Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کلسٹر بم 2000 بموں کا مجموعہ ؟ دنیا کا خطر ناک ترین ہتھیار ، کیسے ؟

    کلسٹر بم 2000 بموں کا مجموعہ ؟ دنیا کا خطر ناک ترین ہتھیار ، کیسے ؟

    لاہور : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں پر کلسٹر بموں سے حملے جاری ہیں ، جس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان کا خدشہ ہے. اس سے پہلے کلسٹر بم افغانستان میں‌پھینکے گئے . یہ بم کتنے خطر ناک ہیں اس کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپور ٹ میں بہت اہم معلومات دی گئی ہیں.

    رپورٹ کے مطابق کلسٹر بم دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہیں، اسی وجہ سے ان پر 120 ممالک نے پابندی لگائی، یہ بم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں؟یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے.

    کلسٹر بم فضا یا زمین سے پھینکے جانے والے گولوں کی ایک ایسی قسم ہے جس کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گولے موجود ہوتے ہیں۔ یہ گولہ جب پھینکا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والے مزید چھوٹے گولے وسیع علاقے میں جانی نقصان یا گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بنیادی کلسٹر بم خالی شیل ہوتا ہے جس کے اندر 2 سے لے کر 2000 تک چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ کلسٹر بم پھینکے گئے بلکہ اس سے پہلے کلسٹر بم کا استعمال دوسری جنگ عظیم کے دوران سویلین اور ملٹری اہداف کے خلاف کیا گیا۔ یہ گولے حملے کے وقت بھی اور بعد ازاں بھی سول آبادیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ نہ پھٹنے والے گولوں کو اگر ہٹایا یا ناکارہ نہ بنایا جائے تو طویل عرصے بعد بھی یہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ انہیں تلاش کرنے اور ہٹانے کی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے مئی 2008 میں آئرلینڈ میں کلسٹر بموں پر ہونے والے کنویشن کی توثیق کرنے والے ممالک پر اس بم کے استعمال کی پابندی عائد ہے جب کہ 2010 سے اس پر پابندی انٹرنیشنل قوانین کا حصہ ہے اور اب تک 120 ممالک اس کنونشن میں شامل ہیں۔

    دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہےکہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر پھینکے گئے کلسٹر بموں کی تحقیقات کرکے بھارت کے خلاف کارروائی کی جائے

  • مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک آزاد مسلم ریاست قائم ہوگی، "گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود” یہ اقبال ہی تھے جس نے اس وقت تقدیر مبرم کا مشاہدہ کرلیا تھا جب قائداعظم نے 14 نکات ہی پیش کیے تھے پھر دنیا نے دیکھا کہ قدرت والے نے پاکستان کو رمضان کے مہینے میں نازل فرمایا اور اہم بات یہ کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج پہلے نہ پیدا کیا ہو بالکل اسی طرح اسرائیل کے وجود سے 9 مہینے پہلے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تقسیم ہند اس بنیادی اصول کے تحت طے پائی تھی کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں، اس حساب سے کشمیر قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتا تھا مگر انگریز کی عیاری اور بدنیتی کے باعث کشمیر کا معاملہ ادھورا رہ گیا جس پر لارڈ ماونٹ بیٹن و نہرو نے غاصبانہ قبضہ جمالیا اس حق تلفی کے سبب پاکستان و بھارت کے مابین کئی خونریز جنگیں بھی ہوئیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوے اور باہمی کشیدگی پر ہر سال ارب ہا ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، معاملہ شروع میں اقوام متحدہ کے احاطے میں گیا مگر اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو پایا، اس ضمن میں شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پہ متفق تو ہوے مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا، دانشمندی تو اسی میں تھی کہ دونوں ملک ستر سالہ مخاصمت کو مٹانے کے لیے کوئی عملی کام کرتے، عین ممکن تھا ایسا ہو بھی سکتا تھا مگر ہندوتوا دہشتگرد کبھی بھی ہندو مسلم منافرت کی دیوار برلن کو گرانے کے لیے تیار نہیں بلکہ مودی سرکار میں تو ہندوتوا دہشتگردی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، ماضی میں اس کی راہ میں سوویت یونین کا ویٹو بھی حائل تھا اور امریکی عدم دلچسپی بھی مگر اب امریکہ نے اس مسئلے کے حل میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، دورہ عمران خان کے موقع پر امریکہ نے کشمیر پہ ثالثی کا بیان دیا اور اب اس مسئلے کو نمٹانے کا عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات عالمی حالات کے تناظر میں دیکھی جائے تو ہر ذیشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے سر توڑ کوشش کرتا آرہا ہے جیسا کہ اب چین امریکہ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے تو دوسری طرف روس ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ایسے میں امریکہ کو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے اسرائیل کی بھی ضرورت ہے جو شاید ممکن نظر نہیں آتی البتہ مشکل ضرور ہے، اس ضمن میں بھارتی ڈیفینس ریسرچ ٹیم کے سربراہ کی رپورٹ میں بتایا جاچکا ہے کہ امریکہ کا آزاد خود مختار کشمیر کے قیام کا منصوبہ ہے جوکہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور جموں و لداخ کے علاقوں پہ مشتمل ہے اور آزاد خود مختار کشمیر کا آپشن "آل پارٹیز حریت کانفرنس” کے دستور میں شامل ہے مزید برآں ملک یاسین سے انڈین ٹی وی کے اینکر کا خودمختار ریاست کا سوال جس پہ ملک یاسین کا یہ کہنا کہ آپشن موجود ہے اور حریت پسند تنظیم کے سپریم کمانڈر عمر خالد کا روزنامہ جنگ میں شایع ہونے والا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ کشمیر میں خودمختاری کا نظریہ فروغ پانے لگا ہے اور یہ بات سب پہ عیاں ہے کہ جنگ جیو گروپ کو بات متن سے ہٹا کر پیش کرنے میں اولیت حاصل ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 2010 کے بعد سے بالعموم اور 2014 کے بعد سے بالخصوص کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان کی جڑیں زیادہ گہری ہورہی ہیں اور اگر کشمیر خودمختار بھی بنتا ہے تو بھی سو فیصد پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ کشمیری بھائیوں سے پاکستان کا رشتہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائم ہوگیا تھا جس کا عملی مظاہرہ 1931 سے شروع ہونے والا آزادی کا جذبہ سامنے آچکا ہے اور قیام پاکستان کے فوری بعد گلگت بلتستان بریگیڈ کے کمانڈر کا سپاہ سمیت پاکستان کے حق میں کھڑا ہوجانا بھی ریکارڈ پہ موجود ہے یہ درحقیقت خالصتاً انڈین رپورٹ تھی جوکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ٹالنے کے لیے ایک ہتھیار بھی تھا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام میں بددلی و بےچینی پیدا کرنا تھا جیسا کہ ماضی میں بھارت کامن ویلتھ ٹروپس یا امریکی ثالثی کو پاکستان کے سیٹو اور سینٹو پیکٹ کو لیکر بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا اور Demilitarize کرنے سے بھاگتا رہا جس کے سبب استصواب رائے نہ ہوسکی لیکن اب شاید بھارتی ہتھکنڈے زیادہ نہ چل سکیں کیونکہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کو لیکر بحث جاری ہے 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ڈبیٹ میں واضح طور پر کہدیا گیا تھا کہ Kashmir is not a forgotten conflict اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ Kashmir is unresolved issue جس سے پاکستانی موقف کی جیت ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی قریب کی پاکستانی حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے پہ عملی کام مایوس کن رہا حتیٰ کہ UNSC کی طرف سے کشمیر کو Unresolved Issue کی فہرست سے نکالنے کے لیے پاکستان سے موقف مانگنے پر حکومت وقت نے کوئی جواب ہی جمع نہیں کروایا لیکن 2014 میں قدرت نے اس وقت دوبارہ زندہ کردیا جب David Ward برطانوی پارلیمینٹیرین سمیت دیگر نے اسے Unresolved issue قرار دیا جسکی جزوی تائید یورپی یونین نے بھی کی لیکن افسوس پاکستانی حکومت اور اینکر مافیا اس وقت کہاں سوئے تھے جس پر کمنٹ کا حق قارئین خود استعمال کریں، اس کے علاوہ فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے اس مسئلے کے حل کو دنیا کے امن کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہے جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر میں پچاس ہزار مزید فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر شدید دراندازی شروع کررکھی ہے مزید برآں امرناتھ یاترا پہ آنیوالوں پہ حملے کا خدشہ قرار دے رہا ہے عین ممکن ہے کہ پارلیمنٹ حملے کی طرح کوئی حملہ کرواکر دنیا میں پاکستان کے خلاف ڈھونگ رچائے دوسری طرف یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا پہ جانے والوں کی تعداد ابتک کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے یقینی ہے کہ ان کی آڑ میں ہزاروں ہندوتوا دہشتگرد خطے میں بھیجے گئے ہوں جن کے مذموم مقاصد مکتی باہنی طرز کے ہوسکتے ہیں جسے بھارت پروپیگنڈے کے تحت حریت پسندوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے لیکن انشاءاللہ اب کی بار بھارت کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے

  • کیا ہندوستان خطے کا امن تہہ و بالا کرنے جا رہا ہے — فہیم شاکر

    2 اگست 2019 دوپہر 1 بجکر 3 منٹ ہوئے ہیں
    جیو نیوز کے ٹویٹر ہینڈلر سے ٹویٹ کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ معاملات بگڑتے جا رہے ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں
    دوسری طرف انڈیا ٹوڈے نے خبر لگائی کہ 28 ہزار فوجی وادی کشمیر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ہفتے عشرے قبل 10 ہزار فوجی روانہ ہوئے تھے
    تیسری طرف ANI نے خبر لگائی کہ موجودہ حالات کی سنگینی کے تناظر میں حکومت نے بھارتی فضائیہ اور آرمی کو ہائی آپریشن الرٹ موڈ پر کر دیا ہے اسی طرح 2 اگست 2019 دوپہر 3 بجکر 13 منٹ پر ANI ٹویٹ کرتا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی تیارکردہ اینٹی پرسنل مائن (فرد شکن بارودی سرنگ) سیکیورٹی فورسز نے برآمد کر لی ہے اور اس کے ذریعے بھارتی میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جبکہ دنیا واضح طور پر جانتی ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے
    یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ انڈیا نے کہانی پہلے سے ہی لکھ رکھی تھی اب اس پر عمل ہو رہا ہے
    ورنہ کشمیریوں کو یہ نہ کہا جاتا کہ مہینے بھر کا راشن جمع کر لیں
    انڈیا کے عزائم صرف خطرناک ہی نہیں ہیں بات اس سے بہت آگے جا چکی ہے
    مقبوضہ وادی میں ایک بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی آمد اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے تحاشہ گولہ باری تاکہ پاکستان کو اشتعال دلایا جا سکے اور شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں یہ سب کسی بڑے حادثے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں
    ہندوستان لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقوں میں گولہ باری کر کے عام آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس سے افراد شہید اور زخمی ہوتے ہیں جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ بارڈر کے دونوں اطراف مسلمان آباد ہیں اور انڈیا اسی ایک بات کا بے تحاشہ فائدہ اٹھاتا ہے
    کچھ عرصہ قبل ہندوستانی معروف کرکٹر دھونی کی مقبوضہ کشمیر آمد اور فوج میں ایک ماہ کے لیے خدمات انجام دینے کی خبریں بھی زیر گردش رہیں انڈیا سے کچھ عبث نہیں کہ وہ دھونی کو مروا کر الزام پاکستان پر دھر دے اور بڑی جنگ چھیڑ دے
    اب آئیے پاکستان کی طرف
    کوئٹہ بم دھماکہ،طیارہ حادثہ، افغان بارڈر پر شہادتیں، بارشوں سے ہلاکتیں، سیلابی صورتحال، وادی نیلم بھارتی شیلنگ، اور آج پشین دھماکہ جس میں 10 افراد کی شہادت کی اطلاع،
    اور دوسری طرف پاک فوج پاکستان کے اندر سیلابی صورتحال سے نبرد آزما جبکہ سیاہ ست دان ملکی سپریم اداروں پر لاف زنی میں مصروف، کسی کو احساس ہی نہیں دشمن پر تول چکے ہیں، اور پاکستان کی سلامتی اس وقت شدید خطرے میں ہے، ملکی دفاع صرف فوج ہی کا کام نہیں، عوام کو ہر حال میں فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہوگا سیاہ ست دانوں کی بات البتہ الگ ہے وہ تو کبھی پاکستان سے مخلص رہے ہی نہیں
    لیکن اس کے باوجود ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اگر انہیں کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچا یا قتل کرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو ان کی پارٹی کے افراد ریاست کے خلاف بغاوت کر کے دشمنوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دے سکتے ہیں اور یہی خواہش پاکستان دشمنوں کی ہے اور یہی سیاہ ست دان چاہتے ہیں،. جیسے کہ مریم نواز آئے روز ریاست کو للکارتی اور طیش دلاتی ہے لیکن ریاست صرف برداشت کرنے کی اصول پر کاربند ہے ورنہ مریم نواز نے اپنی طرف سے کمی کوئی نہیں چھوڑی، اور حکومتِ وقت پر الزامات کی بوچھاڑ کر اپنے پارٹی کارکنان کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی کہ پاکستان کے تمام کردہ و ناکردہ جرائم، موجودہ و ماضی کے تمام مسائل کی جڑ خان ہی ہے تاکہ اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوتا ہے (جس کے چانسز 70 فیصد موجود ہیں) تو پارٹی کارکنان خان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیں اور اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچے گا یہ ہم سب جانتے ہیں تو یہ بالکل واضح ہے مریم نواز دانستہ کن قوتوں کی آلہ کار بن چکی ہے؟ اور وہ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے کر رہی ہے
    اور قوم کو بغاوت پر اکسانے والے بالکل تیار بیٹھے ہیں
    میں نے اپنی گذشتہ تحاریر میں اس بات کس شُدمُد سے اظہار کیا تھا کہ مودی سرکار پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے گی تو کچھ دوستوں نے اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب انڈو پاک جنگ کا لالی پاپ دینا بند کیا جائے اور پاکستان ہندوستان مُڈبھیڑ کا چورن بیچنا بند ہونا چاہیے لیکن انہی دوستوں کی خدمت میں آج ساری صورتحال پیش کر کے یہ کہہ رہا ہوں کہ دیکھ لیجیے ہماری کہی بات پوری ہو رہی ہے
    حالانکہ ہم نے کسی قدر کم خطرے کا اظہار کیا تھا لیکن موجودہ خطرہ بیان کردہ سے 10x زیادہ ہے
    کیونکہ ہندوستان نے جس انداز سے مقبوضہ وادی میں موجود سیاحوں کو فوری وادی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان یا تو مقبوضہ وادی کو چاروں طرف سے گھیر کے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے جا رہا ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ کوئی نئی پنجہ آزمائی کا ارادہ رکھتا ہے لیکن کیا پاکستان بے خبر ہے؟
    سوشل میڈیا کے شیروں کو خبر ہو کہ پاکستان بالکل تیار کھڑا ہے اور پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں ہے
    لیکن کیا ہم سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور مسلح افواج کی پشتیبانی کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم. اس محاذ پر جنگ لڑنے کو تیار ہیں؟
    یاد رکھیے اب نعروں سے کام چلنے والا نہیں، اب دشمن پراپیگینڈہ تیز کرے گا اور من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائے گا تاکہ وطن عزیز کے اندر انتشار پھیلے لیکن آپ ہی وہ تازہ دم دستہ ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو اصل حالات سے باخبر رکھنا ہے اور دشمن کی پھیلائی جھوٹی افواہوں کو ختم کرنا ہے
    پاک فوج وطن عزیز کے چپے چپے کے دفاع کے لیے بالکل مستعد ہے لہذا آپ بھی وطن کے دفاع کی خاطر *استعدوا* ہوجاو

  • عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت    واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (صحیح البخاری)۔

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ ( طبرانی)۔

    سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ ( دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔

    مستحب اعمال

    کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔

    نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ ( ابوداؤد، مسند احمد)۔
    کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہےتکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:

    اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا

    اور

    اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

    یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔

    قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔

    احکام ومسائل قربانی

    قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):
    قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

    فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔

    تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔

    قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

    عیدالاضحی کے آداب

    قارئین کرام! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:

    بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔

    قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔
    خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔

    عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود شراب نوشی کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔

    ایام ذوالحجہ کی ایک اہم عبادت حج، عمرہ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت ہے۔ ہم حج پر تفصیل سے نہیں لکھ رہے کیونکہ حج کے ارکان اور دیگر مسائل پر آج کل بیشمار چھوٹے رسائل میں موجود ہیں۔ لوگ وہاں رجوع بھی کر سکتے ہے۔

  • سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔۔ راؤ فیصل

    سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔۔ راؤ فیصل

    چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نے اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے وہ اپوزیشن جو حجم کے لحاظ سے طاقتور اور بڑی دکھائی دے رہی تھی دراصل وہ سراب تھی، بلاول، مریم، مولانا فضل الرحمان، حاصل بزنجو وغیرہ وغیرہ کے اتحاد کو ان بھان متی کا کنبہ کہا جا رہا ہے اپوزیشن کی سیاست ایک کمزور بیانیے پر کھڑی ہے جس کا تعلق ذاتیات سے متعلق ہے عوامی مسائل کا اس سے دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ یہ کھوکھلا بیانیہ نہ تو اپنی سیاسی ساکھ کو راکھ بننے سے روک پا رہا ہے اور نہ ہی اس میں جان ہے

    سینیٹ کی بازی پلٹنے کی بڑی وجہ صادق سنجرانی کی اپنی مثبت شہرت اور ایک سال اور پانچ ماہ اس کرسی پر غیر جانبداری سے کئے گئے فیصلے بھی ہیں ان کے حمایتی کو چھوڑیں ان کے مخالف بھی ان کی شرافت اور کردار کی گواہی دیتے رہے خود حاصل بزنجو بھی ان کے اقدار کا دم بھرتے ہیں اس تحریک عدم اعتماد کو شروع سے ہی بلاجواز قرار دیا جاتا رہا ہے
    وہ پیپلزپارٹی جو ۱۲ مارچ ۲۰۱۸ کو صادق سنجرانی کو ہیرو قرار دے رہی تھی اور ضیاء کی باقیات کو طعنے دے رہی تھی بلاول خود صادق سنجرانی کی فتح کے جشن میں ٹویٹ کررہے تھے

    زرداری بھی نواز شریف کو وکٹری کا نشان بنا کر چڑا رہے تھے اب ایک سال بعد جب ان کے نظریات نے ایک بار پھر جوش مارا تو اسی صادق سنجرانی کے خلاف اب اپنے سینیٹرز کو ووٹ ڈالنے کا حکم صادر کررہے تھے کیا سینیٹرز مٹی کے بت ہیں جو اس لیڈر شپ سے اس یوٹرن پر سوال نہ اٹھائیں اور کیا نون لیگ میں وہ ضیاء کی باقیات بالکل مر چکی ہے جو ایک سال پہلے تک زندہ تھی
    اپوزیشن کی بدترین شکست نے نوازشریف کو بھی بڑا دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ میر حاصل بزنجو ان کے امیدوار تھے اگر وہ جیت جاتے تو نون لیگ کو اپنی لگاتار قانونی اور سیاسی رسوائی بھول جاتی لیکن ایسا نہ ہوا کیونکہ میر حاصل بزنجو کا انتخاب ایک خاص ذہنیت کا انتخاب تھا جو اس وقت ریاستی اداروں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بے نقاب ہو رہی ہیں
    وہ میر حاصل بزنجو جو اپنے چھوٹے سے مفاد کی خاطر یہ بھی بھول گئے کہ وہ پاکستان کے ایک ایسے ادارے پر الزام لگا رہے ہیں جو پاکستان کے دفاع کی ضمانت ہے ایسی ذہنیت کے مالک شخص کو کیسے قائم مقام صدر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی تاریخ میں جائیں تو بات نیشنل عوامی پارٹی(NAP) پر پابندی تک جا پہنچتی ہے جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے
    میں نے جولائی کی بارہ کو یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی اس کی وجوہات میں ایک نمایاں وجہ یہ بھی تھی کہ اگر اس وقت سینیٹ چیئرمین تبدیلی میں اپوزیشن کامیاب ہو جاتی تو پی ٹی آئی کی حکومت کسی صورت بھی چند ماہ سے زیادہ قائم نہیں رہ پائی گی اگرچہ ابھی بھی ان کے سامنے بیشمار مصیبتیں موجود ہیں لیکن تاحال اس سیٹ آپ کو تمام اداروں کا اعتماد حاصل ہے یعنی حکومت کو اندرونی طور پر خطرہ لاحق نہیں اور معیشت کے بحران سے مقابلے کیلئے ریاست اب کسی طرح بھی مقننہ کے معاملات میں الجھاؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں تو میرے خیال میں اس تبدیلی کے حمل میں سب سے بڑی وجہ تو یہی تھی کیونکہ اپوزیشن نے اس تبدیلی کے بعد ایوان زیریں پھر بلوچستان اسمبلی اور پھر پنجاب اسمبلی کی طرف بھی بڑھنا تھا سینیٹ کی کامیابی سڑکوں اور گلیوں میں ان کی حمایت کو پرزور کر سکتی تھی
    سینیٹ میں ناکامی سے پہلے وکلا کی تحریک، تاجروں کی تحریک، صنعتکاروں کی تحریک، مذہبی جماعتوں کی تحریک کا بھی حکومت مقابلہ کر چکی ہے جن میں سے تو کچھ ابھی بھی پنپ رہی ہیں لیکن ریاست کے فیصلوں کے آگے کسی کی نہیں چلے گی اگر اصلاحاتی ایجنڈا نامکمل رہا تو اس کا نقصان عوام کو ہی ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی کا دورانیہ بڑھ جائے گا اور اگر یہ معاملات درست سمت میں بوقت ضرورت چلتے رہے تو یہ دورانیہ زیادہ سے زیادہ ایک سال ہو گا جس کے بعد معیشت سنبھلنے لگے گی
    بہرحال کرپٹ اشرافیہ اور سیاسی مافیا کو کسی قسم کی چھوٹ کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا ایک اور اہم بات آخر میں بیان کردوں کہ وہ حضرات جو جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت کے بارے میں قیاس آرائیاں کررہے ہیں وہ حوصلہ رکھیں “افراد” اداروں سے زیادہ اہم نہیں ہوتے، ابھی اتنا ہی کہوں گا۔

  • سعودی خواتین کو ملی اب اور آزادی

    سعودی خواتین کو ملی اب اور آزادی

    سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عربی اخبار ’عکاظ ‘ کے مطابق سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔
    ’’ملک میں نئے قانون کے تحت 21 سال کی عمر کے بعد خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے مرد سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل بالغ خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے والد، بھائی یا شوہر سے اجازت لینی پڑتی تھی‘‘۔ خواتین پر اس طرح کی پابندی کی دیگر ممالک میں سخت تنقید ہو رہی تھی۔
    اخبار کے مطابق حالیہ قانون کے بعد خواتین، مردوں کی طرح اپنے بچے کی سرپرست ہونگی اور اب وہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش پر انتظامیہ کے متعلقہ دفتر میں رجسٹر کرا سکتی ہیں۔سرکاری اخبار کے حوالے سے فرانسیسی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت جنس کی تفریق کے بغیر اب ہر اس شہری کو پاسپورٹ جاری کردے گی جو اس سلسلے میں درخواست دے گا۔

    واضح رہے اس سے پہلے سعودی قانون کے مطابق تمام عمر کی خواتین پر لازم تھا کہ پاسپورٹ بنوانے اور بیرون ملک سفر کے لیے اپنے خاندان کے کسی فرد یعنی نگراں جیسے والد، شوہر یا بھائی کو ضرور ساتھ لے کر جائیں یا پھر کم از کم ان کی اجازت کے ساتھ سفر کریں گی۔

  • کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔

    انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔

    انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔

    تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
    بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔

    درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔

    جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔

    20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔

    تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
    اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
    آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔

    مگر کیوں۔۔۔؟

    امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔

    بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!

    اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
    دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
    ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں