Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    تعریف

    یہ درد اکثر سر کے نصف حصہ میں دائیں یا بائیں جانب ہوتا ہے.
    بعض اوقات سارے سر میں درد ہوتا ہے.
    شقیقہ کے معنی ایک شق یعنی ایک طرف کے ہیں.
    یہ درد طلوع آفتاب سے شروع ہو کر دوپہر تک بڑھتا ہے اور جوں ہی زوال آفتاب شروع ہوتا ہے تو کم ہوتا جاتا ہے.

    اسباب

    تھکاوٹ، کمزوری، کثرت حیض، خرابی نظر، کثرت جماع، قبض اور بے خوابی اس کے اسباب ہیں.
    یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے.

    علامات

    درد کے شروع ہونے سے پہلے طبیعت سست ہو جاتی ہے.
    یہ عموماً پندرہ سے پچیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے.
    اس میں دماغ کی رگیں پھیل جاتی ہیں.
    دماغ میں خون زیادہ مقدار میں پہنچتا ہے.
    سر گھومنے لگتا ہے اُبکائیاں آتی ہیں. مریض روشنی اور آواز برداشت نہیں کرتا اور چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے.

    علاج

    درد شروع ہونے سے پہلے اور درد کی حالت میں کوئی غذا کھانے کو نہ دیں.
    مریض کو مکمل آرام کرائیں.

    سفوف اکسیر دافع درد شقیقہ

    کشنیز خشک 30 گرام
    کلونجی 10 گرام
    اسطوخودوس 50 گرام
    فلفل سیاہ 15 گرام

    چاروں اجزاء کو بایک پیس کر سفوف بنائیں۔

    مقدار خوراک

    3 تا 6 گرام
    صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔

  • شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    میں جیسے ہی ریاضی کا پرچہ دے کر کمرہ امتحان سے باہر نکلا مجھے اپنا ایک سینئر ساتھی راہداری میں کھڑا نظر آیا۔ اس کے چہرے پر چھائی گہری پثمردگی اور مایوسی دیکھ کر میں نے اس سے پرچے کی بابت کوئی سوال نہ کیا۔ لیکن وہ مجھے ملتے ہی پھوٹ پڑا اور روہانسے انداز میں اپنے پرچے کی خرابی کا احوال سنانے لگا۔ کینسر کی آخری سٹیج پر زندگی سے ہارے ہوئے ایک مایوس مریض کی طرح وہ ناامیدی کی آخری سٹیج پر آگے مزید تعلیم جاری نہ رکھنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ اس کی زبان سے نکلتے ہوئے ناامیدی سے لبریز جملے میرے کانوں سے ٹکرا کر فضاء کی پر سکون لہروں میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔ جب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں اس سے گویا ہوا "بتاؤ تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرتے وقت کتنی مرتبہ ناکامی کا سامنا کیا تھا؟” کہنے لگا "نو سو ننانوے مرتبہ۔” میں نے کہا "اگر وہ بھی تمھاری مثل پہلی دوسری ناکامی کے بعد ناامید ہو جاتا اور کہتا کہ یہ مجھ سے نہ ہو پائے گا تو وہ کبھی بلب ایجاد نہ کر سکتا۔” مختصر یہ کہ میں نے اسے مایوسی کے متعفن جوہڑ سے نکال کر امید، ہمت اور جذبے کے پاکیزہ چشمے سے اشنان کروانے کی سعی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی جب وہ مجھے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر آج میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں تو تمھاری وجہ سے ہوں۔
    معزز قارئین! مایوسی ایک ایسا گناہ ہے جو لذت سے تہی دامن ہے۔ آخر مایوسی کو کفر کیوں قرار دیا گیا؟ آخر کیوں اللہ نے بنی نوع انسان کو ناامیدی سے حکما روکا ہے؟ درحقیقت ناامید ہونا اللہ کی رحمت کا انکار ہے۔ مایوسی کا مطلب اس رحمت خداوندی کا انکار ہے جو اس کے غضب پر ہاوی ہے۔ مگر صد افسوس! کہ آج ہر سمت مایوسی و ناامیدی کے تعفن سے معاشرے کی فضاء بوجھل ہے۔ آج طلباء سے لے کر حکومتی ایوانوں تک تمام شعبہ ہائے زندگی اور عوام کے تمام طبقات میں یاس و ناامیدی کے ڈیرے ہیں۔ آج اگر ایک طالب علم کو دیکھیں تو وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے، کسان اپنی زراعت سے، صنعت کار اپنی صنعت سے، نوجوان روزگار سے، الغرض کہ ہمارے عوام مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، ڈالر کی اونچی اڑان، سیاسی و مذہبی فرقہ واریت اور کہیں عصبیت و لسانیت کی وجہ سے مایوس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے مایوسی ہمیشہ ابلیس کی طرف سے ہوتی ہے۔ ابلیس کا کام بنی نوع انسان کو اللہ کی رحمت سے ناامید کرنا ہے۔ اور جب انسان رب کی رحمت سے ناامید ہوتا ہے تو پھر وہ اپنے مستقبل سے، سونے جاگنے سے، چلنے پھرنے سے، اپنی مصروفیت و فراغت سے، جزاء و انعام سے، موت و آخرت سے حتی کہ اپنی زندگی سے بھی مایوس ہو جاتا ہے۔ اور پھر عموما اس یاس و ناامیدی کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے، معاملہ پھر صرف خودکشی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ذلت و رسوائی کا ایک طویل سلسلہ عذاب الہی کی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔
    معزز قارئین! ستم تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس شب یاس میں ضیائے آس دکھانے والے مفقود ہیں۔ چہار سو آدھا گلاس خالی دیکھنے اور دکھانے والے ہیں۔ ہر سمت ایسے لوگوں کی بھیڑ ہے جو سادہ لوح عوام کو ملک و قوم کے حوالے سے مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلتی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا کا منفی کردار جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتصادی، معاشرتی، انتظامی اور سیاسی کمزوریوں کے متعلق عوام الناس کو آگہی دینا میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مثبت پہلؤں کو یکسر ہی نظر انداز کر کے تصویر کا صرف ایک رخ ہی دیکھایا جائے۔ قوموں پر کڑے وقت آتے ہی ہیں، لیکن تاریخ صرف ان کے نام درخشندہ حروف میں لکھتی ہے جو مشکل حالات میں ڈھارس بندھانے والے ہوتے ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی کا پرچار کرنے والوں کا نام تو ملک و قوم کے مجرموں کی فہرست میں آتا ہے۔
    غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔ دس ہزار کا ٹڈی دل مدینہ کی نوزائیدہ ریاست کو نگل جانے کے لیے آیا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کے حالات انتہائی پتلے تھے۔ کہیں فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ پیٹ پر پتھر بندھے تھے اور کہیں منافقوں اور غداروں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کلیجے منہ کو آ رہے تھے۔ ایسے دگرگوں حالات میں رہبر اعظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چٹان پر ضربیں لگاتے ہوئے فارس، روم اور یمن کی فتح کی بشارتیں دے کر صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ڈھارس بندھائی اور انھیں تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔
    معزز قارئین! آج ہمارے معاشرے کو بھی ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو مایوسی کے ظلمت کدوں میں امید کے دیپ جلائیں۔ آج ہمارے طلباء کو ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو روشن مستقبل کی نوید سے ان کے جذبوں کو جلا بخشیں۔ آج ہمارے کسان کو، صنعت کار کو، مزدور کو، کھلاڑی کو، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو حوصلہ اور جذبہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بقول اقبال:
    ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی
    اور یہ سب امید، جذبہ اور حوصلہ دینے کے لیے کوئی خلائی مخلوق نہیں اترے گی۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ایسے لوگوں کو امید دلائیں۔ ایک ہارے ہوئے شخص کے جذبوں کی راکھ کو چنگاری دیں، کہ نہیں! تم جیت سکتے ہو۔ ایک انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں پڑے مریض کو امید دلائیں کہ نہیں! تم ابھی جی سکتے ہو۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کو بجائے ملامت کرنے کے یہ کہہ کر ڈھارس بندھائیں کہ کیا ہوا جو اس بار فیل ہو گئے محنت کرو آئندہ ان شاءاللہ کامیاب ٹھہرو گے۔ لوگوں کے رویوں سے مایوس شخص کو تلقین کریں کہ مخلوق سے توقعات اور امیدیں ختم کر کے خالق سے امیدیں وابستہ کر لو کبھی مایوس نہیں ہو گے۔ مایوسی ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو سلب کر لیتا ہے۔ مایوس شخص ہر وقت ڈپریشن کا شکار رہتا ہے۔ایسا شخص خود بھی پریشان رہتا ہے اور دوسروں کی پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس لیے ہم نے خود بھی ہمیشہ رحمت خداوندی سے پرامید رہنا ہے اور لوگوں کو بھی مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر امید کے اجالے میں لانا ہے۔ کیونکہ ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے "لا تقنطو من رحمة الله” (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جانا)۔ ناامید تو وہ لوگ ہوں جن کا رب نہ ہو۔ ہمارا تو رب الحي و القيوم ہے اس لیے ہم کیوں ناامید ہوں۔

  • مزدور کو خودکشی کی اجازت دے دیں … شاہ زین

    مزدور کو خودکشی کی اجازت دے دیں … شاہ زین

    ایک مزدور جو پاکستان کی نوے فیصد غریب آبادی کا نمائندہ ہے اسے اس بات سے بالکل بھی کوئی سروکار نہیں کہ پاکستان پہ قرضہ ہے یا نہیں، وہ نہیں جانتا کہ فائلر و نان فائلر ہونا کیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ نواشریف کیا کھاتا ہے کیا نہیں، زرداری نے کتنی منی لانڈرنگ کی، ایان کو ٹی وی پہ دیکھ کر وہ صرف آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے باقی اسے کچھ علم نہیں ،
    اس نے کبھی معشیت کو نقصان نہیں پہنچایا ، اس نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، اس نے کوئی پلاٹ بنگلے نہیں بنائے، وہ نہیں جانتا کہ اے سی میں سونا کیسا ہوتا ہے، لینڈ کروزر میں بیٹھنا کیا ہوتا ہے، شام کو لان پہ چائے پینا کیسا ہے، کے ایف سی، میکڈونلڈ، برگر کنگ کیا بلا ہے، اسکی زندگی صبح پھاؤڑے، ریڑھی، چھوٹی سی دکان یا چھوٹی سی نوکری سے شروع ہوتی ہے، اور شام کو بیوی بچوں کے ساتھ ختم، وہ عیاشیاں نہیں کرتا وہ زندگی گزارتا نہیں ہے وہ وقت کاٹ رہا ہوتا ہے، وہ اتنا جانتا ہے کہ ایک ٹافی و ماچس سے لیکر پیٹرول وہ بجلی گیس کے بلوں پہ ٹیکس تک وہ حکومت کو روزانہ اپنی سات آٹھ سو کی دھیاڑی سے کم از کم بھی ایک سو روپے ادا کررہا ہے، یہ ایک سو روپیہ کماتے ہوے اسکا بے تحاشہ پسینہ بہتا ہے، پچاس کلو کی بیس بوریاں کاندھے پہ لاد کر ٹرک پہ گرائیں تو ایک سو بنتا ہے، ڈیڑھ گھنٹہ مزدوریاں کریں تو ایک سو بنتا ہے
    اس سب کے بعد جب آپ گھی، چینی، آٹا اس کے پہنچ سے دور کردیں گے، وہ جو دو لقمے لگا رہا ہے اس میں سے بھی اسکا اور اسکے بچوں کا ایک لقمہ چھین لیں گے، تو بتائیں وہ کیا کرے؟
    روزانہ سو روپے اس سے لینے کے باوجود، آپ اس کا کھانا پینا اجیرن کردیتے ہیں، آپ اس پہ مہنگائی کا ایٹم بم گرا دیتے ہیں اور تو اور اس کی ادویات پچاس فیصد اضافہ کرکے اس سے زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیتے ہیں تو حضور وہ کیسے حوصلہ کرے؟
    آپ دو فیصد چوروں کی سزا اٹھانوے فیصد معصوموں کو دے کر ان کی زندگی تباہ کر کے فرماتے ہیں کہ
    حوصلہ کرو گھبرانا نہیں
    نہیں مطلب وہ کیسے نا گھبرائے؟
    اچھا وہ نہیں گھبرائے گا اسے اپنے بچے مار کر خودکشی کی اجازت دے دیں
    مہربانی ہوگی.


    شاہ زین

  • تبدیلی کا کیک اور آدھی روٹی ۔۔ ایاز خان

    ایک ملک میں انہتائی کرپٹ حکمرانوں کی حکومت تھی ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت کا بازار گرم تھا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتے جاتے تھے ۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے ۔۔ عوام جتنا کماتے سب خرچ ہوجاتا۔بلکہ مقروض رہتے ۔
    وہاں ایک شخص جس نے ساری عمر کھیل کود میں گزاری تھی اور اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا۔۔لوگوں کی حالت اور حکمرانوں کی بے حسی پر کُڑھتا رہتا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نہ خود بادشاہ بن کر لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے جان چھڑائی جائے ۔ ۔اورپھر اُس نے لوگوں کو قائل کرنا شروع کردیاکہ وہ انہیں ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے گا۔۔جو دولت ان حکمرانون نے لوٹی ہے وہ واپس لا ئے گا ۔۔اور لوگوں اور غذائیت کی کمی کے شکاربچوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کو دے گا ۔پھر کیا تھا کہ لوگوں نے اس شخص کی بات پر یقین کرلیا۔اور کرپٹ حکمرانوں کو ہٹا کر اُسے حکمرانی دے دی گئی جب وہ شخص حکمران بنا تو کیادیکھتاہے کہ خزانہ تو خالی ہے بلکہ ملک کا دیوالیہ نکلا ہواہے۔
    پھر کیا تھا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں پر مقدمات بنے اور انہیں جیل میں ڈالا گیاکہ لوٹی دولت واپس دو۔۔مگر نہ دولت واپس آئی اور نہ ہی خزانہ بھرا۔۔ نئے حکمران نے اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ سر جوڑ لیا۔کچھ نے مشورہ دیا کہ دوست ملکوں سے قرض لیا جائے ۔او ر خزانہ بھر ا جائے تاکہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک مل سکیں ۔۔نیا حکمران کبھی اس ملک بھاگا کبھی اُس ملک بھاگا۔۔کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے لیا ۔۔مگر خزانہ بھر نا تو دور کی بات ۔کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوگیا۔۔پھر کیا تھا کہ فیصلہ کیاگیاکہ اُس آدمی کو لایا جائے جو پہلے حکمرانوں کو بھاری سود پر ر قم کا بندوبست کر کہ دیتاتھا۔اگرچہ نئے حکمران نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ۔وہ خود کُشی کرلے گا لیکن ایسے کام کبھی نہیں کرے گا جو پہلے والے حکمران کرتے آئے ہیں ۔۔مگر اُس نے تو عوام کو روٹی کی جگہ کیک کھلانے تھے ۔اس عظیم مقصد کے لےے اُس نے بھاری سود اور شرطوں سے بھرپور قرض بھی لے لیا۔۔لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آرہے تھے ۔۔کیونکہ خزانہ تھا کہ جتنا مرضی ڈالے جاﺅ بھر تاہی نہیں تھا ۔اور قرض تھا کہ آسمانوں کو چھونے لگا۔۔نئے حکمران نے بڑے بڑے معاشی پنڈت بلا لیے ۔۔اور اُن کے سامنے اپنا مدعا رکھا کہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک کیسے کھلایا جائے ۔کیونکہ ان حالات میں تو ممکن نہیں ۔

    فیصلہ کیا گیا کہ لگان اتنا بڑھا دیاجائے کہ خزانہ بڑھ جائے اور کیک کی فیکٹریاں لگ سکیں ۔اور پھر فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوا۔۔ پھر کیا تھا کہ ہر کمانے والے پر جو پہلے ہی طرح طرح کے تاوان دیتاتھا۔نئے نئے لگان لگادیے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو چار روٹیاں کھاتا تھا ۔مہنگائی بڑھنے اور تاوان کٹنے سے دو روٹیوں پر آگیا۔۔جو دو روٹیاں کھاتا تھاایک ۔۔اور جو ایک روٹی کھاتا تھا ۔اسے مجبور کردیاگیاکہ وہ آدھی روٹی کھائے ۔۔۔رہی بات آدھی اور چوتھائی کھانے والوں کی تو انہیں بھی دو دو تین تین نوالے لگان میں دینے کا کہہ دیا گیا۔۔تاکہ ۔ اُن کے لیے کیک کا بندوبست ہوسکے ۔۔ اُن میں سے ایک مشیر ایسا بھی تھا جو سامنے تو نہیں آتا تھا لیکن فیصلے وہی کرتا تھا کہ کس وزیر کو لگانا ہے اور کسے ہٹانا ہے ۔اس مشیر کا چینی کا دھندہ تھااور چونکہ کیک بغیر چینی کے مکمل نہیں ہوسکتا تو مشیر نے کہا کہ اتنے کیک بنانے کے لیے بہت زیادہ چینی درکار ہوگی ۔اور لوگ سستے داموں چینی لے کر کھا جاتے ہیں ۔۔اس لیے اگر چینی پر بھی تاوان لگا دیا جائے تو اتنے پیسے اکٹھے ہوجائیں گے کہ مستقبل میں کیک بنانے کے لےے چینی وافر مقدار میں موجود ہوگی اور ضرورت پڑنے پر ان پیسوں سے درآمد بھی کی جاسکے گی ۔۔پھر کیا ہوا کہ چینی پر بھی لگان لگا دیاگیااور عوام کے بچوں کو جو پانی میں قطرہ بھر دودھ ڈال کر چینی ملا کر پلا یا جاتا تھا ۔۔وہ بھی ممکن نہ رہا۔۔۔حالات زرہ خراب ہوئے تو صنعتکاروں اور کاروباری حضرات جن کے منافعے زرہ کم ہوئے تو ۔انہوں نے مزدور نکالنے شروع کردےے ۔بچ جانے والوں کو کہا جانے لگا کہ دو دو تین تین لوگوں کا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور وہ بھی آدھی تنخواہ پرجب عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھی تو ملک کا حکمران آئے روز مجمع لگاتا ۔اور لوگوں کو کہتا کہ وہ ےہ سب اس لےے کررہا ہے تاکہ عوام روٹی کی بجائے ”کیک “ کھاسکیں اور بچوں کی نشو و نما اچھی ہوسکے ۔۔انہیں ےہ کچھ عرصہ برداشت کرنا پڑے گا۔۔اور کہتا کہ میں نے خود بھی محل میں رہنا چھوڑ دیاہے ۔۔اور اپنے خرچے پر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتاہوں ۔اس لےے صبر کریں ۔اور لگان دیں ۔
    مگر ےہ جھوٹے دلاسوں سے عوام کے پیٹ کہاں بھرتے ہیں اور ۔اور پھر کیا ”کیک “ کے انتظار میں لوگ کب تک آدھی روٹی پر گزارہ کریں ؟۔۔پھر کیا تھا کہ وہی کرپٹ حکمران جنہوں نے عوام کو بس روٹی تک محدود کر رکھا تھا اور عوام میں اُنکی جگہ نیا حکمران لابٹھایا ، نئے حکمران کے خلاف اکٹھے ہو نا شروع ہوگئے ۔اور عوام کو کہنے لگے ۔۔”دیکھا ہم تمھیں روٹی تو دیتے تھے ۔۔۔اس نئے حکمران نے تو تمھاری روٹی بھی آدھی کردی “۔۔۔اور پھر وہ سارے کرپٹ ملکر نئے حکمران کو ہٹانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔اور ساتھ ہی حکومت کو معیشت کو ٹھیک کرنے کے لےے معاہدوں کی پیشکش بھی کرنے لگے ۔۔۔۔
    کہانی ابھی جاری ہے !

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔

  • خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    اپنے بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے کونسا معرکہ سر کرنا ہے تم نے؟؟
    یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری ہیں جو لکھتے ہیں اس میں تمھارے الفاظ کسی پہ کیا اثر انداز ہوں گے؟؟

    آخر تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ہر وقت کہاں کا غم، کہاں کی سوچ یہ دنیا اس کے لوگ جن کے لیے تمھارا دل تڑپتا ہے یہ تمھیں کچھ نہی سمجھتے۔ تمھاری باتیں ان کے لیے بے معنی ہیں !!! تم لب کھولو یہ سن بھی لیں تو چند دن میں دوبارہ اپنی دنیا میں لوٹ جائیں گے۔ یہ دنیا بڑی مزے کی چیز ہے پیاری چند لمحوں میں انسان کا دل لبھا لیتی ہے !! کبھی کبھار تو بہت بڑے ایمان اور تقوی والے لوگ اس کے آگے اپنا سب ہار دیتے ہیں — یہ نگاہ کو ایسا خیرہ کرتی ہے کہ یہاں رب کے کہے گئے کلمات لوگوں کے دلوں پر اثر کرنا چھوڑ دیتے ہیں —
    اور تمھیں لگتا ہے کہ تم نے آواز دی اور دنیا پلٹ آئی۔ لب کھولے اور ہدایت کی روشنیاں بٹ گئیں ؟؟؟؟؟ تم نے کہا اور تمھاری قوم نے صدیوں کے اختلاف بھلا کر حق کے جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کا عزم کر لیا؟ یہ سوچیں نظریات اور حق گویائی بہت مہنگی چیز ہے۔ یہ بدلے میں جانوں کی قربانیاں مانگتی ہے۔ چھوڑ دو !!
    اس چیز کے لیے تڑپنا کہ ماضی میں بغداد کے گلی کوچوں میں تمھاری قوم نے اجتماعی زندگی پر انفرادی موت کو ترجیح کیوں دی تھی —
    چھوڑ دو یہ سوچنا کہ تمھاری قوم کو برسوں سے مذہبی فرقہ پرستی کے نام پر جو زہر پلایا جا رہا ہے اس نے اس مسلم امت کے کتنے نوجوانوں کو نگل لیا چھوڑ دو یہ پریشانیاں اور رونے۔ مجھے سنو میں تمھارا مخلص دوست — میری مانوں ضمیر کا گلا دبا دو بے حس بن جاؤ اور جینا شروع کرو یقین مانو مزے کی دنیا تمھاری منتظر ہے!!

    یعنی میرے دوست تم یہ کہنا چاہتے ہو غلامی کی زندگی اپنا لوں میں ؟؟ شعور کا گلا دبا دوں اور اس دنیا کے دھوکے میں مگن ہو جاؤں اور میری قوم ؟؟؟

    اپنی قوم کو بھول جاؤں صرف اس لیے کہ وہ بہت کم سنتے ہیں !!!
    مجھے علم ہے میرے بے ترتیب الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں یہ بھی علم ہے کہ یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری موجود ہیں لیکن کروڑوں دنیا پرستوں کے مقابلے میں بہت کم !!!!

    حق گویائی اگر جرم ہے تو کیا اس جرم کے ڈر سے انسان عقیدہ چھوڑ دے ؟ نظریات بیچ دے غلامی قبول کر کے طاغوت کے آگے سر جھکا دے؟
    نظریات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی میرے دوست گردنیں سولی پر چڑھ جاتی ہیں نظریات نہیں بکتے !!!!

    ہر وہ شخص جو غلامی کی زندگی کو ترک کر کے خوداری کی موت کو ترجیح دیتا ہے اس کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ اپنی قوم کو غفلت کی نیند سے جگانے میں کامیاب ہو جائے!!
    سو میرے دوست مجھے بہکانا چھوڑو مجھے لگے رہنے دو اس بات کا غم نہ کرو کہ قافلہ کتنا کم ہے — انقلاب انسانوں کی بہتات سے نہیں برپا ہوتے انقلاب نظریات پر ڈٹ جانے سے برپا ہوا کرتے ہیں۔

  • منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    عائشہ ایک بہت ہی بااخلاق اور بہت سی خصوصیات کی حامل چھوٹی سی بچی تھی۔ ان کا گھرانہ کافی بڑا تھا اور تمام کزنز ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
    گھرانہ تو اسلامی تھا لیکن پردے کی طرف دھیان نہیں تھا پردے کو عام سی چیز سمجھا جاتا اور یہ تصور ذہن میں ڈالا جاتا کہ ان کزنوں سے کیسا پردہ…؟؟؟
    عائشہ بھی انہی سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی ننھی سی عمر میں آسمان کو چھو لینے اور تتلیوں کو پکڑنے کی امنگوں سے اپنے شب و روز گزارتے ہوئے آہستہ آہستہ بچپن کی دہلیز کو پار کر رہی تھی۔
    عائشہ جب کالج جانا شروع ہوئی تب جانے کیوں وہ بے چین رہنے لگی ۔اسے لگتا تھا کچھ کمی سی ہے اس کی زندگی میں ۔
    اسے عجیب سا احساس گھیرے رکھتا تھا جیسے زندگی میں کچھ غلط ہو ۔بہت سے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں آتے رہتے تھے لیکن وہ ان کا جواب نہیں جانتی تھی سو وہ مزید بے چین ہو جاتی ۔
    پھر اس نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے
    اسلامی تعلیمات کی مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا ۔
    وہ جیسے جیسے دین کو پڑھتی چلی گئی جیسے اسے اپنے ہر سوال کا جواب ملتا چلا گیا اس کی بےچینی کی وجہ سمجھ میں آتی چلی گئی وہ اس کمی کو سمجھنے لگی جو اسے مسلسل محسوس ہوتی تھی اور اسے بے چین رکھتی تھی ۔
    دین اسلام تو جیسے ٹھنڈی چھاؤں تھا اس کے احکامات تو جیسے اسی کو اپنی پناہ میں لینا چاہتے تھے ۔
    سو وہ احکامات کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتی۔
    گھریلو ماحول دیکھ کر اسکے جذبات کچھ ماند پڑ نے لگتے لیکن وہ ہر وقت دین کی تعلیمات کی جستجو میں رہتی ۔
    گھر میں سبھی کزنز کا آنا جانا تھا اور کوئی روک ٹوک نہیں تھی اتنی عمر ہو جانے کے باوجود کزنز کے ساتھ ہنسی مزاح اور کھیل کود چلتا رہتا لیکن عائشہ اب ان سب خرافات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے لیکن اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عائشہ کی کالج کی ایک سہیلی نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا۔ عائشہ اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اب وہ بھی پردہ شروع کرے گی۔ جب عائشہ نے پردہ شروع کیا تو الٹا اس کے کردار پر بہت سے سوال اٹھے اور بہت سی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    سبھی کہتے کہ پردہ اپنے انھیں کزنز سے کر رہی ہو جن کے ساتھ کھیل کود کر بڑی ہوئی ہو انہوں نے تو دیکھا ہوا ہے ان سے پردہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا لیکن عائشہ اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے پردے پر ڈٹی رہی اور ہر طرح کی تلخیاں اور نفرتیں برداشت کرتی رہی۔
    شروع شروع میں سب کو لگتا تھا کہ عائشہ نے غلط قدم اٹھایا ہے لیکن جلد ہی عائشہ کی ثابت قدمی اور دلائل نے سب کو احساس دلادیا کہ جس معاشرے میں پردہ نہیں کیا جاتا وہ معاشرہ کیسے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے ایسے گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جن کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔
    عائشہ کو دیکھ کر اور پردے کی رحمتیں دیکھتے ہوۓ عائشہ کی بہنوں اور کزنوں نے بھی پردہ شروع کردیا جو کہ ان کے والدین کی عائشہ کو دیکھ کر خواہش بن چکا تھا کہ ان کی بیٹیاں بھی پردہ کریں۔
    اور آج الحمدللہ عائشہ کو پردہ شروع کیے بہت سے سال گزر چکے ہیں اور پردے کی وجہ سے اس کی زندگی بہت مطمئن اور پر سکون ہے۔ اسے سسرال میں بھی کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا سب لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خواہش مند ہوتے ہیں کہ انکی اولاد بھی عائشہ کی طرح باعمل بن جاۓ۔

    جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

    یہ ایک عائشہ کی آب بیتی ہے اور ایسی بہت سی لڑکیاں معاشرے میں نظر آتی ہیں جو عائشہ جیسا بنتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو اسلامی تعلیمات سے دور رہتی ہیں اور پردے اور گھر کی چار دیواری کو قید خانہ اور داغ سمجھتی ہیں بہت سے مرد ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔
    آج کل ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ کزنز کے ایک دوسرے کے ساتھ غلط اور برے مراسم یہاں تک کہ چچی کی اپنے شوہر کے بھتیجوں کے ساتھ اور ممانی کی بھی اپنے شوہر کے بھانجوں کے ساتھ دوستیاں اور غلط مرسم۔ اور جب یہ معاملات ان کے شوہروں پر عیاں ہوتے ہیں تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے جنم لیتے ہیں خاندان تباہ ہوجاتے ہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم ہوجاتے ہیں اس طرح ایک ہنستے بستے گھرانے میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔

    اسی بے پردگی کی وجہ سے بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بہت سی عورتوں کو طلاق دلوا دی جاتی ہے اور اس کو ذلیل و رسوا کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
    جب عورتیں دین سے دوری اختیار کر کے شیطان کے پسندیدہ راستے پر چلیں گی تو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہی انکا مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی رب کی نافرمان اور خسارہ پانے والوں میں شامل ہوں گی۔
    رب کی تمام تر رحمتوں سے دور ہوجاۓ گی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
    اسلام عورتوں کو شیطان صفت لوگوں سے بچنے کے لئے ہی پردے کا حکم دیتا ہے۔
    آج اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتی ہیں اور پردے کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کی آنے والی نسلیں بھی برائیوں سے بچ جائیں گی اور معاشرہ اسلام اور امن و امان کا گہوارہ بن جاۓ گا۔
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب کو دین کی صحیح معنوں میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

  • پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک چھپی ہوئی چیز کو عورت کہا جاتا ہے.

    پردہ اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے جس کا حکم رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تاکہ عورت معاشرے کے لیے فتنہ کی بجاۓ تعمیر و ترقی کا باعث بنے اور اس کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ دین کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اسلام دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور اسلام کا عَلم پوری دنیا میں اونچا کرے لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔ یہاں تو پردے کو دل کا پردہ کہہ کے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عورت آج درندوں کی ہوس کا شکار ہے اور جابجا عصمت دری کا شکار ہے.

    پردے سے عورت محفوظ رہتی ہے جس کی مثال میں کچھ یوں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جب بھی آپ قصاب کی دوکان پہ تشریف لے جاتے ہیں تو آپ اس کو اچھی طرح لفافے سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ کوئی جانور یا پرندہ اس کو نقصان نہ پہنچا دے اور اگر آپ اسے کھلا چھوڑیں گے تو شاید آپ گھر تک بھی بحفاظت نہ پہنچ پائیں.

    میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ الحمدللہ اسلامی احکامات اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا اور اللہ کے فضل سے پردہ بھی اس کا بہترین شعار تھا جس کی برکتیں میں ابھی تک سمیٹ رہا ہوں. ہمارے بڑے گھر میں ٹی وی نہیں رکھنے دیتے تھے کیونکہ ان کا یہ مؤقف تھا کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور یہی عورت کو اس کے مقصد سے ہٹا کے اسے بے پردگی اور گمراہی کے رستے پر لے جاتا ہے. تب ہمیں بہت عجیب سا لگتا تھا کہ ہمیں گھر والے ٹی وی کیوں نہیں دیکھنے دیتے ہم کوئی بچے ہیں جو بگڑ جائیں گے۔ بھلا ٹی وی دیکھ کے بھی کوئی گمراہ ہوا ہے..

    اس سوال کا جواب ہمیں آج معلوم ہوا جب آج کے والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے گلوکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے فلاں گلوکار بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بہت اچھا گاتا ہے یہ اس کی نقل بھی بہت اچھی کر لیتا ہے اس کا آئیڈیل فلاں اداکار یا اداکارہ ہے اس کو شوبز کا فلاں سٹار بہت اچھا لگتا ہے میری بیٹی نے جینز اور ٹی شرٹ پہننی ہے کیونکہ ہم نے ایک ڈرامہ میں دیکھا تھا کہ اس لڑکی کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی فلاں فلاں..

    آج کبھی ٹی وی چینل پہ لڑکی بھگانے کے اشتہار تو کبھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں کی آڑ میں ہونے والی فحاشی تو کبھی گھر کی چار دیواری کو داغ قرار دے کے معاشرے کو فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور کئی ایسے اشتہارات ہیں جو یہاں زیربحث لانا بھی مناسب نہیں ہے ان کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اسلام اور پردہ سے دور کرنا ہے اور یہی سازشوں کی جنگ ہے جس میں ہمیں دھکیل کے ہم پر کافر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی ڈراموں اور فحش اشتہارات کی آڑ میں کفار ہماری اسلامی تہذیب میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بگڑتے جا رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہماری عورتوں کو پردہ کرنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور طرح طرح کے بہانے بناۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ مائیں بچوں کو ترغیب دینے کی بجاۓ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں کہ اگر ابھی سے پردہ کرو گی تو لوگ ولون کہیں گے اور کسی نے دیکھنا تک نہیں ہے تمہیں اور کون تجھ سے شادی کرے گا جیسے طعنے مار مار کے اس کو اسلام سے دور کر لیتے ہیں.

    افسوس ہوتا ہے ان ماؤں پہ جنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا و فاطمتہ الزھرا رضی اللہ عنہا کی مثالیں دینی تھی آج وہ اداکاراؤں کے نقش قدم پہ چل پڑی ہیں اور فحاشی و عریانی کو فیشن کا نام دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں.

    آج بچے بچے کو اداکاراؤں کے نام آتے ہیں اور ان کے کپڑے اور اسٹائل تک زیر بحث آتے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ان کی قربانیوں کے متعلق بھی علم ہو آج جو بچی بھی دوپٹہ یا اسکارف لینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اسے اپنے گھر والے بھی طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی سے بوڑھی بننا ہے اتارو تمہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا جب بڑی ہوگی تب پہن لینا اور پھر جب وہ بڑی ہوتی ہے تو اسے یہ عادت ہی نہیں ہوتی کہ دوپٹہ بھی سر پہ لینا ہوتا ہے یا یہ صرف گلے کی حد تک ہی رکھنا ہے..

    خدارا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلام سے محبت سکھائیں اور انہیں اداکاروں کی بجاۓ اصحاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے قصے سنایا کریں اور ٹی وی جیسی لعنت سے ان کو کوسوں دور رکھیں تاکہ آپ کا بچہ اس جاہلیت کا شکار ہو کر درندوں کی درندگی کا نشانہ نہ بن جاۓ..
    اللہ ہمیں اللہ کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین..

  • حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھرو۔
    اس حکم کا منشا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں کے دلوں میں میلان اور شہوت پیدا ہو۔
    عورتوں اور مردوں کو حکم دیا گیا کہ
    غض بصر کرو عموماً ان الفاظ کا ترجمہ
    نظریں نیچی رکھو
    یا
    نظریں پست رکھو کیا جاتا ہے مگر اسکا مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پرہیز کیا جاۓ جس کو حدیث میں آنکھوں کا زنا کہا گیا ہے۔
    اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لذت اندوز ہونا مردوں کے لیے اور اجنبی مردوں کو مطمع نظر بنانا عورتوں کے لیے فتنے کا موجب ہے۔
    فساد اور خرابی کی ابتداء طبعاً وعادتاً یہیں سے ہوتی ہے اسی لیے اس دروازے کو بند کرنے کو کہا گیا ہے۔ فسادِ زمانہ کی بنا پر اسباب فتنہ کی روک تھام کے لیے عورتوں کا با پردہ ہونا ضروری ہے۔

    خواتین کے لباس کی چند حدود و قیود

    پردہ پورے بدن کو چھپانے کا نام ہے۔
    ایسا حجاب استعمال نہ کیا جاۓ جو بذاتِ خود زینت بن جاۓ۔
    لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن چھلکے۔
    کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔
    خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔
    مرد کے مشابہ نہ ہو۔
    کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔
    شہرت کا لباس نہ ہو۔
    حجاب کرنے اور باپردہ ہونے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی مثال ہمارے سامنے ہے اور ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ انہوں نے اس بات کو بھی ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جاۓ جس سے اس عورت کا ہونا ظاہر ہو۔
    حیا مومنوں کی خاص صفت ہے حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں یا تو دونوں رہیں گے یا دونوں رخصت ہو جائیں گے۔
    بے پردگی اور اس کے لوازم اور دواعی سب کے سب اہل کفر کی دیکھا دیکھی مسلم معاشرے میں رواج پاگئے ہیں۔ جو لوگ بے پردگی کو رواج دینے کی کوشش میں ہیں اور اپنی بہو، بیٹیوں کو یورپین عورتوں کی طرح بے حیا اور بے شرم بنا چکے ہیں۔
    مادر پدر آزاد خیال اور آزاد لباس ان میں بہت سے تو ایسے ہیں جو محض نام کے مسلمان ہیں اور شرم وحیاء کے ساتھ ایمان کی دولت بھی کھو چکے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جنھیں کسی درجے یورپ کا مزاج اور بے حیائی اور بے شرمی کی طبیعت آہستہ آہستہ اسلام سے ہٹاۓ جارہی ہے۔
    مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسلامی قوانین کی پابندی کریں اور اسلام کے روشن اصولوں پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت سنواریں۔
    دعا گو ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے راضی ہوجاۓ۔

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔