Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    زینب بیٹی جسکی دو ہفتے قبل میں نے وڈیو بھی لگائی تھی۔ اپنے علم کے مطابق جینو ویلگم Genu Valgum اور سکالئیوسز Scoliosis ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ جب سے اسے ملا میں اس بچی سے رابطے میں تھا مسلسل ریسرچ کر رہا تھا۔ مرہم ایپ کے ذریعے کئی آرتھوپیڈک و نیوروسرجنز سے مشورہ کر رہا تھا۔

    آج زینب کی اپائنٹمنٹ لاہور سے آئے ہوئے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ذکا اللہ ملک سے لی ہوئی تھی۔ زینب اپنے ماموں ذاد بھائی کے ساتھ صبح ہمارے گھر آئی۔ میری اہلیہ سے کافی دیر گپ شپ کرتی رہی۔ پھر ہم لوگ حافظ آباد زم زم ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر ذکا اللہ ملک کے ساتھ ڈاکٹر خضر عباس سندھو بھی ڈائگنوسز میں شامل تھے۔ دونوں ڈاکٹرز کے پیلوک، پوری سپائن، دونوں ٹانگوں، دونوں بازوؤں، کندھوں کے ڈیجیٹل ایکسرے کیے۔ مکمل ہسٹری لی کچھ بلڈ ٹیسٹ کیے۔ اور ابتدائی طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ بیٹی کو جینو ویلگم، سکالئیوسز کے ساتھ اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے امپرفیکٹ بون فارمیشن۔ یعنی ہڈیوں کا ٹھیک سے نہ بننا۔ اس بیماری میں ہڈیاں بڑی کمزور ہوتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ ایک پیدائشی جینیاتی بیماری ہے۔

    اسے پروفیشنلز او آئی (OI) کہتے ہیں۔ اس کے تین اور نام بھی ہیں۔ جو کہ یہ ہیں
    Fragilitas ossium
    Brittle bone disease
    Vrolik disease

    میں نے اس کی اب تک 19 اقسام پڑھی ہوئی ہیں جنہیں ٹائپ 1 سے ٹائپ 19 کے نام سے ہی عموماً جانا جاتا ہے۔ ابتدائی تشخیص میں زینب کو ٹائپ 1 جسے
    classic non-deforming osteogenesis imperfecta with blue sclerae
    کہتے ہیں۔ ڈائگنوز ہوئی ہے۔ مگر ابھی یہ کنفرم نہیں۔ ٹائپ 1 کے بچوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ انکی انکھ کا سفید حصہ مائنر سا نیلا ہوتا ہے۔ یہ ٹائپ 1 ویسے اس بیماری کی سب سے کم درجے پر ہڈیوں کا نقصان کرنے والی قسم ہے۔ تمام او آئی بچوں میں 50 فیصد کو یہی ہوتی ہے۔

    او آئی 1 بچوں کی اکثریت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ جوڑ بڑے کمزور ہوتے ہیں۔ پسلیاں بھی بیرل شیپ میں ہوتی ہیں۔ جوڑ ٹھیک سے نہیں بنے ہوتے۔ یہ سب کچھ زینب کے ساتھ بچپن سے ہے۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا کی بیماری عام طور پر دنیا بھر میں 15 ہزار بچوں میں سے 1 کو ہوتی ہے۔

    اسکی وجوہات جنیٹک میوٹیشن ہی ہمیشہ ہوتی ہیں۔ جب ہم جینیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف جینز مختلف پروٹینز بنانے کا سافٹ ویئر اپنے اندر بلٹ ان رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی جین میں کوئی گڑ بڑ ہوجائے تو جس چیز کو بنانے کے وہ ذمہ دار ہوتے اس میں خرابی یا بگاڑ آجاتا ہے۔ سائنس کے اساتذہ یا سٹوڈنٹس جانتے ہیں کہ کولاجن نامی پروٹین ہمارے جسم میں ہڈیاں بنانے اور ان کی گروتھ کی ذمہ دار ہے۔

    اور کولاجن کتنی بنانی ہے کب بنانی ہے اسے کنٹرول کرنے کی ذمہ داری میرے مالک نے ایک خاص ننھی منھی سے شے جسے ہم COL1A1 جین کہتے کے ذمے لگا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکا دوسرا جین بھائی COL1A2 ہے جو یہی کام کرتا ہے۔ ان دونوں میں کوئی بھی گڑ بڑ ہمارے پورے ہڈیوں کے ڈھانچے کو کسی بھی طرح خراب کر دیتی ہے۔ یہ دونوں ہی 90 فیصد ہڈیوں کی فارمیشن کے ذمہ دار ہیں گو کچھ اور جینز جیسے FKBP10 بھی ان کا ساتھ دیتا ہے۔

    اس مرض سے متاثرہ لوگوں کا قد نہیں بڑھتا۔ زیادہ سے زیادہ تین فٹ تک یہ جا پاتے ہیں۔ اور سپائن تقریباً سب کی ٹیڑھی ہو جاتی۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا
    autosomal dominant pattern of inheritance
    پر کام کرتا ہے۔ یعنی ہر سیل کی ایک کاپی ہی ہمارے جینز میں سوئی ہوئی اس بیماری کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ ٹائپ 1 سے 4 تک کے والدین میں سے کوئی ایک عموما اس کا کیرئیر ہوتا ہے۔ یعنی اس کے جینز میں یہ بیماری ہوتی ہے۔ جو جنیٹک ٹیسٹنگ سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ جنیٹک ٹیسٹنگ پر میں تفصیلی دو مضمون لکھ چکا ہوں انہیں آپ میری وال پر پن گئی پوسٹ میں دیے گئے لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

    علاج کیا ہے؟

    بچے کی عمر سب سے پہلے دیکھی جاتی۔ مجموعی صحت کا اندازہ لگایا جاتا۔ او آئ کے ساتھ جڑی ہوئی دیگر میڈیکل کنڈیشنز کو دیکھا جاتا ہے۔ کہ سرجری سے کوئی اور نقصان تو نہیں ہوگا۔

    ایسی دوائیاں مسلسل دی جاتی ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط کریں۔

    بچے کا روز مرہ لائف میں گرنے چھلانگ لگانے وغیرہ کا رسک کم سے کم کیا جاتا۔

    کوئی لائٹ ویٹ بریس لگا دی جاتی۔

    سرجری بھی کچھ کیسز میں ہوتی ہیں۔

    کچھ بڑی ہڈیوں جیسے ران، پنڈلی، سپائن میں سٹیل کے راڈ بھی ڈالے جاتے ہیں۔

    بہت سے بچوں کے دانت بہت ٹیڑھے ہوتے ان کو کیپنگ بریسنگ کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا۔

    فزیوتھراپی اور آکو پیشنل تھراپی ماہرین سے بہت ضروری ہے۔

    ٹیکنالوجیکل سپورٹ جیسے پاور ہائیڈرالک سسٹم والی وہیل چیئرز، سپیشلائزڈ کمپیوٹرز، کھانا کھانے کے چمچ گلاس وغیرہ ان کے لائف سٹائل میں ایڈ کئے جاتے۔

    دھکا لگا کر چلنے والی عام وہیل چیئر ان بچوں کے لیے سب سے خطرناک چیز ہے۔ اس میں ایک تو ان کی سپائن اور ڈیمج ہوتی۔ دوسرا ٹھوکر لگنے سے اکثر بچے اس کرسی سے نیچے گر کر ہڈیاں تڑوا لیتے اور فوت ہو جاتے۔

    ان کے لیے وہ وہیل چیئرز ہوتی ہیں جن پر بہت سے بیلٹ لگے ہوتے ہیں۔ بجلی سے چلتی ہیں۔ فلی آٹو میٹک ہوتی ہیں۔ کسی بھی طرح کی کھائی یا جمپ سے گزرنے پر الٹتی نہیں ہیں۔

    ہر کیس کو دیکھ کر اس کے لائف سٹائل اور علاج ک فیصلہ کیا جاتا ہے۔

    زینب بیٹی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اب ان دونوں ڈاکٹرز نے ہمیں لاہور ڈاکٹر سلطان کے پاس ریفر کیا ہے۔ ان شاءاللہ چند دن میں ہی لاہور کا وزٹ ہوگا۔

    سرجری تو مشکل ہے زینب کی ہو۔ سپائنل کارڈ بہت خراب ہو چکی ہے۔ سٹیل راڈ ڈل گیا تو قد بڑھنا رک جائے گا۔ گھٹنے کی ہڈیوں میں سے بھی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ گھٹنے میں الگ پڑی ہوئی۔ گھٹنے کی سرجری بھی کسی خطرے سے خالی نہیں۔ میری سمجھ کے مطابق بچی کو ٹانگ اور سپائن کو سپورٹ دینے والے بریس لگانے کا ہم فیصلہ کریں گے۔ وہیل چیئر پر ابھی نہیں بٹھائیں گے۔ ورنہ جو تھوڑا بہت چل لیتی وہ بھی ختم ہوجانا ہے۔

    خیر ابھی کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی اور طبی ماہرین کے وزٹ و میڈیکل پراسس ہونا باقی ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ زینب بیٹی اور اس طرح کے دیگر بچوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہمیں ان کا ہاتھ تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    میں اور ڈاکٹر ذکا اللہ ظہر کی اذان ہوجانے پر نماز پڑھنے مسجد جانے لگے تو زینب نے کہا انکل مجھے بھی لے جائیں۔ تو ہم اسے بھی ہسپتال کے اندر ہی واقع مسجد میں ساتھ لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب بھی بہت جذباتی ہو گئے اتنی پیاری بچی کو دیکھ کر اور آئندہ بھی پورے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ کوئی ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا جتنا آج کوالٹی ٹائم زینب کو ملا۔

    ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے۔ کہ آپ جیسے سمجھ رکھنے والے لوگ والنٹیئرلی ایسے بچوں کے ساتھ آئیں تو ہمیں بڑی آسانی ہو۔ آپکو تو کچھ بتانا ہی نہیں پڑ رہا ہم کسی بھی ٹرم کا نام لیتے ہیں آپ تفصیل خود بتا رہے ہیں۔ والدین جو اکثر پڑھے لکھے نہیں ہوتے کو بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ بیماری کا سن کر کمرے میں مریض کے سامنے ہی رونے پیٹنے لگ جاتے۔ ہم پھر تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ چپ کرکے اپنا علاج کرتے رہتے۔ اور وہ کہتے ڈاکٹر کو تو کچھ پتا ہی نہیں اس نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں۔ اور آئے روز سادہ لوح لوگ کوئی کسے نئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے۔ اب لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ کس کو ساتھ لے کر جائیں۔ آج کے دور میں کون کسی کے لیے وقت نکالتا۔ ہر بندہ ہی اپنی لائف میں ایسا مصروف کہ اسکی ذات کے لیے بھی اس کے پاس وقت نہیں۔

    میں حیران ہوں۔ میرے مالک نے میرے وقت میں اتنی برکت کیسے ڈال دی ہے۔ چوبیس گھنٹے مجھے ایک ہفتے کی مانند لگتے ہیں۔

    دیکھیں کتنی ہیاری لگ رہی یہ بچی میری انگلی پکڑے ہوئے۔ میری زندگی کی یہ سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں زینب نے میری انگلی پکڑی ہوئی۔

  • ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    حالیہ دنوں میں بز فیڈ کی جانب سے لیک شدہ آڈیو سے ٹک ٹوک کے بارے میں یہ حیران کن باتیں پتا چلی ہیں؛

    ٹک ٹوک نا صرف کسی بھی یوزر کی گیلری تک رسائی رکھتی ہے بلکہ وہ یوزر کے فنگر پرنٹس سے لیکر ڈرافٹ میسجز تک اور ان سے لیکر کسی بھی شخص کو بھیجے گئے میسجز تک پڑھ سکتی ہے۔

    بات یہیں نہیں رکتی بلکہ وہ جمع شدہ یہ سارا ڈاٹا اپنے چائنیز سرورز کو بھیجتی ہے۔

    چائینیز سرور چونکہ بائیٹ ڈانس نامی کمپنی کی ملکیت ہیں سو وہ عوامی جمہوریہ چین کی سٹیزن سرویلنس پالیسی کے تحت کام کرتے ہیں جس کے تحت کسی بھی شہری کی معلومات کو جاننے کا ریاست کے پاس مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

    ٹک ٹوک آپ سے حاصل شدہ یہ سب معلومات جس میں آپ کی دوسرے لوگوں سے کی گئی بات چیت تک شامل ہیں مانیٹر کرتی ہے اور پھر آپ کو مینپولیٹ کرنے کے لئے اور اس سے جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔

    انہی الزامات کی بنیاد پر بھارت میں اس ایپلی کیشن پر بین لگا تھا اور اب امریکہ میں بھی بین لگنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں پر امریکہ میں سرکاری ملازموں اور حساس اداروں کے ملازموں پہ ٹک ٹوک انسٹال کرنے پہ پابندی عائد ہے۔

    یاد رہے،

    پاکستان میں کسی بھی ادارے کے ملازمین پر ٹک ٹوک کے استعمال پہ کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

  • نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ ایپل سٹور سے ٹوئٹر کو ہٹا دیا جائے گا اور تمام آئی فونز پہ آفیشل ٹوئٹر ایپ نہیں چل سکے گی۔ اس قدم کو فالو کرتے ہوئے فریڈم آف سپیچ کے ‘قاعدوں کی خلاف ورزی’ پر گوگل پلے سٹور سے بھی اس کو ہٹا لیا جائے گا۔

    لیکن،

    اس قدم کو اٹھانے سے ایلون مسک کی ایک دھمکی نے روکا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایلون اپنا ایپ سٹور اور اپنا موبائل فون لانچ کر لے گا۔

    اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

    اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مقابلے کی فضا میں ہمیں ایک نئی، جدید اور بہترین موبائل کمپنی ملے گی جس کے پاس ایک بالکل نیا آپریٹنگ سسٹم اور پراسیسنگ سسٹم ہوگا۔

    اور

    حیران کن بات یہ ہے کہ نیا آپریٹنگ سسٹم مکمل طور پہ ڈی سینٹرلائزڈ مطلب ویب بیسڈ ہوگا جس کو بنانے کی خواہش مرحوم اسٹیو جابز کی تھی۔ اس میں میموری کیشے کی پرابلم بھی ختم ہو جائے گی۔

  • روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پتنگے اور دیگر حشرات الارض جو اُڑتے ہیں ان میں ایک نیویگیشن سسٹم سا لگا ہوتا ہے جو انہیں رات کی تاریکی میں چاند۔ کی روشنی کی مدد سے راستہ بتاتا ہے۔ یہ نیویگیشن سسٹم ایک سادہ سے اُصول پر مبنی ہے جسے ٹرانسورس اورئینٹیشن کہتےہیں۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ ٹرانسورس اورئنٹیشن دراصل یہ ہے کہ ایک پتنگا اپنی اُڑان کے دوران چاند سے ایک مستقل زاویے پر رہتا ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس سمت جانا یے یا کونسی سمت بدلنی ہے کہ چاند سے اسکا زاویہ ہمیشہ ایک رہے۔

    اب چاند چونکہ زمین سے دور ہے اور آسمان میں اپنی جگہ آہستہ سے بدلتا ہے لہذا ایک پتنگے کا چاند سے ایک مستقل زاویہ رکھ کر اُڑنا آسان ہے۔ پتنگے کے نقطہء نظر سے چاند اسکی اُڑان کے وقفے میں جگہ نہیں بدلتا۔ ویسے ہی جیسے آپ سڑک پر گاڑی دوڑاتے جائیں اور چاند بھی آپکو اپنے ساتھ دوڑتا نظر آتا ہے۔ ہم انسان بھی اس طریقہ کار کو ماضی میں استعمال کرتے رہیں راستہ ڈھونڈنے کے لیے جب ہم قطبی ستارے سے شمال کی سمت کا تعین کر کے لمبے راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔

    مگر پتنگے کی قسمت خراب کہ انیسویں صدی میں ایڈیسن صاحب آئے اور بلب کی ایجاد کو پیٹنٹ کر دیا۔ اب ہر طرف برقی قمقمے ہیں۔ دنیا میں چوبیس گھنٹے ہر جگہ جہاں انسان رہتے ہیں وہاں روشنی رہتی ہے۔ چاہے سورج کی ہو یا بجلی سے جلے مصنوعی بلب اور روشنیوں کی۔

    چونکہ اس عمل کو گزرے چند صدیاں ہی ہوئی ہیں لہذا پتنگے اور دیگر حشرات ارتقائی طور پر اس تبدیلی کو کہ اب ہر طرف رات میں مصنوعی روشنیاں ہوتی ہیں، میں خود کو مکمل ڈھال نہیں سکے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب ایک پتنگا یا کیڑا روشنی کے قریب آتا ہے تو اسکی آنکھیں تیز روشنی سے اول تو چندھیا جاتی ہیں کیونکہ انہیں چاندکی مدہم روشنی کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ بلب یا مصنوعی روشنیوں کے ساتھ پتنگے مستقل زاویہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ یہ روشنی انکے بے حد قریب ہوتی ہے تو مستقل زاویہ رکھنے کے چکر میں یہ چکرا جاتے ہیں اور دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ یوں بیچارے پتنگے صبح تک گھومتے گھومتے تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔ روشنی کے بلبوں سے بار بار ٹکرا کر اور بلب سے آتی حدت سے انکی ننھی جانیں دارِ فانی کو کوچ کر جاتی ہیں۔

    اقبالِ لاہوری کا ایک شعر تھا:

    مگَس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ وہ پھولوں سے رس چرائے گی اور شہد کے ساتھ موم بھی بنے گا جس کی شمع سے پروانے جل جائیں گے۔
    اتنا لمبا کنکشن بنانے پر میں اقبالِ لاہوری کو داد دیتا ہوں۔مگر اس شعر میں زمانے کے مطابق تبدیلی کچھ یوں ہونی چاہئے تھی۔

    ایڈیسن کو لیب میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    و آخر دعوانا

  • بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بھوت پریت تھڑے اور فٹ پاتھوں پر بیٹھے گندے بدبودار عاملوں اور بنگالی بابوں کو نظر آ جاتے ہیں مگر جدید لیبارٹریوں اور تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سائنسدانوں کو نہیں ۔ یا پھر وِچلی گل کوئی ہور اے؟

    انسانی دماغ ایک پیچیدہ شے ہے۔ اگر آپ کسی کو حتیٰ الامکان یقین دلا دیں کہ وہ کل مر جائے گا تو بھلے وہ کسی اور سبب سے مرے نہ مرے اس خوف سی ہی مر جائے گا کہ کل اُس نے مرنا ہے۔ آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جن مسائل کو ہم ماضی میں غیر مرئی عوامل سے جوڑتے تھے وہ دراصل انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، ان سے جڑے مسائل اور ماضی میں تشخیص نہ ہونے والی بیماریوں کے سبب ہیں۔وہ بیماریاں جنکے بارے میں آج ہم جانتے ہیں کہ مختلف جرثومے جیسے کہ بیکٹیریا، وائرس وغیرہ سے ہوتے ہیں، اُنہیں بھی ماضی میں ان غیر مرئی عوامل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    جرثونوں کے ذریعے بیماریوں کا علم انسانوں کو سولہویں صدی کے وسط میں ہوا جب Girolamo Fracastoro جوایک اطالوی طبیب تھے، نے یہ خیال پیش کیا۔

    سولہویں صدی کے آخر میں خوردبین کی ایجاد سے ان جرثوموں کو دیکھنا ممکن ہوا۔ Fracastoro کے اس اچھوتے خیال کو سائنس میں جدت کی بدولت ایک سائنسی تھیوری بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ آج یہ ایک مسلمہ حقیقت کے روپ میں ایک مصدقہ سائنسی تھیوری ہے، جسے Germ Theory کہا جاتا ہے۔ آج اسی تھیوری کی بنیاد پر کئی جدید اور موثر طریقہ علاج طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سائنس کی یہ تھیوری انسانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اسکی بدولت اب تک کروڑوں انسانوں کی زندگی بچ چکی ہے۔۔زندگی سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ کیا ہو گا؟ انسانیت کے لیے سائنس کا یہ سب سے بڑا تحفہ ہے۔

    ماضی میں جب انسان یہ سب نہیں جانتے تھے تو نہ دکھنے والے یہ جرثونے اور ان سے جڑی بیماریوں کو غیر مرئی قوتوں کا شاخسانہ کہنے میں حق بجانب تھے۔ مگر آج ہم سائنس کی بدولت اصل محرکات جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے توہمات کی تقلید کر کے اپنی زندگیاں اور اپنا پیسہ ایسے عاملوں اور جعلی پیروں پر لگائیں۔ اس جاہلانہ رویے سے آج تک کتنی معصوم جانیں ضائع اور کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کی بیخ کنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محفوظ رہیں تو ہمیں جدید سائنسی علوم اپنانے ہونگے, سائنسی طرزِ فکر رکھنا ہو گا۔ ورنہ بنگالی بابوں کو عقل گروی رکھ کر قدرت کی اس سب سے بڑی نعمت کو ٹھوکریں مارتے رہیں۔ کس نے روکا ہے؟

  • ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیاہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ سوال بیسویں اور اکسیویں صدی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔جب سے انسانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع و عریض کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں ایک چھوٹی سی کہکشاں ملکی وے کے ایک معمولی سے ستارے سورج کے گرد گھومتا ننھا سیارہ ہے، تب سے یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

    انیسویں صدی میں ریڈیو کی ایجاد کے بعد اس حوالے سے بات ہونے لگی کہ اگر کائنات میں کوئی جدید ایلین تہذیب کسی سیارے پر بستی ہے تو یقیناً اُن سے ریڈیو ویویز یا ریڈیائی لہروں کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ (اب یہ بات پڑھ کر آپ اپنے گھروں کے ریڈیو مت نکال لیجئے گا۔ کہ چلو ایلینز سے رابطہ کرتے ہیں۔ سائنس اس طرح کام نہیں کرتی).
    مگر ریڈیائی لہروں کے ذریعے ہی رابطہ کیوں؟

    یہ سوال دلچسپ ہے۔ جس طرح سے ہم جانتے ہیں کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہم ریڈیائی لہروں جو دراصل برقناطیس لہریں ہی ہوتی ہیں(جیسے کہ روشنی) کی مدد سے کمیونیکیشن کرتے ہیں۔ تو اگر کوئی ایلین تہذیب ہمیں ڈھونڈنا چاہے(ویسے ہم اّنکے لئے ایلینز ہونگے 🙂 ). تو وہ ہمیں ہمارے ریڈیائی لہروں کے استعمال سے جو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال والی تہذیبیں ہی کر سکتی ہیں، کے ذریعے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ لہذا اگر ہمیں بھی کائنات میں کسی سیارے سے ایسی ریڈیائی لہریں موصول ہوں جو ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوں تو ہم جان جائیں گے کہ وہاں کوئی جدید مخلوق بستی ہے۔

    کائنات میں دوسری تہذیبوں سے رابطے کے حوالے سے پچھلی دو صدیوں میں کافی سنجیدہ کوششیں کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور بڑی کوشش SETI پراجیکٹ ہے۔ SETI. مخفف ہے (Search for Extraterrestrial Intelligence) یعنی کسی ذہین خلائی مخلوق کی تلاش.

    اس پراجیکٹ کے خدو خال گو کہ 1960 اور 70 کی دہائی میں واضح ہونا شروع ہوئے تاہم SETI ادارے کا باقاعدہ آغاز 1984 میں ہوا اور ریڈیائی لہروں کی مدد سے کائنات میں کسی ممکنہ ایلین تہذیب سے رابطے کے حوالے سے باقاعدہ کام 1985 میں۔

    شروع شروع میں اس پراجیکٹ میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے زمین پر موجود ریڈیو اینٹیناز ہی استعمال ہوتے رہے مگر بعد میں عوام، حکومتوں اور ٹیکنالوجی سے منسوب اہم شخصیات کی دلچسپی کے باعث اس پراجیکٹ کی فنڈنگ بہتر ہوئی اور آج SETI پراجیکٹ میں 42 جدید ریڈیو اینٹناز پر مشتمل Allen Telescope Array موجود ہے۔ یہ ٹیلیسکوپ امریکا میں سان فرانسسکو سے 300 میل دور کیسکادے کے پہاڑوں میں نصب ہے۔ اور یہ ہفتے میں ہر روز خلا میں کسی ممکنہ ایلین مخلوق سے رابطے کی کوششوں میں پیغام ریڈیائی لہروں کی صورت بھیجتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ممکنہ جواب کے انتظار میں خلاؤں کو سنتی بھی رہتی ہے۔

    کائنات اتنی وسیع ہے اور ہم سے سب سے قریبی ستارا جسکے گرد سیارے گھوم رہے ہیں وہ بھی کئی نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کی چوڑائی ایک لاکھ سے دو لاکھ نوری سالوں کے بیچ ہے۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ SETI کے کائنات میں بھیجے گئے ریڈیو سگنل اب تک ہماری کہکشاں کے محض چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں گئے۔

    یہاں یہ بحث لمبی ہو جائے گی کہ ہم سے ممکنہ طور پر قریبی سیارہ کتنی دور ہو گا جہاں کوئی ایلین تہذیب موجود ہو۔ یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے ۔

    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایلینز سے رابطہ کس زبان میں یا کس فریکونسی میں کر سکتے ہیں؟ ہم انسان زمین پر جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وہاں ہم اُنکی زبان نہیں بول سکتے اور وہ ہماری۔ تو رابطے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ چینونٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے کسی جدید تہذیب کے لیے ہم ایک چیونٹی جتنی اہمیت رکھتے ہوں۔

    تو ہم کسی جدید تہذیب کو اپنی موجودگی کا کیسے پتہ دیں گے؟ اسکا جواب ہے 1420 میگا ہرٹز کی فریکونسی سےوہ سائنسی کیڑے جنہیں ایگزٹ نمبر جاننا ہے، تو یہ فریکونسی ہے 1420.405751768میگاہرٹز) ۔ اس فریکونسی کو ہائڈروجن لائن کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ایک نیوٹرل ہائڈروجن ایٹم سے تب نکلتی ہے جب اسکے الیکٹران کی سپن (کلاسیکل فزکس میں سپن کا مطلب کسی ایٹمی ذرے کا اپنے محور کے گرد گھومنا، کوانٹم فزکس میں البتہ اسکا مطلب کچھ پیچیدہ ہے) اسکے پروٹان کی سپن سے مخالف سمت میں گھومے۔

    عمومی طور پر یہ دونوں ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں۔ مگر جب الیکٹران کی سپن مخالف سمت میں ہو جائے تو ہائڈروجن ایٹم سے خاص طرح کی ریڈیو فریکوئینسی کی لہر نکلتی ہے۔ کائنات میں موجود کوئی بھی جدید تہذیب اگر متواتر اس فریکوئنسی پر سگنل موصول کرے گی تو جان جائے گی کہ ہم اتنے ذہین ضرور ہیں کہ ایٹم کے بارے میں اور اس خاص فریکونسی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس فریکوینسی کے استعمال کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن عام پائی جاتی ہے اور اس یہ ریڈیو فریکونسی دوسری ریڈیو فریکونسییز سے زیادہ موثر طور پر کائنات میں سفر کر سکتی ہے۔

    پھر چاہے ایلین ترکش زبان بولیں یا کچھ اور، اس طریقے سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ مویا ناسا جو آئے روز دنیا کی "ذہین ترین قوم” کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نئے سپیس کرافٹ، خلائی دوربینیں اور روبوٹ چھوڑتا رہتا ہے۔ یہ ان سے خلا میں رابطہ کیسے رکھتا ہے؟ کیونکہ عقلِ "سلیم” یا منیر تو یہ کہتی ہےکہ خلا میں ٹیلی نار، یوفون یا زونگ کے کھمبے تو ہیں نہیں کہ پیکیج کرایا اور گھنٹوں لمبی باتیں، "شونوں مونوں” والے میسیجز یا جگتوں والے لطیفے بھیج کر ٹائم پاس کرنا شروع کر دیا۔
    تو اسکا جواب ہے ڈیپ سپیس نیٹ ورک!!

    ڈیپ سپیس نیٹ ورک دراصل زمین پر بڑے بڑے ڈش کی طرح کے ریڈیو اینٹناز کا ایک جال ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ اینٹیناز آسٹریلیا، کینبرا، کیلیفورنیا ، سپین وغیرہ میں دن رات آسمانوں میں ناسا اور دوسری ایجنسیوں کے بھیجے گئے مشنز سے سلام دعا کرتے رہتے ہیں۔ ان انٹیناز کو زمین پر کم و بیش ایک ہی فاصلے پر رکھا گیا ہے کہ زمین کی گردش کے باعث ایسا نہ ہو کہ کوئی وقفہ آئے جب خلا سے بھیجا جانے والا سگنل پکڑنے کے لیے کوئی بھی اینٹینا موجود نہ ہو اور سگنل ضائع ہو جائے۔

    خلا میں موجود سپیس کرافٹس زمین پر ریڈیو سگنل کے ذریعے تصاویر اور اپنی موجودہ جگہ کا پتہ دیتے ہیں ۔ ان سگنلز کو دنیا بھر میں یہ ڈیپ سپیس اینٹنا موصول کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین سے سپیس کرافٹ کو ہدایات بھیجتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، کونسی تصاویر لینی ہیں، کس سمت مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    اس نیٹ ورک میں موجود اینٹناز کمزور سے کمزور سگنل کو بھی ہماری پولیس کیطرح فورآ سے دھر لیتے ہیں۔۔اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1977 میں ناسا کے دو سپیس کرافٹ Voyager 1 اور Voyager 2 جو 45 سال بعد اربوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں ، یہ ڈیپ سپیس نیٹ ورک ان سے آنے والے سگنلز بھی پکڑ لیتے ہیں اور اب تک مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔ Voyager سپیس کرافٹس سے آنے والے سگنل بے حد کمزور ہیں۔ کتنے کمزور؟ آپکی معمولی سی ڈیجیٹل گھڑی کو چلانے والے برقی سگنل سے بھی 20 ارب گنا کمزور!!

    یہ اینٹیناز ان مختلف سپیس کرافٹ کے سگنلز کو موصول کر کے اسے ناسا کی کیلیفورنیا میں سپیس فلائٹ آپریشن فیسلیٹی کو بھیجتے ہیں جہاں ان سگنلز کو پراسس کر کے ان میں موجود تصاویر یا دیگر اہم معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ سائنسدان ان تصاویر اور ڈیٹا کی مدد سے منطقی نتائج نکالتے ہیں، تحقیقی مقالہ جات لکھتے ہیں اور کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

    مریخ پر موجود ناسا کی روورز جیسے کہ Curiosity یا حال ہی میں بھیجی جانی والی Preservernce بھی اس طرح سے زمین پر رابطے میں رہتی ہے مگر یہ ایک اور موثر طریقے سے بھی زمین پر ڈیٹا اور تصاویر بھیجتی ہے۔ اور وہ ہے بذریعہ Mars Reconnaissance Orbiter، یہ مریخ کے گرد گھومتا ایک سٹیلائٹ ہے جو ان روورز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے زمین پر ڈیپ سپیس نیٹورک تک اسے بھیجتا ہے۔ اس طرح زیادہ آسانی سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

  • دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

    مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
    مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

    اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

    آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

    اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

    44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
    وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

    یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔

  • البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم کا شکار افراد کو البینو یا پنجابی میں بگے کہا جاتا ہے۔ تصویر میں چیچنیا کے ایک گاؤں قشلوئے کی ایک بارہ سالہ البینو لڑکی آمنہ ہے۔ جسکی ایک آنکھ نیلی اور دوسری گہری براؤن ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کے حسن کے چرچے ہیں ۔

    کیا آپ جانتے ہیں البینزم انسانوں کے علاوہ دیگر کئی مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے؟

    جن میں ہمارے آس پاس البینو یعنی بلکل سفید چوہے، کینگرو، مگر مچھ، ہاتھی، کوے، طوطے، گائے، بھینس، زیبرے، گدھے، گوریلے، ریچھ، بلی بندر، گلہری پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک البینو سفید زرافہ بھی ہے۔

    البینزم سے متاثر بچے و معمر افراد دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں یہ غیر معمولی سفید، بھورے رنگ و بالوں کے ساتھ ہونگے۔ ان کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا، سبز، بھورا اور سرخ ہو سکتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بدلتا بھی رہتا ہے۔ ایک آنکھ کا دوسری آنکھ سے رنگ مختلف ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں اس کی ریشو 17 ہزار سے 20 ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ البینو کی ہے۔ یعنی ایک لاکھ میں سے 5 اور ایک کروڑ میں سے 500. پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں تقریباً 11 ہزار کے آس پاس البینو ہو سکتے ہیں۔

    یہ ڈس آرڈر مرد و خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔ (سوائے اوکولر کے وہ آگے پڑھیں گے)

    یہ والدین سے وراثت میں ملنے والا ایک پیدائشی ڈس آرڈر ہے جس کا جدید سائنسی ترقی کے باوجود آج تک دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہماری جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ بنانے میں جس کا کردار ایک خاص سیاہ مادہ جسے میلانن Melanin pigment کہا جاتا ہے کرتا ہے۔ میلانن کی کمی یا مکمل غائب ہونا البینو بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

    ہمارے جسم کی رنگت کیسی ہوگی اسکا مکمل انحصار ہمارے جسم کے سیلز میں موجود میلانن کی مقدار پر ہے۔ اسکی جتنی مقدار زیادہ ہوگی ہمارا رنگ اتنا ہی کالا ہوگا جتنی کم ہوگی اتنا ہی سفید ہوگا۔ یوں سمجھیے یہ ایک طرح کی سیاہی ہے جو ہمارے جینز کے کوڈز میں ہوتی ہے اور جب پروٹین بننے کے بعد سکن سیلز بنتے تو اسکی مقدار ہماری رنگت کا تعین کرتی ہے۔

    میلانن کا ایک اور کام ہماری آپٹک نروز کے بننے میں بھی ہے۔ اسکی مقدار میں کمی جہاں رنگت میں فرق ڈالتی وہیں بصارت میں بھی کمی کا سبب بنتی سکتی

    اکثر اوقات البینو بچوں کا رنگ نارمل رنگ سے معمولی سا مختلف ہوتا اور کبھی بلکل ہی سفید۔ مگر انکی جلد انتہائی حساس اور پتلی ہوتی ہے جو عام سورج کیروشنی بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ انہیں بہت دھوپ سے جلد چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور تیز دھوپ و روشنی میں اسکن جل بھی جاتی ہے۔ یہ دھوپ میں نکلتے ہوئے کوئی سن بلاک یا حفاظتی کریم وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اوپر بھی بتایا گیا کہ اسکا کوئی علاج نہیں ہے بس اپنی حفاظت ہی کرنی ہے شدید گرمی سے خصوصاً اور شدید سردی سے بھی عموماً۔ کیونکہ کوئی بھی شدید موسم ان لوگوں کی اسکن پتلی ہونے کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتی۔

    بینائی کا زیادہ مسئلہ ہوتا ہے تو اسے زرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    البینزم کی کوئی بھی قسم ہو حس بصارت میں سو فیصد خرابی ہوگی۔ یہ اس ڈس آرڈر کی بنیادی علامت ہے جو فرد کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

    تیزی سے غیر ارادی طور پر آنکھیں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں جسے (nystagmus) کہا جاتا ہے۔

    آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کو روکنے اور فوکس کرکے دیکھنے کی کوشش میں فرد اپنے سر کو ہلانے لگتا ہے کہ آنکھوں کی حرکت رک جائے۔

    دونوں آنکھوں کا مرکز و فوکس ایک پوائنٹ پر کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے (strabismus) کہا جاتا ہے۔ دونوں آنکھیں ایک جگہ پر فوکس نہیں کریں گی تو دیکھنے میں یقیناً دشواری ہو گی۔

    شدید قسم کی قریبی نظر میں یعنی nearsightedness یا دور کی نظر میں کمی farsightedness ہوگی۔

    تیز یا ہلکی لائٹ بھی آنکھوں میں پڑے گی تو تکلیف ہوگی جسے (photophobia) کہا جاتا۔

    آنکھ کا پارٹ ریٹینا ٹھیک طرح سے بن ہی نہیں پاتا تو آنکھ کی دیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہی کم ہوتی۔

    اگر ریٹینا کسی حد تک ٹھیک ہے تو جو سگلنز ریٹینا سے آپٹک نروز کے راستے ہمارے برین میں جاتے وہ نروز ڈیمیج ہونگی تو امیج ٹھیک نہیں بنے گا۔

    (misrouting of the optic nerve)

    سطح زمین پر چلتے ہوئے کسی گہری جگہ کا اندازہ ٹھیک سے نہیں ہو پاتا۔

    شدید ترین صورتحال میں لیگل بلائنڈنیس یعنی بصارت 20/200 سے کم ہوگی۔ یا البینو میں مکمل نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    ماں کے پیٹ میں جب بچہ اللہ کے حکم سے خون سے گوشت کا لوتھڑا بن رہا ہوتا ہے تو بہت سارے جینز ملکر انسٹرکٹشنز دیتے ہیں کہ جب گوشت سے پہلے پروٹین بنے گی تو میلانن کی پروڈکشن و مقدار مخصوص سیلز میں کیا ہوگی۔ میلانن جن سیلز میں بنتی ہے انہیں میلانو سائٹس melanocytes کہا جاتا ہے۔ یہ سیلز خصوصاً ہماری اسکن، بالوں اور آنکھوں میں پائے جاتے ہیں اور ان تینوں کے رنگ کا تعین کرتے ہیں۔

    پیغامات یا انسٹرکٹشنز دینے والے کسی ایک جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر mutation ہوتا ہے تو میلانن کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ کونسے جین میں بدلاؤ ہوا ہے اسی بنا پر البینزم کی قسم کا تعین ہوتا ہے کہ میلانن کی مقدار کم ہوئی ہے یا سرے ہی میلانن بنا ہی نہیں۔

    البینزم کی اقسام کونسی ہیں؟

    1. او کو لو کو ٹینئیس البینو
    Oculocutaneous albinism (OCA

    یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ اس میں متاثرہ بچہ اپنی امی اور ابو دونوں فریقوں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے۔
    (autosomal recessive inheritance) سات جینز میں سے جنہیں OCA1 سے OCA7 تک لیبل کیا جاتا ہے کسی ایک جین میں میوٹیشن ہونے پر یہ قسم سامنے آتی ہے۔ اس میں میلانن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اسکن بال اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

    2۔ اوکولر البینو Ocular albinism

    اس قسم میں عموماََ بینائی متاثر ہوتی ہے سکن اور بالوں کا رنگ نارمل ہی ہوتا ہے۔ اس کی سب کامن قسم ٹائپ 1 ہے جس میں X کروموسوم کی جین میوٹیشن ہوتی ہے۔ X لنکڈ اوکولر البینو میں بچہ اپنی ماں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے اور البینو پیدا ہوتا ہے۔ جسے
    (X-linked recessive inheritance) کہا جاتا ہے۔ یہ قسم صرف مردوں میں ہی پائی جاتی ہے کوئی لڑکی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور پہلی قسم OCA سے بہت زیادہ کم ہے۔

    3۔ تیسری قسم جو سنڈرومز سے تعلق رکھتی ہے Albinism related to rare hereditary syndromes

    مثال کے طور پر Hermansky-Pudlak سنڈروم OCA کی ایک قسم میں پایا جاتا ہے جس میں جلدی خون بہنے لگنا، پھپھڑوں اور مثانے کے امراض شامل ہیں۔ اس کے بعد Chediak-Higashi سنڈروم سے OCA کی ہی ایک قسم میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی۔ بہت جلد انفیکشن ہوجاتے جو جلدی ٹھیک نہیں ہوتے۔ اسکے ساتھ نیورولوجیکل مسائل بھی سامنے آنے لگتے جو شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سنڈروم سے متعلقہ اقسام پہلی قسم OCA میں ہی آئیں گی۔

    ان افراد کو مسائل کہاں پیش آتے ہیں؟

    دیکھنے اور اسکن کی حساسیت تو بیان ہوچکی اس کے علاوہ انہیں بے شمار سماجی، معاشی و جذباتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بینائی میں کمی کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کچھ سیکھنے دوران ملازمت یا ڈرائیونگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    جلد پتلی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ سن برن کا ہوتا ہے۔ جو بہت زیادہ ہونے لگیں تو خدا نخواستہ اسکن کے کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    سماج میں رہتے ہوئے البینو افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہیں کم پڑھے لکھے افراد کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے دیکھا جاتا جیسے یہ کوئی اور مخلوق ہوں اور اکثر منفی کمنٹس پاس کیے جاتے ہیں۔ انکے برے نام رکھے جاتے برے ناموں سے پکارا جاتا۔ دکھ دینے والے سوال کیے جاتے بیچارہ معذور کہہ کر ان افراد کا دل دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں کیونکہ یہ افراد واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ان سے آوٹ سائیڈرز کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جو ان افراد میں تنہائی مایوسی اور ذہنی دباؤ و بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل یہ افراد مرد و خواتین آپس میں اور نارمل لوگوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔ انکے بچے بھی ان جیسے ہونگے یہ ضروری نہیں ہے مگر بچے پیدا کرنے سے قبل کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیا جائے کوئی احتیاطی تدابیر ہوں تو وہ اپنائی جائیں۔

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل پی ایچ ڈی تک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ عام سکولوں میں ایڈجسٹ نہ ہو بچہ تو قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کروا دیں۔

    ایورج عمر کیا ہے؟

    کسی بھی معاشرے کے افراد کی جو ایورج ایج یوگی وہی البینو کی بھی ہوگی۔ کیونکہ میلانن کا کم یا زیادہ ہونا مجموعی زندگی اور صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    آئی کیو لیول کتنا ہوگا؟

    ذہانت میں یہ افراد نارمل افراد کی طرح ہی ہونگے۔ میلانن کی کمی بیشی ذہانت کو بلکل متاثر نہیں کرتی۔

  • سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین سائنس کے شعبے میں کم نظر آتی ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ خواتین کو سائنس میں دلچسپی نہیں ، وجہ یہ ہے کہ اُن کو کئی مسائل کا سامنا ہے جو مردوں کو نہیں کرنا پڑتا جن میں کام پر خود کو محفوظ تصور کرنا، ازدواجی ذمہ داریوں کی مصروفیات، بہتر تعلیم کا فقدان اور کئی ایسے دیگر معاشرتی مسائل جو انہیں سائنس میں اپنا کیریئر بنانے میں رکاوٹ بنتے ہے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اُنکو سائنس کے بنیادی شعبہ جات میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مگر درحقیقت یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کاوش ابھی بھی بے حد کم ہے۔

    اسکے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کا سائنس کے شعبوں میں کردار بھی کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں تو خواتین کی بنیادی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی، سائنس کے حوالے سے خواتین کو ان شعبوں میں لانا دور کی بات ہے۔ جن سائنس کے شعبوں میں خواتین باقی شعبوں سے زیادہ نظر آتی ہیں وہ حیاتیات، میڈیسن اور فزیالوجی ہیں۔

    اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک سائنس کے شعبے میں ملنے والے نوبل انعاموں میں محض 24 خواتین کو سائنس کے شعبے میں ایوارڈ ملا جن میں سے صرف 11 خواتین کو ملا کر فزکس اور کیمسٹری میں یہ انعام ملا جبکہ باقی 12 خواتین کو میڈیسن کے شعبے میں (میری کیوری وہ واحد خاتون ہیں جنہیں دو نوبل انعام ملے ہیں)۔

    یہ بات میں برملا کہتا ہوں کہ خواتین کا دماغ کسی طور مردوں سے کم نہیں ۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ خواتین کی صلاحیتیں مردوں سے کم ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے جسکا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں۔

    اس طرح کی سوچ رکھنے والے معاشروں میں اس طرح کی باتیں بچپن سے ہی خواتین کے دماغ میں ڈال کر اُن میں موجود اعتماد اور اُنکی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو مار دیا جاتا ہے۔

    ہم جس زمانے میں رہتے ہیں ہمیں سوچ بھی اسی زمانے کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں خواتین کا سائنس میں کردار بڑھا کر ہم نہ صرف سائنس کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں بلکہ خواتین سائنس کے وہ مثبت استعمال بھی سامنے لا سکتی ہیں جو ایک پدر شاہی معاشرے میں طاقت یا پیسے کے حصول سے ہٹ کر فلاحی کاموں میں مدد دے۔

    اپنی بچیوں اور بہنوں کو نہ صرف تعلیم دیجیے بلکہ اُن میں اعتماد بھی پیدا کیجیے تاکہ وہ سائنس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اگے بڑھ سکیں۔

    ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔