Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عالمگیر وبا کورونا میں ہمارا کردار    از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    عالمگیر وبا کورونا میں ہمارا کردار از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو…
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں….
    کرونا (covid )میں ہمارا رول

    از قلم ..عاقب شاہین پلوامہ

    کیسا خوشگوار ماحول تھا لوگ مصروف تھے اپنے کام کاج کے ساتھ طلبہ اپنی کام سے مصروف تھے .اچانک ہی سوشل میڈیا پہ ایک خبر وایرل ہوئی ۔
    2019 کے آخری دنوں میں چائنہ کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا،جسے کرونا اور (Covid19) کے ناموں سے پہچانا گیا۔۔اگر اس وبا کو موت کا نام دیا جائے تو غلط نا ہو گا،ایک اندازے کے مطابق ووہان کی ایک لیبارٹری(virology lab)جس میں مختلف(Viruses)ان کی اقسام،ویکسین اور (Anti-viruses)پہ تحقیق کی جاتی تھی،اس وائرس کی ابتداء وہاں سے ہوئی،لیکن یہ کوئی مصدقہ حقیقت نہیں۔اسی طرح ایک اور اندازے کے مطابق یہ وائرس کثیر مقدار میں مختلف جانوروں اور چرند پرند میں پایا جاتا ہے،جیسے کہ ‘چمگاڈر’ اور چائنیز لوگ ان جانوروں کا استعمال کثرت سے اپنی خوراک میں کرتے ہیں،اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس وبا کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ بھی تھی،لیکن یہ دونوں مشتبہ اندازے ہیں،مصدقہ نہیں۔2019کے اختتام میں شروع ہونے والی یہ وبا دنوں میں عالمی وبا کا روپ دھار گئی،بات ایک گھر شہر یا ملک کی نہیں رہی،پوری دنیا اس موذی وبا کے خطرناک حصار میں آ چکی ہے،اس وبا کے پھیلنے کے بعد حقیقی معنوں میں موت کو دنیا پہ رقصاں پایا گیا،انسانی زندگی بے حد ارزاں ہو گئی،حقیقی معنوں میں زندگی موت کی آغوش میں منجمد لگنے لگی،چائنہ سے بے قابو ہوتی یہ وبا پوری دنیا پہ کسی عقاب کی طرح جھپٹی تھی،دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں نہیں،ہزاروں نہیں،لاکھوں زندگیاں اس وبا کے ہاتھوں درد ناک انجام کو پہنچیں،موت کی یہ صف ماتم کسی ایک گھر،کسی ایک شہر،کسی ایک ملک میں نہیں،دنیا میں بچھ چکی ہے،کچھ بے حد متاثرہ

    ممالک امریکہ،اٹلی،چائنہ،اسپین،فرانس،جرمنی،

    ترکی،ایران میں تو رضاکار فورسز اور مختلف (NGOs) میں کام کرنے والے ہمت ہارتے اور روتے ہوئے دکھائی دیئے،لاشیں اٹھاتے اٹھاتے محافظ تھک گئے،2020 کے ابتدائی تین سے چار مہینوں میں اس موذی وبا نے دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا،کیا امیر،کیا غریب،بوڑھا،جوان،بچہ،عورت،

    مرد،ہر ایک اس کے شکنجے میں تھا اس وبا نے سب کو ایک قطار میں کھڑا کر دیا،ایسے دل.خراش واقعات پیش آیے…ہمیں تو یاد ہی ہوگا انڈونیشیا کا وہ ڈاکٹر جو مریضوں کو علاج کرتے کرتے خود بیماری کا شکار ہوگیا ..وہ اپنے گھر کے دروازے تک آتا ہے .اور اپنے دو پھول سے بچوں اور بیوی کو دیکھ کر روتا ہے …بچے ترس رہے تھے اسے گلے لگانے کو مگر احتیاتی تدابیر نے اجازت نہ دی ..اور کچھ ہی دن بعد وہ ڈاکٹر انتقال کر گیا …ایسے بہت سے دل چیرنے والے واقعات منظر پہ آگیے ….
    ہم دنیا کی نہیں اپنے وطن قوم کی بات کرتے ہے کہتے ہے کہاوت ہےکہ ..
    Think global act local.
    ہمارا کیا کردار رہاں اس وبائی بیماری میں کیا ہم نے اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہم نے اپنے ہمسایے اپنے رشتہ داروں ,دوستوں ,یا اپنے گاؤں کے مزدور پیش ,ضرورت مندوں کے بارے میں کبھی سوچا ہے …ان کے گھر میں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ..ہمارا کیا کردار رہا انفرادی اور اجتماعی اگر ہم نے حق ادا کرنے کی کوشش کی تو یہ انسانیت کی بڑی مثال ہے ..یا ہم نے بھی کہ اپنا نام ایسے لوگوں میں کہی شامل مت کیا جنہوں نے اس بیماری میں بھی انسانیت کی لآج نہ رکھی ..
    ہم اپنا محاسبہ کرتے ہے ہم نے اللہ کی خاطر انسانیت کے لیے کچھ کیا یا ہم نے بھی انسانیت کا خاتمہ اس وبائی بیماری میں بھی کیا …
    جہاں اس وبا نے سب کو ایک ہی صف میں رکھتے ہوئے بنا کسی امتیازی پوٹوکول سب کو اپنے شکنجے میں وہیں،انسانیت کے کچھ انوکھے روپ بھی سامنے آئے،کہیں تو انسانیت سرخرو ٹھہری اور کہیں انسانیت کی روح مسخ شدہ چہرہ لیے کھڑی لرزتی رہی، جرمنی میں ایک نوے سالا خاتون جو کہ کرونا سے متاثرہ اور وینٹی لیٹر پہ تھیں، انہوںنے اس وقت اپنا وینٹی لیٹر ہٹانے کا کہا جب ایک پچیس سالہ نوجوان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی،لیکن وینٹی لیٹرز کی قلت کے باعث وہ تڑپ رہا تھا،خود کو موت کے حوالے کر کے خاتون نے لڑکے کے لیے زندگی کا در کھولا تھا،یہ ہے انسانیت‘کچھ ڈاکٹرز نے حقیقت میں مسیحائی کا حق ادا کیا،وہیں بہت سی جگہوں پر مسیحائی کے لبادوں میں شیطانوں کا بسیرا پایا گیا،انسانیت کبھی تو سر پہ معراج انسانیت سجائے پوری آب و تاب سے چمکتی ہوئی ملی اور کہیں بے وجہ انسانیت کی روح مسخ شدہ ملی،لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے تھکنے والے کتنے ہی لوگ خود اس مرض کا شکار ہوئے اور کب موت کی آغوش میں جا سوئے پتا ہی نا چلا،قومیں متحد ہو گئیں،لیکن کچھ قومیں ہمیشہ کی طرح اپنی جاہلیت اور خود غرضی دکھانے سے بعض نا آئیں،یہاں اگر ذکر کیا جائے ہماری وادی کا تو پچھلے کچھ عرصے میں جب لوگ اس وبا کی زد میں آ کر گھروں میں مقید تھے تو چند ایسے دلخراش منظر و واقعات سامنے آئے کہ روح تک لرز جائے ہے …
    Aaqibshaheenmir@gmail.com

  • تماش بینی کب تک؟ قومی تعمیر کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے  بقلم :عدنان عادل

    تماش بینی کب تک؟ قومی تعمیر کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بقلم :عدنان عادل

    تما ش بینی کب تک؟

    سیاست کے بکھیڑوں سے جان چھڑوائیں تو ہم قومی تعمیر کے معاملات پر بات چیت کریں‘ ملک کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں سوچیںاور انکے حل پر گفتگو کریں کہ ہمیں بحیثیت قوم کس طرح آگے بڑھنا ہے‘ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں‘ طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔ ماضی میں ملک کو صرف حکومت میں شامل لوگوںکی کرپشن سے ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ غلط ترجیحات نے بھی شدید بحران پیدا کیے۔ پاکستان اسوقت جن معاشی ‘ سماجی مسائل کا شکار ہے وہ راتوں رات پیدا نہیں ہوئے۔ دہائیوں کی غفلت‘ غلط ترجیحات اور پا لیسیوں کے باعث ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔ غربت‘ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ پاکستانی روپیہ کی قدر بہت کم رہ گئی ہے۔ غیرملکی اور ملکی قرضوںکا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لگتا ہے ہم کسی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے بے تحاشا قرضے لیے لیکن انکا استعمال غیرپیداواری کاموں کی خاطر کیا حالانکہ قرض کی رقم کو سوچ سمجھ کر ایسے منصوبوں پر استعمال کرنا چاہیے تھا جن سے ہماری آمدن میں اضافہ ہوتا۔ لاہور کی اورنج ٹرین کو دیکھ لیجیے کہ چین سے ڈیڑھ سو ارب روپے قرض لیکر بنائی ہے لیکن اس سے آمدن تو کیا ہوگی اُلٹا حکومت کو اسے چلانے کے لیے سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ یہی حال موٹرویز اور ائیرپورٹس کا ہے۔ بھارت نے کوئی موٹروے نہیں بنائی لیکن اسکی معیشت ہم سے کہیںزیادہ مستحکم ہے ‘ اسے بھاگ بھاگ کر آئی ایم ایف اور سعودی عرب سے قرضے لینے نہیں جانا پڑتا۔ وجہ یہ ہے کہ بھارت نے پہلے اپنی جڑیں مضبوط کیں‘ ملک کی صنعتی ترقی پر توجہ دی‘ جدید تعلیم کے بڑے بڑے ادارے بنائے۔ بھارت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ امریکہ اور جاپان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ان ملکوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر بھی یہ لوگ معاشی ترقی کے قیادت کررہے ہیں۔ جب دنیا کمپیوٹر انقلاب کے دور میں داخل ہورہی تھی تو بھارت نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم اور صنعتکاری میں کثیر سرمایہ کاری کی۔ آج بھارت آئی ٹی کی برآمدات سے سوا سو ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے۔ جبکہ ہم صرف سواارب ڈالر کیونکہ ہماری حکومت کو بڑی بڑی سڑکیں بنانے کا خبط سوار تھا ‘ تعلیم میں سرمایہ کاری ہماری ترجیح نہیں تھی۔ یہ جھوٹی شان و شوکت کے منصوبے ہیں جن کے باعث ہماری معیشت بحران کا شکار ہے۔ حتی کہ بنگلہ دیش ہم سے بہتر حالت میں ہے۔ بنگلہ دیش نے کوئی بڑا ائیر پورٹ نہیں بنایا نہ کوئی موٹروے۔اسکی برآمدات پینتالیس ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہیں اور ہماری تئیس ارب ڈالر۔ اسی بنگلہ دیش کا کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے لوگ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ صحیح ترجیحات اور پالیسیوں کی بدولت بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا ہمارے روپے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایک بنگلہ دیشی ٹکا تقریبا دوپاکستانی روپے کے برابر ہے۔1971 میںجب مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوکر بنگلہ دیش بنا تو اسکی آبادی ہمارے ملک سے تقریباً ایک کروڑ زیادہ تھی۔آج ہم سے پانچ کروڑ کم ہے۔ہم نمائشی کاموں میں پھنس کر رہ گئے یانام نہاد جہادی‘مسلح فرقہ وارانہ گروپوں کے نرغے میں گھرے رہے جنہوں نے ملک کے امن و امان کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ ان حالات میںکوئی ملک خاک ترقی کرسکتا ہے۔ کوئی مسیحا نہیں ہوتا جو کسی ملک کو راتوںرات مسائل سے با ہر نکال دے۔ چٹکی بجاتے تمام مسائل حل کردے۔مہنگائی ختم کردے اور سب کو روزگار مہیا کردے۔ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جما کرتی۔جو لوگ سال دو سال میں دکھاوے کے پراجیکٹ کھڑے کرتے ہیں وہ شعبدہ باز‘ مداری ہوتے ہیں۔ اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کی خاطر غور و فکر کے بعد پالیسیاں تشکیل دینا پڑتی ہیں اوربرسوں مستقل مزاجی سے ان پر عمل کرنا پڑتا ہے تب دس پندرہ سال بعد مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایسے منصوبے جو قرضے لیکر ایک دو سال میں مکمل کرلیے جائیں سادہ لوح عوام کواچھے لگتے ہیں لیکن ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً ملک کو پانی کے بڑے ذخائر کی ضرورت ہے‘ آبپاشی کے نئے ترقی یا فتہ نظام کی تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی زرعی اور گھریلو استعمال کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ جب دریاؤں میں پانی زیادہ آتا ہے اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ ایک بڑا ڈیم بنانے کے لیے دس بارہ برس درکار ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہ مکمل ہوجاتا ہے تو اسکے ملکی معیشت کو بے بہا فوائد پہنچتے ہیں۔ ملکی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہم بیس پچیس سال پہلے بڑے ڈیمز پر کام شروع کردیتے تو آج زیادہ خوشحال ہوتے۔ زیادہ رقبہ زیرکاشت ہوتا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوچکا ہوتا۔ ہمیں آج گندم باہر سے درآمد نہ کرنا پڑتی۔ کراچی کو دریائے سندھ سے اضافی پانی سپلائی کرنے میں آسانی ہوتی۔ بجلی زیادہ اور سستی دستیاب ہوتی۔ اسی طرح ہمیں قدامت پسند طبقات کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کرنا ہوگا جس طرح ایران اور بنگلہ دیش نے بہبود آبادی کے پروگرام کامیابی سے چلا کر کیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں آبادی میں اضافہ کی رفتار بہت زیادہ ہے۔خاص طور سے ہمارے دیہات میں اور قبائلی معاشرت کے علاقوں میں۔ حکومت اگر اس معاملہ پر مستحکم اور طویل المعیاد منصوبہ بندی نہیں کرے گی توملک میں جتنی بھی معاشی ترقی ہوجائے عوام کی غربت کم نہیں ہوگی۔ بیروزگار نوجوانوں کے جتھے کے جتھے ہوں گے جو بدامنی اور لاقانونیت کا باعث بنیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ تعصبات‘ توہم پرستی اور احمقانہ بیانیہ پھیلانے والوں سے نجات پائیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ مصنوعی ذہانت ‘ روبوٹکس ‘ بائیوٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کریں تاکہ اگلے دس پندرہ سال بعد ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو ۔ جدید تعلیم میں سرمایہ کاری‘ صنعتی کارخانوں کا قیام‘ پانی کے وسائل کی ترقی‘ آبادی میں کمی کے لیے پروگرام‘ نظام عدل و انصاف کی اصلاح‘ اقتدار و اختیار کی نچلی سطح پر منتقلی ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کی بقا ‘ سلامتی اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں کم سے کم ان موضوعات پر سیر حاصل بحث مباحثہ تو کرنا چاہیے۔ کب تک ہم بے معنی سیاست کی تماش بینی میں مصروف رہیں گے؟

  • ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیں۔

    ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں ،بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔

    ایسی خواتین جو لوگوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں، اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ، ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ۔ بلکہ
    ان کی زندگیاں بہی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ کیوں؟

    1- وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ، شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ۔ کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی اور ضدی بہن کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ، اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔

    2- ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی ، اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کرلیگی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بہی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔

    3- تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے ایک ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی
    دور نہیں جائیگا۔

    4- وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مانے لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے۔ وہ عقلمند عورت ہے ، اپنے کنبہ کو بکہرنے سے بچا لیتی ہے ۔ اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ، جسکا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں ۔

    5- سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے۔ وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس زعم میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ، میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں۔ ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا۔اسکی زبانی جیت حقیقت میں اسکی زندگی کی ہار تہی-

    ازدواجی مشاورت کے لمبے تجربات میں، میں نے دیکھا کہ ضدی خواتین کی زندگی ہمیشہ طلاق سے دو چار ہوتی ہے ۔ اور ان کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بہری رہتی ہے ۔

    7- ایک بدوی عرب عورت نے شادی کے دن اپنی بیٹی کو جو نصیحت کی تہی ، تمام کامیاب خواتین اسے ایک عورت کے لئے بہترین تحفہ سمجھتی ہیں۔ اسکی نصیحت تہی :
    ” تم اسکی لونڈی بن جائو …… اور یقینا بہت جلد وہ تمہارا غلام بن جائیگا” ۔
    "مرد مہربان، فیاض ہمدرد ہوتے ہیں ، لیکن ایک ضدی ، بے وقوف عورت انہیں دشمن بنا دیتی ہے۔”

    آخر میں ایک عقلمند شیخ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتی ہوں:

    میں 27 سال تک ایک عدالت کا قاضی رہا ……… اور میں نے دیکھا کہ طلاق کے زیادہ تر واقعات مرد کے غصے اور عورت کے بے وقوفانہ ردعمل کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔
    دوسرے لفظوں میں ، عورت کی ضد مرد کو اس سے دس گنا زیادہ ضدی بناتی ہے۔

  • سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ”  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ” بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ”

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مملکت توحید سعودی عرب کا نام ذہن میں آتے ہی انسان خوشی سے سرشار اور نہال ہو جاتا ہے۔ اور اس کے دل میں بیت اللہ اور مسجد نبوی کا پاکیزہ اور مقدس ماحول آجاتا ہے اور انسان تصورات کی دنیا میں گھومتا ہوا بیت اللہ کے صحن اور بیت النبی کے پڑوس مسجد نبوی میں چلا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد و منشا ہے۔ جب کہ مدینہ منورہ آپ کی ہجرت گاہ اور مدفن ہے۔ اور دونوں شہر بے شمار رحمتوں برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں مکہ مکرمہ میں جنت کا پتھر حجراسود ہے تو مدینہ منورہ میں روضہ مسجد نبوی جنت کا حصہ ہے۔ اسلامی ورثہ کی مثالی مملکت سعودی عرب کا قومی دن 23 ستمبر ایسا روشن باب ہے جسے امت مسلمہ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ عرب دنیا کی سب سے بڑی مملکت سعودی عرب کی بنیاد یاد 1932 میں شاہ عبدالعزیز یزید بن عبد الرحمن آل سعود نے رکھی۔ 87 لاکھ ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے ہوئے اس خطے میں جو کہ بر اعظم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے۔ ایک جدید اسلامی اور مثالی مملکت قائم کی گئی تھی۔ جس کی تعمیر قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرکے ملک کو استحکام کا گہوارہ بنا پائیدار مسلم معاشرے کے طور پر اقوام عالم میں عزت و وقار سے روشناس کرایا گیا۔ سعودی عرب اقوام عالم میں میں واحد ایسا ملک ہے جس کا دستور قرآن و سنت ہے۔ اور سعودی عرب کے حکمرانوں کا مقصد نظام اسلام کا قیام اور مسلمانان عالم کے لئے ملی تشخص کا جذبہ ہے۔ سعودی عرب کے حکمران خادمین حرمین شریفین نے امت مسلمہ کے لئے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے دنیا بھر میں جہاں کہیں اور کبھی امت پر سخت وقت آیا سعودی عرب سب سے پہلے وہاں اعانت اور مدد کے لئے پہنچا۔ بلکہ اگر عادلانہ موازنہ کیا جائے تو امت مسلمہ کے لیے پیش کردہ دیگر اسلامی ممالک کی خدمات سعودی عرب کی خدمات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے چاہے فکری و نظریاتی میدان ہو یا معاشی بحران ہو۔ ہر میدان میں سعودیہ عربیہ مسلمانوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہا ہے۔
    اہل پاکستان سعودی عرب اور خادمین حرمین شریفین سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اور سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کو اپنی ترقی و خوشحالی سمجھتے ہیں۔ آل سعود کی حکومت میں توحید کا علم بلند ہوا، خرافات و بدعات کا خاتمہ ہوا اور شرک کا کھلے عام بطلان کیا گیا۔مملک سعودیہ عربیہ میں نےحدود اللہ کا نفاذ ہے جہاں پر قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور چور کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں اور اس نظام عدل میں چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ بلکہ شرعی حدود کے نفاذ کا اسلام جس طرح سے مطالبہ کرتا ہے ہے اسی طرح سے حدیں قائم کی جاتی ہیں۔ کسی اور اسلامی ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
    إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة فى بلاد الله عز وجل. ( ) زمین پر حدوداللہ کو قائم کرنا چالیس دن کی موسلادھار بارش سے بہتر ہے۔ آج سعودیہ عربیہ حدود اللہ کے نفاذ کی وجہ سے امن و سلامتی کا گہوارہ بنا ہوا ہے وہاں پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

    مملکت توحید سعودی عرب کے اہم کارنامے
    مساجد کی تعمیر اور ان کا اہتمام:-
    حکومت سعودی عربیہ نے اسلام کی دعوت کو عام کرنے کی غرض سے اہم ذریعہ مساجد کو بنایا ہے۔ سعودی حکومت اور پرائیویٹ اداروں کی طرف سے پوری دنیا میں بے شمار مساجد تعمیر کی گئی اور ان میں علماء و مدرسین کا تقرر کیا گیا۔ کیونکہ مساجد اسلام کا محور اور مرکز ہوتی ہیں۔ مسجد امت مسلمہ کے لیے وہ مدرسہ اور اسکول ہوتا ہے جہاں سے مسلمان طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور انہی مساجد کے ذریعے سے لوگوں کو کے عقائد و اعمال درست ہوتے ہیں۔ اور مساجد ہی اسلامی تعلیمات کو پھیلانے اور عام کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
    دعاۃ اور معلمین کا تقرر:-
    دعوت دین اور صحیح اسلامی عقیدہ کی اشاعت ہر مسلمانوں پر فرض ہے۔ مسلمان کو جس قدر بھی اسلامی تعلیمات ہوں انہیں پھیلانے اور عام کرنے کا شرعی حکم ہے۔ انسانوں کی اسی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سعودی حکومت نے مستقل بنیادوں پر مختلف ممالک کے مراکز اسلامی اور مساجد میں دعوت دین کا کام کرنے اور تعلیم دینے کے لیے دعاۃ کو مبعوث کیا۔ جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح عقیدہ کی دعوت دیتے ہیں۔ علوم قرآنی اور علوم حدیث ہی کو بنیاد بناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح اور لوگ ان کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام بھی ہوتے ہیں۔ یہ مبلغین اور معلمین اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ عربی زبان کو عام کرنے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔
    خدمت انسانیت:-
    سعودی حکومت جہاں بھی کسی صورت میں بھی عام انسانوں یا مسلمانوں کو مصائب و آلام میں مبتلا پاتی ہے۔ تو وہ ان کی مدد کے لیے وہاں پہنچ جاتی ہے۔ یہ عمل کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ سعودی حکومت باہمی ہمدردی، شفقت و محبت اور دوستی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مظلوم انسانوں کی مدد کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے غذائی، ادویاتی اور مالی اعانت جاری رکھتی ہے۔ دنیا میں جہاں بھی اور جب بھی طوفانوں زلزلوں، بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے نقصان ہوا سعودی حکومت فوری طور پر ان نقصانات کا ازالہ کرتی نظر آئی ہے. سعودیہ عربیہ کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی اور ہیئۃ الاغاثۃ الاسلامیۃ وغیرہ ہمیشہ آگے نظر آئی ہیں۔
    خدمت حرمین شریفین:-
    وہ بڑے عظیم لوگ ہیں جو دن رات ان دونوں مقامات یعنی حرم مکی اور مدنی کی خدمت و نگہبانی کرتے ہیں اور ان کی توسیع، طہارت و نظافت اور ضیوف الرحمان کی خدمت میں دن رات کوشاں رہتے ہیں۔
    حرمین شریفین کی زیارت کرنے والے حجاج کرام اور معتمرین جو دنیا کے کونے کونے سے حاضر ہوتے ہیں جب وہ ان مقدس اور متبرک شہروں میں جاتے ہیں اور حرم کی توسیع اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار آل سعود یعنی خادمین حرمین شریفین کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے محنت، لگن اور محبت سے کس طرح ان کو خوبصورت بنانے کی سعی و کوشش کی ہے۔ آج یہ عمارت اپنے وسیع رقبے، خوبصورت ڈیزائن اور مناسب سہولتوں کے سبب زیارت کرنے والوں متاثر کرتی ہے۔
    خادم حرمین شریفین نے ان دونوں مقامات کی زیارت کرنے والوں کے لیے بنیادی سہولتیں اور ان کے مکمل تحفظ کا خیال رکھا ہے تاکہ ضیوف الرحمن حجاج کرام اور معتمرین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو بلکہ حجاج کرام مناسک حج ادا کرنے کے لیے جن مقامات مثلا منیٰ، عرفات اور مزدلفہ جاتے ہیں وہاں بھی ان کا مکمل خیال رکھا جاتا اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
    سعودی فرمانروا حرمین شریفین کی کھلے دل کے ساتھ خدمت کر کے خادم الحرمین الشریفین کہلانے کے حقدار ہیں اور اس پر انہیں فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
    شاھ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس:-
    قرآن مجید اللہ تعالی کی مضبوط رسی اور سیدھا راستہ ہے جو کہ ہدایت ربانی ہے۔ وہ دراصل خالق کون و مکان کی طرف سے انسانیت کے لیے عربی زبان میں خطاب ہے جس کے پہچاننے کا حکم اس خالق نے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے۔
    خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی طباعت اور تقسیم کے لیے "شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس” قائم کیا. آپ نے 16 محرم 1403ھ بمطابق دو نومبر نمبر 1982 اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا. اس کمپلیکس کا رقبہ 250000 مربع میٹر ہے اور یہ کمپلیکس فن تعمیر کا ایک دلکش اور خوبصورت نمونہ ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے 320 ملین نسخے شائع ہو چکے ہیں اور دنیا کے تقریبا 80 ممالک کے لوگ استفادہ کر چکے ہیں۔ یہ کمپلیکس اب تک 40 زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم طبع و تقسیم کر چکا ہے۔ شاہ فہد رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوں میں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا اور ان کے حسانات کے میزان میں بہت بڑا صدقہ جاریہ ہو گا ان شاءاللہ۔
    مجمع خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود للحدیث النبوی:-
    تقریبا دو سال قبل سعودی فرماں رواں جناب ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ نے اپنے ایک حکومتی فرمان کے ذریعے "مجمع خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبدالعزیز آل السعود للحدیث النبوی” یعنی خدمت حدیث کے لئے ایک مستقل کمپلیکس قائم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جس کی علمی کمیٹی دنیا بھر سے زائد علماء حدیث پر مشتمل ہوگی۔ اور اس کے رئیس سعودی "ھیئۃ کبار العلماء” کے رکن اور امام مجدد الدعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے خاندان کے چشم و چراغ شیخ محمد بن حسن حفظہ اللہ ہوں گے۔ قرآن کمپلیس کی طرح حدیث کمپلیس کے لیے بھی مدینہ تو رسول کو منتخب کیا گیا ہے۔ خدمت حدیث کے لیے سلمان بن عبدالعزیز کا یہ عالم اسلام میں سب سے بڑا منصوبہ، اشاعت حدیث کا بہت بڑا منصوبہ، اور اشاعت حدیث کا بہت بڑا ذریعہ اور منکرین حدیث کا منہ توڑ جواب بھی ہوگا۔
    واضح رہے کہ گذشتہ سال سے اس مجمع کا آغاز ہوچکا ہے۔ مسجد نبوی کے قریب اس کا مکتبہ علمی ہے اس وقت اس میں مختلف علمی مشاریع جاری ہیں۔ قریب میں ہی "موسوعۃ الاحادیث الثابتۃ”، جمع و تخریج کا وسیع کام مکمل ہوچکا ہے۔ پچاس کے قریب باحثین نے سینئر اساتذہ حدیث کی زیر نگرانی اس پر کام مکمل کیا ہے۔ اب اس کی تصدیق و مراجعت کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ جس میں سعودی عرب کے حدیث کے معروف اساتذہ، احادیث کی مراجعت کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں میں عالم اسلام کی علم حدیث میں معروف شخصیات سے سے مراجعت کروائی جائے گی ان شاء اللہ۔
    آل سعود کی حقیقی کامیابی:-
    آل سعود کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو بطور دین اپنایا ہوا ہے اور قرآن و سنت کو اپنا دستور بنائے رکھا ہے۔ اور وہ علم (جھنڈا) جو کلمہ طیبہ سے مزین ہے اس کو کبھی بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ اس لئے حکومت کو کبھی بھی عوام کے سامنے شرمسار نہیں ہونا پڑا۔
    یوم آزادی الیوم الوطنی:-
    عقیدت و محبت کے مرکز و محور اور پاکستان کے محسن و مخلص ملک سعودی عرب کا 90 واں "الیوم الوطنی” قومی دن ہے تو اہل سعودیہ کی طرح اہل پاکستان بھی نہایت شاداں و فرحاں رہیں اور ان کے دل بھی اپنے سعودی بھائیوں کی طرح طرح معطر و منور ہو رہے ہیں۔ اور ہر کسی کے جذبات ہیں کہ ہماری جانے تک اس مقدس سرزمین پر قربان، ہم اپنے لہو سے وہاں کے چراغوں کو روشن رکھیں گے ان شاءاللہ
    ہم آل سعود شاہ سلمان بن عبدالعزیز، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز و دیگر اعیان مملکت سعودی عربیہ کو 90ویں آزادی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور بارگاہ رب العالمین میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالی ان کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے تاکہ یہ خاندان حرمین شریفین اور سعودی عوام کی مزید خدمت کر سکیں۔

  • سعادت کی زندگی کس کے لیے؟   بقلم :عمر یوسف

    سعادت کی زندگی کس کے لیے؟ بقلم :عمر یوسف

    سعادت کی زندگی کس کے لیے؟
    عمر یوسف

    طبیعت پر چھائی گہری کدرت اچھے احساس میں بدلنا شروع ہوئی ۔۔۔ خیالات کا جمود ٹوٹا اور سوچ کی روانی شروع ہوئی ۔۔۔ طبیعت کی اداسی ختم ہوئی اور شادانی و فرحانی آنے لگی ۔۔۔۔ مرجھائے چہرے نے اچانک کھلنا شروع کردیا جیسے بہار میں تازہ پھول باغ کو جنت نظیر بناتے ہیں اور اپنی مہک سے انسان کی طبیعت کو یوں ہلکا کرتے ہیں جیسے وہ تنکے جیسا ہو ۔۔۔۔ مزاج کا یوں ایک دم سے بدلنا مجھے حیراں کرگیا ۔۔۔۔

    ہاں ہاں یہ تو خداوند بزرگ وبرتر کی بھیجی ہوئی ٹھنڈی ہوا ہے جو انسان کے مزاج پر خوب اثر انداز ہوتی ہے ۔۔۔۔

    کہ جب آگ برساتا سورج انسان کو ادھ موا کردیتا ہے تو وہ مالک المک خدا اپنے بندوں پر خوب ترس کرتا ہے اور اس کی ہواوں کے لشکر اس کے بندوں کو تروتازہ کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ جب انسان نڈھال ہوجاتا ہے اور موسم کی کیفیت کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی والا ہوتا ہے تو اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور انسان کو اپنے سائے میں ڈھانپ لیتی ہے گرمی کی حدت ہو یا سردی کی شدت وہ خوب بدل دیتا ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انسان پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے کہ جتنا انسان سہہ سکتا ہے ۔۔۔۔
    کیا تم تھک جاتے ہو ۔۔۔۔ اکتا جاتے ہو ۔۔۔۔ بوکھلا جاتے ہو ۔۔۔ مرجھا جاتے ہو ۔۔۔۔ ہمت ہار جاتے ہو ۔۔۔۔۔؟

    تو یوں کیا کرو کہ سب کچھ چھوڑ دیا کرو ۔۔۔ سر سجدے میں رکھ دیا کرو ۔۔۔ دل میں دبے لاوے کو پھٹنے دیا کرو ۔۔۔ کہ جب دل کا لاوا پھٹتا ہے تو آنکھوں کے ذریعے بہتا ہے ۔۔۔۔ تمہارے اس لاوے میں اتنا اثر ہوتا ہے کہ آسمان دنیا پر ہلچل مچا دیتا ہے ۔۔۔ خدا تمہاری طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ جب اپنے بادشاہ کی توجہ پالو تو بے بسی کا اعتراف کرو ۔۔۔ عاجزی کو اس کے سامنے پیش کرو ۔۔۔ بندگی کا واسطہ دو ۔۔۔ خود کو عاجز پیش کرو ۔۔۔ وہ یہی چاہتا ہے ۔۔۔ وہ یہی پسند کرتا ہے ۔۔۔ کہ جب تم یہ کرلو ۔۔۔ تو اسے کہو کہ میں تیرا ہی سوالی ہو بتا مجھے تیرے علاوہ خیرات کون دے ۔۔۔ وہ تمہیں خیرات دے گا ۔۔۔۔ کہو کہ مجھے عزت چاہیے کہ تم نے وعدہ کیا ہے کہ عزت تو تیرے بندوں کے لیے ہے ۔۔۔ وہ تمہیں عزتوں سے نواز دے گا ۔۔۔ بھیک مانگو مدد کی ۔۔۔ کہ کون ہے جو اس کے علاوہ مدد کرے ۔۔۔۔

    تم دل میں دہائی دو ۔۔۔ کہ اس گھٹیا دنیا کا بوجھ میرے بس میں نہیں رہا ۔۔۔ اب تو ہی ہے جو میرا بوجھ ہلکا کرے گا ۔۔۔ وہ تمہارا بوجھ ہلکا کردے گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدے کا پکا ہے ۔۔۔ کون ہے جو اس سے بڑھ کر وعدے میں سچا ہو ۔۔۔ تم بیماری میں پکارو وہ تمہیں شفاء دے ۔۔ تنگدستی میں پکارو وہ تمہیں خوشحالی دے ۔۔۔ مشکل میں پکارو وہ آسانی لے آئے ۔۔۔۔

    وہ دیکھو وہ انسان کتنا پریشان ہے ۔۔۔ کیا اسے علم نہیں کہ اس کا رب پریشانیاں دور کردیتا ہے ۔۔۔
    اسے دیکھو یہ در در کی خاک چھان رہا ہے کیا اس کا رب اس کی داد رسی اور فریاد سن کر مراد پوری کرنے سے عاجز آگیا ؟۔۔۔۔

    آہ کون ہے اس سے بڑا بیوقوف جو اپنے رب کی ربوبیت کو نہ پہچان سکے ۔۔۔ کتنے خسارے میں ہے وہ جو اپنے رب کی کبریائی نہ پہچان سکے ۔۔۔۔ تم دیکھو گے جن لوگوں نے اسے پہچان لیا وہ آگ سے بچ گئے ۔۔۔ سمندر ان کے لیے راستے بنانے لگے ۔۔۔ مچھلی کے پیٹ سے وہ صحیح سلامت آگئے ۔۔۔ دشمن کی ناک کے نیچے سے بچا لیے گئے ۔۔۔۔

    تم دنیاوی مال و دولت کی بہتات رکھنے والے ڈھیروں غریب دیکھو گے کیونکہ وہ معیت خداوندی سے محروم کردیے گئے ۔۔۔۔
    کیا کہنے ان کے مقدر کے جو ولایت ربانی ۔۔۔ معیت خداوندی سے سرشار ہوئے دنیا ان کی لونڈی بنی آخرت کی سعادت ان کی غلام ہوئی ۔۔۔۔ تم کہو کہ میرا رب وہ اللہ ہے پھر دنیا تمہارے قدموں تلے ہوجائے گی ۔۔۔ اور معززین میں بلند مقام پاو گے ۔۔۔

  • آزادی اظہار رائے   بقلم: انجینئر محمد ابرار

    آزادی اظہار رائے بقلم: انجینئر محمد ابرار

    آزادی اظہار رائے

    مملکت خداد پاکستان کو اللہ تعالی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے.پاکستان گیس اور کوئلہ کے زخائر سے مالامال ہے. پھر بھی پاکستان معاشی طور پر بہت کمزور ہے. پاکستان کے تنزلی کے اسباب میں ایک سبب یہاں کی عوام کی غالب اکثریت کی آواز کو دبانے کی کوشش کرنا بھی یے. حالیہ دنوں میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے قومی اسمبلی سے بل پاس کروائے ہیں. جن میں محکمہ اوقاف کے متعلق اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے بھی بل موجود تھے. قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن نے متفقہ فیصلہ کے تحت آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا.جناب نواز شریف صاحب نے وڈیو لنک خطاب کیا عندیہ دیا جس کے نتیجے میں حکمران جماعت کے شہباز گل صاحب نے اسکے خلاف پیمرا کو استعمال کرنے کا کہا مگر پھر سابقہ وزیر اعظم کی تقریر نشر کی گئی حالانکہ ان پر نیب کی جانب سےکرپشن کے چارجز موجود ہیں اور انکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کہ لندن ہائی کمیشن کے ذریعے ان کو وصول کروائے جا چکے ہیں.
    2018 کے عام انتخابات میں حکمران اور دیگر سابقہ جماعتوں کے علاوہ ایک جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بھی پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا اور 22 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے. ملکی تاریخ میں پہلی پار کسی مذہبی سیاسی جماعت نے رجسٹرڈ ہونے کے فوراً بعد محض چند ماہ کی الیکشن کمپین میں اتنی کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کیے. تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی ناموس رسالت و ختم نبوت کی تحاریک کا ماضی میں بھی حصہ رہے اور غازی ممتاز حسین قادری کی رہائی کی بھرپور تحریک چلاتے رہے جو بعدازاں تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہوئی. پاکستان میں ختم نبوت قانون میں تبدیلی ہو یا ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا معاملہ، علامہ خادم رضوی میدان عمل میں موجود رہے اور انہی کے اسلام آباد کی طرف مارچ کی بدولت ہالینڈ نے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کیا. جبکہ حکمران جماعت کے چند وزراء اس پر بغلیں بجاتے اور کریڈٹ لیتے نظر آئے.
    حال ہی میں فرانس کے ایک میگزین نے گستاخانہ خاکوں کو شائع کرنے کا اعلان کیا یے جس کے ضمن میں تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر میں پر امن احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا اور عوام کی کثیر تعداد نے ان ریلیوں میں شرکت کی. علامہ خادم حسین رضوی کی پنجاب اسمبلی کے سامنے ریلی سے خطاب کے بعد پولیس اور مقتدر قوتوں نے علامہ صاحب کو گرفتار کرنے کی ٹھانی اور ایک معذور شخص کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کی 6 وین بمعہ عملہ، اسلحہ و سازوسامان روانہ کر دی گئیں. مگر کارکنان کے بروقت پہنچنے اور علاقہ کے خواتین کے بھی سڑکوں پر آجانے کے باعث پنجاب پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی. نواز شریف صاحب اور دیگر پارٹیز کے کرپٹ حکمران جو کرپشن چارجـز کی وجہ سے جیل میں رہے میڈیا کی جانب سے انکا بیانیہ جاری کیا جاتا رہا مگر تحریک لبیک پاکستان جو کہ ایک پر امن مذہبی سیاسی جماعت ہے انکی کسی ریلی کسی احتجاج کسی بیان کو براہ راست میڈیا نے کوریج نہ دی. مملکت پاکستان کے باوقار شہری ہونے کے ناطے ہر کسی کی آواز کو میڈیا تک پہنچنے اور اسے نشر ہونے کا حق ملک کا آئیں و قانون دیتا ہے مگر ہمارے ملک میں پیمرا اور دیگر چینلز تحریک لبیک کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں. بقول مفتی اعظم پاکستان اگر پاکستان میں اعتدال کی فضا نہ قائم کی گئی اور ایک غالب اکثریت رکھنے والے طبقے کو یوں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو ملک میں انارگی، انتشار اور شدت پسندانہ جذبات کی ترویج ہوگی.
    نواز شریف صاحب کی تقریر آزادی اظہار رائے کی آڑ میں تمام.چینلز پر نشر کی گئی مگر وہ جماعت جس کے امیر اور کسی عہدیدار پر کسی قسم کے کرپشن چارجز نہیں ہیں انکی ہر تقریب پر میڈیا نے بلیک آؤٹ کیا. کیا یہی میانہ روی اور انصاف ہے. کیا اس طرح ملک ترقی کرے گا.
    ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں دیگر کرپٹ حکمرانوں جن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے اور جو کرپشن چارجز کی زد میں ہیں ان کو میڈیا کوریج دی جاتی ہے ان کے خطابات نشر کئے جاتے ہیں وہاں تحریک لبیک پاکستان کو بھی آزادی اظہارِ رائے کے تحت مکمل آزادی کے ساتھ میڈیا پر اپنا اعلامیہ پیش کرنے کی کھلی اجازت ہونی چاہئیے. میڈیا چینلز کے سوتیلی ماں جیسے سلوک کی بناء پر ایک غالب اکثریت والے طبقے کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں جس کا واحد حق بلا تفریق آزادی اظہارِ رائے ہے.

    انجینئر محمد ابرار

  • اجڑا کچھ اس طرح سے گھر بقلم : انجینئر محمد ابرار

    اجڑا کچھ اس طرح سے گھر بقلم : انجینئر محمد ابرار

    اجڑا کچھ اس طرح سے گھر
    انجینئر محمد ابرار

    اچانک فون کی گھنٹی بجی اس بار فون شوہر نے اٹھایا،بغیر بولے کان کو لگا کر رکھا دوسری جانب ایک جاذب مردانہ آواز میں یہ الفاظ سنائی دئیے ” کب سے فون ٹرائی کر رہا ہوں کہاں مصروف ہو کال کیوں نہیں اتھا رہی تھی” شوہر نے بغیر جواب دے فون بیوی کی جانب بڑھا دیا بقیہ گفتگو بیوی نے سنی. بیوی کے پاؤن تلے زمین نکل گئیں آواز ہرگز شناسا نہ تھی البتہ بولنے والا اس روانی سے گلے شکوے کر رہا تھا کہ جیسے اسکا اس سے تعلق صدیوں پر محیط ہو.شوہر نے بیوی کو خون پی جانے والے انداز سے گھورا اور وضاحت طلب کی پر بیوی کی زبان گنگ تھی.
    آج سے دو برس قبل محمد عمران کی شادی ثانیہ نامی خاتون سے طے پائی. شادی سے قبل محمد عمران برطانیہ میں تلاش روزگار کے لئے ٹھوکریں کھا رہا تھا آخر کار سات سال کی طویل مدت میں اپنوں سے جدائی کاٹنے کے بعد گرین کارڈ لینے میں کامیاب ہوا. دو دسمبر 2018 کو گھر واپسی تھی. گھر والوں نے اسکی آمد سے قبل ہی اسکی چچا زاد سے اسکی منگنی کر رکھی تھی. ابھی چند ماہ ہی شادی کو گزرے تھے کہ ایک بار پھر پردیس میں واپس جانا پڑا اور آج دو سال بعد ایک بار پھر وہ اپنے دیس واپس آیا تھا. ائیرپورٹ سے گھر واپس آنے کے بعد اپنے گھر والوں اور دوست احباب سے ملا.رات گئے جب وہ اپنی بیوی کے کمرے میں گیا تو فون کی گھنٹی بجی دوسری جانب گلے شکوؤں کا انبار لئے ایک انجان شخص موجود تھا. وہ خاموشی سے بیوی کو فون تھما کر کال ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا.
    شوہر: کس کا فون تھا اتنی رات گئے.
    بیوی: معلوم نہیں کون پاگل تھا.
    شوہر: اگر وہ نامعلوم پاگل تھا تو تم سے گلے شکوے شکایتیں تو ایسے کر رہا تھا جیسے تمہیں صدیوں سے جانتا ہو.
    بیوی: خُدا کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ وہ کم بخت کون تھا جو اس طرح آدھی رات کو فون کر کے مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ” روزانہ میں تمہارا انتظار کرتا ہوں پر تم مجھ سے بات نہیں کرتی. مانا کہ تم دور ہو پر دل سے دور نہیں”.
    شوہر: (غصے میں چلاتے ہوئے) کیا میں نے اس لیے تم سے شادی کی تھی کہ تم میری غیر موجودگی میں گل چھڑے اڑاتی پھرو؟ آخر تمہارا کیا تعلق ہے اس لڑکے سے. کتنی بار میری غیر موجودگی میں اس سے فون پر بات کر چکی ہو؟ کتنی بار اس سے ملاقات کی ہے.آخر تمہارا کب سے اپنے آشنا سے چکر چل رہاہے اور میری آنکھیں میں دھول جھونک رہی ہو.
    بیوی: میرا یقین کریں میں خود کو آپکی امانت سمجھتی ہوں میں کیسے آپ کے ساتھ دھوکہ کر کہ امانت میں خیانت کر سکتی ہوں
    شوہر: (آگ بگولا ہوتے ہوئے) بس بس بہت ہوگیا. اپنی اماں کے گھر جا کر امانت امانت کے راگ الاپنا.میں نے تمہارے لئے پردیس میں دن رات گن گن کر گزارے اور تم نے بدلے میں مجھے یہ صلہ دیا یے. میں تمہیں ایک لمحہ بھی اپنے گھر میں بطور بیوی برداشت نہیں کروں گا..نکل جاؤں میرے گھر سے. دفع ہو جاؤ میں.نظروں کے سامنے سے. میں تمہیں طلاق دیتا ہوں.
    بیوی: اللہ کے واسطے ایسا مت کری.
    بیوی کے یہ سب کہنے تک بہت دیر ہو چکی تھی. ہنسا بستا گھر اجڑ چکا تھا. صرف ایک رانگ کال نے لڑکی زندگی داغدار کر کہ رکھ دی تھی. خاندان کی آنٹیوں نے خبر پر جلتی میں آپ کا کام گیا اور جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر پورے خاندان میں پھیل گئی. ہر کوئی ثانیہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا. سب ہی اس کو کوس رہے تھے کہ شوہر کے ہوتے ہوئے آشنا سے باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
    آج ایک اور ہوّا کی بیٹی کا گھر صرف موبائل پر موصول ہونے والا رانگ کال کی وجہ سے اجڑ چکا تھا. ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی لڑکیاں موجود میں جن کے گھر ایک رانگ کال نے اجاڑ دیے.
    قارئیں سے گزارش ہے کہ اس کو صرف ایک کہانی کے طور پر مت لیں بلکہ معاشرے کے ان ناسور کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں.

  • محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری

    محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری

    محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق محکمہ ہائرایجوکیشن پنجاب کی جانب سے طلبا کو فرسٹ ایئر کے نمبروں کی بنیاد پر سینکنڈ ایئر کے نمبرز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب فرسٹ ایئر میں فیل ہونے والے طلبا کو بھی رعایتی نمبروں سے انٹرمیڈیٹ کی ڈگری ملے گی۔

    اسپیشل کیٹیگری میں شامل طلبا کے لیے امتحانات کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور اپنا نتیجہ بہتر کرنے کے لیے دوبارہ امتحان کی تیاری کرنے والے طلبا کو فرسٹ ایئر کے برابر نمبرز دے کر پاس کیا جائے گا۔

    سال 2020 میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے کے لیے آخری چانس کے حامل طلبا کو اوسطاً نمبروں کی بنیاد پر پاس کر دیا جائے گا جبکہ فرسٹ ایئر کے 40 فیصد مضامین میں فیل ہونے والے طلبا کو پاسنگ نمبروں سے ڈگری دی جائے گی۔

  • نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
    اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
    میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
    ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
    محمد عبداللہ

  • مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عالم قیام کرنے والے روزہ دار اور مجاہد سے افضل ہے۔ جب عالم فوت ہو جاتا ہے تو اسلام میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے کہ اس جیسا جانشین ہیں اسے پر کرسکتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام 1/398)
    بلا ریب علماء ہی انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں جو دین کی دعوت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اس مشن پیغمبرانہ کی ادائیگی میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی درویشانہ زندگی میں "ان اجری الا علی اللہ” کے مصداق نظر آتے ہیں. یہ علماء و مشائخ کرام دنیا کے ذہین ترین انسان ہوتے ہیں لیکن ان کی جستجو و طلب دنیا نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی و کامرانی کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ مدارس و جامعات کی چٹائیوں پر بیٹھ کر طلب علم میں مصروف رہنے والے طلبہ کی علمی رہنمائی کر کے انہیں ہیرے کی طرح تراش کر ملت کو بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ایک ایک عالم دین اور شیخ الحدیث اپنی اپنی جگہ ایک تحریک ہوتا ہے جو معاشرے کی نہ صرف دینی رہنمائی کرتا ہے بلکہ معاشرے کے بیگاڑ کو روکنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتاہے۔
    کسی عالم دین کا اس دنیا فانی سے جانا محض کسی شخصیت، شکل و صورت یا دم ولحم کا فقدان نہیں ہوتا بلکہ اس کے سینے میں محفوظ و مامون میراث نبوت کا فقدان ہوتا ہے۔ اور علماء کے جانا علامات قیامت ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی وسلم کا فرمان ہے۔
    سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ ہم نے کہا کہ نہیں! انہوں نے فرمایا کہ علماء کے اٹھ جانے سے (سنن دارمی)
    گذشتہ چند ماہ میں بہت سی علمی شخصیات ہم سے رخصت ہوگئیں جن کا خلا پر ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ علمی شخصیات یکے بعد دیگرے ہمیں داغ مفارقت دیتی رہیں۔ علماء کی وفات پر جماعت کا ہر فرد مغموم و محزون نظر آیا اور علماء کی جماعت کے ساتھ ساتھ عام انسان بھی ان علماء کرام و مشائخ عظام کی وفات کواپنا ذاتی نقصان سمجھ رہا تھا اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نظر آرہا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ امسال اس قدر علماء و مشائخ عظام کی پے در پے وفات سے ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جس کا پر ہونا ناممکن ہے کیونکہ جو مسند خالی ہو جاتی ہے بظاہر اس مسند پر جانشین اجاتا ہے لیکن علمی و عملی طور پر وہ اس مقام کا حامل نہیں ہوتا جس قدر اس مسند کو چھوڑ جانے والا تھا۔
    جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی صرف ایک عالمی علمی دانشگاہ ہی نہیں بلکہ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ دینی و فکری رہنمائی کرنے والی ایک تحریک ہے جہاں سے قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے دنیا کو سیراب کیا جاتا ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عامۃ الناس کی رہنمائی کی جاتی ہے۔
    بانی جامعہ ہمارے مربی و محسن فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلی تمنا تھی کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ایک علمی مجلہ ہونا چاہیے۔ بحمد اللہ پندرہ سال قبل جامعہ کی انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا اور فضیلت الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ذمہ داری لگائی جنہوں نے احسن انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا اور مجلہ کو معنوی اور صوری طور پر خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی معیار کو بھی بلند رکھا اور مختلف مواقع پر مجلہ اسوہ حسنہ کے خصوصی نمبر بھی شائع کئے۔ جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
    تحفظ ناموس رسالت نمبر 2005
    قرآن نمبر 2006
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2012
    پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نمبر 2012
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2013
    سعودی عرب نمبر 2013
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2014
    دفاع بلاد حرمین نمبر 2015
    بےدینی، دہریت اور الحاد نمبر 2020
    اور اب سال 2020 میں وفات پا جانے والے جید علماء کرام کی سوانح حیات پر خصوصی نمبر” گلستان علم و عرفان کے انمول موتی جو ہم سے بچھڑ گئے نمبر 2020
    اس خاص نمبر میں الشیخ قاضی محمد عیاض، محدث العصر مولانا عبدالحمید ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ، پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان، بابائے قرآت قاری محمد یحیی رسول نگری، حافظ صلاح الدین یوسف، محدث العصر مولانا ضیاء الرحمن الاعظمی مدنی، مولانا انیس الحق افغانی رحمھم اللہ علیہم پر اہل علم و قلم کے مضامین شائع کئے ہیں۔ 124 صفحات پر یہ علماء کرام کی سوانح حیات پر مشتمل دستاویز ہے۔ جو کہ اصحاب علم وفضل سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ اور علماء کرام کی زندگیوں اور علمی جد و جہد سے آگاھ کرنے کے لیے ” مجلہ اسوہ حسنہ” کی انتظامیہ نے بہت ہی احسن قدم اٹھایا ہے۔ اور طالبان علوم نبوت کے اشتیاق کو بڑھانے کے لیے یہ خصوصی نمبر شائع کرکے ہم طلاب علم کے لیے علماء کرام و مشائخ عظام کے حالات کو جاننے کا سامان مہیا کیا ہے۔
    مجلہ اسوہ حسنہ کی تسلسل سے اشاعت کے لیے خصوصی دلچسپی لینے پر فضیلة الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور جامعہ کے اساتذہ کرام جو کہ مجلہ کے قلمی معاونین بھی ہیں لائق صد تحسین ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
    اس اشاعت خاص پر میں مدیر مجلہ محترم ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست و احباب سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اس خصوصی نمبر کو ضرور حاصل کریں۔ خود بھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی مجلہ پڑھنے کےلئے دیں تاکہ ان کے دلوں میں بھی دین اسلام کے داعی بننے کا جذبہ اور لگن بڑھے۔
    ملنے کا پتہ:
    دفتر مجلہ اسوہ حسنہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی