پاکستان عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید احمد دستی کی جانب سے بلدیاتی نظام کی بحالی کے لئے لاہور ہائی کورٹ لاہور میں پرنسپل سیٹ پر پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جسکی سماعت اگلے ہفتے ہوگی جمشید دستی نے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی معاشرے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے پنجاب حکومت نے ہزاروں بلدیاتی نمائندوں کو جنبش قلم سے فارغ کر دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کے پی کے کی طرح پنجاب میں بھی بلدیاتی اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیئے۔
Category: بلاگ
روزہ صبر، ایثاراور نادار لوگوں سے اخوت و ہمدردی کا درس دیتا ہے،برہان حیدر نقوی
حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)جماعت اہل سنت کے مرکزی رہنما سید برہان حیدر نقوی نے کہا ہے کہ رمضان نزول قر آن کا مہینہ ہے جس میں اُمت مسلمہ کے ہر فرد کو کرپشن، نا انصافی، ملاوٹ و گراں فروشی جیسی سماجی برائیوں سے پاک ماحول پیدا کرکے رمضان اور قر آن سے سچی وابستگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ روزہ صبر، ایثاراور نادار لوگوں سے اخوت و ہمدردی کا درس دیتا ہے جس کے نتیجہ میں صدقات خیرات میں فراخدلانہ رویہ کے علاوہ سرکاری دفاتر میں رشوت اور منڈی بازار میں مصنوعی گرانی کا سد باب ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ خدا ترسی، بھائی چارہ اور امانت و دیانت کے انقلابی پروگرام پر مسلسل ایک ماہ تک عمل کرکے اسلامی فلاحی معاشرہ کی راہ ہموار کی جائے۔
انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کا ہنگامی اجلاس،
حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کا ہنگامی اجلاس سینئر نائب صدر چودھری محمد اعظم ڈھلوں کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں غلہ منڈی کے آڑھتیان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر نائب صدر محمد اعظم ڈھلوں، نائب صدر چودھری جاوید اشرف ہنجرا اور جنرل سیکرٹری عبدالحمید رحمانی نے کہا کہ انجمن آڑھتیان غلہ منڈی کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف مذکورہ جھوٹی ایف آئی آر کو فوری طور پر خارج کیا جائے کیونکہ ایف آئی آر میں بنائے جانے والے وقوعہ کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہے بلکہ ایف آئی آر کے لیے دی جانے والی درخواست کے مطابق جہاں لڑائی جھگڑا ہوا وہاں چودھری محمد اعظم سمور موجود نہیں تھے۔اجلاس میں متفقہ طور پر ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا گیا کہ انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر کو فوری طور پر خارج کیا جائے بصورت دیگر انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد جھوٹے مقدمات درج ہونے کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد
عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔
بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ
—چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔
—سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔
—پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔
—خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔
—جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔
—خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔
—جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔
—ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔

پاکستانی نوجوان اور پاک فوج ۔۔۔ سلیم الله صفدر
متعدد محاز… متعدد دشمن….
متعدد حملہ آور…. مگر صرف ایک دفاعی حصار….!نائن الیون کے بعد پاکستان مشرقی و مغربی بارڈر پر تو مصروف ہوا سو ہوا…. پاکستان کے دفاع کی سب سے مضبوط لکیر پاک فوج اپنوں کی ملامتوں اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہونے لگی…
آج کا پاکستانی نوجوان نائن الیون کے وقت سن شعور میں داخل نہیں ہوا تھا اس لیے آج کے نوجوان نے پاکستان میں مسلسل دہشت گردی، دھماکے، خونریزی، دیکھی. غیروں کی سازشوں نے اس کی وجہ پاک فوج کو قرار دیا…. اپنوں کے فتوؤں نے اسے مرتد اور امریکہ کا اتحادی جانا….!وقت گزرتا گیا… آج کا نوجوان سن شعور میں داخل ہوا تو اسے بتایا گیا کہ امریکہ جیسے طاغوت کا اتحادی بننا اور ایک کال پر "لیٹ” جانا کسے کہتے ہیں. اسے جتانے کی کوشش کی گئی کہ اپنے "مسلمان بھائیوں” کو کافروں کے حوالے کرنا… انہیں بیچنا کتنا بڑا گناہ ہے… اس پاکستانی نوجوان کو باور کرایا گیا کہ کافروں کے ساتھ بات چیت کرنے والے مسلمانوں کو کافر سے پہلے قتل کرنا کیوں ضروری ہے….!
پانی کی طرح شفاف ہر عقیدہ ہر نظریہ وہم و سراب میں لپیٹ کر اس نوجوان کے سامنے پیش کر دیا گیا. پاکستانی نوجوان ہچکچاتا رہا مگر پاک فوج کا جوان ہاتھوں میں گن اٹھائے سینہ تان کر مشرقی بارڈر پر انڈین آرمی کے خلاف اور مغربی بارڈر پر امریکی فنڈڈ داعش.. ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار کے خلاف ڈٹا رہا.
پاکستانی نوجوان کا ذہن تقسیم ہوتا رہا یہاں تک کہ سولہ دسمبر 2014 آ گیا. خارجی اپنا حقیقی چہرہ لیکر پاکستان کے افق پر ابھرے اور ایک ناقابلِ تلافی وار کرتے ہوئے اہل پاکستان کو زخمی کر گئے.امریکہ کے وہ تمام مہرے جو اس نے پاکستانی صفوں میں گھسائے تھے… طشت از بام ہو گئے. دوستوں آور دشمنوں کے درمیان فرق سمجھ آ گیا. اہل پاکستان کو سمجھ آ گئی کہ جسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کہا گیا تھا وہ کیا تھی اور اگر اس سے مزید پہلو تہی کی گئی تو اس جنگ کے اثرات کہاں تک جا پہنچیں گے.
خارجیوں کے خلاف لڑائی کرنے والوں کو اخلاقی تخفط نہ دینے والے علماء کرام اب اسے افضل جہاد قرار دینے لگے. سوات آپریشن کے بعد ضربِ عضب اور پھر ردالفساد انہی علماء کرام کی نگرانی میں ہوئے اور پاکستان نے اپنے داخلی محاذ پر فتح حاصل کر لی. خارجی محاذ پر پاکستان کبھی فتح کا اعلان نہ کرتا لیکن ٹرمپ کی دہائی نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے کس طرح امریکہ کو شکست دی.
یہ نہیں کہ اس جنگ میں پاکستان صرف فتح ہی حاصل کرتا رہا. نہیں…! اسے زخم بھی لگے لیکن ان زخموں نے اس کے حوصلوں کو کم نہ ہونے دیا. ان زخموں نے اس کا نظریہ تبدیل نہ ہونے دیا…. اس کے موٹو ایمان تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ کو نقصان نہ پہنچایا. پاک فوج کے جوان اپنے خون سے پاک دھرتی کو سیراب کرتے رہے… ان کی وردیاں ان کے تابوت ان کے گھروں میں پہنچتے رہے. لیکن یہ نقصان ہر لمحے پر ایک فتح و نصرت کی امید دیتے رہے.
بدگمانیاں پیدا کرنے والے آج بھی موجود ہیں جو پی ٹی ایم کی شکل میں مسلسل وردی والوں کو دہشت گرد ثابت کرنا چاہتے ہیں….. انتشار ڈالنے والے آج بھی مسنگ پرسنز کا رولا ڈال کر آئی ایس آئی اور پاک فوج پر الزام تراشی کرتے ہیں مگر عزتیں دینے والا وردی والوں کی جرات مندی سامنے لاتا رہتا ہے اور ان "مسنگ پرسنز” کی حقیقت کو "مس” نہیں ہونے دیتا. وہ مسنگ پرسنز وردی والوں کے ہاتھوں اللہ کی توفیق سے کسی نہ کسی موڑ پر سامنے آ ہی جاتے ہیں.
ہر نئے دن کے ساتھ جہاں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کا جوان قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتا ہے وہاں ان کا خلوص بھی چھپائے نہیں چھپتا. اور شاید یہ شہدا کے خون کی تاثیر ہی ہے کہ آج پورے پاکستان میں پاکستانی نوجوان پاک فوج کے شہداء اور غاذیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہے. پاکستانی نوجوان نہ صرف وردی پہنے سرد و گرم موسم میں اپنی "ڈیوٹی” ادا کرنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے بلکہ ان کی وردی اپنے جسم پر پہننا اپنے لیے باعث تکریم سمجھتا ہے. ہر آنے والا کل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ایمان تقوی جہاد فی سبیل اللہ کا موٹو رکھنے والے نہ صرف اس دھرتی کے محافظ و پہرے دار ہیں بلکہ اہل پاکستان کے دلوں کے حکمران بھی.
اپنے ہی خوں سے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہےہم نے خیرات میں یہ پھول نہیں پائے ہیں
خون ِدل صرف کیا ہے تو بہار آئی ہے….!
ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث
رمضان مسلمانوں کی جسمانی و روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک اور مقدس مہینے کا ایک اہم تربیتی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مخلص کرے اور یہ اخلاص اس کے دل میں موجود ہو۔
محترم قارئین: ہم درج ذیل سطور میں ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اس پہلو کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ "میں روزے سے ہوں "۔ ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے آپ کو اس قدر متواضع بنا لے اور دوسرے انسان کے حق میں ایسا نرم ہو۔
اور حدیث مبارکہ میں یہ ذکر نہیں کہ کوئی مسلمان گالی دے بلکہ فرمایا; فإن شتمه أحد ” اگر اس کو کوئی بھی گالی دے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بلکہ بعض روایات میں فرمایا کہ ” اگر اس سے کوئی لڑائی بھی کرے یعنی معاشرے میں رہنے والا ہر فرد صرف اس کی برائی اور زیادتی سے محفوظ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بھی جواب مسکراہٹ میں ملے گا۔ایک انسانی معاشرے کو ایسا شاندار حسن فراہم کرنے والی عبادت روزہ ہے کہ روزہ رکھنے والا پورا مہینہ اس بات پہ اپنی تربیت کرے کہ زیادتی گالی کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اخلاق کی اعلی اقدار کا مظاہرہ کرکے دیا جائے۔دنیا میں اس کردار سے بڑھ کر اعلی کردار کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کہ زندگی کے کئی رمضان گزارنے کے باوجود ہم اس کردار سے عاری اور ہمارا معاشرہ ان اقدار سے محروم نظر آتا ہے۔ دوسری حدیث میں تو روزہ ایک مسلمان کی زندگی کو صداقت و اخلاص کے اعلی معیار پہ لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع طعامه و شرابه ".
روزہ ایک مسلمان کی زندگی کے قول و فعل میں صداقت و سچائی پیدا کر دیتا ہے اور اگر ایک روزے دار اپنے اقوال یا اعمال میں سچائی کا رنگ پیدا نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا ہم اپنے اقوال میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں؟
ہم تکلفا کہہ دیتے ہیں کہ نہیں جی مجھے بھوک نہیں میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم مشورہ دینے میں بھی بہت زیادہ جھوٹ کا استعمال کر جاتے ہیں۔ بالخصوص دفاتر میں یا آفس میں افسر اور ذمہ دار کو مشورہ دینے کا وقت ہو تو ہم اپنا قیمتی اور خیرخواہی کا مشورہ نہیں بلکہ اس کے مزاج اور اس کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اس کی رائے کا موافقت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے دروازے اور کچہریوں کے ٹیبل گواہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری گواہی کا اثر کیا ہو گا۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے سے غرض ہے۔
اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمیں رمضان کی ابتدا ہی سے اپنے نفس کی تربیت پہ محنت کرنا ہو گی تاکہ رمضان کے آخر میں عبادات میں واضح تبدیلی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی تبدیلی کا واضح اثر ہمارے تعاملات اور سلوک میں موجود ہو۔ رمضان کا مقدس مہینہ حقوق العباد کی ادائیگی پہ ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد غرباء اور فقراء مساکین کا مالی تعاون کریں ۔صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ رفتار سے سخاوت کرتے تھے۔
تو اس سخاوت سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ بہت زیادہ مال ودولت کی ملکیت کے بعد ہی اس پہ عمل ہو سکتا ہے۔
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حالت تو واضح ہے کہ بہت زیادہ وافر غذا یا مال میسر نہیں تھا ۔ اس کے باوجود جو کچھ موجود ہو اس میں سے اللہ کے رستے میں دیتے رہنا اور اپنے مال کو پاک کرنا اور اللہ کے بندوں کی پریشانی کو خوشی اور مسرت میں بدل دینا رمضان کا شعار ہے۔اسی طرح روزے دار کو افطاری کروانا بھی ایک روزے دار کے اجر کی مقدار کے برابر ہے۔
اس میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو افطاری کروائی جائے جو مستحق ہیں۔ اس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں ہم لوگوں کی بھوک دور کر کے اس معاشرے میں عدل اور اخوت کا ایک خوبصورت منظر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ مہینہ حقوق اللہ میں مسابقت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اپنی کمی و کوتاہی کو دور کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔

ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد
کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟
نہیں جانتے؟
چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ
"امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔
اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔
لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ
"بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”
حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔
جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔
میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔
لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔
ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔
کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔
ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔
جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔
اور ایران؟
ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟
ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔
کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔
جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔
اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔
کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟
ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔
اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔
سی پیک۔ ۔ ۔
جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔
اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔
اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔
امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔
مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔
اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔
اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔
درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔
یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔
اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔
لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔
آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔
اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟
سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔
یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔
میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔
وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔
مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ
"بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”
مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔
باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔
بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔
اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔

چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی
گھر اور زندگی کو آرگنائز رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ناممکن بالکل نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں کچھ اصول ہوتے ہیں جس پر چل کر ہی انسان انسان کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھر میں بھی ترتیب اور اصول بہت ضروری ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب گھر اور معاملاتِ زندگی کو منظم انداز میں چلایا جائے۔
گھر ایک ایسی جگہ ہے کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال سکون و راحت کا آتا ہے۔ تھکا ہارا جب انسان گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ہر حصے کو صاف اور نفاست سے سجا دیکھنا چاہتا ہے۔ کمرہ ہو یا واش روم، کچن ہویا ڈرائنگ روم ہر ایک جگہ میں انسان آرام تلاش کرتا ہے۔ الماری میں کپڑے بکھرے رہنا، کمرے میں بے ترتیبی، واش روم کی صفائی نہ ہونا، کچن میں ہر چیز بے ترتیب انداز میں ہونا یہ سب جہاں سستی اور کاہلی کی نشانی ہے وہیں یہ بے ترتیبی انسان کی زندگی پر منفی اثر بھی چھوڑتی ہے۔ ناصرف گھر خوبصورت نظر آنے کے لیے بلکہ ذہنی سکون کیلئے بھی گھر میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بےحد اہم ہے کیونکہ اسکا اثر براہِ راست انسان کی شخصیت اور مزاج پر پڑتا ہے۔ ہم آپ کو چند ایسی عادتیں بتاتے ہیں جنھیں اگر آپ اپنا لیں تو گھر کو صاف رکھنا بے حد آسان ہو جائے گا۔

1۔جو چیز جہاں سے اٹھائیں وہیں رکھیںسامان کا بکھرنا اور چیزوں کو اِدھر اُدھر پھیلا دینا گھر کی بے ترتیبی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کپڑوں کا پلنگ پر بکھرا ہونا، اخبارات کا ٹیبل پر پڑا رہنا، ڈریسنگ ٹیبل پر لپ اسٹک یا پاﺅڈر کھلے پڑے رہنا یہ سب بےقاعدگی کی نشانی ہے۔ الماری میں کپڑے طے کرکے رکھیں۔ روز مرّہ کے کپڑے ایک طرف رکھیں اور دعوتوں، شادیوں کے کپڑوں کو الگ شیلف میں رکھیں۔ ضروری کاغذات کو اِدھر اُدھر پھیلانے کے بجائے الماری کے دراز میں کسی فولڈر میں رکھیں۔ کپڑے، پرس، جیولری یہاں تک کے جوتوں کی بھی جگہوں کو الگ رکھیں۔
2۔باکسزکا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں
کوشش کیا کریں کہ چیزوں کو رکھنے کے لیے باکس کا استعمال کریں ۔چاہے وہ چارجر ہو یا ائیر فون۔ نیل کٹرسے لے کر ہیئرپن تک کے لیے باکسز بنائیں تاکہ دراز میں بھی چیزیں بکھری نہ پڑی رہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کہیں جانے کی جلدی ہو اور مذکورہ چیز نہ مل رہی ہوتو ڈھونڈنے کے چکر میں پندرہ سے بیس منٹ ضائع ہوجاتے ہیں۔ چیزوں کو باکس کے اندر رکھنا سیکھئے تاکہ کھونے یا گُم جانے کے چکر سے بچا جاسکے۔ باکس پر نام بھی لکھا جا سکتا ہے یا رنگ کے حساب سے چیزوں کو رکھا جا سکتا ہے جیسے نیلے ڈبے میں چوڑیاں ہیں تو پیلے ڈبے میں بال پن۔
3۔کچن کا سلیب ہمیشہ صاف رکھیں
کچن گھر کا وہ حصہ ہے جوکہ گھر کی خواتین کے لیے ہر وقت مصروفِ عمل رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور اسی سے خواتین کے سگھڑپن کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ کچن کو صاف رکھنا اور کھانا پکاتے وقت چیزوں کو نہ پھیلانا بھی ایک آرٹ ہے جسے ہر عورت کو آنا چاہیئے۔ غیر ضروری برتن نکالنے سے گریز کیا کریں۔ مصالحے کے ڈبے کو ہمیشہ ترتیب سے رکھیں۔سنک سے لے کر اوون تک کی صفائی اہم ہے۔ ہفتے میں ایک بار کیبنٹ اندر سے ضرور صاف کریں۔
4۔گھر میں بے جا سامان نہ بھریں
گھر کو صاف اور اچھا رکھنے کیلئے جہاں صفائی اور مینٹیننس ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ بے جا اور غیر ضروری سامان سے پرہیز کیا جائے۔ کبھی کبھی یہ بھی ضروری ہے وہ بھی ضروری ہے کے چکر میں سامان کا انبار جمع ہو جاتا ہے ۔ وہ کچن ہو یا گھر کا کوئی بھی حصہ صرف یہی نہیں اکثر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں میں کاٹھ کباڑ کا پہاڑ اکھٹا کرکے رکھتے ہیں۔ گھر کو اچھا، پرسکون اور آرام دہ رکھنے کیلئے یہ بھی ناگزیرہے کہ صرف وہی اشیاء رکھیں جوکہ کام کی ہیں غیر ضروری اور پرانی ہوچکی چیزوں کو رکھنا بالکل بے کار ہے کیونکہ نہ تو اسے استعمال میں آنا ہے اور نہ ہی صحیح ہونا ہے اس سے بہتر ہے کہ اسے نکال کر گھر کو خراب لگنے سے بچالیں ۔
5۔روزانہ ڈسٹنگ کریں
گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے روزانہ کی جھاڑبونچھ اور ڈسٹنگ بہت ضروری ہے ۔دھول مٹی اور گردوغبار کے جمع ہوجانے سے گھرنا صرف خراب لگتا ہے بلکہ چیزیں خراب ہوجاتی ہیں جیسے قالین یا گھر کا دیگر سامان۔
6۔چھوٹی موٹی مرمتیں کراتے رہیں
وہ رنگ ہو یا مرمت ہر چیز حفاظت مانگتی ہے کپڑے بھی اگر پھٹ جائیں تو ہم سی لیتے ہیں اسی طرح گھر کی کوئی چیز خرابی کا شکار ہوجائے تو اسکی مرمت بہت ضروری ہے تاکہ چیزوں کو بُرا لگنے اور خرابی سے بچایا جاسکے۔کوشش کریں کہ تھوڑی بھت توڑ پھوڑ پر ہی مرمت کرالیں ۔ کیونکہ زیادہ دیر لگانے سے بعض اوقات چھوٹا کام بھی بڑا خرچہ کرا دیتا ہے ۔

ہم کیا کر رہے ہیں؟؟؟ بنت مہر
حکایات بوستان سعدی میں شیخ سعدی ؒ بیان کرتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی کےاکثر درباری اس بات پر بہت تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ وہ اپنے غلام ایاز پر اس قدر فریفتہ ہے انہیں ایاز میں ایسی کوئی خوبی نظر نہ آتی تھی جو اسے دوسروں سے ممتاز کر کے سلطان کی سلطان کی توجہ کا مستحق بناتی ہو سلطان کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو اس نے فیصلہ کیا کہ مناسب موقع پر اس اعتراض کا جواب دوں گا اور اتفاق سے جلد ہی ایسا موقع پیدا ہو گیا ایک دن دوران سفر لدے ہوئے ایک اونٹ کا پاؤں پھسلا تو وہ زمین پر گر گیا اور اس پر لدا ہوا سارا سامان بکھر گیا سلطان نے حکم دیا کہ اس بکھرے ہوئے سامان میں سے جو شخص جو چیز اٹھائے وہ اسی کی ہو جائے گی یہ حکم دے کر سلطان آگے بڑھ گیا اور اس کے تمام ہمراہی سامان لوٹنے میں مصروف ہو گئے بس ایک ایاز اس کے ساتھ رہا ۔محمود نے پوچھا ایاز تم نے بھی کچھ حاصل کیا ؟ اس نے ادب سے جواب دیا میں تو حضور کے جلو میں تھا اب سلطان نے حاسد درباریوں کو بتایا کہ ایاز کی یہی خوبی ہے جس نے اسے ہماری نظروں میں معتبر بنایا ہے۔حضرت سعدی یہ حکایت بیان کرنے کے بعد توجہ دلاتے ہیں کہ انسان کو اسی انداز سے اللہ سے اپنا رشتہ استوار کرنا چاہیے کہ اس کے سوا کسی کا خیال دل میں نہ رہے
کچھ یہی مثال صادق آتی ہے اسلام کی ان شاخوں پہ جنہیں ہم فرقوں کا نام دیکر اپنی انا اور نفرت کی بھینٹ چڑھا کر فرقہ وارانہ فسادات پھیلاتے ہیں اور اسلام کے اصل مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں کوئی فرقہ عاشق رسول کہلاتا ہے تو کوئی توحیدی فرقہ کے نام سے مشہور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عشق رسولﷺ سے سرشار دل میں رسولﷺ کے خیال کے علاوہ کوئی خیال دل میں کیسے سما سکتا ہے؟ یااہل توحید اللہ پاک کی وحدانیت سے ہٹ کر فرقہ واریت پہ کیونکر لب کشائی کر سکتا ہے اللہ اور نبیﷺ سے رشتہ رکھنے والوں کے دل میں اس کے علاوہ کوئی خیال نہ آئے یہی تو حقیقی محبت ہے لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے ہم ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں برداشت اور احترام کے فقدان کے باعث ایک دوسرے پر کافر کافر کے فقرے کسے جاتے ہیں ایک دوسرے کے مسلکی عقائد کا مذاق بنایا جاتا ہے اور اس کے لیے گالم گلوچ سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہاں تک کہ مسجد کے منبر و محراب پر بیٹھ کر بھی محبتیں بانٹنے کی بجائے فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دیا جاتا ہےحالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اتفاق و یگانگت سے رہنا ہی اسلام کی خوبصورتی ہے جیسا کہ سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
"یقینا تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں”
جب کسی ملک پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوتی ہیں تو پورا ملک متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرتا ہے لیکن جب اس ملک کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیےنفرت و بیزاری کے جذبات پروان چڑھنے لگیں تو پھر کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی اسی طرح مسلمانوں کے فرقہ وارانہ فسادات کا اسلام دشمن عناصر نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فرقہ وارانہ فسادات کی جو چنگاری کچھ شدت پسندوں نے لگائی تھی اسلام دشمن عناصر نے اس چنگاری کو بھڑکا کر شعلے کی شکل دے دی ایک دوسرے پر کافر کافر کی صدائیں بلند کرتے ہم لوگ پیارے آقاﷺ کی گئی تلقین کو بھول گئے جو خطبہ حجتہ الوادع کے موقع پر ان الفاظ میں کی گئی
"لوگو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو”
فرقہ واریت کی آڑ میں دوسروں کی عزتیں اچھالتے ہوئے ہم اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی تعلیمات کو فراموش کر گئے ایک بزرگ سے فرقہ واریت کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ فرقوں کے ذریعےاللہ پاک نے اپنے محبو بﷺ کی سنتوں کو زندہ رکھنے کا سبب بنایا ہوا ہے اور غور کیا جائے تو ایسا ہی ہے کہ ہر فرقہ کسی ایک سنت پر سختی سے کاربند ہے اور یہی فرقوں کی اصل خوبصورتی ہے جسے ہم اپنے رویوں اور نفرتوں کے زہر سے فسادات کی بدصورتی میں تبدیل کر چکے ہیں کیا کبھی کوئی مرد آہن آئے گا جو ہمیں نفرتوں کی اس دلدل سے نکال کراپنے عقائد دل میں رکھتے ہوئے دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اتفاق و محبت سے جینا سکھائے گا یا ہم یونہی اسلام کی خوبصورتی کو مسخ کرتے رہیں گے؟اسے تم اس طرح پوجو اسے تم اس طرح چاہو
وہی منزل وہی مقصد وہی مطلوب بن جائے
نہ مانگو اس سے کچھ اس کے سوا شرط وفا یہ ہے
وہ محبوب حقیقی اس طرح محبوب بن جائے
سرحدوں کے محافظ ۔۔۔ حامد المجيد
سرحد کا محافظ صرف سرحد کا نہیں اپنے وطن کی شان بان اور آن کا محافظ ہوتا ہے وطن کے باسیوں کی عزت و آبرو جان مال کا محافظ ہوتا ہے۔۔
حفاظت کے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے میں اس کی راہ میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بنتی اس کی نگاہیں گاہے بگاہے کی رنگینیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پہ منجمد رہتی ہیں۔۔۔
اس کا حوصلہ کوہ گراں کی طرح مضبوط و توانا ہوتا ہے جسے آگ اگلتا سورج اور سردیوں کی یخ بستہ راتیں بھی کمزور نہیں کرسکتی۔۔۔
سرحدوں کے محافظ ضروری نہیں کہ سرحد پہ معمور ہوں کچھ گمنام محافظ بھی ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی حب الوطنی ہی ان کی شناخت بنتی ہے اور وطن کی سرحدوں کے طرف بڑھنے والے سبھی ناپاک قدم ان کی نظر میں ہوتے ہیں جنہیں وہ مسل کر رکھ دیتے ہیں ہر اٹھنے والی بری آنکھ کی نظر کو کافور کردیتے ہیں۔۔ ناپاک ارادوں کے بڑے بڑے محلات اپنی عقلمندی سے مسمار کرتے ہیں۔۔۔۔
ہم جو سکھ کی نیند سوتے ہیں چین کی زندگی گزار رہے ہیں وہ صرف اس وجہ سے کہ ہماری سرحدوں کے محافظ ہر لمحہ ہماری حفاظت کے لیے چوکس ہیں۔۔
قابل رشک ہیں وہ مائیں جن کے جواں چراغ اس عظیم راہ میں روشن و تابناک ہیں۔۔
شہادت نامی بیج جس قلب میں بویا جائے وہاں شجاعت و بہادری کا پودا پھوٹتا ہے جس کا پتہ پتہ ڈالی ڈالی صبر و استقامت سے لبریز ہوتا ہے۔۔
اور ہمارے وطن کے ہر محافظ کے سینے میں یہ پودا پوری آب و تاب سے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی فوج بھی ہمارے جوانوں کو زیر نہیں کرسکتی۔۔
ہمارے فوجی جوانوں کا اوڑھنا بچھونا مطلوب شہادت اور رضا خداوندی ہے جو ان کے جذبات کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔۔۔
کوئی بھی فرد تب تک مضبوط و ثابت قدم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا اپنے خدا پہ یقین کامل نہیں ہو جاتا اور ہماری سرحدوں کے محافظ اسی لیے سب سے منفرد و اعلیٰ ہیں ان کے دلوں میں یقین کامل کے ایسے چراغ روشن ہیں جن کی کرنوں کے سامنے انہیں بس آخرت کی زندگی دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے وہ شہادت کو بڑے شوق اور ولولے سے اپنے گلے لگاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں ہمارے خون کا پہلا قطرہ ابھی زمین پہ نہیں گرنا اور وہاں ہماری کامیابی کا پروانہ پہلے جاری ہوجانا ہے۔۔
ہماری سرحدوں کے محافظ ہمہ تن جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور یہ ایسا جذبہ ہے جو انہیں ہر میدان کا فاتح اور سکندر بناتا ہے۔۔
ہر محب وطن اپنے وطن کا محافظ ہے ضروری نہیں خاکی وردی پہننے والے پہ ہی اپنے وطن کی حفاظت لازم بلکہ خاک سے بنے ہر خاکی پہ لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کرے اور جس طرح سرحدوں کے محافظ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں ویسے ہی وہ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔۔۔
گنتی کے چند عناصر پسند اور شدت پسند لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے ہر لمحہ اپنے ان جوانوں کے دست بازو بنے رہیں جو اپنی تمام تر خوشیاں ہماری خوشیوں اور وطن کی سرفرازی پہ قربان کررہے ہیں۔۔۔
جن کی رگوں میں وطن کی محبت خون بن کے گردش کرتی ہے۔۔۔
جن کی سانسوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی تازگی دیتی ہے۔۔
جو بغیر کسی لالچ کہ اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان تک لٹانے کو تیار ہیں۔۔
ہم ہم وقت دست بازو ہیں اپنے ان جوانوں کے جو ہمارے وطن کے چمکتے دمکتے ستارے اور اس پاک مٹی کے گوہر نایاب ہے جس کی زرخیزی میں کئی شہیدوں کا لہو شامل ہے۔۔







