کراچی کنگز کو جیت پر پنارکباد پیش کی اور میچ میں بابر اعظم کی کارگردگی کو سراہا-


    اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر میچ کے دوران عدنان صدیقی اور اعجاز اسلم کے ساتھ لی گئی تصویر اور کراچی کنگز کی ٹرافی کے ساتھ جسشن مناتے ہوئے تصویر کا کولاج شئیر کیا اور اے آر وائے کے چئیرمین کو اور کراچی کنکز کے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا-


    پاکستان کے معروف اداکار و گلوگار علی ظفر نےٹوئٹر پر کراچی کنگز کو چیمپئن بننے پر مبارکباد دی لکھا لاہوریو بھائی بھی لاپوری ہے لیکن پیشن گوئی تو پیش گوئی ہوتی ہے اس میں جذباک کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا پی ایس ایل کے پچھلے 4 سیزنز کو بھی چیک کر لو سب سے اہم بات ہم سب پاکستانی ہیں زندگی انجوائے کرو-


    گلوگار علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں کراچی کنگز کو چیمپئن بننے پر مبارکباد دی اور لاہور قلندرز کی بھی فائنل تک پہنچنے پر تعریف کی۔


    پاکستان کے نوجوان گلوکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں کراچی کنگز کی جیت پر خوشہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں پہلی بار ہمیں مکمل طور پر ایسا حیرت انگیز پی ایس ایل دینے پر اور پاکستان میں کرکٹ کی بہت سی تقریبات پر ہر کرکٹر ، ٹیم اور پورے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کراچی کنگز کو چیمپئین بننے پر مبارکباد دی-

    علاوہ ازیں عاصم اظہر نے اور لاہور قلندرز کی بھی کاگردگی کی تعریف کی۔


    اعجاز اسلم نے بھی میچ کے دوران ساتھی اداکاروں کے ہمراہ لی گئیں تصا ویر شئیر کرتے ہوئے کراچی کنگز کو چیمئین بننے پر مبارکباد دی-


    فخر عالم نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کنگز کے جیت کی خوشی میں کی جانے والی فائر ورک کی ویڈیو شئیر کی اور چئیرمین کراچی کنگز ، وسیم اکرم ، عماد وسیم اور بابر اعظم کو ٹیگ کرتے ہوئے کراچی کنگز کی پوری ٹیم کو مبارکباد اور آنجہانی کوچ ڈین جونز کو بھی خراج تحسین پیش کیا-


    اپنے ایک اور ٹوئٹ میں فخر عالم نے کراچی کنگز کی پوری ٹیم کی جیتی گئی ٹرافی کے ساتھ لی گئی تصاویر شئیر کرتے ہوئے مبارکباد دی-

    اس کے علاوہ دنیا بھر میں کرکٹ شائقین نے کراچی کنگز کو مبارک باد دی اور لاہور قلندرز کی بھی تعریف کی۔

  • کپتان بابر اعظم کا ڈین جونز کیلئے خاص پیغام

    کپتان بابر اعظم کا ڈین جونز کیلئے خاص پیغام

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا ڈین جونز کیلئے خاص پیغام

    باغی ٹی وی :قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور پاکستان سُپر لیگ میں فاتح کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے بابر اعظم نے جیت سابق ہیڈ کوچ ڈین جونز کے نام کرتے ہوئے ایک پیغام شیئر کردیا۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور پاکستان سُپر لیگ میں فاتح کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے بابر اعظم نے جیت سابق ہیڈ کوچ ڈین جونز کے نام کرتے ہوئے ایک پیغام شیئر کردیا۔


    بابر اعظم نے ڈین جونز کی تصویر اور ٹرافی تھامے کراچی کنگز کی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈینو، کوچ ہم نے اپنا کام پورا کیا۔‘
    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور پاکستان سُپر لیگ میں فاتح کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے بابر اعظم نے جیت سابق ہیڈ کوچ ڈین جونز کے نام کرتے ہوئے ایک پیغام شیئر کردیا۔بابر اعظم نے ڈین جونز کی تصویر اور ٹرافی تھامے کراچی کنگز کی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈینو، کوچ ہم نے اپنا کام پورا کیا۔

    خیال رہے کہ پی ایس ایل کے سیزن فائیو کے فائنل میں کراچی کنگز ، لاہور قلندرز کو شکست دے کر چیمپئن بن گیا۔
    ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کے کامیاب انعقاد پر تمام شرکاء، آفیشلز، مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    گو کہ کورونا وائرس کے باعث ایونٹ کا پلے آف مرحلہ خالی انکلوژرز میں کھیلا گیا۔ تماشائیوں کے بغیر کھیلے گئے ان سنسنی خیز میچوں میں ان کی کمی بھی شدت سے محسوس کی گئی۔اس سے قبل ایونٹ کے تیس لیگ میچز کو کُل 6 لاکھ افراد نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھاتھا۔بلاشبہ ان مشکل حالات میں بھی ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا کامیاب انعقاد ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

  • پی ایس ایل کی فاتح ٹیم کو دی جانے والی رقم کتنی ہوگی؟

    پی ایس ایل کی فاتح ٹیم کو دی جانے والی رقم کتنی ہوگی؟

    پی ایس ایل کی فاتح ٹیم کو دی جانے والی رقم کتنی ہوگی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، پاکستان سپر لیگ کا فائنل جیتنے والی فاتح ٹیم کو دلکش ٹرافی کے ساتھ پانچ لاکھ امریکی ڈالرز کی انعامی رقم دی جائے گی جبکہ رنر اپ ٹیم بھی خالی ہاتھ نہیں جائے گی اسے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دو لاکھ امریکی ڈالر انعام میں دیئے جائیں گے ۔

    تفصیلات کے مطابق پی ایس ایلایونٹ کا فائنل دنیا بھر میں براہ راست نشر کیا جائے گا اور امید ہے کہ کروڑوں مداح اس فائنل کو براہ راست دیکھیں گے ۔ میچ کے حوالے سے لاہور قلندرز کے کپتان سہیل اختر کا کہناہے کہ فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیمیں متوازن ہیں ، ٹی ٹوینٹی کرکٹ میں ایک دو کھلاڑی ہی اپنی پرفارمنس سے پانسہ پلٹ دیتے ہیں ۔دوسری جانب کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم کہتے ہیں کہ بڑا فائنل ہونے جارہاہے ،د ونوں شہروں کی سڑکیں سنسان ہوں گی ، ہم یہ فائن ڈین جونز کیلئے کھیلیں گے

    واضح رہے کہ ج کراچی کنکز اور لاہور قلندرز کے درمیان پی ایس ایل کا فائنل ہونے جا رہا ہے. یہ فائنل کراچی میں‌ہوگا ، روشنیوں کے شہر میں شائقین کرکٹ نے اپنی اپنی فیورٹ ٹیم کو سپورٹ کرکے بتا دیا ہے اور اس حوالےسے پاکستانی اور اہل کراچی فائنل کے حوالے سے بہت پر ّعزم ہیں . کراچی والے اگرچے کراچی کو سپورٹ کر رہے ہیں لیک اس بات سے بھی خوش ہیں کہ جو بھی جیتے اس میں فتح پاکستان کی ہے .

    کراچی کنکز جیتے گی تو کس کے نام اپنی فتح کرے گی

  • اپوزیشن کا روڈ میپ ۔ تحریر:عدنان عادل

    اپوزیشن کا روڈ میپ ۔ تحریر:عدنان عادل

    اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ن لیگ کی ییشین گوئی ہے کہ دسمبر میں حکومت کی چھٹی ہوجائے گی۔ پیپلزپارٹی جنوری کی تاریخ دے رہی ہے۔ اب تو مسلم لیگ (ن) کی عملی طور پر سربراہ مریم نواز نے فوجی قیادت سے مطالبہ بھی کردیا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت رخصت کرے تو ان سے بات چیت ہوسکتی ہے۔یہ وہی کھیل ہے جو انیس سو نوّے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹوایک دوسرے کے خلاف کھیلتے تھے۔ دونوں نے دو باروفاق میں حکومت بنائی اور دونوں بار ایک دوسرے کی حکومت گرانے میں اسٹیبلشمینٹ کا ساتھ دیا۔ہماری سیاسی جماعتیں حکومت سے باہر بیٹھنا گوارا نہیں کرتیں۔ ہر حال میںاقتدار میں آنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کی سیاست کا سفر گول دائرہ کا سفر ہے ۔

    پاکستان میں جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں شکست خوردہ سیاسی پارٹی دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ پہلے دن سے ہارنے والی جماعت جیتنے والی پارٹی سے اقتدار چھوڑنے یا وسط مدتی الیکشن کرانے کا مطالبہ شروع کردیتی ہے۔یہ ہماری قومی سیاست کا مستقل وصف ہے۔ عمران خان جب اپوزیشن میںتھے تو انہوں نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ ایک کے بعد دوسرا دھرنا دیتے رہے۔ حالانکہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن میںکوئی منظم دھاندلی کے شواہد نہیں تھے۔ اسی طرح دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے نتائج بھی توقع کے عین مطابق تھے۔ وسطی پنجاب یعنی لاہور فیصل آباد اور لاہور ڈویژنز میں ن لیگ کا زور تھا۔ یہاں اس نے بہت زیادہ ترقیاتی کام کروائے تھے ۔اس علاقہ میں ن لیگ کے امیدوارہی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ ن لیگ نے جنوبی پنجاب کو اپنے دور حکومت میں نظر انداز کیا تھا ۔ وہاں سے اسے شکست ہوئی۔ پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک اندرون سندھ میں مضبوط تھا۔ اسے وہاں کامیابی مل گئی جس کے بل پر اس نے سندھ کی صوبائی حکومت بنا لی۔لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی پختگی نہیں آسکی کہ وہ الیکشن نتائج کو تسلیم کرلیں اور کامیاب ہونے والی جماعت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیں۔ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں دھاندلی کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔عمران خان کی حکومت آئین اور قانون کے تحت عام انتخابات کے نتیجہ میں وجود میں آئی۔ بلاول زرداری آج اس حکومت کو ناجائز اور سلیکٹڈ کہتے ہیں۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے شروع دنوں کے اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان قدم بڑھاو¿ ‘ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

    ایک منتخب حکومت کو گرانے کا ایک طریقہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لا ئی جائے۔ عمران خان کی پارٹی کو اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل نہیں۔ انکی حکومت ایم کیوایم ‘ ق لیگ اور چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے سہارے قائم ہے۔ اگر یہ پارٹیاں انکا ساتھ چھوڑ دیں تو عمران خان وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔ سوا دو برس گزر گئے اپوزیشن جماعتیں ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد تو نہیں لاسکیں حالانکہ حکومت کی ایک اتحادی جماعت بی این پی مینگل اس سے الگ ہوچکی ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت مسلم لیگ ( ق) وزیراعظم سے خوش نظر نہیں آتی لیکن وہ بھی حکومت گرانے کو تیار نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت کوشریف خاندان پر قطعاً بھروسہ نہیں۔ اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد لا کر وزیراعظم عمران خان کی چھٹی کراسکیں۔

    اپوزیشن کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ زوردار ایجی ٹیشن کرے۔ عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آجائیں۔ پورے ملک میں تاجر طویل ہڑتال کردیں۔ پورے ملک میں پہیّہ جام ہوجائے۔ یہ ایجی ٹیشن کئی ہفتے جاری رہے۔ حکومت مفلوج ہوجائے اور وزیراعظم خود سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں یا ریاستی ادارے ان سے مطالبہ کردیں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں حکومت چھوڑ دیں۔ اس بات کا بھی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اپوزیشن جماعتیں اتنی مقبول نہیں کہ عوام انکی خاطر ایسا زبردست احتجاج کریں۔عمران خان کو ہٹانے کا تیسرا راستہ غیر آئینی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں زبردستی اقتدار سے الگ کرکے اقتدار سنبھال لیں۔ مارشل لا ءیا نیم مارشل لا لگادیں جیسا جنرل ضیاالحق یا جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ملک میں عدلیہ اور میڈیا جتنے طاقتور ہوچکے ہیں عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ غیرآئینی طریقہ سے حکومت کو رخصت کیا جاسکے۔ یوں بھی جس ملک کی آبادی بہت زیادہ ہو جیسا کہ بائیس کروڑ کا پاکستان اس پر آمرانہ طور سے حکومت کرنا کسی ریاستی ادارہ کے بس کی بات نہیں۔ کوئی ریاستی ادارہ خواہ کتنا طاقتور ہو سویلین حمایت اور مقبول سیاسی جماعت کی شراکت کے بغیر ملک پر حکومت نہیں کرسکتا۔ن لیگ کی کوشش ہے کہ الزام تراشی کرکے فوجی قیادت کو مشتعل کیا جائے تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے۔ اب تک قومی سلامتی کے ادارہ نے تنقید اور الزام تراشی پر بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی بہترین حکمت عملی ہے۔

    ان حالات میں اپوزیشن کے پاس ایک آخری راستہ بچتا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے ڈالے ۔ اس سے ایک بڑا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ کم سے کم پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے تون لیگ سے تعلق رکھنے والے تقریبا چالیس پینتالیس فیصد ارکان اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے ۔ ان حالات میں پنجاب اسمبلی کے نئے الیکشن کروانا پڑیں گے۔ مشکل قومی اسمبلی کی ہے جہاں پیپلزپارٹی استعفے دینے کے حق میں نہیں۔ پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمینٹ سے فاصلے کم ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو ریاستی اداروں نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں انتخابی مہم چلانے میں مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اسمبلیاں توڑ کر سندھ میں اپنی حکومت کھونے کا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتی۔ن لیگ کے پاس یہی آپشن بچتا ہے کہ وہ اور اسکی قریب ترین اتحادی جمعیت العلمائے اسلام کے ارکان قومی اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں۔اس عمل سے سیاسی بحران پیدا ہوگا لیکن اگرحکومت نے اپنے اعصاب مضبوط رکھے تو وہ ان کی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کرواسکتی ہے جس سے ن لیگ کی قومی اسمبلی میں پوزیشن مزید کمزور ہوسکتی ہے۔نواز شریف نے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ اختیار کرکے ایک جواءکھیلا ہے۔ نواز شریف کی پالیسی بلیک میلنگ کی ہے۔ اگر ریاستی ادارے انکا دباو برداشت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ن لیگ کو بہت نقصان ہوگا۔ اس صورتحال کا بڑا فائدہ فی الحال تو وزیراعظم عمران خان کو ہوگا لیکن آنے والے دنوں میں بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہوگا۔
    ختم شد

  • کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے اہم اعلان کر دیا

    کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے اہم اعلان کر دیا

    لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی ٹیمیں کل پی ایس ایل کے فائنل میں ٹکرائیں گی ۔ کراچي کنگز کےکپتان عماد وسيم کا کہنا ہے کہ ہم یہ فائنل ڈین جونز کے لیے کھیلیں گے، وہ ہمارے ڈریسنگ روم میں ایک والد کي سی شخصیت تھے جبکہ لاہور قلندر کے کپتان سہيل اختر کا کہنا ہے کہ ہم اپنےمداحوں کو پاکستان سپر لیگ کی ٹرافی کی صورت میں بہترین تحفہ دینا چاہتے ہیں۔

    نيشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہونے والے اس تاریخی فائنل میں روایتی حریف لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گي دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ایونٹ کے فائنل میں پہنچی ہیں۔

    کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث آٹھ ماہ تک تعطل کے شکارپاکستان سپرلیگ کے دونوں کپتانوں نے ایونٹ کے فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے: کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم کا کہنا ہے کہ ہم نے کوالیفائر میں بہت اچھی کرکٹ کھیلی تاہم میچ کا اختتام بہتر نہ کرسکے، اسکواڈ میں تمام کھلاڑی باصلاحیت ہیں، ہم فائنل میں بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ عماد وسیم نے کہا کہ ہم یہ فائنل ڈین جونز کے لیے کھیلیں گے، وہ ہمارے ڈریسنگ روم میں ایک والد کي سی شخصیت تھے، ہم یہ ٹرافی جیت کر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کنگز کے اسکواڈ پر فائنل کا کوئی اضافی دباؤ نہیں، ہمارے لیے یہ بالکل ایک نئے میچ کی طرح ہے، کوشش کریں گے کہ یہاں بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ لاہور قلندرز کے کپتان سہیل اختر کا کہنا ہے کہ ایونٹ کے فائنل میں پہنچنا ہمارے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، ہم پانچ سال سے اس دن کے لیے محنت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال لاہور قلندرز کی کارکردگی میں ایک تسلسل ہے، ہم فائنل میں بھی شاندار کھیل پیش کریں گے۔

    سہیل اختر نے کہا کہ ہمارے فینز نے مسلسل پانچ سال ہمیں اسپورٹ کیا اب ہم پی ایس ایل فائیو کی ٹرافی اٹھا کر انہیں بہترین تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ ابھي تک کھيلے گئے پی ایس ایل میں کراچی کنگز کو لاہور قلندرز کے خلاف برتری حاصل ہے۔دونوں ٹیمیں اب تک 10 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آچکی ہیں، جس ميں جیت 6 مرتبہ کراچی کنگز کے نام رہی۔ تین میچوں میں فتح حاصل کرنے والی لاہور قلندرز کی ٹیم نے برابر ہونے والا ایک میچ سپر اوورز پر جیتا تھا۔ اس ایڈیشن میں دونوں ٹیمیں دو مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھیں، جس ميں لاہور کے ميچ ميں لاہور قلندرزاور پھر کراچی میں کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز نے کامیابی حاصل کی تھی۔