نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ پاکستانی کرکٹ سکواڈ کے ایک اور رکن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اس طرح نیوزی لینڈ میں پاکستانی سکواڈ کے کورونا کیسز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔نیوزی لینڈ اے اور پاکستان شاہینز کے مابین پہلا چار روزہ کرکٹ میچ منسوخ کر دیا گیا ہے
چار روزہ میچ پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر منسوخ کیا گیا،مینیجڈ آئسولیشن میں کھلاڑیوں کی پریکٹس میں تاخیر کی وجہ سے پی سی بی نے میچ کی تاریخوں میں تبدیلی یا منسوخی کی درخواست کی تھی ،قومی اسکواڈ اب کوئنز ٹاؤن میں متعدد انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچز کھیلے گا
پاکستان شاہینز سمیت قومی اسکواڈ میں شامل تمام ارکان 8 دسمبر کو کوئنز ٹاؤن روانہ ہوں گے،کوئنز ٹاؤن روانگی کے لیے اسکواڈ میں شامل ہر رکن کو انفرادی طور پر نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی منظوری درکار ہوگی،تمام ارکان اس وقت کرائسٹ چرچ میں اپنی آئسولیشن کی مدت مکمل کررہے ہیں
اسکواڈ میں شامل 8 ارکان کے کوویڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹ مثبٹ آئی
ان 8 میں سے 2 ارکان کو ہسٹارک یعنی نان انفیکشیس کیسز قرار دیا گیا،کوئنز ٹاؤن پہنچنے پر قومی کرکٹ ٹیم اور پاکستان شاہینز کا اسکواڈ علیحدہ علیحدہ ہوٹل میں قیام کرے گا
پاکستان شاہینز کا اسکواڈ 14 دسمبر کو کوئنز ٹاؤن سے وانگرائے روانہ ہوجائے گا،قومی اسکواڈ 15 دسمبر کو کوئنز ٹاؤن سے آکلینڈ روانہ ہوگا
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلا ٹی ٹونٹی میچ 18 دسمبر کو آکلینڈ میں کھیلا جائے گا
پاکستان شاہینز اور نیوزی لینڈ اے کے مابین واحد چار روزہ میچ 17 دسمبر سے شروع ہوگا
نواز شریف کے لیے بری خبریں، مشکلات مزید بڑھنے لگیں
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق معروف صحافی اور اینکر پرسن نے کہا ہے کہ نواز شریف کے لیے مزید بری خبریں ہیں اور مشکلات بڑھیں گی اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو مفرور اشتہاری کنفرم کردیا ہے. اب سزاکے خلاف عدالتی جنگ جیتنا ناممکن ہے . نیب کیس میں بریت بھی ناکارہ ہوجائے گی سپریم کورٹ پہلے ہی سیاست سے تاحیات ناہل کر چکی ہےکل hard talk انٹرویو سے لگا لندن میں رہائش آسان نہ ہوگی
نواز شریف مزید بری خبریں مشکلات بڑھیں گی اسلام ہائیکورٹ نے نواز شریف کو مفرور اشتہاری کنفرم کردیا سزاکے خلاف عدالتی جنگ جیتنا ناممکن نیب کیس میں بریت بھی ناکارہ ہوجائے گی سپریم کورٹ پہلے ہی سیاست سے تاحیات ناہل کر چکی ہےکل hard talk انٹرویو سے لگا لندن میں رہائش آسان نہ ہوگی pic.twitter.com/Rv6haR2zyP
واضحرہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کوپھراشتہاری قراردے دیا ہے،اطلاعات کے مطابق آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم کوعدالتوں میں پیش نہ ہونے پراور عدل وانصاف کوچکردینے پراشتہاری قرار دیا ہے
نوازشریف کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سخت ریمارکس دیے ہیں اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرپشن کیس میں برطرف سابق وزیراعظم کے حوالے سے عدالت نے تنگ آکر سخت ریمارکس دیتے ہوئے نامی گرامی مجرم سے تعبیر کردیا ہے ،
نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی.اس سماعت کے دوران معزز عدالت کی طرف سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوازشریف ملک وقوم کوچکردینے کے ساتھ ساتھ عدل اورانصاف کوبھی چکردے رہا ہے.
آج کی دنیا کو گلوبل ویلیج بولا جاتا ہے یہاں بسنے والے تمام لوگ چاہتے نا چاہتے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے نتھی ہو چکے ہیں کہ اب جدا ہو ہی نہیں سکتے حتی کہ بسا اوقات ان کی آپسی دشمنیاں بھی انکو ایک دوسرے سے جدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔
ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں بھارت سے سخت متنفر ہوں لیکن اگر دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا محاسبہ کروں تو پتہ چلے گا کہ شاہ رخ میرا بچپن سے ہیرو رہ چکا ہے، سلمان خان جیسی باڈی میرا خواب ہے اور ہریتک روشن جیسا ڈانس مجھے بہت پسند ہے جبکہ ایشوریا، کاجول، پریتی زنٹا، مادھوری، پریانکا، دیپیکا وغیرہ وغیرہ جیسی ایک لمبی لسٹ الگ ہے جس پر ہم نوجوانی میں صدقے واری جاتے رہے ہیں۔
ہم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھارتی گانوں پر ڈانس کی ویڈیوز بھی دیکھ چکے ہیں اور چودہ اگست والے دن ہماری گاڑی جب سٹارٹ ہوتی ہے تو اس میں لگی یو۔ایس۔بی پر بالی ووڈ گانے خودبخود بجنے لگتے ہیں۔
میں پاکستانی ہوکر بھی اس چنگل سے آزاد نہیں ہو سکا کیوں؟ کیونکہ یہ گلوبلائزیشن کا دجالی نظام ہمارے جسموں میں ناخن ماس کی طرح لازمی جزو بن چکا ہے۔ ہم اسرائیل کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن انکا سودی بینکنگ سسٹم ہماری معیشت کی نس نس میں رچا بسا ہے۔ فرانس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں علماء کرام نے سفارتی تعلقات کی معطلی کیلئے تحاریک بھی چلا رکھی ہیں لیکن کیا ہم ایسا بائیکاٹ حقیقت میں کرنے کے متحمل ہو سکیں گے؟
ہمارے ملک میں بسکٹ، دوائیاں ، پرفیوم اور پیٹرول وغیرہ کا بائیکاٹ اگر کر بھی دیا جائے تو کیا ہم اپنی ہی پاک فضائیہ میں مستعمل میراج 3 اور میراج 5 جیسے ائیر سکواڈز کو ختم کر سکیں گے؟ کیا ہم آرمی کی ایوی ایشن میں موجود ایس اے 20 پوما اور ایلویٹی 3 جیسے ہیلی کاپٹرز کو گراؤنڈ کر سکتے ہیں؟
صرف یہی نہیں ہمارے ائیر ڈیفنس، میزائیل ڈیفنس سسٹمز میں بھی فرانسیسی ٹیکنالوجی کا اچھا خاصا حصہ موجود ہے۔ جبکہ زندگی بچانے والی بہت سی ادویات فرانسیسی کمپنیوں کی بنائی ہوئی ہیں اور ایمرجنسی میں آئے مریض کو فرانس بائیکاٹ کی کہاں سوجھتی ہوگی؟
یہ ہمارا ہی حال نہیں بلکہ ساری دنیا کا یہی حال ہے بھارت میں چائنا مخالف تحریک کا آغاز ہوا تو اسکی تشہیر کا سامان بھی چائینا سے تیار ہو کر آیا۔ ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک بھارتی نیتا چائنا مخالف بیان دے رہا تھا کہ ہم چائنا کی چیزوں کا استعمال بند کر رہے ہیں اسی لمحے سامنے کھڑے صحافی نے کہا "جناب آپکے جلسے میں آپ ہی کی انتظامیہ کی جانب سے آپ کے سامنے لگا یہ مائیک بھی چائنا کا ہے اور آپکے ہاتھ میں پکڑ رکھا یہ موبائل بھی چائنا کا ہے، پہلے تو اپنے ہاتھ سے اس موبائل کو زمین پر پٹخ دیجئے” اس پر وہ نیتا برہم ہو گئے-
لیکن ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا کیونکہ چائنا وہ ملک ہے جو پوری دنیا کو انکی ضرورت کی چیزیں بنا کر ان کے منہ کے مطابق چماٹ مارتا ہے۔ پاکستان میں چودہ اگست کے باجے اور ٹوپیاں ہوں یا بھارتی یوم آزادی کا سامان سب چائنا کا ہے۔ ایسٹر، کرسمس ٹری، سانتا کلاز جیسی چیزیں ہوں یا ہماری عید میلاد النبی کی لائٹیں یا ہندو پوجا پاٹ کا سامان حتی کہ انکے جگمگ کرتے چھوٹے بڑے بھگوان تک، یہ سب کچھ چائنا سے بن کر آتا ہے۔ بے چارے ہندو چائنا کا بائیکاٹ کریں تو کہاں کہاں۔
اس گلوبلائزیشن نے ہمیں مکڑی کے اس تانے بانے میں جکڑ دیا ہے جہاں سے مفر اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اگر ہم ان ملکوں کا بائیکاٹ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنی نااہلیوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا پہلے ہمیں اس قابل بننا ہوگا کہ ہماری دفاعی، معیشی، طبی ضروریات کی وجہ سے دوبارہ ان کے در پر نا جانا پڑے۔
ہمارے علماء کرام کو اور ہمارے سائنسدانوں کو ایسے نظام لانے ہوں گے جن پر عمل کرکے ہم ان قوموں کے محتاج نظر نہ آئیں۔ بظاہر یہ کہنا تو آسان ہے لیکن ایسا کر گزرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ستر سال میں ہم نے آزادی لینے کے بعد بھی برطانوی قانون کو تو بدلا نہیں، اپنے لباس، معاشرتی نظام، تعلیمی نظام کو تو بدلا نہیں باقی سب کیا خاک بدلیں گے۔
یہ نظام بدلنا اتنا آسان ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ہم خالی نعرے لگانے والوں میں سے ہیں ہمیں اسلامی بینکنگ کے نام پر "سجی دکھا کر کھبی ماری جارہی ہے” ہمارے علماء کرام خود اپنا پیسہ انہی بینکوں میں رکھ کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔ ہم میانہ روی کی تقاریر تو کرتے ہیں لیکن کسی مولوی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یعفور نامی گدھے کا تذکرہ کرتے سنا ہے ؟ وہ باقی فضائل سنائیں گے لیکن ایسی تلخ باتیں حذف کر جائیں گے کیونکہ ان پر عمل کرکے گدھے کی سواری کرنا پڑےگی؟ جی ہاں وہ باقی سب بائیکاٹ تو کروایں گے لیکن یہودو نصاریٰ کی بنائی گاڑیوں اور ائیر کنڈیشنروں کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔
یہ معاملہ صرف مولویوں کا نہیں ہے بلکہ ہماری ساری قوم کا ہے کہ ہم فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنی کھانے پینے کی اشیاء کو ملاوٹ سے پاک کرنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے۔ ہم بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن اسکی ثقافت کو ہندوانہ لغو رسومات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم نے انگریز سے آزادی تو لے لی لیکن اس غلامی کا طوق گلے سے اتارنا نہیں چاہتے۔
قصور: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قصورمیں مسلم لیگ ن کے صدر لاہور ڈویژن شیخ وسیم اختر اور بیٹے ایم این اے سعد وسیم شیخ کے خلاف کرپشن پر ڈپٹی کمشنر نے کاروائی کا حکم دے دیا-
سابق ایم این و موجودہ صدر مسلم لیگ وسیم اختر شیخ نے توحید ٹینری کے ساتھ جگہ پر قبضہ کیا اور وسیم اختر شیخ نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے مینجر ساتھ مل کر ٹیکس و دیگر معاملات میں سرکار کو نقصان پہنچا یا-
رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم این اے سعد وسیم شیخ نے غیر قانونی ھاوسنگ سوسائٹی بنائی سوسائٹی کا نام پہلے سعد ٹاون بعد میں مکہ ٹاون رکھا گیا جس میں وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی
علاوہ ازیں مسلم لیگی ایم این اے نے ایل ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر متعلقہ سوسائٹی میں زمین فروخت کی-
ڈپٹی کمشنر نے کرپشن اختیارات سے تجاویز و گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے پر مقدمہ کی سفارش کر دی-
ڈپٹی کمشنر نے دونوں ن لیگی باپ بیٹے وسیم شیخ اورسعد وسیم شیخ کے خلاف مقدمہ کے لئے اینٹی کرپشن کو بھی تحریری طور پر لکھ دیا-
رضا حسن کو کوویڈ 19 پروٹوکول کی خلاف ورزی پر گھر بھیج دیا گیا
تفصیلات کے مطابق ناردرن سیکنڈ الیون کے کھلاڑی رضا حسن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے کوویڈ 19 پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر گھر بھیج دیا گیا ہے ۔ فیصلے کے مطابق اب وہ ڈومیسٹک سیزن21-2020 میں مزید حصہ نہیں لے سکیں گے ۔ رضا حسن میڈیکل ٹیم اور پی سی بی ہائی پرفارمنس ڈیپارٹمنٹ سے پیشگی اجازت کے بغیر ہوٹل کے بائیو سیکور ماحول سے باہر گئے۔
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس پی سی بی ندیم خان کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ کوویڈ 19 پروٹوکولز کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں متعدد بار کی یاددہانیوں اور ایجوکیشن پروگرامز کے بعد رضا حسن نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا اور حدود سے تجاوز کیا ۔ رضا حسن کو ٹورنامنٹ سے نکال دیا گیا ہے اور اب ان کو رواں سیزن 21-2020 میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔
ندیم خان نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کویڈ 19 کے طے شدہ ضوابط پر کسی بھی قسم کا سمجھوتانہیں کرے گا۔یہ قواعد و ضوابط نہ صرف تمام شرکا کی صحت اور حفاظت کے لیے ضروری ہیں بلکہ دنیاپر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم تمام ڈومیسٹک مقابلوں کا انعقاد کامیابی سے کر سکتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں حسن رضا اپنے غیرذمہ دارنہ رویے کو محسوس کریں گے اور طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے کرکٹ اور کھیل کو جو نقصان ہوا اس کے ازالہ کی کوشش کریں گے۔
مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب
جوانسان اپنے محبوب کے” قرب” کیلئے قدم قدم پر” کرب” کاسامناکرے جبکہ محبوب کی آن اور شان کیلئے اپنے ہاتھوں سے اپنی اناکوفنا اورجان قربان کردے اسے اسیر عشق کہاجاسکتا ہے۔سچے” عشق” پرہرکسی کو” رشک” آتا ہے جبکہ راہِ عشق میں” اشک”زمین پرگرتے ہیں لیکن اِن کی آواز” عرش” پرسنی جاتی ہے ۔سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اورحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سمیت ہر عہدکے سچے عاشق آج بھی قابل رشک ہیں۔راہِ حق میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں لیکن راہِ عشق میں کامرانی یقینی ہے۔معبود برحق اپنی پاک بارگاہ میں اپنے بندوں کے رکوع وسجوداوران کی دعا قبول کرے نہ کرے لیکن اپنے محبوب سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کی بارگاہ میں ان کے درود وسلام کو ضرور مستجاب فرماتا ہے۔بیشک اللہ رب العزت کی منتخب شخصیات کے سواکوئی دین حق کی اشاعت کیلئے کام نہیں کرسکتا ۔کلا م اِقبال ؒکی تاثیر کاکوئی اسیر کسی میدان میں زیرنہیں ہوتا ۔حضرت محمد اقبال ؒ نے اپنے کلام سے سچائی تک رسائی آسان بنادی ۔ کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت محمداقبال ؒ اپنے کلام میں ایک بیش قیمت راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
کی محمد سے وفاتونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
پاکستان کے اندراورباہرجومٹھی بھر لوگ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے زبان وبیان سے ناخوش تھے ان کی خدمت میں عرض ہے گستاخانہ خاکے بنانیوالے شرپسندعناصر کے ساتھ شیریں لہجے میں بات چیت منافقت کے زمرے میں آئے گی جبکہ ان کی گستاخیاں مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کی متقاضی ہیں۔سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم خوراک اورپوشاک کے معاملے میں سادگی پسند تھے لیکن آپ ہتھیاروں کے معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔آپ نے ظہوراِسلام کے ابتدائی ایام میں دین فطرت کی تقویت کیلئے کسی صاحب علم ، سردار یاسرمایہ دار نہیں بلکہ اُس دور کے ایک زورآور” عمر ؓ”کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعا فرمائی جومستجاب ہوئی اوراِسلام کے فیضان سے حضرت عمر ؓ کو”فاروق اعظم "کالقب دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روسے دورِنبوت کے دوران صحابی کفار کومرعوب کرنے کیلئے سینہ تان کر خانہ کعبہ کاطواف کیا کرتے تھے اورآج بھی طواف کے دوران صحابی ؓ کی سنت اداکی جاتی ہے ۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے،”شہدکے سواہر میٹھی چیزمیں زہر جبکہ زہر کے سواہر کڑوی شے میں شفاءہے۔جس طرح بیمار کوشفاءکیلئے دعا کے ساتھ ساتھ کڑوی دوا دی جاتی ہے اس طرح مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ گستاخ کافروں اورپاکستان کے اندرمنافقوں کوکڑوی زبان میں مخاطب کیا کرتے تھے۔
مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفرجہاں ختم ہواوہاں سے ان کے فرزندمولاناسعد رضوی نے پراعتماد انداز سے اپنے سفر کاآغازکردیا ہے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے بعد تحریک لبیک کی قیادت ان کے فرزند ارجمندمولاناسعدرضوی کے سواکوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔تحریک لبیک کی قیادت پرسیاست کرنیوالے عناصر بری طرح ناکام ہوں گے ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے دوٹوک اعلانات ،ٹھوس اقدامات اور چھوڑے ہوئے نشانات بہت واضح ہیں لہٰذاءاس کارواں کو دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی۔ کامیابی وکامرانی مولاناسعد رضوی کامقدربنے گی ۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی ولادت اور شہادت والے دنوں کوقومی دن قراردیا جائے۔ہراسلامی ریاست خادم حسین رضوی شہیدؒ کی عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کی حفاظت کیلئے گرانقدر خدمات کی پذیرائی کیلئے مختلف مقامات کو ان کے نام سے منسوب جبکہ ہرسال ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔میں احمدفراز کی شہرہ آفاق غزل مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی روح کو نذرکرتا ہوں
ستم کاآشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
کہ شام غم توکاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
وہ اک دیا بجھا توسینکڑوں دیے جلا گیا
سکوت میں بھی اس کے اک ادائے دلنواز تھی
وہ یارِ کم سخن کئی حکایتیں سنا گیا
اب اک ہجوم ِعاشقاں ہے ہرطرف رواں دواں
وہ ایک رہ نورد خودکہ قافلہ بناگیا
دلوں سے وہ گزرگیا شعاع ِ مہر کی طرح
گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بناگیا
کبھی کبھی تویوں ہو اہے اس ریاض ِدہر میں
کہ ایک پھول گلستاں کی آبرو بچاگیا
شریک بزم دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
مگر جوجان ِانجمن تھا وہ کہاں چلا گیا
اٹھو ستم زدو! چلیں ،یہ دکھ کڑا سہی ، مگر
وہ خوش نصیب ہے یہ زخم جس کوراس آگیا
یہ آنسوﺅں کے ہار ،خوں بہا نہیں ہیں دوستو
کہ وہ توجان دے کے قرض ِ دوستاں چکا گیا
سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کے بنتے ہی پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے اس علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو-
باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستان کے صف اول کے سینئیر صحافی مبشر لقمان نے سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی –
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی اے جنوبی پنجاب میں بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہے معلوم کہ جلسے میں بات ہو گی یا نہیں کہ ساؤتھ پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن پارٹیز نے کیا کیا ہے اور حکومت نے کیا کیا ہے کیونکہ بہر حال جب کہ منصوبہ بننا ہوگا یا بنے گا تو دونوں کو کوآپریٹ کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی میں وہ اس کو ووٹ کرے گی عثمان بزدار نے جنوبی پبجاب میں جو سارا انتظام کیا ہے ان کے بقول اب وہاں پر بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں-
سئینئر اینکر پرسن نے کہا کہ آج سے وہ ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مختلف ساتھیوں کو دوستوں کو دعوت دے کر کہ وہ آئیں اور ہمیں بتائیں کہ جنوبی پنجاب کے منصوبے کی حقیقت کیا ہے کیا ان کے معاملات آسان ہوئے ہیں-
آج کی اس قسط میں مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے سوال پوچھا کہ اب ان کا صوبہ کیسا لگ رہا ہے ؟
جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبہ تو ابھی نہیں بنا میں تو بنیاد ی طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ ماننے کے حق میں ہوں لیکن ابھی تک یہ ہوا ہے کہ وہاں پر ایک سیٹلائٹ سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے کہ اس سیکرٹریٹ کے بنتے ہیں پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے-
جس پر مبشر لقمان نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو وزیراعظم ہے یہاں پر جنوبی پنجاب کا اور آپ کے تو بڑے وزرا ہیں وفاق میں تو آپ دوسرے درجے کے کیسے ہیں جس پر سابقہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مسئلے ہی یہی ہیں کہ ہمارے وزیراعلی بھی ہوتے ہیں اور وزرا بھی ہوتے ہیں –
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار اور سوکالڈ ایلیکٹیبل جو ہیں ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو تا کہ تخف لاہور پر وہ بیٹھ سکیں اور مرکز میں بڑے عہدے لے سکیں وزیراعظم بن سکیں لیکن عوام غریب کے غریب ہی رہیں محروم ہی رہیں –
محمد علی درانی نے انکشاف کیا کہ جو کچھ سکرٹریٹ بنا ہے اس میں تخت لاہور کا کوئی کردار نہیں ہے اس کے سب ڈیزائن کو میں جانتا ہوں اس کو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے خود بنایا ہے اور خود ان کو لاگو کرایا ہے اس کا ان کو اس چیز کا ایک یہ فائدہ ہے کہ لوگ ان کے غلام ان کے غلام ہی رہیں گے اور وہاں نہ ترقی ہو گی نہ وہ ڈویلپمنٹ ہوگا بلکہ اس نئی ڈویلپمنٹ کی وجہ سے پورے پنجاب کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی-
سابق وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کا 82 فیصد بجٹ نان ڈویلپمنٹل ہے 82 فیصد بجٹ تنخواہوں اور مراعات وغیرہ میں چلا جاتا ہے ان مراعات کا ایک اور بنڈل پنجاب کے اوپر لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا بالفرض اگر 100 ارب کا بجٹ ہو تو اس میں سے ساٹھ سے 70 ارب روہے اس سیکرٹریٹ پر لگ جائیں گے مطلب مرے کو مارے جو غریب لوگ وہاں کے ان کے ڈویلپمنٹ کا بجٹ تھا وہ اور کم ہوگیا پہلے یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے شہری پنجاب کے شہریوں کے برابر تھے تو ان میں سے کوئی بھی آکر لاہور کے سیکرٹریٹ کے اندر بتا سکتا تھا تولیکن اس نئے سیکرٹریٹ کے بعد ان کو جانوروں کی طرح ایک جنوبی پنجاب کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے –
مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ آپ کسی بھی حالات میں خوش نہیں ہوتے سیکٹریٹ مانگا آپ کو دیا اس پر بھی آپ خوش نہی ہوئے-
اس پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایک عوام کا نمائندہ ایک عوام کا مطالبہ ایسا دے دیں جس نے سیکرٹریٹ مانگا اور ہم نے جو صوبہ مانگا تھا وہ گوانتاما جیل بن گیا ہے میں دلیل پر بات کرتا ہوں ویسے میں بات ہی نہیں کرتا وہاں پر بیٹھا آدمی مسائل کی وجہ سے لاہور آتا تھا تو اس کے دومسائل ہوتے تھے ایک خرچہ اور دوسرا فاصلہ اب اس کے 4 مسائل ہوگئے ہیں-
کیونکہ اب وہ تب تک یہاں آ نہیں سکتا جب تک وہاں کا آڈیشنل آئی جی اسے پرمٹ نہیں دے گا وہ آئی جی کے پاس پرابلم نہیں لا سکتا وہاں کی آڈیشنل کی سیکرٹری اسے پرمیشن لیٹر نہیں دے گی آڈیشنل آئی جی کے پاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے اس نے جو ایکشن بھی لینا ہے آئی جی کی ہدایات پر لینا ہے یا آئی جی کی آگاہی پر لے گامطلب وہ با حکم آئی جی ہے وہاں پر کوئی بھی چیز چیف سیکرٹیری اور آئی جی کے انتظام کے بغیر نہیں ہو سکتی-
محمد علی درانی نے کہا کہ اب اس کے اوپر ظلم پر ظلم یہ کہ آدھا سیکرٹریٹ ملتان میں اور آدھا بہاولپور میں ہے آپ بتائیں پنجاب میں آدھا سیکرٹریت لاہور میں رکھیں اور آدھا اسلام آباد میں بھیج دیں تو مطلب یہ ہے کہ نہ لاہور والوں کو کچھ ملے گا نہ راولپنڈی والوں کو کچھ ملے گا ایک سیکرٹری ادھر بیٹھا ہوگا آڈیشنل سیکرٹری ادھر بیٹھا ہو گا مطلب بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق کوئی مسئلہ بھی جو ہے وہ 4 گُنا زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے اس ڈویلپمنٹ کے باعث اس کے بعد آپ کو نوکریں ملیں گی لیکن نوکریوں کا کوئی نشان ہی نہیں ہے یہ ہمارے لئے صوبہ نہیں ہے جیل خانہ ہے-
مبشر لقمان نے کہا کہ سولہ وزرا ہیں جنوبی پنجاب کے وفاق میں تو ابھی بھی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں-
جس پر محمد علی درانی نے کہا کہ اسی لئے تو جنوبی پنجاب میں یہ حالات ہیں سیکرٹریٹ بنا کر اپ نے ایک زنجیر باندھ دی ہے جنوبی پنجاب کے آگے اس کو کوئی جنوبی پنجاب کا شہری نہیں پار کر سکتا صوبے کی ڈیمانڈ وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے صوبے کی ضرورت وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے ڈویلپمنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نان ڈویلپمینٹل بجٹ کم ہو-
ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کے پریمیئر پوزیشنوں پر دو پاکستانی منتخب.ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کے 22 ویں سالانہ جنرل اجلاس (اے جی ایم) کے اہم فیصلے
ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کی 22 ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) آج مورخہ 28 نومبر 2020 کو منعقد ہوئی۔ کوویڈ 19 کی وجہ سے یہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے کیا گیا۔
ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات بھی اسی اجلاس کے دوران ہوئے۔ اس اجلاس میں دس ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔
سید سلطان شاہ اگلے دو سال کی مدت کے لئے ڈبلیو بی سی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کی نومنتخب ایگزیکٹو کمیٹی درج ذیل افراد پر مشتمل ہے ،
1. سید سلطان شاہ (پاکستان) صدر
2. بھاوانی پرساد (ویسٹ انڈیز) سینئر نائب صدر
3. رجنیش ہنری (ہندوستان) نائب صدر دوئم
4. ریمنڈ مو کسلے (آسٹریلیا) سیکرٹری جنرل
5. پون گھمیرے (نیپال) ڈائریکٹر فنانس
6. ڈیوڈ جان (انڈیا) ڈائریکٹر گلوبل ڈویلپمنٹ
7. مہر یوسف ہارون (پاکستان) ڈائریکٹر ٹیکنیکل
سید سلطان شاہ، پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین بھی ہیں اور وہ 2012-2014 اور 2014-2016 میں پہلے بھی دو بار ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کے صدر رہے ہیں۔
مہر یوسف ہارون پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے جنرل منیجر ہیں اور وہ مسلسل "چوتھی بار” ڈائریکٹر ٹیکنیکل "ورلڈ بلائنڈ کرکٹ لمیٹڈ کے عہدے کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔
نیشنل ٹرائینگولر ٹی ٹونٹی ویمنز کرکٹ چیمپئین شپ ،پی سی بی چیلنجرز نے پی سی بی بلاسٹرز کو شکست دے دی
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں نیشنل ٹرائینگولر ٹی ٹونٹی ویمنز کرکٹ چیمپئین شپ کا پانچواں میچ پی سی بی بلاسٹرز اور پی سی بی چیلنجرز کے درمیان کھیلا گیا ۔ پی سی بی چیلنجرز نے میچ میں 5 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
پی سی بی چیلنجرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ بیس اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 157 رنز بنائے ۔ بسمہ معروف نے 48 گیندوں پر 61 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں 9 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا ۔ فاطمہ ثناء نے 41 اور کائنات حفیظ نے 22 رنز بنائے ۔ پی سی بی بلاسٹرز کی جانب سے حفصہ ا مجد نے 27 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں ۔
جواب میں پی سی بی بلاسٹرز نے 20 اورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 152 رنز بنا ئے ۔ اوپنر جویریہ خان نے 47 گیندوں پر 56 رنز بنائے ،ان کی اننگز میں 8 چوکے شامل تھے ۔ عالیہ ریاض نے37 سدرا نواز نے 19 اور سدرا امین نے 18 رنز بنائے ۔ پی سی بی چیلنجرز کی جانب سےفاطمہ ثناء،صبا نذیر اور بسمہ معروف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ بلاسٹرز کی تین کھلاڑی رن آؤٹ ہوئیں ۔ بسمہ معروف کو پلئیر آف دی میچ قرار دیا گیا ۔
موجودہ دور میں مذہب سے دوری کی بنا پر ہم میں ہر وہ برائی آ گئی ہے جس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اور کتاب الٰہی نے منع کیا ہے خاص کر کاروباری حضرات میں ذخیرہ اندوزی اور سرکاری ملازمین میں رشوت خوری جبکہ عام عوام میں دیگر سینکڑوں معاشرتی برائیاں جنم لے چکی ہیں جن سے ہر کوئی فکر مند ہے کسی بھی کاروباری سے حکومتی مقرر کردہ نرخوں پر چیز حاصل کرنا اور سرکاری کام بغیر رشوت کے سر انجام پا جانا ایک عجوبہ ہی لگتا ہے جبکہ مہنگائی بےروزگاری اور امن و امان کی مخدوش صورتحال بھی ایک لمحہ فکر ہے
یوں تو یہ جرائم بہت پرانے ہیں مگر موجودہ دور میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دن بدن بڑی تیزی سے ہو بھی رہا ہے جس سے ہر خاص و عام سخت پریشان ہے اور مارے مایوسی کے ہر کسی کی زبان پر یہی بات ورد کرتی ہے کہ یہ حالات نہیں سدھر سکتے بلکہ مذید خراب ہونگے جن کا سوچ کر ہی دل خوف زدہ ہو جاتا ہے
مگر نا امیدی کفر ہے کیونکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے مگر اندھیر ہرگز نہیں
فی زمانہ اللہ تعالی نے اقوام کی اصلاح و تربیت کیلئے پیغمبر و رسول بیجھے جو اپنی قوموں کی معاملات دین و دنیا میں اصلاح فرمایا کرتے تھے تاکہ امن و سکون قائم ہو پیغمبروں کی باتیں ماننے والی قومیں کامیاب و کامران ہوئیں اخروی و دنیاوی صورتوں میں
ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسوہ رسول اور اللہ رب العزت کی طرف سے ہمارے لئے اپنے نبی پر بیجھی گئی کتاب یعنی قرآن مجید کی محتاج ہے چونکہ نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اس لئے موجودہ حالات کا جائزہ بھی ہمیں قرآن و حدیث سے ہی ملے گا
اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک سرکش قوم کہ جس نے اپنے پیغمبر کی بات کو جھٹلایا اور تکبر و سرکشی،معاشرتی برائیوں میں لتھر کر اور نافذ کردہ حدیں پار کرکے عذاب کی مستحق ٹھہری،قوم نوح کی مثال ہمیں پیش کرتے ہوئے ہم سے یوں مخاطب ہیں
کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ، قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات ( الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے ) کی ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ۔۔ سورہ التوبہ آیت 70
اللہ تعالی ہمیں پہلی سرکش و معاشرتی برائیوں سے عذاب کی مستحق قوموں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں یہ قومیں چاہے تباہ ہو چکیں مگر اللہ وہی ہے اور وہ پہلی سی طاقت رکھتا ہے اس لئے اللہ نے قوم نوح کی کارستانی ہم سے بیان کی تاکہ ہم عبرت حاصل کرسکیں اور نافذ کردہ اسلامی حدوں پرعمل پیرا ہو کر اخروی و دنیاوی فلاح پائیں
نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بیجھا یہ قوم انتہائی سرکش اور معاشرتی برائیوں کی عادی تھی نوح علیہ السلام نے ان کو اللہ کی نافذ کردہ حدیں بتلائیں اور عذاب الہی سے ڈرایا جس کا قوم نوح نے رد کیا ان کی باتوں سے نوح علیہ السلام پریشان ہو گئے کیونکہ ان کے مخالفین میں ان کا حقیقی بیٹا بھی شامل تھا
اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے نوح آپ غمگین نا ہو بلکہ میرے حکم سے ایک بہت بڑی کشتی بنا اور ان کو میری طرف سے ایک بڑے عذاب کی خبر سنا جب عذاب آنے لگے گا تم اور تمہارے پیروکار اس میں سوار ہو جانا اور ان سرکشوں پر عذاب کا نظارہ کرنا
حکم ربی کے پابند نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو آسمانی پیغام سنایا اور حکم ربی سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی
حکم ربی سن کر اور کشتی تیار ہوتی دیکھ کر اس قوم کے سرداروں نے نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا
نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کرلی اور پھر ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر ان سرکشوں نے کشتی میں مارے حقارت کے رفائے حاجت کر کر کے اس کشتی کو بول و براز سے بھر دیا اور کہنے لگے کہ اے نوح اپنے رب سے کہہ کہ بیجھے ہم پر عذاب
کشتی میں بول و براز بھرا دیکھ کر نوح علیہ السلام سخت پریشان ہو گئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی پریشانی بھانپی اور اس کشتی کو اسی قوم سے صاف کروانے کی خاطر ان میں ایک خاص وبائی مرض پھیلا دی جو بول و براز میں لیٹنے سے رفع ہوتی تھی
سو چند ہی دنوں میں اسی متکبر اور معاشرتی برائیوں میں لتھری قوم نے اپنی شفا حاصل کرنے کی خاطر کشتی نوح کو لیٹ لیٹ کر اس طرح صاف کر دیا کہ گویا اس میں کبھی گندگی تھی ہی نہیں باقی قوم نوح پر عذاب آیا اس اور وہ تباہ ہو گئے جو ایمان والے اور پیغمبر کے جانثار تھے وہ کشتی نوح میں سوار ہو کر بچ گئے
آج ہم میں سابقہ قوموں والی برائیاں سرعت کرچکی ہیں جن کی بدولت ہمارے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید سدا حالات ایسے ہی رہنے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں
سابقہ قوموں کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں یقین کرنا چاہئیے کہ ہماری معاشرتی برائیوں کی عادت کو ختم کرنے کیلئے اللہ تعالی ہم میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اس گندگی سے بھرے نظام کو صاف کر دینگے اور احکام الہٰی پر عمل کراوائینگے کیونکہ میرا رب نہایت مہربان اور بہتر چال چلنے والا ہے ہمیں بس خود کو درست کرنا ہے باقی ان شاءاللہ جلد اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا جو سمجھ گئے وہ بچ جائینگے اور جو سر کشی پر ڈٹے رہے وہ عذاب الہی کا شکار ہونگے