Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال   از قلم :بشا رحمان

    پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال از قلم :بشا رحمان

    از قلم بشا رحمان
    پرائیویٹ سکولز اور اساتذہ کا استحصال
    میں آواز بننا چاہتی ہوں ان اساتذہ کرام کی جو پرائیویٹ سکولز کے رحم و کرم پہ ہیں اور آدھا دن وہاں مغز ماری کے بعد بھی ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور استاد کم اور غلام زیادہ سمجھا جاتا ہے جس کے گھر کی آپ دو وقت کی روٹی پوری کرتے ہیں ۔
    اس موضوع پہ سب سے زیادہ شکایات ہونے کے باوجود سب بےبس نظر آتے ہیں سواے تسلی کے کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہے یا تو برداشت کرو یا چھوڑ دو۔
    جب ہم ‘استاد’ کہتے ہیں تو ایک بہت ہی مقدّس ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے جو ہمیں علم جیسی دولت سے مالا مال کر کے ہمارے ذہنوں کو روشن کر کے ہمارے کردار کو چمکا کر ہمارا مستقبل سنوارتے ہیں ۔
    لیکن افسوس! ہمارے معاشرے میں استاد کا مقام دن بدن گرتا جارہا ہے ۔
    سرکاری سکول تو سرکاری پرائیویٹ سکولز میں انٹرویو سے لے کی جاب چھوڑ دینے تک بس اساتذہ کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان گنہگار آنکھوں نے جتنی بے قدری استاد کی پرائیویٹ سکولز میں دیکھی ہے اور کہیں نہیں دیکھی ہے۔
    2 چیزوں کے بارے میں میں نے پرائیویٹ سکولز میں شدّت دیکھی ہے
    نقاب کرنے اور آپ کے انگلش نا بول سکنے پہ۔
    آپ کے نقاب کی پرائیویٹ سکولز میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ہوں لگتا ہے آپ کسی مغربی سکول میں جاب کرنے آئے ہیں ۔

    صاف صاف بتایا جاتا ہے کے آپ نقاب نہیں کر سکتی اور بہانہ کیا جاتا ہے کے اگر آپ نقاب کریں گی تو بچوں کو سمجھ کیا آئے گا بالفرض اگر آپ نقاب نا کرنے پہ سمجھوتہ کر بھی لیں تو بات یہاں رکتی نہیں ہے بلکہ مزید پھر آپ کے عبایا کو ٹینٹ کہا جاتا ہے آپ کو پینڈو اور نجانے کیا کیا کہا جاتا ہے۔ انٹرویو میں اس بات پہ زور دیا جاتا ہے کہ دیکھیں مس آپ نے جو بولنا ہے انگلش میں بولیں گی۔
    اور اس بارے میں بہت زیادہ شدّت پائی جاتی ہے جو ایسے ملک میں جس کی قومی زبان اردو ہے بہت حیرت کی بات ہے۔
    نقاب مسلمان عورتوں کی پہچان ہے اور اردو پاکستانی ہونے کی، مگر پرائیویٹ سکولز میں پردے اور اردو زبان کا بس استحصال کیا جاتا ہے۔
    میرا گورنمنٹ سے سوال ہے ریاست مدینہ میں پردے اور قومی زبان کے استحصال کی اجازت کیوں ؟
    ہمیں اسلامی شعار پہ عمل کرنے میں دشواری کیوں؟
    اس اسلامی ملک میں نوکری کرنے کے لیے پردہ اتروانے کی سازش کیوں؟
    کیوں ہماری نسل نو کے سامنے ہمیں انگریزی کردار دکھانا پڑتا ہے ؟
    کیونکہ یہ سازش ہے چونکہ استاد ہی بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے اس لیے استاد کو ہی بچوں کی نظروں میں گرایا جاتا ہے ۔یا پھر اسے ایک ایسا نمونہ بنایا جاتا ہے کہ بچوں کی ذہن سازی اسلامی نہج پہ نہ ہو بلکہ ماڈرنیٹی کے نام پہ مغربی ہو ۔
    آخر کیوں؟
    کب تک ؟
    حکومت پاکستان کو ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا ۔اور اس کلمے کے نام پہ بننے والے ملک میں جس کی قومی زبان اردو ہے ان دونوں پہ پابندی ختم کروانا ہوگی ۔
    بات صرف انٹرویو پہ رکتی نہیں ہے چند ہزار کے عوض آپ کو خریدا جاتا ہے پرائیویٹ سکولز میں بس ایک ہستی کی عزت ہے اور وہ ہیں طالب علم۔ بچوں کو سبق نہیں یاد تو آپ انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، کیوں کے انکی فیسوں سے آپ کو تنخواہ ملتی ہے نا۔
    پرائیویٹ سکولز میں آپ کی نوکری کے رہنے یا نا رہنے کا انحصار طالب علموں پہ ہوتا ہے اگر آپ انہیں پسند ہو تو وہاں رہ سکتی ورنہ عذاب مسلسل سے گزرنا پڑتا ہے بچوں کی شکایتیں ان کے والدین کی شکایتیں ہر طرف سے بس شکایتیں۔
    اور پھر بات زبان اور نقاب ختم کرانے پہ ہی نہیں رکتی بلکہ
    اگر آپ نے پرائیویٹ سکول میں پڑھانا ہے تو آپ کو ٹیچر کم اور ماڈل زیادہ لگنا چاہیئے ۔
    "دیکھیں مس بچوں کو آپ میں کشش نظر آیے گی تب ہی پڑھیں گے نا” یہی وجہ ہے کے بچوں کو ٹیچر میں روحانی ماں باپ تو کیا نظر آنے آنکھوں کو تراوٹ بخشنے کا سامان زیادہ نظر آتا ہے۔
    میرا تجربہ ہے جتنا مجبوریوں سے فائدہ پرائیویٹ والوں کو اٹھاتے دیکھا ہے ایسا اور کہیں نہیں دیکھا ہے۔
    اتنے سب کے بعد اگر آپ ایک ہستی سے نہیں بنا کے رکھ سکے جو نا تو پرنسپل ہوتی نا ہی وائس پرنسپل بلکہ وہ ہستی ہوتی ہے جو آپ کی ہر رپورٹ کو غلط بنا کے آگے دیتی ہے تب بھی آپ وہاں نہیں رہ سکتے ہیں
    مجھے آج تک سمجھ نہیں آیی کے انکو کہا کیا جاتا ہے آپ ہی فیصلہ فرما دیجیے؟
    اس سب کے بعد اگر آپ نے عزت سے نوکری چھوڑ دی ہے آپ کو نکالا نہیں جاتا ہے تو آپ خود کو خوش نصیب سمجھیں اگر نوکری کرنا مجبوری نہیں تو آپ آرام سے گھر بیٹھیں اور اگر مجبور ہیں تو خود کو نئے سرے سے اس سب کیلئے تیار کریں کم یا زیادہ یہی سب پیش آنے والا ہے

  • حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ اور پکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر نے حیدر علی کی پرفارمنس پر انہیں پاکستان کا رون ستارہ قرارد دیا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے حیدر علی نے اس قدر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا دنیا بھر میں جہاں عوام کی جانب سے نوجوان کھلاڑی کی تعریفیں کی جارہی ہیں وہیں پاکستان کی شوبز حیدر علی کی کارگردگی پر خوشی کا اظہار کیا ہے جن میں گلوکار عاصم اظہر اور اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ نے بھی نوجوان کھلاڑی کو سراہتے ہوئےاپنے پیغامات جاری کئے ہیں-

    پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پُر امید ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے اور انہیں اپنے اسٹائل میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔

    فہد مصطفیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے تاکہ وہ اپنے اسٹائل میں کھیلتے رہیں۔


    انہوں نے حیدر علی کو نصف سینچری کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔


    علاوہ ازیں فہد مصطفیٰ نے محمد حفیظ کے ٹویٹ کو جس میں انہوں نے آج کے میچ میں شاندر کارکردگی اور میچ جیتنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی میچ میں بہترین اننگز پر مبارکباد دی-


    دوسری جانب گلوکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں حیدر علی کو کرکٹ ٹیم میں شاندار ڈیبیو پر سراہتے ہوئے ان کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا ایک روشن ستارہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ حیدر علی کی پہلے ہی میچ میں شاندار اور جارحانہ بیٹنگ نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروادی ہے اور دنیا بھر میں میچ کے شائقین سے داد وصول کر رہے ہیں- حیدر علی نے اپنے پہلے ہی میچ میں 28 گیندوں پر ففٹی مکمل کر کے ڈیبیو پر یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں-

    تیسرا ٹی20: پاکستان کا انگلینڈ کو فتح کیلئے 191 رنزکا ہدف ،شکست یا فتح ،دونوں ٹیموں کے لیے اہم

    تیسرا ٹی ٹوئنٹی:انگلینڈ کی ٹاس جیت کر فیلڈنگ، پاکستانی ٹیم میں تین تبدیلیاں

    محمد حفیظ اور شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں ترقی

    ایمرا کا سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020،تین ہزارسے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع

  • گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    یہ تینوں خوبصورت اور مضبوط گُنبد مسجد کے ہیں، یہ مسجد اُتّرپردیش کے ضلع سِدّھارتھ نگر، تھانہ ڈومریا گنج کے ایک گاؤں "کَمہَرِیا” میں ہے، آج میں حافظ یحیٰ صاحب سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر گیا، اُن سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور بڑی محبّت سے پیش آۓ، حافظ یحییٰ صاحب کے گھر سے مُتّصِل ہی یہ مسجد ہے، مسجد کو دیکھنے کے بعد لگا کہ یہ تو مُغَل فَنِّ تعمیر کی مسجد ہے، مسجد کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اِس کی تعمیر کا پتہ نہیں، یعنی یہ بہت ہی قدیم مسجد ہے، اِس طرح کی مسجدیں ہندوستان میں کئی جگہوں پر موجود ہیں، اِس طرح کی مسجدیں ٹھنڈ ہوتی ہیں، مسجد میں قدرتی ہوا کے لئے بہترین انتظام ہوتا ہے، چَھت کا پانی نیچے گِرنے کے لئے بھی تکنیکی اِنتظام ہوتا ہے، دیواریں کافی موٹی ہوتی ہیں، بابری مسجد کے طرز پر اِس مسجد کے بھی گُنبد ہیں، خاص بات یہ ہے کہ سالوں گزرنے کے بعد بھی دیواروں میں دراڑیں نہیں آئی ہیں اور نہ ہی کہیں سوراخ ہوا ہے کہ جس سے مسجد کے اندر پانی آۓ، مُغَل بادشاہوں نے پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعمیر کروائی، جن میں سے اِس طرح کی مسجدیں بھی شامل ہیں جو کئی گاؤں میں پائی جاتی ہیں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • کراچی کا ڈُوبنا  تحریر:عدنان عادل

    کراچی کا ڈُوبنا تحریر:عدنان عادل

    کراچی ملک کا ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے۔گزشتہ ہفتہ چند دنوں کی تیز بارش سے شہرمیںجوبربادی ہوئی ٹیلی ویژن چینل صبح شام دکھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی حالت ِزار کی ویڈیوز نشر کرتے رہے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا تقریباً نصف مہیا کرتا ہے اور سندھ حکومت کے محصولات کا نوّے فیصدلیکن بارش کی صورت میں نکاسئی آب کے انتظام سے محروم ہے۔ کراچی کے محنت کش عوام کماتے ہیں جس پر جاگیردار‘ وڈیر ے عیش کررہے ہیں لیکن شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ صاف پانی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے‘ نہ نکاسئی آب‘ نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست ہے ‘ نہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام۔ آدھا شہر کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔ یہ کہنا کہ کراچی سمندر کے کنارے آباد ساحلی شہرہے آدھا سچ ہے۔ اب یہ شہرشمال اور مغرب کی جانب اتنا پھیل گیا ہے کہ اسکا بہت سا حصّہ سمندر کے کنارے واقع نہیں ہے بلکہ دُور واقع کیر تھرپہاڑیوں کے کنارے کو چُھو رہا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قدرت نے ہزاروں برس میں پانی کے نکاسی کے راستے بنائے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو پہاڑیوںسے پانی ان راستوں سے بہہ کر نیچے آتا ہے یعنی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقہ میں جو کراچی کا مغربی علاقہ ہے۔ یہ برساتی نالے ملکر ہی شہر کی دو ندیاں بناتے ہیں جنہیں لیاری اور ملیر ندی کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں پانی لیکر سمندر میں گرتی ہیں۔ ان قدرتی نالوں کے راستوں میں رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں جنکے ساتھ نکاسئی آب کی غرض سے ڈرین نہیں بنائے گئے۔ ان قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں سے ریت نکالی جاتی ہے جس سے تعمیرات کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ مزید تیز ہوگیا ہے جو شہر کا رُخ کرلیتا ہے۔ ماہر تعمیرات اور اربن پلانرعارف حسن صاحب کے مطابق شہر میںچونسٹھ پینسٹھ بڑے نالے ہیں اور ہزاروں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں۔لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہوئے ان نالوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ ان پر تعمیرات کرلی گئیں۔ پانی کے بہہ جانے کے قدرتی راستے مسدود کردیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے نالے غائب ہوگئے۔اس پر مستزاد سڑکوں کے ساتھ بنائی جانے والی ڈرین ندیوں میں نہیں گرتیں جس کی وجہ سے بالآخر انکا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔جب زیادہ مینہ برستا ہے تو شہر کی سڑکیں برساتی نالوںمیں تبدیل ہوجاتی ہیں جسکا مظاہرہ ہم نے چند دنوں پہلے دیکھا ۔ 1960کی دہائی تک کراچی کاسرکاری ترقیاتی ادارہ (کے ڈی اے) اپنی اسکیموں میں گھروں کا گندہ پانی (سیویج) اور برساتی پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ نظام بناتا تھا۔ تاہم نجی ہاوسنگ اسکیموں نے اپنے سیویج بڑے برساتی نالوں میں ڈالنے شروع کردیے۔ بعد میں کے ڈی اے نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا۔ اب شہر کا بیشتر سیوریج برساتی نالوں میں جاتا ہے۔ سیوریج کا فضلہ برساتی نالوں میں جمتا ہے لیکن ان کی باقاعدگی سے صفائی نہیں کی جاتی کہ پانی کا بہاؤ ہوتا رہے۔ کچھ عرصہ پہلے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی میں نکاسئی آب کے لیے اچھی خاصی فنڈنگ کی تھی لیکن وہ بھی ناقص فالو اَپ کی نذر ہوگئی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جو کراچی شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتی ہے اپنے رہائشیوں کونکاسئی آب کی مناسب سہولت تک مہیا نہیں کرسکتی۔ حقیقت یہ ہے کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی ایک بڑے برساتی نالہ کے راستے میں بنائی گئی ہے جو پانی کے سمندرمیں نکاس کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ایک بڑے قدرتی نالہ کا بہاؤ روکتی ہے۔ مائی کلاچی بائی پاس ایک بڑے نالے کے راستے میں تعمیر کیاگیا ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ نالوں میںکی گئی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی۔ کراچی کے بڑے نالوں کے بیچوں بیچ مکان اور دکانیں بنائی گئی ہیں۔پانی کیسے سمندر میں جائے؟شہر کے تین بڑے نالوں کا راستہ صاف کرنے کے لیے کم سے کم اسیّ ہزار مکانات منہدم کرنا پڑیں گے ۔جب یہ سب غیر قانونی کام ہورہا تھا تو حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے یاان کاموں میںشریک کار تھے۔ حال ہی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم بنائی گئی جہاں بارش میں مکانات نو دس فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ اس کالونی میںبرساتی پانی کے نکاس کے لیے کوئی ڈرین نہیں بنائی گئی۔ لوگوں کی کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس ناقص ہاؤسنگ اسکیم کو بنانے والے اور اسکی منظوری دینے والے دونوں قصور وار ہیںلیکن بااثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی شہر کی بیس سے زیادہ بڑی سڑکیں ہیں جس کے ارد گرد بڑے بڑے بنگلے تھے لیکن انہیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر تجارتی علاقہ بنادیا گیا۔ اب وہاں بڑے بڑے پلازے ‘ شاپنگ مالز ہیں۔ جہاں چند سو لوگ رہتے تھے وہاں ہزاروں لوگ بزنس کرتے ہیں ۔ لاکھوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ زیادہ لوگوں کے لیے استعمال کا پانی‘ نکاسئی آب کا بندوبست کیسے ہوگا اور ٹریفک کا ہجوم کیسے قابو کیا جائے گا۔ پارکوں کی کچی زمین پانی جذب کیا کرتی تھی وہاںچائنہ کٹنگ کرکے مکانات بنادیے گئے۔ ناجائز تجاوزات اور تجارتی علاقے قرار دیے جانے کے کام ایم کیو ایم نے انجام دیے۔ شہر کی تباہی میں وہ برابر کی ذمہ دار ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر میں گزشتہ با رہ برسوں میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی۔ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے‘ کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتے۔ اس بار تواسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کی پکی سمجھے جانے والی اپنی خاندانی نشست سے بھی ہار گئے تو جذبہ انتقام اور بھی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کراچی شہر سے سندھ حکومت کو سوا تین سو ارب روپے کی آمد ن متوقع ہے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں اسکے لیے صرف پچیس تیس ارب روپے کی اسکیمیںمختص ہیں۔ حالانکہ اس شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کی خاطر سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کراچی شہرسے کما کر اپنی جھولیاں بھرنے والے بہت ہیں لیکن اس پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں۔ بارش کے بعد جب بھی شہر میں سیلاب آتا ہے چند روزاسکا اثر رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس کام ہوجائے تو معجزہ ہی ہوگا۔ ٭٭٭٭٭

  • صحابہ اکرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بولنے والوں پر لعنت نہ بھیجی جائے تو کیا کیا جائے؟  تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بولنے والوں پر لعنت نہ بھیجی جائے تو کیا کیا جائے؟ تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    وزیراعظم کے ٹویٹ پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلاف بکواس کرنے والے کو تو گرفتار نہ کیا گیا البتہ ایک محب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو ملعون کہا تو اس کے خلاف پرچہ درج کردیا گیا۔ اب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلاف بھونکنے والے کو کتا نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟؟

    اس وقت ملک میں سنی اکثریت پر زلفی بخاری، علی زیدی، شاہ محمود قریشی کی صورت میں رافضی مسلط ہیں جس کے نتیجے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ملک بھر میں کھل کر بدزبانی کی جارہی ہے۔ حتی کہ کراچی میں یوم عاشورہ کے موقع پر ایک دریدہ دہن نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ پر برسرِ عام لعنت کی اور ٹی وی چینل پر لائیو نشر کیا گیا۔ نہ وہ ذاکر گرفتار ہوا اور نہ ہی وہ ٹی وی چینل بند ہوا۔

    ملک بھر کے بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کو مل کر سوچنا اور ناموس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے آگے آنا ہوگا۔
    اس موقع پر میں تحریک انصاف میں موجود اہل ایمان اور تحریک انصاف کا دفاع کرنے والے احباب سے سوال کرنے کی جرات کروں گا کہ کیا آپ تحریک انصاف کی حمایت اور دفاع اس لیے کیا تھا کہ وطن عزیز میں ایک گروہ کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانیاں کرتے رہیں اور انہیں روکنے والا کوئی بھی نہ ہو۔

    قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے بصد ادب و احترام گزارش کروں گا کہ ایسے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اور وطن عزیز کے امن وامان کو تباہ کرنے اور فرقہ واریت پھیلا کر ملک کی سلامتی سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔

    ۔۔۔۔۔ عبدالرحمن ثاقب سکھر

  • پاکستان اور اتحاد بین المسلمین   تحریر : سفیر اقبال

    پاکستان اور اتحاد بین المسلمین تحریر : سفیر اقبال

    پاکستان اور اتحاد بین المسلمین
    تحریر : سفیر اقبال

    پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھے کچھ دشمن کے آلہ کار اور نادان لوگ پاکستان کے سعودیہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں… پاکستان جوڑنے کی کوشش کر رہا

    کچھ کم عقل اور "حق پرست بغضی” پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی لانا چاہتے ہیں…. پاکستان جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے

    عشروں سے انتہائی پیچیدہ تعلقات کے حامل پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر کے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہونا چاہتے ہیں…. پاکستان جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے

    انڈین نواز اور کچھ قوم پرست لوگ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش میں دن رات ایک کر رہے ہیں… پاکستان جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے

    کنکترے اور آزاد کاشمیر میں رہنے والے کچھ قوم پرست پاکستان سے الگ ہونے کی جدوجہد کر رہے ہیں… پاکستان جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے.

    یقیں محکم ،عمل پیہم ،محبت فاتح عالم
    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

    زیر نظر پانچوں تصاویر میری گیلری کی ہے جو پچھلے ایک مہینے سے قبل ہی میں نے سوشل میڈیا پر سے لیں.

    پاکستان بین الاقوامی سطح پر ہر مسلمان ملک کے ساتھ اور اندرونی سطح پر ہر صوبے کے ساتھ پیار و محبت کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کے دشمن اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں.

    جب تاریخ لکھی جائے گی تو پاکستان کو استحکام بخشنے والوں کی قربانیوں کا جہاں ذکر آئے گا وہاں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نفرتیں پیدا کرنے والوں کی کوششوں کو بھی ضرور یاد کیا جائے گا.

    فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کس کا ساتھ دینا چاہتے ہیں.

    #رنگِ_سفیر

  • نبی کا یارِ غار  بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار…
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    نبی کو جس سے پیار تھا…
    سب سے پہلے قبول کر کے…
    جو اسلام کا وفادار تھا…
    لقب صدیق کا تھا پایا…
    سچائی کو ہرسو پھیلایا…
    حلقۂ اسلام میں جس نے…
    کئی معتبر لوگوں کو لایا…
    صداقت جس کا شعار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر اک ستم کے سامنے…
    جو ڈٹا ہوا اک پہاڑ تھا…
    سفر،حضر میں ساتھ رہا…
    نہ ادھر گیا، نہ اُدھر گیا…
    ہجرت کی راہوں پر بھی…
    ساتھ ساتھ چلا تھا جو…
    جسم پہ ڈنگ کھا کر بھی.
    ذرا بھی نہ ہلا تھا جو…
    وفا کا جو شہ سوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    جو مصلٰی امامت پہ رہا…
    نبی کی زندگی میں کھڑا…
    جنت کے ہر دروازے سے جائے گا بلایا…
    صدیق کے بارے نبی نے یہ فرمایا…
    ہر لمحہ جو غم خوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    بند کر دو ساری کھڑکیاں…
    ایک مگر کھُلی رہے…
    صدیق کے گھر کی طرف سے…
    وفاؤں کی خوشبو گھُلی رہے…
    فتنۂ اتداد پر جو ننگی تلوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر ایک کا بدلہ چکا دیا ہے…
    احسانات کا بار اتار دیا ہے…
    مگر اک صدیق کا ہے باقی…
    جو بہت جزاؤں کا حقدار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    جو واسطے شجرِ اسلام کے…
    تا قیامت رہتی فصلِ دوام کے…
    لا الہ الا اللہ کے پھیلتے پیام کے…
    کیاخوب صداقت کی بہار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    نبی کو جس سے پیار تھا…!!!
    (رضی اللّٰہ عنہ)۔
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • قوت اسلام حضرت عمر فاروق   از قلم:  مسز ناصر ہاشمی

    قوت اسلام حضرت عمر فاروق از قلم: مسز ناصر ہاشمی

    قوت اسلام۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق
    از قلم: مسز ناصر ہاشمی

    مبارک تھی وہ گھڑی جب عمر ابن خطاب آۓ
    خوش ہو اٹھے نبی مکرّمﷺ،صحابہ بھی کھلکھلاۓ

    اسلام کے دائرے میں رہنے کا اعلان جو کیا
    صحابہ نے جوش محبّت میں لگا نعرہ دیا

    گونج اٹھی ہر سو نعرہ اللہ‎ اکبر کی صدا
    صفا و مروہ کی پہاڑیوں سے ٹکرائ یہ ادا

    خدا نے اپنے نبی سے وعدہ وفا کیا
    دعاؤں کے اس بدل میں عمر کو عطا کیا

    جری، جواں، بہادر سے ملی تقویت اسلام کو
    ہوۓ حوصلے سر بلند ملی حمیت اسلام کو

    بلال کو دیا حکم با آواز بلند ازاں کہیں
    وحدہ لاشریک وہی، رب کے سوا ہم نا ڈریں

    طواف کعبہ کرتے کرتے بولے عمر لحیم و شحیم
    سامنے آۓ میرے جو کروانا چاہے بچے یتیم

    رعب کا یہ عالَم کہ شیطاں ان سے بھاگے
    عمر پیچھے پیچھے وہ دوڑے آگے آگے

    اسلام کی سلطنت کو وسعت دی آپ نے
    ۲۲۰۰ مربع میل پر حکومت بنائی آپ نے

    فاروق کے لقب کی بھی سمجھ آئ اب
    عدل و انصاف کے کٹہرے میں امیر غریب سب

    حق و باطل کو أ پ نےممتاز کر کے دکھایا
    کفر کو کیا زیر،دین محمدی کا علم لہرایا

    یا الہیﷻ،پیدا کر دے فاروق جیسے، خوف کفرپہ طاری ہو
    دب جائیں ساری قومیں اور اسلام کا سکہ جاری ہو
    (آمین)

  • اداس چہرے   از قلم:حدیفہ رضا

    اداس چہرے از قلم:حدیفہ رضا

    اداس چہرے…
    از قلم:حدیفہ رضا
    شام کی گہری دھند ہر جانب پھیل رہی تھی تیز اور خنک ہوا چل رہی تھی. پرندے اپنے آشیانوں کی جانب محو پرواز تھے. میں افسردہ سی باغیچے کے بینچ پر بیٹھی درختوں کو ہوا کے ساتھ لہراتا ہوا دیکھ رہی تھی. کہ دادا جان باہر آئے مجھے دیکھ کر میرے قریب آکر بیٹھ گئے اور پوچھا باہر ٹھنڈ بڑھ گئی ہے تم کیوں باہر بیٹھی ہو.اور چہرے پر یہ افسردگی اور اداسی کیسی ،کیا کسی نے کچھ کہہ ہے؟
    نہیں دادا جان آپ جانتے ہیں سب کتنا پیار کرتے ہیں کسی نے کچھ نہیں کہہ میں نے دادا جان کی طرف دیکھ کر جواب دیا.
    دادا جان، پھر یہ کیسی اداسی ہے کیوں اداس ہے میری بیٹی ؟
    میں نے دادا جان کی جانب دیکھا اور کہہ دادا جان دل بہت اداس اور پریشان ہے اسکی وجہ مجھے بھی نہیں معلوم نا کسی کو بتانے کو دل کرتا نا بات کرنے کو ایسا کیوں ہے دادا جان یہ کیفیت کیوں میری بلکہ آج کے ہر دوسرے شخص کی کیفیت یہی ہے؟
    کیا جب آپ جوان تھے تو آپکے دور میں بھی ایسے ہر جانب اداس چہرے تھے؟دادا جان نے میری جانب دیکھا اور مسکرا دیے بولے بیٹا ہمیں تو اداس ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا. ہمارے پاس بے شک وسائل کم تھے آج کے لوگوں کی طرح ہم امیر نہیں تھے لیکن ہم خوش باش تھے کیونکہ ہمارے پاس دلوں کا سکون تھا. ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے. ایک دوسرے کے دکھ سکھ سنتے تھے اور شامل ہوتے تھے. بے غرض لوگ تھے ہمارے دور میں. اداسیوں کے لفظوں سے بھی نا آشنا تھے لیکن آج کے دور میں یہ نام زبان زد عام ہوچکا ہے. یہ کہہ کر دادا جان خاموش ہوگئے.
    میں نے سر اٹھا کر دادا جان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا جسے دادا جان سمجھ گئے کہ میں پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ اب وہ مسکراتے چہروں نے اداس چہروں کی جگہ کیوں لی ؟
    دادا جان نے ایک آہ بھری اور چند سیکنڈ کے وقفے کے بعد بولے یہ اداسی بیٹا آج تم لوگوں کی اپنی پیدا کردہ ہے.
    میں نے جھٹ سے پوچھا دادا جان وہ کیسے ؟
    ہم تو کچھ ایسا نہیں کرتے جس سے اداس ہوں .نہ ہی ہم تنہا ہیں ہمارے اطراف میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات تو ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی بھی ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے پھر کیسے یہ اپنی پیدا کردہ اداسی ہے ؟
    دادا جان ہولے سے مسکرا دیے اور بولے یہی تو اصل وجہ ہے اداسی کی. آج کے لوگ زیادہ اسی ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ ان سے پیار کرنے والے لوگ انکے خونی اور دلی رشتے انکے پہلوؤں میں بیٹھ کر انکو محبت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ایک نظر انکی جانب بھی گھمائے. لیکن اس میں اعتدال کے ساتھ نہیں چلتے اور یہی وجہ ہے اداسی کی .اور جب یہ اداسی بڑھ جاتی ہے تو ڈپریشن جیسی بیماری میں مبتلا کردیتی ہے جس میں آج کا ہر دوسرا انسان چاہے وہ چھوٹا چاہے بڑا ہے مبتلا ہے.
    اور دوسری وجہ آج کے اداس چہروں کی اپنے دین سے دوری ہے. آج کی نوجوان نسل دین سے بہت دور ہے. فرض بھی ادا کرتے ہیں تو وہ بھی جلد بازی میں. تو ایسے میں سکون کیسے میسر آئے گا.
    جب ہم اپنا زیادہ تر وقت غیر اہم چیزوں کیلئے وقف کردیتے ہیں اور اللہ سے دوری اختیار کرلیتے ہیں تو ہمارا دل مردہ ہوجاتی ہے. اسکو اسکے مطابق غذا میسر نہیں آتی تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ مرجھانے لگتا ہے اور مایوسیوں کے اندھے کنوئیں میں گرتا چلا جاتا ہے.
    ہماری دین سے دوری مطلب ہماری زندگی ادھوری ہے. تو کیا ادھوری زندگی خوشی کا باعث بن سکتی ہے. جب تک کسی انسان کو روح کی غذا نا مل رہی ہو تو وہ مایوسی ،ویرانی اور اداسی کا شکار ہونے لگتی ہے.
    اور آج کے لوگوں کی روح کی غذا انکے گھروں میں بند پڑے قرآن اور عملی دینی تعلیمات ہیں. جب تک ہم میانہ روی سے نہ چلا جائے گا یعنی دین اور دنیا کو ساتھ ساتھ لیکر چلیں. دین کو دنیا کیلئے نہ چھوڑیں. ہر چیز کو انصاف کے ساتھ چلایا جائے تو اس کیفیت سے نکلا جاسکتا ہے.
    دادا جان اسکے باوجود بھی اگر ہم بے جا اداسی کا شکار ہوجاتے ہیں تو کیا ،کیا جائے ؟
    دادا جان سانس لینے روکے تو میں نے جلد اپنا سوال انکے آگے رکھ دیا.
    دادا جان ،اداس ہونا ایک فطری بات ہے جیسے رونا فطری ہے. تو ایسے میں اداس ہونا چاہیے خود کو اس سے نہ روکیں. کیونکہ یہ ہماری ذہنی کیفیت ہوتی ہے جو اداسی کی صورت میں باہر آتی ہے. لیکن اداسی ،خوشی ،غصہ، نفرت اور محبت ان سب کو اپنے اطراف میں مت بسائیں ان کو جانے دیا جائے. کیونکہ ان میں سے ہر ایک مقررہ مدت تک ہی ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے. اگر یہ زیادہ دیر رہے گا تو ہمیں اندر سے بیمار کردے گا یعنی یہاں بھی اعتدال سے کام لیں خود کو ایک ہی خول میں بند نا رکھا جائے ہر آنے والی چیز کے ساتھ خود کو بھی بدلہ جائے اور زیادہ آسانی تب ہوگی جب جتنی جلدی آپ حقیقتوں کو قبول کرنا سیکھیں گے.
    ان کیفیات سے باہر نکلنے کا ایک حل اپنے لیے بہترین دوست کی تلاش بھی ہے جس سے اپنا حال دل بیان کیا جاسکے لیکن سب سے بہترین دوست اللہ ہی ہے. اس کیلئے اپنے چھوٹے چھوٹے قطروں کو بہا لیا جائے اور خود کو دنیاوی لحاظ سے بہادر بنائیں کسی بھی کیفیت کو چاہے خوشی کی چاہے اداسی کی ہو اپنے اوپر زیادہ حاوی نہ ہونے دیا جائے. بعض اوقات ہماری منفی سوچیں بھی ہمیں اس مقام پر لے آتی ہیں تو بہتر ہے خود زیادہ سے زیادہ اچھے کاموں میں الجھایا جائے.
    یہ کہہ کر دادا جان نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور مغرب کی نماز ادا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے مسجد کی جانب روانہ ہو گئے .
    میرا ذہن صرف اس بات پر رکا ہوا تھا کہ ہر چیز کا ایک مقرر وقت ،اختتام اور انجام ہوتا ہے اور ایک دن میری اداسیوں کا بھی اختتام ہوجائے گا (ان شاءاللہ) میں نے آسمان کی جانب دیکھا جہاں اب ٹمٹماتے ننھے ستاروں نے جگہ لے رکھی تھی اور مسکرا کر باغیچے کے اس بینچ کو الوداع کہہ اور نماز ادا کرنے اندر کی جانب بڑھ گئی..۔!!!

  • مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    منفی سوچ
    عاصم مجید، لاہور

    انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ ایک منفی جملہ یا بعض اوقات ایک منفی لفظ انسان کے رویے کو بہت حد تک کڑوا کر دیتا ہے۔
    انسان اس جملے کی کڑواہٹ اور منفی جملے کو لے کر کئی گھنٹے تک کڑوا ہی رہتا ہے اور اس دوران کئے گئے فیصلے اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    مثبت سوچ ،مثبت جملے اور معاشرے میں ہوتے ہوئے مثبت کام دیکھ کر انسانی زندگی پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔
    ہمارا میڈیا زیادہ تر منفی واقعات رپورٹ کرتا ہے۔ لہذا منفی سوچ ہی پروان چڑھتی ہے۔
    یہ منفی سوچ والے افراد اپنے گھر، دوست اور دفتری اوقات میں اپنے ساتھیوں میں منفی سوچ پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ منفی سوچ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ الفاظ کی بناوٹ ہمارے رویہ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسا ہمارے ٹی وی شوز میں موجود اینکر حضرات کے بارے میں ایک چلتا پھرتا دلچسپ تجزیہ ہے۔ یقینا یہ سو فیصد درست نہیں ہو گا. لیکن ہماری منفی سوچ کی عکاس ہے۔

    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مسلسل ڈاکٹر شاھد مسعود کو سن لے جو کہ ویسے بھی ناممکن تو اس کو پختہ یقین ھو چلے گا کہ اگلے چار گھنٹے بعد قیامت آنے والی ہے.
    .
    بندہ آدھا گھنٹہ اگر مسلسل زید حامد کو سن لے (خدا نخواستہ) تو اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گا کہ آج رات ہی ہماری فوج دہلی پر پاکستانی پرچم ٹھوک ڈالے گی.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹا ارشاد بھٹی کو جھیلنے کی کوشش کر بیٹھے تو اس کو لگے گا کہ بھٹی کی جیب میں گھر کے سودے کی چار پانچ پرچیاں ہر وقت ہوتی ہیں جن کو وہ ٹی وی پہ سبق کی طرح سناتا رہتا ہے۔
    ۔
    بندہ اگر پندرہ منٹ ہی حسن نثار کو سن لے تو اسے یہ محسوس ہونے لگے گا کہ ابھی یہ ٹی وی اسکرین سے نکل کر میرا گریبان پکڑ کر ادھار مانگ لے گا.
    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مبشر لقمان کے انکشافات سن لے تو اس کو پختہ یقین ہو جائے گا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ بھی نون لیگ نے کرایا.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹہ منصور علی خان کو سن لے تو اسے تیس منٹ میں لفظ "میرے کپتان” تین ہزار چار سو دس بار سنائی دینے کی وجہ کانوں میں تان، تان، تان کی گونج اگلے دو ہفتے آتی رہے گی۔
    ۔
    بنده صرف پانچ منٹ روف کلاسرا کو سن لے تو ایسے لگتا هے جیسے پوری دنیا جہاں کی کرپشن صرف حکمران پارٹی نے هی کی ھے.
    .
    بندہ صرف اگر ایک گھنٹہ حامد میر کو سن لے تو ایسے لگتا ھے کہ اس کو بھی ابھی نامعلوم ایجنسیاں اسی طرح لاپتہ کرنے والی ھیں جس طرح باقی مسنگ پرسن کو کیا ھے.
    ۔
    بندہ اگر دس منٹ ارشد شریف کو سن بیٹھے تو اسے لگے گا کہ اٹھارویں ترمیم کو فوری ختم کرنا، کرونا ختم کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ پاکستان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
    ۔
    بندہ اگر اوریا مقبول جان کو چند منٹ سن لے تو اسے لگے گا کہ پاکستان کے لیے سب سے اچھا ہے کہ ملک میں فی الفور سپہ سالار کی قیادت میں اسلامی صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے۔
    ۔
    بندہ صرف جاوید چودھری کو دس منٹ (مجھ سے تو اس سے زیادہ سنا نہیں جاتا) سن لے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے ابن رازی، توتن خامن، گوتم بدھ اور خلیل جبران سارے اس کے کلاس فیلو تھے اور یہ ان سب کا مانیٹر تھا۔

    بندہ اگر صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا کو دیکھ لے تو ایسا لگتا ھے کہ پاکستان ایک حنوط شدہ ممی کی مانند ھے اور اللہ نہ کرے کسی بھی وقت یہ ٹوٹ سکتا ھے.

    کمال تجزیہ ہے۔
    یعنی کہ لکھنے والے نے یہ محسوس کیا ہے کہ تقریبا جتنے بھی اینکر حضرات ٹی وی شو پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کا صرف منفی چہرہ سامنے لے کر آتے ہیں۔
    شاید ہی کوئی اینکر ایسا ہو جو پاکستان میں مثبت خبریں ، مثبت چہرا ، کئی افراد کا کامیاب کاروبار اور فلاحی کاموں کے متعلق بتاتا ہو۔

    ایسے منفی اثرات دینے والے میڈیا سے منفی اثرات رکھنے والے لوگ سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں دوست ، احباب اور رشتہ داروں میں مثبت خبریں اور پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے لے کر آئیں۔
    کیونکہ
    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے۔