Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کے والد محترم خواجہ صفدر صاحب کے دور میں ضلع گوجرانوالہ کو ڈویژن بنایا گیا تو پہلے سیالکوٹ کا نام تجویز کیا گیا تھا لیکن اس وقت سیالکوٹ کے ایم این ایز, اور ایم اپی ایز میں کوئی اتنا دم یا لائحہ عمل مرتب کرنے کا تجربہ نہیں تھا جس وجہ سے پیپر ورک کرنے اور سیالکوٹ کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر وزیراعلیٰ کو کیسے بریف کرنا ہے اس پر ناکامی کی وجہ سے سیالکوٹ کی بجائے گوجرانوالہ کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا تھا خیرجیسے تیسے یہ وقت گزر گیا اور ڈویژن کا تاج گوجرانوالہ کے سر پر پہنا دیا گیا لہذا پھر ایک خبر کی وجہ سے سیالکوٹ کی عوام شدید غم و غصہ کی لہر دیکھی گئی ہے گزشتہ روز خبر شائع ہوئی کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری صاحبان کی انتھک کوششوں اور محنتوں سے گجرات کو ڈویژن بنانے کے لیے پیپرورک تیار کرلیاگیا جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے بریفنگ دی جائے گی جس میں گجرات, سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کو ملا کر ڈویژن کی شکل دی جائے گی
    اور بعدازاں جہلم کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سوچ بیچار کیا جارہا ہے. پیپرورک سے لیکر منظوری تک کے لئے تمام لائحہ عمل مرتب دیا جاچکا ہے لیکن سیالکوٹ سے کسی بھی سیاستدان حکمران جماعت کے رہنما ڈار صاحبان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ماسوائے سوشل میڈیا پر عوام میں شدید غم وغصہ اظہار دیکھنے میں آیا ہے جس میں سیالکوٹ کی عوام نے گجرات کو ڈویژن بنانے کی شدید مذمت کی ہے سیالکوٹ کی عوام کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کب تک کھیلا جائے گا اور سیالکوٹ کی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی روایت کو برقرار رکھنا ہمارے سیاستدانوں کی فطرت میں شامل ہوچکا ہے
    سیالکوٹ پاکستان کا بارہواں بڑا گنجان آباد شہر ہے جس کی تاریخی ثقافتی اور تہذیبی حیثیت منفرد مقام رکھتی ہے ۔جبکہ زرمبادلہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سیالکوٹ سالانہ 2 بلین ڈالرز سے زیادہ کی ایکسپورٹ کرنے والا شہر ہے۔ سیالکوٹ میں صنعتی یونٹس کی بہت زیادہ تعداد ہے جس کی وجہ اس شہر کا بین الاقوامی طور پر رابطے میں رہنا انتہائی ضروری ہے ۔سیالکوٹ کو دنیا بھر میں اعلٰی ترین سپورٹس اور سرجیکل سامان بنانے میں امتیاز حاصل ہے۔دنیا کی کل پیداوار کا ستر فیصد فٹ بال سیالکوٹ میں بنتا ہے جبکہ لیدر اور سرجیکل سامان کی اپنی ڈیمانڈ ہے۔پاکستان کی برآمدات میں چند ہی مصنوعات ایسی ہیں جو عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں اور ان میں زیادہ تر سیالکوٹ میں بنتی ہیں۔ سیالکوٹ میں ہر طرح کا کھیلوں کا سامان، کھلاڑیوں کے ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، آلات جراحی اور دیگرعالمی معیار کی مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال اس شہر نے 2ارب ڈالر (تقریباً2کھرب روپے)کی برآمدات کیں جو پورے ملک کی برآمدات کا 9فیصد ہیں۔ سیالکوٹ جب سے اچھے اور مخلص سیاستدانوں سے محروم ہوا اس نے اپنا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کی ہے اگر سیالکوٹ کو ایئرپورٹ کی ضرورت محسوس ہوئی تو سیالکوٹ کے صنعتکاروں کی مدد سے اس کو پایا تکمیل تک پہنچایا گیا اور اپنی ائیر لائن کو بھی یہاں سے شروع کیا ہے جو ائیر سیال کے نام جانی اور پہچانی جاتی ہے اس وقت سیالکوٹ میں 6 ہزار سے زائد انڈسٹری ہے جو بیرون ملک میں اپنی پراڈکٹ سیل کررہی ہیں میڈیکل کالجز ویمن یونیورسٹی اور اس کے علاوہ موٹر وے جو ن لیگ کی حکومت نے پروجیکٹ شروع کئے تو وہ پایاتکمیل کے آخری مراحل میں ہیں سیالکوٹ میں سیاستدانوں کے فقدان کے سبب اس کا حق سیالکوٹ سے 2 حصے چھوٹے ضلع کو سونپا جارہا ہے جو سراسر زیادتی ہے کسی بھی صورت میں گجرات کو ڈویژن کا درجہ دینا مناسب نہیں ہے سیالکوٹ کو ہر لحاظ سے ڈویژن کی شکل دی جاسکتی ہے سیالکوٹ ,گجرات, اور نارووال کو ڈویژن بنا کر تینوں اضلاع کے مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے سیالکوٹ سے دونوں اضلاع ایک ہی مسافت پر واقع ہیں لہذا دونوں اضلاع میں کسی بھی مسئلے پر بروقت پیش رفت آسان ہوگی

  • دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    پودوں کو کئی ہزار سالوں سے صحت اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ دنیا کے وہ علاقے جہاں جدید ادویات دستیاب ہیں وہاں بھی دیسی اور روایتی طریقہ علاج کے استعمال میں نہ صرف دلچسپی بڑھ رہی ہے بلکہ اس کو جدید طریقہ علاج پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ لوگ "ایلوپیتھک” دوائیاں چھوڑ کر دیسی اور روایتی طریقہ علاج کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے 62 فیصد لوگ دیسی طریقہ علاج کا استعمال کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں دیسی ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا کی فارماسوٹیکل انڈسڑی اس وقت ہر بل دوائیں بنانے کے لئے مجبور ہو چکی ہے اور تقریباً ہر ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنی کی ہر بل ادویات اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں جو اس بات کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے دنیا دیسی طریقہ علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے۔
    "ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن” کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت ہربل ادویات کا بزنس 60 ارب امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابل میڈیسن آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہے اور ہیلتھ فورمز میں اس کو باقاعدہ موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اس وقت لاکھوں امریکی ڈالرز ہربل ادویات کی ریسرچ پر خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ افریقی میں موجود 80 فیصد آبادی اس وقت ہربل ادویات کا استعمال کر رہی ہے ۔
    ہربل اور دیسی طریقہ علاج کی ڈیمانڈ کے سامنے بلین ڈالرز کی فارما انڈسٹری اس وقت لاچار و بے بس نظر آتی ہے۔ "ایلوپیتھک” ادویات کی قیمتوں میں آئے دن ہونے والے ہو شربا اضافے اور اس کے "سائیڈ افیکٹ” لوگوں کو اس سے دور کرتے جا رہے ہیں۔
    ہربل ادویات کا استعمال بڑھنے کی مندرجہ ذیل وجوہات نظر آتی ہیں۔
    – عام ادویات کی نسبت کم قیمت ہونا
    – انتہائی کم مضر اثرات ہونا
    – جسم میں موجود مدافعتی نظام کو فعال کرنا
    – قدرتی طور پر شفایاب ہونا
    – ادویات کا کیمیکل وغیرہ سے پاک ہونا
    "گلوبل ہربل میڈیسن مارکیٹ” کی 2019 میں کی گئی ریسرچ کے مطابق ہربل میڈیسن مارکیٹ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مستحکم صنعت بننے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس کی گزشتہ سالوں سے اس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے. تیزی سے بڑھتی ہوئی ہربل میڈیسن کی طلب مارکیٹ میں ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے رہی ہے اسی وجہ بزنس ادارے اور بزنس شخصیات کا رحجان ہربل میڈیسن کی پروڈکشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2025 تک ہربل میڈیسن کا بزنس دنیا کے اہم ترین بزنس میں شمار ہونے لگے گا ۔

  • طاقت کا محور ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    طاقت کا محور ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    عورت کو کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ فطری طور پر مخالف جنس میں قوت کشش پائی جاتی ہے اور یہ قوت ہی انسان سے بڑے سے بڑا مقصد حاصل کرانے کے پیچھے کار فرما ہو سکتی ہے۔ جس طرح انسان کی عمومی تقسیم دو اقسام، مرد اور عورت پر ہے اسی طرح اعمال اور مقاصد بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت یا منفی۔ عورت کا کردار دونوں پہلوؤں میں نظر آتا ہے۔ تاریخِ انسانی کے مختصر سے مطالعہ سے یہ حقیقت بآسانی آشکار ہو سکتی ہے کہ عورت کی وجہ سے بہت سے جھگڑے ہوئے اور خون بہے۔ بلکہ تاریخِ انسانی کے پہلے قتل میں بھی عورت کا دخل رہا ہے۔ اور ایک عورت کی درخواست پر ایک پورا شہر بھی ظلم کے پنجہ استبداد سے نجات پا گیا۔ عورت کی اسی صلاحیت کی بدولت شیطان بھی عورت پر وار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور عورت مرد کو بآسانی رضامند کر لیتی ہے۔ اس تحریر کے مندرجات الزامی نہیں ہیں بلکہ مبنی بر حقیقت ہیں۔
    ہر کام کو کرنے کا کوئی اصول اور قاعدہ ہوتا ہے اسی طرح سے زندگی گزارنے کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر یہ اصول بھی کئی اطوار پر منقسم ہیں۔ کچھ ملکی قوانین ہیں جو ہر ملک میں مختلف ہو سکتے ہیں اور کچھ معاشرتی روایات جو ہر معاشرے میں متنوع ہیں۔ اسی طرح سے کچھ قوانین خالق ارض و سما نے بنائے ہیں۔ یہ قوانین عالمگیر نوعیت کے ہیں اور ہر وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے ان کی پاسداری لازماً کرنی چاہیے۔ اور اس کا تمسخر نہیں اڑانا چاہیے۔
    قابل غور پہلو یہ ہے کہ کیا موجودہ دور میں عورت اپنی صلاحیتوں کا استعمال اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر رہی ہے؟ کیا اس قوت کا مثبت استعمال ہو رہا ہے یا کہ منفی۔ یاد رہنا چاہیے کہ ہمارے تمام اعمال اللہ کے ہاں ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور روز آخرت ان کی جوابدہی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر عورت اپنے خالق اور زمانے کی نظر میں عظمت پا سکتی ہے اور حکم عدولی کر کے دونوں جہانوں میں رسوا بھی ہو سکتی ہے۔ خود کو چادر چار دیواری میں محصور سمجھے تو یہ اس پر منحصر ہے اور محفوظ و مامون سمجھے تو یہ اس کی خوش بختی۔

  • 100 بیماریوں کا ایک ہی حل …  محمد فہد شیروانی

    100 بیماریوں کا ایک ہی حل … محمد فہد شیروانی

    قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے مطابق پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو Foot Reflexogy
    کہا جاتا ہے۔پاؤں کو مخصوص جگہ سے دبانے اور مساج کرنے سے 100 مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج بغیر آپریشن اور دوائی کے کیا جا سکتا ہے۔اس طریقہ علاج کے حیران کن مثبت نتائج کی وجہ سےاس وقت عموماً پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے مختلف بیماریوں کا نہ صرف علاج کیا جارہا ہے بلکہ اس سے اعضاء کو بھی ٹھیک کیا جا رہا ہے۔
    مغلیہ دور سلطنت میں خود کو صحتمند اور چست رکھنے کا راز بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
    وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں۔
    میرے رشتے کے نانا 90 سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ گاؤں میں رہتے ہیں اور ساری زندگی سے کھیتی باڑی کر رہے ہیں۔ ان کی نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار ان سے ان کی صحت کا راز دریافت کیا تو بتانے لگے کہ مجھے ایک حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کرو۔ بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔
    لہذا روزانہ رات کو پاؤں پر مالش کے عمل کو اپنا چاہیے تاکہ ہم بھی صحت مند و چست وتوانا زندگی بسر کر سکیں

  • عورت اور اسلامی معاشرہ  ….. محمد عبداللہ

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.

    ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
    عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.

    اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.

    ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

    یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.

    بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.

    یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.

    لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    اسلام کا سب سے بڑا درس انسانیت ہے۔ لیکن اسلام کا نام استعمال کرنے والے پاکستان کے نام نہاد بنک ” مسلم کمرشل بنک” نے انسانیت کا ایسا جنازہ نکالا جس نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مسلم کو کمرشل کرنے والے "MCB” نے اُس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنے ایک ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کو بنک میں آ کر اکاؤنٹ کی تصدیق کر نے کا کہا جو کہ اپنی علالت و لاغری کے باعث چلنے کے قابل نہ تھا۔ مگر MCB کی انتظامیہ نے روایتی بے حسی اور اذلی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے کسی بھی عذر کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکاؤنٹ بند کرنے کا مژدہ سنایا۔ مجبور و لاچار مریض کو بحالت مجبوری بنک آ کر اپنے اکاؤنٹ کی (بائیو میٹرک) تصدیق کرنا پڑی( تصویر، تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔
    MCB جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مشہور بنک ہونے کا دعوی کرتا ہےہمیشہ اپنے لاکھوں صارفین کو تسلی بخش اور عمدہ سروسز دینے میں ناکام رہا ہے جو کہ MCB کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    MCB کے رولز، سسٹم اور عملے کا رویہ دوستانہ و ہمدردانہ ہرگز نہ ہے۔ وہاں صارفین کو اپنے کام کے لئے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس اذیت بھرے انتظار کے بعد صارف کی باری آتی ہے تو بنک کے پاس فوٹو کاپی کی سہولت نہ ہونے کے باعث صارف کا کام ادھورا رہ جاتا ہے اور صارف کو اپنے شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی کرانے لے لئے باہر جانا پڑتا ہے اور واپس آکر پھر اسی انتظار کی کیفیت سے دو چار ہونا صارف کی مجبوری بن جاتا ہے۔
    پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح بنکنگ کا معیار بھی اتنا گر چکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو سہولیات دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق ہر بنک اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ کے "بائیو میٹرک” تصدیق کرانا لازم ہوگی،جو کہ ملک کی معاشی پالیسی کے لئے ایک احسن قدم ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا جس کے باعث بنک صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مختلف بنکوں کی کم و بیش 15 ہزار سے زائد برانچوں میں تقریباً 5 کروڑ پاکستانی بنک اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں اور پاکستان میں بنک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    MCB میں بزرگوں اور خواتین کے لئے دیگر پرائیویٹ بنکوں کی مانند کوئی خصوصی کاؤنٹر نہیں بنائے گئے MCB کی کچھ برانچز میں اگرچہ یہ کاؤنٹر موجود ہیں لیکن اس کا با قاعدہ طور پر صحیح استعمال نہیں کیا جاتا جس سے بزرگ اور خواتین اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔سٹیٹ بنک کو چاہئیے کہ وہ ایسا طریقہ کار وضح کرے جس سے بزرگ اور بیمار صارفین کی “بائیو میٹرک” تصدیق کی سہولت انہیں ان کی گھر پر مہیا کی جائے۔ اس سے نا صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ بنکنگ سیکٹر کے لئے ان کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا

    بنکنگ سیکٹر کے تمام صارفین کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے التماس ہے کہ MCB کے سسٹم اور خدمات کو بہتر سے بہترین کیا جائے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر اس بنک کو صحیح طریقہ سے نہیں چلا سکتا تو اسے واپس حکومت کی تحویل میں لے کر اس کا نظام درست کیا جائے۔

    محمد فہد شیروانی

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    9ممالک کےپاس 13865 جوہری ہتھیار ہین.اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیش ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے سال 2019 میں مختلف ممالک کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی رپورٹ جاری کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا کے 9 ممالک کے پاس 13865 جوہری ہتھیار ہیں۔ امریکا 6500 جبکہ روس 6185 جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ روس اور امریکا کے درمیان تخفیف اسلحہ کے معاہدے سے 6 سو جوہری ہتھیاروں میں کمی واقعہ ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 150 سے 160 جبکہ بھارت 130 کے قریب جوہری ہتھیار ہیں۔ فرانس 300، چین 290، برطانیہ 200 اور اسرائیل کے پاس 80 سے 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

  • 5 کشمیری بھارتی فورسز کےہاتھوں گرفتار

    5 کشمیری بھارتی فورسز کےہاتھوں گرفتار

    کشمیر کے علاقے شوپیاں میں آئی ای ڈی دھماکہ خیز مواد بنانے کےجرم میں 5 کشمیری گرفتار کر لیے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، کشمیر کے ضلع شوپیاں میں سکیورٹی فورسز نے 5 کشمیری نوجوانوں کو گرفتا کر لیا.ان افراد کو مسلسل ریڈز اور چھاپوں کے بعد گرفتار کیا گیا جہاں ان پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل صبح شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ایک فوجی اہلکار نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا. بھارتی فوجیون کے بڑھتے ہوئے خودکشیوں کے واقعات پر بھارتی فوجی حکام اور بی جے پی سرکار میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے.

  • کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب

    تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کے سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو تحویل میں لے لیاہے مطابق اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

    پرویز اختر کا کہنا تھا کہ تحویل میں لیے گئے تعلیمی اداروں کے اساتذہ و ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ نہیں کیا گیا ہے، ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو تنخواہیں محکمہ تعلیم پنجاب دے رہا ہے جب کہ تعلیمی اداروں کے طلباء بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    واضح رہےکہ رواں برس مئی میں وزارت داخلہ نے کالعدم جیش محمد، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن سے منسلک 11 تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی۔
    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیموں پر پابندی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کے سلسلے میں لگائی گئی تھی۔
    جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوة الارشاد، الحمد ٹرسٹ لاہور و فیصل آباد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔