Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    آپ کی عمر 2 سال سے 60 سال تک ہے۔ آپ بڑی پرفیکٹ زندگی جی رہے ہیں۔ یہ قاتل آپ کے اور میرے جسم میں بھی چھپا یا سویا ہو سکتا ہے۔ جو کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی جسے عام زبان میں پٹھوں کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسے ہمارے جینز میں چھپا ہوا قاتل سمجھا جاتا ہے۔ جو عمر کے کسی بھی حصے میں جاگ کر جسم کے چند حصوں یا پورے جسم میں تہس نہس مچا دیتا ہے۔ اور یہ قاتل ہستے کھیلتے زندگی کی بہاریں دیکھتے اپنے شکار کو موت کے منہ کے قریب لے جاتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی پر آج میں انشاء اللہ تفصیل سے بات کروں گا۔ اور اس قاتل کی چالوں و حملوں سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ تحریر پڑھنے کے لیے جو کر رہے ہیں پلیز اسے ابھی چھوڑ دیجیے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

    اس بیماری کی یوں تو 8 اقسام ہیں مگر تصویری پریزنٹیشن میں 6 اقسام ہیں۔ جو کہ عام ہیں۔ آپ نے تحریر پڑھتے ہوئے تصویر کو a سے شروع کرکے نیچے f کی طرف دیکھتے جانا ہے۔

    آئیے اس خاموش قاتل کے تمام طریقہ واردات پر باری باری بات کرتے ہیں۔

    اے۔ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی
    Duchene Muscular Dystrophy

    مسکولر ڈسٹرافی کے مریضوں میں یہ سب سے کامن قسم ہے۔ یہ ایک جنیٹک یا موروثی بیماری ہے۔ اور جو سب سے چھوٹی عمر میں ہوتی ہے وہ یہی ہے ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی۔ یہ ہمیشہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ماں اسکی کیرئیر ہوتی ہے۔ اور بیماری جب ظاہر ہوتی ہے تو پیدا ہونے والے لڑکوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

    اب اس میں ہوتا کیا ہے؟ بچہ بلکل ٹھیک پیدا ہوتا ہے۔ تمام مائل سٹون اپنی عمر کے باقی بچوں کی طرح پورے کرتا ہے۔ چلنا باتیں کرنا سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی عمر 5 سال ہوتی تو قاتل اندر سے جاگ کر بچے کے پاؤں کی ایڑھی زمین سے اٹھا دیتا ہے۔ اور اپنے شکار پر ہلا بولنے کی پہلی نشانی اسے پنجوں پر چلانا شروع کرتا ہے۔ چند ہی ماہ بعد بچہ اپنا چھاتی یعنی سینہ باہر نکال کر چلنا شروع ہوتا ہے۔ جیسے پہلوان سینہ تان کر چلتے ہیں۔ اندر چھپا ہوا قاتل ہی سینہ تان کر ایڑھیاں اٹھا کر للکار رہا ہوتا ہے میں آگیا ہوں آؤ اب میرے مقابلے میں۔

    والدین بچے کو ڈانٹ رہے ہوتے کہ یہ تم کیسے چل رہے ہو؟ ایڑھی نیچے لگاؤ سینہ پیچھے کرو۔ مگر بچہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور والدین اسے بچے کی کوئی عادت سمجھ کر اگنور کر رہے ہوتے۔ اور بزدل قاتل اپنا وار بچے کے پٹھوں پر تیز سے تیز کرتا جا رہا ہوتا۔

    پھر چند ماہ بعد کیا ہوتا ہے کہ بچہ پیراں بھار بیٹھا ہوا جب اٹھنے لگتا تو اس سے اٹھا ہی نہیں جاتا۔ پیچھے گر جاتا۔ یا اٹھے بھی تو گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا ہے۔ اور دن بدن ٹانگیں کمزور ہوتی جاتیں۔ بظاہر تو ٹانگیں ٹھیک ہونگی مگر اندر موجود مسلز کمزور ہو کر بڑی تیزی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔ کیونکہ والدین کو تو پتا ہی نہیں بچے کے اندر کونسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور دشمن اپنے وار معصوم پر دن رات کیے جا رہا۔

    اس گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے بیماری کی شناخت شروع ہوتی ہے۔ اسے گاور سائن کہتے ہیں۔ والدین اب جا کے بچے کو سیریس لیتے ہیں۔ بچے کی عمر 7 سے 8 سال ہو چکی ہوتی۔ یعنی 2 سے 3 سال مسلسل قاتل اپنا کام کرتا رہا اور والدین کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اب کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ پہچان لیتا کہ یہ تو مسکولر ڈسٹرافی ہے۔ اکثریت آبادی کی رسائی ماہر ڈاکٹروں تک نہیں ہو پاتی وہ کسی عطائی، مالشیے ہڈی جوڑ والے جراح کے پاس جاتے جو اپنے ٹوٹکے لگا کر قاتل کو اپنا شکار نگلنے میں اور وقت فراہم کر دیتے۔ جب تک بیماری کی مکمل تشخیص ہوتی بچہ موت کے منہ میں پہنچ چکا ہوتا۔

    بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہوا۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوا۔ اب کندھوں کے جوڑ کمزور ہونا شروع ہوئے۔ اور بازوؤں کے اوپری حصے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک بازو کو کندھے سے حرکت دینا بہت مشکل اور کئی کیسز میں بلکل ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں اور بازو مکمل یا 90 فیصد مفلوج ہو چکے ہوتے۔

    بچہ اب پانی نہیں پی سکتا۔ روٹی کا نوالہ نہیں توڑ سکتا۔ کنگھی نہیں کر سکتا۔ قمیض پہنتے ہوئے ہاتھ اوپر نہیں اٹھتا۔ یہ کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ اور کچھ بچوں میں دل کے پٹھے بھی کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ قاتل اب خون پمپ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی طرف اپنا وار کرتا ہے۔ اسے ہم کارڈیو مایو پیتھی کہتے ہیں۔ یہ اگر ہو جائے تو بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    یہ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار بچے 10 سال تک کسی طرح چل لیتے ہیں۔ پھر وہیل چیئر یا چار پائی پر آجاتے ہیں۔ اور دوبارہ کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکتے یا چل نہیں سکتے۔ یا کسی سہارے سے چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    خطرناک صورت حال کب بنتی ہے؟ بیماری نے حملہ کر دیا ہوا۔ اور بچے کو بخار ہوگیا۔ ابھی بیماری کا آغاز ہے اور بچے کو والدین لٹائے رکھتے ہیں۔ ساکت پڑے ہوئے بچے پر قاتل اپنا حملہ بہت تیز کر دیتا ہے اور مسلز بڑی تیزی سے ضائع ہونے لگتے۔ ان بچوں کو بخار میں ہر وقت کبھی بھی لیٹنے نہ دیں۔ پیراسیٹامول دے کر بچوں کو تھوڑا تھوڑا چلائیں۔ ایک دفعہ مسلز ضائع ہونے ٹوٹنے شروع ہوگئے آپ ان کو پھر روک نہیں سکتے۔ کمان سے تیر نکل جائے گا۔

    نیم حکیم یا عطائی یا ہمارے گھر کے ہی بڑھے بوڑھے سیانے کہتے ہیں کہ بچے کو ورزش کروائیں۔ اس سے پٹھوں میں جان آئے گی۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے جو والدین کرتے اور پٹھے جو پہلے ہی کمزور ہورہے ہوتے وہ تباہ ہوجاتے۔ اتنی ورزش کریں کہ جوڑ جڑ نہ جائیں۔ ان میں تھوڑی حرکت رہے اور کوئی بھی چیز اٹھائے بغیر باڈی ویٹ پر ہی معمولی ورزش کریں۔ بچے کو تھکنا نہیں چاہیے۔ ان بیماری میں بچوں کے پٹھے کاغذ کی طرح ہو چکے ہوتے وہ بڑی جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔

    ایک اور بلنڈر والدین یا ماجھے و نورے قسم پریکٹشنر ان بچوں کے ساتھ کیا مارتے ہیں۔ وہ یہ کہ بچہ جب ایڑھی اٹھاتا ہے تو وہ کسی عطائی، ہڈی جوڑ یا نئے نئے بنے آرتھوپیڈک یا جنرل سرجن کے پاس چلے جاتے۔ وہ اس کی وجہ سے بے خبر ایڑھی کو زمین پر لگانے کی کوشش کرتا۔ نہیں لگتی تو کئی ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی بچوں کے پاؤں کے آپریشن ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اب اس بچے کا آپریشن کرنے والے عطائی یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کا میرا بس چلے تو مرڈر کر دوں۔ والدین کو تو پتا ہی نہیں آپ لوگ ہی عقل کر لیا کریں۔ نہیں پتا کسی سے پوچھ ہی لو۔

    ایڑھی اٹھتی پتا کیوں ہے؟

    ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے سکڑ رہے ہوتے۔ اب جسم اپنے خود کار دفاعی نظام کے تحت ان پٹھوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود بخود پاؤں کی ایڑھی اٹھا کر ان پٹھوں کو Compensate کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کہ والدین اس بچے کو بچا لیں۔ اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ جب کسی بھی طرح ایڑھی زمین پر لگا دی جاتی تو پٹھے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتے۔

    پیٹ باہر نکل رہا ہوتا تو بیلٹ کبھی نہ لگائیں۔ اس سے پیرا سپائنل مسلز کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    ہم قاتل کے وار سے بچ کیسے سکتے ہیں؟

    اسکا پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ جو اسے بلکل ختم کر سکے۔ ہاں سٹیم سیل تھراپی شاید چند سالوں بعد اسکے علاج میں مددگار ہو مگر ابھی آج کے دن تک کوئی علاج نہیں ہے۔

    پاکستان میں ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار اکثریت بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث ٹین ایج (13 سے 19) میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع سے پتا چل جائے اور کوالٹی آف لائف بہتر کر دی جائے۔تو بچوں کی زندگی 30 سے 40 اور بہت کم کیسز میں 50 تک بھی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے ان کے لائف سٹائل اور اوور آل ماحول و سپورٹ سسٹم کو بدلنا ہوتا ہے۔ ان کو اٹھا کر چلانا نہیں ہوتا بلکہ وہیل چیئر پر ہی ان کو زندگی کا کوئی مقصد دینا ہوتا ہے۔ جو مقصد انکی عمر بڑھا دیتا ہے۔

    ایک بات میری یاد رکھیں کہ ہم اپنی بھی اور ان مسکولر ڈسٹرافی والے بچوں کی کوالٹی آف لائف تو بہتر کر سکتے ہیں مگر کوانٹٹی آف لائف نہیں بڑھا سکتے۔ یہ ایک موٹا پرنسپل یاد رکھیں۔

    مالش بلکل نہیں کرنی۔

    کوئی بریس کوئی سپیشل جوتا نہ پہنائیں۔

    کوئی سرجری نہیں کروانی۔

    بچوں کو بیکری کی تمام اشیاء، چاول، کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوسز، بلکل نہیں دینے۔

    بچوں کو بلکل بھی موٹا نہیں ہونے دینا۔

    جیسا ہی بچہ موٹا ہوا سمجھیں وہ زندگی سے گیا۔

    ان کو سکول بھیجنا ہے مگر جب تک آسانی سے جا سکیں۔

    پڑھائی اور امتحانوں کا سٹریس نہیں دینا۔

    خوش رکھنا ہے۔ ڈپریشن میں نہیں جانے دینا۔

    بہت زیادہ ڈاکٹر نہیں بدلنے۔ اس کی کوئی دوا نہیں ہے بس لائف سٹائل بدلنا ہوتا۔

    جتنی بار نئے نئے ڈاکٹروں کے پاس جائیں گے بچے میں سٹریس بڑھے گی کہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

    اس معذوری کو ڈے ون سے قبول کریں۔ اور بچے کو بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ آپکی زندگی اب وہیل چیئر کے ساتھ گزرنی ہے۔

    چلنے کا خواب معصوم آنکھوں کو نہ دیں جو پورا ہی نہیں ہونا۔ ادھورے یا پورے نہ ہو سکنے والے جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے خواب اکثر ہمیں بڑوں کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔یہ تو پھر معصوم بچے ہوتے۔

    خود نہیں افورڈ کر سکتے کسی سے درخواست کرکے زیور مال مویشی بیچ کر ان بچوں کو بجلی سے چلنے والی جاپانی پاور وہیل چیئر لے کر دیں۔ جو پانچ دس سال نکال بھی جائے۔

    بچوں کو وہ وہیل چیئر آپریٹ کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر کا لیول باہر گلی یا سڑک کے لیول سے بس 6 انچ یا 1 فٹ اونچا رکھیں۔ اور ریمپ بنائیں۔ جب جی چاہے بچہ باہر جائے گھر آئے۔ اسے ایک کمرے گھر یا چارپائی پر محدود نہ کریں۔

    کوشش کریں مسجد، مندر، چرچ، امام بارگاہ، گر دوارہ میں ریمپ بنوائیں۔ بچے کی وہیل چیئر کو مسجد میں بغیر کسی کے دھکا لگائے رسائی دیں۔ وضو کی جگہ سپیشل بنائیں کہ یہ بچہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہی وضو کر سکے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ہی مسجد کے اندر چلا جائے۔ عبادت کرے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو۔

    خدا سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کی لگن اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور روحانی طاقتیں بھی کوالٹی آف لائف کو بہتر کر دیں گی۔

    ان بچوں کو بولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔

    وائس اوور آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔

    نیوز کاسٹر بن سکتے ہیں۔

    وی لاگنگ کر سکتے ہیں۔

    ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی عام روٹین سے کافی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    ہر بار جب یہ ران کے پٹھوں پر زور دے کر اٹھتے ہیں۔۔تو وہ پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اٹھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی اونچی کر دیں۔ اٹھتے وقت بلکل زور نہ لگے۔

    شادی کی طرف نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بیماری کی شدت دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے۔

    ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کی میڈیکل تشخیص کے لیے سب سے کامن و عام ٹیسٹ ہے۔ cpk ۔ یہ ایک بلڈ ٹیسٹ ہے۔ جو کی مقدار ایورج سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نارمل سی پی کے 150 کی رینج میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ EMG ہو سکتا ہے۔ مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔

    بی۔ بیکر مسکولر ڈسٹرافی

    Becker’s Muscular Dystrophy

    ڈوشین 4 سے 5 سال میں ظاہر ہوتی۔ جبکہ بیکر 15 سے 19 سال تک ظاہر ہوتی ہے۔ ابتدائی علامتیں ڈوشین جیسی ہی ہونگی۔ اکثر بچوں میں ڈوشین کی طرح ایڑھی نہیں بھی اٹھتی۔ مگر پیٹ اور سینہ باہر کو نکلنے لگتا ہے۔ بیٹھ کر اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گر سکتا ہے۔ یا سٹیبل نہیں رہتا لڑ کھڑانے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں جان نہیں رہتی۔

    بی والی تصویر زرا دیکھیں۔ کندھے اور ہاتھ کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ بازو اوپر نہیں اٹھتے۔ علامتیں ڈوشین والی ہی ہیں مگر عمر کا فرق ہے۔ اس میں قاتل 4 سال میں جاگا اور یہاں 15 سے 19 سال تک چھپا رہا۔

    بیماری کے آغاز میں تشخیص ہو جائے تو یہ بچہ اگلے دس سال تک چل سکتا ہے۔ کہ اسے سپورٹ دی جائے۔ یہ چیز بھی ختم نہیں ہونی۔ بس ہم نے مریض کی کوالٹی آف لائف ہو بہتر کرنا اور لائف سٹائل کو مکمل بدلنا ہے۔ 30 سے 32 سال کی عمر تک ہر قسم کی سپورٹ کے باوجود یہ بچے بھی بلا آخر وہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔

    ان بچوں کے لیے بھی وہ سب احتیاطی تدابیر اور لائف سٹائل میں تبدیلیاں ہیں جو اوپر ڈوشین میں لکھی ہیں۔ موٹے نہ ہوں۔ بہت ورزش نہ کریں۔ خود کو تکلیف دے کر چلیں نہیں۔ علاج کے پیچھے شہر شہر بستی بستی ناں بھاگیں۔ بریس، بیلٹ نہ لگائیں۔ سرجری نہ کروائیں۔ ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    الیکٹرک ٹرائی سائیکل لیں جس پر جہاں مرضی جائیں۔ 150 ہزار کی اچھی الیکٹرک ٹرائی سائیکل آجاتی جو ڈوشین اور بیکر دونوں کے لیے بہترین ہے۔

    تین پہیوں والی موٹر سائیکل ان کے لیے نہیں ہے۔ اس سے گر سکتے ہیں۔ وہ پولیو والے افراد کے لیے ٹھیک ہے۔ ان کا اوپری دھڑ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا اوپری دھڑ بہت کمزور ہوتا۔ ہینڈل نہیں سنبھال سکتے۔

    اس میں ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر سی پی کے cpk زیادہ نہ ہو۔ اس میں صرف ای ایم جی کروا کے یا کلینکل کو رلیشن کرکے معلوم کر سکتے ہیں۔ یا مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔ تشخیص کے بعد لائف سٹائل کو بدلنا ہے علاج پر وقت ضائع نہیں کرنا۔ میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں۔

    سی۔ لمب گرڈل مسکولر ڈسٹرافی
    Limb Girdle Muscular Dystrophy

    اچھا یہ والی قسم ایسی ہے جو 2 سال سے لیکر 40 سال تک کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ علامات سب وہی ہونگی۔ اس میں جو مسلز کمزور ہونگے وہ
    hip and shoulder areas (limb-girdle area)
    پر ہونگے۔ علامات وہی ہونگی۔ احتیاط بھی سب وہی ہے۔

    مگر اس قسم میں بیماری کا حملہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے قاتل بلکل خاموش سویا ہوا ہے۔ آپ بڑی آئیڈیل و صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔

    ڈی۔ فیشیو سکیپولو ہیومرل ڈسٹرافی

    facioscapulohumeral muscular dystrophy

    یعنی چہرہ کندھا دونوں اس میں متاثر ہوتے ہیں۔ ڈی والی فوٹو دیکھیں۔ اس میں چہرے کی ساخت یا سائز ایک یا دونوں سائیڈوں سے سکڑ جاتا ہے۔ کندھے اور بازو بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی قسم 20 سال سے لیکر 50 سال تک کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔۔عموما چالیس کے بعد اس کا ایج آف آن سیٹ دیکھا گیا ہے۔
    اس میں عموماً ٹانگیں بہت کم انوالو ہوتی ہیں۔

    جس مرضی عمر میں سویا ہوا قاتل جاگ جائے احتیاط و لائف سٹائل سب وہی ہیں جو اوپر آپ پڑھ کے آئے۔

    ای۔ ڈسٹل مسکولر ڈسٹرافی

    Distal Muscular Dystrophy

    یہ بیماری بھی عمر کے کسی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ 40 سے 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں آپ فوٹو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹل پارٹس آف باڈی۔ یعنی سنٹر سے دور دراز کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ بازوں کے کہنیوں سے نچلے حصے اور ٹانگوں کے گھٹنے سے نچلے حصے۔

    اس میں بھی علامات اور باقی سب باتیں وہی ہونگی جو ڈوشین میں ہیں۔

    ایف۔ اکولو فرینجئیل مسکولر ڈسٹرافی

    Oculopharyngeal Muscular Dystrophy

    یہ بھی مسکولر ڈسٹرافی کی ایک رئیر فارم ہے۔ جو عموماً 40 سے 60 سال کی عمر میں اس سے متاثرہ مردوں و عورتوں دونوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس میں آنکھوں اور گلے کے مسلز کمزور ہونا شروع ہوتے۔ اور آنکھوں کی شیپ بدل دیتے۔ ہمارے بھنویں نیچے لٹک جاتے ہیں۔ اور گے کی اسکن بھی ڈی سیپ ہو جاتی ہے۔ اس مریض کو دیکھنے و کھانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ کوئی سچ ایز علاج نہیں ہے۔ بس لائف سٹائل بدلنا ہے۔

    اب ساری کہانی کا کرکس نکالوں تو دو باتیں کہوں گا۔

    1. لانگ لائف ری ہیبلی ٹیشن پراسس ہوگا۔ اسے لائف ٹائم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی ایک ہی اچھا ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ چن لیں۔ جس سے آن لائن ہی رابطے میں رہیں۔ اور زندگی گزرنے کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اس سے راہنمائی لیتے رہیں۔ ایڈوانس ممالک میں ایسے بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ سالانہ فیس لیتے ہیں۔ اور فون کال پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میں خود پرائیویٹلی یہ سروس فراہم کرتا ہوں۔

    ابھی میرے پاس دو بچے ہیں جن کے والدین کو میں بڑی جد و جہد کے بعد علاج کی نفسیات سے نکال کر ری ہیبلی ٹیشن میں لا چکا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا ڈائٹ پلان، تعلقات، تعلیم، جاب، لائف سٹائل، زندگی کے بڑے فیصلے سب کچھ ماہرین کی سپر ویژن میں ہوتا ہے۔

    آپ ایک دو بار مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔
    مجھے مل کر مشورہ کر سکتے ہیں۔ یہ سروس ساری عمر ساتھ چلنے والی کنڈیشنز مسکولر ڈسٹرافی، سیری برل پالسی اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لیے بلکل فری یے۔

    اور یہاں کیا ہوتا؟ جیڑھی رات قبر ویچ اے او باہر نئیں

    جنھے لایا گلیں میں اوہندے نال چلی

    جیہڑا رب بیماری لا سکدا اے او کٹ وی تے سکدا اے ( اور اسی لاحاصل امید کے چکر میں علاج کے پیچھے شہر شہر جا جا کر بچے کی باقی ماندہ صلاحیتوں پر اچھے بھلے سمجھدار والدین پانی پھیر دیتے ہیں)

    2. ان بچوں کے لیے گھر میں سکول کالج مسجد آفس ہر جگہ بدلاؤ کرنے ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی نہیں گزارنے دینی۔ جہاں بھی بچے کے ساتھ مسکولر ڈسٹرافی جڑ جائے۔ اس کے والدین نہیں کر سکتے تو کمیونٹی کے دیگر افراد مل کر اس بچے کی رسائی ہر ممکن جگہ تک یقینی بنائیں۔ پارک میں اس کی رسائی کے لیے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی پارک و گراؤنڈز کی راہداری اور گیٹ کھلا کرنے کا قانون طور پر پابند ہے۔ تمام بنک ریمپ بنانے کے پابند ہیں۔ مگر جیسے ریمپ بنکوں میں بنے ہوتے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ خانہ پری ہوتی یے وہ بس۔ پلازوں میں دفاتر میں ریمپس بنائے جائیں اور ان لوگوں کو وہیل چیئر سمیت ہر جگہ رسائی ملے۔

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔

  • ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم رئیر ڈی زیزز (Rare Disease) کی کیٹگری میں شامل ہے۔ کہ دنیا بھر میں یہ سپیشل کنڈیشن بہت کم ہوتی ہے۔ اسے ایک اور نام ایکرو سیفیلو سنڈیکٹلی ٹائپ 1

    acrocephalo syndactyly type 1

    بھی کہا جاتا یے۔ یہ craniosynostosis سنڈروم سے مشابہت بھی رکھتا ہے۔ اس سے متاثرہ بچے کی شکل اور ہاتھ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    اسے دانشورانہ پسماندگی (Intellectual disabilities) کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

    یہ کنڈیشن وراثت میں autosomal dominant ہے۔ یعنی والدین کو نہیں بھی ہوگا فیملی ہسٹری میں نہیں ہے تو بھی ہو سکتا ہے۔ ان بچوں کی مشترکہ خصوصیات میں

    آنکھیں بڑی بڑی باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں،

    اوپری جبڑا ٹھیک سے نہ بنا ہونے کی وجہ سے دانت ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔

    کئی کیسز میں ایسے ہی نیچے والا جبڑا بھی ہوتا ہے۔

    ناک طوطے کی چونچ کی طرح اوپر اٹھی ہوئی گول مٹول سی ہوتی اسے Beaked Nose کہا جاتا ہے۔ رنگ عموماً سفید و سرخ ہوتا ہے۔

    اوور آل چہرہ درمیان سے نیچے بیٹھا ہوا چپٹا سا ہوتا ہے۔

    کھوپڑی نارمل شیپ سے مختلف ہوسکتی عموماً کون کی شکل ہوتی ہے۔ ڈاکٹری زبان میں turribrachycephaly
    کہا جاتا ہے۔ کھوپڑی بہت بڑی یا بہت چھوٹی یا ٹیڑھی میڑھی سی کہیں سے اونچی کہیں سے نیچی ہو سکتی ہے۔

    سنڈیکٹلی (syndactyly) کیا ہے؟

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ایک کنڈیشن اور ہے جو ایپرٹ سنڈروم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ اسے سنڈیکٹلی کہا جاتا ہے۔ ایپرٹ سنڈروم اور سنڈیکٹلی 99 فیصد کیسز میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

    اس میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی دو دو یا تین تین انگلیاں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ نوے فیصد رنگ فنگر اور ساتھ والی انگلی جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ شہادت انگلی اور چھنگلیا جسے پنجابی میں چیچی کہتے الگ ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا بھی آزاد ہوتا ہے۔ مگر 5 فیصد کیسز میں چھنگلیا کو چھوڑ کر تینوں انگلیاں جڑی ہوتی ہیں۔ اور پاقی 5 فیصد میں چاروں انگلیاں ہی جڑیں ہوتی ایک بڑی سی انگلی بنی ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا الگ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ آگے چل کر دیکھتے ہیں۔

    آبادی میں کتنے فیصد ایپرٹ سنڈروم ہیں؟

    مختلف سٹڈیز بتاتی ہیں کہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچوں کی پیدائش کی ریشو ہر 65 ہزار میں سے ایک بچہ ہے یعنی 2 لاکھ میں سے 3 بچے ایپرٹ سنڈروم کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی ریشو کا حساب کیا جائے تو 22 کروڑ میں سے 3 ہزار سے 32 سو کے آس پاس لوگ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں National Organization for Rare Disorders (NORD) کے مطابق ہر 165،000 سے 200،000 بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وہاں کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق 65 ہزار سے 88 ہزار بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    فیملی ہسٹری کے بغیر بھی یہ سنڈروم بچے میں آ سکتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم ہو تو 50 فیصد چانسز ہوتے ہیں بچے میں ایپرٹ سنڈروم منتقل ہوگا۔ اسی لیے انکی شادیوں کو سپورٹ نہیں کیا جاتا۔

    یہ ایک جینیٹک کنڈیشن ہے۔ جیسے کسی سافٹ ویئر یا موبائل ایپ کی کوڈنگ ہوتی ہے ناں؟ بالکل اسی طرح ہمارا وجود جب پانی کا ایک گندہ قطرہ ہوتا ہے۔ جو ماں کے رحم میں بیضے سے ملاپ کرتا ہے۔ تو خدا کی ذات اس سپرم اور بیضے کے ملنے بننے والے زائیگوٹ میں ایک سسٹیمیٹک کوڈنگ کرتی ہے۔ جسے ہم DNA کے نام سے جانتے ہیں۔

    ڈی این اے میں آدھی جنیٹک انفارمیشن ماں کی طرف سے اور آدھی باپ کے جینز سے آتی ہے۔ ڈی این اے ایک کوڈنگ سسٹم ہے جو ہماری ازل سے ابد تک کی ساری انفارمیشن ہمارے مرنے کے ہزاروں لاکھوں سال بعد تک بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اور جینز اسکے مزید پارٹ ہیں۔ جینز پانی کے اس قطرے سے ہماری شکل عقل رنگ روپ قد کاٹھ جسامت بنانے میں ڈی این اے میں محفوظ کوڈنگ پر عمل کرتے ہیں۔

    پانی سے خون اور پھر گوشت کا لوتھڑا بننے کے دوران جینز میں کئی تبدیلیاں اور تغیرات آتے ہیں۔ ڈی این اے نہیں بدلتا وہ وہی رہتا ہے۔ اب کونسے جین میں میوٹیشن mutation ہوئی ہے؟ وہ طے کرتی ہے کہ مسئلہ کہاں ہوگا؟ اگر سب جینز بالکل ٹھیک رہیں تو ہم بغیر کسی جسمانی عارضہ کے پیدا ہوتے ہیں۔

    ایپرٹ سنڈروم میں
    fibroblast growth factor receptors 2 (FGFR2)

    نامی جین میں کوئی تبدیلی یا خرابی واقع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ جینز پروٹین بناتے ہیں اور وہ پروٹین آگے ہڈیوں اور اسکن کے سیلز بناتی ہے۔ یہ والا FGFR2 جین ہڈیوں کی مجموعی ڈیویلپمنٹ کے سگنل دینے کا کام کرتا ہے۔ یعنی یہ جین ہی ہماری ہڈیاں بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اب اس میں خرابی کے باعث پروٹین سے اگلے مرحلے میں ہڈیاں بننے کے عمل میں ہمارے ڈھانچے کو ملنے والے سگنل اپنے نارمل دورانیے سے لمبے عرصے تک ملتے رہتے ہیں۔ تو کھوپڑی کی ہڈیوں کو یہ جین وقت سے پہلے ہی بند کر دیتا ہے۔

    اور اوپر ریشے چڑھا دیتا ہے۔ یہ عمل نارمل گروتھ پیٹرن میں چند سال کی عمر میں ہونا تھا۔ جو ماں کے پیٹ میں ہی ہو گیا۔ اب کھوپڑی بڑی ہونے لگتی ہے۔ تو مسلز کے گچھے اسے بڑھنے نہیں دیتے روکتے ہیں۔ ان مسلز کی انفارمیشن کے مطابق برین مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوا نہیں ہوتا۔ اور کھوپڑی ابنارمل طریقے سے بڑی ہونا شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے اسے موقع ملتا ہے بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ کئی بچوں کی کھوپڑی ڈیمج ہوجاتی ہے۔ ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں موجود ہڈیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ اور جسم کی باقی ہڈیوں میں بھی کسی حد تک کوئی بگاڑ آ سکتا ہے۔

    اسی جین FGFR2 میں خرابی کی وجہ سے چند اور منسلکہ ڈس آرڈر بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ

    Pfeiffer syndrome
    Crouzon syndrome
    Jackson-Weiss syndrome

    ایپرٹ سنڈروم مردوں اور عورتوں میں برابر پایا جاتا ہے۔

    تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

    ایک بات یاد رکھیں بیسویں ہفتے میں حاملہ ماں کا الٹرا ساؤنڈ کسی میل ریڈیالوجسٹ سے کلر ڈاپلر ٹو ڈی یا تھری ڈی کے ساتھ ضرور کروائیں۔ گائنا کالوجسٹ کو الٹرا ساؤنڈ کا اتنا علم نہیں ہوتا۔ جتنا ایک ریڈیالوجسٹ کو۔ اور میل کی معاملہ فہمی و ایسے سکینز کی تشخیص فی میل سے ہر معاملے میں کچھ بہتر ہی ہوتی ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے آپ اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ حمل کے چھٹے ماہ میں ڈھانچے کا سکین کرنے سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم ہے یا نہیں۔ کوئی اور بھی سپیشلٹی ہو تو ڈاکٹر بتا دیتے ہیں۔ کھوپڑی ٹھیک نہ بنی ہو تو نظر آ رہی ہوتی۔ یا پیدا ہونے پر ہی معلوم ہوجاتا کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہے۔ پیدائش کے بعد سی ٹی سکین سے ہڈیوں میں خرابی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ایورج عمر کتنی ہو سکتی؟

    عموماً ایپرٹ سنڈروم کا شکار بچے باقی مقامی لائف سپین کے مطابق عمر گزارتے ہیں۔ ایورج عمر اتنی ہی ہوگی جتنی انکے باقی بہن بھائیوں کی۔ البتہ دل کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ الگ بات ہے۔

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچے کو مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    مسائل بہت زیادہ ہیں جو ساری عمر در پیش رہ سکتے ہیں۔ والدین یا سرپرست کو اس بات کو دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بچہ ساری عمر سپیشل اٹینشن اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے زیر سایہ ہی رہے گا۔

    سماعت کا جزوی یا کلی طور پر نہ ہونا
    بولنے میں دشواری ہونا
    شدید ایکنی Acne ہونا جس سے پورے جسم چہرے گردن پر دانے اور پمپل بن جانا
    بہت زیادہ پسینہ آنا
    گردن میں سپائنل بون کا جڑا ہوا ہونا جو قد کو بڑھنے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے
    آئلی سکن ہونا
    پلکیں اور بھنویں بہت اکثر کم یا نہ ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں شدید تاخیر ہونا
    تالو کا کٹا ہوا ہونا یعنی Cleft palate
    آئے روز کانوں کا انفیکشن ہونا۔
    معمولی سے لے کر درمیانے لیول کی دانشورانہ پسماندگی intellectual disabilities ہونا۔

    علاج کیا ہے؟

    ہر بچے کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ عمر کے ابتدائی دو سالوں میں سرجری کرکے برین کو بڑھنے سے روکنے والے مسلز کو کافی حد تک ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کی سرجری کرکے جبڑوں اور چہرے کی دوسری ہڈیوں میں موجود خلا یا بگاڑ کو بھی درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چیک اپ ساری عمر جاری رہیں گے یہ کنڈیشن بلکل ٹھیک کبھی نہیں ہوگی۔ جن چیزوں میں بہتری لائی جا سکتی ان میں

    بصارت کے مسائل کا بہتر ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں تاخیر کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے
    دانتوں کے ابنارمل پیٹرن کو درست کیا جا سکتا ہے

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    دانشورانہ پسماندگی نہ ہو یا ذہانت کم ہو تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بچے نارمل یا سپیشل ایجوکیشن سیٹ اپ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    بلکل کر سکتے ہیں۔ مگر انکی شادیاں دنیا بھر میں کم ہی ہو پاتی ہیں۔ اگر شادی کریں تو کوشش کریں بچے نہ پیدا کریں۔۔

    مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس

  • مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام وزن سے بھی کم ہو اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی کے مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایسٹرائیڈ بیلٹ سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔

    ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو یہ مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔

    اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔

    مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔

    مریخ تک اپ تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر انکان کے ساتھ بتو سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔

    مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟

    گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے جے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان می کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرے داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔

  • کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    ہم میں سے اکثر کے پاس شادی کے لیے maximum پانچ آپشن ہوتے ہیں۔ اماں کی طرف سے خالہ یا ماموں کی بیٹی یا بیٹا۔ کہ بیٹا ان میں سے ایک چن لو یا بچپن میں ہی سوچ لیا جاتا۔

    اگر ابا کی سائیڈ پر بات کریں تو باقی تین آپشن چچا تایا اور پھوپھی کی بیٹی یا بیٹا کی آپشن آتی ہے۔

    ہم اور ہمارے والدین بچپن سے ان پانچ آپشنز میں اپنا ذہن سیٹ کرتے ہیں کبھی ہمارا بھی ہوجاتا اور نا بھی ہو تو بچوں کی رائے کی کم ہی پرواہ کی جاتی بنا معیار دیکھے۔ اور مرضی پوچھے رشتہ کر دیا جاتا ہے۔ کہ اپنا ہے مار کے بھی پھینکے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا اکثر اپنے ہی مار کر الٹا لٹکا دیتے ہیں وہ بھی دھوپ میں۔ چھاؤں میں مار کر پھینکنے والی بات پرانی ہوئی اب۔

    اکثریت میں آج کل قریبی رشتے داروں میں بغض انا نفرت حسد پایا جاتا۔ کئی والدین جانتے ہوتے رشتہ داروں کو اور رشتہ نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے مگر بچے ضد کر لیتے۔ میرے پائیو تے پینو باز آجاؤ ہجے وی ٹیم جے۔ یقین کرو بڑیاں کڑیاں تے بڑے منڈے۔ اک توں اک ودھ کے سوہنا جوڑ اللہ بنائے گا ان شاءاللہ۔ خود کو کسی شخص کا غلام نہ کرو۔ اور کزن کا تو بلکل بھی نہیں۔ پیار وی دوجی واری ہو جائے دا چھڈ دیو کزن دی جان۔

    مگر شادی کے بعد وہی پچھلی نسل کی چپقلش کے طعنے نیو بیاہتا بچے سنتے ہیں۔ انکے لیے شادی خوشی نہیں والدین کی ماضی کی لڑائیوں و رنجشوں کی تلافی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لڑکی کو عموما یہ طعنہ دیا جاتا ہم جانتے ہیں تمہاری ماں کیسی تھی تمہارا باپ کیسا تھا۔ وہ اپنے آپ میں ہی مر جاتی ہے کہ انہی والدین نے اسکی مرضی کے خلاف رشتہ کیا اور یہ لوگ کیا صلہ دے رہے۔ وہ والدین کو بھی کچھ نہیں بتاتی۔ بتا دے تو کہیں طلاق واقع ہوجاتی اور سارا خاندان ہی بکھر جاتا پرانے رشتے بھی تا مرگ ختم کر دیے جاتے۔ نہ بتائے تو والدین کی عزت کی خاطر نمانی اپنا آپ مار کے خود گھٹ گھٹ کر مرتی رہتی۔ اور سب اچھا ہے اپنے گھر بتاتی۔

    دوسری بڑی اہم بات کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں وہ مٹھاس والا رشتہ کم ہی جڑ پاتا ہے۔ جو ایک مکمل اجنبی فرد سے نکاح ہونے پر بنتا ہے۔ کہ چند سال تو دونوں کا چاء (خوشی) ہی نہیں ختم ہوتی۔ جھجھک رکھ رکھاؤ اور ایک دوسرے کو سمجھنے تک دونوں ایڈجسٹ ہو چکے ہوتے۔

    ہم پاکستانی اور خصوصا پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں میں پہلی ترجیح کزن کو دیتے ہیں۔ لندن میں مستقل مقیم پاکستانی بھی یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ اور وہاں مستقل مقیم پاکستانی کمیونٹی میں سپیشل بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر کزن میں کوئی جوڑ بس عمر کی وجہ سے نہ ہو تو پھر اپنی ذات برادری میں یہاں کر لیتے ہیں۔

    میری تعلیم اور شعبہ خصوصی بچوں و افراد سے متعلق ہے۔ معذوری کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایک بڑی وجہ فرسٹ کزن بھی میرج ہے۔ میں یہ بات کسی مفروضے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ ریسرچ اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق معذوری کی وجہ میں کزن میرج کا رول 25 سے 50 فیصد تک ہے۔ آپ اپنی فیملی یا آس پاس سپیشل بچوں کے والدین کا شادی سے پہلے رشتہ دیکھ لیں اکثریت میں کزن ہونگے۔ پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ سپیشل ہیں۔ جو ہماری آبادی کا 8 فیصد ہیں۔

    کزن میرج کے نتیجے میں معذوری واضح نہ بھی ہو کزن میرج سے ہونے والی اولاد جسمانی و ذہنی لحاظ سے ان بچوں سے بہت ذیادہ کمزور و کند ذہن ہوگی جنکے والدین کزن نہیں ہیں۔

    یہ بات ریسرچ سے ثابت شدہ ہے آپ اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے پاکستان میں سے کتنے سائنسدان بنے؟ آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی کتنے ہیں؟ اولمپکس چیمپیئن کتنے ہیں؟ ایتھلیٹ کتنے ہیں؟ فٹ بالرز کتنے ہیں؟ کس فیلڈ میں پاکستان کے افراد دنیا کو Compete کر رہے ہیں؟

    گنے جائیں تو چند ایک ہی ہونگے باقی سب ایورج ہیں۔ عقل کے پورے ہیں۔ کزن سے شادی ہوئی بچے بیوی اور والدین پالے اور ایورج سی زندگی گزار کر مر گئے۔

    کہ ذہنی اسطاعت ہی اتنی ہے اس سے آگے کوئی سوچ نہیں نہ ذہانت اس بات کی اجازت دیتی کہ کوئی تخلیقی تعمیری یا منفرد کام کیا جا سکے۔ نہ ہم خود سے کچھ بہتر لوگوں میں رشتہ کرتے کہ ہماری اگلی نسل ہی بدل سکے۔ جیہو جئے اسی آپ اوہو جئے ساڈے ساک۔

    میں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کزن میرج پر حالیہ لٹریچر پڑھا تو معلوم ہوا یورپی ممالک میں سے 29 میں فرسٹ کزن میرج غیر قانونی ہے۔ آپ شادی فرسٹ کزن سے کر ہی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس پر قانون بنا چکے ہیں۔ امریکہ کی بیشتر states میں کزن میرج prohibited ہے۔ سٹیٹ 24 میں میرے ایک دوست رہتے ہیں وہ کہتے یہاں بھی کزن میرج پر پابندی ہے۔

    یہودی جو پوری دنیا کی معیشت کو قابو کرتے جا رہے کزن میرج ہر گز نہیں کرتے۔ شادی سے پہلے بیسوں قسم کے ٹیسٹ کرواتے ہیں کہ آنے والی نسل نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی اعتبار سے بھی صحت مند ہو۔ اور یہاں خیر سے ذہنی صحت و ذہانت کا کوئی شعور ہی نہیں۔

    آپ پاکستان میں مقیم مسیحی کمیونٹی کے شادی سسٹم کو ہی دیکھ لیں وہ سب سے پہلے اپنی ذات برادری میں کبھی بھی شادی نہیں کرتے وہ اس بات کو اوروں سے بھی پوچھتے ہیں کہ اسکی ذات کیا ہے اپنی ذات نکل آئے تو شادی نہیں کرنی۔ مثلا مٹو کی شادی مٹو اور غوری مسیح غوری برادری میں کبھی شادی نہیں کرتا۔

    وہ اپنی چچا اور تایا ذاد سے بھی کبھی شادی نہیں کرتے۔ ماموں خالہ اور پھوپھی ذاد بہن سے تب کرتے ہیں جب اور کہیں کوئی آپشن مناسب نہ مل رہی ہو۔ وہ جس بھی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بہت اچھا کرتے ہیں۔

    کزن میرج حرام نہیں ہے آپ کریں مگر سب کچھ دیکھ سمجھ کر۔ بنیادی ٹیسٹ کروا کر جو ان شاءاللہ کل لکھوں گا۔ مگر خود کو صرف کزن تک ہی محدود نہ رکھیں۔

    کوئی حکم یا تاکید قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی نہیں کہ آپ صرف کزن سے ہی نکاح کریں۔ کوئی ایک بھی سند کے اعتبار سے صحیح حدیث کزن میرج کو سپورٹ نہیں کرتی کہ جیسے کچھ مذہبی پیشوائی والے خاندان ہر صورت کزن سے ہی شادی کرتے ہیں کہ ہم باہر کرتے ہی نہیں۔ ایک اور بڑی بونگی سی بات ہوتی کہ ہم غیر ذات سے لڑکی لے لیتے ہیں اپنی دیتے نہیں۔

    کیوں پائی تواڈی کڑی بوہتے لعلاں آلی اے تے دوجیاں دی ایڈی وادھو اے؟ لڑکیو ایسے دوہرے معیار والے لوگوں میں کبھی بھی شادی نہ کرنا۔ ایسا کہنے والو کس اصول کے ساتھ یہ بات کرتے ہو ویسے؟ ایسا کہنا یا کرنا صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں کسی کی بہن بیٹی باہر سے لے سکتے ہو تو اپنی بہن بیٹی بھی باہر دو۔ پلیز اس جہالت سے نکالو خود کو۔ اسلام سے پہلے مذاہب میں کزن سے شادی حرام قرار دی جاتی تھی جو اللہ نے قرآن میں حکم دے کر حلال کر دی کہ کر سکتے ہیں شادی کزن سے حرام نہیں ہے۔ مگر باقی آپشنز کو حرام نہ کریں پلیز فیملی ہسٹری پہلے دیکھیں۔

    میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ فرسٹ کزن میرج سے پیدا ہونے والے بچے کو معذوری کا خطرہ اس صورت میں اور ذیادہ ہوجاتا ہے جب دونوں یا والدین میں سے کسی ایک کی فیملی میں پہلے بھی کوئی پیدائشی معذوری موجود ہو۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں سائنس سے ثابت شدہ بات ہے۔ بچے معذور پیدا نہ بھی ہوں وہ کسی قسم کی جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ضرور ہونگے۔ انکی اگلی نسل مزید کمزور ہوگی۔ اور تیسری سے چوتھی پیڑھی میں بچے معذور ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے سب بچوں میں ایک ہی معذوری ہو۔ کوئی سپیشل ایجوکیشن سکول وزٹ تو کریں آپ کو پتا چلے میں کیا کہہ رہا ہوں۔

    ہمارے سپیشل بچوں کے سکولوں میں ہم سپیشل بچوں کے اساتذہ و دیگر معاون عملہ تقریبا ہر سکول میں ہر معذوری کے دو تین اور کبھی 4 ایک ہی معذوری کا شکار بہن بھائی دیکھتے ہیں۔ انکے والدین کا سوچ کر ان سے مل کر دل دکھ سے پسیج جاتا ہے۔ کل ایک داخلہ آیا چار بہن بھائی سماعت و گویائی سے مکمل محروم ہیں۔ ان کے والدین مامے پھپھی کے بچے تھے۔ سائیکالوجسٹ آپی یا انکے والدین سے پوچھنے پر پتا چلتا ہے انکے والدین ذیادہ تر کزن ہی ہوتے ہیں انہیں یہ بتانے والا ہی کوئی نہیں ہوتا کہ آپ کزن ہیں فیملی ہسٹری میں معذوری ہے ایک بچہ سپیشل پیدا بھی ہوگیا اب آگے بچہ پیدا کرنے کا رسک نہ لیں یا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

    خون گروپ جسے RH فیکٹر کہا جاتا کہ ماں اور ماں کے پیٹ میں بچے کا خون گروپ مختلف ہوجانا جیسے ماں کا رو مثبت ہے اور بچے کا منفی تو یہ بھی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    معذوری کی ایک اور بڑی وجہ پیدائش کے وقت دائی یا کسی ناتجربہ کار ڈاکٹر کی miss handling ہوتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پیدائش کا دورانیہ لمبا ہوجانا بچہ ہاتھ سے چھوٹ کر گر جانا سر پر ذیادہ دباو آجانا وغیرہ تمام عمر کی معذوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

    شادی کے بعد حاملہ دلہن کو خاوند کی عدم توجہ یا بن نا آنا، ساس، نند، جٹھانی یا سسرال میں جائنٹ فیملی کے اندر کسی کی طرف سے بھی مسلسل پریشان کرنا اس معصوم کو ذہنی اذیت سے دوچار رکھنا اسے اچھی غذا نہ فراہم کرنا بھی پیدا ہونے والے بچے کی معذوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

    ایک حاملہ لڑکی کو اگر خوش رکھا جائے اسے مکمل غذا مہیا کی جائے تو نیا مہمان صحت مند و انشاء اللہ بنا کسی کمی و معذوری کے اس دنیا میں آئے گا۔

    فیملی میں پہلے ہی پیدائشی معذوری ہونے پر لوگوں کو کزن میرج سے منع کریں انہیں کہیں وہ کسی اچھے ڈاکٹر یا قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں جا کر خاتون ماہر نفسیات سے مشورہ کر لیں ان سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کتنے بچے کزن میرج کی پیدائش ہیں۔ شاید وہ اس طرح ہی اس سے باز آجائیں۔ کزن میرج ایک دو جنریشن میں ہوگئی اب اسکی جان چھوڑ دیں آگے نسل در نسل نہ اسے چلاتے جائیں۔

  • ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارہ دراصل ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کے بنے ہوتے ہیں۔ ایک عمومی ستارے میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ملکر ہیلیئم کا ایک ایٹم بناتے ہیں اور اس عمل کو فیوژن کہتے ہیں۔ اس عمل کے تحت کچھ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ توانائی روشنی اور تابکاری کی صورت ستاروں سے نکلتی ہے۔ سو ستارے دراصل روشن ہوتے ہیں۔ اُنکی اپنی روشنی ہوتی ہے جو یہ فیوژن کے عمل سے پیدا کرتے ہیں۔

    سورج ایک ستارہ ہے۔ کائنات میں اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں سورج سے لاکھوں گنا بڑے ستارے بھی موجود ہیں۔

    سیارہ کیا ہوتا ہے؟ سیارے دراصل وہ فلکی اجسام ہیں جو کروی ہوتے ہیں اور عموماً یہ کسی ستارے کے گرد گھومتے ہیں۔مثال کے طور پر ہماری زمین جو سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاروں کی اپنی روشنی نہیں ہوتی کیونکہ ان میں ستاروں کی طرح فیوژن کا عمل نہیں ہوتا۔ سیارے اپنے ستارے جنکے گرد وہ گھومتے ہیں، کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ سیارے چٹانی یا گیس کے بنے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین یا مریخ جو چٹانی سیارے ہیں یا مشتری اور زحل جو گیس جائنٹس ہیں۔

    نظامِ شمسی ایک سٹار سسٹم ہے جسکے مرکز میں سورج جیسا ستارہ موجود ہے اور اسکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔ کائنات میں کئی ایسے سٹار سسٹم ہیں جنکے مرکز میں ایک ستارہ ہے اور انکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔

  • معجزات  کا سال  — فرقان قریشی

    معجزات کا سال — فرقان قریشی

    annus mirabilis، یہ نام ایک مخصوص سال کو دیا گیا تھا ، سنہ 1905ء کے سال کو اور یہ نام دینے والی کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ دو سو سال سے لگاتار چھپنے والا ایک جرمن سائنس میگزین annalen der physik تھا ۔

    لیکن اس میگزین نے 1905ء کو معجزات کے سال کا نام کیوں دیا ؟

    کیوں کہ اس سال اس میگزین کے اندر آئین سٹائن نے اپنے چار ریسرچ پیپرز شائع کیے تھے جن میں سے ایک پیپر آج کے دن شائع ہوا تھا یعنی 21 نومبر 1905ء کو ، آئن سٹائن کا وہ پیپر جس میں اس نے E= Mc2 کی تھیوری پیش کی تھی ۔

    یہ وہ تھیوری ہے ، وہ equation ہے جس کی شکل سے آج دنیا کا تقریباً ہر شخص واقف ہے چاہے وہ اس کا مطلب جانتا ہے یا نہیں جانتا ، سائنس کی شاید سب سے مشہور تھیوری جس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    انفیکٹ وہ اوریجنل میگزینز جن میں یہ ریسرچ پیپر شائع ہوا تھا ان میں سے آج صرف تین میگزینز موجود ہیں جن میں سے ایک میگزین پچھلے سال ایک auction میں بارہ لاکھ ڈالرز کا بکا تھا ۔ لیکن اس تھیوری نے دنیا کو کیسے بدل دیا ؟

    کیوں کہ یہ وہ تھیوری ہے جس پر ایٹم بنا ہے ، یہ تصویر ٹاسک فورس ون کی ہے ۔

    امیرکن نیوی کی پہلی نیوکلیئر پاورڈ یونٹ جو دنیا کے سمندروں میں پینسٹھ دن تک گھومتی رہی تھی اور 1964ء میں کراچی بھی آئی تھی ، اس کے ڈیک پر E=Mc2 لکھا آپ کو صاف نظر آ ئے گا ۔

    اب یہاں تک تو ایک ایوریج انسان کا نالج ہوتا ہی ہے لیکن اس کے بعد کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں ہیں جو عموماً لوگ نہیں جانتے اور انہی دلچسپ باتوں میں سے ایک بات اس تھیوری پر ایٹم بم بنانے والے شخص dr. robert oppenheimer کی شخصیت ہے ۔

    ایک جینئس یہودی جس کا ہر چیز میں انٹرسٹ تھا ، اسے مشکل کام پسند تھے اور نیوکلیئر فزکس یا ایٹم بم بنانے جیسے کام اسے آسان لگتے تھے لہٰذا اسکی دلچسپی ان علوم میں ہو گئی جو عام لوگوں کے لیے نہیں ہوتے ، دوسرے الفاظ میں ’’مخفی علوم‘‘ ۔

    اس نے سنسکرت زبان سیکھی اور اوریجنل سنسکرت میں ہندو ٹیکسٹ یعنی ’’بھگود گیتا‘‘ اور ’’اوپانیشد‘‘ کو سٹڈی کیا۔ اس کے دوست اور کولیگ isidor rabi نے ایک مرتبہ dr. oppenheimer کے متعلق کہا تھا کہ …

    ’’وہ فزکس اور سائنس کے لیے بہت over educated ہے ، اسے سائنس کو سمجھنا بہت آسان لگتا ہے اس لیے اسے مذہب جیسی پراسرار سٹڈیز میں زیادہ دلچسپی ہو گئی ۔‘‘

    لیکن پھر بھی اپنے جینئس دماغ کی وجہ سے اوپن ہائمر امیرکہ کے لیے ایٹم بم بنانے والے پراجیکٹ یعنی the manhatten project کا ڈائریکٹر تھا اور اسی شخص نے بیسکلی ایٹم بم ڈیزائن کیا تھا ۔

    لیکن جو چند باتیں بہت دلچسپ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ oppenheimer نے ایٹم بم بنانے کے پراجیکٹ کی تقریباً ہر چیز کو ایک مذہبی رنگ دیا ہوا تھا مثلاً جس جگہ ایٹم بم نے ٹیسٹ ہونا تھا ، اس سائٹ کو اس نے trinity کا نام دیا ۔

    اور اس نے اپنی یہ انسپریشن 1633ء میں پبلش ہوئی انیس نظموں کے مجموعے میں سے ایک نظم batter my heart, three person’d god میں سے لی تھی ، جس میں خدا سے ڈائریکٹ بات کی جا رہی ہے ، ایک طرح کی دعا جس میں شدید قسم کی جنسی اور ملٹری superiority کی دعا مانگی گئی ہے ۔

    لیکن ایک اور بہت دلچسپ بات کہ اس نظم کے رائیٹر نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ایک بہت خاص پورٹریٹ بنوایا تھا ۔ ایک ایسا پورٹریٹ جس میں اس نے اپنے آپ کو کفن میں لپٹا دکھایا ہے کیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جس دن دنیا پر سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور اس دن میں اس کفن کے اندر لپٹا اٹھوں گا ۔

    اور جس وقت dr. oppenheimer نے انسانی تاریخ کا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جسے the trinity test کہتے ہیں ، اس وقت دھماکے کو دیکھتے ہوئے اس نے بھگود گیتا کی ایک لائن پڑھی تھی ۔

    ’’اگر آسمان میں ہزاروں سورج ایک ساتھ چمکیں ، تو وہ خدا کو دیکھنے جیسا ہو گا … میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    بعد میں اس نے ٹی وی پر یہ بات ایک بار پھر کہی تھی کہ …

    جب ہم لوگ اس دھماکے کو ہوتا دیکھ رہے تھے تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب دنیا بدلنے والی ہے … کچھ لوگ ہنس رہے تھے ، کچھ رو رہے تھے لیکن زیادہ تر لوگ خاموش تھے … دھماکے کے وقت وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہے تھے ۔

    لیکن dr. oppenheimer نے اس بھیانک دھماکے کو دیکھتے ہوئے گیتا کی یہی لائن کیوں پڑھی ؟

    کیوں کہ بھگود گیتا میں اس لائن کا context بہت عجیب ہے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ، جہاں ایک بہت بڑی جنگ یا جنگ عظیم چل رہی ہے یعنی مہابھارت …

    اور وشنو ، ارجن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ شروع کرے اور اس وقت وشنو اپنے آپ کو ایک خدا کے طور پر ڈکلیئر کر دیتا ہے … اور اپنے جسم سے کئی بازو نکال کر کہتا ہے …

    ’’اب میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سچائی .. کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے ، جیسے جیسے میری ریسرچ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے ، ویسے ویسے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان واقعات میں حیرانیوں کی کئی کئی تہیں چھپی ہوئی ہیں ۔

    اب آپ کو ایک بات تو سمجھ آ جانی چاہیئے کہ اس پیپر کو پبلش کرنے والے شخص آئن سٹائن نے ، جس نے اپنی زندگی میں ہمارے وقت کی دونوں بڑی جنگیں دیکھی ہیں ، اس نے یہ کیوں کہا کہ …

    پہلی ورلڈ وار رائفلز اور بندوقوں سے لڑی گئی ، دوسری جنگ عظیم ٹینکوں اور جہازوں سے لڑی جا رہی ہے … مجھے نہیں پتہ کہ تیسری جنگ عظیم کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی لیکن چوتھی جنگ عظیم لڑنے کے لیے … صرف ڈنڈے اور پتھر ہی بچیں گے ۔

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔

  • حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    ہماری آنکھوں کے پاس بھی وہی ڈی این اے ہے جو ہمارے معدے کے پاس ہے لیکن ہماری آنکھیں آنسو خارج کرتی ہیں اور معدہ تیزاب۔

    یہ سب جیین ریگولیشن اور ٹرانسکپرشن کی مہربانی ہے جس کے نتیجے میں ہمارا ٍی این اے مخصوص حصے بنانے والے پروٹینز میں بدلتا ہے۔ اور یہ دو اہم کام ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کی بجاۓ HCl نہیں نکلواتے۔ورنہ ذرا سی گڑبڑ پہ صورتحال خطرناک حد تک بگڑ بھی سکتی ہے۔ اور ایسی بہت سی گڑبڑیں ہی وہ وجہ ہیں جن کے نتیجے میں اکثر مس کیرج ہو جاتی ہے۔

    ڈی این اے ریگولیشن ایک بہت ہی حساس کام ہوتا ہے کہنے کو تو ذمہ دار لوگوں کے لیۓ ہر کام ہی حساس ہوتا ہے لیکن ڈی این اے کے لیۓ تو یہ حد سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔لیکن یہ انتہائی تیز رفتاری اور پرفیکشن کیساتھ مکمل ہوتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ ایک گھنٹے میں پورے جسم کو بنانے والے تمام حروف کی کاپی کر سکتا ہے۔ اور یہ خود کو خود ہی چیک کرتا ہے۔ اگر یہ چیک اینڈ بیلنس خراب ہو جائے تو پھر اس کی وجہ سے کینسر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

    اسکے علاوہ،

    ایک ہیمو گلوبن مالیکیول میں صرف 0.3% آئرن ہوتی ہے لیکن یہی آئرن اسکے آکسیجن لیجانے کی صلاحیت متعین کرتی ہے۔ اگر یہ زرا سی بدل جائے تو سارا سسٹم خراب ہو سکتا ہے۔

    آپکے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹراڈول مالیکولز کے سٹرکچر میں چار ایٹمز پہ مشتمل صرف ایک میتھائل گروپ CH³ کا فرق ہوتا ہے لیکن اگر یہ میتھائل گروپ ہٹ جاۓ تو آپ لڑکی بن جاتے ہیں اور اگر لگ جاۓ تو آپ مرد بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ چار ایٹم آپ کی جنس کا تعین کرتے ہیں اگر دوران حمل ابتدائی ہفتوں میں ان کو بناتے ہوئے ان میں ہلکی سی اونچ نیچ ہو جائے تو آپ کی جنس تک بدل سکتی ہے۔

    بات ختم نہیں ہوئی بلکہ بات تو شروع ہوئی ہے کیونکہ تمام جانداروں (ایک گروپ کے) سیلز بائیوکیمیکل لیول پہ ایک ہی جیسے میٹیریل سے بنے ہیں لیکن ذرا سے جینز کی ہیر پھیر کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔اس بات کے آپ لوگ گواہ ہیں۔

    سادہ الفاظ میں ڈی این اے کے اجزاء تمام جانداروں میں تین ہی ہیں مگر ان تین کی ترتیب اور تعداد پورے کے پورے جاندار کی ہئیت کا تعین کر دیتی ہے۔ یہ بات ارتقاء کا بھی ثبوت ہے کہ تمام جاندار نفس واحد سے بنے۔

    ذہانت جسے بہت سے لوگ گاڈ گفٹڈ لیتے ہیں تازہ ترین ریسرچز کیمطابق پتا چلا ہے کہ کچھ جینز اسکو متعین کرتے ہیں مطلب کہ امکان ہے کہ ذہانت بھی وراثتی ورثہ ہے اور یہ بات حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جو جینز اس کو کنٹرول کرتے ہیں ان کی مجارٹی ماں سے ملتی ہے۔

  • کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے جنوبی قطب پر موجود چھٹا برِ اعظم انٹارکٹیکا جہاں سارا سال برف رہتی ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے وہاں کون رہتا ہے؟

    اسکا جواب ہے وہاں مختلف ممالک کے تحقیق کرنے والے اداروں کا عملہ اور سائنسدان رہتے ہیں۔ انٹارکٹیکا پر اس وقت مختلف ممالک کے تقریباً 90 ریسرچ سٹیشن قائم ہیں۔ ان میں انٹارکٹیکا کی گرمیوں میں (یعنی دسمبر میں) کم سے کم 4 ہزار افراد رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں (جون میں) یہ تعدا 1 ہزار تک رہ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں سیاحت کے لیے بھی گنے چنے لوگ آتے ہیں(یہاں سیاحت کے لیے جانے کے لئے جیب میں ہزاروں ڈالرز ہونا ضروری ہیں).

    انٹارکٹیکا پر دنیا کے قریب 46 ممالک کے سٹیشنز موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے "انٹارکٹکا ٹریٹی” پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ان میں دنیا کے تمام بڑے ممالک جیسے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی وغیرہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا پر بھارت کے ریسرچ سٹیشن کا نام ہے "بھارتی” جبکہ پاکستان کے رہسرچ سٹیشن کا نام ہے "جناح”. بھارتی سٹیشن 2012 میں قائم کیا گیا اور پورا سال فعال رہتا ہے جبکہ پاکستانی سٹیشن محض گرمیوں میں ہی کام کرنے کے قابل ہے۔ یہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پاکستان کی طرف سے انٹارکٹیکا پر ایک موسمیاتی سٹیشن بھی قائم کیا گیا جسے اقبال آبزرویٹری کا نام دیا گیا۔

    1993 کے بعد یہاں پاکستان کا کوئی عملہ، سائنسدان یا محقق انٹارکٹیکا نہیں گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ مہیا نہیں کی گئی۔۔2020 میں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت جسکے ماتحت یہ ریسرچ سینٹر ہے، نے ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان دوبارہ انٹارکٹیکا پر اپنی تحقیق شروع کرے گا مگر فی الوقت اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔