Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

    اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

    مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

    مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

    اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

    یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔

  • پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ نے اکثر یہ محاورا سنا ہو گا کہ "کامیابی نے اُسکی زندگی میں چار چاند لگا دئے” جسکا مطلب کسی شخص یا شے کی عزت بڑھنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہے۔

    تو یہ محاورا حقیقتا نظامِ شمسی کے بونے سیارے پلوٹو پر صادق آتا ہے۔ 1930 میں دریافت ہونے والا سیارہ پلوٹو 2006 تک نظامِ شمسی کا نواں سیارہ کہلااتا تھا ۔ مگر پھر سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ "سیارے” کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا لہذا اب اسے محض "بونا سیارہ” کہا جاتا ہے۔

    گو پلوٹو اب نواں سیارہ نہیں ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پلوٹو بے حد خوبصورت سیارہ ہے۔ سورج سے تقریبا 3.7 ارب کلومیٹر دور یہ ننھا سا سیارہ ایک سرد مگر پراسرار دنیا ہے۔

    پلوٹو کی خوبصورتی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں بلکہ پانچ چاند!!

    جی ہاں اب تک پلوٹو کے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں جو تابعدار بچوں کی طرح پلوٹو کاکہا مانتے ہیں اور اسکے گرد گھومتے ہیں۔

    پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے Charon ہے یہ پلوٹو سے سائز میں آدھا ہے اور اسے 1978 میں دریافت کیا گیا۔

    اسی طرح 2005 میں ہبل ٹیلی سکوپ نے پلوٹو کے دو ننھے چاند دریافت کیے جنکو سائنس دانوں نے نام دیے Nix اور Hydra.

    پھر 2011 میں ایک اور چھوٹا چاند Kerberos دریافت ہو جو Hydra اور Nix کے درمیان کہیں موجود تھا۔

    پلوٹو کا پانچواں چاند Styx دریافت ہوا 2015 میں جب ناسا کے سائنسدانوں یہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پلوٹو کی طرف رواںNew Horizon نامی سپیس کرافٹ جب اسکے قریب سے گزرے گا تو کہیں کسی بڑی شے سے ٹکرا تو نہیں جائےگی۔ یہ پتہ کرتے اُنہیں حادثاتی طور پر پلوٹو کا پانچواں چاند دکھائی دیا۔

    یوں اب تک پلوٹو کے دریافت ہونے والے چاند کل پانچ ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پلوٹو کے یہ چاند بھی دراصل ماضی بعید میں پلوٹو سے کسی سیارے یا سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں بنے بالکل ویسے ہی جیسے آج سے 4.5 ارب سال پہلے نئی بنی زمین سے مریخ جتنا بڑا کوئی سیارہ ٹکرایا جس سے ہمارا چاند وجود میں آیا۔

  • سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ یہ سوچنے کا وہ انداز ہے جو آپ کو چیزوں کی حقیقت کی طرف لیکر جاتا ہے۔ کائنات کیسی ہے؟ کائنات کے اُصول کیا ہیں ؟ زندگی کیا ہے؟ زندگی کے اُصول کیا ہیں؟ یہ سب ہمیں سائنسی طرزِ فکر سے سمجھ میں آتے ہیں۔
    سائنس کی بنیاد حقائق اور منطق پر استوار ہے۔ سائنس میں محض تجربات اور مشاہدات سے سب نتائج اخذ نہیں ہوتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ریاضی کے اُصول اور ماڈلز بھی استعمال ہوتے ہیں؟ کیا ہم ستاروں پر تھرمامیٹر لے جا کر یا فیتے لے جا کر اُنکا درجہ حرارت یا فاصلہ ماپ سکتے ہیں؟ نہیں۔

    تو پھر ہم کیسے اِنکا فاصلہ یا درجہ حرارت جان پاتے ہیں؟

    کیونکہ ہم جانتے ہیں زمین پر کسی گرم شے سے نکلنے والی روشنی کے رنگ اُسکے درجہ حرارت سے منسلک ہیں۔ لوہا سخت گرم ہو تو دہکتے ہوئے انگارے کا رنگ دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گرم شے سے ایک خاص رنگ کی روشنی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص درجہ حرارت تک پہنچ جائے۔ تو کیا دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے رنگوں کو جان کر ہم نہیں بتا سکتے کہ وہاں درجہ حرارت کیا ہو گا؟

    ایسے ہی جب ہم اپنی دائیں آنکھ بند کر بائیں آنکھ سے سامنے پڑی کسی شے کو دیکھتے ہیں اور پھر یہی عمل بائیں آنکھ بند کر کے دائیں آنکھ سے دہراتے ہیں تو دونوں دفعہ سامنے رکھی شے کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب اس پوزیشن کے فرق سے ٹریگنومیٹری کے سادہ اُصولوں سے سامنے پڑی شے کا فاصلہ اسے بنا چھوئے ہی بتا سکتے ہیں۔ اسے Parallax کہتے ہیں۔ تو کیا عقل استعمال کرتے ہوئے اسی طریقے سے ہم سے ہزاروں نوری سال دور کے ستاروں کا فاصلہ معلوم نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں خود چل کر وہاں جانا ہو گا؟
    دراصل یہ وہ سائنسی طریقے ہیں جو سائنسی سوچ سے آتے ہیں کہ کیسے کسی مسئلے کا حل نکالنا ہے جو بالکل صحیح ہو۔

    ایسے ہی ماضی میں زمین پر یا نظامِ شمسی میں یا کائنات میں کیا ہوا تھا۔ یہ جب سائنس بتاتی ہے تو جنکو سائنس کی سمجھ نہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ "کیا آپ وہاں خود کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے؟” کیونکہ اّنکو دراصل علم نہیں یا اُنکا محدود علم اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ ماضی سے ملے فوسلز، پتھروں، شواہد اور طبیعیات، حیاتیات اور کیمیا کی تھیوریز پر بنے کمپیوٹر ماڈلز ہمیں ڈیٹا کی مدد سے ماضی میں لے جا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کیا کسی کُھدائی کے دوران دریافت ہونے والے شہر کے آثار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں شہر آباد تھا؟ کیا ہمیں خود ٹائم مشین لے جا کر وہاں جانا ہو گا اور تصاویر کھینچنی ہونگی کہ جی وہاں شہر تھا۔ نہیں!! یہاں بھی وہی اُصول استعمال ہونگے۔ کامن سینس اور منطق۔۔

    لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی سائنسی دریافت یا ایجاد کو رد کرنے یا اس پر سوال کرنے سے پہلے آپ یہ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا آپکو سائنسی طریقہ کار کا علم ہے یا نہیں۔

    اگر نہیں تو آپ سوال کر کے پوچھ سکتے ہیں مگر یہ کہہ کر رد کر دینا کہ آپکا محدود علم اسکا احاطہ نہیں کر پا رہا ، علمی بددیانتی اور آپکے علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

    لہذا سائنس سیکھیں اور ساتھ ساتھ سائنسی طرزِ فکر بھی کیونکہ ایک کے بغیر دوسری نا مکمل ہے۔

  • زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    بوسٹن: امریکا کی کلائمیٹ ٹاسک فورس کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی سطح سے نیچے گہرائی میں موجود گرم چٹانوں کا استعمال توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر منافع بخش ادارے کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’سُپر ہاٹ راک انرجی‘ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں کمرشل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    زمین کا مرکز بہت گرم ہے کہیں مرکز میں 7,952 ڈگری اور 10,800 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان۔ اگر ہم سطح سے نیچے کی کھدائی کر سکتے ہیں جسے سپر ہاٹ چٹان کہا جاتا ہے، تو ہم زمین کی حرارت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسے صفر کاربن کے ایک بڑے ذریعہ میں تبدیل کر سکتے ہیں

    کلین ایئر ٹاسک فورس، جو کہ ایک غیر منافع بخش آب و ہوا کی تنظیم ہے، کی جمعہ کو سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ کلین، بیس لوڈ سپر ہاٹ راک انرجی کے اس زمرے میں دیگر زیرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ساتھ لاگت سے مسابقتی ہونے کی صلاحیت ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کی جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے جیو تھرمل توانائی کی فنڈنگ اور پبلک پرائیوٹ شراکت داری عالمی توانائی کے نظاموں کے لیے کم لاگت والی صفر کاربن ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے۔ جبکہ اس کے استعمال کے لیے دیگر وسائل کی نسبت کم زمین درکار ہوگی۔

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائیوں میں اتنا پانی بھرا جائے گا کہ وہ ان چٹانوں تک پہنچے جن کا درجہ حرارت تقریباً 400 ڈگری سیلسیئس تک ہے۔ ان گرم چٹانوں پر پانی پہنچنے کے بعد جو بھانپ واپس آئے گی وہ جنریٹر چلائی گی۔

    جیوتھرمل توانائی کی جو قسم زیر استعمال ہے اس کا انحصار ایسی سطح کے قریب ہے جہاں درجہ حرارت اتنا گرم ہو تاکہ بھانپ بنائی جاسکے۔ اتنی گرم چٹانیں ڈھونڈنے کے لیے زمین میں 19.31 کلومیٹر تک کھدائی کرنی ہوگی۔

    کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک غیر منافع بخش جیوتھرمل تنظیم، ہاٹ راک انرجی ریسرچ آرگنائزیشن، اور ایک بین الاقوامی کلین انرجی کنسلٹنسی، LucidCatalyst، کو تجارتی پیمانے پر سپر ہاٹ راک بجلی کی سطحی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیشن بنایا۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    انہوں نے طے کیا کہ آخر کار اس کی لاگت 20 ڈالر سے 35 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کےدرمیان ہوسکتی ہےجو آج قدرتی گیس کے پلانٹس سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہے۔

    یہ ابھی تک حقیقت نہیں ہے کلین ایئر ٹاسک فورس کے چیف جیو سائنس دان اور رپورٹ کے مصنف، بروس ہل نے سی این بی سی کو بتایا کہ فی الحال، کوئی سپر ہاٹ راک جیوتھرمل انرجی سسٹم کام اور توانائی فراہم کرنے والا نہیں ہے۔ لیکن پیسہ تحقیقی منصوبوں اور کمپنیوں میں بہہ رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

  • اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی

    اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی

    اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی ورنہ ٹک اڑا دیا جائے گا.

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس میں تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں صارفین کے اکاؤنٹس کی ویریفکیشن کے لیے ہر ماہ 20 ڈالر لینے کا پلان بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا ہے تو صارفین کو 5 ڈالر ماہانہ پر ٹویٹر بلیو کو سبسکرائب کرنا پڑے گا یا اپنے “تصدیق شدہ” بیجز سے محروم ہونا پڑے گا، پہلے مرحلے میں ٹوئٹر اپنے صارفین سے بلیو ٹک سبسکرپشن کے لئے 20 ڈالر لینے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت ٹوئٹر پر پہلے سے تصدیق شدہ صارفین کے پاس سبسکرپشن حاصل کرنے کیلئے 3 ماہ کا وقت ہوگا، سبسکرپشن نہ لینے پر ان کا بلیو ٹک ختم کردیا جائے گا۔ ٹیسلا کے سی ای او کی جانب سے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور اس منصوبے کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن پلیٹ فارمر کے مطابق امکان ہے کہ تصدیق، ٹویٹر بلیو کا حصہ بن جائے گی۔

    ٹویٹر بلیو کو پچھلے سال جون میں پلیٹ فارم کی پہلی سبسکرپشن سروس کے طور پر شروع کیا گیا تھا جو ماہانہ سبسکرپشن کی بنیاد پر “پریمیم خصوصیات تک خصوصی رسائی” پیش کرتا ہے جس میں ٹویٹس میں ترمیم کرنے کی خصوصیت بھی شامل ہے۔ واضح رہے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، ٹیسلا کے بانی نے 44 ارب ڈالر کی ڈیل پوری ہونے کے بعد ٹوئٹر کے مالک بن چکے ہیں۔ جس کے فوری بعد انہوں نے ٹوئٹر کے سی ای او پاراگ اگروال کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    اس وقت ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد تقریباً 22 کروڑ 90 لاکھ ہے اور کمپنی کی جانب سے مئی کے آغاز میں تخمینہ لگایا گیا تھا کے اس کے 5 فیصد سے کم اکاؤنٹس جعلی یا اسپام ہیں۔ ایلون مسک نے کچھ عرصے قبل کہا تھا کہ ٹوئٹر سے اسپام بوٹس کو ہٹانا ان کی ترجیح میں شامل ہے اور اب انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ واقعی ٹوئٹر میں جعلی اور اسپام اکاؤنٹس کی تعداد مجموعی تعداد سے 5 فیصد کم ہے۔

  • خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپکی شادی کی ویڈیو بنی ہے جس میں آپ ایک کسی ہوئی شیروانی اور کُلے میں پھنسے کیمرے کو دانت دکھا رہے ہیں۔

    کھانا شروع ہوتا ہے تو اپکا کوئی رشتہ دار بوٹیوں پر ٹوٹتا ہے۔ کیمرے اس متوقع حملے کو اپنی میموری میں محفوظ کر لیتا ہے۔ دودھ پلائی کی رسم میں آپکی مونچھوں پر دودھ کی ایک لکیر لگی ہے اور کیمرا اسے بھی محفوظ کرتا ہے۔

    تین چار سال بعد آپ اس فلم کو اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے پلئیر پر چلاتے ہیں تو کیا آپ روشنی کی رفتار سے بھی تیز جا کر اپنی شادی کے سانحے تک پہنچ گئے ہیں؟ نہیں ناں۔ وجہ یہ کہ آپ ایک محفوظ شدہ شے کو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے نکال کر دیکھ رہے ہیں۔

    ایسے ہی آپکے دماغ میں بھی کئی خیالات اور میموریز روز بنتی ہیں۔ آپ سورج کو خیال میں تصور کر لیتے ہیں تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکے خیال کی "شپیڈ” روشںی کی رفتار سے زیادہ ہے؟ نہیں کیونکہ آپ اپنی میموری میں سے ایک چیز کو ویسے ہی نکال کر تصور کر رہے ہوتے ہیں جیسے شادی کے سانحے کی فلم کو کمپیوٹر پر۔

    کیا خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار سے تیز ہو سکتی ہے؟

    اس سے پہلے دو چیزیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اول کائنات میں کسی بھی انفارمیشن کی تیز سے تیز رفتار روشنی کی رفتار ہے۔ یہ کائنات کی حد رفتار ہے اس سے زیادہ رفتار پر کوئی انفارمیشن نہ بھیجی جا سکتی ہے اور نہ ہی موصول کی جا سکتی ہے۔

    دوم: انسانی دماغ نیورانز کا مرکب ہے۔ نیورانز دماغی خلیے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ برقی اور کیمیائی سگنلز دراصل چارچڈ پارٹیکلز جیسے کہ آئیز سے بنتے ہیں۔ اور سائنس یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی مادہ یا مادی ذرات روشنی کی رفتار یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کر سکتے۔

    اب جب آپکو یہ دونوں باتیں سمجھ آ گئی ہیں تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار یا اس سے تیز نہیں ہو سکتی۔ مگر خیال کی کتنی سپیڈ ہو گی؟ اسکا جواب اتنا سادہ نہیں کیونکہ یہ دماغ میں نیورانز کے کمیونکیشن پر منحصر ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خیال کی سپیڈ چند ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔

  • یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کردیں

    یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کردیں

    یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی ہیں۔

    یوٹیوب ایپ کے ڈیزائن میں کی جانے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عام بٹنز اور ٹولز کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
    یوٹیوب ایپ کا یہ نیا فیچر آپ کو ضرور پسند آئے گا اسی طرح چند نئے فیچرز بھی دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ سروس کا حصہ بنے ہیں۔ڈیزائن میں کی جانے والی تبدیلیوں اور فیچرز کے بارے میں جانیں جو اب تمام صارفین دستیاب ہیں۔
    یوزر انٹرفیس میں کی جانے والی تبدیلیاں

    یوٹیوب میں عام استعمال ہونے والے بٹنز جیسے لائیک، ڈس لائیک اور شیئر کو بدلا گیا ہے اور انہیں حقیقی معنوں میں بٹن بنادیا گیا ہے۔
    نیا ڈارک موڈ یوٹیوب نے ایپ کے بیک گراؤنڈ میں رنگوں کو بدل کر نئی اپ ڈیٹ میں ڈارک موڈ کو زیادہ ڈارک بنادیا ہے۔ اس تبدیلی کا مطالبہ متعدد یوٹیوب صارفین کافی عرصے سے کررہے تھے کیونکہ گرے شیڈ کو بیشتر افراد ڈارک تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اب نئے ڈارک موڈ میں سیاہ رنگ زیادہ نمایاں ہے اور اس پر سوئچ کرنے سے ڈیوائس کی بیٹری لائف بھی بڑھتی ہے۔
    کلرفل ایمبی اینٹ موڈ

    یہ موڈ ویڈیو سے کلر لے کر یوٹیوب یوزر انٹرفیس پر بکھیر دیتا ہے، یہ فیچر کسی تاریک کمرے میں ٹی وی دیکھنے کے دوران خارج ہونے والی روشنی اور رنگوں سے متاثر ہے۔ یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب آپ نے ڈارک موڈ کو ان ایبل کیا ہوا ہوگا۔
    Precision seeking
    اب 10 سیکنڈ فاسٹ فارورڈ یا ریورس کرنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اس نئے فیچر سے کسی ویڈیو کے مختلف حصوں کے تھمب نیل دیکھ کر براہ راست وہاں سے پلے کرنا ممکن ہوگا۔ پنچ ٹو زوم جیسے کسی تصویر کو اوپن کرکے آپ پنچ ٹو زوم یعنی چٹکی سے بڑا یا چھوٹا کرتے ہیں، اب ایسا یوٹیوب ویڈیو میں کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔بس ویڈیو کے جس حصے کو بڑا کرنا چاہتے ہیں وہاں انگلیاں رکھیں اور زوم کرلیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے
    پاکستان میں بچے بہت تیزی سے موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں. عالمی ادارہ صحت
    پاکستان سعودیہ سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس: توانائی کے شعبہ میں تعاون پر تبادلہ خیال پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ لبرٹی چوک کے کئی مقامات پر کارکنان کم پولیس اہلکار زیادہ
    پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا. وزیراعظم شہباز شریف

  • فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک 2015 متعارف کرائے جانے والے انسٹنٹ آرٹیکلز فیچر کوآئندہ برس ختم کرنے جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا، کی ذیلی کمپنی فیس بک کا کہنا تھا کہ یہ قدم اٹھائے جانے کی بنیادی وجہ اس کا ناکافی استعمال ہے۔

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    فیس بک کے ایک نمائندے کے مطابق فی الوقت فیس بک پر تین فی صد سے کم پوسٹ نیوز آرٹیکلز کے لنکس سے پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اور رواں برس کے شروع میں جس طرح کہا گیا کہ کاروبار کے اعتبار سے ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری کرنا معقول نہیں لگا جو صارفین کی ترجیحات نہیں ہوں۔

    فیس بک انسٹنٹ آرٹیکل کے فیچر کو 2023 کے اپریل کے وسط میں ختم کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ایسے تقریباً 37 ہزار پیجز ہیں جو یہ فیچر استعمال کر رہے ہیں۔

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں کہا تھا کہ فیس بک پر گزارے گئے تمام وقت کا 50 فیصد ویڈیو دیکھنےمیں آتا ہے، جبکہ ریلز فیس بک اور انسٹاگرام دونوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا مواد کی شکل ہےزکربرگ نےیہ بھی کہا تھاکہ فیس بک کے صارفین ‘یہ نہیں چاہتے کہ سیاست اور لڑائی ہماری خدمات پر ان کے تجربے پر قبضہ کرے۔

    اس طرح، میٹا مزید تفریحی ویڈیو مواد کو صارف کی فیڈز میں آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، جو AI پر مبنی سفارشات کی بنیاد پر دکھائے جا رہے ہیں، نہ کہ آپ کس کی پیروی کرتے ہیں اور/یا آپ کس سے منسلک ہیں۔ زکربرگ اسے فیس بک کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہ تبدیلی پہلے ہی صارف کے تجربے میں جھلک رہی ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    واضح رہے یہ فیچر آئی فون یا اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں استعمال کیے جانے والے ویب براؤزر سے 4.9 گُنا تیزی کے ساتھ آرٹیکلز کو لوڈ کرتے ہیں۔