Baaghi TV

Category: بلاگ

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    اے میرے وطن کے حکمرانو….! وہ وقت یاد کرو جب حکمرانی کو اعزاز و اقتدار نہیں بلکہ بوجھ اور ذمہ داری سمجھا جاتا تھا…. جب ایک ادنیٰ اور غریب کا بیٹا حاکم وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی اس چادر کا لباس تو نے کن پیسوں سے حاصل کیا…. وہ وقت یاد کرو جب مسلم حکمرانوں کی طرف سے بیت المال اور ذاتی مال کی اصلاحات متعارف کی گئیں…. وہ وقت یاد کرو جب خلیفہ وقت آدھی رات کو اٹھ کر اپنی قوم کا پہرہ دیا کرتا تھا….. وہ وقت جب حاکم وقت دریائے فرات کے کنارے مرنے والے کتے کے حساب سے بھی خوفزدہ رہتا تھا…. اور وہ وقت جب مسلم حکمران بادل کے ٹکڑے کو دیکھ کر کہتا تھا کہ آے بادل کے ٹکڑے….! تو نے جہاں بھی برسنا ہے جا برس. لیکن تو نے جہاں بھی برسنا ہے اس کھیتی کا غلہ میرے پاس پہنچے گا. مسلم علاقے میں ٹیکس کی مد میں اور غیر مسلم علاقے میں خراج کی صورت میں….!

    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
    ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے

    ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
    تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

    وہ صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے. وہ فاتحین عرب و عجم ہی نہیں…. بلکہ عرب و عجم میں بسنے والے ہر مسلمان کے دل کے حکمران تھے. انہوں نے دنیا کو مرنے کا فن اور جینے کا ڈھنگ سکھایا. انہوں نے امت مسلمہ کو خالق حقیقی کے آگے گردن جھکانا اور باطل کے سامنے اسی گردن کو جھکائے بغیر کٹوانا سکھایا.

    حکمت، تدبر، سیاست اور دور اندیشی کے بل بوتے پر اور سب سے بڑھ کر اللہ کی توفیق سے ان کا ہر فیصلہ امت مسلمہ کے لیے خیر کا پیغام لیکر آتا تھا. وہ تین سو تیرہ ہوتے مگر ہزاروں سے ٹکرا جاتے…. وہ تنہا ہوتے مگر ان کا عزم پہاڑوں کے کلیجے پھاڑ دیتا. وہ ساحلوں پر کشتیاں چلاتے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے. وہ کھجوروں کی ایک چھوٹی سی بستی سے نکلے مگر ان کی بصیرت اور ان کی سیاست نے اللہ کی مدد کے ساتھ قیصر کے شہر قسطنطنیہ کی فصیلیں، کسری کے قصر ابیض کے دروازے اور شام کے پھاٹک کھول دیے….. دنیا کے تمام خزانے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے….یہ دنیا کے اندر انعام تھا بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں دینے کا. انہوں نے دہشت گردی سے پاک اور مالی آسودگی سے مزین ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ ایک پردہ دار خاتون حیرہ شہر سے نکل کر مکہ مکرمہ بیت اللہ کے طواف کی نیت سے سفر کرتی اور اسے اللہ کے علاوہ اور کسی کا خوف نہ ہوتا ….ایک مسلمان صدقہ کرنے کی نیت سے گھر سے باہر نکلتا لیکن اس کو کوئی صدقہ لینے والا نہ ملتا.

    صرف یہی نہیں…. مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا پر علم و فنون کے دروازے کھول دیئے. جس وقت سارا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا…. سپین کے صرف ایک شہر کے اندر ہزاروں لائبریریاں موجود تھیں. جب لوگ غاروں اور جنگلوں میں رہنے پر مجبور تھے…. اندلس کے حکمران عبدالرحمن ثالث اور اس کے جانشین فن تعمیر کو نقطہ ِمعراج تک پہنچا چکے تھے…! اور جس وقت صلیبی پادری سائنس اور دینی علوم و فنون کے خلاف فتوے لگا رہے تھے…. مسلمان سائنسدان کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی، علم الارضیات، اور فلکیات کے میدانوں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے تھے.

    اے مسلمان حکمران…! آج پھر اسی عہد کو دہرانے کا وقت ہے. ابو بکر کی صداقت، عمر کی عدالت، عثمان کی سخاوت اور علی کی شجاعت کو دہرانے کا وقت ہے. اسلام کے نام پر بنی اس پاک سر زمین پر اسلام کے سنہری اصولوں کو آزمانے کا وقت ہے…. امت مسلمہ کے ہر پریشان و غمگین دل کو آپس میں ملانے کا وقت ہے…. اور عالم کفر کی ہر چال کو مٹانے کا وقت ہے.

    اے مسلم حکمراں ! توحید کا پرچم اٹھا پھر سے
    ذرا تکبیر کے نعروں سے امت کو جگا پھر سے
    ہر اک نفرت ختم کر کے دلوں کو اب ملا پھر سے
    یہ ملت جسدِ واحد ہے یہ دنیا کو بتا پھر سے

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

  • عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت دے رہے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے اور کسی بھی میدان میں انھیں مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے،کیونکہ اس کے پیچھے دعویداروں کا مقصد عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد شرم وحیا کا خون کرنا ہے۔ تاکہ جو شخص جب چاہے، جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے۔ جیسا کہ آج کل بصد افسوس ہو رہا ہے !

    ہماری بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مردوں کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

    ’’ جب کوئی مردکسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

    بنا بریں! عورتوں کا مردوں سے اختلاط مرد و زن دونوں کے لئے باعثِ فتنہ ہے اور اس سے دونوں کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جو مردو زن کے اختلاط کی طرف لے جاتے ہیں۔مثلاً :

    1۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے۔ ( سورۃ الأحزاب :آیت 32)

    لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟

    2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ ( سورۃ النور : آیات 30، 31)

    اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

    ’’ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔‘‘ [ متفق علیہ ]

    لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟

    3۔ جو خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگتیں تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ :

    اِسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تُحَقِّقْنَ الطَّرِیْقَ ( وَسَطَہَا )، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ،فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتّٰی إِنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا

    ’’ تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمھارے لئے جائز نہیں کہ تم راستے کے عین درمیان میں چلو، تم پر لازم ہے کہ تم راستے کے کناروں پر چلو۔اس پر وہ خواتین دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلتی تھیں حتیٰ کہ ان کی چادریں ( جن سے انھوں نے پردہ کیا ہوتا ) دیواروں سے اٹک جاتی تھیں۔‘‘ [ ابو داؤد:5272 وصححہ الشیخ الألبانی فی الصحیحۃ : 856 ]

    تو آپ اندازہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس لوٹنے والی عورتوں کو مردوں کے راستے سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تو عام طور پر مردو عورت کا اختلاط کیسے درست ہوسکتا ہے؟

    4۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ’’ تم ( غیر محرم ) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو (یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ ‘‘ [ بخاری : النکاح باب لا یخلون رجل بامرأۃ، 5232، مسلم :الأدب، 2083]

    اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور ( خاوند کا بھائی ) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    5۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ

    ’’ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے۔اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسولؐ ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

    [ بخاری: الحج، باب حج النساء،2826، مسلم : الحج، 1341 ]

    مذکورہ بالا دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ مردو زن کا اختلاط قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو مغرب زدہ لوگوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ان واضح دلائل کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا چاہیے۔

  • سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    زندگی میں یہ سات درخت ضرور لگائیں
    1۔ معاش کا درخت
    ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں ایک چھاؤں اور دوسرا پھل، چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے ، اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل کو لینا ہے تو ہمیں سات درخت لگانے پڑیں گے ۔ اس شخص کی زندگی میں روشنی ہوگی جس کی زندگی میں سات درخت ہیں ،لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے صرف ایک ہی درخت لگاتےہیں اور اسی کو کامیابی سمجھتےہیں اور اس درخت کانام ہے معاش ۔ جب تک بقیہ چھ درخت نہیں لگائیں گے کامیابی نہیں ملے گی۔
    بگ بینگ کے مفروضے کے مطابق اس کائنا ت کی عمر یا زندگی کی عمر چودہ کھرب سال ہے جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے اور اس میں انسانی زندگی کی عمر پینتیس لاکھ ہے ۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ برس ہوتے ہیں ان ساٹھ برس میں شعور والی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے ۔جس کے پاس شعور ہوتا ہے اس کے پاس قوت فیصلہ ہوتی ہے جبکہ شعور کا حساب ہونا ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حساب لینا ہے ۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں ؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخوا ہ کی صورت میں ملتی ہے ہم اس کی پلاننگ کرتےہی جبکہ جو کل کمائی ہے اس کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں ،ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے ،ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا ، بعض اوقات عز ت نہیں ہوتی ، بعض اوقات اپنے آپ کا پتا نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا ، بعض اوقات اپنی ذات نہیں ہوتی ۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔

    2۔ خدمت کا درخت
    زندگی میں سب سے خوبصورت چیز اطمینان قلب ہے ۔ جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے وہ کمانے میں نہیں ملتا یہ شائد اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ب بھی بانٹنا ہے ۔ زندگی میں دوسرا خدمت کا درخت ضرور لگائیں، ” جو بندہ یہ کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں تو بانٹوں گا وہ کبھی نہیں بانٹےگا کیو نکہ وہ امیر تو ہو جائے گا لیکن حوصلہ نہیں ہوگا ” جو بندہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے وہ بڑا انسان بنتا ہے ۔ خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہو گی ہے خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے حدیث مبارک کا مفہوم ہے "سخاوت دل سے ہے مال سے نہیں "۔ خدمت کا مطلب ہے معاوضہ بندے سے نہیں ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ۔ خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی بس نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے ۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے، یہ فہم کی زکوۃ ہے ،یہ ذہانت کی زکوۃ ہے ، یہ بڑے پن کی زکوۃ ہے ۔ اگر میٹھا پھل کھانا اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر خد مت اللہ تعالیٰ کےلیے ہونی چاہیے ۔

    3۔ فیملی کا درخت
    فیملی بہت اہم ہے اور اس کو اہم سمجھنا بھی چاہیے اس کی ضروریات کو اہم سمجھنا چاہیے ۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں ہم ایک کو پورا کر کے دو سے کنارہ کشی کر جاتے ہیں ، پہلی ضرورت پیسہ ہے دوسری توجہ ہے ، توجہ کا مطلب ہے بچوں کی تمام چیزوں کے ساتھ تعلق ہو، تیسری ضرورت قربانی ہے کیو نکہ تعلق کی قیمت قربانی ہے ، تعلق قربانی مانگتا ہے ۔ وہ لوگ جوان تینوں میں سے ایک رکھتے ہیں باقی نکال دیتےہیں وہ زیادتی کرتےہیں ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھندی چاؤں نہیں دیتا ۔

    4۔ پیشے کادرخت
    زندگی میں انسان کا دو چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے ایک پیشہ دوسرا بیوی اس لیے دونوں کا انتخاب سو بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ ہم نے دنیا کا کوئی کام کرنا ہو اس میں چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہو ، کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز ہو اس کے لیے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس کے ساتھ ہماری زندگی گزرنی ہوتی ہے اس کے بارے میں مشورہ ہی نہیں کرتے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے یہ کسی اور مخلوق کو نہیں ملی،انسان اپنے مزاج کے مطابق اپنے پیشے کو منتخب کرتا ہے ، انتخاب میں غلطی ہو سکتی ہے ممکن ہے نوکری والا بندہ کاروبار کرتا ہو، ممکن ہے کاروبار والا نوکری کرتا ہو ، ممکن ہے نوکری جس طرح کی چاہیے تھی ویسی نہ ہو ، ممکن ہے کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا ویسا نہ ہو لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔ زندگی میں غلط ٹرین ہو ں تو اتر کر صحیح ٹرین پکڑنےمیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت ، ہمت ، جرات پیدا کریں کیو نکہ جو چھوڑ سکتا ہے وہی آگے جا سکتا ہے پھر اس کو ٹھنڈی چھاؤ ں ملتی ہے اور میٹھا پھل بھی ملتا ہے ۔ جس پیشے سے بندہ انجوائے نہیں کرتا وہ پیشہ پھرسوالیہ نشان ہے ، جس کے لیے اس کا ہم سفر راحت کا سبب نہیں ہے تو پھر سوالیہ نشان ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے تو پھر نہ دوست دوست ہے اور نہ دشمن دشمن۔ ”

    5۔ ساکھ کا درخت
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن بندے کو وہ کام کرنے چاہییں جو عز ت کا سبب بنیں کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے یہ کام عزت والے ہیں یہ ذلت والے ہیں ۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ بندے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی ساکھ کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ زندگی میں ساکھ برقرار رکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رہیں کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے ، اچھا ہونے کے باوجود لوگ برا کہیں گے ۔ جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے اس کی فکر مندی چھوڑ دیں بس آنکھیں نیچی کر کے چلتے جائیں ایک دن سر اٹھے گا دنیا ساتھ ہوگی ۔ اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو بھی گرنے نہ دیں۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے ، لوگوں میں چور پن ہوتا ہے ، جس کی اپنی نگاہوں میں اپنی عزت نہیں ہے وہ کسی کی عزت کیا کرے گا ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ کیسے دی جا سکتی ہے عزت تو عزت دار بند ہ کرتا ہے ۔ساکھ کو اہم سمجھیں اس پر انوسٹمنٹ کریں ، وقت لگائیں ۔ بندے کی دوستوں اور دشمنوں سے بھی پہچان ہونی چاہیے ، شاہین شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے مردار کھانے والے گدھ کے ساتھ نہیں اڑتا۔ تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظریہ ہونا چاہیے حضرت علی المرتضی ؒ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔” طے کریں کن کے ساتھ کام کرنا ہے کن کے ساتھ کام نہیں کرنا کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف دوستی رکھی جا سکتی ہے کام نہیں کیاجا سکتا کیو نکہ اپنے کا جواب دیا جا سکتا ہے ۔جس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا اس کے ساتھ تعلق مت رکھیں۔

    6۔ مذہب کا درخت
    زندگی میں یقین ہے، ایمان ہے ، روحانیت ہے ، روح زندہ ہے ، عباد ت ہے،اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔حضور اکرم ﷺ نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی وہ سب سنت ہیں اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہےاگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے رسول کریم ﷺ کی سنت ہےتو ثواب ہے۔ وہ تمام نیکیوں کے کام جو آپ کو سکون دیتےہیں ان کو ضرور کریں کیو نکہ آپ کی عبادت ، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے ۔

    7۔ ذات کا درخت
    اپنی ذات کو بھی سکون چاہیے اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ، اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریں، صبح کے وقت گیلے گھاس پر چل سکون حاصل کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو ۔ ہم نے سب سے زیادہ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں ، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ ہی میٹھاپھل دے گا ۔
    آج سے ان درختوں کے بیج لگائیے کچھ دنوں بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ پودابننا شروع ہوگیا ہے۔

  • چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    گھر ہو یا آفس۔۔۔۔ گرمی کی شدت سے ہوئیں سب خواتین پریشان۔۔۔ چہرے کی نرم و نازک جلد اس گرمی سے کشش کھو بیٹھی۔۔۔ تو پریشان مت ہوں آئیے گھر پر ماسک تیارکیجئیے اور چہرے کی نازک جلد کو گرمی کے اثرات سے بچائیے۔۔۔۔
    گھر میں بنائے جانے والے ماسک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھریلو ماسک ہر طرح‌کے کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں. گھریلو ماسک پھلوں ، سبزیوں، انڈوں‌ سے تیار کئے جاتے ہیں. اس قسم کے ماسک کیلشئیم سے بھرپور اور جلد کےلئیے موزوں‌ہوتے ہیں. گرمیوں‌میں‌چہرے کو ٹھنڈک پہچانے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے کے لئے زبردست نسخہ درج ذیل ہے.
    اجزاء
    چھوٹی الائچی ایک چائے کا چمچ
    بادام کاپیسٹ ایک چائے کا چمچ
    کافور ایک چائے کا چمچ
    ملتانی مٹی ایک چائے کا چمچ
    پودینا ایک چائے کا چمچ

    طریقہ
    ان تمام اجزاء کو پیس کر کسی پیالی میں ڈال لیں اور اس میں حسب ضرورت عرق گلاب یا پانی شامل کریں اور اس کا پیسٹ تیار کریں۔اب اسے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ لگا کر چہرہ دھو لیں۔ایک دن کے وقفے سے لگائیں۔دو دفعہ کے استعمال سے ہی آپ کی جلد نرم و ملائم اور خوبصورت ہو جائے گی. ان شاء اللہ

    اس ماسک کا کولنگ ایفیکٹ چہرے کی جلد کو گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے. اس میں شامل بادام چہرے کی جلد کو شادابى دیتا ہے۔

    گھریلو ماسک استعمال کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی جلد کی نوعیت کیا ہے.یہ ماسک پسینے سے نجات اور ایکنی کے لئے بھی بہت اچھاہے لیکن ڈرائے سکن کی حامل خواتین استعمال نہ کریں۔ (more…)

  • ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے جب جب پاکستان کے خلاف چوری چھپے سازش کی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی، ہمیشہ ناکام و نامراد ہوا خواہ کھیل کا میدان ہو یا جنگی محاذ ! اور تماشہ بھی پوری دنیا نے دیکھا رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی چمکدار روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔! ہندوستانی وایو سینا کے ابھینندن نے لائن کراس کر کے مار کھائی تو سینا کے نشان زدہ گلوز پہن کر کھیلنے پر اصرار کرنے والے سینائی سپوت دھونی نے لائن کراس نہ کر کے "سوا سو کروڑ” کے دیش واسیوں کی لٹیا ڈبو دی۔ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی دو طرفہ سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد "بنیے” کے سازشی دماغ میں پاکستان مخالفت کی "کُھرک” ہوئی تو کرکٹ جیسے مہذب افراد کے کھیل میں بھی سیاست گھسیڑ دی۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں ہندوستانی کھلاڑی بھارتی فوج کی ٹوپی پہن کر گراؤنڈ میں اترے تو پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ نے پورے ہندوستان کو ہی ٹوپی پہنا دی۔ اس میچ میں سینچری بنانے والے عثمان خواجہ نے اگلے دونوں میچز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا دو کے مقابلے میں تین میچز جیت کر سیریز پر قابض ہو چکا تھا اور عثمان خواجہ مین آف دی سیریز کا حق دار قرار پایا۔ آج ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستان صرف ہارا نہیں ذلیل و رسواء ہوا ہے، ذلالت کی وجہ وہی میچ ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لیے انگلینڈ سے جان بوجھ کے ہارا تھا۔
    ہاں ہاں جان بوجھ کر ہارا تھا۔۔۔۔۔۔!
    اس میچ کے لیے ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں بیٹھے پنڈتوں نے سیاسی چال چلی اور ہندو توا کے خاص زعفرانی رنگ کی جرسی پہن اُتری مقصود وہی تھا جو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں سوچا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم مضبوط اپنی جگہ لیکن اس ورلڈ کپ میں ہندوستان سے مقابلے سے قبل دو ایشیائی ٹیموں نسبتاً کمزور سری لنکا اور پاکستان سے عبرت ناک شکست کھا چکی تھی۔ اس میچ میں پہلے ہندوستان کے باؤلرز نے انگلش بیٹسمینوں سے دل کھول کر پٹائی کھائی اور گراؤنڈ میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ ہندوستانی کپتان یا کسی ایک کھلاڑی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ بیٹنگ کا موقع آیا تو روہت شرما جو سب ٹیموں پر برس رہے تھے اچانک بھیگی بلی بنے نظر آۓ سینچری تو بنائی لیکن نہایت سست روی سے۔ البتہ میچ میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان جیت سکتا ہے لیکن پھر میدان میں دھونی کی آمد ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پانچ وکٹ باقی ہونے کے باوجود "فنشر” کا خطاب یافتہ "دھونی” آخری اوور تک اس خیال سے بیٹنگ کرتا رہا کہ کہیں غلطی سے بھی باؤنڈری نہ لگ جائے۔ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہوئے ہدف کے تعاقب میں 47 باریوں میں محض یہ دوسرا موقع تھا جب دھونی ناٹ آؤٹ رہا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگ کے کپتان رہنے والے دھونی کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث دو سال تک پابندی کا شکار بھی رہی ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر سارو گنگولی جو اس میچ میں کمنٹری کر رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھی کمنٹیٹرز کو اس سست روی سے بیٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہ پیش کر سکے اور ہندوستان میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    اس ہار کے اختتام پر ہندوستان میں جشن کا سا سماں تھا۔ کرکٹ کی پوجا اور کرکٹرز کو بھگوان کا درجہ دینے والے ہندوستانی بالخصوص سوشل میڈیا پر اندرونی غلاظت انڈیل رہے تھے۔ علی الاعلان کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے دھونی کو ونگ کمانڈر ابھینندن سے ملایا گیا۔ زعفرانی رنگ کے بھی چرچے رہے۔ سوائے اس میچ کے میری نظر میں کھیل میں کوئی مقابلہ ایسا نہیں گزرا جب ہارنے والی ٹیم نے پٹاخے پھوڑے ہوں۔ مگر ہاں اسی سال 27 فروری کو دو جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی 20 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت اور ونگ کمانڈر ابھینندن کا زندہ پکڑے جانے کے بعد عوام سے پڑنے والی چھترول پر ہندوستانیوں کو فخریہ جشن منانا دیکھ چکا تھا۔
    خیر پاکستان سیمی فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ سے پوائنٹ برابر ہونے کے باوجود بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا حالانکہ اس نیوزی لینڈ ٹیم نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں سے کسی ایک کو بھی شکست نہیں دی۔ جبکہ پاکستان دو سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کو ہرا کر بھی "متنازعہ” نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر باہر ہو چکا تھا۔ چور دروازے سے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے روند ڈالا۔ اور آج کے مقابلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی توفیق سے پاکستان کے دشمنوں کا ہر وار الٹا اسی کے گلے کا پھندا بنا۔ جیت نیوزی لینڈ کی ہوئی ماتم ہندوستان میں اور سرخرو پاکستان ہوا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
    ابھینندن کا کپ لاہور میں
    اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں رہ گیا۔۔۔۔!
    اب "ٹیم انڈیا” کے استقبال کے لیے ہندوستان میں ٹماٹر ختم ہوگئے ہیں تو پاکستان دے سکتا ہے آخر ہمسائے ہیں ہمارے۔

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔