Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    کیا آرٹیکل 149 کی بحث کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ، سندھ حکومت سے اختیارات چھیننے کے لیے یا واقعی سندھ کی عوام سے خیر خواہی کے لیے ۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سندھ کے مساٸل کے حوالے سے ایک کمیٹی بناٸی تھی جس کا مقصد کراچی کے مساٸل کا حل نکالنا تھا ۔ اس حوالے سے میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا یہ بیان سامنے آیا کہ ” حکومت کراچی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے آٸین کی شق 149 کے نفاذ پر غور کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی مختلف راٸے نظر نظر آٸیں ہیں کچھ لوگوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے اس کے اختیارات چھیننا چاہتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے اس بات کی کھل کر حمایت کی ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے مساٸل کا واحد حل اب آرٹیکل 149 کا استعمال ہی ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 149 کی بحث چھیڑنے کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کی توجہ کشمیر سے ہٹانا ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے دیکھا کہ سب لوگ حکومت کو کشمیر کے حوالے سے عملی طور پر کچھ نہ کرنے کی وجہ سے قصوروار ٹھہرا رہے ہیں تو حکومت نے آرٹیکل 149 کی بحث میں لوگوں کو الجھادیا ہے تاکہ کوٸی کشمیر کے حوالے سے حکومت پر تنقید نہ کرے ۔

    کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ۔ آج اس شہر کی پہچان اس کے مساٸل ہیں ۔ کراچی شہر میں سنگین مساٸل پیدا ہوچکے ہیں کہ شاید ہی انہیں کوٸی حل کر پاٸے ۔ دنیا میں کسی بھی ملک میں کوٸی بھی ایسا مسلہ نہیں ہے جسے حکومت حل کرنا چاہے اور وہ حل نہ کر پاٸے ۔ لیکن شاید یہ سندھ صوبے کی بد قسمتی ہے کہ اس پر ایک ہی پارٹی مسلسل حکومت کرنے کے بعد بھی اس کے مساٸل حل نہیں کر پاٸی ۔ گندگی کے ڈھیر ، مکھیاں ، مچھر ، بیماریاں پانی کے مساٸل یہ تو ہر جگہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ سنھ حکومت نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی ۔

    وفاقی وزیر قانون کے مطابق اس کا حل آرٹیکل 149 کے استعمال سے ممکن ہے ۔ آٸیں جانتے ہیں کہ آرٹیکل 149 ہے کیا ؟ اس آرٹیکل میں صوبوں کو ہدایات کے حوالے سے درج ذیل شقیں ہیں ۔

    1) ہر صوبے کا عاملانہ اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ وہ وفاق کے عاملانہ اختیار میں حائل نہ ہو یا اسے نقصان نہ پہنچائے اور وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات دینے پر وسعت پذیر ہو گا جو اس مقصاد کے لیے وفاقی حکومت کو ضروری معلوم ہوں۔

    2) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو، اس صوبے میں کسی ایسے وفاقی قانون پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جس کا تعلق مشترکہ قانون سازی کی فہرست میں مصرحہ کسی معاملے سے ہو اور جس میں ایسی ہدایات دینے کا اختیار دیا گیا ہو۔

    3) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے ذرائع مواصلات کی تعمیر اور نگہداشت کے لیے ہدایات دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جنہیں ہدایت میں قومی یا فوجی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہو۔

    4) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے طریقے کی بابت ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہو گا ، جس میں اس کے عاملانہ اختیار کو پاکستان یا اس کے کسی حصےکے امن یا سکون یا اقتصادی زندگی کے لیے کسی سنگین خطرے کے انسداد کی غرض سے استعمال کیا جانا ہو۔

    پاکستان لیگل ڈائجسٹ 1998 کے مطابق سپریم کورٹ کے کیس نمبر 388 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں آرٹیکل 149 کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی یہ شق مخصوص حالات میں صوبے اور وفاق کے درمیان رشتے کا تعین کرتی ہے جب کسی معاملے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاق صوبے کو ہدایات جاری کرے۔

    اس آرٹیکل کا مقصد کسی بھی صورتحال میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد یقینی بنانا ہے تاکہ اس صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے جس کے پیدا ہونے کے سبب وفاقی حکومت کو انتظامی اختیار استعمال کرنا پڑے اور وہ صوبہ جہاں وفاق کا قانون نافذ ہے وہاں اس نے خصوصی ہدایات جاری کی۔

    اس سلسلے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آرٹیکل کے تحت اگر وفاقی حکومت صرف ہدایات دینے تک محدود ہے تو پھر اس بات کا تاثر کیوں پیدا ہورہا ہے کہ وفاقی حکومت انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے ۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے وفاقی وزیر قانون کی اس بات پر شدید تنقید کرتے ہوٸے کہا ہے کہ ایک دروازہ سندھ حکومت ہے ۔ اگر وفاقی حکومت کراچی کا کوٸی بھی مسٸلہ حل کرنا چاہتی ہے تو اسے اس دروازے سے گزر کر جانا ہوگا ۔

    کہا جارہا ہے کہ شاید وزیر اعظم عمران خان دورہ کراچی کے دوران اس آرٹیکل کے استعمال کا اعلان کریں ۔ اس اعلان کے بعد ہی اصل حقاٸق معلوم ہوسکیں گے کہ کیا وفاقی حکومت سندھ حکومت کو صرف ہدایات جاری کرتی ہے یا انتظامی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے ۔

    اللہ تعالی پاکستان کے لوگوں کو مزید تقسیم ہونے سے بچاٸے ۔ اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی مساٸل حل فرماٸے ۔ آمین

  • آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مسلمانوں کو کئی اسلام مخالف طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا چاہے وہ مکہ کے کفار ہوں یا خیبر کے یہود لیکن اسلام اور مسلمانوں نے اپنا لوہا منوایا اور اللہ رب العزت نے اسلام کو سر بلندی عطا فرمائی. جب ہم اسلامی تاریخ میں درج عظیم قربانیوں اور مختلف جنگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو جو دو باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں دو قسم کی معرکہ آرائی ہوئی ہے ایک اسلام اور کفر کے درمیان اور ایک حق اور باطل کے درمیان ہوئی ہے،

    یہ بات سچ ہے کہ جب کربلا میں حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان گروہوں میں بٹے نظر آئے لیکن تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جب جب اسلام اور کفر کے درمیان جنگ ہوئی تو مسلمان متحد تھے، مسلمانوں کے قدم کبھی لڑکھڑائے نہیں، مسلمانوں نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی. ذرا یاد کریں وہ بدر کا واقعہ جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی لیکن ایک ہزار کے لشکر پر حاوی ہو گئے. خندق میں بھوک پیاس برداشت کر کے خندق کھودی اور اپنے دشمنوں کو شکست دی. درِ خیبر کو شیرِ خدا نے ایک ہی لمحے میں اکھاڑ پھینکا. جب بڑے بڑے بادشاہ مسلمانوں کے نام سے کانپتے تھے اور بر صغیر میں یاد کریں 1965 کی جنگ کو جب دشمن فوج کے جرنیل صبح تک لاہور فتح کرنے کے دعوے کر رہے تھے تب اللہ نے ہماری مدد کی ہماری فوج کے جوانوں نے قربانیاں پیش کیں  ہماری عوام ہمارے لوگ دشمن کے خلاف نکلے اور آن کی آن میں جنگ کا نقشہ بدل گیا.

    مانا نہیں ہے ہم نے غلط بندوبست کو
    ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے طاقت تھی جس نے مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ کون سی حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے مسلمان سب پر حاوی ہوگئے؟ وہ طاقت تھی ایمان کی وہ حکمت عملی تھی جہاد کی. آج ایک بار پھر اسلام کے مد مقابل کفر کھڑا ہے اور مسلمانو‍ں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو پھر آج امت مسلمہ میں اتحاد نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا ایمان کی وہ رمق باقی نہیں رہی؟ کیا حکمت عملی کمزور پڑ گئی؟ کیا آپ کو جہاد کا راستہ کارگر نظر نہیں آتا؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے ایک طرف کشمیری ہیں جو 72 سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا اور ایک طرف افغانستان کے لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کا راستہ اپنایا اور دنیا کی ایک بڑی طاقت روس کے ٹکڑے کر دیے اور دوسری طاقت جو اس وقت خود کو سپر پاور کہتی ہے وہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے تو آپ ذرا غور کریں کہ کس عمل سے کس کو کیا ملا؟ احتجاج والے کامیاب ہوئے یا جہاد والے؟

    ہمارے ملک پاکستان میں لوگوں میں آج بھی کفار سے ٹکرا کر ان کو شکست دینے کا عزم، حوصلہ اور ہمت موجود ہے ہم سب اپنے سپہ سالار کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے کہ اب وہ کشمیر لے کر ہی رہے گی کیونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور شیر جب اپنی شہ رگ پر خطرہ محسوس کرے تو اس خطرے کو نیست و نابود کر دیا کرتا ہے اب ساری امت مسلمہ ہمارا ساتھ دے یا نہ دے لیکن ہم سب ایک پیج پر ہیں ہم مسئلہ کشمیر پر اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں. ہماری حکومت سفارتی سطح پر بھارت کا چہرہ بے نقاب کر رہی ہے، ہماری فوج اور عوام جہاد کے لیے ہر دم تیار ہے اور اب یوں لگتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کا وقت آ گیا.

    آ گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا
    فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

    تحریر : محمد ہارون

  • 20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    فیصل آباد :دنیا ہے جہاں پر ایک طالب علم نہیں‌چاہتا کہ وہ فیل ہویا اس کے نمبر کم آئیں‌، ایسے ہی دنیا کے طالب علموں ، انسانوں‌ کا بھی نتیجہ بولنے والا ہے ، اطلاعات کے مطابق اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ فیصل آباد سالا نہ امتحانات 2019 ء کے نتائج کا اعلان کل20 ستمبر بروز جمعہ کوصبح 10 بجے کرے گاجس میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو رزلٹ کارڈ ان کے گھروں کے پتہ پر ارسال کردیئے جائیں گے

    اگرحکمران کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے میری مدد نہیں کرسکتے تو رکاوٹ تو نہ ڈالیں ، رابی پیرزادہ
    https://login.baaghitv.com/so-do-not-harkes-for-fmegovt-of-pakistan-if-donot-help/

    بورڈ ۱ٓف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل ۱ٓباد کی کنٹرولر امتحانات پروفیسر مسز شہناز علوی نے بتایا کہ رزلٹ انتہائی شفاف انداز میں اغلاط سے پاک تیار کئے گئے ہیں لیکن اگر پھر بھی کسی طالبعلم کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ 5 اکتوبر تک پیپرز کی ری چیکنگ کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بورڈ حکام کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے جن امیدواروں کو 25 ستمبر بروز جمعرات تک رزلٹ کارڈ نہ ملیں وہ بورڈ کی انٹر برانچ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    لاہور:حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے ، ان خیالات کااظہار وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے آج ایک تقریری مقابلوں کی تقریب میں‌کیا ، صوبائی وزیر نے کہا کہ جب وزارت کا قلمدان سنبھالا تو ایک بھی سرکاری یونیورسٹی عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام نہیں رکھتی تھی، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جامعات کو رینکنگ پر توجہ دینے کا کہا اور آج پنجاب کی دو جامعات دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہو گئی ہیں،

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    راجہ یاسر ہمایوں‌ نے اس موقع پر ملک میں فنی تعلیم کی بہتری کے حوالے سےکہا کہ فنی تعلیم کی کمی ہے اسی لئے کمیونیٹی کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جہاں جاب مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبا ء تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کر نے کے بعد طلباء چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔ یہ ابھی آغاز ہے انشا اللہ ہماری جامعات دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں گی۔صوبائی وزیرکے ساتھ اس تقریب میں‌اور بھی شخصیات کو دعوت دی گئی تھی،

    یاد رہے کہ پچھلے دنوں‌ دنیا کی جامعات کی درجہ بندی کرنےوالےادارے نے پاکستان کی چند جامعات کو بھی بہترین جامعات میں شامل کرتے ہوئے ان کی صلاحیت اور اہلیت کا اعتراف کیا تھا،

  • ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“   تحریر: محمد عبداللہ گل

    ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“ تحریر: محمد عبداللہ گل

    ہمارے وزیراعظم صاحب نے مصالحت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابھی کنٹرول لائن کی طرف مارچ نہ کریں۔ مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جانے دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں لیکن کشمیر پر بھارت کو ظلم ڈھانے سے نہیں روک سکتے۔ ہم مذمت کر رہے ہیں لیکن دشمن کی مرمت سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کشمیری بھارتی درندہ صفت افواج کے پہرے میں ہیں۔ ڈیڈ لاک، کرفیو نے کشمیریوں کا جینا ہی نہیں مرنا بھی دشوار کر دیا ہے۔ بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں، جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہے، بھارت کی بربریت و سفاکیت کی یہ انتہا ہے کہ ہسپتال پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ بیماروں کو علاج کروانے کے لئے ڈاکٹرتک نہیں جانے دیا جا رہا۔ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت گاجر مولی کی طرح ہمارے کشمیری بھائیوں کو کاٹ رہا ہے ادھر ہمارے وزیراعظم صبر کی تلقین کر رہے ہیں انہیں جنرل اسمبلی میں خطا ب کرنے کا انتظار ہے اُن سے ہم یہ پوچھتے ہیں حق بجانب ہیں کہ تب تک کشمیریوں کو قصائی مودی کے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور ہندوستان کو بربریت و سفاکیت کی کھلی چھٹی دی جائے۔ جنت نظیر پر کافر قبضہ کرنے کی سازش میں مصروف ہے اور اسے اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل کی آشیرباد حاصل ہے۔ اسرائیلی طرز پر کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے اور کشمیریوں کو یہاں سے نکالنے کے دشمن کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وادی کا مسلم تشخص ختم کیا جا رہا ہے۔ 72 سال بعد پہلی بار سری نگر کے لال چوک میں کشمیر کا جھنڈا اتار کر بھارت کا ترنگا لگا یاگیا۔ اصل میں بھارت نے ہماری معذرت خواہانہ پالیسی کے جواب میں پیغام دیا ہے کہ دیکھو تم امن کی بھاشا بولتے رہو اورہم جنگ کی بھاشا کو نہیں چھوڑیں گے۔ آج کشمیر کو ہتھیا لیاہے کل تم نے اسی طرح کمزوری دکھائی تو ہم آزاد کشمیر کو بھی تم سے چھین لیں گے بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ دھمکی دے چکا ہے کہ اب پاکستان سے آزاد کشمیر چھیننے کی باری ہے ایسے میں وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم امن کی داعی ہیں جنگ نہیں چاہتے مذاکرات سے حل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ سمیت یورپی ممالک ہماری مدد کو آئیں گے اور بھارت کو سبق سکھائیں گے۔ سبق انہوں نے نہیں ہم نے سکھانا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے تومودی کو مندر کا تحفہ دیکر اپنی پالیسی ہم پر واضح کردی ہے اب وزیراعظم اپنی کشمیر پالیسی پر ابہام دور کرتے ہوئے اس کی وضاحت فرمائیں قوم آپ کی مرہون منت ہوگی۔ادھر تو یہ عالم ہے کہ چالیس روز سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ہم ایک دن کا بھی کرفیو نہ اٹھا سکے نہ ہی بھارت کے لئے فضائی حدود بند کی اور نہ اس سے تجارتی بائیکاٹ کیا اور نہ ہی افغان ٹریڈ بند کی۔ ہم کس معجزے کے انتظار میں ہیں آسمان سے ابابیلیں نہیں اتریں گیں کہ جو کفار کو عبرت ناک شکست دیں۔ ہمیں کشمیر کی آواز کے لئے اعلان جنگ کرنا ہوگا۔ ہماری شیر صفت بہادر افواج ان پرایسے ٹوٹے گی کہ نیست و نابود کر دے گی۔وزیراعظم عمران خان سن لیں! اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی تو قوم ان پالیسی سازوں کا دھماکہ کر دیگی۔ پاکستان کو قدرت نے طالبان امن مذاکرات کی صورت میں ایک سنہری موقع دیا تھا کہ ہم امریکہ سے اپنی شرائط پر دونوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے مگر حکومت تو امریکہ کی اس پیشکش پر پھولی نہیں سما رہی تھی کہ طالبان مذاکرات کی مزید پر لانے کے لئے امریکہ نے ہم سے مدد طلب کی ہے اور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں جاگرے۔ ہائر کوالیفائیڈ، فارن ریٹرن وزیراعظم کی کابینہ و پالیسی سازوں کو یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ کم از کم امریکہ سے طالبان سے ثالثی کے عوض ہی منوا لیا جاتا کہ پہلے بھارت کشمیر سے اپنی فوج نکال لیں۔ مگر یہاں تو امریکہ یاترا کی واپسی پر پاکستان کی شہ رگ ہی کاٹ دی گئی۔ اگر شہ رگ کٹ جائے تو جسم زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا۔ اس کی زندگی کا واویلا شہ رگ پر ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے 5 اگست 2019ء کو پاکستان کوایک دفعہ پھر دولخت کر دیا گیا۔ اب غیرت مند لوگوں کو چاہئے کہ وہ علم جہاد بلند کریں ہماری افواج کا نعرہ ہے ایمان تقویٰ فی سبیل اللہ کس کا نعرہ ہے۔ افواج پاکستان نے بتا دیا ہے کہ ہم ہر سطح تک جانے کئے تیار ہیں اب یہ فیصلہ سول حکومت نے کرنا ہے۔ خدارا ٹیپو سلطان بنیں۔ ”ٹویٹ سلطان“ نہ بنے۔ ٹویٹر اور فیس بکوں پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ وزیراعظم صاحب کمزوری مت دکھائیں خوف کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا ادھورا ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں آپ سلامتی کونسل میں اجلاس کے انعقاد، رپی یونین کے اجلاس میں کشمیر کے ذکر کو ہی سفارتی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ مان لیا جائے کہ سفارتی محاذ پر ہمارے حصے میں صرف ناکامی آئی ہے جبکہ عسکری محاذ پر ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکی۔ الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور یہ ایٹم بم ہم نے ہندوستان اور اسرائیل کے لئے ہی بنایا ہے۔ کشمیر کی خاطر جس حد تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ گزشتہ 72 سالوں سے آزادی کی راہ میں خون بہانے والے کشمیریوں کے لہو سے غداری ہوگی اگر اسرائیل کو تسلیم کیا آخر اتنی جلد بازی کیوں ہے؟ کیا اسرائیل کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا؟؟؟
    حالات تیزی سے پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ مودی کی سازش کو ناکام بنانے اور کشمیر سے نکالنے کا ایک ہی واحد آپشن ہے وہ ہے جہاد اور اگر حکومت نے یہی بزدلانہ روش اختیار کئے رکھی تو قیامت کا دن ہوگا کشمیریوں کے ہاتھ ہونگے اور ہمارا گریبان ہوگا اس لئے ہمیں کچھ کرنا چاہئے اس وقت کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے لیکن حکومت اور ادارے ہوش کے ناخن لے رہے یہ تشویشناک صورتحال ہے قوم میں مایوسی کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے غفلت دکھائی تو یاد رکھیں ہندوستان کا بارڈر اسلام سے صرف 22 کلومیٹر دور رہ جائے گا۔ دراصل بھارت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک لوکل موومنٹ ہے اسی لئے حالیہ اقدامات اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ انڈیا کے فوجی دستے کشمیریوں کے گھر گھر میں گھس کر قتل عام کررہے ہیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اقدامات بروئے کار لائیں جائیں صرف سفیر کی طلبی یا اُسے نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں آگے جانا ہوگا۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے خطرناک عزائم میں کامیاب ہو گیا تو وہ یقیناً آزاد کشمیر پر حملہ کرے گا اس حملے کی صورت میں وہ ثالثی کی کوششیں سامنے آئیں گی جن کا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اظہار کیا تھا ہمیں مصلحت کی پالیسی مسترد کر کے سخت ردعمل اختیار کرنا ہوگا۔بابائے قوم قائداعظم نے فوج کو کشمیر کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جسے جنرل ڈگلس گریسی نے ماننے سے انکار کردیا تھا آج پھر اسی حکم پر عمل درآمد ضروری ہو گیا ہے۔

  • مودی کی تقریب سے اہم شخصیات کا بائیکاٹ ، "سٹینڈ ود کشمیر” کا خیر مقدم

    مودی کی تقریب سے اہم شخصیات کا بائیکاٹ ، "سٹینڈ ود کشمیر” کا خیر مقدم

    اہل کشمیر پر بھارتی مظالم پر احتجاج کرتےہوئے مودی کی ایوارڈ تقریب سے اداکار اور اہم شخصیات کا انخلاء .کشمیریوں میں خوشی کی لہر

    تفصیلات کشمیریوں کی جدجہد آزادی کے سرگرم تحریک اسٹینڈ ود کشمیر نے اداکاروں رض احمد اور جمیلہ جمیل کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اعلی سطح کے کمشنر اور ایس ڈی جی ایڈووکیٹ اعلیٰ مرابیت کو دی بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے گول کیپرز ایوارڈ تقریب سے دستبرداری کا خیرمقدم کیا ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

    رواں ماہ کے آخر میں منعقدہ بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے گول کیپرز ایوارڈ تقریب سے رض احمد ، جمیلہ جمیل ، اور الہ مربیٹ کا انخلا ، کشمیریوں ، ہندوستانیوں اور ضمیر کے لوگوں کے لئے ایک زبردست فتح ہے

    کشمیریوں نے احمد ، جمیل ، اور مربیٹ کے جرات مندانہ مؤقف کی تعریف کی اور دیگر پانچ مقررین سے مطالبہ کیا ، جن میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیکنڈا آرڈرن ، یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور ، ، میوزک ، سونا جوبارٹھیہ ، آمینہ جے محمد ، اقوام متحدہ کے ڈپٹی سکریٹری جنرل اور میڈیا کے ایک کاروباری شخصیت ، ٹومیلو میتھوتین ، کشمیری عوام اور نریندر مودی کی دائیں بازو کی ہندو قوم پرست حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والے تمام افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایوارڈ کی تقریب سے دستبردار ہوں گے۔

    احمد ، جمیل ، اور مربیٹ نوبل امن انعام یافتہ مائراد مگویئر (1976) تواککول عبد السلام سلام کرمین (2011) ، اور شیریں عبادی ، (2003) میں شامل ہوئے جنہوں نے فاؤنڈیشن کو ایوارڈ واپس لینے کے لئے اجتماعی مطالبہ کیا ہے۔ وہ گیٹس فاؤنڈیشن کے ایوارڈ کو منسوخ کرنے کے لئے مخیر حضرات میں جنوبی ایشین امریکیوں اور اتحادیوں کی کال میں بھی شامل ہیں۔

    گیٹس فاؤنڈیشن نے 3 ستمبر کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بیت الخلا تعمیر کرنے اور بھارت میں کھلی شوچ ختم کرنے کی کوششوں پر ایوارڈ دے گی۔

    گذشتہ ماہ کے دوران کشمیر اور آسام میں ہونے والے واقعات کے پیش نظر ، بھارت میں آزادی اظہار ، میڈیا اور اختلاف رائے کے خاتمے کے بارے میں ، یہ ناقابل فہم ہے کہ گیٹس فاؤنڈیشن اس لمحے کسی ایسے رہنما کی پوجا کرنے کے لئے انتخاب کرے گی جو ہندوستان کو اپنی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ آمریت۔ ایسا کرنا مودی کے جرائم کو وائٹ واش کرتا ہے اور پوری دنیا میں آمرانہ حکمرانوں کو ایک خطرناک پیغام بھیجتا ہے۔

    کشمیر کے ساتھ کھڑے ہو کر اس بات کا اعادہ کیا کہ گیٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صحیح کام کریں ، اور ایوارڈ واپس کردیں۔

    کشمیر سے جاری خبروں اور معلومات کو دبانے کی کوششوں کے باوجود ، بھارت کے وحشیانہ قبضے کی حقیقت امریکہ کے سیاست دانوں میں غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے۔

    برنی سینڈرز ، بیٹو او ’روڑک ، ریپلیمنٹ الہان ​​عمر ، ریپریٹی اینڈی لیون ، ریپٹیڈ ٹیڈ لیئو ، ریپریٹ رشید طلاب اور ریپ ڈان بیئر سمیت امریکی سیاستدانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔ ایشیاء سے متعلق ہاؤس سب کمیٹی کے چیئرمین ، بریڈ شرمن نے بھی حال ہی میں کانگریس کی ایک آئندہ سماعت کا اعلان کیا ہے جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔

    45 دن سے زیادہ عرصہ سے کشمیر میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد محاصرے میں ہیں۔

    4 اگست 2019 کی شام کو ، ہندوستانی حکومت نے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کیں ، مقامی میڈیا کو بند کردیا ، مکینوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی ، کم از کم 3،000 افراد کو حراست میں لیا اور حراست میں لیا اور پورے محلوں کو عسکریت پسند بنا دیا۔

    سٹینڈ ود کشمیر کشمیریوں کی رہائش پذیر بین الاقوامی یکجہتی تحریک ہے جو بھارتی قبضے کو ختم کرنے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

  • میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے صحافتی ورکرز دشمن میڈیا مشیراور پبلک نیوز چینل کے مالک یوسف بیگ مرزا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے قریبی دوست اور صحافتی ورکرز دشمن نیوز ون چینل کا مالک طاہر اے خان صحافتی ورکرز کی پانچ پانچ تنخواہوں کے مقروض نکلے ہیں،
    کئی سالوں سے حکومتوں سے اربوں کا بزنس اشتہارات کی مد میں وصول کرکے لمبے چوڑے اثاثے بنانے والے ان دونوں مالکان نے اپنے صحافتی ورکرز سے دن رات ایک کرکے کام لیکر ان کی پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں دبا لی ہیں جبکہ ان دونوں نے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کو بھی رکھا ہوا ہے جو فری آف کاسٹ کرکے باہر اداروں کو بدنام کرکے بلیک میلنگ کے زریعے پیسے کماتے ہیں اور تنخواہیں مانگنے والے ورکرز کی اداروں میں بیٹھ کر مخالفت کرتے ہیں جن ورکرز نے دن رات محنت کرکے فلیڈ میں اداروں کا نام بنایا ہے آج ان کے پاس گھروں کا کرائے دینے کے لئے پیسے نہیں ہے آج ان کے بچے فیس کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتے ہیں آج ان کے گھروں کے بیمار والدین ، بیوی بچے اور بہن ، بھائی دوائی لینے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں

    آج وہ اپنے گھروں کے بجلی ، پانی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے قرضے مانگ رہے ہیں آج وہ دکانداروں سے منہ چھپا کر محلے سے گزرتے ہیں اور کوئی ان کو گھر کا راشن ادھار دینے کے لئے تیار نہیں ہے آج وہ دفتر جانے کے لئے پیدل آفس آنے پر مجبور ہیں جناب وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب یہ آپ کے وہ مشیر اور دوست ہیں جو آپ کے لئے صحافتی دنیا میں بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جس کی وجہ سے صحافتی کمیونٹی آپ کو بدعائیں دینے اور آپکو نااہل کہنے پر مجبور ہے یہ وہ لوگ ہیں جہنوں نے دوسرے صحافتی اداروں کے مالکان کو ورغلا کر تنخواہیں روکنے اور ورکرز فارغ کرنے اور تنخواہوں کی کٹوتی کے لئے تیار کیا ہیں یہ وہ دونوں ورکرز دشمن ہیں جہنوں صحافتی ورکرز پر چند دنوں میں شب خون مارا ہیں

    اگر یہ دونوں مالکان نے اپنے ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی تو ہم اسلام آباد وزیر اعظم ہاوس اور ان دونوں مالکان کے گھروں کے باہر مظاہرے بھی مظاہرے بھی کریں گے کشکول بھی لٹکائیں گے اور ان تمام حالات اور ماحول کے ذمہ دار یہ دونوں صحافتی اداروں کے مالکان ہونگے

  • وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    جب سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنانے کیلئے لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ عمرؓ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر طبیعت کے بہت سخت ہیں۔ اس بات کو سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، ”عمرؓ اس لیے سخت ہیں کہ میں نرمی کرتا ہوں۔۔۔“
    اکثر جب کچھ لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ طبیعت کے بہت سخت ہیں تو میں ان کو یہی واقعہ سناتا ہوں۔میں منافقوں اور پاکستان کے دشمنوں پر اس لیے سخت ہوں کہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان ان دشمنوں کے معاملے میں خطرناک حد تک نرمی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اگر ریاست پاکستان، حکومت، عدلیہ اور فوج پاکستان کے دشمنوں پر سختی کریں، غداروں اور منافقوں کو سولی چڑھائیں، سازشیوں کے سر وقت پر کچلے جائیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اتنی بے چینی اور جلال کے ساتھ دشمنوں کے خلاف اذان دوں۔۔۔؟
    میں کفار و منافقین و دشمنوں کے خلاف اس لیے جلال دکھاتا ہوں کہ ریاست کا بوسیدہ نظام ان سانپوں کو پالتا ہے۔کیا ریاست پاکستان اجتماعی طور پر ہر فیصلہ درست کررہی ہے؟کیا پاکستان میں عدل و انصاف ہے؟کیا منافقین اور دشمن سزا پا چکے ہیں؟ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ تو پھر اجتماعی فیصلے بھی تو غلط ہی ہورہے ہیں ناں۔۔۔!

    معاملہ پاکستان اور امت رسولﷺ کا ہے۔ اگر کہیں پاکستان اورامت کو حکومتی فیصلوں سے تکلیف پہنچے گی تو پہلے میں نصیحت کروں گا، پھر تنبیہ کروں گا اور پھر بھی اگر وہ ظلم پر اسرار کرتے رہے تو پھر اعلان جنگ ہوگا۔یہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے، سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے۔ اس کے معاملے میں یہ فقیر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔

    میرے بہت سے دوست سرکاری افسران ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے آس پاس خیانت و ظلم ہوتے دیکھتے ہو تو آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ان کا ہر دفعہ ایک ہی جواب ہوتا ہے: ”یار سرکاری نوکری کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔“

    یاد رکھیں، ہم بھی سرکاری نوکری کررہے ہیں۔۔۔ ”سرکارﷺ “ کی نوکری، ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔
    آج اس پاک سرزمین کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اور امت رسولﷺ کے دفاع اور آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں اذان دیتے بیس برس ہوچکے ہیں۔ ہماری”سرکاری نوکری“ کی صرف ایک مجبوری ہے: اور وہ یہ کہ سیدی رسول اللہﷺ سے ہم خیانت نہیں کرسکتے!باقی ہمیں کسی چیز کا لحاظ نہیں کریں گے۔جب معاملہ پاکستان کا ہو، امت رسولﷺ کا ہو، تو ہم کبھی بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، چاہے حکومت ہو، عدلیہ ہو، فوج ہو یا میڈیا۔اللہ نے جو فراست اور تجربہ ہمیں عطا فرمایا ہے اور جو ڈیوٹی ہم سے لے چکا ہے اور لے رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کا نظام چلانے والوں پر گہری نگاہ رکھیں۔

    جاہل ہم سے کہتے ہیں کہ حکومت کو آپ سے زیادہ پتہ ہے، وہاں زیادہ بہتر دماغ نظام چلانے کیلئے بیٹھے ہیں۔تو پھر ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر ملک میں اتنا فساد کیوں ہے، ملک میں اتنا ظلم کیوں ہے، ملک میں اتنی جہالت کیوں ہے، ملک میں کفر کا نظام کیوں ہے، مسلمان کی آبرو اور خون اتنا سستا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟

    یہ ہمارے ریاستی اداروں کے اجتماعی گناہ ہی تھے کہ جن کی وجہ سے 1971 ءمیں ہمارا ملک ہی ٹوٹ گیا۔سقوط ڈھاکہ کسی ایک فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے ہر ادارے کی جہالت و حماقت کی وجہ سے ہم پر عذاب بن کر مسلط ہوا۔ اب ہم کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، بلکہ عمل کی گواہی مانگیں گے۔

    براس ٹیکس ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ فقیر اس ادارے کا سربراہ ہے، مگر ہماری ٹیم میں اس ملک کے اعلیٰ ترین محب وطن اور صاحب فراست لوگ شامل ہیں۔ ہم انہیں دشمنوں کے شر اور حاسدوں کے حسد سے بچانے کیلئے پس پردہ رکھتے ہیں، مگر جو بات ہم کرتے ہیں اس میں گہری فراست اور تحقیق شامل ہوتی ہے۔

    حکومت، میڈیا، عدلیہ اورافواج کی ہمیشہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔الحمدللہ، ہماری کوئی مجبوریاں نہیں ہیں، ہم نے کسی سے تمغے نہیں لینے، تنخواہ، پنشن اور مراعات طلب نہیں کرنی، کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔جب یہ زنجیریں پیروں میں نہ ڈلی ہوں تو ظالم کے سامنے حق بات کہنا قدر آسان ہوجاتا ہے۔

    اللہ کے فضل سے ہمیں اب اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ماننے والے تو اللہ اوراسکے رسولﷺ کو نہیں مانتے، اور جن کو اللہ نے زندہ دل عطا کیے ہیں وہ ہمارے مشن کی اہمیت اورقوت کو پہچانتے ہیں۔ہم صرف دربار نبویﷺ سے احکامات لیتے ہیں، اور پاکستان کے معاملے میں دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی۔ ان شاءاللہ۔یہ بات ہم کوا یک بار پھر واضح کردیں کہ پاکستان کے دفاع اور غزوہ ہند میں ہمارا یہ مشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بدترین دشمن مشرک اور منافق اس کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ ہمارے خلاف صرف وہی بات کرے گا جو ازلی بدنصیب ہے، متکبر ہے یا منافق ہے!
    استغفر اللہ، میں تکبر نہیں کررہا، صرف اللہ کا فضل بیان کررہا ہوں۔پچھلے 12 سال سے پاکستان کے میڈیا میں ہوں، ہزاروں اذانیں دی ہیں، کوئی ایک ”یوٹرن“ دکھا دیں، کوئی ایک بات دکھا دیں کہ جو کہی ہو اورغلط ثابت ہوئی ہو؟ کیا پھر بھی آپ کو اللہ کا فضل اور کرم نظر نہیں آتا۔۔۔؟

    ہر معاملے میں یہ فقیر اس قوم پر حجت تمام کرچکا ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ اب باقی نہیں ہے کہ جس پر تفصیلی تجزیہ کرکے فیصلہ کن حل نہ بتا دیا گیا ہو۔ حکومتی نظام کی درستگی ہو، معیشت کی اصلاح ہو، نظام کی تبدیلی ہو، اخلاقی و روحانی تربیت ہو، ملکی دفاع و غزوہ ہند کے معرکے ہوں۔ تمام حجتیں تمام کی جاچکی ہیں۔آج بھی اس ملک میں ہزاروں بے شرم اور بے غیرت ایسے ہیں کہ جن کا کام صرف ہماری اذان کا تمسخر اڑانا ہے، طنز کرنا ہے، حملے کرنا ہے اور اس مشن کوروکنا ہے۔
    آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
    کتوں کے بھونکنے سے فقیرکا رزق کم نہیں ہوجاتا۔۔۔!

    آج پاکستان کی حکو مت، میڈیا اور نظام میں اس فقیر کو ایک دشمن کی طرح دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ خود ملک و قوم و ملت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کفر اور ظلم کے نظام میں کلمہءحق بلند کرنے کی یہ ادنیٰ سی قیمت ہے کہ جو ہم بہت شوق سے دے رہے ہیں۔
    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔۔۔!

    مشرکوں سے جنگ اب بہت نزدیک ہے۔ جوہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ یہ بھارت سے جنگ کروانا چاہتے ہیں، جلد ہی وہ ہنسیں گے کم اورروئیں گے زیادہ۔حجت اس حکومت اور نظام پرپوری ہوچکی ہے، ہمیں ان کے طنز اور مذاق سے دھیلا فرق نہیں پڑتا۔ہم جس مالک کی ڈیوٹی کررہے ہیں، الحمدللہ، وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں!
    تحریر سید زید زمان حامد

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512