Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یو ای ٹی نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کردیا

    یو ای ٹی نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کردیا

    لاہور:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے انٹری ٹیسٹ نتائج کا اعلان کردیا، 400 نمبرز میں سے 336 نمبرز لیکر لاہور کے فائق عرفان راشد پہلے، عبدالصبور 313 نمبرز کیساتھ دوسرے جبکہ ملتان کے ارحم فاروق 308 نمبر لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یو ای ٹی میں داخلوں کا آغاز انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد ہوگا، ٹیسٹ بی ایس سی انجنیئرنگ، بی ایس سی ٹیکنالوجی میں داخلے کیلئے لیا گیا تھا۔ حاصل نمبرز کاوٹیج 30 فیصد، ایف ایف سی کے نمبرز کاویٹج 70 فیصد ہے

    یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ امیدواروں کو انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد پراسپیکٹس ملنا شروع ہوں گے، پراسپیکٹس کی قیمت 1000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ داخلے کی مزید تفصیلات یو ای ٹی کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یو ای ٹی اور اس کے ملحقہ کیمپسز میں نشستوں کی مجموعی تعداد 2500 ہے۔

  • نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے نوکیا نے خوشخبری سنا دی ، نوکیا موبائل فون کمپنی ایچ ڈی ایم نے پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

    نوکیا فون کی قیمتوں کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان میں نوکیا کے ڈسٹری بیوٹر ایڈوانس ٹیلی کام نے اپنی ویب سائیٹ پر نئے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد تک کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ایک اعلامیہ کے مطابق نئے اسمارٹ فونز نوکیا کے تمام فرنچائزز اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں جس سے صارفین بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ سالوں میں نوکیا کو بین الاقومی مارکیٹ میں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے فونز کی طلب میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نوکیا کی اس نئی پیشکش کو مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ جب سے ایچ ایم ڈی کمپنی نے نوکیا کے فون بنانا شروع کر دیے ہیں دنیا بھر میں ان کے فون کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔نوکیا کس طرح مارکیٹ میں جگہ بناتی ہے یہ پتہ چلے گا نوکیا کے فیچرز سے کہ کیا وہ صارفین کے دلوں میں جگہ بناسکتے ہیں.

  • شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار،کس ملک میں جانیئے اس خبر میں‌

    شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار،کس ملک میں جانیئے اس خبر میں‌

    دوبئی:خاوند اور بیوی کے درمیان نفرت کو پیدا ہونے سے بچانے کے لیے عرب امارات نے شوہروں کو خاوندوں کی جاسوسی سے روک دیا . متحدہ عرب امارات میں شوہروں کی جاسوسی کرنے والی خواتین کیلئے نئی مشکل پیدا ہوگئی۔ شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار دے دیا گیا ۔ خلا ف ورزی کرنے پر خواتین کو تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے۔

    ۔ شوہر کے موبائل پیغامات کو کاپی کرنے پر اگر شوہر نے بیوی کیخلاف شکایت درج کردی کہ ان کی بیگم نے موبائل ان کی بغیر اجازت سے استعمال کیا اور پرایوسی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔اس فیصلے مقصد خاوند اور بیوی کو باہمی اختلاف سے بچانا ہے جو آگے بڑھ کر بڑے مسائل پیدا کردیتے ہیں

    اس فیصلے کی روشنی میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی نے اپنے خاوند کا موبائل سے میسج کیا یا اس کو چیک کرنے کی کوشش کی تو پھربیگم صاحبہ کو اس جرم میں تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے جبکہ عدالت کے مطابق خواتین کو ایک سو درہم وکالت فیس اور دیگر چارجز بھی ادا کرنے ہونگے۔

  • 21 سال تک سفر کرنے والی پیغام رساں بوتل ، کہاں سے کہاں گئی ضرور جانیئے

    21 سال تک سفر کرنے والی پیغام رساں بوتل ، کہاں سے کہاں گئی ضرور جانیئے

    ایڈن برگ:پیغام رسانی کے لیے کیا کچھ استعمال ہوتا رہا . ایک نئی رپورٹ سے ایک ایسی چیز سامنے آئے ہے جو خود چل بھی نہیں ، دیکھ بھی نہیں سکتی.سنیئے ایک دلچسپ واقعہ جوآپ کو حیران کردے گی .اسکاٹ لینڈ یارڈ میں ساحل پر تعطیلات منانے والے خاندان کو ایک ایسی بوتل ملی جس کے اندر 21 سال قبل لکھا ہوا ایک تحریری نوٹ موجود تھا، یہ بوتل موجوں پر موج کرتے اور لہروں پر جھومتے 2 ہزار 833 میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جا پہنچی تھی۔

    حیرتوں اور اتفاقوں سے بھری دنیا میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک خاندان کے ساتھ بھی کچھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انہیں سوشل میڈیا پر مشہور کردیا۔ خاندان کو ساحل پر ایک بوتل ملی جس پر لکھا تھا اندر پیغام ہے، پڑھیں جب اہل خانہ نے بوتل کھولی تو اس میں ایک صفحے پر لکھا ہوا تھا کہ میرا نام میٹ رہوڈز ہے اور مجھے اس کا جواب اسی پر لکھ کر سمندر میں پھینک دیں

    اسکاٹ لینڈ میڈیا کے مطابق اہل خانہ نے اس دلچسپ واقعی کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو ٹویٹر پر انہیں وہ شخص مل گیا جس نے ’پیغام رساں بوتل‘ سمندر میں پھینکی تھی تاہم حیرت انگیز واقعے کا دلچسپ ترین لمحہ اب آنے والا ہے ! پیغام رساں بوتل سمندر میں پھینکنے والے شخص نے یہ بوتل 1998 یعنی 20 سال قبل ویلز کے سمندر میں پھینکی تھی۔

  • پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    یہ جنگ احزاب ہے….
    چاروں اطراف سے کفار و مشرکین کے لشکر آپس میں اتحاد کر کے مدینہ پر چڑھ دوڑے ہیں…
    شاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم سب کچھ سن رہے ہیں … سب کچھ دیکھ رہے ہیں …
    اللہ کے نبی ہونے کے سبب اللہ سے دعا کر کے فرشتوں کے لشکر بلوا کر سب کو کچل دینا…. یا جنگ ِبدر کے موقع پر تلواروں کے مقابلے میں ڈنڈے اور چاقو چھریاں لیکر سارے لشکروں سے ٹکرا جانا اور فتح حاصل کر لینا کچھ مشکل نہیں.
    مگر میرا نبی اپنی امت کو لڑنے کے فن اور طریقے سکھانا چاہتا ہے.

    مشورہ کیا…! سب سے پہلی ترجیح "مدینہ بچاؤ” ٹھہری.
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند آیا… خندق کھودنا شروع کی.
    سردی، بھوک، پیاس، بارش…. اور سخت پتھر. مگر صحابہ کرام کے ساتھ ملکر کھدائی جاری رہی اور نحن الذین بایعو محمدا کے نعرے لگتے رہے.
    اسی دوران پیٹ پر پتھر باندھے جاتے رہے اور سنگلاخ چٹانیں ٹوٹتی رہیں… یہاں تک کہ ان ٹوٹتی چٹانوں سے ابھرتی چنگاریوں نے روم و ایران کی فتوحات کی خوش خبری دی.

    زمینی دفاع کے بعد سفارتی دفاع کے لئے اللہ کے نبی نے مشرکین مکہ کے خلاف یہودیوں تک سے معاہدہ کر لیا. کہ اگر حملہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کے ساتھ ملکر آور مسلمان یہودیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے.

    سفارتی دفاع کے بعد اللہ کے نبی نے نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حملہ آور قبائل میں پھوٹ ڈالنے کے لئے بھیجا اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے. دونوں کامیاب لوٹے. اور ان سبھی تدبیروں اور محنت کے بعد وہ اللہ کی مدد آئی کہ اللہ کے لشکر یعنی آندھی طوفان نے لشکر باطل کے خیمے الٹ دئیے، ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی….اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے. بدعہدی کرنے والے بنو قریظہ کے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا. اور اس طریقہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی.

    یہ چھ ہجری ہے.
    اللہ کے نبی نے خواب دیکھا کہ بیت اللہ میں عمرہ کر رہے ہیں. صحابہ کرام کو بتایا. سفر کی تیاری ہوئی اور چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے روانہ ہو گئے. لوگوں کو اطمنان دلانے کے لیے احرام باندھ لیا گیا لیکن راستے میں پتہ چلا کہ قریش پہلے ہی ایک لشکر تیار کر چکا ہے آپ کو عمرہ سے روکنے کے لیے.

    مشورے کے بعد طے پایا کہ رکنے یا لوٹنے کی بجائے راستہ تبدیل کر کے آگے بڑھا جائے. بالآخر اللہ کے نبی حدیبیہ پہنچ گئے. حدیبیہ پہنچ کر قیام کیا. اور رات کے وقت قریش مکہ کی طرف سے بھیجے گئے ستر نوجوان جو جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے آے تھے، اسلامی قافلے کے پہرے دار کمانڈر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. اللہ کے نبی نے صلح رکھنے کی خاطر اور جنگ نہ چاہنے کے لیے بغیر کسی شرط کے ان سب کو رہا کر دیا اور معاف کر کے واپس مکہ بھیج دیا.

    اگلے دن عثمان رضی اللہ عنہ کو بطور سفیر قریش کی طرف بھیجا جنہوں نے ان کو مکہ میں ہی روک لیا اور ان کی شہادت کی افواہ اڑا دی. دینی غیرت کے سبب اللہُ کے نبی نے صرف میان میں تلوار لیکر عمرہ کی نیت کر کے آنے والے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ موت پر بیعت کر لی جو بیعت رضوان کہلائی. اللہ تعالیٰ ان مومنین سے اس بیعت پر خوش ہو گیا جو ایک ایسے قتل کے قصاص کے لیے کی گئی جو قتل ہوا ہی نہیں تھا.

    قریش مکہ تک بیعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے صورتحال کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فورا ایلچی بھیج دیا اور صلح کی گزارش کی اور سب سے پہلی شرط یہ رکھی کہ اس سال عمرہ کرنے کی بجائے مدینہ واپس لوٹ جائیں.

    ایک تو صلح کی شرائط انتہائی گھٹیا محسوس ہو رہی تھیں اور اوپر سے ایلچی کا رویہ انتہائی خباثت پر مشتمل تھا . جب اس نے کہا کہ اگر صلح نامے پر محمد رسول اللہ لکھنا ہے تو جھگڑا کس بات کا. ہمارا جھگڑا ہے ہی اسی بات کا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے. اللہ کے نبی نے حضرت علی کو کہا کہ ٹھیک ہے رسول اللہ مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو. مورخین و محدثین نے اتنا لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آور زبان دونوں ساکت ہو گئے لیکن کاش کوئی ان کے سینے میں اٹھتے ہوئے درد تک پہنچ سکتا کہ رسول اللہ کے حکم پر رسول اللہ لکھا ہوا مٹانا کتنا مشکل کام ہے . جب اللہ کے نبی نے یہ دیکھا تو کہنے لگے ٹھیک ہے مجھے بتاو رسول اللہ کہاں لکھا ہے؟ میں خود مٹا دیتا ہوں.
    رسول اللہ کے ہاتھوں لکھا ہوا "رسول اللہ” مٹ گیا اور معاہدہ نافذ ہو گیا. اس کائنات کا عظیم ترین سچ ایک عظیم ترین انسان کے ہاتھوں مٹا دیا گیا.

    عین اسی موقع پر مکہ مکرمہ سے بھاگ کر گرتا پڑتا ایک صحابی ابو جندل وہاں پہنچا. قریش مکہ کے ایلچی سہیل نے معاہدے کے مطابق سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا. اللہ کے نبی نے کہا کہ ابھی تو معاہدہ لکھا ہی نہیں ہم نے… مگر اس بدتمیز ایلچی نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کوئی معاہدہ نہیں کرتا. اللہ کے نبی نے اس کی منت کرتے ہوئے کہا کہ چلو اسے میری خاطر چھوڑ دو. اس ایلچی نے کہا کہ نہیں آپ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا. معاہدے کے بعد ابو جندل رضی اللہ عنہ اسی ایلچی کے ساتھ واپس روانہ ہو گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ چلاتے رہے کہتے رہے… میرا ایمان خطرے میں ہے مگر اللہ کے نبی نے صبر کی نصیحت کی اور اس کے لیے آسانی کی دعا کی.

    معاہدے کے بعد اللہ کے نبی نے قربانی کے جانور زبح کرنے کا حکم دیا… لیکن دکھ اور غم کی یہ صورت حال کہ ایک صحابی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا. اللہ کے نبی نے یہ دیکھ کر خود ہی اپنا جانور ذبح کیا جس کے بعد باقی سب صحابہ کرام نے بھی کر لیا.

    حضرت عمر رضی اللہ شدید غصے میں اللہ کے نبی سے کہنے لگے کہ جب ہم حق پر ہیں تو آپ نے قریش مکہ کا دباؤ قبول کر کے کیوں صلح کی. تو اللہ کے نبی نے اتنا جواب دیا کہ خطاب کے بیٹے. میں اللہ کا رسول ہوں… میرا اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا.

    اس کے بعد آیات نازل ہوئیں اور یہ صلح حدیبیہ فتح ِمبین قرار پائی.

    اللہ کے نبی واپس مدینہ پہنچے ہی تھے کہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ مشرکین مکہ سے چھوٹ کر مدینہ پہنچ گئے. مشرکین مکہ نے اسے واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے. اللہ کے نبی نے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا.

    مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک بندے کو قتل کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ واپس مدینہ پہنچے اور اللہ کے نبی کو خوش ہو کر بتایا کہ آپ نے بھی معاہدہ پورا کیا اور مجھے بھی اللہ نے ان سے نجات دے دی. مگر رسول اللہ کے ہاتھ تو ابھی بھی معاہدے میں بندھے ہوئے تھے. یہ سن کر اللہ کے نبی نے ذومعنی فرقہ کہا "اگر اس بندے کو کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دے” (جنگ کرنے کی خاموش اجازت )

    ابو بصیر رضی اللہ عنہ بات سمجھ گئے. چپ کر کے مسجد نبوی اور پھر مدینہ منورہ سے نکل کر شام جانے والے راستے میں بیٹھ گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور اس کے بعد قریش سے بھاگ کر آنے والا ہر مسلمان ان کے لشکر میں شامل ہو کر شام کو جانے والے تجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع ہو گیا.

    قریش مکہ نے تنگ آ کر اللہ کے نبی کو گزارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں. ہم کچھ نہیں کہیں گے.

    اس طرح وہ صلح حدیبیہ جسے فتح مبین کہا گیا تھا چار سال بعد فتح مکہ کی شکل میں سامنے آئی.

    وہ احباب جو پاکستان کی موجودہ بدلتی سیاسی و عسکری صورتحال سے گرم، دکھی یا پریشان ہیں… وہ حضرت عمر رضی اللہ کا غصہ، حضرت علی رضی اللہ کا کرب اور ابو جندل و ابو بصیر رضی اللہ عنہا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں. وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر ہونے کے باوجود جنگ نہ کرنے اور مشرکین اور یہود و ہنود سے معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے….؟ حق پر ہونے کے باوجود صلح کی نیت سے قیدیوں کو بغیر کسی شرط کے چھوڑنے میں کتنی بڑی حکمت عملی پوشیدہ ہے….! وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مقصد کے لیے…. ایک بڑے معاہدے کو سرانجام دینے کے لیے "اپنوں” کے بوریا بستر کیسے گول کیے جاتے ہیں حتی کہ انہیں دشمنوں کے بھی حوالے کیا جا سکتا ہے….! وہ جان سکتے ہیں کہ ایک بڑے مفاد کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے. خیر خواہوں کو کیسے دہشت گرد کہا جا سکتا ہے. دشمن کو کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کی منتیں کرے کہ ان نان سٹیٹ ایکٹرز کو اپنے پاس رکھ لو… ہم کچھ نہیں کہیں گے انہیں.

    جب آپ اکیلے ہوں اور دشمن آپ سے کئی گنا زیادہ ہو اور آپ جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہوں تو دشمن کے دشمن کو اپنا دوست بنانے میں ہی عافیت ہے. اس سے جنگ کرنے کی بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ آپ کے دشمن کے خلاف آپ کی مدد کر سکے… تا کہ آپ کا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اور اس معاہدے کے لیے اگر آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ جیسی قربانی دینی پڑے تو یہ سوچ کر قربانی دیں کہ اللہ آسانی و کشادگی پیدا کرے گا.

    اور جنہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ بات تو وہ ضرور فتوی لگائیں مگر مجھ پر نہیں بلکہ اللہ کے نبی پر لگائیں جنہوں نے یہ سارے کام صرف اس لئے کیے تا کہ مدینہ محفوظ رہے…. تا کہ مسلمان محفوظ رہیں… تا کہ ایک بڑے لشکر سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کو تیاری کا وقت مل سکے… تا کہ مسلمان ایک بڑے دشمن سےلڑنے کے لیے نئے اتحادی بنا سکے. تا کہ مسلمان اپنے مدینہ کا دفاع مضبوط سے مضبوط تر کر سکیں.

    اگر کسی کو شک ہو کہ میں نے کوئی روایت غلط لکھی ہے تو سیرت کی مستند اور انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کا مطالعہ کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے.

    مجھے معلوم ہے ایسے موقع پر کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ جسے اللہ کے نبی نے بچایا وہ مدینہ تھا اور یہ پاکستان ہے اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے تو ان سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ مدینہ کا تقدس مسلَم ہے لیکن یہ وہی مدینہ ہے جس میں منافقین رہتے تھے… یہ وہی مدینہ ہے جس میں چور کے ہاتھ کاٹے جاتے تھے کیونکہ وہ چوری کرتا تھا… یہ وہی مدینہ ہے جس میں زانی کو دُرے پڑتے تھے کیونکہ وہ زنا کرتا تھا. یہ وہی مدینہ ہے جس میں نماز اور جہاد سے بھاگنے والوں کو وعیدیں سنائی جاتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، جہاد نہیں کرتے تھے. اگر پاکستان اس مدینے جیسا نہیں تو اسے مدینے جیسا ہم نے ہی بنانا ہے ملکر…. لیکن اسی طریقے کے مطابق جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بنایا ہے اور جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بچایا ہے… اسلام کو دنیا میں زندہ رکھنے لیے… فتح مکہ کے لیے… اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے….!اپنے قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے، مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اور اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لئے.

    یہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس کی حفاظت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ کے نبی نے سکھائی ہے اور کر کے دکھائی ہے. اگر بڑے دشمنوں سے لڑنا ہے اور فتح حاصل کرنی ہے تو دل بھی اتنا ہی بڑا کرنا پڑے گا. صبر اور حوصلہ قائم رکھنا پڑے گا… حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے جان و مال کو قربان کرنا پڑے گا تا کہ ہمارا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں
    محبتوں کے یہ سلسلے بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں

    تیری محبت میں موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
    یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو ہزار تجھ پہ نثار کر دوں

  • روسی شہر تالیاتی کے مسلمان ، تاتار نسل سے ہیں،8 ویں صدی میں پہنچے ،اسلام اور مسلمانوں کی کہانی روسی مورخ کی زبانی

    روسی شہر تالیاتی کے مسلمان ، تاتار نسل سے ہیں،8 ویں صدی میں پہنچے ،اسلام اور مسلمانوں کی کہانی روسی مورخ کی زبانی

    ماسکو : روس کے مہیب دریا والگا کے کنارے زمانہ قدیم سے ہی مختلف اقوام اور مختلف عقائد کے حامل لوگ رہتے رہے ہیں۔ آج کے تاتاروں اور بشکریریوں کے اجداد بولگار آٹھویں صدی میں یہاں پہنچے تھے اور اپنی ریاست بولگاریہ کی بنیاد رکھی تھی۔
    دسویں صدی میں جب بولگاریہ پر خان الموش کی حکمرانی تھی تو ریاست بولگاریہ نے سرکاری طور پر مذہب اسلام قبول کر لیا تھا۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ دریائے والگا کے کنارے کے ایک معاصر شہر جدید اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے تالیاتی میں مسلمان کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ شہر روس میں کاروں کی صنعت کا مرکز رہا ہے اور یہاں ہی معروف روسی کار لادا فییٹ تیار کی جاتی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تالیاتی کی آبادی سات لاکھ افراد ہے جن میں تیس ہزار تاتار ہیں جو روایتی طور پر مذہب اسلام پر کاربند ہیں۔ لیکن تالیاتی میں صرف یہی لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اس شہر میں بشکیر بھی کچھ کم نہیں جو تاتاروں کی طرح قدیم زمانے سے والگا کے کنارے پر بسنے والی قوم ہے۔ سوویت یونین ختم ہونے کے بعد تالیاتی میں کام کرنے کی غرض سے آذربائیجانی، تاجک، ازبک، کرغیز، ترکمان، کزاخ، چیچن اور داغستانی بھی بڑی تعداد میں گاہے بگاہے آتے رہے ہیں۔ آخری دنوں میں ایسے روسی بھی کم نہیں جو روایتی طور پر عیسائی ہیں مگر اسلام قبول کر رہے ہیں اور قدیم مسلمان لوگوں کے ساتھ مسجدوں میں آتے ہیں۔

    تالیاتی میں جامع مسجد نئی تعمیر کی گئی ہے۔ 1990 کے عشرے میں شہر کے مرکزی خطے میں اس کی بنیاد، قدامت پسند کلیسا کے نمائندوں کی موجودگی میں رکھی گئی تھی۔ آج اس مسجد میں بیک وقت تین ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں مسلمانوں کی آبادی والے شہر میں یہ ایک مسجد ناکافی ہے۔ اس لیے تالیاتی کے دوسرے حصوں میں بھی نماز پڑھنے والوں کے لیے کئی مقامات کا انتطام کیا گیا ہے۔ جمعہ اور عید نمازوں کے وقت مرکزی جامع مسجد کے ارد گرد کا تمام علاقہ جاء نمازوں سے پٹا ہوتا ہے۔

    مذہبی علم کو زیادہ کیے جانے کی خاطر مساجد اور تعلیمی اداروں میں مبادیات اسلام، قرآن پڑھائے جانے اور عربی لکھنے کے کورسوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان کورسوں مین بچے، نوجوان، جوان اور تاحتٰی خاصی بڑی عمر کے لوگ بھی آتے ہیں۔ ہم ایمان کے حوالے سے اہم موضوعات پر وعظ کا بندوبست کرتے ہیں۔ ہمارے شہر میں ڈیزائنر ہیں جو خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ملبوسات سیتے ہیں۔ ہم نمائش اور فروخت کا انتطام کرتے ہیں، جہاں پر اسلام کے مطابق مگر جدید طرز کے ملبوسات منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ ہم تلاوت قرآن کے مقابلے بھی کرواتے ہیں۔ مختلف عمروں کے طالبعلموں کے ہمراہ ہم تاتارستان کی تاریخی یادگاروں کو دیکھنے جاتے ہیں۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں کئی صدیوں پہلے اسلام پہنچا تھا”۔

    تالیاتی کے باسیوں کے لیے بھی ، دوسری جگہوں پر رہنے والے مسلمانوں کی طرح رمضان کا مہینہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ نماز تراویح پڑھنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ بہت دلجمعی کے ساتھ مشترکہ افطار کا بندوبست کرتے ہیں۔ مسجد میں قرآن اور نمازیں پڑھتے ہوئے رمضان کا مقدس مہینہ بہت تیزی سے گذر جاتا ہے۔ مسلمان اعزاء اور اقرباء کے درمیان عید کا تہوار منائے جانے کے دن مہمان نوازی میں گذرتے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ پہ قربانی کے لیے جانور کہاں سے خریدے جاتےہیں اور ان کی قربانی کہاں کی جائے۔ تالیاتی میں ایسے لوگ ہیں جو یہ کام بڑی دیانتداری کے ساتھ کرتے ہیں۔ شہر سے کچھ دور، دیہات میں، کسان خاص طور پر قربانی کے لیے جانوروں کی پرورش کرتے ہیں، اسلام کے مطابق انہیں ذبح کرتے ہیں اور شہر میں دیے گئے پتے پر گوشت پہنچا دیتے ہیں”۔

    تالیاتی سے ہر سال ایک گروپ حج کرنے کے لیے مکہ جاتا ہے۔ اللہ کے فضل سے ملک کے ان حصوں کی نسبت جہاں مسلمان زیادہ تعداد میں آباد ہیں یہاں کوٹہ کی پابندی اتنی سخت نہیں ہے۔ کئی مقامی مسلمان تو عمرہ چار بلکہ پانچ بار بھی کر چکے ہیں۔ اس رمضان میں بھی تالیاتی سے ایک گروہ عمرہ کرنے کی خاطر مکہ گیا ہے۔ مسجد میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو بھی حج پر بھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔

    اس سال تالیاتی کے مسلمانوں نے گرمیوں میں پہلے بچیوں اور پھر بچوں کے لیے سمر کیمپ کا اہتمام کیا۔ آج روس کے مسلمان خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اسلام کے مطابق زندگی گذارنا سکھا رہے ہیں۔ شہر تالیاتی اس کی روشن مثال ہے۔

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

  • آئیے آپ کو روسی شہر کازان لے چلیں جس کی خوبصورتی کے ہرجگہ چرچے ہیں.

    آئیے آپ کو روسی شہر کازان لے چلیں جس کی خوبصورتی کے ہرجگہ چرچے ہیں.

    کازان:روس جو کی قدرتی خوبصورت مناظر کے حوالے سے بہت مشہور ہے .اس کے بعض شہروں کی خوبصورتی کے چرچے تو اب دنیا میں ہر جگہ ہورہے ہیں. ان میں‌روس کا شہر کازان شامل ہے .شہر کازان روس میں شامل صوبہ تاتارستان کا مرکزی شہر ہے۔ یہ روس کا پانچواں بڑا شہر ہے اس کی آبادی 12 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ ملک کا اہم معاشی، مذہبی، سیاسی، علمی اور ثقافتی مرکز ہے۔

    روسی مورخین کے مطابق یہ شہر سن 1005 میں والگا ندی کے کنارے قائم کیا گیا۔ 13ویں اور 14ویں صدی میں کازان طلائی اردو کا اہم شہر تھا۔ سن 1438 میں کازان نئی تشکیل شدہ کازان خانیت کا مرکزی شہر بن گیا۔ سن 1552 میں روسی فوج نے کازان خانیت پر فتح حاصل کر لیا اور یہ روس کی ریاست میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد شہر میں کریملن کی تعمیر ہوئی جو اس وقت یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ شہر میں مشین سازی، کمیائی تیل اور گیس کی صنعت، کپڑے اور کھانوں کے کارخانے موجود ہیں۔

  • FATF کو لے کر جذباتی نہ ہوں …. رضی طاہر

    FATF کو لے کر جذباتی نہ ہوں …. رضی طاہر

    میں حافظ سعید صاحب کو دہشتگرد نہیں سمجھتا، نہ وہ ہیں، نہ ہی واویلا کرنے والے انڈیا کے پاس ان کے خلاف کوئی رتی برابر بھی ثبوت ہیں، وہ پاکستان سے محبت کرنے والے رہنما ہیں، ان کے فلاحی کام ان کی خدمات اور خصوصا کشمیر کاز کیلئے ان کی کاوشیں بے مثال ہیں، اس وقت میں اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا ہوں اور ریاست کی بدلتی پالیسی کو گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ اور سمجھ رہا ہوں، نہ صرف میں بلکہ انکی جماعت کی قیادت بھی احتجاج کی جانب نہیں جارہی اور وہ بھی ریاست کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔ جیسے جیسے حالات بدل رہے ہیں پاکستان غیر ریاستی قوتوں/ فورسز کو قومی دھارے میں شامل کررہا ہے اور کچھ انتہاپسندی کی جانب مائل قوتوں کو ختم کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے موقف کو پہلے کی نسبت پذیرائی مل رہی ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا پالا جس ناپاک دشمن سے ہے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، کلبھوشن جیسے دہشتگرد بھیجتا ہے مگر اسے سبق سکھانے کیلئے اب حکمت عملی سفارتی محاذ پر طے ہے اور میدان جنگ میں پاک فوج ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔ داخلی، خارجی سیکیورٹی سے متعلق ریاست کے ادارے چلانے والی قیادت سمجھتی ہے کہ ہماری معیشت بلیک لسٹ ہونے کی متقاضی نہیں ہوسکتی۔ اسلئے ہم FATF کو لے کر جذباتی نہیں ہوسکتے، نہ ہی کوئی جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے ہمیں تحفے میں قرضوں کی صورت میں غلامی دی ہے اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ لہذا حافظ صاحب جیل کے باہر تھے تو بھی پاکستان کیلئے اور اگر اب جیل میں بھی ہیں تو بھی پاکستان کیلئے ہیں۔

    رضی طاہر