Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانی نسل کو کئی قدرتی آفات کا سامنا صدیوں سے رہا ہے۔ ان میں زلزلے ، طوفان، سیلاب، آتش فشاں، وغیرہ سب شامل ہیں مگر دو قدرتی آفات ایسی ہیں جن سے روئے زمین پر پوری انسانیت کے مٹ جانے کا خطرہ ہے۔ ایک وہ جو خوردبین سے نظر آتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوربین سے۔

    لیڈیز اینڈ جینٹلمین !! میں بات کر رہا ہوں وائرسز کی اور شہابِ ثاقب کی۔ وائرسز سے پھیلنے والی وبائیں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہیں جیسے کہ پچھلے برسوں میں آنے والی کرونا وائرس کی وبا جس سے لاکھوں انسان زندگی کی بازی ہار گئے۔ بھلا ہو سائنس کا کہ اتنے کم عرصے میں ویکسین تیار کر لی گئی اور اس وبا پر قابو پا لیا گیا اور اب زندگی دوبارہ سے معمول پر آ رہی ہے۔

    اور دوسری آفت ہیں شہابِ ثاقب۔ (ویسے تیسری آفت بیگم بھی ہو سکتی ہیں اگر ااُنکا موڈ خراب ہو) ہماری زمین پر ہر سال کروڑ شہابیے گرتے ہیں مگر ان میں سے کئی دس گرام سے بھی کم ہوتے ہیں جبکہ کئی ایسے جو کافی بڑے ہوتے ہیں مگر زمین کی اوپری فضا سے رگڑ کھا کر بھی اتنے رہ جاتے ہیں کہ زمین پر گریں۔ ایسے شہابیوں کی تعداد ہر روز تقریباً 17 ہوتی ہے جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر میں آپ زمین کے گرد سیارچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اتنے بڑے ہیں کہ انہیں دوربین سے ماہرینِ فلکیات ٹریک کر سکتے ہیں۔ مگر کئی ایسے ہیں جو ہم زمین سے ٹکرانے کے شاید کچھ دن یا کچھ گھنٹے پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں ماہرین فلکیات اور فلکیات کے مشاہدات کا شوق رکھنے والے لوگ دوربینوں سے ایسے خطرناک سیارچوں کو ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ناسا کا 2002 سے چلنے والا پروگرام "سینٹری” یہ دیکھتا ہے کہ ٹریک کیے گئے سیارچوں میں کونسا اتنا بڑا ہے اور اسکا مدار زمین اور سورج کے درمیان کیسا ہے کہ یہ زمین پر گر کر ممکنا تباہی پھیلا سکے۔

    13 مارچ 2005 کو ایک ایسا ہی سیارچہ دریافت کیا گیا جسکا قطر تقریباً 50 میٹر تھا۔اسکا نام 2005 ED 224 رکھا گیا۔ سورج کے گرد اسکا مدار تقریباً 2.6 سال کا ہے۔ 2005 کی دریافت کے بعد اسے دوبارہ نہیں دیکھا جا سکا۔ لہذا اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اس وقت زمین سے کتنا دور ہے۔

    کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ یہ 11 مارچ 2023 کو یہ سیارچہ زمین سے 400 ملین کلومیٹر دور سے گزرے گا مگر چونکہ سائنسدان اسکے مدار کے متعلق مکمل نہیں جانتے سو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے ٹکرائے۔ کتنا امکان ؟ پانچ لاکھ میں سے ایک۔ یعنی 0.000002 فیصد۔ موازنے کے لیے امریکہ میں کار ایکسیڈنٹ میں مرنے کا امکان تقریبا سو میں سے ایک ہے۔

    لہذا” آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے”.

    یہ محض اس لئے بتا رہا ہوں کہ دراصل مستقبل میں انسانیت کو کسی بڑے سیارچے کے زمین پر گرنے سے خطرہ ہے اور اسی لئے اسی سال ناسا کا ڈارٹ مشن ایک سیارچے کے چاند کو تجرباتی طور پر ٹکرایا ہے تاکہ اسکے مدار میں تبدیلی لائی جا سکے اور یہ مشن کامیاب رہا ہے۔ سو یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی تباہی سے زمین کو ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

  • گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم اور آپ ہر روز گوگل میپ کے استعمال سے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اپنے موبائل فون میں گوگل میپ کی ایپ نکالی، لوکیشن آن کی اور ایک جگہ کا راستہ لکھا تو ترنت گوگل۔میپ نے اپکو راستہ بتا دیا۔ فرض کریں آپکو لاہور میں "شاہ دی کھوئی” سے لمز یونیورسٹی جانا ہے۔ تو آپ کسی لاہوری سے راستہ پوچھنے کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپکو لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچا دے گا۔ تو آپ نے گوگل میپ پر لمز کا ایڈریس ڈالا اور گوگل نے آپکو راستہ بتا دیا اور ساتھ ہی ڈائریکشنز بھی کہ کونسی جگہ ِرنگ روڈ لینا ہے، کہاں سے رنگ روڈ سے اُترنا ہے، کہاں لالک چوک پر مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    مگر گوگل آپکو یہ سب کیسے بتاتا ہے؟ اسکا جواب ہے جی پی ایس سسٹم کے ذریعے۔ اب یہ جی پی ایس کیا بلا ہے؟

    جی پی ایس دراصل مخففففف(یہ لفظ پتہ نہیں کس نے نکالا تھا اتنے سارے ف ف ف والا) ہے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کا۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم کیا ہے؟ بھلا ہو امریکیوں کا کہ انہیں نے آج سے 44 سال پہلے اس سسٹم کا آغاز کیا۔ یہ سسٹم دراصل خلا میں 31 سٹلائٹس (اس وقت فعال) کا نیٹ ورک ہے جو زمین سے تقریباً 20200 کلومیٹر اوپر خلا میں زمین کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت پہلا سٹلائٹ 1978 میں بھیجا گیا جبکہ بعد میں تواتر سے مزید سٹلائٹس بھیجے گئے۔ ان میں سے جب کچھ سٹلائٹ پرانے یا ناکارہ ہو جاتے ہیں تو انکی جگہ نئے سٹلائٹس بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک کل ملا کر 77 سٹلائٹس اس سسٹم کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔

    خیر اب یہ موئے سٹلائٹ کرتے کیا ہے؟ ان سٹلائٹس میں ایٹامک کلاکس لگی ہوتی ہیں یعنی ایٹمی گھڑیاں جو نہایت ایکوریسی سے وقت کا حساب رکھتی ہیں۔ یہ سٹلائیٹس ہر لمحے اپنی جگہ اور مقامی وقت کو ریڈیائی لہروں کے ذریعے زمین پر ریڈیائی سگنلز کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سٹلائٹس سے بھیجے گئے سگنلز کو آپکے فون میں لگے جی پی ایس ریسور موصول کرتے ہیں جس سے زمین پر یہ اپنی جگہ معلوم کرتے ہیں جیسے کہ آپکا فون آپکو ان سگنلز سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کو استعمال کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ آپ اس وقت لکشمی چوک پر ہیں جہاں آپ تو دیسی ککڑ کی کی دیسی گھی میں بنی کڑاہی رگڑ رہے ہیں مگر بیگم کو آپ نے بتایا ہے کہ آج گھر کام کی زیادتی کیوجہ سے گھر دیر سے آئیں گے۔

    مگر آپکا فون آپکی یہ لوکیشن معلوم کیسے کرتا ہے؟

    ہم جانتے ہیں کہ ریڈیائی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ سو جب ہمارے فون کو سٹلائیٹ سے ایک سگنل موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے 8 بج کر 10 منٹ تو ہم یہ جان جاتے ہیں کہ سٹلائیٹ نے یہ سگنل 8 بج کر 10 منٹ پر بھیجا۔ اب ہمارا فون یہ بھی جانتا ہے کہ اس وقت فون پر کیا وقت ہوا ہے کیونکہ فون کے اندر بھی ایک گھڑی ہے۔ تو اگر آپکا فون یہ دیکھے کہ سگنل موصول ہوا ہے8 بج کر 10 منٹ اور 1 سیکنڈ بعد(ویسے ایک سکینڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے مگر سمجھانے کے لیے) تو موبائل فون کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ سگنل پہنچنے میں محض ایک سیکنڈ لگا ہے۔ اب اسے روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو آپکو معلوم ہو جائے گا کہ سٹلائیٹ آپکے فون سے کتنی دور یے۔ یعنی آپ ایک سفئیر(آپ اسانی کے لیے دائرہ کہہ لیں) میں ہیں جسکا رداس اس فاصلے جتنا ہے جو آپکے فون نے معلوم کیا ہے۔ مگر آپ اس سفیئر میں آپ کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ (وضاحت کے لیے تصویر دیکھیں).

    مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپکی لوکیشن کہاں پر ہے۔ اسکے لیے اگر آپکے موبائل فون کو کم از کم تین سٹلائٹس سے بیک وقت سگنلز موصول ہوں(عموماً چار سے زیادہ بہتر لوکیشن ملتی ہے) تو اس سے تین سفیئرز بنیں گے جناک رداس ہر اُس فاصلے جتنا ہو گا جو آپکے فون نے معلوم کیا۔اسکا مطلب یہ کہ آپ ان تمام سفئیرزمیں بیک وقت ہونگے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ آپ یاک کی صورت ان سب میں ہونگے یعنی ان تمام سفیئرز کے مشترکہ مقام یا سنگم پر۔ یوں آپ کا فون آپکو اپنی ایگزیکٹ لوکیش بتانے کے قابل ہو جائے گا۔اس اُصول کا ایک مشکل سا سائنسی نام بھی ہے جسے ٹرائلیٹریشن(Trilateration) کہتے ہیں۔

    اب آپکی لوکیشن کو استعمال کر کے گوگل میپ پہلے سے بنائے گئے زمین کے نقشے میں آپکی لوکیشن کے حساب سے آپکی منزل مقصود تک کا راستہ آپکو بتائے گا۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ سٹلائیٹ زمین سے اوپر خلا میں اتنہائی تیزی سے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وقت کسی شے کی رفتار کے مطابق بہتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ گریویٹی کی وجہ سے وقت سست روی سے بہتا ہے۔ اور سٹلائیٹ چونکہ زمین سے دور ہوتے ہیں تو ان پر زمین کی گریویٹی کا اثر کم ہوتا ہے۔ لہذا سٹلائیٹس پر وقت تیزی سے گزرتا ہے بنسبت زمین کی سطح پر۔ یہ سب ہمیں آئن سٹائن کی ریلیٹویٹی تھیوری بتاتی ہے(جی سائنس میں تھیوری عام فہم والی تھیوری نہیں بلکہ ثابت شدہ تھیوری کو کہتے ہیں جسکا کوئی استعمال بھی ہو)۔ لہذا اگر ہم وقت کے سٹلائیٹ پر تیزی سے گزرنے کے عمل کو لوکیشن معلوم کرنے میں شامل نہیں کریں گے تو سچ میں آپ لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں قصور کسی بیچارے لاہوری کا نہیں ہوگا بلکہ آپکا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کی تھیوری از جسٹ تھیوری۔

  • مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو کا مطلب ہے چھوٹا اور سیفلی کا مطلب ہے سر تو اس اصطلاح کا مطلب ہوا چھوٹا سر۔ یہ ایک نیورولاجیکل کنڈیشن ہے جس میں ماں کی کوکھ میں ہی یا پیدائش کے بعد بچے کا سر ایورج سے بہت زیادہ یا قدرے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اور پنجاب میں ان بچوں کو زمانہ جاہلیت میں "شاہ دولا پیر کے چوہے” کہا اور مانا جاتا تھا۔

    ان کو درباری ملنگ بنا کر ان کے ہاتھ میں کاسہ دے کر سبز کپڑے پہنا کر بھیک منگوائی جاتی تھی۔ یہ پریکٹس اب بھی خال خال دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ ان کو شاید ولی اللہ سمجھتے ہیں اور ان کو بھیک نہ دینا ان کا دل دکھا کر خود کو کسی مشکل میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان سے دعا بھی کرواتے ہیں۔ ان کی دعا میں وہی اثر ہے جو کسی بھی اور شخص کی دعا میں۔ پلیز اس غلط فہمی سے نکالیں خود کو باہر۔

    یہ سب جاہلیت ہے۔ ان کا کسی شاہ دولے پیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بچے پوری دنیا میں پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی وجوہات میں سے چند یہ ہیں۔

    1. حاملہ ماں کو متوازن غذا کا میسر نہ ہونا بچوں کی گروتھ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جہاں اور مسائل پیدا ہوتے وہیں مائیکرو سیفلی بھی اکثریت میں ماں کو اچھی غذا نہ ملنے سے رونما ہوتا ہے۔

    2. جنیٹک یا کروموسومل وجوہات بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔ جیسے ڈاؤن سنڈروم۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کا سر بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔

    3. حمل کے دوران حاملہ لڑکی کو ہونے والے انفیکشنز جیسا کہ زیکا وائرس، rubella, toxoplasmosis, cytomegalovirus, chickenpox وغیرہ

    4. دوران حمل بچے کے سر کو آکسیجن کا پورا نہ ملنا اسکی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اپنا ریگولر سکین ہمیشہ کسی ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروایا کریں۔ گائنی ڈاکٹر ریڈیالوجسٹ نہیں ہوتیں۔ وہ الگ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو صرف ایکسرے و الٹرا ساؤنڈ ہی کرتے ہیں۔

    5. حاملہ لڑکی کو (phenylketonuria (PKU ہونا۔ اس پی کے یو پر پھر کسی دن تفصیلی مضمون لکھوں گا۔

    6. بچے کی سر کی ہڈیوں کا وقت سے پہلے آپس میں جڑ جانا جسے ہم craniosynostosis کہتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا تو اس کے سر کی ہڈیوں ابھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو بعد میں جڑتی ہیں۔ مائیکرو سیفلی میں وہ جلدی جڑ جاتی ہیں۔ اور سر بڑا ہونے سے رک جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ کچھ ماحولیاتی عوامل بھی مائیکرو سیفلی کی وجہ بنتے ہیں۔ حاملہ لڑکی کا بہت زیادہ ادویات لینا، شراب یا نشہ آور چیزیں لینا الکوحل کا استعمال بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔

    مائیکرو سیفلی کے ساتھ مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    ڈویلپمنٹ کے پانچویں ایریاز بولنا، چلنا، سوچنا سمجھنا، اپنے کام خود کرنا، اور سوشلائزیشن میں واضح ڈی لے ہوگا۔ فزیکل گروتھ بھی ایورج سے کم ہوگی۔ یہ بچے عموماً آپ کو مجموعی طور پر دبلے پتلے سے چھوٹے قد کے ہی نظر آتے ہیں۔ سر کے ساتھ قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے جسے Dwarfism کہتے ہیں۔

    لرننگ ڈس ابیلیٹیز یا ڈفی کلٹیز ہو سکتی ہیں۔
    چلنے پھرنے اور چلنے میں بیلنس قائم کرنے کے مسائل ابتدائی عمر میں کافی شدید ہوتے ہیں۔
    بچے بہت زیادہ روتے رہتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ڈس فیجیا Dysphagia بھی ہوتا ہے۔ یعنی وہ کوئی چیز نگلنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ سماعت سے جزوی یا مکمل محرومی ہو سکتی ہے۔ نظر کم ہو سکتی ہے۔ اور ہائپر ایکٹویٹی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھیں گے۔ ان کی جان کو سکون نہیں ہوگا۔

    کچھ کیسز میں جہاں علامات شدید ہوں۔ ان بچوں کی چند دن یا چند ماہ میں ہی وفات ہو جاتی ہے۔ ہر مائیکرو سیفلی اپنی وجوہات اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

    کچھ مائیکرو سیفلی تو بلکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا آئی کیو اور باقی سب کچھ نارمل ہوتا ہے۔ بس سر چھوٹا ہوتا ہے۔

    اور اکثریت میں ان بچوں کی زندگی نارمل گزر سکتی ہے۔ ان کو بس رحم اور ترس سے نکال کر تعلیم و تربیت دی جائے۔

    جیسے ہی بچہ پیدا ہو تو ہر ماہ اس کے سر کی پیمائش کریں۔ گھر پڑا انچ ٹیپ ہی استعمال کریں اور سینٹی میٹرز میں سر کو ماتھے سے پیچھے کی جانب گول ناپیں۔ اور ایک چارٹ تیار کریں جس پر 36 ماہ تک یہ پریکٹس جاری رکھیں۔ وزن اور قد بھی اس کے ساتھ لکھتے رہیں۔ جہاں کوئی ریڈ فلیگ نظر آئے کہ سر نہیں بڑھ رہا یا قد نہیں بڑھ رہا وزن نہیں بڑھ رہا تو کسی چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔

    علاج کیا ہے؟

    اس کا دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہاں ان بچوں پر سالہا سال محنت کرکے ہم ان کے معیار زندگی کو بلند اور بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کو تعلیم دے سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ہنر سکھا سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ٹریننگ دے سکتے ہیں۔ اور یہ اپنی زندگی بڑی آسانی سے مالی خود مختار ہوکر گزار سکتے ہیں۔ شادی کرکے بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے سے پاس آؤٹ دو مائیکرو سیفلی بچے بلال اور احمد الحمدللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک آلو چنے کا اپنی ہی گلی میں اسٹال لگا کر روزانہ 1 ہزار روپے تک منافع کما لیتا ہے۔ اور دوسرا لڑکا ایک فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ویٹر ہے۔ جس کی تنخواہ اور ٹپ ملا کر کوئی 20 ہزار ماہانہ کما رہا ہے۔ دونوں نوشہرہ ورکاں میں ہیں کوئی دوست جب بھی چاہے ان سے آکر میرے ساتھ خود مل سکتا ہے۔

    اگر ایک بچہ مائیکرو سیفلی پیدا ہو جائے تو دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے کم سے کم پروفیسر گائنی ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔ورنہ 25 فیصد زیادہ چانسز ہونگے دوسرا بچہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ڈاکٹرز پہلے بچے کی وجوہات کا تعین کرکے گائیڈ کرتی ہیں کہ اگلے بچے کو اس سے کیسے بچائیں مگر انتہائی قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر ہی ان معاملات میں گائیڈ کر سکتی ہیں۔

    بھیک مانگنے والے مائیکرو سیفلی کو پلیز ان حرام خور پیشہ ور بھکاریوں سے آزاد کریں۔ وہ ان کو ٹھیکے پر لے کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ آپ ترس کھا کر ان کو دس بیس دے دیتے اور یوں ہی نسل در نسل یہ بھیک کی لعنت مائیکرو سیفلی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی۔

  • جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری کائنات میں ایک اندازے کے مطابق زمین پر ریت کے ذروں سے بھی 26 گنا زیادہ ستارے ہیں یعنی یہ تعداد کھربوں میں ہے۔ کائنات اربوں نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں ہر روز ہزاروں ستارے جنم لیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر سال تقریبا 150 ارب نئے ستارے جنم لیتے مگر یہ تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود 90 فیصد ہائیڈروجن گیس اب تک ستاروں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملکی وے میں سب سے پرانے ستاروں کی عمر کا تعین کر کے ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہماری کہکشاں کو بنے کم از کم 13 ارب سال ہو چکے ہیں۔ یعنی یہ کائنات کے بننے کے تقریباً 80 کروڑ بعد بنی۔ ملکی وے میں ہر سال سورج یا سورج سے بڑے تقریباً 7 ستارے جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح اوسطاً دو ستارے جو سورج سے ماس میں کئی گنا بڑے ہوتے ہیں وہ سپرنووا بن کر پھٹتے ہیں جبکہ ایک کم ماس کا ستارہ پلینٹری نبیولا میں تبدیل ہوتا ہے۔ اب یہ پلینٹری نبیولا کیا بلا ہے؟ جب سورج یا سورج سے کچھ بڑے ستارے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں تو یہ پھیلنے لگتے ہیں۔مستقبل میں سورج بھی اپنے موجودہ سائز سے پھیلتے پھیلتے تقریباً 300 گنا بڑا ہو جائے گا اور یہ عطارد، زہرہ، اور زمین سب کو نگل لے گا۔ اسکے بعد سورج کی باہری سطح میں موجود تمام مواد جس میں گیسیں اورخلائی گرد موجود ہو گی آہستہ آہستہ باہر خارج ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یوں سورج اپنے انجام پر ایک۔پلینٹری نبیولا بن جائے گا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ سورج اور نظامِ شمسی کے دیگر سیارے بھی ایسے ہی 4.6 ارب سال پہلے ماضی کے کسی ستارے کے انجام پر بننے والے نبیولا سے بنے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر بے حد دلچسپ ہے کیونکہ یہ جمیز ویب خلائی دوربین جو اس وقت زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے، اس سے کھینچی گئی ہے۔ اس تصویر میں ایک ایسے ہی نبیولا کی گرد میں ایک ستارے کی پیدائش کو ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ستارہ جو ابھی مکمل ستارہ نہیں بنا بلکہ بننے کے قریب ہے، اسے پروٹوسٹار کہتے ہیں۔ اس تصویر میں درمیاں میں ایک چھوٹی سی لکیر نظر ا رہی ہو گی جو گرد کے اس بادل کو دو حصوں میں "ریت کی گھڑی” کی طرح تقسیم کر رہی ہے۔ یہ لکیر دراصل اتنی چھوٹی نہیں بلکی یہ نظامِ شمسی کی سائز کی ڈسک ہے اور یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ستارہ بننے کا عمل جاری ہے اور ایک جگہ گیس اکٹھی ہو رہی ہے جو مستقبل میں گریویٹی کے زیرِ اثر اس قدر درجہ حرارت حاصل کر لے گی کہ اس میں فیوژن کا عمل شروع ہو جائے گا اور یوں ایک ستارہ بنے گا۔ یہ عمل ہونے میں کئی لاکھوں سےکروڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ فی الحال اس عمل کو شروع ہوئے اندازاً ایک لاکھ سال ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح اس نبیولا میں موجود گرد میں نئے سیارے بنیں گے جن میں شاید زمین جیسا بھی کوئی سیارہ ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے لی گئی یہ تصویر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے ہم یہ جان سکیں گے کہ ماضی میں ایسے ہی کسی عمل کے تحت ہمارا سورج اور نظامِ شمسی کیسے بنے؟

    یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدود

    صلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئے

  • سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں شہابِ ثاقب!!

    آج سے 114 برس قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ وہاں سے کئی سو میل دور تک لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی جنگلی جانور ہلاک ہو گئے اور دو ہزار مربع کلومیٹر میں موجود 8 کروڑ درخت جل کر راکھ ہوگئے۔

    مگر زمین سے کوئی شے نہ ٹکرائی۔ عینی شاہدین نے آسمان پر سورج سے بھی روشن ایک ہلے نیلے رنگ کی آگ برساتی گیند دیکھی اور پھر اس قدر شدید دھماکہ ہوا کہ انکے پاؤں زمین سے اُکھڑ گئے۔ یہ واقعہ 1908 میں پیش آئے۔ اس واقعے کو گزرے کئی سال بیت گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قدر شدید دھماکہ کس شے کا تھا۔

    پھر 1927 میں سوویت سائنسدانوں ں کے ایک ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ چونکہ سائبریا بے حد وسیع و عریض ہے اور یہاں دور دور تک آبادی کم کم ہی ہوتی ہے لہذا اُس علاقے تک پہنچنا جہاں یہ دھماکہ ہوا بے حد مشکل تھا۔ سائنسدان اس تلاش میں تھے کہ اگر یہ دھماکا کسی شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہوا ہے تو ضرور زمین پر کوئی بہت بڑا گڑھا بنا ہو گا۔ مگر اّنکو مایوسی ہوئی۔ زمین پر اس علاقے میں کوئی گڑھا موجود نہیں تھا۔ اس سے کئی تھیوریوں نے جنم لیا مثال کے طور پر یہ کوئی ایلنز کی سپیس شپ تھی یا کوئی منی بلیک ہول جو زمین کے اوپر سے گزرا وغیرہ وغیرہ ۔

    مگر آج سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ یہ دھماکہ شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہی ہوا۔ فرق بس اتنا تھا کہ وہ زمین کے بے حد قریب آنے کے بعد ہی ہوا میں مکمل طور پر جل گیا۔

    سائنسدان ایسا کیوں مانتے ہیں؟

    دراصل اسی جیسا ایک اور واقعہ 2013 میں روس کے علاقے چیلیابنسک میں پیش آیا۔ جب ایک قدرے چھوٹا شہابِ ثاقب اسی طرح زمین کے بہت قریب آ کر فضا میں پھٹا جس سے کافی نقصان ہوا مگر زمین پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔

    اس نئے واقعے سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ شہابِ ثاقب زمین کے بالکل قریب آ کر ہوا میں بھی تحلیل ہو سکتے ہیں۔
    مزید کمپیوٹر سملولیشنز اور ماڈلز کے ذریعے اس دھماکے سے ہونے والی تباہی اور تباہ شدہ علاقے کا ڈیٹا استعمال کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ چیلیابنسک میں 2013 میں گرنے والا شہابِ ثاقب دراصل کتنا بڑا تھا اور اس کے پھٹنے سے کتنی توانائی خارج ہوئی۔

    تو یہ شہابِ ثاقب دراصل 19 میٹر کے سائز کی ایک چٹان تھی جس سے 550 کلوٹن کا دھماکہ ہوا۔یاد ریے ایک کلوٹن دراصل ایک ہزار ٹی این ٹی آتشگیر مادے سے ہونے والے دھماکے کی شدت ہوتی یے۔

    اس واقعے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ اس طرح کے واقعات زمین پر دوبارہ کب ہو سکتے ہیں تو زمین کے گرد اور نظامِ شمسی میں موجود شہابیوں کی تعداد سے یہ انکشاف ہوا کہ اوسطاً ہر دس سے سو سال کے درمیان ایسا ہی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    لہذا ناسا اب ممکنہ طور پر زمین کو کسی شہابِ ثاقب کی تباہی سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے اور ایک ابتدائی مشن بھی بھیج چکا ہے جسکا مقصد ایک شہابئے کا رخ موڑ کر اسے زمین سے دور ہٹانا ہے۔

  • دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں میں دمدار ستاروں کا زمین سے دِکھنا، نحوست یا زمین پر کسی بڑی آفت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ قدیم ایرانی دمدار ستارے دیکھ کر اُس ملک پر جنگ کر دیتے جس طرف اس ستارے کی دم ہوتی۔

    رومی دُمدار ستارے دیکھ کر ڈر جاتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ غرض دم دار ستاروں کا نظر آنا کسی طور اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    صدیاں ان بوسیدہ تصوارت میں گزر گئیں۔۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ آسمان میں اچانک نظر آتے یہ دم لگے روشن اجسام کیا ہیں؟ پھر ستروییں صدی میں دوربین ایجاد ہوئی۔ آسمانوں کی جانب دیکھا جانے لگا۔ کائنات کے راز کھلتے گئے۔

    یہ 14 نومبر 1680 کی ایک سرد رات تھی۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کوبُرگ میں بیٹھا جرمن ماہرِ فلکیات گوٹفرائڈ کیرخ ایک روشن دمدار ستارے کو خلا میں زمیں کی جانب بڑھتا دیکھتا ہے۔ یہ ابھی زمین سے نظر نہیں آیا تھا کہ گوٹفرائڈ نے اسے دیکھ لیا۔ بعد میں یہ دمدار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے پر نظر آیا۔ یہ اتنا روشن تھا کہ دن کے وقت بھی نظر آتا۔ اس دمدار ستارے کو نام دیا گیا "دی گریٹ کومٹ آف 1680” یعنی 1680 کا عظیم دمدار ستارہ۔

    اس دریافت کے بعد دمدار ستاروں کے متعلق علم بہتر ہوتا گیا۔ اور آج سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ ہم جسے دمدار ستارہ کہتے ہیں یہ دراصل ستارہ نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں سورج کے گرد گھومتے چھوٹے چھوٹے جمی گیس ،برف، چٹانوں یا گرد کے بنے سیارچے ہیں جو سورج کے گرد ایک طویل اور بیضوی مدار میں گھومتے ہیں۔ یہ چمکتے اس لیے ہیں کہ ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ جب یہ اپنے مدار میں سورج اور زمین کے بیچ آتے ہیں تو سورج کے قریب آنے سے اُسکی روشنی اِنکو گرم کرتی ہے اور ان میں جمی گیسیں باہر کو نکلتی ہیں جو دم کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہیں اور یوں ان اجسام کی دم سی نظر آتی ہے۔
    تو دراصل عرفِ عام میں یہ دمدار ستارے بیچارے ستارے نہیں بلکہ سورج کی روشنی سے گرم ہوتے سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے دم کی صورت گیسوں کی لکیر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے ہوا میں اڑتے جہاز کا دھواں سورج کی روشنی میں نمایاں دکھتا ہے۔

    ان دمدار ستاروں کا مدار سورج کے گرد کئی سو سال تک کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر دمدار ستارے کئی صدیوں یا دہائیوں بعد نظر آتے ہیں۔ ہمارے نظامِ شمسی میں اب تک ڈھونڈے گئے دمدار ستاروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے اوپر ہے۔ مگر انکی کل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    سائنس کی دنیا میں ایک اہم دمدار ستارہ 1P/Halley یا عرف عام میں ہیلی کومٹ ہے جسے آخری بار 1986 میں زمین سے دیکھا گیا۔ یہ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلی بار ماہرین ِ فلکیات کو علم ہوا کہ دمدار ستارے محض ایک بار نہیں بلکہ سالوں کے وقفے سے بار بار بھی نظر آ سکتے ہیں۔ ہیلی دوبارہ 2061 میں زمین سے نظر آئے گا کیونکہ یہ تقریباً ہر 75 سے 79 سال بعد زمین سے نظر آتا ہے۔

    سو دمدار ستارے نہ ہی ستارے ہوتے ہیں اور نہ ہی منحوس!!

  • W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    پاکستان کے آسمان میں رات کے وقت ستاروں کا ایک بہت خاص جھرمٹ نظر آتا ہے ، شمال کی طرف ایک بڑے سے W کی شیپ میں بنا جھرمٹ ۔

    آج سے 450 سال پہلے اس جھرمٹ میں ایک بڑا واقعہ ہوا تھا ، اب تک صرف آٹھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انسان نے ننگی آنکھ سے دیکھا ہے ، اس واقعے کے متعلق میں آپ کو اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے چیپٹر میں اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو دیا ایک بہت بڑا تحفہ ڈسکس ہونا ہے ، زبان کا تحفہ ، اسی تحفے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا پیغام دیا تھا یعنی قرآن پاک کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وہ بھی ایک ایسی عربی زبان جس کی چار مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے ۔

    لیکن الشعراء (26:195) میں اس تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا ہے ’’عربی مبین‘‘

    میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے اس لفظ مبین کا کیا ترجمہ پڑھا ہے ؟

    موسٹلی اس کا ترجمہ …

    ’’صاف اور واضح عربی زبان‘‘

    لکھا ہوا ہے ، جو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک ترجمہ میں آپ کو بتاؤں ؟

    ’’ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ lead کرے‘‘

    اور اب میں آپ کو ستاروں کے اس جھرمٹ میں ہونے والے واقعے کے متعلق بتاتا ہوں ، W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں … 11 نومبر 1572ء کی رات یعنی آج کی رات ، اس جھرمٹ میں ایک ستارہ پھٹا تھا جس نے ارسطو کے بتائے ہوئے آسمانوں کی صدیوں پرانی انڈرسٹینگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    اسے سینکڑوں لوگوں نے پھٹتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ سترہ مہینے تک آسمان میں ایک خوبصورت سے سرخ اور گلابی دائرے کی شکل میں نظر آتا رہا تھا ۔

    اسی ستارے کو دیکھ کر ملکہ الزبتھ ii نے اپنے دربار والوں سے رائے طلب کی تھی کہ ایک نیا خوبصورت ستارہ پیدا ہوا ہے ، تاج برطانیہ کو کیا کرنا چاہیئے ؟

    اسی ستارے کو دیکھ کر چائنہ میں ming dynasty کے دو شہزادوں کے درمیان ڑائی چھڑ گئی تھی کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا کیوں کہ ان کے مطابق ایک خوبصورت نیا ستارہ اگلے بادشاہ کے لیے بہت مبارک ثابت ہونا ہے ۔

    لیکن اس وقت ڈنمارک میں ایک سائنسدان tycho brahe بھی رہا کرتا تھا جس نے اس ستارے پر اپنی سائنٹیفک آبزرویشنز اپنی لاطین ڈائری میں لکھی تھیں جس کا اردو زبان میں مطلب ہے …

    ’’ایک ایسا خوبصورت ستارہ ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا‘‘

    اس ٹیکسٹ میں لکھا ہے کہ …

    ’’آسمان میں ایک نیا ستارہ پیدا ہوا ہے جو اپنے گلابی اور سرخ رنگ کی وجہ سے آسمان کی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتا ہے ، یہ سب سے الگ تھلگ ہے اور ہم اسے orf کہتے ہیں‘‘

    آج ہم اس ستارے کو SN-1572 کہتے ہیں یعنی 1572ء میں نظر آنے والا سوپرنووا (یعنی ایک پھٹتا ہوا ستارہ)

    یہاں تک پہنچ کر لوگ پھر سوپرنووا کی سائینس بیان کرنے لگ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ پندرہویں صدی ڈنمارک والوں نے اس ستارے کا نام orf کیوں رکھا ۔

    اسکا جواب میں آپ کو دیتا ہوں !

    کیوں کہ پندرہویں صدی ڈنمارک کے اس orf کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اٹھارہویں صدی کے ایک امیرکن شاعر edgar allan poe نے اپنی سب سے لمبی نظم لکھی تھی ۔

    اس نظم میں وہ ایک بہت اونچی اور خوبصورت جگہ کی بات کرتا ہے جو آسمانوں میں سب سے الگ ہے ، جنت اور جہنم دونوں سے الگ ، لیکن ایڈگر کی امیرکن انگلش میں ایسی جگہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور نہ ہی ٹائکو کی لاطین زبان میں ایسا لفظ تھا جو ایک خوبصورت بلند جگہ کو ڈیفائن کر سکے ۔

    لہٰذا ٹائکو نے اس ستارے کو orf کا نام دیا اور ایڈگر نے اپنی نظم کو aaraf کا نام دیا اور دونوں کے الفاظ orf اور aaraf کی انسپائریشن … القرآن کی ساتویں سورۃ … ’’الاعراف‘‘ تھی جس کا مطلب ہی ’’بلندیوں کی بھی بلندیاں‘‘ ہے ۔

    ایک ایسی flawless لینگوئج ، جس نے ڈنمارک اور امیرکہ میں بھی کسی نہ کسی صورت lead کیا ہے ، اپنا ’’عربی مبین‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔

    عربی مبین ، ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ باقی سب کو lead کر جائے ، سٹینڈرڈز سیٹ کر جائے ۔

    آپ نے کبھی سورۃ نجم پڑھی ہے ؟

    کبھی سورۃ نجم کی لینگوئج پر غور کیجیئے گا ، اس سورۃ کی لینگوئج اس قدر پاورفل ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں اسکا نزول ہوا تو اس پر آپ ﷺ نے بھی سجدۃ کیا ، آپؐ کے ساتھ جتنے لوگ تھے ان سب نے سجدۃ کیا ، آپؐ کے قرب میں جو بھی جن و انس تھے وہ سب سجدے میں گر پڑے حتیٰ کہ …

    اس سورۃ کی طاقت نے وہاں موجود کفار کو بھی سجدے میں گرا دیا تھا ، اور اس وقت وہاں جو بدترین کافر بوڑھا (امیۃ بن خلف) تھا وہ بھی resist نہ کر سکا اور یہاں تک مجبور ہو گیا کہ جھک کر مٹی اٹھائی اور اپنے ماتھے پر مل لی اور کہنے لگا ، میرے لیے بس یہی کافی ہے (مسلم 1297 ، مشکوٰۃ 1023).

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • واٹس ایپ  کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا۔

    واٹس ایپ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیٹنگ ایپس میں سے ایک رہی ہے۔ اسے روزانہ لاکھوں صارفین استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کی آسانی کے لیے وقتاًفوقتاً نئے فیچرز سامنے لاتا رہتا ہے۔ واٹس ایپ کے ٹیب بار میں صارفین کو دو نئے آئیکن دکھائی دے رہے ہیں ۔ صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ یہ آئیکن کن فیچرز کے لیے ہیں اور ان کا کیا مقصد ہے۔

    حال ہی میں متعارف کروایا گیا کمیونٹیز فیچر اب پاکستان اور اس کے ارد گرد کے خطے میں بھی صارفین کو مہیا کر دیا گیا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار کے اوپر بائیں کونے میں تین لوگوں کا آئیکن دکھایا گیا ۔ اسکو کلک کرتے ہی آپ کمیونٹیز میں شامل گروپس اور چیٹس کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہی فیچر ڈسک ٹاپ پر بھی دستیاب ہے۔ کمیونٹیز فیچرز کے تحت متعدد گروپس کو ایک ہی باکس میں شامل کیا جا سکتا ہے اور گروپ ایڈمن سمیت صارفین ایک ہی باکس میں جاکر معلومات حاصل کرنے سمیت معلومات کو منتقل بھی کر سکتے ہیں۔

    کمیونٹیز فیچرز کے تحت کوئی بھی ایڈمن ایک جیسے متعدد گروپ ایک ساتھ ایڈ کر سکتا ہے اور وہ ایک ہی چیٹ سے تمام گروپس میں میسج بھی بھیج سکتا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار میں نظر آنے والا کیمرے کا آئیکن بھی صارفین کے لیے نیا ہے۔ اس آئیکن کا کام تو پرانا ہے لیکن اسے ٹیب بار میں اوپر دائیں کونے میں سرچ بٹن کے ساتھ نئی جگہ دی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    پہلے کی طرح ہی اس آئیکن پر کلک کر کے صارفین براہ راست کیمرے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے بعد جسے چاہیں بھیج سکیں گے۔ اس سے قبل یہ آئیکن ٹیب بار میں بائیں جانب چیٹس کے ساتھ موجود تھا جہاں اب کمیونٹیز کے آئیکن کو جگہ دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس فیچر کو 3 نومبر کو دنیا بھر میں پیش کیا گیا تھا تاہم واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اسے تمام صارفین تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

  • سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1957 میں سویت یونین نے سپٹنیک کے نام سے پہلا انسانی سٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ یہ سٹلائیٹ ایک تجرباتی سٹلائیٹ تھا جسکا مقصد سٹلائیٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سٹلائیٹ کے ریڈیو کمیونکیشن کو چیک کرنا تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیش رفت کی۔ اس دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہوا اور بعد میں دنیا کے دیگر ترقی یاقتہ ممالک بھی۔

    سٹلائیٹ ٹیکنالوجی آج کے جدید دور کی کمیونکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جس سے آپ روز گوگل میپ کے ذریعے راستے معلوم کرتے ہیں اور دیگر کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 5500 سے زائد سٹلائیٹ زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جبکہ 2030 تک انکی تعداد 58 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان میں دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سٹلائیٹ بھی شامل ہیں اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بھی۔

    سیٹلائیٹ خلا میں مختلف طرح کے مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمیونیکیشن سٹلائیٹ جن سے ٹیلی وژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونکیشن کی جاتی ہے جیوسٹیشنری مدار میں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں۔ یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل کوریج کر سکتے ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے ریسورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔ یوں آپکے گھروں میں موجود ڈش اینٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سٹلائیٹ کے سگنل پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریبا 35 ہزار، 786 کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں۔ ان سے اوپر کے مدار میں موجود سٹلائٹس کو ہائی ارتھ آربٹ سٹلائٹ کہا جاتا ہے۔ اس مدار میں کم ہی سٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔

    اسی طرح کچھ سٹلائیٹ پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کی بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کیطرف زمین کا چکر لگاتے ہیں۔ اس طرح۔ سٹلائیٹ زمین کی محوری گردش کے باعث اسکے ہر حصے کو کور کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہونگے۔ مثال کے طور پر ایک سٹلائیٹ روزانہ 10 بج کر 15 منٹ پر لاہور کے اوپر سے گزرے گا یا شام کے 5 بجے ہر روز اسلام آباد کے اوپر سے(یہ محض مثال دے رہا ہوں). اس طرح کے سٹلائیٹ سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں با آسانی لے سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زیادہ تر موسموں کی پیشن گوئی ، طوفان اور زمین ہر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انکا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے 1000 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ پاکستانی خلائی ایجنسی سپارکو کا چائنہ میڈ سیٹلائٹ جسے 2018 میں بھیجا گیا وہ بھی ایسے ہی مدار میں گھوم رہا ہے۔

    ایسے ہی کچھ سٹلائیٹ لو ارتھ آربٹ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سٹلائٹ جو زمین سے کافی قریب ہوتے ہیں۔ کتنے؟ کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ 1 ہزار کلومیٹر ۔ ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ یا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھی شامل ہیں۔ یہ جیو سٹیشنری سٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپکو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے۔

    فہرست تو طویل ہے مگر ایک اور طرح کے سٹلائیٹ جو جی پی ایس سٹلائیٹ ہوتے ہیں وہ میڈیم ارتھ آربٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سٹلائیٹ کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپکے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس اینٹنا انکے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کے تحت زمین پر آپکی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے ڈھوند سکیں۔

    اُمید ہے اگلی بار آپ یہ نہیں کہیں گے کہ انسان تو آج تک خلا میں ہی نہیں گئے۔ اگر کہیں گے تو اُمید ہے کہ اپنے موبائل فون سے ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا میں موجود سٹلائیٹ ہی یہ مسیج ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رابطہ بن رہا ہوگا۔ اور اُمید ہے کہ اگر آپکو یہ یقین نہیں کہ انسان یا انسانوں کے بنائے سٹلائیٹ کبھی خلا میں نہیں گئے تو آپ گوگل میپس کی بجائے لوگوں سے راستہ پوچھنے پر اکتفا کریں گے(ایسے میں احتیاط کیجیے گا لاہوریوں سے راستہ مت پوچھیں۔ وہ آپکو مینارِ پاکستان کی بجائے شاہ دی کھوئی بھیج دیں گے)۔