Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان المبارک کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں، ہزاروں فضیلتیں اور کئی بڑی بڑی عبادتیں اس سے منسلک ہیں، اس کے اعزازات میں سرکش شیاطین و مردود جنات کا جکڑ دیا جانا، ہولناک جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور نعمتوں سے بھرپور جنت کے ابواب کا کھل جانا بھی شامل ہے۔ اس ماہ مقدس میں گناہوں کی قلت اور نیکیوں کی کثرت ہوجاتی ہے، پھر نیکیوں کے اجر میں دس گنا سے سات سو گنا اور سات سو سے آگے جتنا اللہ چاہے اضافہ کرتا ہے۔ ہر دن اور رات میں کثیر تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادیاں ملتی ہیں، جنت کے پروانے ملتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر رضائے الہی کا حصول ہوتا ہے ۔
    ان تمام کبار اعزازات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کا ایک جداگانہ اعزاز یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید و فرقان حمید ایسی لاریب کتاب کا نزول ہوا ہے ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ رمضان کا اعزاز قرآن ہے اور قرآن کا اعزاز رمضان ہے۔ قرآن معجزہ ہے اور یہ معجزہ رمضان المبارک ایسے بابرکت اور پر رحمت مہینے اور مہینے کی بھی سب سے مقدس اور فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل رات "لیلۃ القدر” جس کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں سے زیادہ ہے، میں رونما ہوا ۔اس کا خصوصی تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بھی کیا ہے ۔”ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔”

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اسی وجہ سے صاحب القرآن والشریعہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں قرآن کی تلاوت بکثرت کیا کرتے تھے، بلکہ فرشتوں کے سردار جبریل امین سے مل کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے سب سے زیادہ کام رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے، اور رمضان المبارک کی ہر رات آپ کو جبریل امین ملتے تھے، اور جب بھی جبریل امین آپ کو ملتے آپ انہیں قرآن سناتے تھے۔”
    قرآن اور رمضان کا تعلق صرف دنیا میں ہی نہیں یوم آخرت میں بھی ہوگا ۔روزہ اور قرآن مجید دونوں مل کر بندوں کی سفارشیں کریں گے ۔مسند احمد میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں بروز قیامت شفاعت کریں گے ۔روزہ کہے گا! اے میرے رب! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور جائز ضروریات سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کو بخش دے ۔پھر قرآن کہے گا! اے میرے رب! میں نے اسے رات کو سونے اور آرام سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اسے بخش دے ۔اللہ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول کرتے ہوئے بندے کو بخش دیں گے اور بندہ جنت میں چلا جائے گا ۔”مذکورہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رمضان المبارک میں قائم الیل و صائم النھار شخص یوم قیامت روزے اور قرآن کے ذریعے باآسانی خلاصی پا جائے گا ۔
    آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قرآن سے دور ہوتے جارہے ہیں، اس کا اس طرح سے حق ادا نہیں کر رہے جس طرح کہ کرنا چاہیے ۔اکثریت اس معاملے میں خاصی کمزور اور سست دکھائی دیتی ہے ۔جب کہ اسلاف کا معاملہ رمضان المبارک میں قرآن کے حوالے سے خاصا مضبوط بھی تھا اور مربوط بھی۔وہ قرآن کی تلاوت کو پوری باقاعدگی ،دلجمعی اور خوش الحانی سے کیا کرتے تھے ۔ذیل میں کچھ حوالے درج کیے جا رہے ہیں جس سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اسلاف رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کے لیے کس کس انداز میں کوشاں تھے اور اس کے بغیر رمضان کی عبادات کو نامکمل سمجھتے تھے ۔
    جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے ۔ [سنن سعید بن منصور 150] تابعی امام علقمہؒ پانچ دنوں میں قرآن مجید مکمل کرتے تھے۔[ابن ابی شیبہ 8667]
    تابعی امام قتادہؒ عام دنوں میں سات ایام میں قرآن ختم کرتے تھے،جب رمضان آتا تو تین راتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے اور جب آخری عشرے میں داخل ہوتے تو ہر شب پورے قرآن کی قراَت کرتے۔ [حلیۃ الاولیاء]
    امام ابراہیم نخعیؒ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے لیکن آخری عشرے میں دو راتوں میں مکمل کرتے تھے۔ [مصنف عبدارزاق 5955]
    تابعی امام اسود بن یزیدؒ رمضان میں دو راتوں میں مکمل قرآن کی تلاوت فرماتےاور مغرب و عشاء کے مابین آرام کرتے تھے، جب کہ عام دنوں میں وہ چھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے ۔ [ابن ابی شیبہ 8667]
    امام زہریؒ فرماتے تھے رمضان قراَت قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینا ہے۔
    امام مالکؒ رمضان کے آتے ہی طلباء کو پڑھانا بلکہ حدیث کی مجلس ہی چھوڑ دیتے تھے اور صرف قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے یہ مہینا تو قرآن کا مہینا ہے ،اس میں تو ہم بس قرآن کی طرف ہی رجوع کریں گے ۔امام سفیان ثوریؒ رمضان میں تمام عبادات چھوڑ کر صرف قراَت قرآن میں مشغول رہتے ۔ امام احمد ابن حنبلؒ تمام کتابیں بند کر دیتے اور فرماتے کہ یہ قرآن کا مہینا ہے ۔ امام وکیع بن جراحؒ ہر شب میں مکمل قرآن اور مزید دس پاروں کی تلاوت کرتے۔
    تین دن سے کم میں ختم قرآن کی ممانعت کے حوالے سے امام ابن رجب حنبلیؒ نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ ممانعت عام دنوں کے دائمی معمول کے متعلق ہے لیکن زمان و مکان کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے کم میں بھی قرآن مکمل کیا جا سکتا ہے-امام احمد ، امام اسحاق اور دیگر متعدد ائمہ کا یہی موقف تھا اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا ۔ [لطائف المعارف 183]
    قارئین کرام! مذکورہ آیات و احادیث اور عمل ائمہ و تابعین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رمضان کا مہینا فی الحقیقت کا قرآن کا مہینا ہے ۔جو لوگ قرآن کے بنا ہی رمضان کو گزارتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق رمضان نہیں ادا کرتے ۔رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے تبھی مستفید ہوسکتے ہیں جب اس میں قرآن کی تلاوت کا ایک بڑا حصہ شامل ہو ۔کوشش کریں کہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن مجید لازمی ختم کیا جائے ۔

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔۔۔ اسامہ چوہدری

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔۔۔ اسامہ چوہدری

    آج پیپر دے کر کمرہ سے باہر آیا تو چلچلاتی ہوئی دھوپ محسوس ہوئی۔ سوچا باہر کسی فوڈ کارنر پہ بیٹھتا ہوں جب تک باقی دوست بھی باہر آجائیں گے۔سکول گیٹ سے باہر نکلا تو گیٹ کی ایک طرف معصوم سا بچہ کسی کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا اسے دیکھتے ہی اچانک دل میں رحم سا آگیا۔ اس کے پاس گیا، اس سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں تقسیم کررہے ہو تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کسی انکل نے دیے ہیں جب میں یہ سارے تقسیم کرکے گھر جاوں گا تو مجھے سو روپیہ ملے گا ۔مجھے اس شخص پر بہت غصہ آیا کہ پھول جیسے بچے کو سو روپے کے لالچ میں تپتی دھوپ اور آگ جیسی لو میں کھڑا کیا ہوا ہے۔

    خیر باقی دوست پیپر دے کر باہر آئے تو میں نے ان کو اس بچے کے بارے بتایا اور کہا کہ ہم یا تو اس شخص سے ملیں جس نے اس اس کام پر لگایا ہے یا اسکے گھر جا کر اس کے حالات معلوم کریں کیا معلوم کہ اس کے گھر آج کی افطاری کے پیسے بھی نہ ہوں۔

    ہم نے منصوبہ بنایا کہ اس بچے کے سکول کا خرچہ ہم اپنے ذمے لیں گے ۔اس کے گھر پہنچے تو وہاں پر ایک درد ناک کہانی تھی ۔گھر کے مرکزی دروازے کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا اور گھر حسرت و یاس کی تصویر نظر آرہا تھا۔

    اس کی امی کو بلایا گیا اور اپنا تعارف کروایا ،اور کہا کہ ہم آپکی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں تو اس نے کہا بیٹا ہم تو باقیوں کی نسبت بہتر زندگی گزار رہے ہیں ،یہ بچہ سکول بھی پڑھتا ہے مگر سیکنڈ ٹائم کوئی نہ کوئی کام کرلیتا ہے، میرا اس سے بڑا بیٹا بھی ایک دکان پر کام کرتا ہے جس سے ہمارے گھر کا خرچ تو چل ہی جاتا ہے مگر میری ایک دوست ہے جس کے میاں فوت ہوچکے اور ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہے اگر آپ ان کی مدد کرسکتے ہیں تو کیجیے ۔میں آپکا رابطہ ان سے کروا دوں گی ۔

    اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو خود انتہائی کسمپرسی کی زندگی کے باوجود دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔

    اور دوسری طرف وہ بے حس کالج والے جو ایک معصوم بچے کو جس کی ابھی کھیلنے کودنے کی عمر ہے جس کے ہاتھ میں اپنی کتابیں کاپیاں ہونی چاہئے تھی وہ دوسروں کے لئے ایک کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا۔

  • کیا خوشی ہے کہ رمضان آگیا ہے،وہ رمضان کہ جس کی برکتیں اور رحمیتں سیل رواں کی طرح بے قابو ہوتی ہیں ،اس سیل رواں سے نہ تو بچا جاتا ہے اور نہ اس کی لہروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اس میں غوطہ زن ہوا جاتا ہے اور رحمتوں کہ لہروں کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کے لیے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، رحمتوں اور برکتوں کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ ماہ مقدس شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے سے مراد برکت کے دروازوں کا کھلنا ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ہر طرف اشیاء خوردونوش کی فروانی ہو جاتی ہے، موسمی پھلوں کی بہتات ہوتی ہے، کھجور جو پورا سال پتہ نہیں کہاں غائب ہوتی ہے رمضان میں جگہ جگہ میسر ہوتی ہے،دودھ دہی کی جتنی بکری اس ماہ میں ہوتی ہے کسی اور ماہ میں نہیں ہوتی، کپڑے اور جوتے کا کاروبار سب سے زیادہ اسی مہینے میں ہوتا ہے، غریب، امیر ہر گھر میں خوشحالی آتی ہے، اسی طرح تقریبا ہر چیز دوگنی ہوجاتی ہے مزید یہ کہ ہر شخص کی آمدنی دوگنی ہوجاتی ہے، ان سب سے رمضان کی برکتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ "جنت کے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پورا مہینا ان میں سے ایک بھی بند نہیں رکھا جاتا ” ان الفاظ میں یہ واضح پیغام ہے کہ یہ مہینا جنت کمانے کا ہے، وہ جنت جو مسلمانوں کی منزل مراد اور ابدی قرار گاہ ہے، جس کے حصول کے لیے تمام عبادات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو نعمتوں سے بھرپور ہے، جس میں فواکہ، حور و غلمان اور سلسبیل و زنجبیل ہے، جس کا عرض دنیا وما فیہا سے زیادہ ہے، جس میں باغات ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، دودھ کی نہریں، شراب اور شہد کی نہریں ۔جس کا ایک ایک خیمہ ساٹھ ساٹھ میل لمبا ہے، جس کا لالچ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ دیا ہے، وہ جنت جس کا سب سے اونچا مقام "محمود ” ہے، جو کہ کائنات کی اعلی ترین ہستی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا ۔اس جنت کے دروازے رمضان میں فقط اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ ان کا ٹھکانہ یہی اور بس یہی ہے، اس کے سوا اور کہیں نہیں جانا ہے، لہذا اس ماہ مقدس میں مسلمان اس جنت کے حصول کے لیے تگ و دو کریں، دعائیں کریں، جدوجہد کریں بلکہ قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ” دوڑو، بھاگو، لپکو اس جنت کی جانب ۔ایک مقام میں ہے "کہ اس جنت کے حصول کے لیے آپس میں مسابقہ کرو، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، چنانچہ پورا رمضان اس جنت کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کا نام ہی رمضان ہے،اور اس میں جنت کے دروازوں کا کھلنا رمضان کی برکت اور رحمت ہے ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” جہنم کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی کھلا نہیں رکھا جاتا "اس میں بھی رمضان کے توسط سے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اب تمہاری زندگی میں رمضان آگیا ہے، اب تم جہنم میں نہیں جا سکتے، جہنم کے دروازے بند کرنے کا پہلا اور آخری مقصد یہی ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی شخص کی زندگی میں رمضان آجائے اور اس کے باوجود وہ جہنم میں چلا جائے ۔وہ جہنم جس کی ہولناکی اور ہیبت ناکی کی مثل اور کوئی شے نہیں ہے، وہ جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، مطلب جتنے انسان اس میں ڈالتے جائیں گے اس کی آگ اتنی بھڑکتی جائے گی، وہ جہنم جس کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر گنا زیادہ تیز ہے، وہ جہنم جس کا بعض بعض کو کھا رہا ہے، وہ جہنم جس کی آگ کے نام سقر، ھاویہ، سعیر ہے اور جو چمڑوں کو جلا دینے اور دلوں تک پہنچنے والی ہے، وہ جہنم جو رہنے کا سب سے برا ٹھکانہ ہے، وہ جہنم جو سانس باہر پھینکتی ہے تو دنیا گرمی سے جھلسنے لگ پڑتی ہے اور سانس اندر کھینچتی ہے تو دنیا سردی سے ٹھٹھرنے لگ پڑتی ہے، وہ جہنم جس کی گہرائی ستر سال کی مسافت جتنی ہے اور طول و عرض کا تو حساب ہی نہیں ۔ایسی ہولناک جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں تو فقط رمضان المبارک کی بدولت، یہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں ہی تو ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” ہر سرکش شیطان اور شریر جن کو قید کردیا جاتا ہے”ایسا کر کے بھی مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ تمہارا ازلی وابدی دشمن سرکش شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، لہذا اب تم نیکیاں کرنے کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہو، تمہارے رستے کا سب سے بڑا کانٹا نکال دیا گیا ہے اور اٹکن ہٹا دی گئی ہے، اب تم شیطان کے وسوسوں، اس کی پھونکوں، بہکاووں اور تحریض سے پرے اور محفوظ ہو ،چنانچہ نیکیاں کرو، نمازیں پڑھو، دن کا صیام اور رات کا قیام کرو، صدقہ خیرات کرو، زکوہ ادا کرو، جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو، غرض ہر طرح کی نیکی کرو اور ہر طرح کے گناہ سے بچو، کیونکہ شیطان جکڑ دیا گیا ہے، اور تمہارے پاس نیکی نہ کرنے اور گناہ سے نہ بچنے کا کوئی عذر اور جواز نہیں ہے، حیرت ہے اس شخص پر شیطان باندھ دیا گیا ہو، جہنم کے دروازے بند کردیے گئے ہوں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں اور وہ اس کے باوجود نیکی نہ کرے، تو سوائے محرومی کے اس شخص کے مقدر میں کچھ نہیں ۔
    قارئین کرام! حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ایک منادی لگانے والا یہ منادی لگاتا ہے، اے نیکیاں اور خیر چاہنے والے! آگے بڑھ، کر ہر وہ نیکی جو تجھے پسند ہے، کیونکہ رمضان آیا ہی نیکیوں کے لیے ہے، پھر وہ منادی اگلی منادی یہ کرتا ہے کہ اے گناہ کرنے اور شر چاہنے والے رک جا! بس کر جا، بہت گناہ کر لیے، اور کتنے کرے گا، اس غلاظت میں اور کتنا گندا ہوگا، اس گناہ کی بستی میں اور کتنا رسوا ہوگا، دیکھ رمضان آگیا ہے، نیکیوں کا موسم بہار آگیا ہے، اب گناہ ترک کر. معصیت چھوڑ، رسوائیوں والے اعمال کو ٹھوکر مار اور رشدو ہدایت، ایمان، اعمال صالحہ اور تقوی کی طرف آجا۔منادی کرنے والے کی روز کی یہ منادی بھی رمضان کی رحمتوں برکتوں میں شامل ہے

    قارئین کرام! رمضان المبارک وہ ماہ مقدس ہے جس کا انتظار اسلاف صلحاءکو سال بھر رہتا ہے ،جس کو پانے کی وہ اللہ سے دعائیں و التجائیں کرتے رہتے تھے، پھر جب رمضان کو پالیتے تو اس میں عبادات اتنی شدت سے کرتے کہ رمضان کا کما حقہ حق ادا کر دیتے تھے، آج وہ رمضان میری اور آپ کی زندگی میں آیا ہے، دیکھیے، شیاطین باندھ دیے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔آگے بڑھیے! بذریعہ رمضان جنت کمالیجیے اور جہنم سے آزاد ہو جائیے۔

  • لاہور اک بار پھر لہولہان۔۔۔۔ محمد عبداللہ گل

    لاہور اک بار پھر لہولہان۔۔۔۔ محمد عبداللہ گل

    امن کے دشمن رمضان کے با برکت مہینہ میں بھی قتل و غارت گری سے باز نہ آئے اور پنجاب کے دل لاہور کو تڑپا کے رکھ دیا، بدھ کے روز صبح آٹھ بجے کے بعد داتا دربار کے قریب ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب جو داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے پاس کھڑی تھی حملہ کردیا، جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ داتا دربار کے قریب ہونے والے دھماکے میں کثیر تعداد میں پولیس اہلکار اور شہر ی شہید ہوئے. دھماکے کی اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور دربار کے تمام دروازے بند کر دیے گئے۔ پولیس کے مطابق حملے میں سات کلو گرام بارود استعمال کیا گیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد کے لئے میو ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

    میں سمجھتا ہوں اس حملے کے پیچھے دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے بالخصوص ہندوستان کا جو ہمیں پر امن نہیں دیکھنا چاہتا وہ بس اسی تاک میں رہتا ہے کہ کسی طریقے سے پاکستان کا امن خراب ہو۔ جب پاکستان نے بھارت کو فضائی حدود میں بھی شکست دے دی اور اس کے جھوٹے جنگی دعوؤں کو ناکام بنا دیا تو دشمن ملک نے پاکستان کے امن کو برباد کرنے کے لیے ایک نئی چال چلی۔
    جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو بھارت نے اور برطانیہ نے مل کر وہ علاقہ دیا جو ہر لحاظ سے کمزور تھا۔یہ بھارت کی چال تھی کہ پاکستان جلد ہی ناکام ہو جائے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے لیکن قائداعظم کی قیادت میں پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد بھارت نے 1965ء کی جنگ میں شکست کھائی تو دشمن کو یہ شکست ناگوار گزری۔ اس کے بعد تخریب کاری شروع کر دی گئی پاکستان میں۔لاہور حملہ بھی انھی سانحات میں سے ایک ہے۔ لاہور میں داتا دربار پر حملہ یقینا تمام مسلمانوں اور اہل پاکستان کے لیے مقام افسوس ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے تمام مسلمانوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ پاکستان کے امن کو برباد کرنے کے لیے دشمن کی چال ہے۔
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
    علامہ اقبال نے ایک نظریہ بیان کیا ہے کہ تمام مسلمان بھائی کی طرح ہے۔اتحاد امت میں ہی سب کچھ ہے
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    مسلمان ایک جسم کی مانند ہے
    جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم تکلیف میں ہوتا ہے۔اس حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی مسلمان تکلیف میں ہو تو اس کی مدد کرنا دوسرے مسلمانوں کا اول فرض ہے۔اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی خوشی میں خوش اور غمی میں غمگین ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ کل پاکستان کے لیے دکھ کا مقام ہے۔ اس کے بعد ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یعنی کہ ہم فرقہ واریت سے نکل آئیں۔ یہ شیعہ سنی کے جھگڑے سے باہر آ جائیں۔ حکمران اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عوام کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہمیں ان سیاسی جھگڑوں سے بھی نکلنا ہو گا اور دشمن کی چال کو ناکام کرنا ہو گا جو کہ صرف و صرف اتحاد ہی سے ممکن ہے۔اس میں کچھ ذمہ داریاں ہیں وہ یہ ہے کہ اس تخریب کاری کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے۔
    سانحہ لاہور پر وزیر اعظم سمیت دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے تمام مصروفیات ترک کرکے اجلاس طلب کر لیا۔ جو ایک مستحسن اقدام ہے۔ وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ دہشتگرد قوم کا حوصلہ پست کرنے کیلئے معصوم افراد کو نشانہ بناتے ہیں، دہشتگردوں نے بے گناہ عوام کیخلاف بزدلانہ کارروائی کی ہے، دشمن قوتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں،ہمارا عزم ہے کہ دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ لاہور شہر میں نو شہیدوں نے جان ملک پر قربان کی، اللہ تعالیٰ شہیدوں کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس حادثے کا شکار ہوئے، پانچ شدید زخمی ہیں، سولہ زخمی قدرے بہتر حالت میں ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے مبارک مہینے میں دہشت گردی کرنے والے درندے ہیں. ڈاکٹرز، پروفیسرز اور ریسکیو کے عملے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گرد بزدل،قوم، اسلام کے دشمن ہیں لیکن ہمارا عہد ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے، عوام، افواج،پولیس اکٹھے ملکر دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔ بقول شاعر

    جان لے اے سفاک دشمن، تو جاں بھی لے گا تو غم نہ ہو گا
    نہ تو رہے گا جہاں میں باقی، نہ تیرا جور و ستم رہے گا

    دہشت گردوں کا ٹارگٹ کیا تھا اس پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لاہور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے. بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ داتا دربار دھماکے میں ملوث درندوں کوقانون کی گرفت میں لایا جائے اوردھماکے کے زخمیوں کے لیے بہتر علاج معالجے کویقینی بنایا جائے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پولیس کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں.
    میں تمام اہل پاکستان کی جانب سے دشمن کو جواب دیتا ہوں کہ یہ خودکش تمہارے دھماکے ہمارے عزم و استقلال کو ختم نہیں کر سکتے اور اللہ اپنے ان شہداء سے کتنا خوش ہوگا جو روزے کی حالت میں اپنے مالک کائنات سے ملاقات کریں گے۔ ویسے بھی اللہ کے نبی ﷺ نے کہا روزہ دار صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ان کا تو پھر دہرا اجر ہوا جو روزہ دار بھی ہوں گے اور شہداء بھی جنہوں نے دھرتی کے لئے جاں بھی وار دی۔
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

  • چوہدری شفاعت حسین سعودی عرب کیوں پہنچ گئے اور کس نے استقبال کیا؟

    چوہدری شفاعت حسین سعودی عرب کیوں پہنچ گئے اور کس نے استقبال کیا؟

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)سابق ضلع ناظم چوہدری شفاعت حسین سعودی عرب پہنچ گئے عمرہ کی سعادت حاصل کی سعودی عرب میں چیئرمین مسلم لیگ ق چوہدری اظہر عباس وڑائچ نے ساتھیوں کے ہمراہ انکا پرتپاک استقبال کیا اور انکے اعزاز میں افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا چوہدری اظہر عباس وڑائچ ‘چوہدری اللہ دتہ وڑائچ‘ فیصل محمود‘سید اجمل شاہ سمیت دیگر نے سابق ضلع ناظم چوہدری شفاعت حسین کو سعودی عرب میں پارٹی کی مضبوطی اور فعال کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر چوہدری شفاعت حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جن ساتھیوں نے پارٹی کےلئے کام کیا وہ قابل تحسین ہیں چوہدری اظہر عباس وڑائچ کی مہمان نوازی کا مشکور رہونگا انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مسلم لیگ ق کو مزید فعال کرنے کےلئے جہاں بھی میری ضرورت ہو میں حاضر رہونگا جس پر چیئرمین چوہدری اظہر عباس وڑائچ نے کہا ہے کہ چوہدری برادران نے ہی گجرات سمیت ملک وقوم کا نام روشن کیا ہے ہم انکی مشاورت سے سعودی عرب میں پارٹی کی مضبوطی کےلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہینگے ۔

  • ٹرانسپورٹ اے سی ایسوسی ایشن کی باڈی تحلیل، اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

    ٹرانسپورٹ اے سی ایسوسی ایشن کی باڈی تحلیل، اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

    گجرات( نمائندہ باغی ٹی وی)ٹرانسپورٹ یونین اے سی ایسوسی ایشن گجرات کے چیئرمین چوہدری حمید اللہ نے تمام باڈی کو تحلیل کر دیا 40دن بعد نئے الیکشن کروانے کا اعلان گزشتہ روز باقاعدہ طور پر ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں تمام اے سی یونین ٹرانسپورٹ کے ممبران نے شرکت کی اور چیئرمین کے فیصلے کی تائید کی کہ سابقہ تمام عہدیداروں کارکردگی کوئی تسلی بخش نہیں تمام ڈرائیوروں کے لیے کوئی خاص اقدامات نہ اٹھائے جا سکے ہیں لہذا تمام عہدے ختم کر دئیے گے ہیں نئے الیکشن کا شیڈول جاری کیا جائے گا جو چالیس دن بعد ہوں گے۔اجلاس میںاعجاز وڑائچ،امتیاز وڑائچ،چوہدری خاور،فیاض نت،ظفر وڑائچ امداد شاہ ودیگر معززین نے شرکت کیں۔

  • جہیز ایک لعنت ہے۔۔۔۔ سائرہ اشرف

    جہیز ایک لعنت ہے۔۔۔۔ سائرہ اشرف

    ” Dowry is a curs”

    Dower stands for :
    D: Donkeys
    O: Of the first order
    W: Who can’t stands on their feet
    R: Rely on their wives’ riches
    Y: Yet shameless

    ہم سب میں سے کوئی بھی فرد
    ایسا نہ ہو گا جس نے یہ جملہ سماعت نہ فرمایا ہو حتی کہ ہمار ے ہاں بچے بڑے ہر کوئی یہ بات طوطے کی طرح رٹے ہوئے ہیں کہ:

    "جہیز ایک لعنت ہے ”

    تو اس صورتحال کے باعث میں اپنے ذہن میں مچلنے والے سوالات کو الفاظ کی صورت میں پیش کر رہی ہوں۔

    1:جب ہم سب کو معلوم ہے کے جہیز ایک لعنت ہے تو کیوں ہم زمانہ قدیم سے اس لعنت کو سینے سے لگائے بخوبی سر انجام دئیے چلے آ رہے ہیں؟

    2:اس لعنت کے خلاف زبان سے دعوےکرتے ہیں اس کاعملی ثبوت اپنے گھر سے کیوں نہیں پیش کرتے ؟

    3:اگر جہیز لعنت ہی ہے تو کیوں ہم اپنی بیٹیوں کو اس لعنت کے ساتھ رخصت کرتےہیں ؟

    نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی جہیز کے بلند و بالا مطالبات کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
    کئی ایسی خبریں اخباروں کی زینت بنتی جن میں اکثر تذکرہ ہوتاہےکہ:
    باپ یا بھائی نے لڑکے والوں کی طرف سے کیا جانےوالا معیاری جہیز کا مطالبہ پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے خود کشی کر لی
    یا
    اکثر بچیاں اپنے جہیز کے لئے پیسے کماتے کماتے بوڑھی ہو گئیں تو کہیں بچیاں کم جہیز لانے کی وجہ سے سسرال میں طعنوں اور ظلم و تشدد کاشکار ہیں اس کے علاوہ اور بہت سے دلخراش واقعات پیش آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    Refuse dowry
    Defuse dowry deaths

    ایک طرف ایسا طبقہ جو اس بڑھتے ہوئے فتنے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہے جو کہ غرباء کاطبقہ ہے۔
    جبکہ اس کے بالکل برعکس ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فتنے کو دلی آمادگی سے سر انجام دیتا ہے۔
    اور یہ ہے ہمارا دولت مند یعنی امراء کا طبقہ یہ طبقہ ایسے معاملات میں اپنی دولت کی نمائش کے لئے پیسے کو پانی کی طرح بہاتا ہے۔
    اور جانے انجانے میں کسی غریب کی بیٹی کے دل میں موجود حسرتوں کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
    یاد رکھیں ایسا کرنے سے دلی سکون کا حصول نا ممکن ہے یہ اسراف اور تبزیر کے زمرے میں آتا ہے۔
    جس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔
    اگر اللّه رب ا لعزت نے آپ کو مال و اسباب سے نوازا ہے تو اسے خرچ بھی اس کی مرضی کے مطابق کریں۔

    اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے کریں
    جس میں دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی بھلائی ہے۔
    اور اس لعنت کا مطالبہ کرنے والوں سے گزارش کے دنیا مکافات عمل ہے اگر آپ کسی سے ایسامطالبہ کریں گے تو آئندہ آپ کو بھی ایسی صورتحال در پیش ہو سکتی ہے!!!

    ہم کسی سے کیوں کہیں؟؟؟؟
    کیوں نہ اس لعنت سے چھٹکارا پانے کے لئے عملی اقدام کا آغاز ہم اپنے گھر سے کریں!!!
    ہم عہد کریں کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اس لعنت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کا جائز حق یعنی وراثت میں اسلام کا متعین کردہ حصہ دے کر رخصت کریں گے۔
    ہم نہ یہ لعنت لینے والوں میں سے بنیں گے اور نہ دینے والوں میں سے

    ( ان شاءاللہ تعالی )

    (تحریر کے لئے اس موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ میری ایک دوست ہے
    جسے یہی مسئلہ درپیش ہے اور نکاح جیسی سنت کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی چلی جا رہی ہے ۔)

    Be a man say no to dowry!!!

  • نارنگ منڈی کے اساتذہ کا چاندباغ کالج کا دورہ

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) گورنمنٹ ہائی سکول نارنگ منڈی تحصیل مریدکے کے اساتذہ کرام کا راھنما تنظیم اساتذہ صوبہ پنجاب شیخ شہباز احمد کی قیادت میں چاند باغ کالج کا وزٹ۔

    چاند باغ کالج کی انتظامیہ وسیم بٹ صاحب ،علی خضر صاحب اور محمد صدیق صاحب نے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔اساتذہ کرام کو چاند باغ کالج کی کیمسٹری، فزکس، بیالوجی اور کمپیوٹر لیب، ریکارڈ این پراگریس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کا وزٹ کروایا ۔ انتظامیہ نے وفد کو بتایا کہ چاند باغ کالج پانچ جون سے انگلش لینگویج کا سیمیسٹر شروع کرنے جا رہا ہے جس کی کوئی فیس نہیں ھو گی۔ وفد نے چاند باغ کالج کے انتظام و انصرام کو بہت عمدہ پایا۔ اور تمام تر انتظامات کی تعریف کی اور انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی

  • لودھراں: سستے رمضان بازار کیوں ویران ہیں وجہ معلوم ہو گی ہے

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) رمضان بازار برائے نام سستے بازار ہیں جبکہ حقیقت برعکس ہے رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں صرف لیموں کی فی کلو قیمت 500 تک ہے جس میں رس بھی نہیں ہے باقی اشیاء بھی اسی طرح مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں عوام کو اس طرح دھوکہ دینا بند کیا جانا چاہئیے رمضان بازاروں میں مہنگائی کا ایک طوفان دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں عوام خریداری کے لئے بلکل نہیں جا رہی

  • موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے امیر جماعت اسلامی سیالکوٹ محمد اویس

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ضروریات کی اشیاء شہریو ں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے پاکستانی غریب عوام فاقہ کشی اورخودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے دفترجماعت اسلامی سمبڑیال میں یوتھ ونگ کے ماہانہ اجلاس کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا نیز ان کا مزید کہنا تھا کہ تبدیلی کانعرہ لگانے والے حکمرانوں نے سابقہ تما م حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جماعت اسلامی ملک پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک پاکستان کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اس موقع پر عاصم طالب گجر ، ثمران ظفر،عدنان مہر، عنصر چٹھہ ،عمران بھٹہ ،عثمان علی ، محمد عمر، رانا شاہدسمیت سٹی سمبڑیال کے تمام ذمہ داران بھی موجود تھے۔