Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے  شاعری:  فاخرہ تبسم

    اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے شاعری: فاخرہ تبسم

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    مغرب کے سبق سکھاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    گانوں کی دُھن پہ سلاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچیوں کے

    فحا شی کے نام پہ اترائیں

    جس دیس کی مائیں مغرب کی

    دلدل میں خود ہی گر جائیں

    جس دیس کے چوراہوں پر

    تصویریں ہو ں عریانی کی

    وہاں زنا کی شرح بڑھ جائے

    تو پھر بات ہے کیا حیرانی کی

    جس دیس کے علماء بھی

    باتوں کو خوب گھماتے ہوں

    اور اپنی انا کی خاطر

    نفرت کے بیج اگاتے ہوں

    ووٹوں کے نام پہ لوگوں کی

    عقلوں سے کھیلا جاتا ہو

    شعور اُڑا کے ذہنوں کے

    اس قوم کو بیچا جاتا ہو

    جس دیس میں جوہر تربیت کے

    ناپید ہو جائیں بچپن سے

    جان چُھڑائیں گے پھر وہ

    تہذیب کے ہر اک بندھن سے

    جس دیس میں تربیت بچوں کی

    نیٹ اور کیبل کرتے ہوں

    اس دیس کے مستقبل کے معمار

    پھر کیوں نہ آوارہ پھرتے ہوں

    اس دیس میں قاتل میڈیا پر

    آواز اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک باسی پر

    سوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کی ساری ماؤں کو

    اسلام سکھانا واجب ہے

    اس دیس کی مکتب گاہوں میں

    قرآن پڑھانا واجب ہے

    انسان بنانا واجب ہے

    شعور جگانا واجب ہے

    شاعری: فاخرہ تبسم

  • جاگ اٹھے ہیں دیوانے   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمارے ایمان کا جزو لاینفک ہے کیونکہ صحابہ کرام معیار ایمان اور معیار حق ہیں۔ اللہ تعالی نے اس پاک باز جماعت اور نفوس قدسیہ کے لئے آسمان سے جنت کے سرٹیفیکیٹ عطا کئے۔ اور ان کے لیے اپنی رضا کا اعلان فرمایا اور انہیں مختلف اعلی القابات سے بھی نوازا۔ حضرات صحابہ کرام، خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم وہ جاں نثار ساتھی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ رسول اکرم صلی وسلم کے مقدس ہاتھوں میں دے کر اسلام کی بیعت کی۔ اور پھر تازیست اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے اور دین اسلام کو بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیا۔ صحابہ کرام جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کے منتظر رہا کرتے تھے اور آپ کے ادنی سے اشارے پر ہر چیز قربان کر دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے کر ان کی اداؤں اور وفاؤں کو کو دیکھ کر انہیں نہ صرف معاف فرمادیا بلکہ کلمہ تقوی کا انہیں حقدار ٹھہرا کر بہشت کے وارث بنا دیا۔ ہر مسلمان جس طرح سے عقیدہ ختم نبوت کے بارے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتا بعینہ ناموس صحابہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ جس طرح سے ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی ہر چیز قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں بعینہ اسی طرح ناموس صحابہ پر کٹ مرنا بھی باعث فخر سمجھتے ہیں۔ مسلمان صحابہ کرام کو ختم نبوت کے روشن ستارے سمجھتے ہیں اور ان ستاروں پر دل و جان سے فدا ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اور ان سے محبت اپنا ایمان اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرے گا وہ مجھ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ درحقیقت اللہ تعالی سے محبت کرے گا۔ اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے بغض رکھے گا۔ گا۔ وہ اللہ تعالی سے بغض رکھے گا۔ اس لئے ہم صحابہ کرام سے محبت اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی وسلم سے محبت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور اس محبت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
    اس ماہ محرم میں اسلام آباد میں ایک ملعون ذاکر نے خلیفہ اول، یار غار، افضل الناس بعد الانبیاء سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نہ صرف تکفیر کی بلکہ بات بدزبانی سے آگے بڑھا دی۔ اور 10 محرم عاشورہ کے دن کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ بند روڈ پر کاتب وحی وحی خال المسلمین سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور خسر رسول سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کیا گیا۔ جسے کچھ ٹی وی چینلز نے لائیو بھی دکھایا۔ جو کہ ملک کی سنی اکثریت کے جذبات کو ابھارنے اور وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ جس کے پیچھے حکومت میں بیٹھے ہوئے وہ وزراء ہیں۔ جن کی طرف شیعہ علماء بھی اشارہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جس ذاکر پر اسلام آباد داخلے پر پابندی عائد تھی اس پر سے پابندی کس نے اور کیوں ہٹائی؟
    اور پھر لاہور سے ماتمی سنگت لا کر مجلس اور فرقہ وارانہ تقریر کروانی گی۔ اور جب ملک میں شور اٹھا تو اس ملعون ذاکر کو ملک سے فرار کروا دیا گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اس پر درجن بھر ایف آئی آر مختلف مقامات پر درج تھیں۔ اور اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی کٹ چکی تھی۔ اس طرح سے عاشورہ کے دن کراچی میں ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود تاحال جعفر تقی نامی ذاکر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی طرح سے مختلف مقامات پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے تسلسل سے گستاخیاں کی جارہی ہیں۔ اور سوشل میڈیا ان گندی حرکات سے بھرا پڑا ہے۔
    سنی مسلمان جو کہ اس ملک کی بڑی اکثریت ہیں وہ ان گستاخیوں کو روکنے کے لئے گھروں سے باہر نکلے پر مجبور ہوگئے۔ تینوں مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء اور قیادت نے ایک حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا کہ جمعہ کے روز 11ستمبر کو علمائے دیوبند عوام کو لے کر پرامن عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ اگلے دن 12ستمبر کو بریلوی علماء عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے اور اس سے اگلے روز 13 ستمبر کو علمائے اہلحدیث عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ پھر اہل کراچی نے علماء و مشائخ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
    عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہلحدیث علماء و قائدین نے کوششیں شروع کیں اس سلسلے میں اہل حدیث ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں سرکردہ اہلحدیث تنظیموں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، جمعیت اہل حدیث سندھ۔تحریک اہلحدیث پاکستان، جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان۔ اہل حدیث مدارس وجامعات جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ الاحسان الاسلامیہ۔ المعہد القرآن الکریم،المعھد السلفی، مرکز المدینہ و دیگر اداروں نے شرکت کی۔ ایک اجلاس المعھد السلفی میں علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ کی میزبانی میں ہوا۔ 10 ستمبر بروز جمعرات کو عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہل حدیث علماء کنونشن الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ کی میزبانی میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ہوا جس میں چار سو سے زائد علمائے اہل حدیث شریک ہوئے۔جہاں ریلی کے بارے مشاورت ہوئی۔ خطبات جمعہ میں عوام کو عظمت صحابہ ریلی میں شرکت کی ترغیب دلائی گئی۔ علماء کرام مشائخ عظام اور قائدین کرام نے اپنی اپنی سطح پر رابطے کیے اور لوگوں کو ریلی میں شرکت کے لئے دعوت دی اور حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا کہ ناموس رسالت اور ناموس صحاب اس وقت نکلنا اور آواز بلند کرنا بہت ضروری ہے۔ علماء کرام و مشائخ عظام نے ریلی کی کامیابی کے لیے رب کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کیں۔ 13 ستمبر کو عوام جذبہ حب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر گھروں سے نکلے اور عظمت صحابہ کے ترانے بلند کرتے ہوئے جامع مسجد اہلحدیث کورٹ روڈ کراچی پہنچے۔ جہاں سے شرکاء ریلی کی شکل میں پریس کلب کی طرف نکلے ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے اور عظمت صحابہ کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے اور ناموس صحابہ کے لئے مرمٹنے کا عزم اپنے دلوں میں لیے ہوئے تھے۔
    سوشل میڈیا کے ذریعے ریلی کی لائیو کوریج کی جا رہی تھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا راستے میں ریلی کے ساتھ مزید قافلے بھی شامل ہوتے رہے۔ ریلی میں میں جماعتوں کے بجائے صرف وطن عزیز پاکستان کے ہی پرچم تھے کیوں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں۔ جب ریلی پریس کلب پہنچی تو عوام کا جم غفیر اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ پریس کلب پر علمائے کرام و قائدین مولانا مفتی محمد یوسف قصوری صاحب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ، ڈاکٹر مفتی خلیل الرحمن لکھوی مدیر المعھد القرآن الکریم، مولانا شیخ ضیاء الرحمن مدنی مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، حکیم ناصر منجا کوٹی، مفتی عبدالحنان سامرودی، مولانا داؤد شاکر، مولانا محمد ابراہیم طارق، خلیل الرحمن جاوید، مولانا ضیاء الحق بھٹی، محمد اشرف قریشی, مولانا محمد ابراہیم جونا گڑھی، مولانا محمد شریف حصاروی، مولانا انس مدنی، مولانا حافظ محمد سلفی نائب امیر جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان، مولانا عبدالوکیل ناصر، ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی، شیخ ارشد علی، مولانا نصیب شاہ سلفی، مولانا محب اللہ، ایم مزمل صدیقی, پروفیسر محمد یونس صدیقی، ڈاکٹر عامر محمدی، جے یو آئی کے قاری محمد عثمان اور دیگر نے خطاب کیا۔
    مقررین نے کہا کہ شان، عظمت اور رفعت بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام کو روشنی کا مینار اور امت کے محسن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ کسی بھی صحابی پر انگلی اٹھانا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر انگلی اٹھانا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ معیار ایمان اور عادل ہیں۔ مقررین نے کہا کہ کسی بھی فرقہ کو قانون سے بالاتر ہو کر عوام پر مسلط ہونے کا موقع دینا فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دینا ہے دفاع صحابہ حدیث جماعتوں کا مستقل ایجنڈا ہے۔ اس ضمن میں مجرموں کو گرفتار کرکے کے قرار واقعی سزا دلوانے میں میں ریاست نے کردار ادا نہ کیا تو ہم بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
    بحمداللہ ملک بھر کے مسلمان نہ صرف بیدار ہوچکے ہیں بلکہ میدان عمل میں بھی نکل چکے ہیں اور دفاع ناموس رسالت اور دفاع ناموس صحابہ کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ

  • خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ

    جنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
    سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
    خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.

    تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.

    چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
    ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
    تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
    ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
    آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.

    نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
    محمد عبداللہ

  • معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات  بقلم : ندا خان

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات بقلم : ندا خان

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات
    بقلم :: ندا خان
    پاکستان میں آئے روز معصوم بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات یہاں نا دو سال کی بچی محفوظ ہے
    اور نہ 14 سال کا لڑکا اور نہ شادی شدہ عورت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ ایسا کیوں بنتا جارہا ہے
    حديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے
    ” اپنی اولاد کی جلدی شادی کرو” والله اعلم
    اور جب اولاد زنا کی مرتکب ہوتی ہے تو اس کا گناہ والدین پر ہوتا ہے والدین انتظار کرتے ہیں کہ بیٹا نوکری کرے گا تو شادی کرے گے، بیٹا بیشک تب تک گناہ کی دلدل میں دھنس
    چکا ہو، اور ہمارے پاکستانی چینلوں پر جب واہیات ڈرامے
    چلائےجائے اور ہمارے بعض ناول نگار بولڈ اور واہیات ناول
    لکھے جنہیں پڑھ کر کوئی بھی شخص نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے غلط راستہ اختیار کرتا ہے
    پہلے صرف ایک چینل پی ٹی وی تھا جس میں سبق آموز ڈرامے ہوتے اب جتنے زیادہ چینلوں کی بھرمار ہے اتنی
    بےغیرتی پروان چڑھ رہی ہے ناول نگاروں میں ، بانو قدسیہ
    مستنصر حسین تارڑ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، جیسے نامور لوگ تھے جو ایسے ناول لکھتے تھے کہ انسان کو پڑھ
    کر اچھا محسوس ہوتا تھا اس میں مثبت تبدیلی آتی تھی
    میرا ماننا ہے واہیات ناول لکھنے اور ڈرامہ بنانے والوں پر پابندی لگائی جائے ایسے ڈرامے بنانے والوں کے لیئے سزا
    مختص کی جائے تاکہ کوئی جرات نہ کرے بے غیرتی پر مبنی ڈارمہ بنانے کی
    اور اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلے زیادتی کے کیس
    میں مجرم کو سرعام سزائے موت دی جاتی تو میرا نہیں خیال کہ دوبارہ کسی کی جرأت ہوتی کہ کوئی معصوم بچوں کو گندی نگاہ سے نہ دیکھتا
    آجکل ٹیکنالوجی کا اگر فائدہ ہے تو نقصان زیادہ ہے موبائل فون
    بڑے، چھوٹے ہر ایک کہ ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں جو چاہے
    مرضی دیکھے، جنسی ہوس کے بچاریوں سے اپنے ہی ہمسائے
    کے بچے محفوظ نہیں ہمارے والدین ہمیں بتاتے ہیں کہ پہلے
    سب کی بیٹیاں سانجھی سمجھی جاتی تھیں ایک دوسرے کی ماں، بیٹی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر ٹیکنالوجی نے
    زندگی آسان کی ہے تو ایک دوسرے کی عزت و احترام ختم کردیا ہے ہر کوئی اپنے اپنے موبائل کی دنیا میں مگن ہے
    ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت نہیں والدین کے لیے اولاد کے لیے وقت اور اولاد کے لیے اپنے ماں باپ کے لیے وقت نہیں
    والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی تربیت یہ نہیں کہ کھلایا
    پلایا اور اچھے سکول میں داخلہ کروایا یہاں والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی والدین اپنے بچوں پر نظر رکھے دیکھے وہ بند کمرے میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر یا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر کونسی ویب سائٹ کھول کر بیٹھے ہیں ان کے دوستوں سے ملیں کے آپ کے بچے کے کیسے دوست ہیں؟
    والدین اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں تاکہ وہ غلط دوستوں سے بچ سکیں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم لازمی دے تاکہ وہ بہترین انسان بن سکے پاکستان میں اب اسلامی نظام کے نفاذ کی ضرورت ہے
    ریاست مدینہ صرف کہنے سے نہیں بنتی محنت کرنی پڑتی ہے بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
    "زمین الله کی نظام بھی الله کا ”
    جب الله کی زمین پر وہ انسان جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا فرشتوں سے سجدہ کروایا وہ انسانیت کے درجے سے اتنا گر جاتا ہے کہ کسی کی بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
    جب اللّٰه کی زمین پر فسادات بڑھ جاتے ہیں پھر زمین ہلا دی جاتی ہے پھر انسان کو بتایا جاتا ہے کوئی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند
    قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ آیت کا مفہوم ہے
    "اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ”

    "انسان بڑھتے جا رہے ہیں……..
    اور انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے”
    گزشتہ روز لاہور کی حدود میں گاڑی سے عورت کو نکال کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب عورت نے موٹروے والوں کو فون کرکے مدد کے لیے بلایا تو انہوں نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیا کہ یہ علاقہ ان کی انڈر نہیں میرا سوال ہے
    موٹروے والوں سے کیا ان کی اپنی بہن مدد کے لیے پکارتی تو وہ انکار کرتے؟ محمد بن قاسم کیوں چلا گیا ایک عورت کی پکار پر اس نے کیوں نہیں کہا کہ یہ میرا علاقہ نہیں
    اس کا جواب بھی موجود ہے کیونکہ اس اندر غیرت تھی
    محمد بن قاسم نے اس عورت کی عزت کو اپنی عزت سمجھ کر حفاظت کی
    ہم انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ کسی کی
    مدد کے لیے ہمیں حدود متعین کرنے پڑتے ہیں ہمیں زرا رحم نہیں آتا کہ کوئی مدد کے لیے پکارے تو اس کی مدد کے لیئے
    موجود ہوں
    حديثِ کا مفہوم ہے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    "تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا
    الله رب العزت سے دعا ہے کہ
    الله سب کو ہدایت عطا فرمائے اور سب کی حفاظت فرمائے
    آمین یا ارحم الراحمين۔

  • دماغ کو پرسکون رکھیے  تحریر:عمر یوسف

    دماغ کو پرسکون رکھیے تحریر:عمر یوسف

    دماغ کو پرسکون رکھیے

    عمر یوسف

    کبھی غور کیا ہو تو محسوس کریں گے کہ ایک سٹوڈنٹ ہوتا ہے جو پیپروں کی تیاری میں ہلکان کبھی یہ کتاب پکڑ کبھی وہ کتاب پکڑ ۔۔۔ کبھی اس مضمون کو رٹا مار کبھی اس مضمون کو رٹا مار ۔۔۔۔ کافی محنت و مشقت کے بعد بھی پیپر دیتے وقت نتیجہ امیدوں کے برعکس نکلا ۔۔۔

    لیکن ایک استاد ہوتا ہے جو طالب علم کو ہدایات دے رہا ہوتا ہے ۔۔۔ گیس بتاتا ہے ۔۔۔ سوالات کی نشاندہی کرکے دیتا ہے ۔۔۔ اور حیرت انگیز طور پر استاد یا سینیر کے بتائے گئے گیس اور ہدایات صحیح ثابت ہوتے ہیں ۔۔۔

    جانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

    طالب علم پیپروں کی سٹریس کو ذہن پر سوار کرچکا ہوتا ہے ذہنی افراتفری عقل کو ڈھانپ دیتی ہے ۔۔۔ صحیح اقدام کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے ۔۔۔ درست چیزیں سامنے ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتیں ۔۔۔ پھر کام کیسے درست ہوجائے ؟

    استاد کو یا سینئر کو سٹریس نہیں ہوتی ۔۔۔ اسے فیل یا پاس ہونے کا ڈر نہیں ہوتا وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوتا ہے یہی اس کا پوزیٹیو پوائنٹ ہے ایسی صورت حال میں دماغ خوب کام کرتا ہے دور اندیشی آجاتی ہے انسان ممکنہ صورت حال کا اندازہ لگا لیتا ہے ۔۔۔ ذہن کا اطمینان ، دماغ کا سکون ہی کامیابی کے دروازے پر لے جاتا ہے ۔۔۔۔

    جذبات کی افراتفری ذہنی کشیدگی ختم کرلینا انسان کی کامیابی ہے ۔۔۔

    آپ سیکھ سکھتے ہیں ۔۔
    دماغ کو پسکون رکھنا ۔۔۔
    اسے سمجھائیے کہ افراتفری میں تمہارا نقصان ہے ۔۔۔
    اسے بتلائیے کہ کوشش کے بعد بھی اگر ناکامی ہوئی تو زندگی نہیں رکے گی ۔۔۔
    اسے حوصلہ دیجیے کہ انسان کے لیے قدرت سو دروازے کھلے رکھتی ہے ۔۔۔
    اسے تسلی دیجیے کہ جس رب نے پیدا کیا وہ خوب خیال رکھنے والا ہے خوب منصوبہ کرنے والا ہے خوب حکمتوں والا ہے تو کیوں نہ سارے معاملات اس کے سپرد کیے جائیں ۔۔۔۔

    تمہارا ذہن کی تربیت کرنا ذہن کو تمہارے تابع کردے گا ۔۔۔۔ ذہن کا دماغ کا انسان کے کنٹرول میں آجانا ہی سب سے بٹی کامیابی ہے ۔۔۔۔ فقر میں صبر ذہن کے قابو ہونے میں ہی ہے ۔۔۔ تکلیف میں برداشت ذہن کے قابو ہونے میں ہے ۔۔۔۔ صدمے کو سہہ جانا دماغ پر حکمرانی کے وقت ہی ممکن ہے ۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں ۔۔۔۔

    جس دن آپ کو دماغ پر حکمرانی حاصل ہوگئی تو پھر فخر سے کہیے گا کہ ہلکانوں کی دنیا میں میں بے تاج بادشاہ ہوں ۔۔۔ ایسا بادشاہ جسے زوال کا ڈر نہیں ۔۔۔۔

    تعمیر کی طرف سفر میں ہمارے ہمسفر بنیں ۔۔۔۔🌹

  • زنا کے بڑھتے واقعات  کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے
    یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں 30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں
    1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے
    یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
    نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے
    النکاح من سنتی
    نکاح میری سنت ہے
    ایک اور جگہ فرمایا
    من رغب سنتی فلیس منا
    جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں
    ایک اور جگہ فرمایا
    یا معشر الشباب تزواجوا
    اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو
    مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے
    اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ
    اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے
    بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے
    یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں فرمایا گیا
    کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا
    لا تقربوا الزنی
    خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا
    یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ
    زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں
    ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا
    جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی
    اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے
    آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے
    مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا جانا ہے اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے
    ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے
    بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں
    مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا
    اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا
    جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے
    اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور جوانیاں برباد ہو رہی ہیں
    اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے
    اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں
    اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے

  • تکرار لاحاصل  تحریر :سفیر اقبال

    تکرار لاحاصل تحریر :سفیر اقبال

    تکرار لاحاصل
    تحریر :سفیر اقبال
    رنگِ سفیر
    (ریاست پاکستان کا موجودہ قانون، مجرمان کے لیے پناہ گاہ)

    عوام :یار یہ کب تک ہوتا رہے گا اس طرح ہمارے ساتھ؟ کیا ہم ساری زندگی ایسی ہی خبریں سنتے رہیں گے؟

    حکومتی نمائندہ : دیکھو یار کوئی گھڑی قبولیت کی بھی ہوتی ہے اللہ سے اچھی امید رکھو ایسے نہیں کہتے.

    عوام :تو اس کا مطلب بس اللہ پر ہی امید چھوڑ دیں اور اگلے ہفتے پھر نئی خبر کے لیے تیار ہو جائیں؟

    حکومتی نمائندہ :نہیں یار جذباتی مت بنو. تفتیش شروع ہو گئی ہے. دیکھنا جلد گرفتاریاں ہو جائیں گی

    عوام :یار گرفتاری کر کے کیا ہونا ہے؟ کیا جرم رک جائے گا؟ کیا مجرم کو سزا نہیں ملے گی؟

    حکومتی نمائندہ : یار یہ سزا والی باتیں پرانی ہیں ‏دینا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں، مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں.

    عوام :دو سال تو ہو گئے آپ کی مہذب حکومت کو. کب کرو گے ایسی تدبیر. کب بناو گے ایسا ماحول، اور ایسا قانون؟

    حکومتی نمائندہ :دیکھو یار اس وقت خزانہ خالی ہے. قرضے کا بوجھ ہے. مافیا اپوزیشن کے ساتھ ملکر حکومت ناکام کرنے پر تلی ہے. ایف اے ٹی ایف کی الگ پریشانی ہے. ایسی صورت میں اتنا سخت قانون نہیں بن سکتا اتنی جلدی.

    عوام :تو پھر حل کیا ہے یار اس کا؟

    حکومتی نمائندہ :حل تو اور بھی بہت ہیں. ساری غلطی حکومت کی بھی نہیں. اصل میں عوام بھی کچھ اچھی نہیں. اگر مساجد کے مولوی بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے سے باز آ جائیں، خود احتسابی کر لیں اور. لوگوں کو نصیحت کریں تو آدھے سے زیادہ جرائم ویسے ہی ختم ہو جائیں. زیادہ غلطی مولویوں کی ہے جو لوگوں کو گندے کاموں سے بچنے کی نصیحت نہیں کرتے.

    عوام: یار مولوی کیسے مجرم کو نصیحت کر سکتا ہے؟ آج کل مجرم پولیس اور حکومت سے نہیں ڈرتے تو مولوی کی بات کہاں سنیں گے. مجرم تو قانون سے ڈرتا ہے بس اور وہ مولوی نے نہیں عمران خان نے بنانا ہے

    حکومتی نمائندہ :یار قانون عمران خان نے نہیں عدالتوں نے بنانا ہے. عمران خان تو خود چاہتا ہے مجرم کو سزا ملے لیکن قانون بنانے والے قانون نہیں بناتے.

    عوام :یار عمران خان چاہتا ہے تو اس نے اپنی کرسی کی توہین کرنے والی کو کیوں نہیں سزا دی یا انہیں جو اسے کرسی پر لے گئے تھے ٹک ٹاک وڈیو بنانے کے لیے؟ کیا عمران خان کے کمرے اور اس کی کرسی پر بیٹھنے والی طوائف کا فیصلہ بھی عدالتوں نے کرنا تھا؟

    حکومتی نمائندہ :یار کیا فضول بات کرتے ہو. تم نے سنی نہیں یہ خبر کہ وزیر اعظم نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ڈانٹ بھی پلائی تھی؟

    عوام :یار وہ متعلقہ حکام کون تھے وہ پتا نہیں چل سکا؟

    حکومتی نمائندہ :یار پتا چلا ہو گا لیکن ہر بات عوام کو بتانا ضروری تو نہیں. گھر کے مسائل گھر میں حل کیے جاتے ہیں چوکوں چوراہوں میں تو نہیں.

    عوام :یار آج تک کسی نے اس بات پر اعتراض کیا کہ حکومتی ایوانوں میں چھپ کر کون کون زنا کرتا ہے. وہ وڈیو پبلک ہوئی تب بات گھر سے باہر نکلی ورنہ کس نے کچھ کہنا تھا.

    حکومتی نمائندہ. یار جو کچھ ہوا حکومتی ایوانوں میں ہوا تمہیں کیا تکلیف ہے تمہارے گھر تو کوئی نہیں آیا. وہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے اور اگر وڈیو پبلک ہوئی تو خود حکومت ہی بدنام ہوئی ہے تمہیں تو کسی نے کچھ نہیں کہا.

    عوام :لیکن یار محلے میں آگ لگی ہو تو ساتھ والے گھر کو بھی جلا سکتی ہے. آج کسی کی ماں بیٹی کا ریپ ہوا اللہ نہ کرے کل میرے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے.

    حکومتی نمائندہ :یار اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے. کسی کا کوئی نقصان ہو جائے تو اس میں حکومت کی کیا غلطی بھلا؟ اگر کسی کے ذاتی کاروبار میں اسے نقصان ہو جائے تو وزیر اعظم کو گالیاں کس لیے بھلا…, ؟

    عوام :تو پھر حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کر کے الیکشن کے وقت ووٹ کیوں مانگتی ہے…. ؟اس وقت کہہ دیا کرے کہ میں عوام کے ساتھ انصاف کی گارنٹی نہیں دیتا کیوں کہ وہ عدلیہ کا کام ہے یا عوام خود اپنی حفاظت کرے. البتہ عوام کے لئے چیزیں سستی کروں گا… کشمیر آزاد کرا دوں گا.

    حکومتی نمائندہ :یار تمہیں پتا تو ہے اس وقت یہ سب نہیں ہو سکتا اتنی جلدی. مافیا اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہے…… خزانہ خالی ہے…. ایف اے ٹی ایف…

  • بحرانوں کی حکومت   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    بحرانوں کی حکومت بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    بحرانوں کی حکومت

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جب سے عمران نیازی پاکستان کے وزیر اعظم بنے ہیں قوم کو ایک کے بعد دوسرے بحران کا سامنا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ نیازی صاحب کی کابینہ اپنے کام یا عوامی مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ مخالفین کے خلاف دن رات ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے سے بیانات دینے کے لیے مراعات حاصل کررہی ہے۔
    حکومت کے وزراء بشمول وزیراعظم صاحب کی کوشش یہی رہی ہے اصل ایشوز سے عوام کی توجہ ہٹاؤ اور جب مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر جائے تو ایک کمیٹی یا کمیشن تشکیل دے کر مٹی پادو۔
    آج تک کسی ایک بحران کے ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی حتی کہ جن پر دن رات کرپشن کے الزامات لگائے جاتے رہے نہ ان کی کرپشن ثابت کی گئی اور نہ ہی انہیں مجاز عدالت سے سزا دلوائی گئی۔
    وزیراعظم صاحب نے اپنے دور اقتدار میں بحران پیدا کرنے والے اور عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف احتساب تو دور کی بات رہی انہیں مکمل طور پر بچائے رکھنے کا مکمل انتظام کیے رکھا۔
    ادویات کا بحران پیدا کیا گیا اور چار ارب روپئے عامر کیانی پر ادویات ساز کمپنیوں سے لینے کا الزام سامنے آیا تو عامر کیانی کو سزا دینے یا کرپشن کا پیسہ واپس لینے کی بجائے وزارت سے ہٹا کر جماعت کا سیکریٹری جنرل بنادیا گیا۔
    جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر آٹا چینی بحران میں ملوث ہونے کی بات مشہور ہوئی تو وزیراعظم صاحب نے کمیشن بنانے کا اعلان کردیا جب وہ اس بحران میں ملوث پائے گئے تو فرانزک رپورٹ کا ڈول ڈال دیا گیا۔ اور حکومت کے حامیوں کی طرف سے داد و تحسین کے خوب ڈونگر برسائے گئے۔ جب فرانزک رپورٹ میں ملوث نکلے تو جہانگیر ترین کو رات کی تاریکی میں باعزت طریقے سے بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ آٹا چینی کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی رہیں۔ کیونکہ جس نے حکومت اور وزیراعظم بنانے میں بےتحاشہ دولت خرچ کی تھی اس سے کئی گنا زیادہ کمانا بھی حق بنتے ہے۔ کیونکہ وزیراعظم صاحب یاروں کے یار ہیں۔ اگر زلفی بخاری کو نوازا جاسکتا ہے تو جہانگیر ترین کا حق زیادہ بنتا ہے کیونکہ وہ اس حکومتی ٹولے کا سب سے بڑا اسپانسر تھا۔
    ندیم بابر پٹرول بحران میں ملوث تھا جو حکومت میں ہوتے ہوئے عوام کو پٹرول نہ دینے اور خوار کرنے میں مکمل کامیاب رہا۔ اور اس کے دباؤ پر پہلی تاریخ سے پہلے کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں نتیجتاً پٹرول کا مصنوعی بحران ختم ہوگیا اور اربوں روپئے پٹرولیم مافیا نے راتوں رات کمالیے۔
    ایک ڈاکٹر ظفر مرزا ہوتے تھے اس نے بھی کورونا وبا کے دنوں میں ماسک اسمگل کرکے اربوں کی دیہاڑی لگائے۔
    اسی طرح سے عورت تانیہ بھی جدید ٹیکنالوجی کی بنائی گئی تھی اس نے بھی اپنا حصہ وصول کیا اور چلتی بنے۔
    ماشاءاللہ ایسے ایمان دار وزیراعظم صاحب ہیں جو ہر مافیا کو لوٹ مار کرنے کا مکمل موقعہ اور حق دیتے ہیں۔ بحران سے پہلے خبردار کردیتے تاکہ عوام اپنا بندوبست کرلیں کیونکہ عوام کے لیے کام کرنے یا مسائل حل کرنے کی ان کی زمہ داری نہیں بلکہ مسائل میں الجھانا اور بتانا ان کی زمہ داری ہے۔
    اب وزیراعظم صاحب قبل از وقت آگاھ فرما رہے ہیں کہ گیس کا بحران آنے والا ہے لہذا اس کے لیے تیار کرلو۔ گھروں میں لکڑیاں اور اوپلے جمع کرلو تاکہ سردی میں ٹھٹھرنے سے بچ جاؤ اور کھانا بھی پکا سکو۔ کیونکہ بحران کا حل ان کی زمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی ان بحرانوں کے حل کے لیے انہوں نے آپ سے ووٹ لیے تھے۔
    جناب وزیراعظم صاحب!!!!
    آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں بحرانوں کے بارے آگاھ کرنا نہیں بلکہ ان کا حل کرنا آپ کی اور آپ کی کابینہ میں موجود فوج ظفر موج افراد کی زمہ داری ہے۔ قبل از وقت بحران سے آگاھ کردینے سے آپ کسی بھی صورت میں بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ لہذا اپنے وزراء کو چند روز کے لیے مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے سے منع کرکے عوامی مسائل کی طرف لگائیے ورنہ نہ اللہ آپ کو معاف کرے گا اور نہ ہی عوام معاف کرے گی۔

  • امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل   تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    تازہ کالم برائے اشاعت

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل
    تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    دو برس قبل امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے عنوان سے ایک امن منصوبہ متعارف کرواتے ہوئے فلسطین کے دارلحکومت یروشلم (القدس) کی طرف امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کا اعلان کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی فلسطینی دارلحکومت کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا اعلان کردیا۔اس اعلان پر اگر چہ دنیا بھر کی اقوام اور حکومتوں نے امریکی صدر کے فیصلوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی واضح اکثریت سے اس فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا۔ امریکہ جو کہ دو سو سالہ ایسی تاریخ کا حامل ہے کہ جس میں صرف اور صرف ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف امریکی جارحیت ہی ملتی ہے۔کبھی فوجی چڑھائی کے ذریعہ تو کبھی ممالک پر مہلک اور خطر ناک جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوتی نظر آتی ہیں۔چیدہ چیدہ ممالک میں پاکستان بھی سرفہرست رہا ہے کہ جہاں امریکی ڈرون حملوں نے متعدد بے گناہوں کو بھی قتل کیاہے۔اس کے علاوہ عراق، افغانستان، شام، لبنا، ویتنام، ہیروشیما، ناگا ساکی سمیت افریقی ممالک کی فہرست موجود ہے کہ جہاں امریکی ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہیں۔
    ظلم و جبر کی دو سوسالہ تاریخ رکھنے والی امریکی حکومت فلسطین کے مسئلہ میں بھی صہیونیوں کی مدد گار رہی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک سے لاکر بسائے جانے والے صہیونیوں کی پشت پناہ رہی ہے۔ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کرنے والی امریکی حکومت ہی تھی۔آج یہی امریکی سامراجی نظام ایک امن منصوبہ بنام ’صدی کی ڈیل‘ کے ذریعہ صہیونی غاصبوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہے۔اس منصوبہ کے تحت امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کو دنیا کی سیاست سے ختم کر دیا جائے۔اور فلسطین میں لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلسطین سے نواز دیا جائے اور بدلہ میں خطے میں امریکی مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے اسرائیل جیسی خونخوار ریاست کا استعمال بروئے کار لایا جائے۔
    در اصل امریکی سامراجی نظام نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ اپنی ماضی کی ان تمام تر کوششوں اور منصوبوں کی ناکامی کے بعد متعارف کروایا ہے کہ جن میں پہلے جنگیں مسلط کی گئیں، بعد میں فلسطین اور گرد ونواح کے پڑوسی ممالک پر قبضہ کیا گیا اور اس میں بھی ناکامی کے بعد داعش جیسے منصوبہ کو متعارف کیا تاہم بعد ازاں یہ داعش نامی منصوبہ بھی خطے میں موجود اسلامی مزاحمت کے بلاک نے نابود کر دیا ہے۔اب فلسطین سمیت خطے پر مکمل تسلط کے خواب کو پورا کرنے کے لئے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ سامنے لایا گیا ہے۔اس منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کے لئے امریکہ نے عرب ممالک کے کردار کو بھی اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور اس عنوان سے محمد بن سلمان اور جیرڈ کشنر دونوں ہی نہایت سرگرم رہے ہیں اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عرب دنیا کے ممالک صدیکی ڈیل کو تسلیم کر لیں۔
    یہاں پر ایک بات جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کا حل کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے اس میں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئیے کہ آیا فلسطین کے عوام اس منصوبہ پر کس قدر اعتماد کرتے ہیں اور آخر فلسطینیوں کی رائے کیا ہے؟ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو فلسطینیوں کی رائے اور ان کی اعتماد سازی کے بغیر کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے گا وہ کار آمد نہیں ہو سکتا ہے۔لہذا امریکی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ یعنی صدی کی ڈیل بھی ردی کی ٹوکری میں رکھنے کے لئے ہے۔کیونکہ فلسطینی عوام نے یک زبان ہو کر صدی کی ڈیل کو فلسطین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش قرار دی ہے اور اس منصوبہ کو ایک سو سال قبل بالفور اعلامیہ جیسے خطرناک منصوبہ سے تشبیہ دی ہے۔بالفور اعلامیہ نے سنہ1917ء میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اب صدی کی ڈیل نامی یہ منصوبہ امریکی اور عرب ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلہ اور فلسطین کو دنیا کی سیاست سے نابود کرنے کے مترادف ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب ممالک جو امریکہ کے اس منصوبہ میں امریکی سامراجی نظام کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے بھی فلسطینیوں کے حقوق کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔امریکہ اور چند عرب ممالک مل کر فلسطین کا سودا کر رہے ہیں اور اس سودے کا خریدار کوئی اور نہیں پہلے سے ہی فلسطین کی سرزمین پر غاصب و قابض اسرائیل ہے۔
    حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب مسلسل اسرائیل اور عرب امارات کے عہدیداران کی ملاقاتوں کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔سوال یہ ہے آج تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے والوں کو کیا حاصل ہو اہے جو اب متحدہ عرب امارات حاصل کرے گا؟دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ جب اسرائیل تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر آ پہنچا ہے کہ جب وہ اپنے وسیع تر اسرائیل کے خواب کو مکمل نہیں کر پا رہا بلکہ اس سے الٹ اپنے ہی گرد دیواروں کا جال بچھا کر خود کو محدود کر رہا ہے تو ایسے حالات میں متحدہ عرب امارات جیسے ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تعلقات قائم کرنا کیا اسرئیل کو سہارا دینے اور خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کو توسیع دینے کے لئے تو نہیں ہے؟ تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے خلیج عرب دنیا کی سیکورٹی کو مزید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نہ صرف خلیج بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے اہم ملک کے لئے مزید خطرات جنم لیں گے۔
    امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے لئے راستے ہموار کرنے کے بارے میں خود غاصب اور جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اگرامریکہ اور عرب ممالک اسرائیل کی اس وقت میں حمایت نہ کرتے تو اسرائیل بہت پیچے چلا جاتا اور فلسطینی تحریک آزاد ی عنقریب اسرائیل کو نابود کر ڈالتی۔یہ بات نیتن یاہو نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اوراور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر کے اسرائیل کے لئے راستہ فراہم کر دیا ہے کہ وہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرے اور عالمی سطح پر سنہ1967ء تک اسرائیل کی واپسی کے مطالبہ کو بھی دفن کر دیاہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات اس وقت اسرائیل کا ساتھ نہ دیتا تو فلسطینیوں کی تحریک اسرائیل کے لئے سنگین خطرہ بنتی اور اسرائیل کا وجود باقی رہنا مشکل تھا۔لہذا عرب امارات نے اسرائیل کو بچا لیا ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف فلسطین کے ساتھ بلکہ تحریک آزادی فلسطین کے ہزاروں شہداء کے خون کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان اقوام کے ساتھ خیانت کی ہے اور خود اپنے ماتھے پر ایک ایسے سیاہ کلنک کو لگایا ہے کہ جو کبھی بھی ان کے چہرے سے دور نہیں ہو گا۔ فلسطین،فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک جعلی ریاست ہے جسے آج نہیں تو کل آخر کار نابود ہونا ہی ہے۔

  • 7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت  ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت
    ازقلم :-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تبارک و تعالی انسانیت کی فلاح کے لیے ان کو آگ سے بچانے کے لیے،ان تک حق بات کو پہنچانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔یہ انبیاء کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سرور دو عالم،رحمت العلمین،شافعی روز محشر،محبوب رب العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہوا۔
    اللہ تبارک و تعالی نے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور اسلام کو اپنا پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا
    رب کریم قرآن میں سورہ عمران میں ارشاد فرماتے ہیں:-

     إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ  
    بے شک اللہ کے نزدیک(معتبر)دین اسلام ہے

    اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب کو آخری نبی بھی بنا کر بھیجا اس کے ساتھ ساتھ اسلام کو پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا۔اور اپنے حبیب خاتم الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان کر دیا۔
    قرآن میں سورہ المائدہ آیت نمبر 3 میں رب کریم ارشاد فرماتے ہیں:-

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [المائدة:3] 

    آج کے دن ہم نے تمھارے لیے(اسلام)دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو مکمل کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

    سورہ المائدہ کی آیت میں دین کے مکمل ہو جانے سے مراد اسلام کو ابدی دین قرار دینا ھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور پر وحی کا نزول نہیں ہو گا۔اس کے بعد اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا اور اس کا اظہار اپنے کلام پاک میں یوں فرمایا:-

    مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(سورہ احزاب 40)

    مسلمانو ! ) محمد ( صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہ۔وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ۔ ( ٣٥ ) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
    • جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت سر اٹھا لگے۔جن میں مسیلمہ کذاب سر فہرست تھا۔ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کی سرپرستی میں ان جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جنگ یمامہ لڑی جس میں مسیلمہ کذاب تو جہنم واصل ہوا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر پہرہ دینے کے لیے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گے۔ان کا شہادتوں سے گزر جانے کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ آقا نامدار کی ختم نبوت پر جو انگلی اٹھے گی وہ کاٹ کے رکھ دے گے۔
    • در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں سلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔
    قادیانیت کا فتنہ انگریز نے مسلمانان برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے ہٹانے کے لیے مسلط کیا تھا۔1891میں جب مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعو ی کیا تو سب سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒ سمیت دو سو علماء کے دستخطوں سے متفقہ طور پر مرزا غلام قادیانی کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی جاری کیا۔مرزاقادیانی سے سب سے پہلا مباہلہ جون 1893میں عید گاہ اہل حدیث امر تسر میں مولانا عبد الحق غزنوی ؒ نے کیا۔ حیات مسیح پر پہلا تحریری مناظرہ مونا بشیر احمد شہسوانی ؒ نے دہلی میں1894 میں کیا جہاں مرزا ملعون فرار اختیار کر گیا اس کے بعد سب سے پہلا کتابچہ مولانا اسماعیل علی گڑھی ؒ نے تحریر کیا سب سے پہلے کتاب کم عمری میں علامہ قاضی سلیمان منصور پوری ؒ نے لکھی جو کہ بعد میں شہرہ آفاق سیرت نگار کے طور پر مشہور ہوئے سب سے پہلے قادیان پہنچ کر مرزا غلام قادیانی اور مرزائیت کی دھجیاں اُڑانے والی عظیم شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ کی تھی جن کو تمام مکاتب فکر فاتح قادیان کے لقب سے یاد کرتے ہیں یہی وہ مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ ہیں جن کے ساتھ مباہلہ کی دعا میں مرزا قادیانی ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوا۔علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ کی ’’القادیانیت ‘‘، ’’مرزائیت اور اسلام‘‘،عربی ،اُردو میں شائع کرکے عظیم کارنامہ سر انجام دیاعلمائے اہلحدیث، دیوبند ، بریلوی مکتب فکر کے مشائخ نے تحریک ختم نبوت میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن کو بیان کیا جائے تو مکمل کتابچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔پاکستان وجود کے بعد 22 فروری 1974ء کو نشتر کالج کے ًطلبہ کا ایک گروپ ’’شمالی علاقہ جات‘‘ کی سیروتفریح کی غرض سے ملتان سے پشاور جانے والی گاڑی چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوا جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) پہنچی تو مرزائیوں نے گاڑی میں مرزا قادیانی کا کفر والحاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس سے طلبہ اور قادیانیوں میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی، 29 مئی 1974ء کو طلبہ چناب ایکسپریس کے ذریعے واپس آرہے تھے کہ گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے طلبہ پر حملہ کردیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ خون میں نہا گئے جب گاڑی فیصل آباد پہنچی اور عوام نے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کو اس زخمی حالت میں دیکھا تو وہ برداشت نہ کرسکے اور قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر شخص ختم نبوت کا وکیل نظر آیا اور پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب امڈ آیا، ختم نبوت کی برکت سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اتفاق رائے سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا صدر محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضویؒ کو منتخب کرلیا گیا، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک چلی اس تحریک میں آپ کے ہمراہ مفتی محمودؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا سید ابو ذر بخاریؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کشمیریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، سید مودودیؒ، مولانا عبدالقادر روہڑیؒ، نوابزادہ نصراللہؒ، مظفر علی شمسیؒ اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی، قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی نمایندگی مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے، مذکورہ حضرات نے شب و روز کی کوششوں سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری تھا، شہداء ختم نبوت کا مقدس خون اور قائدین تحریک تحفظ ختم نبوت کی بے لوث قربانیاں رنگ لے آئیں، قومی اسمبلی نے مرزا ناصر پر 11 دن اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر 7 گھنٹے مسلسل بحث کی، 7 ستمبر 1974ء کو وہ مبارک دن آ پہنچا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر دن 4بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائدایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیا، عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سلسلے میں آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس عظیم کامیابی پر حزب اقتدار وحزب اختلاف خوشی ومسرت سے آپس میں بغل گیر ہوگئے، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کہا کرتے تھے کہ مولیٰ ’’تیری ادا پر قربان جائیں کہ تونے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیصلہ کسی چوک اور چوراہے میں نہیں کرایا بلکہ پارلیمنٹ میں کروایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ دائرہ ا سلام سے خارج ہے۔آخر میں یہ ہی کہوں گا
    کون للکارے گا باطل کو تیرے لہجے میں