Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
    پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
    پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
    وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
    عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
    اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
    ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
    نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
    عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
    عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
    دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
    خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
    اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
    سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
    کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
    حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
    خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
    البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
    امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔

  • انتخابات 2018 ء پس منظر سے پیش منظر ۔۔۔ خنیس الرحمان

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں الرباط ویب سائٹ چلایا کرتا تھا. ندیم اعوان بھائی معروف ٹورسٹ ہیں ان کے توسط سے فاروق اعظم بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے گیا تھا وہاں کی یادوں کو میں نے قلمبند کیا ہے تو آپ اس سفر نامے کو اپنی ویب سائٹ پر لگادیں میں نے بخوشی لگانے کی حامی بھر لی اور وقفے وقفے کے ساتھ 7 قسطوں پر مشتمل ان کا سفر نامہ حرمین ویب سائٹ پر لگا دیا. فاروق بھائی کا لکھنے کا انداز اور ضبط تحریر انتہائی شاندار تھا. گزشتہ چند ہفتے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک کتاب کی تصویر لگائی انتخابات 2018ء پس منظر سے پیش منظر تک جب میں نے نیچے مصنف کا نام دیکھا تو وہ فاروق بھائی ہی کی تصنیف تھی. میں نے فوری فاروق بھائی سے ایک کتاب بھیجنے کا کہا, تقریباََ تین دن بعد کتاب خوبصورت سرورق میں میرے ہاتھوں میں تھی اور کتاب پہنچنے کی ان کو اطلاع دی ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا. کتاب تو میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالی.کتاب کے حوالے سے بات کرنے سے قبل میں فاروق بھائی کے حوالے سے بتاتا چلوں.فاروق اعظم بھائی کا تعلق کراچی سے ہے اور سیاسیات کے طالب علم ہیں, انہوں نے 2014ء میں جامعہ کراچی سے سیاسیات میں بی اے آنر کیا اور 2015 ء میں ایم اے سیاسیات مکمل کیا.اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا ممنواتے رہے. فاروق اعظم بھائی آج کل جامعہ کراچی میں شعبہ سیاسیات میں بطور تحقیق کار وابستہ ہیں.
    اب چلتے ہیں فاروق بھائی کی تصنیف کی طرف انہوں نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے .کتاب کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہے یعنی انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں پاکستان کے 1947 ء سے 2013 ء تک کے انتخابات کے حوالے سے لکھا. انہوں نے کتاب کا پہلا حصہ انتخابات کا پس منظر کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اس میں انہوں نے سب سے پہلے انتخابات کا پس منظر کہ کون کون سی جماعت مد مقابل تھی, کونسی نئی جماعت اور چہروں نے انتخابات میں حصہ لیا, جو مذہبی جماعتیں الیکشن کو درست نہیں سمجھتی تھیں ان کا انتخابات میں حصہ لینا اور نمائندگان کو درپیش مسائل اور جو نااہل ہوئے کس بنیاد پر ہوئے ان وجوہات پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ جو انتخابات کے دوران خونریزی دھماکے ہوئے اور کون کون سے سیاستدان شکار ہوئے اس حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا .جو کتاب کا دوسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے نتائج کے حوالے سے لکھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج میں کن جماعتوں نے اپنی بہتر کارگردگی دکھائی, کون کون سے بڑے برج الٹے اور کون سے نئے چہرے سامنے آئے, انہوں نے ہر صوبے کے حوالے سے الگ الگ نتائج اور کارگردگی کو سامنے رکھ کر زبردست رپورٹ مرتب کی, اس میں انہوں نے ووٹوں کی تعداد اور جماعتوں کے ووٹ بنک کا خاکہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترتیب دیا. جو کتاب کا تیسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح سے کلین سویپ کرنے والی جماعت نے وفاق میں اپنی حکومت قائم کی اور دیگر صوبوں میں کس طرح کن جماعتوں نے اپنی حکومت قائم کی, وزیر اعظم, وزرائے اعلی کے انتخابات کے حوالے سے بتایا اس کے علاوہ ممبران کابینہ وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کے نام بمع وزارت لکھے . اس میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ فاروق بھائی نے کتاب پہلے ترتیب دی اس لیے 9 ماہ کے اندر حکومت نے وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں کئی چہروں کو ان کی غیر مناسب کارگردگی کی بنیاد پر ہٹا کر نئے چہرے سامنے لائے کچھ کی وزارت تبدیل کی گئی, اس کے بعد اس حصہ کہ آخر میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر روشنی ڈالی. اب کتاب کا جو چوتھا حصہ ہے اس میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح کن جماعتوں نے کس لیڈر کو چنا اور اپوزیشن کا صدر کے انتخاب کے لئے نمائندہ منتخب کرنے میں اختلاف کے حوالے سے بتایا اور صدارتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی اس کے بعد صدر عارف علوی کے خطاب پر روشنی ڈالی اور انہوں نے صدر صاحب کے خطاب سے متعلق کہا کہ اگر اس کا موازنہ وزیراعظم کے خطاب سے کیا جائےتو غلط نہ ہوگا. اس کے علاوہ صدارتی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے پرانے صدور اور حال پر نظر ڈالی. جو کتاب کا آخری حصہ ہے اس میں انہوں نے ضمنی انتخابات کو سامنے رکھا.
    اس کتاب سے متعلق میں نے کچھ ساتھیوں سے تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے انٹر نیٹ کے دور میں اس کتاب کی ضرورت نہیں تھی میں سمجھتا ہوں جو کچھ فاروق بھائی نے لکھا وہ آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ سے نہیں مل سکتا کیونکہ انہوں نے خود انتخابات کے دوران کوریج میں حصہ لیا اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سارا احوال لکھا جو کہ ایک سیاسیات کے طالب علم کا بہت بڑا کارنامہ ہے. میں حکومت اور تعلیمی اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو تاریخ پاکستان کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا جائے اور تمام لائبریرین اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں کیونکہ نا اس میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا نا کوئی انکشافات کیے گئے بلکہ انہوں نے تاریخ پاکستان کی ایک ضرورت کو مکمل کیا۔

  • ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی

    ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی

    کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے. یہ صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو سفارتی اور سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اتنی بات آج تک کسی امریکی صدر نے نہیں کی. اس بات سے مجھے امریکی انتخابات میں میرا اپنا موقف یاد آتا ہے جو میں نے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بار بار دہرایا تھا کہ أوباما پاکستان کیلیے بد ترین امریکی صدر ثابت ہوا ہے، لیکن ایک سیدھی بات کرنے والا ٹرمپ جیسا بزنس مین پاکستان کیلیے بہتر ہو سکتا ہے اور ہمیں ان سے روابط بنانے چاہیں.

    کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئے کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور علانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں دھماکے ہو رہے ہیں. بڑی پسپائی ہے کشمیر پر بھارتی موقف کی.

    کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو علانیہ یہ بات نہیں بتانی چاہیے تھی کہ مودی کشمیر پر انکی مدد مانگ رہا ہے کیونکہ اب بھارت میں پریشر پیدا ہوگیا ہے جو ممکنہ ثالثی کو مشکل بنا دے گا.

    لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے. بھارت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا ہی کرنے جا رہا تھا. لیکن صدر ٹرمپ نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت روایتی سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کیلیے تیار ہوسکتا ہے، اور یہ بات پاکستان اور کشمیریوں کے ہاتھوں ایک نیا سفارتی ہتھیار بن گئی ہے.

    احمد قریشی

  • جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    پاکستانی میڈیا کو اب تک 4 ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

    پہلا دور سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا تھا۔ جس کے خبرنامہ میں صدر، وزیر اعظم کی سرکاری تقریبات، وزیر اطلاعات وغیرہ کے پالیسی بیان، ملک میں ہونے والا بڑا حادثہ، کھیل، شوبز کی خبریں اور آخر میں موسم کا حال سنا کر سب امن سکون کی شنید سنائی جاتی تھی۔ اس دور میں مالاکنڈ ڈویژن میں زیادہ بارش اور بلڈ پریشر کے مریض کم ہوتے تھے۔

    پھر اخبارات کا دور آیا۔ حکومت مخالف خبریں شایع ہونا شروع ہوئیں اور ساتھ ہی سینسر شپ بھی۔ قلم کے مزدور باز نہ آتے۔ روز کسی نئے انداز سے معلومات عوام تک پہنچا دیتے۔ آزادی صحافت کے لیے کوڑے کھانے والوں کے قلم کی کاٹ سے ایوانوں میں رہنے والے پریشان ہوجاتے۔ گرفتاریاں، کریک ڈاون اور اخبارات کو بند کرنے کے احکامات روز کا معمول تھا۔
    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    پھر نجی ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد نہ صرف میڈیا فاسٹ ہوا بلکہ کمرشل بھی ہوگیا۔ صحافیوں کی تنخواہیں بہتر ہونے کے ساتھ صحافت نایاب ہوگئی۔ یار دوستوں کو کہتے سنا۔ پہلے اخبار میں صحافت کرتے تھے۔ اب چینل میں نوکری کرتے ہیں۔ چینل بھی تقسیم ہیں۔ ایک حکومت کا حامی تو دوسرا مکمل مخالف، ایک پرو آرمی تو دوسرا آرمی مخالفت میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ ایسے میں کس پر اعتبار کریں
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سب چھوڑیں اب بات کرتے ہیں دور حاضر کی۔ موبائل نے سب کو فوٹوگرافر اور سوشل میڈیا نے سب کو صحافی بنادیا ہے۔ حقائق کیا ہیں اسے چھوڑیں بس اپنے لیڈر کو درست اور مخالف کو ننگا کرنا مشن ہے۔ مشرقی اقدار، روایات، اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ کبھی بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں اب مخالف سیاسی پارٹی کی ہوگئی ہیں۔

    کبھی دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی۔ بھی گلوبل ویلیج بن گئی اور اب سوشل میڈیا نے اسے ایک اندھیرا کنواں بنا دیا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں جو خوش فہمی یا مایوسی میں مبتلا کردیتے ہیں۔

    ماضی کے میڈیا پر الزام تھا کہ وہ مرضی کی خبریں دکھاتے ہیں۔ مگر آج سوشل میڈیا کے کسی اسٹیٹس یا ٹوئیٹ پر آنکھ بند کر کے اعتبار کریں تو معلوم ہوتا ہے فیک اکاونٹ ہے۔

    اب آپ ہی بتائیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟

  • ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    باجوہ صاحب کے ساتھ ہوتے ہوئے کوئی بھی بیان بازی خان صاحب کی ذاتی نہیں ہوسکتی بلکہ جو بھی اسٹیٹمنٹس دی جائیں گی وہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کا متفقہ بیانیہ ہوگا.
    اور مان لیجیئے کہ ریاست پاکستان کا فی زمانہ بیانیہ یہی ہے. ماضی قریب میں وقوع پذیر والے واقعات کو ہی بطور مثال لے لیں، مذہبی و جہادی سوچ کی حامل جماعتوں پر پابندی اور انکی قیادت کی گرفتاری، کشمیر میں موجود جہادی گروہوں کے بارے میں بھارت کو انٹیلیجنس معلومات دینا، سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دینا، کشمیر کے ایشو پر وقتی چپ سادھ لینا، افغانستان ایشو پر دو ٹوک موقف رکھنا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، مغربی سرحد پر باڑھ کا لگنا ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا، کرپشن چارجز پر جیلیں بھرنا اور اب امریکہ کے دورے میں ٹرمپ کی ہاں میں ہر طرح سے ہاں ملانا اور اسامہ بن لادن تک سی آئی اے کی رسائی میں آئی ایس آئی کے کردار کا اعتراف کرنا یہ سب ماضی قریب ہی کہ واقعات ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنا چہرہ واقعی ہی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے. جنرل مشرف کے نئے پاکستان کی طرز پر یہ بھی اک بالکل نیا پاکستان بننے جا رہا ہے. جنرل مشرف نے جو حکمت عملی اپنائی تھی فی زمانہ اسی کی وسیع و عریض شکل کو رائج کیا جا رہا ہے. اس لیے آپ حالیہ بیانات کو چولیں کہیں یا کچھ اور، ان کا دفاع کریں یا کہ تنقید، پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو یہ سب کچھ وقوع پذیر ہونا ہے. آپ مزید کی بھی توقع رکھ سکتے ہیں.

     

    Muhammad Abdullah
  • نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ءترانسکی، جنوبی افریقا) جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقامیں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
    نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندانکے لیے اعزازی خطاب ہے۔ 
    جیل کا وہ کمرہ جہاں نیلسن منڈیلا 27 سال قید رہے آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابلذکر 1993ءکا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔نیلسن منڈیلا کی خدمات میں سے ایک اہم ترین کام آزادی کا حصول ہے ۔نیلسن منڈیلا نسلی امتیاز سے پاک تھے اور انہوں نے اسی آواز کو بلند کرنے کے جرم میں 27 سال جیل کے کمرے میں گزارے۔جس طرح نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں آزادی، نسلی تعصب سے پاک اور برابری کی آواز بلند کی ۔اسی طرح اگر دیکھا جائے تو مسلمان کشمیر کے ہو تو ان پر بھارت اپنی طاقت کی وجہ سے مسلط ہے۔ماوں کی عزتیں لوٹ رہا ہے۔معصوم بچوں کی بینائی چھین رہا ہے ۔مسلمانوں کو وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہی ہے۔جیسا کہ 22 نوجوان ایک اذان کو مکمل کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے شہید کر دئیے۔اسی طرح کشمیر جو کہ گلشن تھا اس میں اپنی کم و بیش 8 لاکھ آرمی داخل کر کے اسے فوجی چھاونی میں بدل دیا۔اگر کوئی پرامن احتجاج کرے تو ان پر شیلنگ کی جاتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کدھر گئی ۔جیسا کہ نیلسن منڈیلا کا ہی ایک قول ہے:-
    *I am fundamentally an optimist. Whether that comes from nature or nurture, I cannot say. Part of being optimistic is keeping one’s head pointed toward the sun, one’s feet moving forward. There were many dark moments when my faith in humanity was sorely tested, but I would not and could not give myself up to despair. That way lays defeat and death* .
    اقوام متحدہ کو چاہیے کہ کشمیر مسلمانوں کی آہیں سنے ،اس کے علاوہ فلسطین کو دیکھ لے جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا۔اسرائیل کے پاس طاقت ہے اسلحہ ہے ٹینک ہے اس لیے اس نے طاقت کی بنا پر فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی عوام کا بے پناہ خون بہایا ہے۔وہ فلسطینی بچے، کشمیری بچے ،برما کی عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کوئی قدم ہی نہی اٹھاتی۔کیا یہ اقوام متحدہ کے قوانین جو ہے یہ بھارت پر ،اسرائیل پر ،امریکہ پر ،روس پر لاگو نہی ہوتے صرف و صرف مسلمانوں پر ہی ہوتے ہیں ۔
    اللہ تمام مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے

  • وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟  … رضی طاہر

    وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

    وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

    1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

    2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

    3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

    4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

    5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


    رضی طاہر

  • پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    2016 یا 2017 کی بات ہے حسب عادت دوست کے ساتھ اتوار کے روز ملاقات کی غرض سے اکھٹ ہوا ہنسی مزاح جگت بازی جاری تھی کہ نظریہ پاکستان پر بات شروع ہوئی اتنے میں ایک دوست کہنے لگا عثمان بھائی آپکا وقت درکار ہے میں نے پوچھا خیریت کہنے لگا بھائی آپ جیو نہیں دیکھتے یا جنگ اخبار کو نہیں پڑھتے میں نے نا میں جواب دیا اور وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا جیو نیوز کی جانب سے ایک نیا فتنہ جو نظریہ و اساس پاکستان یا یوں کہا جائے کہ تعبیر پاکستان سے لے کر تعمیر پاکستان تک کے خلاصہ کو بڑے احسن انداز سے
    "پاکستان کا مطلب کیا پڑھنا لکھنا اور کیا” کی کیمپین شروع کر چکا تھا نوجوان نسل اور ابتدائی تعلیم کی شروعات کرنے والے معصوم پھول انکا نشانہ تھے کچھ حد تک وہ کامیاب ہوتا نظر آرہا تھا
    لبرل و پاکستان مخالف اس کیمپین کے حامی تو تھے ہی ہمارا اصلی دشمن بھارت بھی کیمپین کا حصہ بن رہا تھا سوشل میڈیا پر گرفت پکڑ رہا تھا خیر اسی اثناء میں سوال کیا میں کیا خدمت کر سکتا ہوں
    جواب ملا کہ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کی گلی گلی نگرنگر نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے اور
    ” پاکستان کا مطلب کیا
    لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی کیمپین شروع کی ہے آپ اس میں ساتھ دیں بس آہ بھر کر ارادہ کیا اور اس ارداہ کے ساتھ حامی بھر لی کے
    ان شاء اللہ نظریہ پاکستان کو خود بھی سمجھنا ہے اور سمجھانابھی ہے اپنے شہر کے ایک کونے سے آغاز کیا لوگوں نے بھرپور ساتھ دیا پروگرام کروانے کی حامی بھری تھکاوٹ تو بہت ہوتی مگر دل خوش تھا کہ پاکستان کے لئے نا ہونے کے برابر اس تعمیر شدہ پاکستان کی تزئین و آرائش کے لئے تھوڑا سا کام کر گیا۔
    واللہ حقیقت بات ہے پہلے پروگرام میں نے سفید داڑھی والے چند بزرگوں کے آنسو دیکھے کہنے لگے پتر جئے ٹائم ہے تے گل سن جا پھر ایک داستان سنائی

    23 مارچ 1940 کا دن بہت تاریخی تھا جب برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو و مسلم مسئلے کا حل نکالتے ہوئے تقسیم برصغیر کے ذریعہ سے الگ ملک پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔یہ وہ دن تھا جب جب رنگ و نسل کے سارے بت خانے توڑ کر مخالف عقائد کے سارے ماننے والے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقائی و خاندانی ثقافتوں کے حامل تمام مسلمان ایک کلمہ توحید کی بنیاد پر پرچم پاکستان کے سائے تلے اکھٹے ہونے کا اعلان کیا۔
    اس وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا
    ” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں
    کیا تھا اس یکجہتی کی آواز سے برصغیر میں موجود دشمنوں کو ایک پیغام گیا یہ سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں اب ہماری تدبیروں کا فائدہ نہیں یہ ایک صف کی شکل میں ایک آواز بن چکے ہیں اب پاکستان کا معرض وجود لازم ہو چکا ہے

    بتاتے بتاتے اس بات پر رو پڑے پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔جن کی عظیم قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو وطن عزیز پاکستان کا قیام وجود عمل میں آیا۔

    میں سننے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ کہ ان حالات کی عینی شاہدین میں سے تھے بہرحال تب سے ارادہ کیا تھا جو نعرہ سن 47 میں لگا تھا
    *پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
    اس کو گلی گلی نگر نگر سمجھانا ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کی ترویج کرنی ہے پاکستان کے لئے گمنام محافظوں کی طرح ایک مشن کے طور پر کام کرنا ہے
    اسکی تعمیر میں ہم حصہ تو نا لے سکے کم از کم تعمیر شدہ پاکستان کی حفاظت تو کر سکتیں ہیں

    دعا ہے اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرے۔
    پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
    جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
    بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟

    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل

    جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

    Muhammad Abdullah
  • سمر کیمپ ضرور لگائیں مگر فیس نہیں لینی، محکمہ تعلیم پنجاب

    سمر کیمپ ضرور لگائیں مگر فیس نہیں لینی، محکمہ تعلیم پنجاب

    لاہور:صوبے بھر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سمر کیمپ لگانے یا نہ لگانے کا معاملہ حل ہو گیا اور بالآخر محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو اپنے اسکولوں میں سمر کیمپ لگانے کی اجازت دے دی۔

    یہ سمر کیمپ تمام کلاسز کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف سمر کیمپ تمام ٹرمینل جماعتوں 5،8،9 اور دسویں کے طلبا اور طالبات کے لیے ہوگا، سمر کیمپ کا وقت صبح سات بجے سے لیکر ساڑھے دس بجے تک ہو گا۔ سمر کیمپ میں بچوں کو بلوانے کے لیے ان کے والدین کی رضا مندی ضروری ہوگی۔

    یاد رہے کہ ان سمر کیمپوں کو اس لیے بند کردیا گیا تھا کہ والدین کی طرف سے شکایات کی گئیں تھیں کہ اساتذہ سمر کیمپ کی آڑ میں بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں. تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیا لانے کی یقین دہانی کروائیں گے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارہ سمر کیمپ کی فیس وصول نہیں کرے گا۔