Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ 1923 کی بات ہے جب انسان ابھی خلاؤں میں سفر کے خواب دیکھ رہا تھا , ایسے میں جرمن سائنسدان ہیرمان اوبرتھ جنہیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا یے ، نے ایک کتاب لکھی : "The Rocket into Planetary Space”.

    اس کتاب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے خدو خال اور خلا میں اسکے استعمال سے تسخیرِ کائنات کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔ اسی کتاب میں انہوں نے ذکر کیا کہ کیسے ایک دوربین کو راکٹ کے زریعے خلا میں زمین کے گرد مدار میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے چھپنے کے 23 سال بعد یعنی 1946 میں امریکی ماہرِ فلکی طبعیات "لےمین سپٹزر ” نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں جدید خلائی دوربین اور اسکے فوائد کا ذکر کیا۔ انکا مقدمہ یہ تھا کہ خلائی دوربین زمین کی خوربینوں کے مشاہدات میں اضافہ کے لئے نہیں بلکہ ایسے نئے مشاہدات کے حصول کے لیے بنائی جائےجو ہمیں کائنات کو نئی پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد دے۔

    کئی دہائیاں گزرنے اور کئی انسانوں کے سامنے یہ مقدمہ رکھنے کے بعد بالآخر وہ وقت آ گیا جب ناسا نے پہلی جدید خلائی دوربین ہبل کے نام سے 24 اپریل 1990 کو خلا میں بھیجی۔ انسانی تاریخ کی پہلی خلائی دوربین کا نام بیسوی صدی کے مشہور ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنہوں نے طویل کائناتی مشاہدات کے بات انسانوں کو خبر دی کہ وہ ایک ایسی کائنات کا حصہ ہیں جو مسلسل پھیل رہی ہے اوریہ کائنات محض ہماری کہکشاں ملکی وے نہیں بلکہ اربوں کہکشاؤں پر محیط ہے۔

    1977 سے تعمیر کی جانے والی یہ جدید خلائی دوربین جس پر آج کے افراطِ زر کے مطابق 16 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور جسے اپنے ہدف یعنی 1983 میں لانچ کرنے کی بجائے سات سال تاخیر سے یعنی 1990 میں، جب خلا میں بھیجا گیا تو اس سے موصول ہونے والی پہلی تصاویر نے سائنسدانوں کے ارمانوں ہر پانی پھیر دیا۔

    ہبل کی تصاویر دھندلی تھیں!! اسکے 2.4 میٹر بڑے مِرر میں معمولی سا خلل تھا جو اس پر پڑنے والی روشنی کو ایک جگہ جمع نہیں کر پا رہا تھا جس سے تصاویر دھندلی ہو رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے ہبل ٹیلکسکوپ زمین سے 547 کلومیٹر اوپر خلا میں تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اسکی مرمت کے لئے مشن بھیجا جائے۔ ہبل کی مرمت کے لئے پہلا مشن دسمبر 1993 میں بھیجا گیا۔ ڈیڑھ ہفتے سے زائد یہ مشن جاری رہا۔ اس مشن کے دوران خلا میں ناسا کی سپیس شٹل کے ذریعے خلاباز ہبل ٹیلکسکوپ کی مرمت کرتے رہے۔اسکےساتھ ساتھ زمین پر ناسا کے انجینئرز دن رات اس مرمت کا جائزہ لیتے رہے اور اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ہبل سے آنے والی تصاویر بہتر سے بہتر ہو جائیں۔ بالآخر یہ مشن کامیاب رہا۔ ہبل صحیح سے کام کرنے لگی۔

    اس مرمت کے 4 سال بعد یعنی 1997 میں ایک دوسرے مشن کے ذریعے ہبل کے مشاہدہ کرنے کے آلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اب تک ہبل کی مرمت اور اسکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کل پانچ مشنز بھیجے جا چکے ہیں جن میں آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا۔

    ہبل ٹیلی سکوپ خلا میں انسان کی پہلی آنکھ تھی۔ اس ٹیلی سکوپ نے ہمیں بتایا کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ کائنات انسان کی سوچ سے بھی وسیع ہے۔

    ہبل نے ہمیں بتایا کہ یہاں ستاروں کو کھا جانے والے بلیک ہولز بھی ہیں اور ایسے ستارے بھی جو سورج سے ہزاروں گنا بڑے۔ یہاں ہر روز نئے ستارے بنتے بھی ہیں اور اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔
    یہاں ہمارے نظامِ شمسی کے علاوہ اربوں نظامِ شمسی ہیں اور زمین کیطرح کے لاتعداد سیارے بھی۔ یہاں مشتری کے چاند بھی ہیں جن میں بانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور اسی سرد دنیائیں بھی جنکی برفیلی تہوں میں گرم پانیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔ یہاں ایسے سیارے بھی ہیں جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے اور ایسے بھی جنکے آسمانوں سے آگ برستی ہے۔
    یہاں ایسی کہکشائیں بھی ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں اتنی دور کہ ہماری آنے والی نسلیں اّنہیں دیکھ بھی نہ پائیں گی۔ ممکن ہے اُن کہکشاؤں میں بھی کہیں انسان بستے ہوں جن سے ہم کبھی رابطہ نہ کر سکیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہ ہبل پر اتنا پیسہ لگا کر انسانیت نے کیا حاصل کیا؟
    میں کہتا ہوں کہ ہبل ٹیلیسکوپ نے انسانوں کو کائنات کی وسعتوں میں اپنے مقام سے آگاہ کیا ہے۔کیا اس سے بڑی بات کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟

    ہبل دراصل خلا میں ہماری ظاہری آنکھ نہیں باطن کی آنکھ ہے جس سے ہم ادراک پاتے ہیں کہ کائنات میں ہماری حیثیت ایک چھوٹے سے سیارے پر گھومتی مخلوق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم جو آئے روز ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، نظریات کے نام پر نفرتوں کے بیچ بوتے ہیں، اپنی انا کے جھوٹے دائروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں انسانیت کا قتل کرتے ہیں۔ ہم اس وسیع کائنات میں کس قدر اکیلے ہیں۔ ہبل کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اگر آپکی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں آتے تو آپ اندر سے مر چکے ہیں۔ کائنات میں زندہ رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھا جائے۔

    30 سال سے خلا میں کام کرتی یہ دوربین ہبل شاید 2040 تک ہمیں مزید فلکی نظارے دکھائے گی۔ جسکے بعد یہ اپنے مدار سے نکل کر تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہو گی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ جس سے خلا میں انسانی تسخیر کے ایک عہد ساز باب کا اختتام ہو گا۔

    مگر جب تک ہبل خلا میں کام کر رہی ہے، تب تک: ” ہبل تو جیے سالہا سال!!!”

  • آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی.

    موسم کے بارے میں لگ بھگ 10 روز قبل پیش گوئی کرنے کے لیے کراچی سمیت ملک بھر میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے جب کہ اے ڈبلیو ایس کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے رقم مہیا کی جائے گی۔ آٹومیٹک ویدر اسٹیشن کے ذریعے درجہ حرارت، ہوا کی رفتار و سمت، نمی کا تناسب، بادلوں کی بلندی، حد نگاہ سمیت دیگر موسمی صورتحال کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔ جناح ٹرمینل سمیت شہر کے 5 مقامات پر آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز پہلے سے فعال ہیں۔

    ہائیڈرومیٹ اینڈ کلائمٹ سروسز پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے حکومت پاکستان کے ذریعے محکمہ موسمیات کو سافٹ لون دیا جائے گا، جس کے تحت پورے پاکستان میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے۔ چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کے مطابق شہرقائد سمیت سندھ بھر میں 55 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز کی تنصیب ہو گی، صوبے میں اس وقت ویدر اسٹیشنز کی تعداد 17 ہے جبکہ بیشتر اضلاع میں موسمی پیش گوئی کے آلات نصب نہیں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    اس منصوبے کے تحت ہر تحصیل میں ایک ویدر اسٹیشن لگایا جائے گا، منصوبے کے لیے محکمہ زراعت اور آبپاشی کی زمینیں حاصل کی جائیں گی جبکہ ملک کے باقی صوبوں میں بھی اے ڈبلیو ایس کی تنصیب سرکاری اراضی پر عمل میں لائی جائیگی۔ محکمہ موسمیات نے اس سے قبل اپنے ریڈار بجٹ کے ذریعے 5 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز نصب کیے، جن پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ ورلڈ بینک سے رقم موصول ہونے کے بعد پیپرا رولز کے تحت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹینڈر طلب کیا جائے گا، اس منصوبے اور اس سے منسلک ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل ہونے والے دیگر منصوبوں کی تکمیل میں ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگے گا۔

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

    اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

    مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

    مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

    اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

    یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔

  • پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ نے اکثر یہ محاورا سنا ہو گا کہ "کامیابی نے اُسکی زندگی میں چار چاند لگا دئے” جسکا مطلب کسی شخص یا شے کی عزت بڑھنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہے۔

    تو یہ محاورا حقیقتا نظامِ شمسی کے بونے سیارے پلوٹو پر صادق آتا ہے۔ 1930 میں دریافت ہونے والا سیارہ پلوٹو 2006 تک نظامِ شمسی کا نواں سیارہ کہلااتا تھا ۔ مگر پھر سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ "سیارے” کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا لہذا اب اسے محض "بونا سیارہ” کہا جاتا ہے۔

    گو پلوٹو اب نواں سیارہ نہیں ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پلوٹو بے حد خوبصورت سیارہ ہے۔ سورج سے تقریبا 3.7 ارب کلومیٹر دور یہ ننھا سا سیارہ ایک سرد مگر پراسرار دنیا ہے۔

    پلوٹو کی خوبصورتی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں بلکہ پانچ چاند!!

    جی ہاں اب تک پلوٹو کے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں جو تابعدار بچوں کی طرح پلوٹو کاکہا مانتے ہیں اور اسکے گرد گھومتے ہیں۔

    پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے Charon ہے یہ پلوٹو سے سائز میں آدھا ہے اور اسے 1978 میں دریافت کیا گیا۔

    اسی طرح 2005 میں ہبل ٹیلی سکوپ نے پلوٹو کے دو ننھے چاند دریافت کیے جنکو سائنس دانوں نے نام دیے Nix اور Hydra.

    پھر 2011 میں ایک اور چھوٹا چاند Kerberos دریافت ہو جو Hydra اور Nix کے درمیان کہیں موجود تھا۔

    پلوٹو کا پانچواں چاند Styx دریافت ہوا 2015 میں جب ناسا کے سائنسدانوں یہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پلوٹو کی طرف رواںNew Horizon نامی سپیس کرافٹ جب اسکے قریب سے گزرے گا تو کہیں کسی بڑی شے سے ٹکرا تو نہیں جائےگی۔ یہ پتہ کرتے اُنہیں حادثاتی طور پر پلوٹو کا پانچواں چاند دکھائی دیا۔

    یوں اب تک پلوٹو کے دریافت ہونے والے چاند کل پانچ ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پلوٹو کے یہ چاند بھی دراصل ماضی بعید میں پلوٹو سے کسی سیارے یا سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں بنے بالکل ویسے ہی جیسے آج سے 4.5 ارب سال پہلے نئی بنی زمین سے مریخ جتنا بڑا کوئی سیارہ ٹکرایا جس سے ہمارا چاند وجود میں آیا۔

  • سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ یہ سوچنے کا وہ انداز ہے جو آپ کو چیزوں کی حقیقت کی طرف لیکر جاتا ہے۔ کائنات کیسی ہے؟ کائنات کے اُصول کیا ہیں ؟ زندگی کیا ہے؟ زندگی کے اُصول کیا ہیں؟ یہ سب ہمیں سائنسی طرزِ فکر سے سمجھ میں آتے ہیں۔
    سائنس کی بنیاد حقائق اور منطق پر استوار ہے۔ سائنس میں محض تجربات اور مشاہدات سے سب نتائج اخذ نہیں ہوتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ریاضی کے اُصول اور ماڈلز بھی استعمال ہوتے ہیں؟ کیا ہم ستاروں پر تھرمامیٹر لے جا کر یا فیتے لے جا کر اُنکا درجہ حرارت یا فاصلہ ماپ سکتے ہیں؟ نہیں۔

    تو پھر ہم کیسے اِنکا فاصلہ یا درجہ حرارت جان پاتے ہیں؟

    کیونکہ ہم جانتے ہیں زمین پر کسی گرم شے سے نکلنے والی روشنی کے رنگ اُسکے درجہ حرارت سے منسلک ہیں۔ لوہا سخت گرم ہو تو دہکتے ہوئے انگارے کا رنگ دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گرم شے سے ایک خاص رنگ کی روشنی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص درجہ حرارت تک پہنچ جائے۔ تو کیا دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے رنگوں کو جان کر ہم نہیں بتا سکتے کہ وہاں درجہ حرارت کیا ہو گا؟

    ایسے ہی جب ہم اپنی دائیں آنکھ بند کر بائیں آنکھ سے سامنے پڑی کسی شے کو دیکھتے ہیں اور پھر یہی عمل بائیں آنکھ بند کر کے دائیں آنکھ سے دہراتے ہیں تو دونوں دفعہ سامنے رکھی شے کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب اس پوزیشن کے فرق سے ٹریگنومیٹری کے سادہ اُصولوں سے سامنے پڑی شے کا فاصلہ اسے بنا چھوئے ہی بتا سکتے ہیں۔ اسے Parallax کہتے ہیں۔ تو کیا عقل استعمال کرتے ہوئے اسی طریقے سے ہم سے ہزاروں نوری سال دور کے ستاروں کا فاصلہ معلوم نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں خود چل کر وہاں جانا ہو گا؟
    دراصل یہ وہ سائنسی طریقے ہیں جو سائنسی سوچ سے آتے ہیں کہ کیسے کسی مسئلے کا حل نکالنا ہے جو بالکل صحیح ہو۔

    ایسے ہی ماضی میں زمین پر یا نظامِ شمسی میں یا کائنات میں کیا ہوا تھا۔ یہ جب سائنس بتاتی ہے تو جنکو سائنس کی سمجھ نہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ "کیا آپ وہاں خود کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے؟” کیونکہ اّنکو دراصل علم نہیں یا اُنکا محدود علم اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ ماضی سے ملے فوسلز، پتھروں، شواہد اور طبیعیات، حیاتیات اور کیمیا کی تھیوریز پر بنے کمپیوٹر ماڈلز ہمیں ڈیٹا کی مدد سے ماضی میں لے جا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کیا کسی کُھدائی کے دوران دریافت ہونے والے شہر کے آثار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں شہر آباد تھا؟ کیا ہمیں خود ٹائم مشین لے جا کر وہاں جانا ہو گا اور تصاویر کھینچنی ہونگی کہ جی وہاں شہر تھا۔ نہیں!! یہاں بھی وہی اُصول استعمال ہونگے۔ کامن سینس اور منطق۔۔

    لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی سائنسی دریافت یا ایجاد کو رد کرنے یا اس پر سوال کرنے سے پہلے آپ یہ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا آپکو سائنسی طریقہ کار کا علم ہے یا نہیں۔

    اگر نہیں تو آپ سوال کر کے پوچھ سکتے ہیں مگر یہ کہہ کر رد کر دینا کہ آپکا محدود علم اسکا احاطہ نہیں کر پا رہا ، علمی بددیانتی اور آپکے علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

    لہذا سائنس سیکھیں اور ساتھ ساتھ سائنسی طرزِ فکر بھی کیونکہ ایک کے بغیر دوسری نا مکمل ہے۔

  • زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    بوسٹن: امریکا کی کلائمیٹ ٹاسک فورس کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی سطح سے نیچے گہرائی میں موجود گرم چٹانوں کا استعمال توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر منافع بخش ادارے کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’سُپر ہاٹ راک انرجی‘ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں کمرشل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    زمین کا مرکز بہت گرم ہے کہیں مرکز میں 7,952 ڈگری اور 10,800 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان۔ اگر ہم سطح سے نیچے کی کھدائی کر سکتے ہیں جسے سپر ہاٹ چٹان کہا جاتا ہے، تو ہم زمین کی حرارت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسے صفر کاربن کے ایک بڑے ذریعہ میں تبدیل کر سکتے ہیں

    کلین ایئر ٹاسک فورس، جو کہ ایک غیر منافع بخش آب و ہوا کی تنظیم ہے، کی جمعہ کو سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ کلین، بیس لوڈ سپر ہاٹ راک انرجی کے اس زمرے میں دیگر زیرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ساتھ لاگت سے مسابقتی ہونے کی صلاحیت ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کی جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے جیو تھرمل توانائی کی فنڈنگ اور پبلک پرائیوٹ شراکت داری عالمی توانائی کے نظاموں کے لیے کم لاگت والی صفر کاربن ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے۔ جبکہ اس کے استعمال کے لیے دیگر وسائل کی نسبت کم زمین درکار ہوگی۔

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائیوں میں اتنا پانی بھرا جائے گا کہ وہ ان چٹانوں تک پہنچے جن کا درجہ حرارت تقریباً 400 ڈگری سیلسیئس تک ہے۔ ان گرم چٹانوں پر پانی پہنچنے کے بعد جو بھانپ واپس آئے گی وہ جنریٹر چلائی گی۔

    جیوتھرمل توانائی کی جو قسم زیر استعمال ہے اس کا انحصار ایسی سطح کے قریب ہے جہاں درجہ حرارت اتنا گرم ہو تاکہ بھانپ بنائی جاسکے۔ اتنی گرم چٹانیں ڈھونڈنے کے لیے زمین میں 19.31 کلومیٹر تک کھدائی کرنی ہوگی۔

    کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک غیر منافع بخش جیوتھرمل تنظیم، ہاٹ راک انرجی ریسرچ آرگنائزیشن، اور ایک بین الاقوامی کلین انرجی کنسلٹنسی، LucidCatalyst، کو تجارتی پیمانے پر سپر ہاٹ راک بجلی کی سطحی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیشن بنایا۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    انہوں نے طے کیا کہ آخر کار اس کی لاگت 20 ڈالر سے 35 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کےدرمیان ہوسکتی ہےجو آج قدرتی گیس کے پلانٹس سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہے۔

    یہ ابھی تک حقیقت نہیں ہے کلین ایئر ٹاسک فورس کے چیف جیو سائنس دان اور رپورٹ کے مصنف، بروس ہل نے سی این بی سی کو بتایا کہ فی الحال، کوئی سپر ہاٹ راک جیوتھرمل انرجی سسٹم کام اور توانائی فراہم کرنے والا نہیں ہے۔ لیکن پیسہ تحقیقی منصوبوں اور کمپنیوں میں بہہ رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

  • اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی

    اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی

    اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی ورنہ ٹک اڑا دیا جائے گا.

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس میں تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں صارفین کے اکاؤنٹس کی ویریفکیشن کے لیے ہر ماہ 20 ڈالر لینے کا پلان بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا ہے تو صارفین کو 5 ڈالر ماہانہ پر ٹویٹر بلیو کو سبسکرائب کرنا پڑے گا یا اپنے “تصدیق شدہ” بیجز سے محروم ہونا پڑے گا، پہلے مرحلے میں ٹوئٹر اپنے صارفین سے بلیو ٹک سبسکرپشن کے لئے 20 ڈالر لینے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت ٹوئٹر پر پہلے سے تصدیق شدہ صارفین کے پاس سبسکرپشن حاصل کرنے کیلئے 3 ماہ کا وقت ہوگا، سبسکرپشن نہ لینے پر ان کا بلیو ٹک ختم کردیا جائے گا۔ ٹیسلا کے سی ای او کی جانب سے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور اس منصوبے کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن پلیٹ فارمر کے مطابق امکان ہے کہ تصدیق، ٹویٹر بلیو کا حصہ بن جائے گی۔

    ٹویٹر بلیو کو پچھلے سال جون میں پلیٹ فارم کی پہلی سبسکرپشن سروس کے طور پر شروع کیا گیا تھا جو ماہانہ سبسکرپشن کی بنیاد پر “پریمیم خصوصیات تک خصوصی رسائی” پیش کرتا ہے جس میں ٹویٹس میں ترمیم کرنے کی خصوصیت بھی شامل ہے۔ واضح رہے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، ٹیسلا کے بانی نے 44 ارب ڈالر کی ڈیل پوری ہونے کے بعد ٹوئٹر کے مالک بن چکے ہیں۔ جس کے فوری بعد انہوں نے ٹوئٹر کے سی ای او پاراگ اگروال کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    اس وقت ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد تقریباً 22 کروڑ 90 لاکھ ہے اور کمپنی کی جانب سے مئی کے آغاز میں تخمینہ لگایا گیا تھا کے اس کے 5 فیصد سے کم اکاؤنٹس جعلی یا اسپام ہیں۔ ایلون مسک نے کچھ عرصے قبل کہا تھا کہ ٹوئٹر سے اسپام بوٹس کو ہٹانا ان کی ترجیح میں شامل ہے اور اب انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ واقعی ٹوئٹر میں جعلی اور اسپام اکاؤنٹس کی تعداد مجموعی تعداد سے 5 فیصد کم ہے۔

  • خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپکی شادی کی ویڈیو بنی ہے جس میں آپ ایک کسی ہوئی شیروانی اور کُلے میں پھنسے کیمرے کو دانت دکھا رہے ہیں۔

    کھانا شروع ہوتا ہے تو اپکا کوئی رشتہ دار بوٹیوں پر ٹوٹتا ہے۔ کیمرے اس متوقع حملے کو اپنی میموری میں محفوظ کر لیتا ہے۔ دودھ پلائی کی رسم میں آپکی مونچھوں پر دودھ کی ایک لکیر لگی ہے اور کیمرا اسے بھی محفوظ کرتا ہے۔

    تین چار سال بعد آپ اس فلم کو اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے پلئیر پر چلاتے ہیں تو کیا آپ روشنی کی رفتار سے بھی تیز جا کر اپنی شادی کے سانحے تک پہنچ گئے ہیں؟ نہیں ناں۔ وجہ یہ کہ آپ ایک محفوظ شدہ شے کو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے نکال کر دیکھ رہے ہیں۔

    ایسے ہی آپکے دماغ میں بھی کئی خیالات اور میموریز روز بنتی ہیں۔ آپ سورج کو خیال میں تصور کر لیتے ہیں تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکے خیال کی "شپیڈ” روشںی کی رفتار سے زیادہ ہے؟ نہیں کیونکہ آپ اپنی میموری میں سے ایک چیز کو ویسے ہی نکال کر تصور کر رہے ہوتے ہیں جیسے شادی کے سانحے کی فلم کو کمپیوٹر پر۔

    کیا خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار سے تیز ہو سکتی ہے؟

    اس سے پہلے دو چیزیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اول کائنات میں کسی بھی انفارمیشن کی تیز سے تیز رفتار روشنی کی رفتار ہے۔ یہ کائنات کی حد رفتار ہے اس سے زیادہ رفتار پر کوئی انفارمیشن نہ بھیجی جا سکتی ہے اور نہ ہی موصول کی جا سکتی ہے۔

    دوم: انسانی دماغ نیورانز کا مرکب ہے۔ نیورانز دماغی خلیے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ برقی اور کیمیائی سگنلز دراصل چارچڈ پارٹیکلز جیسے کہ آئیز سے بنتے ہیں۔ اور سائنس یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی مادہ یا مادی ذرات روشنی کی رفتار یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کر سکتے۔

    اب جب آپکو یہ دونوں باتیں سمجھ آ گئی ہیں تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار یا اس سے تیز نہیں ہو سکتی۔ مگر خیال کی کتنی سپیڈ ہو گی؟ اسکا جواب اتنا سادہ نہیں کیونکہ یہ دماغ میں نیورانز کے کمیونکیشن پر منحصر ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خیال کی سپیڈ چند ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔