Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچوں کے لئے سمر کیمپ ضروری مگر کہاں پر؟؟؟ عفیفہ راؤ

    آج کل جہاں بچے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا مزا لے رہے ہیں ساتھ ہی کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے والدین نے کسی سمر کیمپ میں داخلہ دلوا دیا ہے اور وہ آجکل اس میں مصروف ہیں۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم اپنی گرمیوں کی چھٹیاں کیسے مناتے تھے تو آپ کو یا د ہو گاکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب سے زیادہ اانتظار ان دنوں کا ہوتاتھا جب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانی نانا کو ملنے یادادی دادا کو ملنے جاناہوتاتھا۔اور یہ عام رواج تھا کہ گھروں میں سب بچے اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے کزنز،خالہ ،ماموں ،تایا،چچااورپھوپھو کے ساتھ ٹائم گزارتے تھے ۔ ان کے ساتھ گزارہ وہ وقت اور شرارتیں ہی ہمارے بچپن کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔آج اگر ہم سب کسی فیملی ایونٹ پر اکھٹے ہوتے ہیں تو بچپن میں ایک ساتھ گزاری چھٹیوں کو ہی یاد کرکے ہم سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی گزارنے کے طریقے بھی کافی حد تک بدلتے جا رہے ہیں اب وہ وقت نہیں رہا کہ مائیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے بچوں کو لیکر اڑھائی یا تین ماہ کے لئے میکے جا سکیں ۔کسی عورت کی اپنی جاب کی مجبوری ہوتی ہے تو کسی کے شوہر کی نوکری کا مسئلہ ،کسی کو ساس کی اجازت نہیں ملتی تو کوئی اکیلے رہنے کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتی۔ویسے بھی آج کل کے تیزطرار دور میں کوئی بھی عورت اپنے شوہر اور گھر کو اتنے زیادہ دنوں کے لئے اکیلے چھوڑنے کارِسک بھی نہیں لے سکتی۔لیکن چھٹیوں میں بچوں کو 24گھنٹے سنبھالنا بھی ایک بہت بڑی ڈیوٹی ہے جو پوری کرنے کے لئے بڑے شہروں کی بیشتر خواتین سسمر کیمپ کا سہارا لیتی ہیں۔بچوں کو وہ چند گھنٹے گھر سے دور رکھنے کے لئے ہزاروں روپے سمر کیمپ کی فیس ادا کرتی ہیں ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرح سمر کیمپس کی بھی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو فی گھنٹہ ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ فیس چارج کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فیس اور ٹائم کے عوض بچوں کو سکھاتے کیا ہیں؟؟؟

    یہ آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں نے بہت سے سمر کیمپس کے فیس بک پیجز اور ان میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز پرکافی ریسرچ کی۔پہلے پہل ان کے بروشیئرز اور اشتہارات دیکھ کر اور ان پر لکھی گئی ایکٹیویٹیز کے نام پڑھ کر تو ایسا لگا کہ واقعی ان سمر کیمپس میں جاکر تو چند دنوں کے گزارے جانے والے ان چند گھنٹوں میں ہمارے بچے نجانے کیاکچھ سیکھ لیں گے اور کوئی سائنسدان یا مصور تولازمی بن جائیں گے۔

    https://login.baaghitv.com/kya-hmary-bachon-ko-summer-camp-ki-zrurt-hai/

    اسی ایکسائٹمنٹ اور خوشی میں سوچا کہ اور ٹائم لگایا جائے اور ان کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں تو بس پھر ایک ایک کرکے ان فیس بک پیجز پر سمر کیمپس میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا تھا یہ تصاویر اورویڈیوز تو مجھے میرے ہی بچپن کی طرف لے گئیں۔ جہاں ہم لکڑی پر لگے ایک چھوٹے سے گول سپرنگ والی سٹک کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اس کو پھینک نہ دے اور اگر کسی گھر کے بڑے نے دیکھ لی تو اس کو توڑ ہی نہ دیا جائے اور وہ سٹک باہر تب نکالتے تھے جب سب بڑے دوپہر کو آرام کی غرض سے سو جاتے تھے اور پھر ہم پانی میں کپڑے دھونے والا صرف گھول گھول کر خوب بلبلے بناتے تھے بس ہماری نالائقی یہ تھی کہ ہمارے پاس اس گیم کے لئے کوئی منفرد سا نام نہیں تھا جب کہ آج کل کے سمر کیمپس نے ان کو ببل بیش bubble bash کا نام دے کر ایسے نمایاں کیا جاتا ہے کہ اس میں نہ جانے کیا نئی چیز پوشیدہ ہے۔اس کے بعد ایک اور تصویر پر نظر ٹھر گئی جس میں بچے کاغذ کی مدد سے طرح طرح کے لباس اور جوتے بنا رہے تھے اس ایکٹیویٹی کو بھی کرافٹ کی کوئی نئی قسم ہی لکھا گیا تھا جبکہ ان لباس اور جوتوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی وہ کاغذ کی گڑیایاد آگئی جو ہم اپنے رجسٹرز میں سے صفحات پھاڑ پھاڑ کر بناتے تھے اور گڑیا کےلئے بنائے کاغذ کے اُن کپڑوں پر بھی رنگوں کی مدد سے خوب پھول بوٹے بناتے اور انھیں رنگوں سے خوب گڑیا کو میک اپ بھی کرتے لیکن افسوس اس وقت میں ہماری یہ سب کھیل کھیلتے ہوئے کوئی تصاویر بنانے والا نہ تھا بلکہ ہم تو یہ سب چھپ چھپا کر کرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو شامت آجائے گی کہ رجسٹر پڑھائی کے لئے تھا یا گڑیا بنانے کے لئے۔ ساتھ ہی ساتھ کٹنگ پیسٹنگ کی ایکٹیوٹیز نے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنے والی 14اگست یاد کروا دی۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو بازار میں لگنے والے سٹالز سے جھنڈیاں خرید کر لائی جاتیں اور پھر گھر میں ہی سب سے چھوٹی خالہ کی منتیں کرکے ہم ان سے گوند بنواتے اور جب سب دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان جھنڈیوں پر گوند لگا لگا کر لڑیاں بناتے اور خوب جوش و جذبے سے 14 اگست بھی مل کر مناتے۔
    اور سب سے دلچسپ تو پول پارٹیز والی تصاویر دیکھنے کو ملی جن میں بچے پلاسٹک کے چھوٹے سے سوئمنگ پول میں ایک دوسرے پر پانی ڈال ڈال کر نہارہے تھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے چہروں کی خوشی قابل دید تھی اور وہ واٹر گن اور ٹیوبز کے ساتھ خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ مگر یہ کیا یہ سب تو ہم ٹیوب ویل پر اپنے بڑوں کے ساتھ جاکر کرتے تھے مجھے یاد ہے ہمارے نانا جی ہمیں پانی میں جمپ لگاتا دیکھ کر خوب خوش بھی ہوتے تھے ساتھ ہی ساتھ برف میں لگے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ہماری دعوت بھی کی جاتی تھی۔اور رہی بات پڑھائی کی تو سب بہن بھائی اور کزنز ایک دوسرے سے مقابلہ لگا کر سکولز کی طرف سے ملنے والا کام بھی جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح چھٹیاں بھی بھرپور انجوائے کی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی ہوتی تھی ۔مختصر یہ کہ ان سمر کیمپس کی تصاویر کے ساتھ کافی وقت لگانے کے باوجود کوئی ایسی نئی چیز دیکھنے کو نہ ملی جسے دیکھ کر یہ محسوس ہو کہ یہ کام تو ہم نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں کیا تھا اور ہمارے بچوں نے بھی اگر یہ نہ کیا تو نجانے وہ ان سمر کیمپ والے بچوں سے ترقی کے میدان میں کہیں بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔
    ان ایکٹیوٹیز کے علاوہ بہت سے سمر کیمپس ایسے ہیں جو کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بچوں میں
    critical thinking,
    reading and writing skill,
    problem solving and
    leadershipکی صلاحیتیں پیدا کریں گے۔ویسے تو یہ سب صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں لیکن اگر behavioral sciencesکے مطابق دیکھا جائے تو یقین کرنا پڑے گا کہ انسان یہ سب سیکھ بھی سکتا ہے لیکن اس کے لئے اچھا خاصا وقت درکار ہوتاہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔جو کہ سمر کیمپس میں گزارے دو یا تین گھنٹوں میں تو ہونابہت مشکل ہی نہیں تقریباََ نا ممکن ہی ہے۔ہاں بچوں میں یہ سب صلاحیتیں پیدا کرنے میں اگر کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ اس کا سکول اور گھر ہے جہاں وہ اپنے دن کاا چھا خاصاٹائم گزارتے ہیں۔


    تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ چھٹیوں کو ایک بوجھ سمجھ کربچوں کے لئے گھر سے باہر بھاری فیس ادا کر کے سمر کیمپس تلاش کرنے کی بجائے ان چھٹیوں کو ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ اس میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارسکتے ہیں ۔ ہم جو عادات اپنے بچوں میں ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں یہ چھٹیاں اس کے لئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں ۔اور رہی بات مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز کی تو یہ سب آجکل کیا مشکل ہے جب بک سٹورز پرہر طرح کی ایکٹیویٹیز کا سامان با آسانی دستیاب ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی مشکل ہو تو جس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاجس پر مائیں بچوں کے لئے سمر کیمپ تلاش کرتی ہیں اس پرسرچ کرکے وہ خودبہت سے نیو آئیڈیاز پر کام کر سکتی ہیں جب اتنی آسانیاں ہیں تو مائیں خود سے بچوں کے لئے کوئی ایسی ایکٹیویٹی کیوں نہیں پلان کرتیں؟بچوں کی بہتر تربیت اور اچھے کردار کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لئے اپنے گھر میں ہی سمر کیمپ کا انعقاد کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں. جس سے بچہ کچھ نیا سیکھ بھی سکے اور مصروف بھی رہے کیونکہ ماں سے بہتر بچے کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    عفیفہ راو
    صحافی۔۔ٹی وی پروڈیوسر

    Email:afeefarao@gmail.com

    Facebook: www.facebook.com/afeefarao786

    Twitter: https://twitter.com/afeefarao

  • دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    210 ہجری کا ذکر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، مصر، شام اور دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ امام ابو الحسین مسلم رحمہ اللہ نے بغداد، بُصرہ اور دیگر اسلامی شہروں کے لمبے سفر کیے۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث نے ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی لمبے سفر کیے۔ اور ہمارے لیے حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا۔
    ایک طرف ہمارے اسلاف کا علمِ حدیث کے لیے پوری زندگی پر محیط لمبا اور تھکا دینے والا سفر۔
    دوسری طرف ہم جس جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں کتابیں عام ہو رہی ہیں۔ حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں نئی تزئین و تدوین کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس جدید دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی آسانی کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتابیں موجود ہیں، مکتبہ الشاملہ جیسی کتب کی وسیع آن لائن لائبریری موجود ہے۔
    کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اتنی آسانیوں کے دور میں ہمارا ہر جوان قرآن کا مفسر ہوتا، حدیث کا عالم ہوتا۔
    لیکن ہم تو اتنے بے فیض لوگ ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے ہی فرصت نہیں۔ دنیاوی علوم میں تو ہم نے بڑی بڑی ڈگریاں لے لیں۔ آج المیہ یہ ہے کے انگلش اتنی سیکھ لی کہ انگریز کو پڑھا سکتے ہیں اور قرآن اتنا نہیں سیکھا کے ہم اللہ کے احکام کو جان سکیں کہ رب العالمین کہہ کیا رہے ہیں۔ کبھی قرآن کے معنی ومفاہیم پر غور و فکر نہیں کیا یا احادیث رسول ﷺ کو سمجھ کر اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی۔
    اگر کبھی قرآن کریم کو کھولا بھی جاتا ہے تو صرف ثواب یا تبرک کے لیے۔ احادیث کا ذوقی انتخاب کر لیا جاتا ہے اور صرف چند ابواب پر مبنی احادیث کو ہی پڑھا جاتا ہے۔
    اُصولِ حدیث اور شرعی اصطلاحات سے ہماری نوجوان نسل کو کوئی خاص رغبت نہیں رہی ہے۔ حدیث کی سند اور راویان حدیث کے حالات زندگی کو معلوم کرنا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
    بلکہ سنی سنائی باتوں کی نسبت فوری طور پر رسول کریم ﷺ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ((اطلب العلم ولو بالصّین)) علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جیسی بے اصل روایات ہماری نصابی کتب میں شامل ہیں۔ سکولوں، کالجوں میں بورڈز پر آویزاں ہیں۔
    علم حدیث سے بالکل بے خبر ارسطو اور افلاطون جیسوں کے اقوال کو ہمارے دانشور حضرات حدیث شریف کا درجہ دے دیتے ہیں۔
    اگر شروع سے ہی بچے بے اصل اور من گھڑت روایات کو حدیثِ صحیح سمجھ کر پڑھنے لگیں گے تو وہ بڑے ہو کر کس طرح صحیح اور موضوع روایت میں فرق کا ذوق رکھیں گے۔
    سستی شہرت حاصل کرنے والے علماء نے ایسی ایسی باتوں کو حدیث کا درجہ دے دیا ہے جس کا حدیث نبوی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اس کو من و عن تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے کہ یہ فعل تو نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو اگے سے وہی گھسے پِٹے جواب کہ کم از کم برائی کا کام تو نہیں کر رہے نہ، نیکی ہی کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
    باشعور اور پڑھی لکھی عوام سے ایسے جوابات سن کر حیرت ہونے لگتی ہے۔
    ان حالات کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہونے لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں وسائل ہونے کے باوجود ہم احادیثِ رسول ﷺ سے اتنے بے خبر ہیں کہ نماز کا نبوی طریقہ نہیں معلوم، حج و عمرہ کے فرائض صحیح سے ادا کرنے نہیں آتے، سب سے بڑھ کر غسل کا طریقہ تک نہیں معلوم۔
    ہمارے اسلاف نے احادیث کو سیکھنے کے لیے زندگیاں وقف کردی تھیں۔ آج وہی احادیث، اسناد، راویانِ حدیث کے حالات زندگی، اسماء الرجال کے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس قرآن و حدیث کو سیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت و عشق کے دعوے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن عملی زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسی نبی کی حیاتِ مبارکہ کے حالات اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں نبی کریم ﷺ کا امتی بنائے ۔ قرآن و حدیث کو کماحقّہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روزِ قیامت ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ٹھہریں۔ آمین

  • پرے ہٹ لو  فلم  کیسی ہوگی؟  ایاز خان

    پرے ہٹ لو فلم کیسی ہوگی؟ ایاز خان

    کچھ عرصہ قبل ماہر ہ خان کے انسٹا گرام سے ایک شارٹ ویڈ یو ریلیز ہوئی ۔۔جس میں وہ لال رنگ کا جوڑا پہنے ”پرے ہٹ “ کہتی نظر آئیں ۔۔یہ سین اُنکی آنے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ سے تھا۔ چند روز پہلے اس فلم کا ٹریلر ریلیز کیا گیاہے ۔۔اگر چہ اس فلم میں ماہر ہ کا لیڈ رو ل نظر نہیں آتا۔۔لیکن شائد لیڈ رول میں وہ لوگوں کو اتنا متاثر نہ کر پاتیں جو انہوں نے اپنے سائیڈ رول میں کیاہے ۔

    پرے ہٹ لو فلم کا ٹریلر دیکھتے ہی ایسا لگتاہے جیسے یہ بڑٹش لو کامیڈی فلم ” فور ویڈنگز اینڈ اے فیونرل“ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔جو ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو کسی شادی میںاچانک کسی لڑکی سے ملتا ہے او ر اسے اپنی منزل سمجھ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔پرے ہٹ لو میں بھی یہی کہانی نظر آتی ہے ۔۔ٹریلر بڑی حویلی میں شادی کی تقریبات دکھائی گئی ہیں. شروع میں فلمسٹار ندیم ایکٹر شہریار کو کہتے نظر آتے ہیں ”تم ڈرامہ ایکٹر ہو نہ“۔۔۔ویسے تو اس فلم میں سارے ہی ڈرامے سے آئے ہوئے ہیں ۔۔کیا کریں پاکستان میں فلم انڈسٹری تو رہی نہیں۔۔بس اب انہی سے ہی کام چلے گا لیکن اچھا چل نکلا ہے ۔۔ فلمسٹار میر ا جو فلم باجی میں لیڈ رول کررہی ہیں وہ بھی پر ے ہٹ لو کے ٹریلر میں ڈانس کرتی نظر آئی ہیں ۔

    ٹریلر پرے ہٹ لو 

    اس فلم میں شہریا ر (غریبوں کا ر ہتک روشن) اور مایا علی (طیفا گر ل) کا مر کزی کردارہے۔ عاصم رضا کی گزشتہ فلم ہو من جہاں میں شہر یا ر کے ساتھ ماہرہ خان کا مرکزی کردار تھا۔
    شہریار ایک ایسا لڑکا ہے جو شادیوں میں شرکت کرتاہے لیکن خود اپنی شادی کے نام سے دور بھاگتاہے ۔پھر اچانک۔۔۔جیسے کہ فلموں میں ہوتاہے ۔۔ایک لڑکی (مایا علی )پر اُسکی نظر پڑتی ہے جوچراغوں کے پیچھے سے نمودا ر ہوتی ہے ۔۔اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔۔جیسے کہہ رہا ہو تو ہی وہ حسیں ہے ۔۔جس کی تصویر خیالوں میں مدت سے بنی ہے ۔۔خیر ایسی شاعری اب کہاں
    سننے کو ملتی ہے ۔۔لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔۔اور ہندی فلموں کی طرح شادی والی حویلی کی چھت پر اکیلے ملتے نظر آتے ہیں اور فیض کے شعر ایک دوسرے کو سناتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد گانا ۔ موج مستی ۔بس کی چھت پر سفر ۔پھر وہی جو ہوتاہے۔ ۔جو کہ اس فلم کے ٹائٹل سے بھی واضع ہے کہ ۔”پر ے ہٹ لو“ لڑکی لڑکے کو کہتی نظر آتی ہے کہ عشق وشق کے چکرمیں تو نہیں پڑ گئے ۔۔۔اور پڑنا بھی مت ۔۔اور پھر اچانک اسے اپنے منگیتر سے اُسے ملواتی ہے تو اُسے احساس ہوتاہے کہ وہ تو واقعی اس چکر میں پڑ چکاہے ۔۔۔اسکے بعد ایکٹر کی آنکھیں لال اور لڑکی کو پکڑ کر اسے گزرے لمحوں کا احسا س دلاتانظر آتاہے۔۔اور لڑکی اسے جھٹک کرایک طرف کرتی ہے . پھر اچانک کسی کی موت دکھائی گئی ہے ٹریلر میں جان اس وقت پڑتی ہے جب ماہرہ خان کی اچانک دھانسو انٹری ہوتی ہے۔
    بہت بڑے سیٹ پر مجرہ کرتی جلو ہ گر ہوتی ہیں۔ماہرہ خان کے اس ڈانس کو دیکھ کر مادھوری ڈکشٹ کاخیال آتاہے . یہی نہیں ڈائریکٹر ماہرہ خان کوکئی آئینوں میں دکھا کر فلم مغل آعظم میں مدھو بالا کے گانے جب پیار کیا تو ڈرنا کیا سے بھی متاثر نظر آتاہے ۔
    فلم میں کامیڈی کے لیےوہی گھسے پھٹے اداکاروں احمد بٹ او ر ڈارمہ ایکٹریس مومو حنا دلپزیر وغیر ہ کو ڈالا گیاہے ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واقعی فلم بینوں کو ہنسا پاتے ہیں یانہیں۔کیونکہ ”ہو من جہاں میں“ کامیڈی کا فقدان تھا ۔
    ٹریلر کے آخر میں فواد خا ن کی مہمان اداکار کی طرح انٹری ہے جو شاہ رُخ کی طرح زندگی کا فلسفہ جھاڑتے نظر آتے ہیں کہ ”لوگوں کو مزہ کراﺅ انہیں جینا مت سکھاﺅ “ لگتاہے فواد خان کا ےہ مشورہ حمزہ عباسی کے لےے ہے ۔جو آئٹیم سانگ کے خلاف باتیں کرتے نظر آتے ہیں .
    مہمان اداکاروں کو فلم میں ڈالنا فلم کی پرموشن کا پرانا فارمولا ہے اپنی پہلی فلم ہومن جہاں میں بھی عاصم رضا نے حمزہ علی عباسی ، فواد خان، زوہیب حسن اور سائرہ شہروزجیسے مہمان اداکاروں کا سہارہ لیاتھا.
    ٹریلر سے نظر آتا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلم ہے ۔سنمیٹو گرافی سے لے کر پروڈکشن میں جان نظر آتی ہے۔
    بہاولپور سے لیکر استبنول کے مناظر۔دکھائے گئیں ہیں ۔ کچھ لوگ اسے گھسی پھٹی لو سٹوری کہہ رہے ہیں آج کل نیا آئیڈیا بہت ہی مشکل ہے ۔ہر آنے والی فلم یا تو ری میک ہے یا پھر کئی فلموںکا چربہ نظر آتی ہے ۔ہر فلم کسی نہ کسی پرانی کہانی سے متاثر ہوتی ہے لیکن فلم کا سکرپٹ، ڈائلاگ ، ٹریٹمنٹ ، اسکی پروڈکشن اور خاص طور پر ایکٹنگ اسے نیا اور الگ بناتی ہے۔جیساکہ شاعر نے کہا ہے کہ
    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
    امید کی جاتی ہے فلم پر ے ہٹ لو میں یہ کوشش کی گئی ہے اور یہ فلم شائقین کو اچھی انٹرٹینمٹ فراہم کرے گی ۔

  • پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ ایوان سےمنظور کروایا۔ یہ بجٹ گو کہ مشکل ترین معاشی حالت میں پیش کیا گیا لیکن اس سے عمران خان کے وژن، سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کو سنے اور پڑھے بغیر مسترد کردیا۔ اور مافیا کے ساتھ ملکر مسلسل پروپیگنڈہ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آج تک نہ تو اپوزیشن مگر نہ ہی کسی مافیا نے وفاقی بجٹ کو پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ سادہ لوح عوام جن کی خاطر عمران خان نے اپنی پرکشش اورآرام دہ زندگی کو خیر باد کہہ کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی کبھی کبھار ان کی باتوں میں پھسل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ غریب دوست بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ سہولیات اور مراعات غریب عوام کے لیے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
    54000 تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔
    1 تا 16 سکیل کےوفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ 17 تا 20 سکیل کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ
    انڈسٹری کے فروغ کے لیے 80 بلین مختص تاکہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا ہو۔
    انصاف ہاؤسنگ سیکم
    15 ملین غریب لوگوں کےلئے انصاف صحت کارڈز کا اجراء
    توانائی کے شعبے کے لیے 80 بلین مختص
    معذور افراد کے لیے کنوینس الاونس 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ماہانہ مقرر
    قرآن مجید کی اشاعت کے لیے اعلی کوالٹی کے کاغذات پر ڈیوٹی معاف
    کم از کم ماہانہ تنخواہ 17500مقرر
    قبائلی اضلاع کے لیے 110 بلین مختص
    انسانی تعلیم وترقی کے لیے 58 بلین مختص
    کامیاب جوان پروگرام کے لیے 110 بلین مختص
    46 بلین کراچی کے لیے مختص
    کوئٹہ کی ترقی کے لیے 41 بلین کا پراجیکٹ 30 بلین پانی اور خوبصورتی کے لیے
    عورتوں اور بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے 500 کفالت سنٹروں کا قیام
    ہر ماہ 80000 لوگوں کو سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی
    راشن کارڈز کے ذریعے 1 ملین لوگوں کو خوراک کی فراہمی
    75 فیصد صارفین بجلی 300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کے لیے 200 بلین سبسڈی ،
    کیا کبھی ان نکات پر کسی نے بات کی ہے؟ کیا میڈیا نے کبھی ان نکات کے بارے عوام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے؟ کیا کبھی کسی سماجی تنظیم نے غریب پرور بجٹ پر مباحثہ کا انعقاد کیا ہے؟ افسوس کہ یہاں بغض عمران خان کی وجہ سے اپوزیشن اور مافیا نے اس بجٹ کے غریب دوست نکات پر بات نہیں کی۔ الٹا جھوٹی خبروں، افواہوں، اور پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اسی پروپیگنڈے، جھوٹ اور افواہوں کی پشت پر اپنی کرپشن کو چھپا رہے ہے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی کرپشن کو چھپا نہیں سکتے۔
    موجودہ انتہائی مشکل معاشی حالات میں عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر حماد اظہر کا شکریہ ادا نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔

  • کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    رانا ثناء اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کر لیا اور اس کی گاڑی سے 15 کلو اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کرلی اس پر اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے شاید *چور مچائے شور* اسے ہی کہتے ہیں.
    ماڈل ٹاون سانحہ کا مرکزی کردار اور پنجاب میں دہشت گردوں کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے والے غنڈے کی چرس سمیت گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ ہم آج تک قاتلوں کو کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے رہے ہیں
    بصری آلودگی کی انتہاء دیکھیے کہ ہم یہ سب جانتے بوجھتے کرتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ نونی ہے یا پیپلی، یہ غنڈے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ بنارسی ٹھگ باریاں لیتے اور عوام کو لوٹتے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ قاتل ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے

    ہم جانتے تھے کہ یہ نونی اور پیپلی پاکستان پر قافیہ تنگ کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی اصل وجہ یہی خونی درندے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    کیونکہ ہم تعلیم یافتہ نہ تھے، کاش ہم تعلیم یافتہ ہوکر باشعور ہوتے تو ملک آج تک اندھیروں میں دھکے نہ کھاتا
    اور یہ سب ہم سے زیادہ یہ بنارسی ٹھگ جانتے تھے شاید اسی لیے انہوں نے ہمارا نظام تعلیم کرائے پر دیئے رکھا تاکہ ہم اردو اور انگلش میڈیم، آکسفورڈ او اور اے لیول، اور اسی طرح کے دیگر جھمیلوں میں الجھے رہیں اور اصل مسئلے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہ جائے
    اور یوں ہماری اسمبلیاں ہوں یا پارلیمنٹ، مقننہ ہو یا اپوزیشن، کسی بھی جگہ باشعور اور تعلیم یافتہ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا گیا، جو بھی یہاں پہنچے ذہنی غلام اور اپنے ضمیروں کا سودا کر کے آنے والے تھے
    شاید آپ کو "پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” کا مطالعہ کرنا چاہیے
    اس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، لیکن صرف ہم ہی بھگت رہے ہیں یا سارا وطن بھگت رہا ہے، اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کا جواب ہمیں روزانہ اور بلاناغہ بارہا مرتبہ
    جھنجھوڑتا ہے لیکن ہم بحیثیت قوم بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں اور جب ایسی مِلّـی بے حسی طاری ہوتی ہے تو بڑے سانحات کی راہ از خود ہموار ہوجایا کرتی ہے۔
    اور اب کان پکڑ لیجیے قبل اس سے کہ کان پکڑوا دئے جائیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: مسافر بس کھائی میں جا گری 30 افرادجاں بحق

    مقبوضہ کشمیر: مسافر بس کھائی میں جا گری 30 افرادجاں بحق

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتوار میں مسافروں سے بھری بس حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مسافروں سے بھری بس کو حادثہ ضلع کشتوار کے علاقے کشوان میں پیش آیا جہاں دوران سفر بس گہری کھائی میں جاگری۔

    رپورٹ کے مطابق بس حادثہ گنجائش سے زائد مسافروں کے سوار ہونے کے باعث پیش آیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کشوان نے بس حادثے میں 30 مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جب کہ 7 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

    بس حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور کی شناخت مدثر احمد نامی شخص سے ہوئی ہے۔

  • ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    چلی میں ڈالر 680 پیسو کا
    کولمبیا میں 3198 پیسو کا
    ہنگری میں 284 فارنٹ کا
    آئس لینڈ میں 124 کرونا کا
    انڈیا میں 69 روپے کا
    انڈونیشیا میں 14139 روپیہ کا
    ایران میں 42086 ریال کا
    جاپان میں 107 ین کا
    قازقستان میں 379 ٹینگے کا
    نیپال میں 110 روپے کا
    روس میں 63 ربل کا
    جنوبی کوریا میں 1158 وان کا
    سری لنکا میں 176 روپے کا
    وغیرہ وغیرہ
    اب ذرا ان میں سے چلی، ہنگری، جاپان، روس، آئس لینڈ اور جنوبی کوریا پہ نظر ڈالیں
    یہ سب کے سب ہم سے کوئی 40, 50 سال آگے ہیں
    یہی نہیں بلکہ ہم سے تو انڈونیشیا، انڈیا اور قازقستان بهی آگے ہیں
    ہائیں؟ کیسے؟
    ڈالر اتنا مہنگا ان کے ہاں اور یہ ترقی بهی کر گئے؟چلیں چلی پہلے سامنے آگیا تو پہلے اسی کی ہی مثال لے لیں ۔ چلی میں ایک امریکی ڈالر 680 پیسو کا ہے یعنی ہم سے تقریبا 400% کم ویلیو کا لیکن اسکے باوجود بھی چلی لاطینی امریکہ کا سب سے مستحکم معیشت رکھنے والا خوشحال ملک ہے ۔ چلی کو 2006 میں OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) کا رکن بھی بنا لیا گیا ۔ چلی میں گو کہ inequality ہے لیکن پھر بھی غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کا تناسب صرف پونے تین فیصد ہے ۔

    بات یہ ہے کہ کرنسی کا گرنا یا ایک ایک ڈالر کے بدلے میں جھولیاں بھر بھر کر مقامی کرنسی کا مل جانا ہی معیشت کی کمزوری یا ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی ایکسچینچ ریٹ تو کبھی بھی معاشی کارکردگی یا معاشی ترقی کا ثبوت نہیں ہوتے ۔ دنیا ہنسے گی اگر آپ نے ایسی کوئی مثال بھی دی ۔ مثلا اس وقت ایک امریکی ڈالر 163 پاکستانی روپے کا ہے اور ایک کویتی دینار 537 روپے کا ہے تو کیا پھر کویتی دینار امریکی ڈالر سے بھی مضبوط کرنسی بن گیا یا کویت کی معیشت امریکہ سے تین سو فیصد بڑی گئی کیونکہ اس لحاظ سے تو ایک کویتی دینار ایک امریکی ڈالر کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کویتی دینار کے امریکی ڈالر سے مہنگا ہونے کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کویت کی اکانومی ایک مضبوط اکانومی ہے ۔ ملکوں کی معیشت ڈالر کے ایکسچینج ریٹس سے نہیں بلکہ برآمدات ، فارن ریزرو ، قومی پیدوار اور بچتوں میں اضافے سے ہوتی ہے ورنہ تو GDP تو چلی کا بھی 300 اب ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کا 330-340 ارب ڈالرز ۔ اب پاکستان کی پتلی حالت بھی سامنے ہے اور چلی کی خوشحالی بھی ۔

    چلی میں چلی کے لوگوں کو ایک ڈالر 680 peso میں مل رہا ہے یعنی ہمارے ملک کے دانشوڑوں کے لحاظ سے تو اندھیر ہی مچ گئ لیکن چلی میں کرنسی کی قدر کو کم رکھنے کا ٹرینڈ تو پچھلے کئی سالوں سے ہے اور ہر ایکسپورٹ اورینٹڈ اکانومی والے ملک کا یہی طریقہ ہونا بھی چاہئیے ۔ دس سال پہلے 2009 میں چلی کا پیسو 550 کے قریب تھا اب 2019 میں 680 کے قریب ہے اور مزے کی بات یہ کہ اتنی ڈی ویلیو کرنسی کے باوجود چلی کی معیشت "مضبوط معیشت” ہے کیونکہ چلی کی” آمدنی "اسکے "اخراجات” سے زیادہ ہے ۔ یا یوں کہئیے کہ اس نے اپنے اخراجات اپنی کمائی سے کم رکھے ہیں ۔ یعنی ایکسپورٹ زیادہ اور امپورٹ کم لہذا بیلنس آف ٹریڈ بھی پوزیٹو ہے ۔ 2017 میں چلی کی ایکسپورٹ 23۔69 ارب ڈالرز رہیں تھیں (جس میں سے تیس ارب ڈالرز کی تو صرف کاپر کی ایکسپورٹ ہے چین اور امریکہ کو) اور امپورٹس 31۔61 ارب ڈالرز ۔ یعنی آمدنی ذیادہ خرچہ کم باقی کی رقم منافع اور سیونگ ۔ چلی میں ملکی ڈپازٹس کا 20 فیصد قومی بچت سے آتا ہے ۔ یعنی کل ملا ایک ڈالر میں 635 پیسو دینے والے چلی کے فارن ریزرو میں تو اس 39-40 ارب ڈالرز پڑے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے اسحاق ڈالر کے ڈالر کو 100 کے آس پاس رکھنے والے پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالرز کے فارن ریزرو بھی بمشکل جمع ہو پاتے ہیں۔ ایک ڈالر کے 680 پیسو دینے والے چلی کی تو ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں رینکنگ 48 ہے اور 100 پر ڈالر کو "پھڑیئے "رکھنے والا پاکستان 158 نمبر پے ۔ 2017 میں چلی میں بیرونی سرمایہ کاری یعنی فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ FDI , 206 ارب ڈالرز کی ہوئی اور ادھر پاکستان میں بمشکل سوا 3 ارب ڈالرز ۔

    پاکستان اور چلی میں فرق صرف یہ ہے چلی میں وہ دانشوڑ طبقہ نہیں ہے جن کے 45 گروتھ والے دماغوں کو انکے پے ماسٹرز نے صرف ڈالر کا ریٹ اور اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پڑھنا ہی سکھایا یے ۔ جسکی وجہ سے قوم کے سامنے صحیح معاشی صورتحال آ ہی نہیں پاتی ۔ حالانکہ ذرا سی بھی معاشی سمجھ بوجھ رکھنے والا معیشت دان پانچ سال سے 24 ارب ڈالرز کے آس پاس کھڑی ایکسپورٹ اور پہاڑ کی طرح بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو دیکھ کر سہمے جا رہا تھا اور روپیہ ڈی ویلیو کرنے کے لئیے پچھلے تین چار سالوں سے ہر بڑا معیشت دان چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہا تھا کہ آنے والوں دنوں میں بیلنس آف پیمنٹ کا گیپ اتنا بڑھ جائگا کہ بھیک تک مانگنا پڑ جائیگی لیکن اسحاق ڈار نے اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک دشمن کر سکتا تھا ۔ پانچ سالہ دور اقدار میں لئیے گئے 41 ارب ڈالرز کے قرضے میں سے 7 ارب ڈالرز کی بڑی رقم ڈالر کی قمیت کو 100 پر "پھڑیے” رکھنے میں جھونک دی ۔ جسکا زیادہ فائدہ امپورٹرز کو ہوا اور اس فائدے سے کئی گنا زیادہ نقصان ایکسپورٹرز کو ہوتا رہا ۔ جس ڈالر کے روکے رکھنے کو ن لیگ کی اقتصادی شہہ دماغوں کی قابلیت باور کرایا جاتا رہا ہے وہ تو پورا پلان تھا پاکستان کی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا کر جانے کا تاکہ آنے والی حکومت قرضوں کی قسطیں بھر بھر کے اور معیشت کے جسم کو لگے گھاو کو بھرتے بھرتے خود ہی گھائل ہو کر منہ کے بل گر جائے ۔ اور یہ صرف معیشت کا ہی گرنا نہ ہوتا ملکی سلامتی اور سیکیورٹی بھی منہ کے بل گر چکی ہوتی ۔

    اسحاق ڈالر کا ڈالر کو 100 روپے پر روکے رکھنا پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا مریض بنا گیا گیا ۔ ایکسپورٹ تو پانچ سال تک 24 ارب ڈالرز پر ہی رہی رہیں لیکن ڈالر سستا رکھنے سے امپورٹس کا جو بل ن لیگ کی حکومت کے آغاز میں تقریبا 35 ارب ڈالرز سالانہ تھا وہ 56 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ ایکسپورٹ 24 ارب ڈالرز پر ہی کھڑی رہیں ۔ اب ظاہر ہے آپ کے گھر والے کما تو وہی 24-25 روپے رہے ہوں لیکن اللے تللوں اور خریداریوں میں 55-56 روپے لگا رہے ہوں تو باقی کا پیسہ یا تو بھیک سے آئیگا یا قرضوں اور گھر کا سامان گروی رکھنے سے ۔ اور یہی ہوا ۔ پچھلے پانچ سالوں ملکی ادارے سستے قرضوں کے بدلے گروی رکھے جاتے رہے، مارکیٹ اور آئی ایم ایف سے قرضے لیکر امپورٹ بل بھرے جاتے رہے اور ڈالر کو” پھڑیے” رکھنے میں جھونکے جاتے رہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے عمران خان کی حکومت کو آنے سے پہلے ہی اسحاق ڈار کی ڈارنامکس کا بوجھ ڈھونا پڑ گیا ۔ قرضہ لیا پچھلوں نے ، لیکن حکومت میں آتے ہی اس سال میں اس حکومت کو 7۔9 ارب ڈالرز کا پچھلوں کا یعنی ن لیگ کا لیا ہوا قرضہ اتارنا پڑا ۔ جی ہاں 7۔9 ارب ڈالرز کا ۔ اور کان کھول کر یہ بھی سن لیں کہ اگلے دو سالوں میں 27 ارب ڈالرز کا قرضہ مذید میچیور ہو جائگا ۔ یعنی پاکستان کو اگلے دو سالوں میں صرف اور صرف afloat رہنے یعنی اپنی معاشی بقا کے لئیے 50-55 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ 27 ارب ڈالرز کے قرضے دے سکے وہ جو ن لیگ اور زرداری دور میں لئیے گئے ۔ اب ننگا نہائے گا اور نچوڑے گا کیا ؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی اکنامک لٹریسی بڑھانی ہوگی ۔ 45 فیصد والے دانشوڑوں کو چھوڑیں انہیں سمجھ نہیں آنی لیکن پاکستانی قوم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی یا بدحالی کا دارومدار ڈالر یا کسی بهی بیرونی کرنسی پہ نہیں ہوتا یہ وہاں کی معیشت اور ملک کے اندر موجود حالات کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات پہ ہوتا ہے ۔ آپ کی برآمدات اگر درآمدات سے زیادہ ہوں آپ کے ملک پہ بے تحاشا قرضے نہ ہوں اور ہیومن ریسورسز پوری طرح سے جدید بنیادوں پہ استوار کی گئی ہوں تعلیم کی ریشو کم سے کم 80 فیصد ہو تو پهر ڈالر چاہے ایک ہزار روپے کا ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں نا تعلیم ہے معیشت کا کباڑا ہو چکا ہے قرضوں کی بهرمار ہے اس لیے مہنگائی ہے تنخواہیں کم ہیں تو تهوڑا زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر واویلے نے پوری کر دی ہے اس لیے زیادہ ہی ہائے ہائے ہو رہی ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ نظام انصاف اور کرپشن کی جڑ کاٹے بغیر inclusive growth کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

    جنوبی کوریا پاکستان کے ایک صوبے جتنا ہے وہی جنوبی کوریا جہاں کی سامسنگ کمپنی کا موبائل لے کر خوشی سے پهٹنے والے ہو جاتے ہو اسی ملک کی کرنسی ہم سے بهی پیچهے ہے مگر ان کے ہاں قانون اور انصاف کا راج ہے وہاں کوئی بهی جا کر کرپشن میں پهنسے بندے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہاں کرپٹ افراد سے ان کے اپنے خاندان والے بهی تعلقات ختم کر لیتے ہیں دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک گرفتار کیے جانے والے تمام کرپٹ افراد میں سے 90 فیصد نے خودکشی کر لی کیوں کہ عوام ان پہ تهوکتی پهرتی تهی رہائی کے بعد بهی ۔

    دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو قتل سے بھی بڑ جرم سمجھا جاتا ہے اور قتل کی سزاوں سے بھی سخت سزائیں منی لانڈرنگ اور کرپشن کی ہیں ۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے تو ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ اسکے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے لیکن منی لانڈرنگ تو ملک کی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بہیمانہ اور شرمناک جرم تصور کیا جاتاہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے خاندانوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرپڑتے ہیں ۔ اور یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ۔ سندھ اور پنجاب پر حکمران خاندانوں کی سربراہی میں باقاعدہ بینک بنا کر منی لانڈرنگ کے دھندے کئیے گئے ۔ اب جب منی لانڈرنگ کی جڑ کاٹی جارہی ہے تو پاکستان کے دانشوڑوں کو معیشت کی بحالی کے حقیقی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ FBR کا 5 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا منظر عام پر لانا ، FBR کا Chinese ٹیکس سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیئے جانا ، NAB کا چائنا کا ساتھ کرپشن مکاو MOU سائن کرنا اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کا سلسلہ روکنا ، یہ اور اس جیسے کئی اقدامات ایسے ہیں جو صرف اور صرف اسی دور میں اٹھائے جارہے ہیں ۔ صرف 40 ہزار والے پرائز بانڈ کو دیکھیں تو اس کھیل کی ڈائنامکس سمجھ کر ہوش اڑ جائیں ۔ اس وقت ملک میں تقریبا نو سو ارب یعنی 6 بلین ڈالرز کے پرائز بانڈ سرکولیشن میں ھیں۔۔6 ارب ڈالر ، یہ اتنا ہی جتنا ہم نے IMF سے قرضہ لیا ہے ۔کہا جاتا ھے، یہ پرائز بانڈز ملک میں سب سے زیادہ کرپشن کو فروغ دیتے تھے، کیونکہ ایک تو ان کا سائز یعنی چالیس ھزار کے بونڈ کی سو کی گڈی چالیس لاکھ بنتی ھے ۔۔اور یہ آسانی سے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوجاتے ھیں۔۔۔اور کسی کو پتہ نہی چلتا ۔۔ یہ پرائز بانڈز کئ دھائیوں سے ملک میں کالا دھن کا بہترین اور آسان زریعہ بنا ھوا تھا جس کو کسی حکومت نے روکنے کو کوشش نہی کی۔اب جب ان بانڈز کے اجراع کو بند کیا جارھا ھے تو جن جن حضرات کے پاس یہ سارے ہرائز بانڈز موجود ھیں ان کو بینک جاکر روپے میں تبدیل کروانا پڑے گا، جہاں ان کو اس انکم کا حساب دینا پڑے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کا ٹیکس دیا تھا یا نہی۔۔۔

    دانشوڑوں سے درخواست ہے کہیہ ڈالر کی اونچی اڑان والا واویلا بند کریں ۔ ہم 22 کروڑ میں سے تقریباً 98 فیصد نے تو ڈالر کو ہاتھ میں پکڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ جب کہ دانشوڑوں کا گریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے روزانہ ڈالر ہی کهاتے ہیں اور مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سارے دانشوڑ بهوکے مر جائیں گے۔ قسمے اگر جہالت پہ اگر کوئی انعام ہوتا یا سینگ لگتے تو ہمارے پاکستانی دانشوڑ بارہ سنگھے ضرور ہوتے ۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔
    میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔

    خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔
    سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔
    ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
    سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔
    سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔
    بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
    ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔
    سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی۔
    اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
    ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
    غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
    سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
    اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
    سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔

    اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

  • حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    "جیے بھٹو”، "اک واری فیر شیر”، "25 لاکھ علماء کا وارث”، "انتہا درجے کی بوٹ پالشی”، "لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان عرف مغالطہ پاکستان پر قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایمان” اور "سانہو کی سے تہانو کی” سطحی اور نیچ نعرے وہ گھٹیا افعال اور افکار ہیں جن سے ہماری مجموعی اور عمومی ذہنیت اور دماغی استعداد کار کا انداز کرنا بالکل مشکل اور ناممکن نہیں۔

    ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر منحصر لوگ ہیں جن کا انحصار ہمیشہ دوسروں پر رہا ہے, کبھی ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں ستاتا کہ میں بھی انسان ہوں اور اللہ نے مجھے بھی دماغ دے کر پیدا کیا ہے سو میں کیونکر مسلسل ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاؤں؟

    ایسی قومیں ترقی نہیں تنزلی کی منزلیں بہت جلد اور تیز رفتار سے طے کرتی ہیں۔

    ہم اتنے پکے پیر مقلد اور مکلف ہیں اپنے بیچ موجود طاقتور افراد اور اداروں کے کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جس کا نہ کوئی سرا ہے نہ ہی حد۔

    خود سے تحقیق اور تفتیش کا نہ ہم میں یارا ہے اور نہ ہی کوئی خاص شوق کہ ہم جان پائیں کہ آخر ہم کن نظریات اور افکار کی پیروی میں تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

    ہماری محبتوں کی طرح ہماری نفرتیں بھی سیانی ہیں کہ یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا فرق ہمارے کہے بنا کرلیتی ہیں۔

    پاکستان کو اللہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے ورنہ ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی خود اس کو تباہ کرنے کی۔

    آج ہمیں قرضوں کی دلدل نظر آرہی ہے, ہمارا معاشی دیوالیہ نظرآرہا ہے, ہمارے موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بیوقوفی یا سیدھے لفظوں میں عوام دشمنی نظر آرہی ہے پر ہمیں پہلے خبر ہونے کے باوجود سابقہ کسی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری کی کوئی برائی بھی برائی نہیں لگی۔

    ہم نے ہمیشہ لاڈلی اولاد کی طرح اپنے اپنے من پسند حکمرانوں کی لوٹ مار اور غلط فیصلوں کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر دفاع بھی کیا اور آج جب بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے تب بھی ہمارے اندر سے ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی محبت جانے کا نام نہیں لے رہی۔

    واللہ آج جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو سمجھ پاتا ہوں کہ جب جب اللہ نے بت پرستی اور شرک کا قلع قمع کرنے کو نبی معبوث کیئے تو انہیں شدید ردعمل اور تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور کیونکر بت پرست امتوں کو بت پرستی گناہ نہیں لگی اور کیونکر وہ بت پرستی سے دستبردار نہیں ہوئے؟

    ہمارے بیچ بھی بت پرستی نے جڑیں بہت گہری کرلی ہیں۔

    ہم نے شخصیات کے بت سجا لیے ہیں, نظریات کے بت سجا لیے ہیں, اداروں کے بت سجا لیے ہیں, افکار کے بت سجا لیے ہیں, ذاتیات کے بت سجا لیے ہیں, آزادی نام کی دیوی کے بت سجا لیے ہیں, بغاوت کے بت سجا لیے ہیں, دولت کے بت سجا لیے ہیں, شہرت کے بت سجا لیے ہیں, علم و عمل اور الفاظ کے بت سجا لیے ہیں, اور تو اور حق اور سچ کے بت بھی سجا لیے ہیں, غرض ہر وہ چیز؟ انسان، واقعہ، جگہ اور نظریہ ہماری بتوں کی لسٹ میں موجود ہے جس سے ہم متاثر ہوسکیں اور جن پر انحصار کرکے ہم زندہ رہنے کا بے ڈھنگا مقصد طے کرسکیں۔

    بت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں ایک تو بتوں میں خدا اور ناخدا دونوں نظر آتے اور دوم انہیں کسی صورت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ بت پرست ہیں۔

    آج ذرا ن لیگ والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پیپلز پارٹی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پی ٹی آئی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جمعیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جماعت اسلامی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فنڈا مینٹلز کا حال ملاحظہ کرلو, لبرلز کا حال ملاحظہ کرلو, ڈیموکریٹکس کا حال ملاحظہ کرلو, سینٹرکس کا حال ملاحظہ کرلو, صحافیوں کا حال ملاحظہ کرلو, ایکٹیوسٹس کا حال ملاحظہ کرلو, بوٹ پالشیوں کا حال ملاحظہ کرلو, فرقہ بازوں کا حال ملاحظہ کرلو, عصبیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, ملحدوں کا حال ملاحظہ کرلو, میں حق سچ کہتا اور لکھتا رہوں گا چاہے میری جان چلی جائے کہنے والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فیمنسٹس کا حال ملاحظہ کرلو اور دانشوروں کا حال ملاحظہ کرلو۔

    کون ہے ان مذکورہ اور وغیرہ وغیرہ میں جو کسی نا کسی بت کا پجاری اور اس بت کے مندر کا پروہت نہیں؟

    اب جب ان میں کوئی اللہ کا بندہ کوئی اللہ کا ولی اٹھ کر احساس دلاتا ہے, ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے یہ بتا کر کہ تمہارا مسئلہ بھوک, مہنگائی اور بیروزگاری مطلب روٹی, کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بت پرستی ہے جو تم میں وطن پرستی, شخصیت پرستی, نظریہ پرستی اور انجمن پرستی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے تو اسے لٹھ لیکر سب مارنے پر تل جاتے ہیں اور جہاں تک زور چلتا ہے کردار کشی اور گالیوں کے تیرو تفنگ کے ساتھ اس پر ہر وقت حملہ آور رہتے ہیں۔

    یہ جو سب افرا تفری اور تباہی و پریشانی کے ساز بج رہے ہمارے گردو نواح میں انہیں اب برداشت کرو کہ پوجا کا لازمی جزو ہے بے ہنگھم اور سر دردی والی موسیقی۔

    حق اور سچ کا صرف ایک ہی میعار ہوتا ہے اور وہ ہے خالص پن اور مضبوط دلائل, لہذا اپنے ذاتی میعارات سے دستبرداری اختیار کرو اور بت پرستی چھوڑ کر حق کی طرف چلے آؤ۔

    اذانِ حق ہر دور میں دی جاتی رہی ہے خواہ دور کوئی بھی ہو لہذا اپنے اپنے صنم کدے مسمار کرکے حق و سچ کے قبلے کی طرف منہ کرو اور حق و سچ کی پہچان یہی ہے کہ وہ تاثیر میں ٹھنڈے جبکہ ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔

    جی ہاں جن جن بتوں کی ہم پوجا کررہے ان کی بدولت ہم بت پرست ہی ہوئے کہ یہ بت بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اور خود کو کسی نقصان سے بچا نہیں سکتے لہذا ان کی پوجا سوائے ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کہ اور کچھ نہیں کررہی۔

    آئیے سوچنا اور تحقیق کرنا شروع کیجیے اور کڑوے سے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت کیجیے تاکہ ہم پر نادیدہ بتوں کی پوجا کی بدولت جو نادیدہ و دیدہ عذاب مسلط ہیں ان سے چھٹکارہ مل سکے۔

    سوچیے گا ضرور۔