Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دارارقم سکول ننکانہ میں حفظ القرآن کی پروقار تقریب کا انعقاد۔

    دارارقم سکول ننکانہ میں حفظ القرآن کی پروقار تقریب کا انعقاد۔

    ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف)
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی سکول دارارقم ننکانہ میں حافظ سعودان کے قرآن مکمل ہونے پر ختم القرآن کے سلسلہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروکار تقریب کے مہمانان ذی وقار محترم جناب ریجینل ڈائریکٹر سلیم احمد شیخ،حافظ ڈاکٹر ساجد اقبال اور پروفیسرمحمد عبدالسلام طیب(سعودان والد)تھے۔
    پروفیسرمحمد عبدالسلام طیب صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے اساتذہ اور مینجمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور اس مبارک دن کے موقع پرجملہ اساتذہ اور مینجمنٹ کو مبارکباد پیش کی۔
    تقریب کا اختتام حافظ ڈاکٹر ساجد اقبال صاحب کی دعاسے ہواجس میں انہوں نے ادارہ ہذا،اساتذہ،والدین اور ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی۔

  • عروہ حسین کی شعیب ملک کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے پر مبارکباد

    عروہ حسین کی شعیب ملک کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے پر مبارکباد

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت اداکارہ عروہ حسین نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شعیب ملک کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ و ماڈل عروہ حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شعیب ملک کے ہمراہ اپنی ایک یادگار تصویر شیئر کی -تصویر شئیرکرتے ہوئے اداکارہ نے شعیب ملک کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔


    عروہ حسین نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ٹی ٹوئنٹی میں 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی کرکٹر اور دنیا کے تیسرے کھلاڑی بننے پر مجھ سمیت پورے پاکستان کو آپ پر بہت فخر ہے۔

    اداکارہ کے ٹوئٹ پر صارفین کی جانب سے قومی کرکٹر کو عالمی اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی جا رہی ہے۔


    https://twitter.com/SabihaNaz19/status/1315703061382340614?s=20
    واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شعیب ملک نے ٹی ٹوئنٹی میں 10ہزار رنز مکمل کرلیے ہیں 20 اوورز کی کرکٹ میں شعیب ملک 10ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی اور دنیا کے تیسرے بیٹسمین بن چکے ہیں۔

  • تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے
    ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں قائد اعظم کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا
    دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے
    جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟
    حالانکہ تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا
    بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے
    23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا
    سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے کچہری میں ملزم کو اس لئے قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی
    #قصوریات

  • دفاع ناموس صحابہ پر قربان   بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    دفاع ناموس صحابہ پر قربان بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    دفاع ناموس صحابہ پر قربان

    بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    اسلام کی شان و شوکت اور عظمت سے خائف ہوکر یہودیوں نے اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت روکنے کے لئے ابن سبا یہودی کو مسلمانوں میں داخل کیا جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر حب اہل بیت کا نعرہ لگایا اور اس کے بعد اہل ایمان کو جن حالات سے گزرنا پڑا وہ تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی، سیدنا علی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کی شہادت کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس قتل و غارت گری اور فساد فی الارض کے پیچھے فارسی و النسل شیاطین نہیں نظر آئیں گے۔

    امیرالمومنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر فاروق کی شہادت مدینہ منورہ میں ہوتی ہے اور قاتل ابولولو فیروز مجوسی سے کی لاش ایران میں لا کر دفن کر دی جاتی ہے اور آج بھی اس پر ایک عظیم الشان عمارت ایستادہ ہے جو اس قتل کے محرکین کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس مجوسی اور فارسی نسل نے ہمیشہ سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام اور اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھا جو کہ معیار ایمان اور معیار حق ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالی نے کلمہ تقوی کو لازم قرار دیا تھا اور ان کی جانی و مالی قربانیاں دیکھ کر، ان کے جذبہ ایثار اور اسلام کے لیے مرمٹنے کے عزم کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے جنت کے سرٹیفیکیٹ عطا فرما دیے تھے۔

    ان مجوسیوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح سے سے اصحاب رسول کی ذات اور شخصیات کو نشانہ بنا کر درمیان سے نکال دیا جائے تاکہ اسلام کے روشن اور چمکدار چہرے کو کو نہ صرف داغ دار کیا جاسکے بلکہ اسلام کی عمارت ہی گرا دی جائے لیکن اہل ایمان نے ہمیشہ سے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کی بد زبانی اور گستاخیِ کا جواب متانت و سنجیدگی سے باوقار انداز میں علمی طور پر دیا اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کا دفاع کیا اور تا قیامت کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

    روافض کا گروہ سمجھتا ہے کہ ہر اس شخص کو راستے سے ہٹا دیا جائے جو دنیا کے افضل ترین لوگوں یعنی صحابہ کرام کی عظمت کا پھریرا لہراتا ہے اور تحریری و تقریری یا کسی بھی طرح سے صحابہ کے دفاع کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

    ہم ماضی قریب میں جا کر دیکھتے ہیں تو مولانا حکیم فیض عالم صدیقی، شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اور ان کے رفقاء، مولانا حق نواز ، مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا اعظم طارق شہید رحمہم اللہ علیہم اجمعین کو چن چن کر شہید کیا گیا اور دفاع ناموس صحابہ کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گذشتہ روز مولانا ڈاکٹر عادل خان کو شاہ فیصل کالونی کراچی میں ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر کے شہید کر دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں حکومتی سرپرستی میں افضل الناس بعد الانبیاء سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے بدزبانی کرنے والے ذاکر آصف رضا علوی اور دس محرم کو کراچی کی مشہور شاہراہ بند روڈ پر کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ اور خسر رسول سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بارے بدزبانی اور گستاخی کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کے لیے علمائے کرام، مشائخ عظام اور دینی تنظیمات کے ذمہ داران کو بہت متحرک کیا اور اس کے لیے تحریک کھڑی کی۔

    کراچی میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث نے عظمت صحابہ کرام ریلیاں نکالیں پھر اس تحریک نے ملک کے دیگر بڑے شہروں اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد ودیگر شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے اور ریلیاں نکالیں۔ 13 اکتوبر 2020 کو قائد علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی قیادت میں گوجرانوالہ میں عظیم الشان عظمت صحابہ کرام ریلی نکالی جارہی ہے۔

    حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ملکی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور ان کے لیے مناسب سکیورٹی کا انتظام کرے لیکن یہ حکومت فرقہ واریت کو ہوا دے کر اور ملک میں فرقہ وارانہ قتل اور غارت گری کروا کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔حکومتی وزرا سیکیورٹی یا دیگر مسائل پر توجہ دینے کے بجائے پہلے سے ہی قتل و غارت کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں اور اپنی نااہلی اور نالائقی پر تصدیق کی مہر ثبت کر رہے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری بغیر کسی تحقیق یا تفتیش کیے پڑوسی ملک پر ڈال دیتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران نیازی نے اس قتل کی ذمہ داری بھارت پر ڈال دی ہے۔ حالانکہ اس بارے نہ کوئی تحقیق اور تفتیش ہوئی اور نہ ہی قاتل پکڑے گئے۔

    بلکہ اس کیس سے جان چھڑانے کے لئے اپنے پیش رو حکمرانوں کا وطیرہ اپناتے ہوئے بھارت پر قتل کی ذمہ داری ڈال دی دنیا جانتی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے ہمیشہ سے ایران کا ہاتھ رہا ہے۔ وہ اپنے غلط نظریات کو پھیلانے کے لئے فرقہ وارانہ لٹریچر بھیجنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کو تربیت دیکر پاکستان بھیجتا رہا ہے اور ان کی مالی مدد بھی کرتا ہے۔ ایران کی پاکستان دشمنی کی مثال بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو بھی پاکستان میں موجود ہے جو کہ ایران کے ویزے پر پاکستان آکر دہشت گردی کرواتا رہا اور اس کو ایران کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔

    ہمارا صوبائی و وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں سے مطالبہ ہے ہے کہ پاکستان کی واضح سنی اکثریت کے مطالبات پر فوری توجہ دی جائے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

    ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور غیرجانبدارانہ تحقیق کر کے ان کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ ملک میں فرقہ واریت کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکا جاسکے۔ کیونکہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کو دوسرا ملک شام بنا دیا جائے۔ لیکن ملک کے پرامن مسلمان شہری ہر صورت میں ملک میں امن و امان اور سکون چاہتے ہیں تاکہ پاکستان جنت نظیر رہے۔

  • پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے    بقلم:جویریہ بتول

    پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے بقلم:جویریہ بتول

    پردہ…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مسلمہ عورت کا یہ وقار ہے…
    پردہ تو اسلام کا شعار ہے…
    نکلی جاہلیت کی رسموں سے…
    اُس بنتِ حوّا کا یہ معیار ہے…
    کئی لوگوں کی تھی ملکیت…
    یہ زندگی بھی تھی اک اذیت…
    اُس درد بھری فضا سے نکل کر…
    ملا یہ پردے کا حصار ہے…
    یہ تنگ نظری سے تحفظ ہے…
    یہ ہوس پرستی پر ضرب ہے…
    ہر ایک میلی نظر سے سدا…
    بچتے رہنے کا دل سے اقرار ہے…
    کردار کی ہے یہ پاکیزگی …
    شر سے حفاظت ہے یہ پیشگی …
    حیا کی ترویج کا ہے سامان…
    اخلاقیات کا یہ معمار ہے…
    نہیں یہاں کوئی بے وقعتی…
    نہ ہر اک سے ہے بے تکلفی…
    نہ جھوٹے عہد و بیانِ حلفی…
    سیدھی راہ ہی یہاں گُلزار ہے…
    سدا کرے عطا یہ شان بُلند…
    ہر برائی کے آگے ہے اک بند…
    حدود و قیود ہیں یاں ارجمند…
    یاں ہر گھٹیا سوچ مسمار ہے…!!!
    جو دل سے اس کا کرے احترام…
    فرض سمجھ کر اس کا اہتمام…
    ہو اسی پہ زندگی اور اختتام…
    وہ عظمت کاچمکتا اک مینار ہے…!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • اک ذرا سے جھٹکے سے  بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اک ذرا سے جھٹکے سے…
    جب دھرتی کاسینہ شق ہوا…
    کئی چاند چہرے چُھپ گئے…
    اور زندگی کا رنگ فق ہوا…
    سب موج میلوں میں گُم تھے…
    کہیں خوشیاں،کہیں غم تھے…
    دلوں میں لیئے کئی ارمان…
    آنکھوں میں کُچھ خواب نم تھے…
    کہ قدرت کے اک اشارے سے…
    کیا خوفناک تھا وہ اُفق ہوا…؟
    سورج کی اُن کرنوں میں …
    گردش کرتی خبروں میں …
    موت کا ہی رنگ نِکھرا…
    ہر سو اک غم بِکھرا…
    اس دنیا کی بے ثباتی کا…
    اور دولت آتی جاتی کا…
    سب پختہ گھر،عمارتوں کا…
    منصب اور وزارتوں کا…
    زعم زمیں بوس ہوا…
    یہ اک جھٹکے کا حال تھا…
    جب بگڑا حسن و جمال تھا…
    وہ بھاری چیز پھر کیا ہوگی؟
    ہیں جس سے غفلت میں سبھی…
    جب پردہ اُٹھے گا رازوں سے…
    نکلیں گے سب حجابوں سے…
    سب گزریں گے حسابوں سے…
    اُس سختی کا عالم کیا ہو گا…؟
    ہر غاصب،ظالم کھڑا ہو گا…!!!
    اُس وقت کو ہر دَم یاد رکھو…
    آخرت کا توشہ آباد رکھو…
    موت کے لیئے ہم تیار رہیں…
    کسی موڑ بھی نہ غدار رہیں…!!!!!
    (8 اکتوبر 2005)۔

  • ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض  تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض
    انجینئر محمد ابرار

    آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا.اسکے گال تھپڑوں سے سرُخ ہو چکے تھے. شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی.امی میں کھیلنا چاہتا ہوں. شاید یہ ایک جملہ قتلِ ناحق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا. چناچہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا.
    عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی اسکے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی. عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی. دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوبصوت بچہ ہے. بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اسکی مرحم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رُکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے تمام آزمائے گئے مگر یے خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. غریب مرتے کیا نہ کرتے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ختنے ٹھیک نہیں ہوئے. سارا خاندان اس کمپوڈر کو کوسنے اور لعنت طعن کرنے لگ گیا. خون کی ایک بوتل لگنے کے بعد خون تھم گیا اور گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا. تین ماہ گزرنے کے بعد عمار چارپائی سے گزا اور ماتھے پر چوٹ لگ گئ پھر مرہم پٹی کروائی مگر خون ایک بار پھر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
    اسی اثناء میں محلے کی چاچی بلقیس بیگم نے کہا کہ "میں تو کہتی ہوں اسے سول ہسپتال لے کر جاؤ وہاں سیانے ڈاکٹر ہوتے ہیں شاید اس کا کوئی علاج نکل آئے”.
    عمار کو صبح صادق کے وقت سول ہسپتال لے جایا گیا. خدا خدا کر کہ بڑے ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی اور انہوں نے عمار کا چیک اپ گیا.ڈاکٹر صاحب نے پی ٹی، اے پی ٹی ٹی اور سی بی سی ٹیسٹ لکھ کر دیے. جب لیب سے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ ڈاکٹر صاحب کو دکھائی گئی تو معلوم ہوا کہ عمار کو ہیموفیلیا جیسا مہلق مرض لاحق ہے اور اس کے جسم بھی قدرتی طور پر فیکٹر 9 کی کمی یے.ڈاکٹر صاحب نے عمار کے والدین کو بتایا کہ ہیموفیلیا ایک وراثتی بیماری یے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا افراد کے جسم میں خون جمانے والے اجزاء کی کمی ہوتی ہے جنہیں فیکٹرز کہتے ہیں. اسی کمی کی وجہ سے ختنے کروانے کے بعد اور حالیہ چوٹ لگنے کے بعد عماد کا خون بند نہیں ہوا تھا.
    عمار کے والد محمد ارسلان کو سعودی عرب سے ورکنگ ویزا مل گیا اور وہ سعودی عرب چلا گیا بعدازاں ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اکامہ نہ لگوانے کی باداش میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہے. عمار کی ماں چِٹی ان پڑھ ہے اور عمار کو فقط چوٹ لگنے کے ڈر سے دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے.والد کا جیل میں ہونا ماں کے سٹریس کا باعث ہے مگر جب بھی عمار کھیل کود کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے آگے سے خوب لتریشن اور تھپروں کا سامنا کرنا پڑتا یے جس کی وجہ سے عمار میں ایک وحشی پن موجود ہے. اسکی زبان گُنگ ہو گی ہے اور وہ بولنے کی بجائے بات کا جواب مُکے اور تھپڑ سے دیتا یے.
    عمار اور اس سے اور بچے جو ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں.والدین کی کونسلنگ اشد ضروری ہے تا کہ وہ ان پچوں کو چوٹ لگنے سے بچانے کی خاطر تشدد کا نشانہ نہ بنائیں انہیں انڈور گیمز کا بتائیں.سکولوں پرنسپلز ان بچوں کا داخلہ کرنے سے گھبراتے دکھائی دیتے ہیں.استاذہ کو اس بابت آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سپیشل بچے کے طور پر ٹریٹ کیا جائے اور ان سے مار پیٹ جیسے رویے سے اجتناب کیا جائے.یہ بچے صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہماری ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوں گے.

  • بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
    اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
    اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
    واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
    کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
    والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
    حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
    اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
    کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
    اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
    جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
    بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
    لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
    یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • معروف صحافی رہنما جناب احفاظ الرحمن مرحوم کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد  بقلم:اجمل ملک

    معروف صحافی رہنما جناب احفاظ الرحمن مرحوم کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد بقلم:اجمل ملک

    29 ستمبر کو معروف صحافی رھنما جناب احفاظ الرحمن مرحوم کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔ احفاظ ایک اصول پرست اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے والے صحافی تھے وہ اپنے ابتدائی دور سے ھی صحافی تنظیموں کی یونینوں سے وابستہ رھے-

    انہوں نے معروف صحافی رھنما جناب منہاج برنا صاحب کیساتھ بھی کام کیا وہ PFUJ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کے صدر بھی رھے لیکن وہ آخری دنوں میں ملک کی صحافتی تنظیموں سے سخت نالاں تھے انکی یاد میں منعقد ھونے والی تقریب سے مختلف شخصیات نے خطاب کیا اور اس خطاب میں موجودہ دور میں صحافیوں کی زبوں حالی اور صحافتی تنظیموں کے اختلافات زیر موضوع رھے –

    PFUJ کے موجودہ سیکریٹری جنرل ناصر زیدی صاحب نے حسب روایت اچھی گفتگو کی اور صحافتی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے مخلصانہ مشورے دیئے PFUJ کے ایک دھڑے کے صدر جی ۔ ایم ۔ جمالی صاحب نے بھی بہت اچھی باتیں کیں اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ PFUJ کے اتحاد کیلیئے میں اپنے عہدیداروں کا استعیفی ایک گھنٹے کے نوٹس پر پیش کرنے کیلیئے تیار ھوں میں نے یہ پیشکش پہلے بھی کی تھی اور مظہر عباس صاحب کو بھی کہا تھا لیکن میں انتظار کرتا رھا کسی نے کوئی جواب نہیں دیا –

    جی ایم جمالی صاحب کے دھڑے پر یہ الزام ھے کہ انہوں نے صحافیوں کو حکومت کیطرف سے ملنے والی 5 کروڑ روپئے کی گرانٹ اپنے ذاتی اکائونٹ میں جمع کروادی ھے ان پر یہ الزام درست ھے یا غلط ھے یہ تو واقفان حال ھی جانتے ھونگے لیکن PFUJ کے اتحاد کیلئے انہوں نے تقریب میں جو بات کی وہ بہت واضع اور اچھی تھی آئی اے رحمان صاحب نے بھی اپنے خطاب میں صحافتی تنظیموں کی یونٹی پر زور دیا اور کہا کہ سچی بات یہ ھے کہ آج معاشرے میں صحافیوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا لہذا انہیں معاشرے میں اپنا امیج بہتر بنانا ھوگا –

    پروگرام کی سب سے دھواں دار اور خوبصورت تقریر جناب خورشید تنویر صاحب نے کی انہوں نے انتہائی درد مندانہ انداز میں سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ صحافتی تنظیموں کی جان چھوڑ دیں اور ان میں دخل اندازی نہ کریں اور آج اگر ھم جائزہ لیں تو صحافتی تنظیموں کی تباھی کی زمہ دار یہی سیاسی جماعتیں ھیں جنہوں نے اپنے مقاصد کیلیئے صحافتی تنظیموں کو تقسیم کیا اس تقریب کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی تھا کہ ملک کے نامور صحافی احفاظ الرحمن کی یاد میں منعقدہ تقریب کے مکمل انتظامات کسی صحافتی تنظیم نے نہیں بلکہ ایک غیر صحافتی این جی او PILOP نے انجام دیئے اور اسکی نظامت کے فرائض بھی اس NGO کے ڈائریکٹر جناب کرامت صاحب نے سنبھال رکھے تھے وہ ھی کمپیئرنگ کر رھے تھے اور صحافیوں کی اس تقریب میں جسے انہوں نے چاھا اسی نے خطاب کیا-

    آرٹس کونسل کا آڈیٹوریم مہمانوں سے بھرا ھوا تھا لیکن جب کرامت صاحب نے اس تعزیتی پروگرام میں شیما کرمانی کو ڈانس کرنے کیلیئے بلایا تو تقریبا آدھے لوگ اٹھ کر چلے گئے اور جو صحافی حضرات تشریف فرما تھے وہ حیران تھے کہ یہ کیا ھو رھا ھے اس ڈانس پر بیچارے احفاظ الرحن جیسے اصول پرست شخص کی روح نے نجانے کس کس پر لعنت بھیجی ھوگی مسلئہ یہ ھے کہ اگر صحافتی تنظیموں کے معاملات میں سیاسی جماعتوں اور طاقتور NGOs کا کردار اسقدر بڑھ جائے گا تو پھر انکی زبوں حالی پر حیرت کیسی کرامت صاحب کی این جی او PILOR اور اس تقریب کے دوسرے آرگنائزر جناب ناصر محمود صاحب کی این جی او NTFU نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان میں مزدوروں کو قانونی تحفظ دینے اور انکی فلاح و بہبود کے دعویدار ھیں اور اس حوالے سے انہیں بیرون ملک سے کروڑوں روپے ملتے ھیں-

    انکی تنظیم پر یہ الزام بھی ھے کہ انہوں نے بلدیہ ٹائون حادثے میں جاں بحق ھونے والے 250 سے زائد غریب مزدوروں کے نام پر جرمنی سے فی کس لاکھوں روپئے وصول کیئے ھیں لیکن رقم ان غریب لوگوں کو نہیں دی ھے یہ الزام غلط ھے یا صحیح یہ تو وقت بتائے گا لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے کہ غریب مزدوروں کے نام پر بیرون ملک سے رقم لینے والی ان دونوں NGOs نے ملک کے غریب مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ھے-

    آج بیچارہ مزدور فاقہ کشی پر مجبور ھے ھماری ان تنظیموں سے مودبانہ درخواست ھے کہ وہ صحافیوں کی جان چھوڑیں اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کی اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اپنے صحافی بھائیوں سے درخواست ھے کہ اپنے اندر یونٹی اور اخلاص پیدا کریں صحافت اس ملک کا چوتھا ستون ھے اور اس میں اتنی طاقت ھے کہ جس دن اس ملک کے مخلص صحافی اکٹھے ھو گئے دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے کھڑی نہیں ھو سکے گی یہی احفاظ کا مشن تھا اور انشااللہ ھم اس مشن کو پورا کرینگے-

    اجمل ملک
    ایڈیٹر نوشتئہ دیوار

  • نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں  فواد چودھری

    نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں فواد چودھری

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کاقوم سےتقریرمذاق ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف جس طرح انقلاب لارہےہیں ہم نےکبھی نہیں دیکھا نوازشریف کاقوم سےتقریرمذاق ہے-

    فوادچودھری نے کہا کہ نوازشریف اپنےکاروبارکی بات کررہےہیں کہ وہ ان کےدورمیں بہت اچھاتھا نوازشریف پاکستانی معیشت کابیڑاغرق کرکےگئے-

    فوادچودھری نے مزید کہا کہ نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں نوازشریف کی تقریروں کوبراہ راست دکھانامیڈیاکی آزادی کاثبوت ہے

    فوادچودھری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کبھی سرکاری عہدےپرنہیں رہےلیکن اس کےباوجود انہوں نے منی ٹریل پیش کیا-