Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    تائیوان:اب اپنی جلد کے بارے میں‌پریشان ہونا چھوڑ دیں‌، کیونکہ اب ایک جدید ٹیکنالوجی آپ کی جلد کے تمام مسائل حل کرنے میں‌آپ کی مدد کرے گی ،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تیار اسمارٹ آئینہ نہ صرف سچ بولتا ہے بلکہ جلدی امراض کے بھید بھی کھولتا ہے۔


    جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار اس آئینے کو ہائی مِرر کا نام دیا گیا ہے جو انتہائی گہرائی اور تفصیل سے ہر روز آپ کے چہرے کا معائنہ کرتا ہے۔ اس کا خاص نظام 8 مختلف طریقوں سے آپ کے چہرے کا جائزہ لیتا ہے۔ اس طرح چہرے کے داغ، دھبے، جھریوں، خشکی، پانی کی کمی، رنگت اور جلد کی ناہمواری کو بھی روکتا ہے۔

    حبیب الرحمان نیپال میں نوکری کیلئے انٹرویو کیلئے گئے تھے اور وہاں سے لاپتہ ہو گئے

    تائیوان کے ماہرین نے دعویٰ‌کیا ہے کہ ہائی مرر کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ اسے چند ماہ تک استعمال کریں تو اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کے جلد کی تفصیلات جمع ہوتی رہیں گی اور اس طرح سافٹ ویئر جھائیوں اور جلد میں دیگر تبدیلیوں کو مسلسل نوٹ کرتا رہتا ہے۔ ہائی مِرر کا سافٹ ویئر کسی جلدی عارضے کی صورت میں لوشن اور کریم کے متعلق بھی مشورہ دیتا ہے۔ اسمارٹ مِرر میں ایلکسا بھی موجود ہے اور آپ ایک جملے سے جلد کے لیے ضروری مصنوعات آرڈر بھی کرسکتے ہیں۔

    اس جدیدٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے داغ دھبوں میں کمی و بیشی کو فیصد اور گراف کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اسطرح آئی لائنر، بلش، سات طرح کی لپ اسٹک اور آئی لیشز کو استعمال کیے بغیر اسکرین پر ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    جلد کے حوالے سے اس کا ایک اور فیچر میک اپ اسٹوڈیو ہے جسے استعمال کرکے آپ صرف آئینے میں ہی اپنے چہرے پر میک اپ کرکے دیکھ سکتی ہیں کہ فلاں میک اپ اور لِپ اسٹک لگانے سے چہرہ کیسا دکھائی دے گا؟۔

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین

  • مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے  ،  ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے ، ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر: ثناء صدیق

    مسلمانوں کی 711 میں سپین میں حکومت قائم ہوئی جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوئی تو ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل فرار ہو کر سپین چلا گیا اور وہاں نئی اموی حکومت کی بنیاد رکھی یہاں مسلمانوں نے بڑے شاندار طریقے سے حکومت کی یہاں فن تعمیر فن مصوری میں کام کیا گیا وہاں تعلیم پر بھی بہت زیادہ کام کیا گیا کتابیں لکھی گیں تراجم کیے گے اور درس گاہیں تعمیر کی گیں

    عبدالرحمن سوم کے اقتدار میں حکومت قرطبہ میں 70 لائبریریاں اور کتابوں کی دوکانیں تھیں عبدالرحمن سوم کا جانشین الحکم تھا یہ ایک بہت بڑا عالم تھا اس نے قرطبہ میں 23 سکول قائم کیے قرطبہ کی یونیورسٹی اتنی مشہور تھی کہ دنیا بھر کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بھجانے یہاں اتے تھے الحکم نے مشرقی ممالک سے پروفیسروں کو یہاں انے کی دعوت دی اور انہیں شاندار تنخواہوں کی پیش کش کی اس نے یہاں ایک بڑی لائبریری تعمیر کی جس میں 4 لاکھہ کتابیں تھیں یہ کتابیں اسکندریہ اور بغداد سے منگوائی گی تھیں اس سے سپین کے ثقافتی میدان میں اتنی ترقی ہوئی کہ ہر شخص پڑھنے لکھنے کے قابل ہو گیا اسپین میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح مساجد کے ساتھہ مدارس قائم کرنے کا رواج تھا لیکن بہت سے مدارس اور جامعات مسجد سے الگ بھی تھے ان مدارس کے اخراجات کے لیے حکومت نے بڑے بڑے اوقاف مقرر کیے تھے اور وقتا فوقتا خصوصی امداد بھی مقرر کی جاتی تھی تمام مدارس میں مفت تعلیم دی جاتی تھی ہر مسلمان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری تھا قرآن و حدیث ،فقہ ، شعروادب کی تعلیم عام طور پر مدارس میں ہوتی تھی لیکن جامعات میں تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ کی تعلیم دی جاتی تھی ان مدارس اور جامعات کے لیے اس دور کے جید علماء اور اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھی تمام ملک میں کوئی گاوں بھی ایسا نہ تھا یہاں مفلس اور گنوروں کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم نہ ہوں بیرونی ممالک سے آنے والے طلباء کے ٹھہرنے کے لیے جامعات سے ملحقہ اقامت گاہیں بھی بنائی جاتی تھیں جن کے تمام اخراجات کی زمہ داری حکومت پر تھی حتی کہ متعلقہ مضامین کی کتابیں تک بھی طلباء کوحکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے جب طالب علم اعلی تعلیم کے لیے جاتا تو اس کا امتحان ضرور لیا جاتا تھا جو پاس ہو جاتا اسے داخلہ دیا جاتا ورنہ اگلے سال امتحان کے لیے تیاری کے لیے چھوڑ دیا جاتا اعلی تعلیم کے مضامین میں قرآن و حدیث اور فقہ کے علاوہ علوم قدیمہ ،ہندسیہ، ہیبت ، طب و جراحت ، موسیقی ، منطق ، فلسفہ ، شعروادب ، تاریخ ، جغرافیہ ہوتے تھے لیکن فنون میں بھی طلباء کو ماہر کیا تھا بہت سے فنون کے شعبے بھی موجود تھے جیسا کہ حیاتی خطاتی چمڑے کا کام فن تعمیر کوزی گری فلاحت و زراعت وغیرہ تھے ان جامعات اور مدارس میں اسناد کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا لازمی نہ تھا بلکہ تمام دارومدار علمی انہماک اور قابلیت پر ہوتا تھا جس میں یہ صفات ہوتی تھی وہ بلاتامل ان عہدوں پر فائز کیا جاسکتا تھا
    چانچہ کچھہ یہودی اور عسائی بھی قرطبہ کی جامعات میں استاد مقرر تھے نویں اور دسویں عیسوی میں اسپین کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گی تھی طالب علم کسی بھی قوم مذہب سے تعلق رکھتا ہو با آسانی ان جامعات میں تعلیم حاصل کر سکتا تھا جس کا نتجہ یہ نکلا یورپ اور جنوبی ایشیا سے آنے والے عسائی اور یہودی طلباء بکثرت ہوتے تھے یہ مسلمانوں کی بے تعصبی کا ہی نتجہ تھا مسلمانوں نے تقربیا 8 سو سال سپین پر حکومت کی یہ وہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا جب یورپ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں مسلمانوں کی بے پناہ ترقی کے ساتھہ ساتھہ علمی میدان کی ترقی قابل فخر ہے ان میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے علماء اندلس نے قرآن پاک کی تفسیر اور علوم قرآنی کی تشریح و توضیح میں گراں قدر خدمات سر انجام دی یہاں صرف معروف کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں (ابو عبداللہ احمد بن قرطبی کی تفسیر "الجامع الااحکام القرآن”) ابو بکر محمد بن عبداللہ کی تفسیر "احکام القرآن” ابو عبداللہ محمد بن یوسف حیان کی تفسیر "البحر المحیط” ابن العربی کی تفسیر "تفسیر القرآن الکریم” علماء اندلس نے حدیث میں بہت کام کیا چند معروف محدث قابل ذکر ہیں احمد بن خالد القرطبی نے علم حدیث پر "مسند امام مالک تحریر کی ابو محمد قاسم بن اصبح قرطبی نے سنن داود کے طریقے پر ایک سنن لکھی ابو عمر یوسف بن عبدالبر نے موطا امام مالک کی شرح تحریر کی اندلس میں امامالک کے ایک شاگرد یحیی بن یحیی مصمودی کے زریعے فقہ مالکی کو فروغ حاصل ہوا حکومتی حلقوں میں اس کا بڑا اثرو سوخ تھا جس کی وجہ سے اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ رہا ابن خلدون لکھتے ہیں "امام مالک کا فقہی مسلک مغرب اور اندلس میں پھیلا اس کی وجہ یہ تھی کہ اندلس اور مغربی لوگ عام طور پر سیدھے حجاز جاتے اور بالخصوص مدینہ سے علم حاصل کرتے” اندلس کے فقہاوں میں زیاد بن عبدالرحمن ، عبدالمک بن حبیب ، قاضی ابوبکر بن عربی ، محمد بن احمد جو ابن رشد کے نام سے مشہور ہیں علماء اندلس نے علم سیرت پر بھی نہایت بلند پایہ کتب تحریر کی ابو عمر ابن عبدریہ نے ” الصقد القرید” تحریر کی ابو الفضل القاضی نے ” کتاب الشفاء” تحریر کی علماء اندلس تاریخ پر کام کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے ابو زید محمد بن خلدون نے العبر تحریر کی محمد بن موسی الرازی نے کتاب الرایات لکھی ابوبکر احمد بن راضی نے تاریخ اندلس لکھی ابن رشد نے اس موضوع پر دو اہم کتب تحریر کیں "مناہج الادلنہ فی عقائد الملتہ” اس کتاب میں آپ نے معتزلہ اشاعرہ ماتریدیہ صوفیا وغیرہ تمام مکاتب فکر کے دلائل کو بیان کیا ” فضل المقال” یہ کتاب مختصر مگر جامع کتاب ہے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا گیا ہے اندلس کے شعراء میں ابوبکر محمد الزبیدی ، ابن حیان ، ابو القاام ابراہیم بن محمد نے مشہور عرب شاعر متنبی کے دیوان کی شرح تحریر کی طب کے میدان میں اندلس کے طبیبوں میں ابوالقاسم الزہراوی جو قرطبہ کے قریب مدینہ الزہرہ کا رہنے والا تھا اندلس کا ایک نامور طبیب تھا اس نے طب کے موضوع پر ایک کتاب "التصریف لمن عجزعن التالیف” تحریر کی ابوالقاسم زہراوی نے فن جراحت میں اقتصاص پیدا کیا اس نے اپنے اس نے اپنے جراحی کے الات خود ڈیزائن کیے انہیں اپنی ذاتی نگرانی میں تیار کروایا اور ان کے خاکے اپنی کتاب میں شامل کیے اور ہر آلہ کے استعمال کے بارے میں تفصیل تحریر کی عصر حاضر میں جراحی علاج کے ماہرین اسے بہت زیادہ اہمت دیتے ہیں یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے بڑے جراحوں کے نزدیک ماخذ بنی رہی علم کیماء کے بارے میں اسکارٹ لکھتا ہے ” عملی طور پر زمانہ حال کے کیماء اور دوا سازی کے موجد عرب کیماء ساز تھے انہی کے طفیل تیزاب شورہ پوٹاس چاندی کا پانی فاسفورس اور اکسجن کے وجود سے اگاہ تھے” اندلس میں سرکاری کتب خانے کے ساتھہ ساتھہ ذاتی کتب خانے بڑی تعداد میں تھے عوام کو کتابیں کرنے کا بڑا جنون تھا اندلس کے اسلامی حکمران الحکم رعایا میں یہ بات مشہور تھی جس کو بادشاہ سے ملنا ہے وہ اس کے لیے ایک نادر کتاب لکھے الحکم کی لائبریری قرون وسطی کی سب سے بڑی لائبریری تھی اس میں 4 الاکھہ کتابیں جمع تھیں اس کتب خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے ایسا نادر اور قیمتی کتب خانہ نہ کرہ ارض پر پہلے موجود تھا نہ اب ہے اندلس کا ایک اور اہم کتب خانہ ابن فطیس کا تھا یہ بہت امیر شخص تھا جس محلے میں رہتا تھا سب مکانات اس کی ملکیت میں تھے اور سب کابوں سے بھرے پڑے تھے اس کو معلوم ہوتا فلاں کے پاس نادر کتاب موجود ہے اس کتاب کو ھاصل کرنے کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کر دیتا ابن سعد کا کتب خانہ عوام کے استفادے کے لیے وقف تھا محمد بن حزم کے کتب خانے میں نادر کتابیں موجود تھیں کتب خانوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں بھی شریک تھی ایک مشہور کتب خانہ عائشہ بنت احمد کا تھا

  • تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!!                                 ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!! ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!! تحریر: جویریہ چوہدری

    تقویٰ کا وہ احساس ہے کہ جب دل میں آتا ہے تو اللّٰہ تعالی کی نافرمانی،ناراضگی اور اس کی ناپسندیدہ سب چیزیں دل سے نکل جاتی ہیں۔۔۔۔
    اس تقویٰ کا ساتھ زندگی میں اٹھتے ہر قدم پر ہونا ضروری ہے۔۔۔
    اگر ایک مسلمان کے ساتھ تقویٰ بطورِ زادِ سفر نہ ہو تو انسان جا بجا بہک سکتا ہے۔۔۔
    تقویٰ ہی ہمیں اپنے اک ایک عمل کی جوابدہی کے احساس سے مالا مال رکھتا ہے۔۔۔ !!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تم جہاں کہیں بھی ہو،اللّٰہ سے ڈرو،اور برائی کے پیچھے نیکی کرو،تو نیکی برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔۔۔”(رواہ الترمذی۔۔۔کتاب البر والصلۃ)۔
    یہ تقویٰ ہی ہمیں نیکی کی طرف لاتا اور گناہ چھڑواتا ہے۔۔۔
    یعنی تقویٰ کی دولت برائیوں اور گناہ کے کاموں سے ہمارا بچاؤ ہے۔۔۔۔
    قرآن کریم میں اللّٰہ تعالی نے ہمیں متعدد مقامات پر تقویٰ کی اہمیت اور متقین میں شمار ہونے کے راستے بتائے ہیں۔۔۔۔
    آیئے کچھ مقامات پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔:
    "اے لوگو !
    اپنے رب کی عبادت کرو،جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔۔۔تاکہ تم بچ جاؤ”
    (البقرۃ:21)۔
    یعنی اللّٰہ تعالی کی ناراضگی اور غصہ سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللّٰہ تعالی کی وحدانیت کو صحیح معنوں میں سمجھ جاؤ۔۔۔۔
    صرف اسی کی عبادت کرو اور جان بوجھ کر شرک کا ارتکاب نہ کرو۔۔۔
    اگر ایسا کرو گے تو یقیناً تمہارا انجام بچاؤ ہو گا۔۔۔

    "نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو۔۔۔۔بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ جو اللہ پر اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے۔۔۔اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں،
    اور یتیموں۔۔۔
    اور مسکینوں اور مسافر اور سوال کرنے والوں کو۔۔۔
    اور گردنیں چھڑانے میں۔۔۔۔اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے
    اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور خصوصاً تنگدستی اور تکلیف میں صبر کرنے والے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔۔۔۔”
    (البقرۃ:177)۔
    یعنی مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لینا بذات خود نیکی نہیں بلکہ یہ تو مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے۔۔۔اصل نیکی ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ تعالی نے بیان فرمائے ہیں اور ان اعمال و اخلاق کو اپنانا جن کی تاکید کی گئی ہے تو ان باتوں کا انجام حسن تقویٰ ہے۔۔۔۔
    بچاؤ ہے۔۔۔۔کامیابی ہے۔۔۔۔کیونکہ کامیابی کا دارو مدار تقویٰ کی کیفیت پر ہے۔۔۔۔اخلاص کی نوعیت پر ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اے ایمان والو!
    تم پرروزے رکھنے فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔۔۔۔تاکہ تم بچ جاؤ”۔
    (البقرۃ:183)
    یہ عبادت تقویٰ کے حصول کا بڑا مقصد ہے۔۔۔۔کیونکہ نفس کی طہارت کے لیئے بہت بہترین اور اہم ہے۔۔۔۔
    اخلاق اور کردار کو سنوارنے میں روزے کا بنیادی کردار ہے۔۔۔۔
    روحانی اور جسمانی بالیدگی کا باعث ہے۔۔۔۔
    اللّٰہ کی رضا کے لیئے حلائل سے بھی رکے رہنا۔۔۔۔نفسانی خواہشات پر قابو پانا۔۔۔۔۔
    تو یہ چیزیں تقویٰ کے حصول کا سبب بن جاتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!!

    "تمہارے لیئے بدلہ لینے میں ایک طرح کی زندگی ہے۔۔۔اے عقلمندو !
    تاکہ تم بچ جاؤ۔”
    (البقرۃ:179)۔
    یعنی قصاص میں تمہاری زندگی کا راز ہے۔۔۔۔۔جرائم کی روک تھام کا ذریعہ ہے۔۔۔۔
    جب قاتل کو یہ خوف ہو گا کہ وہ بھی قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔تو معاشرہ خونریزی اور بد امنی سے بچ جائے گا۔۔۔۔
    کیونکہ قانون کا نفاذ ہی جرائم کی شرح کم اور امن و سکون کی وجہ ہوتا ہے۔۔۔۔ !!!

    "پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو۔۔۔۔جیسے اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔۔۔۔”
    (البقرۃ:194)۔
    یعنی کفار حرمتوں کو ملحوظ رکھیں تو تم بھی رکھو۔۔۔۔ورنہ انہیں حرمتوں کو پامال کرنے کی سزا بدلہ ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور معاف کر دو تو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو”۔۔۔۔
    (البقرۃ:237)۔
    اگرچہ یہاں حق مہر کے سلسلے میں فضل و احسان کی تاکید کی گئی ہے مگر ہر معاملے میں آپس میں فضل و احسان کو اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔تعلیم اسلام ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "کیوں نہیں!
    جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقیناً اللہ ڈرنے والوں سے محبت رکھتا ہے”۔
    (آل عمران:76)۔
    یہاں اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو ہر نبی کی امتوں سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا اور ڈرنے سے مراد اللہ تعالی کے محارم سے بچنا اور ان باتوں پر عمل کرنا جو پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔۔۔
    تو ایسے لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جو بھی نیکی کریں،تو ان کی بے قدری ہر گز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے”
    (آل عمران:115)۔

  • محنت اور کوشش سے اسپیشل بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جاسکتا ہے ، رہنما پاکستان تحریک انصاف

    محنت اور کوشش سے اسپیشل بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جاسکتا ہے ، رہنما پاکستان تحریک انصاف

    لاہور : محنت اور خلوص نیت سے اسپیشل بچوں کو بھی معاشرے کا مفید اور کارآمد رکن بنایا جاسکتا ہے، اسپیشل بچوں کو کیسے کارآمد بنایا جاسکتا ہے اس حوالے سے وارث روڈ پر واقع دارالمسرت میں اسپیشل بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں تحریک انصاف کی سنئیر راہنما اور چیرمین چمن سنٹر ڈاکٹر زرقا تیمور سہروردی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،

    وارث روڈ پر واقع دارالمسرت میں اسپیشل بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کے موقعہ پر بچوں نے مہمانان گرامی اور شرکا کے سامنے ”تیری زمین تیرا آسمان“ کے نام سے ڈرامہ پیش کیا اسپیشل بچوں کی پرفارمنس دیکھ کی شرکا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔اس موقعہ پرپروفیسر شکیل جہانگیر ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ بچے ذہنی معذور نہیں بلکہ ہم سے کچھ مختلف ہیں اور انکی صلاحتیں ہم سے زیادہ ہیں ہم سب کو یہ کوشش کرنی چایئے کہ ان بچوں کو ایک دھارے کے اندر لایا جایا۔

    عروہ حسین ”ٹچ بٹن “ کے ساتھ اور بھی خوبیوں کی مالک نکلیں

    تحریک انصاف کی سنئیر راہنما اور چیرمین چمن سنٹر ڈاکٹر زرقا تیمور سہروردی نے مزید کہا سندھ اور بلوچستان میں اس پر قانون سازی ہو چکی ہے اور اب ہماری کوشش ہے پنجاب اسمبلی سے ان لوگوں کے حقوق کے لیے بل پاس کر وا لیا جائے۔انھوں نے کہاان سب کوہماری توجہ کی ضرورت ہے اور آپ لوگوں کی ذراسی توجہ ان بچو ں کا بہتر مستقبل کی امید ہے ۔یہی وجہ ہے وزیر اعظم عمران خان دو دفعہ اسپیشل بچوں کے سنٹر کا دورہ کر چکے ہیں اس کے علاوہ خاتون اول بشری عمران بھی دوفعہ اسپیشل بچوں کے سنٹر کا دورہ کر چکی ہیں۔

  • آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    کیا آرٹیکل 149 کی بحث کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ، سندھ حکومت سے اختیارات چھیننے کے لیے یا واقعی سندھ کی عوام سے خیر خواہی کے لیے ۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سندھ کے مساٸل کے حوالے سے ایک کمیٹی بناٸی تھی جس کا مقصد کراچی کے مساٸل کا حل نکالنا تھا ۔ اس حوالے سے میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا یہ بیان سامنے آیا کہ ” حکومت کراچی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے آٸین کی شق 149 کے نفاذ پر غور کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی مختلف راٸے نظر نظر آٸیں ہیں کچھ لوگوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے اس کے اختیارات چھیننا چاہتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے اس بات کی کھل کر حمایت کی ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے مساٸل کا واحد حل اب آرٹیکل 149 کا استعمال ہی ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 149 کی بحث چھیڑنے کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کی توجہ کشمیر سے ہٹانا ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے دیکھا کہ سب لوگ حکومت کو کشمیر کے حوالے سے عملی طور پر کچھ نہ کرنے کی وجہ سے قصوروار ٹھہرا رہے ہیں تو حکومت نے آرٹیکل 149 کی بحث میں لوگوں کو الجھادیا ہے تاکہ کوٸی کشمیر کے حوالے سے حکومت پر تنقید نہ کرے ۔

    کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ۔ آج اس شہر کی پہچان اس کے مساٸل ہیں ۔ کراچی شہر میں سنگین مساٸل پیدا ہوچکے ہیں کہ شاید ہی انہیں کوٸی حل کر پاٸے ۔ دنیا میں کسی بھی ملک میں کوٸی بھی ایسا مسلہ نہیں ہے جسے حکومت حل کرنا چاہے اور وہ حل نہ کر پاٸے ۔ لیکن شاید یہ سندھ صوبے کی بد قسمتی ہے کہ اس پر ایک ہی پارٹی مسلسل حکومت کرنے کے بعد بھی اس کے مساٸل حل نہیں کر پاٸی ۔ گندگی کے ڈھیر ، مکھیاں ، مچھر ، بیماریاں پانی کے مساٸل یہ تو ہر جگہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ سنھ حکومت نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی ۔

    وفاقی وزیر قانون کے مطابق اس کا حل آرٹیکل 149 کے استعمال سے ممکن ہے ۔ آٸیں جانتے ہیں کہ آرٹیکل 149 ہے کیا ؟ اس آرٹیکل میں صوبوں کو ہدایات کے حوالے سے درج ذیل شقیں ہیں ۔

    1) ہر صوبے کا عاملانہ اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ وہ وفاق کے عاملانہ اختیار میں حائل نہ ہو یا اسے نقصان نہ پہنچائے اور وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات دینے پر وسعت پذیر ہو گا جو اس مقصاد کے لیے وفاقی حکومت کو ضروری معلوم ہوں۔

    2) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو، اس صوبے میں کسی ایسے وفاقی قانون پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جس کا تعلق مشترکہ قانون سازی کی فہرست میں مصرحہ کسی معاملے سے ہو اور جس میں ایسی ہدایات دینے کا اختیار دیا گیا ہو۔

    3) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے ذرائع مواصلات کی تعمیر اور نگہداشت کے لیے ہدایات دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جنہیں ہدایت میں قومی یا فوجی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہو۔

    4) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے طریقے کی بابت ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہو گا ، جس میں اس کے عاملانہ اختیار کو پاکستان یا اس کے کسی حصےکے امن یا سکون یا اقتصادی زندگی کے لیے کسی سنگین خطرے کے انسداد کی غرض سے استعمال کیا جانا ہو۔

    پاکستان لیگل ڈائجسٹ 1998 کے مطابق سپریم کورٹ کے کیس نمبر 388 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں آرٹیکل 149 کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی یہ شق مخصوص حالات میں صوبے اور وفاق کے درمیان رشتے کا تعین کرتی ہے جب کسی معاملے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاق صوبے کو ہدایات جاری کرے۔

    اس آرٹیکل کا مقصد کسی بھی صورتحال میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد یقینی بنانا ہے تاکہ اس صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے جس کے پیدا ہونے کے سبب وفاقی حکومت کو انتظامی اختیار استعمال کرنا پڑے اور وہ صوبہ جہاں وفاق کا قانون نافذ ہے وہاں اس نے خصوصی ہدایات جاری کی۔

    اس سلسلے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آرٹیکل کے تحت اگر وفاقی حکومت صرف ہدایات دینے تک محدود ہے تو پھر اس بات کا تاثر کیوں پیدا ہورہا ہے کہ وفاقی حکومت انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے ۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے وفاقی وزیر قانون کی اس بات پر شدید تنقید کرتے ہوٸے کہا ہے کہ ایک دروازہ سندھ حکومت ہے ۔ اگر وفاقی حکومت کراچی کا کوٸی بھی مسٸلہ حل کرنا چاہتی ہے تو اسے اس دروازے سے گزر کر جانا ہوگا ۔

    کہا جارہا ہے کہ شاید وزیر اعظم عمران خان دورہ کراچی کے دوران اس آرٹیکل کے استعمال کا اعلان کریں ۔ اس اعلان کے بعد ہی اصل حقاٸق معلوم ہوسکیں گے کہ کیا وفاقی حکومت سندھ حکومت کو صرف ہدایات جاری کرتی ہے یا انتظامی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے ۔

    اللہ تعالی پاکستان کے لوگوں کو مزید تقسیم ہونے سے بچاٸے ۔ اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی مساٸل حل فرماٸے ۔ آمین

  • آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مسلمانوں کو کئی اسلام مخالف طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا چاہے وہ مکہ کے کفار ہوں یا خیبر کے یہود لیکن اسلام اور مسلمانوں نے اپنا لوہا منوایا اور اللہ رب العزت نے اسلام کو سر بلندی عطا فرمائی. جب ہم اسلامی تاریخ میں درج عظیم قربانیوں اور مختلف جنگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو جو دو باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں دو قسم کی معرکہ آرائی ہوئی ہے ایک اسلام اور کفر کے درمیان اور ایک حق اور باطل کے درمیان ہوئی ہے،

    یہ بات سچ ہے کہ جب کربلا میں حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان گروہوں میں بٹے نظر آئے لیکن تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جب جب اسلام اور کفر کے درمیان جنگ ہوئی تو مسلمان متحد تھے، مسلمانوں کے قدم کبھی لڑکھڑائے نہیں، مسلمانوں نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی. ذرا یاد کریں وہ بدر کا واقعہ جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی لیکن ایک ہزار کے لشکر پر حاوی ہو گئے. خندق میں بھوک پیاس برداشت کر کے خندق کھودی اور اپنے دشمنوں کو شکست دی. درِ خیبر کو شیرِ خدا نے ایک ہی لمحے میں اکھاڑ پھینکا. جب بڑے بڑے بادشاہ مسلمانوں کے نام سے کانپتے تھے اور بر صغیر میں یاد کریں 1965 کی جنگ کو جب دشمن فوج کے جرنیل صبح تک لاہور فتح کرنے کے دعوے کر رہے تھے تب اللہ نے ہماری مدد کی ہماری فوج کے جوانوں نے قربانیاں پیش کیں  ہماری عوام ہمارے لوگ دشمن کے خلاف نکلے اور آن کی آن میں جنگ کا نقشہ بدل گیا.

    مانا نہیں ہے ہم نے غلط بندوبست کو
    ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے طاقت تھی جس نے مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ کون سی حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے مسلمان سب پر حاوی ہوگئے؟ وہ طاقت تھی ایمان کی وہ حکمت عملی تھی جہاد کی. آج ایک بار پھر اسلام کے مد مقابل کفر کھڑا ہے اور مسلمانو‍ں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو پھر آج امت مسلمہ میں اتحاد نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا ایمان کی وہ رمق باقی نہیں رہی؟ کیا حکمت عملی کمزور پڑ گئی؟ کیا آپ کو جہاد کا راستہ کارگر نظر نہیں آتا؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے ایک طرف کشمیری ہیں جو 72 سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا اور ایک طرف افغانستان کے لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کا راستہ اپنایا اور دنیا کی ایک بڑی طاقت روس کے ٹکڑے کر دیے اور دوسری طاقت جو اس وقت خود کو سپر پاور کہتی ہے وہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے تو آپ ذرا غور کریں کہ کس عمل سے کس کو کیا ملا؟ احتجاج والے کامیاب ہوئے یا جہاد والے؟

    ہمارے ملک پاکستان میں لوگوں میں آج بھی کفار سے ٹکرا کر ان کو شکست دینے کا عزم، حوصلہ اور ہمت موجود ہے ہم سب اپنے سپہ سالار کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے کہ اب وہ کشمیر لے کر ہی رہے گی کیونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور شیر جب اپنی شہ رگ پر خطرہ محسوس کرے تو اس خطرے کو نیست و نابود کر دیا کرتا ہے اب ساری امت مسلمہ ہمارا ساتھ دے یا نہ دے لیکن ہم سب ایک پیج پر ہیں ہم مسئلہ کشمیر پر اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں. ہماری حکومت سفارتی سطح پر بھارت کا چہرہ بے نقاب کر رہی ہے، ہماری فوج اور عوام جہاد کے لیے ہر دم تیار ہے اور اب یوں لگتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کا وقت آ گیا.

    آ گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا
    فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

    تحریر : محمد ہارون

  • 20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    فیصل آباد :دنیا ہے جہاں پر ایک طالب علم نہیں‌چاہتا کہ وہ فیل ہویا اس کے نمبر کم آئیں‌، ایسے ہی دنیا کے طالب علموں ، انسانوں‌ کا بھی نتیجہ بولنے والا ہے ، اطلاعات کے مطابق اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ فیصل آباد سالا نہ امتحانات 2019 ء کے نتائج کا اعلان کل20 ستمبر بروز جمعہ کوصبح 10 بجے کرے گاجس میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو رزلٹ کارڈ ان کے گھروں کے پتہ پر ارسال کردیئے جائیں گے

    اگرحکمران کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے میری مدد نہیں کرسکتے تو رکاوٹ تو نہ ڈالیں ، رابی پیرزادہ
    https://login.baaghitv.com/so-do-not-harkes-for-fmegovt-of-pakistan-if-donot-help/

    بورڈ ۱ٓف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل ۱ٓباد کی کنٹرولر امتحانات پروفیسر مسز شہناز علوی نے بتایا کہ رزلٹ انتہائی شفاف انداز میں اغلاط سے پاک تیار کئے گئے ہیں لیکن اگر پھر بھی کسی طالبعلم کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ 5 اکتوبر تک پیپرز کی ری چیکنگ کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بورڈ حکام کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے جن امیدواروں کو 25 ستمبر بروز جمعرات تک رزلٹ کارڈ نہ ملیں وہ بورڈ کی انٹر برانچ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    لاہور:حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے ، ان خیالات کااظہار وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے آج ایک تقریری مقابلوں کی تقریب میں‌کیا ، صوبائی وزیر نے کہا کہ جب وزارت کا قلمدان سنبھالا تو ایک بھی سرکاری یونیورسٹی عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام نہیں رکھتی تھی، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جامعات کو رینکنگ پر توجہ دینے کا کہا اور آج پنجاب کی دو جامعات دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہو گئی ہیں،

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    راجہ یاسر ہمایوں‌ نے اس موقع پر ملک میں فنی تعلیم کی بہتری کے حوالے سےکہا کہ فنی تعلیم کی کمی ہے اسی لئے کمیونیٹی کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جہاں جاب مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبا ء تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کر نے کے بعد طلباء چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔ یہ ابھی آغاز ہے انشا اللہ ہماری جامعات دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں گی۔صوبائی وزیرکے ساتھ اس تقریب میں‌اور بھی شخصیات کو دعوت دی گئی تھی،

    یاد رہے کہ پچھلے دنوں‌ دنیا کی جامعات کی درجہ بندی کرنےوالےادارے نے پاکستان کی چند جامعات کو بھی بہترین جامعات میں شامل کرتے ہوئے ان کی صلاحیت اور اہلیت کا اعتراف کیا تھا،

  • ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“   تحریر: محمد عبداللہ گل

    ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“ تحریر: محمد عبداللہ گل

    ہمارے وزیراعظم صاحب نے مصالحت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابھی کنٹرول لائن کی طرف مارچ نہ کریں۔ مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جانے دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں لیکن کشمیر پر بھارت کو ظلم ڈھانے سے نہیں روک سکتے۔ ہم مذمت کر رہے ہیں لیکن دشمن کی مرمت سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کشمیری بھارتی درندہ صفت افواج کے پہرے میں ہیں۔ ڈیڈ لاک، کرفیو نے کشمیریوں کا جینا ہی نہیں مرنا بھی دشوار کر دیا ہے۔ بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں، جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہے، بھارت کی بربریت و سفاکیت کی یہ انتہا ہے کہ ہسپتال پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ بیماروں کو علاج کروانے کے لئے ڈاکٹرتک نہیں جانے دیا جا رہا۔ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت گاجر مولی کی طرح ہمارے کشمیری بھائیوں کو کاٹ رہا ہے ادھر ہمارے وزیراعظم صبر کی تلقین کر رہے ہیں انہیں جنرل اسمبلی میں خطا ب کرنے کا انتظار ہے اُن سے ہم یہ پوچھتے ہیں حق بجانب ہیں کہ تب تک کشمیریوں کو قصائی مودی کے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور ہندوستان کو بربریت و سفاکیت کی کھلی چھٹی دی جائے۔ جنت نظیر پر کافر قبضہ کرنے کی سازش میں مصروف ہے اور اسے اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل کی آشیرباد حاصل ہے۔ اسرائیلی طرز پر کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے اور کشمیریوں کو یہاں سے نکالنے کے دشمن کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وادی کا مسلم تشخص ختم کیا جا رہا ہے۔ 72 سال بعد پہلی بار سری نگر کے لال چوک میں کشمیر کا جھنڈا اتار کر بھارت کا ترنگا لگا یاگیا۔ اصل میں بھارت نے ہماری معذرت خواہانہ پالیسی کے جواب میں پیغام دیا ہے کہ دیکھو تم امن کی بھاشا بولتے رہو اورہم جنگ کی بھاشا کو نہیں چھوڑیں گے۔ آج کشمیر کو ہتھیا لیاہے کل تم نے اسی طرح کمزوری دکھائی تو ہم آزاد کشمیر کو بھی تم سے چھین لیں گے بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ دھمکی دے چکا ہے کہ اب پاکستان سے آزاد کشمیر چھیننے کی باری ہے ایسے میں وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم امن کی داعی ہیں جنگ نہیں چاہتے مذاکرات سے حل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ سمیت یورپی ممالک ہماری مدد کو آئیں گے اور بھارت کو سبق سکھائیں گے۔ سبق انہوں نے نہیں ہم نے سکھانا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے تومودی کو مندر کا تحفہ دیکر اپنی پالیسی ہم پر واضح کردی ہے اب وزیراعظم اپنی کشمیر پالیسی پر ابہام دور کرتے ہوئے اس کی وضاحت فرمائیں قوم آپ کی مرہون منت ہوگی۔ادھر تو یہ عالم ہے کہ چالیس روز سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ہم ایک دن کا بھی کرفیو نہ اٹھا سکے نہ ہی بھارت کے لئے فضائی حدود بند کی اور نہ اس سے تجارتی بائیکاٹ کیا اور نہ ہی افغان ٹریڈ بند کی۔ ہم کس معجزے کے انتظار میں ہیں آسمان سے ابابیلیں نہیں اتریں گیں کہ جو کفار کو عبرت ناک شکست دیں۔ ہمیں کشمیر کی آواز کے لئے اعلان جنگ کرنا ہوگا۔ ہماری شیر صفت بہادر افواج ان پرایسے ٹوٹے گی کہ نیست و نابود کر دے گی۔وزیراعظم عمران خان سن لیں! اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی تو قوم ان پالیسی سازوں کا دھماکہ کر دیگی۔ پاکستان کو قدرت نے طالبان امن مذاکرات کی صورت میں ایک سنہری موقع دیا تھا کہ ہم امریکہ سے اپنی شرائط پر دونوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے مگر حکومت تو امریکہ کی اس پیشکش پر پھولی نہیں سما رہی تھی کہ طالبان مذاکرات کی مزید پر لانے کے لئے امریکہ نے ہم سے مدد طلب کی ہے اور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں جاگرے۔ ہائر کوالیفائیڈ، فارن ریٹرن وزیراعظم کی کابینہ و پالیسی سازوں کو یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ کم از کم امریکہ سے طالبان سے ثالثی کے عوض ہی منوا لیا جاتا کہ پہلے بھارت کشمیر سے اپنی فوج نکال لیں۔ مگر یہاں تو امریکہ یاترا کی واپسی پر پاکستان کی شہ رگ ہی کاٹ دی گئی۔ اگر شہ رگ کٹ جائے تو جسم زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا۔ اس کی زندگی کا واویلا شہ رگ پر ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے 5 اگست 2019ء کو پاکستان کوایک دفعہ پھر دولخت کر دیا گیا۔ اب غیرت مند لوگوں کو چاہئے کہ وہ علم جہاد بلند کریں ہماری افواج کا نعرہ ہے ایمان تقویٰ فی سبیل اللہ کس کا نعرہ ہے۔ افواج پاکستان نے بتا دیا ہے کہ ہم ہر سطح تک جانے کئے تیار ہیں اب یہ فیصلہ سول حکومت نے کرنا ہے۔ خدارا ٹیپو سلطان بنیں۔ ”ٹویٹ سلطان“ نہ بنے۔ ٹویٹر اور فیس بکوں پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ وزیراعظم صاحب کمزوری مت دکھائیں خوف کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا ادھورا ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں آپ سلامتی کونسل میں اجلاس کے انعقاد، رپی یونین کے اجلاس میں کشمیر کے ذکر کو ہی سفارتی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ مان لیا جائے کہ سفارتی محاذ پر ہمارے حصے میں صرف ناکامی آئی ہے جبکہ عسکری محاذ پر ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکی۔ الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور یہ ایٹم بم ہم نے ہندوستان اور اسرائیل کے لئے ہی بنایا ہے۔ کشمیر کی خاطر جس حد تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ گزشتہ 72 سالوں سے آزادی کی راہ میں خون بہانے والے کشمیریوں کے لہو سے غداری ہوگی اگر اسرائیل کو تسلیم کیا آخر اتنی جلد بازی کیوں ہے؟ کیا اسرائیل کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا؟؟؟
    حالات تیزی سے پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ مودی کی سازش کو ناکام بنانے اور کشمیر سے نکالنے کا ایک ہی واحد آپشن ہے وہ ہے جہاد اور اگر حکومت نے یہی بزدلانہ روش اختیار کئے رکھی تو قیامت کا دن ہوگا کشمیریوں کے ہاتھ ہونگے اور ہمارا گریبان ہوگا اس لئے ہمیں کچھ کرنا چاہئے اس وقت کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے لیکن حکومت اور ادارے ہوش کے ناخن لے رہے یہ تشویشناک صورتحال ہے قوم میں مایوسی کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے غفلت دکھائی تو یاد رکھیں ہندوستان کا بارڈر اسلام سے صرف 22 کلومیٹر دور رہ جائے گا۔ دراصل بھارت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک لوکل موومنٹ ہے اسی لئے حالیہ اقدامات اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ انڈیا کے فوجی دستے کشمیریوں کے گھر گھر میں گھس کر قتل عام کررہے ہیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اقدامات بروئے کار لائیں جائیں صرف سفیر کی طلبی یا اُسے نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں آگے جانا ہوگا۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے خطرناک عزائم میں کامیاب ہو گیا تو وہ یقیناً آزاد کشمیر پر حملہ کرے گا اس حملے کی صورت میں وہ ثالثی کی کوششیں سامنے آئیں گی جن کا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اظہار کیا تھا ہمیں مصلحت کی پالیسی مسترد کر کے سخت ردعمل اختیار کرنا ہوگا۔بابائے قوم قائداعظم نے فوج کو کشمیر کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جسے جنرل ڈگلس گریسی نے ماننے سے انکار کردیا تھا آج پھر اسی حکم پر عمل درآمد ضروری ہو گیا ہے۔