Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    لاہور : ضلع لاہور کے سرکاری سکولوں کے اوقات کار کا شیڈول آگیا ، اطلاعات کےمطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے ڈبل شفٹ سکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ۔

    جاری کردہ نئے ٹائم ٹیبل کے مطابق جمعہ کے روز سکینڈ شفٹ میں سکول سوا 2 بجے لگے گا جبکہ چھٹی پونے 6 بجے ہوا کرے گی، اوقات کار میں تبدیلی اساتذہ اور طلبا کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کی گئی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق مارننگ شفٹ میں سکول روزانہ کی بنیاد پر 7 بجے لگے گا چھٹی 12 بجے ہوگی، سکینڈ شفٹ میں سکول جمعہ کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے بارہ بجے لگے گا اور چھٹی ساڑھے پانچ بجے ہوا کرے گی۔

    سرکاری سکولوں میں پرانے اوقات کار میں تبدیلی پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اتھارٹی کو جمع کرائی جانیوالی درخواست پر کی گئی ہے۔یہ اوقات فی الفور قابل عمل ہوں گے

  • 1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    لاہور : پنجاب کے آئی ٹی اساتذہ کا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیا ، قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق نے آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا۔

    جس سے میں محبت کرتی ہوں‌ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے ،جیسے محبوب خوش ویسے محبوبہ خوش ، صبا قمر کی محبت بھری کہانی صبا کی زبانی

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پنجاب آئی ٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد عقیل آزاد نے کمیٹی روم میں وفد کے ہمراہ قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق سے مذاکرات کیے، مذاکرات میں آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ آئی ٹی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کرلیا گیا۔

    چیئرمین محمد عقیل آزاد نے اس موقع پر بتایاکہ ہائر سیکنڈری سکولز میں آئی ٹی ماہر مضمون کی آسامیاں تخلیق کی جائیگی، ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹیاں ختم اور ایلیمنٹری آئی ٹی ٹیچرز کو آئی ٹی ایس ایس ٹی پروموٹ کرنے کیلئے ان سروس کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

  • پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر:  نعمان علی ہاشم

    پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    قارئین کرام ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا وہ دور کپڑے کے تھیلوں کا آخری دور تھا. کانچ کی پراڈکٹ پلاسٹک میں تبدیل ہو رہی تھیں. مٹی اور چینی کے برتنوں کی جگہ میلامائن کے برتن لے رہے تھے. ابتدائی زمانے میں ہم نے اسے نعمت جانا، برتنوں کے وزن سے جان چھوٹی، کپڑے کے تھیلے کی جگہ شاپر آیا. مجھے یاد ہے جب نئے نئے گوجرانوالہ شفٹ ہوئے تو شاپر میں دودھ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی. کیونکہ ہمارا عقیدہ بن چکا تھا کہ دودھ ڈول میں لایا جاتا اور پتیلی میں اوبالا جاتا ہے. دہی جمانے کے لیے مٹی کی چاٹی یا سلور کی گاگر ہوتی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے کنڈوں کی جگہ سٹیل نے لے لی.. فریج کی بہتات ہوئی تو مٹی کے گھڑے گئے اور پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی یخ کیا جانے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سات سالوں میں ایک پوری ثقافت کو لپیٹ کر ہم نے جدت سے لعنت خاص اٹھا کر منہ پر مل لی..

    .
    ماضی کے ایک واقعے کو یاد کروا کر بات آگے چلاتے ہیں.. ماضی میں پہلے تمباکو اور چائے کو عام کیا گیا. اور جب لوگ عادی ہونے لگے تو ان کے مضمرات سامنے آنے لگے.
    .
    پلاسٹک پراڈکٹس کے چند سالہ استعمال کے بعد جب لوگوں میں یہ چیز سرایت کر گئی تو اس کے مضمرات عوام کے سامنے لائے جانے لگے. میڈیا کی آزادی کے بعد ہمیں اسی کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ پراڈکٹس ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں. مگر زہر رگوں سرایت کر چکا تھا. اب ہم اس سے جان چھڑوانے سے رہے. اور ظاہری سے بات ہے کہ جب انسان رنج میں راحت محسوس کرنے لگے تو اسے خوشی کی حاجت ہی کیا؟
    یہ تو ہو گئی تمہید. اب چلیے زرا مدعے پر.. ہم پچھلے پانچ سال سے اکثر و بیشتر جگہ اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اس پلاسٹک کو ختم ہونا چاہیے، یہ زندگی نگل رہا ہے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں. ماضی میں بھی حال کی طرح کوششیں ہوتی رہیں مگر کچھ عرصہ بعد یہ شور ختم ہوتا اور پلاسٹک ہماری زندگیوں میں زندگیاں تباہ کرنے کے لیے چلتا رہا.
    خیر حالیہ چند دنوں کے اقدامات دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کر دوں.
    یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر شریعت بھی نافذ کریں گے تو نقصان آپکا ہی ہوگا. اس کے لیے لازم ہے قوم کی اخلاقی و اسلامی تربیت، جمہور کا صالح ہونا، گرد و پیش کے سازشی عناصر کے مقابل ڈٹ جانے کی قوت ہونا. جس طرح سب سے افضل کام آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا کام بھی گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا.
    خیر بات یہ ہے کہ
    انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشنز کے مطابق عصر حاضر میں 35 فیصد بیماریوں کی وجہ یہ پلاسٹک ہے. کمال یہ ہے کہ اسی پلاسٹک کے مضمرات میں کینسر جیسی بیماری بھی ہے. ہیپاٹائٹس اور جلدی امراض کی طویل لسٹ، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ کہ اس پلاسٹک نے پچھلے بیس سالوں میں 18 فیصد آبی مخلوق کو سرے سے ختم کر دیا.
    اور صرف پاکستان کی بات کریں تو دریائے راوی میں آبی مخلوق کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے. مچھلیاں تو ایک طرف اب تو مینڈک بھی اس شاپر کی موت مر رہے ہیں. یہاں نالوں اور شہروں کا گندہ پانی پھینک کر پلاسٹک کئی فٹ موٹی تہہ بنا دی گئی ہے جو اگلے دو سو سال تک بھی مٹی میں نہیں ملے گی. یعنی اگلے تو سو سال کے لیے زندگی ناپید..
    .
    ان برتوں میں ٹھنڈا گرم کرنے کی بیماریاں، ان میں صفائی کے بعد بھی جراثیم کی افزائش، اور تو اور اگر ان برتنوں کو ابالا جائے تو اندر سے مزید جراثیم زندہ ہو کر انسانی صحت کا نقصان کرتے ہیں.
    اس پلاسٹک کے عمل دخل کی بات کی جائے تو بچے کے منہ میں لگی چوسنی سے لے کر، 80 سالہ بابے کی چارپائی تک پلاسٹک کی بنی ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟
    ایک بات ذہن میں رکھیں اب اس پلاسٹک سے جان چھڑوانا ناممکنات میں سے ہے. البتہ اس کا استعمال 80 فیصد تک روکا جا سکتا ہے. اور یہ ہماری نسلوں کی بقا کے لیے کافی ہوگا.
    سب سے پہلی بات آگاہی، لوگوں کو جہاں پلاسٹک کے مضمرات بتانے کی ضرورت ہے وہیں کپڑے، شیشے اور مٹی کی فضیلت پر بھی لیکچرز دینے کی ضرورت ہے.
    .
    جس چیز کو رائج کرنا ہے اسے فیشن بنا دیں. شوبز، میڈیا کھلاڑی سب مل کر اس کو پروموٹ کریں.
    .
    دوسرا اہم کام یہ کریں کہ پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کو کپڑے یا ایسے میٹیریل کے بیگ بنانے کے لیے فنڈز جاری کریں جو ماحول اور انسان دوست ہوں. تاکہ وہ ہنسی خوشی قوم کے لیے یہ خدمات سرانجام دیں
    .
    شہروں کے کوڑے کی ریفائنگ پر کام کریں. تمام پلاسٹک پگلا کر ایسی پراڈکٹس بنائیں جو دوبارہ مارکیٹ میں چلتی رہیں اور وہ چیزیں زمین یا پانی کی نذر نہ ہوں.
    .
    شاپر کا ریٹ بڑھا دیں، اور اسے کباڑ میں خریدنے اور بیچنے کی تجویز دیں. یوں پلاسٹک میٹیریل گلیوں نالیوں میں نہیں جائے گا. گھر کی خواتین ان بیگز کو سنبھال کر رکھیں. جس طرح لوہا، لیلن، سوکھی روٹیاں اور ہیل والی جوتیاں خراب ہو جانے کے بعد بھی سنبھالی جاتی ہیں. اور کباڑیے کو بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں. اسی طرح استعمال شدہ پلاسٹک شاپر بھی بیچے اور خریدے جائیں
    .
    جب آپ یہ تمام اقدامات کر لیں گے تو پھر پلاسٹک بیچنے والوں کی باری آئے گی. اب یہاں پر بھی بتا دوں کہ اگر آپ مافیاز کو پکڑ نہیں سکتے تو آپ محض بوتل اور شاپر پر بھی یہی لکھ سکیں گے.. "خبردار..! پلاسٹک کا استعمال کینسر کا باعث ہے”
    جس طرح آپ سگریٹ پر ٹیکس لگا کر عام آدمی کے لیے اسے مشکل کر کے سمجھ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی ختم ہو جائے گی اسی طرح شاپر کا معاملہ ہو گا. جس طرح سگریٹ جن کو لگ چکا ہے، ان کے لیے انتباہ، اور ٹیکس کوئی مسئلہ نہیں بلکہ آپ دن بہ دن تباکو بیچنے والوں کی کمائی میں اضافہ کر رہے ہیں. اسی طرح شاپر کے معاملے میں ہوگا. لوگ جس آسائش کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ چار پانچ روپے زیادہ خرچنے کو ترجیح دیں گے.
    .
    یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ آجکل مارکیٹ میں مختلف اقسام کے بیگز آ رہے ہیں، جنہیں ماحول دوست ثابت کر کے مارکیٹنگ کی جا رہی ہے. مگر یہ بیگز کسی صورت بھی پلاسٹک بیگز جتنے فنگشنل نہیں. پلاسٹک بیگ میں آپ بہت سے اقسام کا میٹیریل ڈال سکتے ہیں. جبکہ ان بیگز میں مخصوص طرح کا میٹیریل ڈل سکتا ہے.
    یعنی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی فنگشنلیٹی کے اعتبار سے بھی پلاسٹک بیگ کا کوئی ثانی نہیں.
    .
    عوام کو بھی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ جہاں تک اس پلاسٹک بیگ سے بچ سکتی ہے بچے. جو پراڈکٹس کسی دوسری چیز میں لائی جا سکتی ہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میں اسی چیز کو شاپر میں لانے سے پرہیز کریں. دودھ، دہی سالن جیسی پراڈکٹس کے لیے برتن. اور خشک پراڈکٹس کے لیے کپڑے کے تھیلے استعمال کریں. آپ سیدھی راہ پر ہونگے تو ملک بھی سیدھی راہ پر ہوگا. ٹھیک ہے پالیسیاں سرکار نے بنانی ہیں. مگر آپ کو اپنی جانب سے اقدامات کرنے پر کوئی روک نہیں. آپ خود باز آئیں اور اپنے جاننے والوں کو پلاسٹک سے پرہیز کا مشورہ دیں. اگر ہم بحیثیت قوم کسی نیک مقصد کے لیے خود کو پیش کر دیں تو یہ مافیاز خود بخود بھاگ جائیں گے. جنہوں نے ملک پاکستان کے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا.

  • کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    اکثر و بیشتر ہم ایسی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ تم لوگ جو آئے روز کشمیر ایشو پر ٹرینڈنگ کرتے ہو، شور مچاتے ہو اس سے مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کو کیا فائدہ ملتا ہے یا بھارت کا اس سے کیا نقصان ہوتا ہے ، جہاں امت مسلمہ کچھ نہیں کر رہی تو تمہارے ان ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوجائے گا. تو عرض ہے کہ بات کوشش یا جدو جہد کے چھوٹے یا بڑے ہونے یا اس سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی نہیں ہوتی بلکہ سائیڈ کی ہوتی ہے کہ آپ کس کی سائیڈ پر کھڑے ہیں اگر تو آپ ابراہیم علیہ السلام پھر آپ کا جتن آگ کو بجھانے کے لیے ہوتا ہے اور اگر آپ صف نمرود میں ہیں تو پھر آپ کی فکر آگ کو بڑھاوا دینے کی ہوتی ہے چاہے وہ چھپکلی کی طرح اپنی پھونکوں سے ہو یعنی آپ نے اپنی ان چھوٹی بڑی کاوشوں سے باور یہ کروانا ہوتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جنگ نہ کرنا چاہتی ہے نہ ہونے دینا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان سے جو مسلح مدد کرنے گیا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا بلکہ ریاست پاکستان اس ایشو کو انٹرنیشنل کمیونٹی اور فورمز میں اجاگر کرکے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور ظالم ملک ڈکلیئر کروانا چاہتی ہے (جیسے اس نے مسلسل پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان میں موجود شخصیات کے ساتھ کیا) تو اس عمل میں جب آپ چاروں طرف سے بے بس ہوں تو صف ابراہیم میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کریں.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈز کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے نشریاتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ملکوں اور انفرادی شخصیات کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا مقصود ہے اور الحمدللہ پاکستانی سوشل ایکٹوسٹس یہ مقصد حاصل کررہے ہیں مسلسل ٹرینڈنگ سے کشمیر ایشو بین الاقوامی ایشو بنتا جا رہا ہے ہے اور ہر طرف کشمیر پر بات ہونا شروع ہوچکی ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں اتنے لوگ روز شور مچاتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر کے صحافتی اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر پر بولنا شروع ہوچکے ہیں. مسلسل 46 دن کے کرفیو پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوچکی ہے. دوسری بات کہ یہ موجودہ جنگ صرف نام کی ففتھ جنریشن وار نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہے جس کی مختلف صورتیں اور جہتیں ہیں جہاں آپ کو کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا ہوتا.

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    تیسری بات جو دوسری کے ساتھ ملتی ہے کہ قران کی آیت ہے جس کا ترجمہ اکثر ہم جیسے کم علم لوگ یہ کردیتے ہیں کہ کافر اسلام کو اپنی پھونکوں سے بجھان چاہتے ہیں تو اس میں پھونک کا نہیں منہ کا ذکر ہے مطلب میڈیم اور آج کا منہ یہ میڈیا ہی ہے اور آپ میڈیا پر اسلام و مسلمانوں کے خلاف یلغاریں دیکھ لیں تو اس بات کی بخوبی سمجھ آتی ہے اسلام.کے چراغ کو گل کرنے کے لیے اس میڈیا کا کیسے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے. پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور تنظیمیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں اور اپنی پالیسیز کو مرتب کرتے وقت عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرتے. عرب اسپرنگ کے نام پر عالم عرب کی تباہی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں بنیادی کردار اسی سوشل میڈیا ہی کا تھا، ان ٹویٹر ٹرینڈز کا ہی تھا لہذا اس میدان میں لڑنے والوں کی اگرچہ کوئی حیثیت اور ویلیو نہ ہو لیکن ان پر ہنسنے کی بجائے اگر ساتھ شامل ہوجایا جائے تو کم از کم اپنا تو پتا چل جائے کہ ہم کس صف میں شامل ہیں.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    اسلام آباد: بھارت کی مکاری عیاں ہونے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت نے پچھلے 3 دن میں مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 لاکھ کے قریب فوجی تعینات کردئیے ہیں ، دفاعی حکام کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار فوجی، کچھ نیم فوجی دستے اور دیگر اہلکار تعینات کردیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق رات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی انسانی حقوق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

    ٹیکس ایپلیکیشن ، ایف بی آر کی کامیاب حکمت عملی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں سیکرٹری خاجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کوئی بھی شر انگیزی کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔کسی بھی وقت کوئی نہ کوئی شرارت ہوسکتی ہے ، لیکن پاکستان بھی تیار بیٹھا ہے

    بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا جاچکا ہے جہاں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عوام خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کی سفاکیت سے آگاہ کیا۔

  • "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟          زید حامد  کابلاگ

    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟ زید حامد کابلاگ

    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟ تحریر: زید حامد

    بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اب بس وقت درکار ہے اور وہ ہم اسے بغیر کسی رکاوٹ کے دے رہے ہیں. مودی اب ریپ، نسل کشی، آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کرکے اور ہندوؤں کیلئے نئی بستیاں آباد کرکے کشمیریوں کا حوصلہ اور انکی تحریک آزادی کو مکمل طور پر ختم کرنے جا رہا ہے.

    اب جبکہ پاکستانی حکومت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی، تو شاہ محمود قریشی کی نام نہاد کامیاب سفارتکاری کے باوجود مودی پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے اور کشمیریوں کی نسل کشی سے باز رہنے کیلئے کوئی بین الاقوامی دباؤ قطعاً نہیں ہے. اب ہمارے پاس کیا راستہ ہے؟ کشمیریوں کو تحریک آزادی کیلئے ہر طرح مدد فراہم کرنا.

    اگر پاکستان کشمیر کی جائز تحریک آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی حمایت اور محصور کشمیریوں کی زندگیوں کو آر-آر-ایس کے غنڈوں سے بچانے کیلئے مجاہدین اور ہتھیار بھیجنے کا اعلان کرتا ہے تو یہ کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو گی. یہاں قانون اور اخلاقیات ہمارے ساتھ ہیں.

    مقبوضہ کشمیر کو ضم کرکے بھارت پہلے سے ہی جنگ کا آغاز کر چکا ہے. اب بھارت آزاد کشمیر میں اپنی مرضی کے وقت جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے. بھارتیوں سے نمٹنے کے دو ہی طریقے تھے. پہلے حملہ کرنا یا انکنے حملے کا انتظار کرنا. جنگ سے تو اب کسی صورت نہیں بچا جا سکتا.

    فروری میں ہم نے دشمن سے نرمی کی. نتیجہ کیا نکلا؟ چھ مہینے بعد ایک اور جنگ. اب دشمن پہلے سے زیادہ تیار اور مسلح ہے. اور مقبوضہ کشمیر کو ضم بھی کر چکا ہے. جنگ سے بچنے کیلئے کب تک ہم دشمن کو خیر سگالی کے پیغامات دیتے رہیں گے؟

    میں جنگ کو نہیں بھڑکا رہا. میں صرف ایک سادہ سا سوال پوچھ رہا ہوں جسکے جواب پر ہماری خودمختاری کا انحصار ہے.
    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟
    جنگ دشمن ملک کے اندر جا کر لڑنا؟
    یا جنگ اپنے شہروں میں لڑنا؟”
    بہرحال اب تو جنگ سے قطعی نہیں بچا جا سکتا!

  • پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    کراچی:پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا جو پورا ہونے کو ہے ، بہت جلد ملک میں‌ ہر طبقے کے لیے ایک ہی نظام تعلیم ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کراچی میں ایک تقریب میں‌کیا ،

    جامعہ کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرشفقت محمود نے کہا کہ ملک میں یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ سے طبقاتی امتیازات میں کمی واقع ہوگی، حکومت نے59ارب روپے اعلیٰ تعلیم کی مد میں مختص کیے ہیں،

    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نےکہا کہ اس وقت ملک بھر میں‌ متعدد پروجیکٹس پر کام ہورہا ہے جس سے تعلیم اور تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کئی وائرل امراض کا سامنا ہے، انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کا قیام بہتری کی نوید ہے۔

  • پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    کراچی: سندھ حکومت کی عدم دلچسپی ، جامعہ کراچی کو مشکلات سے دوچار کردیا ، اطلاعات کے مطابق جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکارہوگئی ہے۔اساتذہ اور عملے کی تنخواہوں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی۔یونیورسٹی انتطامیہ نے سندھ حکومت سے مالی مدد مانگ لی۔

    دوسری طرف اس مالی بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ مالی خسارے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہے۔ بلز کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت جامعہ میں پچاس سے زائد شعبے ہیں۔ ریسرچ کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں، ختم ہوچکے ہیں۔

    جامعہ کراچی کے مالی مسائل حال کرنے کےحوالے سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری جامعات اینڈ بورڈ نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو سمری بجھوادی ہےجس میں‌جامعہ کے لیے جلد از جلد فنڈزجاری کرنے کی درخواست کی ہے ۔ جامعہ کراچی کو مالی خسارے سےنکالنے کے لئے چھ سو پندرہ ملین روپے فوری جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔جامعہ کراچی کے اساتذہ نے بھی 17 ستمبر کو کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے

  • نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    قائد حریت سید علی گیلانی صاحب کی کال پر آنے والے صحافیوں کو پریس کانفرنس کی کوریج سے روک دیا گیا.
    .
    آج صبح دس بجے سے ہی سید علی گیلانی صاحب کے گھر کے باہر تقریباً 35 صحافی جمع تھے. آزادی اظہار رائے کے حق کو دباتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس نے صحافیوں کو نہ صرف گھر میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ ان کے گھر کے قریب کھڑے ہونے سے بھی منع کر دیا. ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا کی آزادی کو صلب کر لیا ہے. پانچ اگست کے بعد کسی بھی صھافی کو کسی ایک حریت پسند لیڈر کی کوریج کی اجازت نہیں. مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس کے آفیسر کا کہنا ہے کہ سیکشن 144 کے تحت کسی لیڈر کی میڈیا کوریج کو بند کیا گیا. ایک طرف تو غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبائی جا رہی ہے. دوسری طرف بھارت کی آئین میں ایسی غیر انسانی اور غیر جمہوری شقیں موجود ہیں جو ظلم کا ساتھ دیتی ہیں. بھارت جہاں کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے وہیں کشمیریوں کی آواز دبانے میں بھی پیش پیش ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ عالمی ادارے کیا اس غیر جمہوری اقدام پر بھارت سے سوال کریں گے؟ کیا آزادی اظہار رائے کے علمبردار بھارت کی اس ریاستی ہٹ دھرمی پر بات کریں گے؟

    نعمان علی ہاشم

  • بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے مودی حکومت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم جلد آزاد کشمیرپربھی قبضہ حاصل کر کے بھارت کی تکمیل کریں گے‘‘۔
    دو روز پہلے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کہا تھا ’’پاکستان آزاد کشمیر کھونے کے لیے تیار رہے‘‘
    اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے کہا تھا ’’آزاد کشمیر پر قبضے کے لیے صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے، آرمی کی تیاری مکمل ہے۔
    حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آزاد کشمیر پر قبضے کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ماحول بنانے کے بعد ایڈونچر سے دریغ نہیں کرتا۔ کئی ایک واضع مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
    1965 میں ہم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کا لال بہادر شاستری کے بیان اور اس طرح کے دیگر بیانات کو نظر انداز کیا۔ پھر ہمیں لاہور اور سیالکورٹ کے محاذ پر اچانک حملہ برداشت کرنا پڑا۔
    1971 میں ایک بار پھر ہم بھارتی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھارتی بیانات کا جواب صرف بیانات سے دینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن جب بھارتی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمیں وقت سے پہلے بھرپور تیاری نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

    ممکنا فوجی تصادم پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت ستمبر یا اکتوبر کے دوران لائن آف کنٹرول پر کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال فروری میں الیکشن کا ماحول بنانے کے لیے پلوامہ دھماکہ اور اُس کے بعد پاکستانی سرحد عبور کر کے بمباری کا ڈرامہ کیا گیا تھا، ایک بار پھر قوی امکانات ہیں کہ ویسا ہی ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی نظر ہٹانے کے لیے کیا جائے۔

    غور کیا جائے تو اس طرح کی کسی جنگ کے لیے بھارت طویل عرصے سے تیاریاں کر رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں جنگ کی تربیت (Mountain Warfare Training) کے لیے بھارت کی دہیرادون ملٹری اکیڈمی میں ایک الگ ادارہ بدراج کیمپ (Bhadraj Camp) کے نام سے1999 میں قائم کیا گیا تھا۔ کشمیر کے محاذ پر جنگ کی خصوصی تربیت کے لیے بلندی پر جنگ کا تربیتی ادارہ High Altitude Warfare School (HAWS) گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہے۔ بھارتی فوج پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے اب تک 10مختص پہاڑی ڈویژن (Mountain Division) قائم کرچکی ہے۔ ان میں آٹھ عمومی ڈویژن اور 2 خصوصی حملہ آور ڈیژن ہیں۔ ان 10 ڈویژنز میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی میں جنہیں پہاڑی علاقے میں جنگ کی خصوصی تربیت اور مخصوص اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج حالیہ عرصے میں دو مزید پہاڑی ڈویژن کے قیام کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ان دونوں پہاڑی ڈویژنز کو گن شپ، یوٹیلیٹی اور اٹیک ہیلی کپٹروں کے تعاون سے جنگ کی تربیت دی جارہی ہے، یا تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے امریکہ سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ’اپاچی اے ایچ 64 ای کا سودا کیا ہے۔ مودی کی حکومت نے امریکہ سے 110 کروڑ ڈالر (جو تقریباً 8,000 کروڑ بھارتی روپے بنتے ہیں) کے عوض 22 جنگی اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جن میں سے آٹھ جنگی ہیلی کپٹر انڈیا کو مل چکے ہیں۔ جنہیں ورکنگ باونڈری پر جموں کے قریب پھٹانکورٹ کے ہوائی اڈے پر تعینات کیا گیا ہے۔

    (یہاں یہ امر بھی دلچسب ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے نو عدد اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی کپٹر پاکستان کو 2018 میں مل جانا تھے۔ لیکن تاحال امریکہ نے انہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا ہے۔)

    جنگوں پر نظر رکھنے والی کئی تنظیمیں آگاہ کر چکی ہیں۔ کہ بھارتی فوج وادی نیلم سے ملحقہ کنٹرول لائین کے دوسری طرف واقع مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں بھاری توپ خانہ اور اسلحہ جمع کر رہا ہے۔
    ہندوستان کے انتہائی اہم اور ذمہ دار افراد کے تمام بیانات اور فوجی تیاریوں کو صرف کیدڑ بھبکیاں اور بھڑکیں قرار دے کر نظر انداز کرنا بالکل بھی حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جوابا ہمیں جس طرح کی تیاریاں کرنا چاہیں تھیں وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔
    عسکری تیاریاں کیا ہیں ہم اُنہیں پاک افواج پر چھوڑتے ہیں۔
    البتہ کسی بھی ممکنا بڑے یا محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں عوام کو جس طرح سول ڈیفنس، فرسٹ ایڈ وغیرہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اُس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو متحرک ہونا چاہیے
    تحریر مہتاب عزیز