Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟  محمد عبداللہ

    دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ

    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.

    بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
    ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.

    لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

    Muhammad Abdullah
  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    ”کیپ ٹائون ” کا ان پڑھہ سرجن مسٹر ” ھیملٹن ” جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھوا آئیے بتاتے ہیں ______
    کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
    اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو

    ”ماسٹر آف میڈیسن“

    کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
    جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
    اور
    نہ ہی لکھ سکتا تھا…..

    لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
    "ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
    جو ایک غیر معمولی استاد، اور
    ایک حیران کن سرجن ہے، اور
    جس نے میڈیکل سائنس
    اور
    انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ” ہیملٹن ” کا نام لیا،
    اور
    پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔

    یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
    ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں ” سنیٹانی ” میں پیدا ہوا۔
    اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
    بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن” آگیا۔ ان دنوں ” کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی ” میں تعمیرات جاری تھیں۔
    وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
    اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا
    اور
    خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔
    وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا

    تو

    وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ ……
    اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، ……..
    وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، . ……

    وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا ……
    پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
    اور
    وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔

    یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسررابرٹ جوئز” زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ:

    "جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،”

    انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا،اسے بے ہوش کیا،
    لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
    چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔

    پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ‘ہیملٹن’ گھاس کاٹ رہا تھا،
    پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ” ہیملٹن” نے گردن پکڑ لی،

    یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن
    ” ہیملٹن ”
    زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔

    دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
    اور
    اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا
    اور
    نہ ہی شکایت کی۔

    پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا
    اور
    اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

    ” ہیملٹن ” کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔

    1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ” ڈاکٹر برنارڈ ” یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔

    ” ہیملٹن ” ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ” ڈاکٹر برنارڈ”
    کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔

    اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
    اور
    آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا….

    چنانچہ
    بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔

    وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
    لیکن
    وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

    1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی. …..جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔

    اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،

    آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
    اور
    مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے
    تو
    اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ” ہیملٹن ” کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن ‘ہیملٹن” ہوتا ہے“

    ” ہیملٹن ” نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
    اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
    وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
    ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
    لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،

    ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،

    اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
    اور
    سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا…….

    پھر

    اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
    اور
    اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

    وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔
    وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
    وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا
    اور
    اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد
    اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
    اور
    اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں….“

    میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
    ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“

    نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:

    ”صرف ایک ہاں سے‘

    جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا
    اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
    تو
    وہ مرتے دم تک مالی رہتا.

    یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

    ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.

    جبکہ

    ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

    ” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
    یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
    جبکہ
    کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

    "” ہیملٹن”” اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔

    ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا

    تو

    کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
    لیکن
    اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
    اور
    سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لیے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں، جس دن "” ہیملٹن”” کی طرح کام شروع کردیا
    تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے،
    بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے

  • ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    عورت کو ماں کے روپ میں سب سے زیادہ عزت و مقام حاصل ہے۔ ماں کے روپ میں عورت کا کردار ہمیشہ سے زبردست اور قابل تعریف رہا ۔ اگر عورت کو اللہ پاک ماں نہ بناتا تو شاید آج دنیا آباد نہ ہوتی۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی جاندار چیز نہیں جو ماں کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ ماں اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔ ماں اتنی عظیم نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
    نپولین بونا پاٹ کا کہنا تھا کہ ”مسرتوں کے ہجوم اور خوشیوں کے تلاطم میں ماں کی عظمت کو دیکھو“۔ چارلس ڈکنز کا کہنا تھا کہ ”ماں کا پیار سب سے خوبصورت اور بہترین ہے“۔ فردوسی کا کہنا تھا کہ ”اگر مجھ سے ماں چھین لی جائے تو میں پاگل ہوجاﺅں گا“۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ ”ماں باپ سے زیادہ شفیق ہوتی ہے“۔ حضرت لقمان علیہ السلام کا قول ہے کہ ”ماں کا پیار کسی کو بتانے اور سکھانے کا نہیں“۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ”تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے“۔
    ماں کے ہم پر بہت سے احسانات ہیں جو کہ ہم کبھی بھی نہیں چکا سکتے۔ انسان اگر جوان ہوتا ہے تو ماں کی دیکھ بھال کی بدولت۔ انسان اگر دنیا میں سر اٹھا کر چلتا ہے تو صرف ماں کی کی ہوئی اچھی تربیت کی بدولت۔ اگر انسان ماں کے احسانات کو بھول کر اس کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس جیسا بدبخت انسان کوئی نہیں۔ اگر کوئی انسان ماں کی خدمت کرے اس کا احترام کرے تو اس جیسا خوش نصیب انسان بھی کوئی نہیں۔ ماں کی خدمت کرنے والوں میں سب سے بڑا نام حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ بننے کی خواہش دل میں لیے پھرتے تھے مگر بزرگ ماں کی موجودگی کی وجہ سے اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جس کا تعلق یمن کے شہر قرن سے ہوگا ماں کا خدمت گزار ہوگا اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے ان سے اپنے لیے دعا کروائی۔ تاریخ میں اور بھی بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ماں کی خدمت کی اور خوب عزت پائی۔ ماں کبھی بچوں کو بد دعا نہیں دیتی۔
    مشہور واقعہ ہے احمد پور شرقیہ کا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے سے کچھ پیسے مانگے تو اس نے ماں کو مارا ماں زمین پر گرگئی زمین پر بیٹھے ہوئے اس خاتون نے دعا کی کہ اےاللہ اس سے ناراض نہ ہونا اس سے راضی ہو اس پر رحم کر۔ ماں بد دعا نہیں دیتی بچے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انجام کو پہنچتے ہیں۔ ماں اگر دعا کرے تو اس کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ آپ کو چاہیے کہ زندگی میں اگے بڑھنے کے لیے ماں کی دعائیں لیں۔ قران پاک میں اللہ پاک تین مقامات پر ماں کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے۔
    ہمیں چاہیے کہ ماں کا احترام کریں، ان کی خدمت کریں ، ان کی فرمانبرداری کریں۔ اے اللہ پاک سب کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو ماں کی خدمت کی بدولت عروج تک پہنچے۔ اللہ ہمیں اچھا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

  • ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    سابق اسرائیلی وزیرِاعظم (اس کی قبرمیں اللہ کی لعنت ہو)آمین کہہ دیں جوجویہودیوں کےلیےدل میں نرم گوشہ نہیں رکھتے….
    اس لعین ایریل شیرون کےنام پہ ایریل سرف ہے …
    اس بدبخت بھڑئیےنمایہودی کایہ مشغلہ تھاکہ یہ فلسطین کی گلیوں میں نکل جاتااورچن چن کےفلسطینی بچوں کوماردیتااورپھرشیطانی قہقہےبلندکرتا..اس مقصدکےلیےاس خونخواردرندےنےایک اسپیشل پستول خریداہواتھاجس سےاس نے150سےزائدمعصوم صحت مندکھیلتےفلسطینی پھول جیسےبچوں کومارااورکتنی ہی ماؤں کی گودوں کواجاڑا,باپوں کوبےآسراکیااوربہن بھائیوں کوتڑپتاچھوڑگیا…
    اللہ کی لاٹھی بےآوازہے…اس کےقہرکاکوڑاجب برستاہےتوپھرخوب برستاہےاوراک عالم دیکھتاہے….اس وحشی کاانجام پھردنیانےدیکھا….آٹھ سال تک یہ قومےمیں رہا…کوئی نرس,کوئی ڈاکٹروارڈمیں علاج کی غرض سےاس کےپاس جانےکوتیارناہوتاتھااگرہوبھی جاتاتوفورابھاگ کرواپس آجاتا..کیوں کہ اس کےجسم سےاس قدرگھٹیا..گندی اورزہریلی قسم کی بوآتی تھی کہ جس سےڈاکٹراور نرسیں اپنےمونہوں کواچھی طرح لپیٹ لینےکےباوجودبھی بچ ناپاتےتھے …
    آخر…آج سےکوئی ڈیڑھ دوسال پہلےاس جہنمی کی روح نکلی ..اوراس کےاپنےملک کےہی ڈاکٹروں اورنرسوں سےسکھ اورچین کاسانس لیا…
    یہ ہواانجاممسلمانوں کےمعصوم بچوں کواپنےپستول سےبھوننےوالےکا…
    اورآج…………
    پھر..اس اسرائیلی ..یہودی کپمنی نےقرآنِ پاک کی آیت کاایریل سرف کےاشتہارمیں مذاق اڑاناشروع کردیاہے…اللہ کی مارہواس لعنتی قوم پہ …اللہ نےخودقرآن میں اس قوم کولعنتی کہاہے…جن پراللہ کاغصہ ہوا…وہ ذلت اورمحتاجی لےکرلوٹے …..
    اورافسوس تواپنےمسلمانوں اوربرہنہ سروسینہ بیٹیوں پہ ہےجواس دنیاکےچندفانی ڈالروں کےعوض قرآن کی آیات کاسوداکررہےہیں جوکہ ان کولےڈوبےگا…
    آپ سب اپنی آوازقرآن کےحق میں ..قرآن کےدفاع میں اٹھائیں …اس کمپنی کامکمل بائیکاٹ کریں …
    قرآن انسان کےحق میں بھی اورخلاف بھی گواہی دےگا…لہذاوقت ہےکہ …اپنےحق میں گواہی لینےوالےبن جائیں …
    خودتوان کی اپنی عورتیں سڑکوں پہ اورگھروں سےنکل کےذلیل ورسواہوہی رہی ہیں اوراب یہ آزادئ نسواں کےنام پہ مسلمان بیٹیوں,بہنوں اورماؤں کوبھی سڑکوں پہ لاکہ ذلیل کرناچاہتےہیں …
    جب کہ مسلمان عورتوں کی عزت وعافیت اورنجات اپنےگھروں میں ٹکےرہنےپہ ہے…یہ شدیدترین حاسدقوم ہے …جس حاسدقوم نےآج تک ہمارےآخری نبی …پغمبرالزماں محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف اورصرف حسد کی وجہ سےتسلیم نہیں کیاوہ اس پیارےنبی کی امت کوکیسےخوش حالی اورنجات کےراستےپہ چلتےبرداشت کرسکتی ہے؟؟؟؟؟
    لہذا…میری اپنی تمام بہنوں سےگزارش ہےکہ …آپ سب اپنااحتجاج جس جس پلیٹ فارم پہ ہیں ضرورریکارڈکروائیں …
    اورسب اپنی اپنی اصلاح کریں ..گھروں میں ٹکی رہیں …اورسڑکوں پہ نکل کےمردوں کےشانہ بشانہ چلنےکی روش کوترک کردیں …
    کیوں کہ …یہ چیزفطرت کےسخت خلاف ہے…
    جب کہ فطرت یہ ہےکہ ..قرآن کہتاہے:
    وللرجال علیہن درجۃ …
    اورمردوں کوان(عورتوں)پرایک درجہ فضیلت دی گئی ہے …اورویسےبھی عورت مردسےچندقدم پیچھےچلتی ہی اچھی لگتی ہے۔
    …ایک اورجگہ اللہ نےفرمایاہے:
    الرجال قوامون علی النسآء…
    مردعورتوں پرنگران ہیں ….توعورت بی کب سےمردوں کےبرابریاان کےاوپرنگران بننےلگ گئی؟؟؟
    جس جس نےآج تک اس
    میدان میں قدم رکھاہےہمیشہ ذلیل ورسواہواہے …اورویسےبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قوم کےلیےتباہی اوربربادی کی وعیدسنائی ہےجس کےمعاملات مردوں کی بجائے اس کی عورتوں کےہاتھوں میں ہوں …
    ابھی وقت ہے …اللہ سےڈرجائیے اپنےمردوں کوعزت دیجیئےان کےصحیح فیصلوں کاحترام کیجیئے…اپنی بہترین دنیااورآخرت کےلیےاصلاح کیجیئےاوراس نام نہادخواتین کی آزادی کوبحرِاوقیانوس میں پھینک آئیے …
    اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائےاورہم سب کاحامی اورناصرہو…
    آمین اللہم آمین
    اسلام میں ہرعورت ملکہ ہےکیوں کہ اسلام ہرنےعورت کواپنےگھرکی ملکہ بنایاہے…اورملکہ …آپ سب جانتےہیں …کہ کبھی سڑکوں ..گلی ..کوچوں اوراشتہاروں یااسکرین پہ آکےخودکوبےوقعت نہیں کیاکرتی …
    میں جانتی ہوں کہ میری باتیں بہت ساروں کوبہت کڑوی لگی ہوں گی …اوربہت چبھی بھی ہوں گی …لیکن بہت معذرت کےساتھ …
    یہ میری نہیں اللہ کی مقدس ترین کتاب قرآن کی ہیں …
    اوران پراگرکسی کوغصہ آیاہےتو…میں ہرگزمعذرت نہیں کروں گی …کیوں کہ یہ اللہ کاکلام ہے …
    قدم بڑھائیے!!!
    نجات پائیے!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں
    ذات پات کا
    آقاوغلام ایک ہیں
    بندےاللہ کےسبھی,نیک ہیں
    اسلام راستہ ہےفوزوفلاح کا
    جورکھےذوق اس کی چاہ کا
    دی ہےاس نےیہ ضمانت سدا
    لےجوشرف چلنےکااس کی راہ کا
    قدم بڑھائیے!!!!
    نجات پائیے!!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں ذات پات کا…

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کیا آپ ایکنی نشانات سے پریشان ہیں؟

    کیا آپ ایکنی نشانات سے پریشان ہیں؟

    خواتین اپنے چہرے کی جلد کو خوبصورت بنانے کے حوالے سے بڑی حساس ہوتی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا چہرہ داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے پاک ہولیکن آج کل کی مرغن غذاؤں اور فاسٹ فوڈز وغیرہ کھانے کی وجہ سے چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلتے ہیں اور جب یہ دانے ختم ہوتے ہیں تو جاتے جاتے جلد پر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔جو دیکھنے میں بہت بدنما لگتے ہیں ۔ ایکنی کی وجہ سے بننے والے ان داغ دھبوں کو ختم کرنے کے لیے مارکیٹ مختلف طرح کی پروڈکٹس سے بھری پڑی ہے او ر ان پروڈکٹس میں موجود کیمیکلز وقتی طور پر چہرے کو صاف ستھرااور رنگت کوگوری کر دیتا ہے ۔

    لیکن یہ چند دنوں کے استعمال کے بعد چہرے کا ستیاناس کر دیتی ہیں ۔ جلد مکمل طور پر خراب ہو جاتی ہے اور پہلے سے زیادہ دانے اور نشانات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ آج میں آپ کے لیے ایکنی کی وجہ سے پڑنے والے داغ دھبوں کے نشانات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے ایک ماسک لے کر آئی ہوں ۔ جو آپ گھر پر ہی تیار کر سکتی ہیں ۔اس کے چند دنوں کے استعمال سے ہی ان شاء اللہ چہرے کی جلد پر موجود داغ دھبوں کے نشانات ختم ہو جائیں گے۔ داغ دھبوں کے نشانات کو ختم کرنے کے لئے گھریلو قدرتی ماسک بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔

    اجزاء
    ہلد ی : ایک چوتھائی چائے کا چمچ
    شہد(خالص) : آدھا چائے کا چمچ
    انگورکارس : 2سے 3 انگوروں کو مسل کر ان کا رس نکال لیں

    ترکیب اور طریقہ استعمال
    ایک پیالے میں ہلدی اور شہد کو ڈال کر مکس کر لیں ۔ پھر انگوروں کو اس میں ڈال کر چمچ یا انگلی سے مسل دیں اور انگوروں کے چھلکے باہر نکال لیں۔ ان تینوں کو چمچ کی مدد سے اچھی طرح مکس کر لیں ۔چہرے کو کسی اچھے کلینزر سے دھونے کے بعدکسی نرم کپڑے سے اچھی طرح خشک کر لیں ۔اب اس مکسچر کو روئی یا میک اپ برش کی مدد سے چہرے پر لگائیں اور 30 منٹ تک لگا رہنے دیں ۔ آدھے گھنٹے بعد گرم پانی کے ساتھ چہرہ صاف کر لیں ۔اس مکسچر کے استعمال سے آپ کے چہرے کی جلد کے مسام کھل جائیں گے۔

    اس لیے نیم گرم پانی سے چہر ہ دھونے کے بعد ٹھنڈے تازہ پانی سے بھی چہرہ دھوئیں اس سے چہرے کے مسام اپنی نارمل حالت میں آجائیں گے۔اچھے نتائج کے لیے ہفتے میں دو سے تین دن لگائیں اور دو ہفتوں میں چہرے پر بننے والے داغ دھبے اور نشانات سے چھٹکاراحاصل کریں۔

    شہد، انگور او ر ہلدی کے جلد پر ہونے والے مثبت اثرات کی وجہ سے ہی ان کو ایکنی کے نشانات کے لیے بے حد مفید پایا گیا ہے۔ آئیے آپ کو ان سب کی چند ایک خصوصیات کے بارے میں بتاتی ہوں ۔

    ہلدی
    ہلدی ایک اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل جز ہے ۔ جو چہرے پر موجود داغ دھبوں کو دور کرتا ہے ، چہرے کی رنگت نکھارتا ہے اوردھوپ کی وجہ سے جلدکے کالے پن کو دور کرتا ہے۔ہلدی جلد کو نرم و ملائم بناتی ہے۔ جھریوں اور چھائیوں کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔صدیوں سے ہلدی کا استعمال دلہن کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
    انگور
    انگور کا رس ایکنی کے نشانات کو ختم کرنے کے لیے بہت موثر ہے اور نئے نشانات بننے سے روکتا ہے۔ انگور کے اند ر کیلشیئم،میگنیشیم، پوٹاشیئم، وٹامن بی1،بی2 ،بی3 ،بی 5، بی6 ،سی اورفلیونائیڈ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں جو جلد کے لیے بہت زیادہ کارآمد ہیں ۔ جلد کو ملائم رکھتا ہے اور جھریوں سے بچاتا ہے۔بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

    شہد
    شہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسانوں کے لیے شفا قرار دیاہے۔شہد سے بہت سی جسمانی اور جلدی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ شہد جلد کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اینٹی بیکٹیریل ہونے کی وجہ سے جلد پر موجود بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے۔جلد کو نرم وملائم بناتا ہے۔ بے رونق جلد کو تازگی دیتا ہے اور ایکنی کے مسائل کا خاتمہ کرتا ہے۔

    ان سب اجزاء کے مکسچر میں وہ تمام خصوصیات موجودہیں ، جو چہر ے کی جلدپر دانوں کی وجہ سے بننے والے نشانات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے استعمال کے چند دن بعد ہی انشاء اللہ داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔