Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،اس سے قبل نظام شمسی کے 2 سیارے زحل اور مشتری 2020 میں زمین کے قریب آئے تھے۔

    باغی ٹی وی : ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،ستمبر کے آخر میں مشتری 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب نظر آئے گا 26 ستمبر کی رات مشتری کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    مشتری 26 ستمبر کی پوری رات آسمانوں پر نظر آئے گا جب یہ مخالفت پر پہنچے گاسیارے کی مخالفت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی فلکیاتی شے مشرق میں طلوع ہوتی ہے جب سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے اور اس چیز اور سورج کو زمین کے مخالف سمتوں پر رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے سیارے سے دیکھا جاتا ہے۔

    یہ مخالفت خاص ہے کیونکہ یہ 70 سالوں میں مشتری کا زمین کے قریب ترین نقطہ نظر ہوگا۔ ایسا سورج کے گرد دو سیاروں کے مدار میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مشتری اور زمین دونوں کامل دائروں میں سورج کے گرد چکر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیارے سال بھر مختلف فاصلوں پر ایک دوسرے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    ایسا 70 سال بعد ہورہا ہے، البتہ صرف آنکھ سے یہ نظارہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ مشتری کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی ویسے تو زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں مگر ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آتے۔

    26 ستمبر کی رات مشتری زمین سے 58 کروڑ کلومیٹر دور ہوگا ناسا کے مطابق ایسا نظارہ کبھی کبھار دیکھنے میں آتا ہےس سے قبل اپریل 2022 میں زہرہ اور مشتری کو ایک دوسرے کے قریب آتے دیکھا گیا تھاماہرین کے مطابق اس طرح کا منظر دوبارہ 2039 کے بعد ہی نظر آسکتا ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔

    تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔

    حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔

    بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔

    سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔

    کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟

  • لطیفے سن کر روبوٹ بھی ہنسنے لگا

    لطیفے سن کر روبوٹ بھی ہنسنے لگا

    روبوٹ کی انسان کے ساتھ مشابہت کو بڑھانے کے لیے اب اسے لطیفوں پر ہنسنا بھی سِکھا دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کےمحققین روبوٹس کو لطیفےسن کر اُنہیں سمجھنے اور ان پر بالکل ایک انسان کی طرح ردِعمل دینے کے بارے میں تربیت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر رہےہیں اس تربیت کےدوران روبوٹس کو زور سے ہنسنے اور چیخیں مارنے کے درمیان فرق بھی سمجھایا جائے گا۔

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    محققین نے فرنٹیئرز ان روبوٹکس اینڈ اے آئی نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایریکا نامی ایک روبوٹ کے ساتھ گفتگو کو مزید دوستانہ بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔

    کیوٹو یونیورسٹی کے انٹیلی جنس سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوجی انوئی کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمدردی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہونے والی بات چیت کے اہم کاموں میں سے ایک ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ بلا شبہ گفتگو کا مطلب صرف کسی بات کا جواب دینا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی مختلف عوامل شامل ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایک ربوٹ لوگوں کے ساتھ ان کی خوشیاں بانٹ کر ہمدردی کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔

    محققین روبوٹ کو یہ سکھانے کے لیے کہ اسے کب ہنسنا ہے، کیسے ہنسنا ہے اور کس طرح کی ہنسی سب سے بہترین ہے، مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد لے رہے ہیں۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    اس تجربے کو آزمانے کے لیے محققین نے اپنے تیار کردہ روبوٹ ایریکا کی لوگوں کے ساتھ 2 سے 3 منٹ کی گفتگو بھی کروائی جس میں ایریکا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو صحیح سے ہنسنا سکھانے کے لیے ابھی اس تجربے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر انوئی نےکہاکہ روبوٹس کا اصل میں ایک الگ کردار ہونا چاہیے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گفتگو کے رویے، جیسے کہ ہنسنے، نظریں دیکھنے، اشاروں اور بولنے کے انداز سے یہ ظاہر کر سکتے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کوئی آسان مسئلہ ہے، اور اس میں 10 سے 20 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے جب تک کہ ہم آخر کار روبوٹ کے ساتھ آرام سے بات چیت کر سکیں جیسا کہ ہم کسی دوست کے ساتھ کرتے ہیں۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد  چھلّے کیسے بنے؟

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔

    سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔

    کارنیل یونیورسٹی میں سیاروں کی حرکیات کی ماہر مریم الموتمید کہتی ہیں کہ زحل کے حلقوں کی ابتدا کے بارے میں یہ دریافت ایک نئی راہ کھولتی ہے-

    ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاروں کی حرکیات کے ماہر لیوک ڈونز کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ "قابل غور ” ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس خیال کی جانچ کیسے کریں گے-

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے بحث کی ہے کہ آیا زحل کے حلقے اربوں سال پرانے ہیں – جتنا قدیم خود نظام شمسی ہے – یا شاید صرف 100 ملین سال پرانا ہے یا اس سے زیادہ۔

    2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔

    سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔

    نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔

    سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہے ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔

    زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔

    زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکےہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیاجا چکا ہے اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی۔

    باغی ٹی وی : ایک کار اور وین لیزنگ کمپنی ویناراما کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابقD1 مائیکرو چِپ ایک سیکنڈ میں 362 ہزار ارب آپریشن کر سکتی ہے جبکہ انسان کا دماغ 10 لاکھ ہزار ارب آپریشن فی سیکنڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس مائیکرو چِپ کے کام کرنے کی صلاحیت انسانی دماغ کے36 فی صد ہے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    کمپنی نے یہ پیش گوئی ماضی اور موجودہ ٹیسلا چِپس کا تجزیہ کرتے ہوئے کی جس میں کمپنی کو معلوم ہوا کہ مائیکرو چپس کی صلاحیت میں ہر سال 486 فی صد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ویناراما کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اس سال اپنی نئی D1 چِپ متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ چِپ ڈوجو سُپر کمپیوٹر پلیٹ فارم اور ٹیسلا کےآٹو پائلٹ سیلف ڈرائیونگ سسٹم کا اہم حصہ ہوگی۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    سائنس دانوں کا کافی عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مصنوعی ذہانت انسانی کی ذہنی صلاحیت سے سبقت لے جائے گی اگرچہ اس حوالے سے متعدد آراء پائی جاتی ہیں کہ ایسا کب ہوگا۔

    ویناراما کا کہنا ہے کہ اس بات کو ماننا پاگل پن نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں ہی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ فی الوقت مائیکروچِپس انسانوں کے دماغ کے سِناپسِز(اعصابی خلیوں کے درمیان جوڑ) کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

  • بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    نیویارک: بلیو اوریجن کمپنی کا چاند پر جانے والا خلائی مشن بوسٹر فیلئیرکے سبب حادثے کا شکار ہوگیا-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کےمطابق بلیو اوریجن کےخلائی سیاحت کے منصوبے کی تین کامیاب پروازوں کے بعد خلا نورودوں کے بغیر چوتھی خلائی پرواز روانہ کی، جو کچھ دیر بعد ہی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق بلیو اوریجن کے خلائی مشن میں کوئی خلا نورد شامل نہیں تھا، بغیر مسافروں والےنیو شیپرڈ راکٹ کولانچنگ کے کچھ دیر بعد ہی بوسٹر فلئیرکا سامناکرنا پڑا تاہم متعارف کرایا جانے والا کریو اسکیپ سسٹم کامیاب رہا، جس کے باعث راکٹ سے منسلک کیپسول بحفاظت زمین کی طرف لوٹ گیا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کمپنی نے جاری بیان میں کہا کہ آج بغیر عملے کی فلائیٹ کو بوسٹر فیلئیر کا سامنا رہا تاہم اسکیپ سسٹم نے توقع کے مطابق کام کیا حادثے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کریو اسکیپ سسٹم کا مؤثر انداز میں کام کرناکامیابی ہے،بلیو اوریجن کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے خلائی مشن کیلئے کی جانے والی تحقیق میں دنیا بھر کے طالبعلم شریک ہیں۔

    واضح رہے کے بلیو اوریجن مشہور آن لائن ویب سائیٹ ایمزون کےمالک جیف بزوز کی ملکیت ہے ۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

  • پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    جنوبی کوریا نے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل اور میٹا کمپنیوں پر 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا ہے-

    باغی ٹی وی : جنوبی کوریا کے پرسنل انفارمیشن پروٹیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل پر 5 کروڑ ڈالرز اور میٹا پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    بیان کے مطابق دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے صارفین کی اجازت کے بغیر ان کی ذاتی تفصیلات کو اکٹھا کرکے اشتہارات کے لیے استعمال کیا تحقیقات سے ثابت ہوا کہ دونوں کمپنیاں اپنے صارفین کی جانب سے ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال کو مانیٹر کرتی ہیں۔

    کمیشن نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کے انٹرنیٹ صارفین (گوگل کے 82 فیصد اور میٹا کے 98 فیصد) نے لاعلمی میں دونوں کمپنیوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت دی۔

    جنوبی کورین کمیشن کے فیصلے پر میٹا کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ہم کمیشن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے صارفین کے ساتھ قانونی طریقے سے کام کررہے تھے اسی وجہ سے ہم کمیشن کے فیصلے سے متفق نہیں اور عدالت سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔

    گوگل کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    2021 میں بھی جنوبی کوریا نے موبائل آپریٹنگ سسٹمز اور ایپ مارکیٹس میں اجارہ داری قائم کرنے پر گوگل پر لگ بھگ 18 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    دوسری جانب حال ہی میں آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے میٹا کی ذیلی کمپنی انسٹاگرام پر جنرل ڈیٹا پروٹیکشن قواعد (GDPR) کی خلاف ورزی کرنے پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے-

    آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس نے انسٹاگرام پر بچوں کے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ریکارڈ 405 ملین یورو جرمانہ کیا ہے۔

    کمیشن کی جانب سے انسٹاگرام پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی یعنی بچوں کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر شائع کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیا یہ جرمانہ میٹا کی کسی بھی ذیلی کمپنی پر اس سے قبل لگائے جانے والے جرمانے سے زیادہ ہے۔

    واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد 17 سالہ لڑکے نے خوف سے خود کشی کر لی

    میٹا ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات پُرانی سیٹنگز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئیں جن کو کمپنی کی جانب سے ایک سال قبل اپ ڈیٹ کردیا گیا تھا اور تب سے اب تک کمپنی نے کئی نئے فیچر متعارف کرائے تاکہ نوعمروں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے اور ان کی معلومات خفیہ رہے۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص جب انسٹاگرام میں شامل ہوتا ہےتو ان کا اکاؤنٹ خود بخود پرائیویٹ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں،اور بالغ افراد ان نوجوانوں کو پیغام نہیں بھیج سکتے جو ان کو فالو نہیں کرتے ہیں کمپنی اس بات سے متفق نہیں کہ جرمانے کا حساب کیسے لیا گیا اور وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

  • لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز کا تجربہ دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ، یا اکثر ہوتا ہے ۔

    لوسڈ ڈریم سے مراد ایسا خواب ہے کہ جس میں انسان کو علم ہو کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور سلیپ پیرالسز سے مراد وہ کیفیت ہے جب انسان نیند یا خواب کی کیفیت میں ایسا منجمد ہو جائے کہ نہ تو خواب ٹوٹ رہا ہو اور نہ ہی آنکھ کھل رہی ہو ۔

    ۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر ابھی چند منٹ قبل میرے ساتھ یہ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوگئے۔۔۔۔

    ہوا کچھ یوں کہ حسبِ معمول میں آج صبح بھی جلدی جاگ گئی مگر الرجی کی وجہ سے طبعیت سخت ناساز تھی (اور اب بھی ہے ) چنانچہ جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد پھر سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل چارجنگ لگا دیا ۔۔۔۔ اور جب آنکھ لگی تو انتہائی پیچیدہ قسم کا تہہ در تہہ کا ایک لوسڈ ڈریم درپیش تھا ، اور وہ کچھ یوں کہ اس خواب میں میں اسی کمرے میں اسی جگہ سورہی اور مجھے اس بات کا ہلکا سا شک ہورہا کہ میں خواب کی کیفیت میں ہوں ۔۔۔۔اب۔۔۔۔۔۔ماہرین کے مطابق چند ایسے طریقے ہیں کہ جن سے ہم پتا چلا سکتے ہیں کہ ہم خواب میں ہیں یا حقیقت کی دنیا میں ۔۔ مثلاً اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور اپنی انگلیاں گننے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر آپ خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی انگلیاں گن نہیں پائیں گے ۔

    اسی طرح گھڑی پر نظر دوڑائیں۔۔۔۔ اگر خواب میں ہے تو کبھی بھی گھڑی سے وقت نہیں دیکھ پائیں گے ۔

    کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر خواب کی کیفیت میں ہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے ۔

    اور مجھے یہ سب یاد تھا چنانچہ میں نے پہلے رئیلٹی چیک یعنی ہاتھ کی انگلیاں گننے کی کوشش کی اور میں نہیں گن پائی ۔۔۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں لوسڈ ڈریم کی کیفیت میں ہوں اور یہ کہ اب مجھے جاگ جانا چاہیے (لوسڈ ڈریم جتنا مختصر رہے اتنا ہی بہتر ہے طویل لوسڈ ڈریم آگے چل کر سلیپ پیرالسز کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر ۔)

    چنانچہ میں نے ہمت کی اور جاگ اٹھی ۔۔۔۔ اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میں پوری طرح سے بیدار ہوں ، میں نے کمرے میں وال کلاک نہ ہونے کی وجہ سے موبائل پر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے فیسبک نوٹیفیکیشنز پر نظر پڑ گئی اور اس میں کھو گئی۔۔۔۔ 5,7 منٹ تک فیسبک پر کھوئے رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ” باجی موبائل تو تم نے چارجنگ پر لگا رکھا تھا۔”

    اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا لوسڈ ڈریم ٹوٹا نہیں بلکہ اس کے میرے ساتھ ” پرینک” کردیا ہے ۔۔۔ چنانچہ سب کی بار میں اٹھی ، اور موبائل کو چارجنگ پہ لگا دیکھ کر یقینی بنایا اس بات کو کہ اب دوبارہ میرے ساتھ پرینک نہ ہو جائے ۔۔۔ پھر میں بستر سے اٹھی اور باہر لاونج کی طرف بڑھ گئی ، لاونج میں میرا بھائی بیٹھ کر ٹی-وی دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔

    اب آپ کو لگے لگا کہ شاید میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی لیکن خدا کو گواہ بنا کے کہہ رہی کہ جب میں نے بھائی کی طرف نظر ڈالی تو ان کا چہرہ بدل گیا ، جیسے کوئی شخص بیٹھا ہو پھر اگلے چند سیکنڈ میں بار بار ان کا چہرہ تبدیل ہونے لگا اور یہ پراسیس اتنا تیز تھا کہ آخر میں ایک چہرے پر چار مختلف نقوش تھے مثلاً ایک گال مختلف شخص کا دوسرا کسی اور شخص کا پیشانی اور بال الگ الگ اشخاص کے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ "باجی جی آپ کا سرے سے کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔”

    اور میں فوراً واپس پلٹی کمرے کی طرف ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کم از کم۔۔۔۔ کم ازکم پندرہ سے بیس الگ الگ خواب اسی طرح تہہ در تہہ پیاز کی پرتوں کی طرح ایک دوسرے سے اترتے رہے ۔۔۔۔ ہر مرتبہ مجھے یہ ادراک ہوتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ہر مرتبہ میں جاگنے کی کوشش کرتی لیکن جاگنے کے بجائے اگلے خواب میں دھکیلی جاتی تھی ۔

    ان میں سے کچھ خواب تو بےانتہا مضحکہ خیز تھے ۔

    اب میں جاگ چکی ہوں اور اطمینان سے اپنی انگلیاں دوبار مرتبہ گن کر دیکھ چکی اور اپنے جاگنے کو یقینی بنانے کے بعد یہ تحریر لکھ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن پھر بھی لاشعوری طور پر مجھے یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ جب میں پھر سے جاگوں تو فیسبک پر یہ پوسٹ موجود نہ ہو گویا یہ بھی ایک اور لوسڈ ڈریم ہو۔

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔