Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    یورپی ملک سوئٹزر لینڈ میں موت دینے والی "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی طور پر منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزر لینڈ میں منظور ہونے والی خودکش مشین کے ذریعے کسی بھی انسان کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہائپوکسیا اور ہائپو کیپنیا کے ذریعے بہت سکون والی موت دی جا سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ایک کیپسول کی شکل والی مشین ہے جس میں لیٹنے والے شخص کی جان آسانی سے نکل سکتی ہے۔

    مذکورہ مشین کو ڈاکٹر فلپ نیٹسیکے نے بنایا ہے جنہیں ڈاکٹر ڈیتھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس مشین کو کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس مشین کو سارکو کا نام دیا گیا ہے اور اسے ایک تابوت کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اور انھوں نے کہا کہ وہ ایک مصنوعی ذہانت کا اسکریننگ سسٹم تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاون خودکشی کے لیے کسی شخص کی ذہنی صلاحیت کو قائم کیا جا سکے ڈاکٹر نٹشکے، جو ایگزٹ انٹرنیشنل چلاتے ہیں، نے بتایا کہ اسے تابوت نما 3-D پرنٹ شدہ سارکو کیپسول کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو مرنے والے شخص کے ذریعے اندر سے چلایا جاتا ہے”وہ شخص کیپسول میں داخل ہو جائے گا اور لیٹ جائے گا۔ یہ بہت آرام دہ ہے۔ ان سے متعدد سوالات پوچھے جائیں گے اور جب وہ جواب دے دیں گے تو وہ اپنے وقت پر کیپسول کے اندر موجود بٹن کو دبائیں گے جو میکانزم کو چالو کرے گا-

    جس سے کیپسول نائٹروجن سے بھرجائے گا جس سے آکسیجن کی سطح کو تیزی سے 21 فیصد سے 1 فیصد تک کم کر دیا جائے گا آکسیجن کی نہایت کم فراہمی جاتی اور جسمانی ٹشوز کو مقررہ آکسیجن ناملنے کی صورت میں انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    اس پورے پروسیس میں تقریباً 30 سیکنڈ لگتے ہیں۔ موت بالترتیب ہائپوکسیا اور ہائپوکیپنیا، آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی سے ہوتی ہے۔ کوئی گھبراہٹ نہیں ، کوئی گھٹن کا احساس نہیں ہوتا-

    ڈاکٹر نٹشکے نے کہا کہ کیپسول کو سوئٹزرلینڈ میں ایک قانونی طور پر پاس کر دیا گیا ہے اور اب اسے وہاں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں معاون خودکشی قانونی ہے، یعنی ایک شخص خود کو مار سکتا ہے، لیکن یوتھناسیا غیر قانونی ہے، یعنی کسی شخص کو کسی دوسرے کے ذریعے قتل نہیں کیا جا سکتا، چاہے یہ رضاکارانہ ہو۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

  • واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کیا ہے جسے آٹو ڈیلیٹ کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کی ہمیشہ سے اولین ترجیح ہی رابطوں اور گفتگو کو محفوظ تر بنانا ہے واٹس ایپ سوشل میڈیا کی وہ ایپلی کیشن ہے جو اپنی ایپ میں صارفین کی ضروریات اور پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔


    تاہم تاہم اب بھی واٹس ایپ نے آٹو ڈیلیٹ کا فیچر اس لیے پیش کیا ہے تاکہ صارف اپنی چیٹ کو محفوظ سمجھے اور گفتگو کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس آپشن کی بدولت آپ 24 گھنٹے، سات روز یا 90 دن کے آپشن رکھ سکتے ہیں اور پیغام اس مدت کے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائے گا –

    واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اب ’صارف تمام نئی گفتگو کے لیے نیا آپشن استعمال کرسکتے ہیں اسے سرگرم کرنے پر اپنی مقررہ مدت میں پیغامات یا اس کے طویل سلسلے (تھریڈ) ازخود مٹ جاتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ: ویب بیٹا انفو

    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کو مخصوص واٹس ایپ گروپ پربھی متعارف کرایا جاسکتا ہےفی الحال تین اوقات دئیے جارہے ہیں جنہیں آپ اپنی پسند کے لحاظ سے منتخب کرسکتے ہیں۔

    اس آپشن کو استعمال کرنے کے لیے پہلے آپ کو واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جاکر اکاؤنٹ اور پھر پرائیویسی پر کلک کرنا ہوگا جس بعد آپ Default Message Timer کے آپشن کو دیکھ سکیں گے۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    خیال رہے کہ سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی کی ملکیت ہونے کی وجہ سے واٹس ایپ سے انسٹاگرام پر رابطے ممکن بنانے پر بھی غور ہورہا ہے تاہم میٹا کی جانب سے مکمل طور پر ای ٹو ای انکرپشن پر بھی کام جاری ہے جس پر 2023 تک مکمل عملدرآمد ہوگا میٹا پر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے بالخصوص یورپی ممالک کا بھی دباؤ ہے اور شاید ڈیلیٹ آپشن اسی وجہ سے پیش کیا گیا ہے۔

  • دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ
    اس وقت تیل کے بے جا اخراجات کی وجہ ہو، ماحولیاتی آلودگی ہو یا بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ۔۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک تیل سے چلنی والی گاڑیوں سے جان چھڑا کر الیکٹرک کاروں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں الیکٹرک کاروں کا یہ سلسلہ شروع تو Teslaکمپنی کی الیکٹرک کاروں سے ہوا ہے جس کے بعد اس وقت کاریں بنانے والی تقریبا تمام ہی بڑی کمپنیاں اب اپنے اپنے برانڈ کی الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ اور ایلن مسک کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کاریں بنائیں بلکہ اصل چیز کچھ اور ہے۔ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب بنائی گئی، وہ کس نے بنائی تھی اور اس کے بعد الیکٹرک کاریں کیوں بننا بند ہو گئیں تھیں؟ اور اب یہ الیکٹرک کاریں کیسے اتنی کامیابی سے چل رہی ہیں؟

    ٹیسلا الیکٹرک کاروں کے اس وقت چار ماڈلز ہیں جو کہ سب سے زیادہ سیل ہو رہے ہیں ،
    Model S
    Model 3
    Model X
    Model Y
    لیکن اپنے ان چند ماڈلز کے ساتھ ہی ٹیسلا نے پوری دنیا کا Mind changeکردیا ہے مارکیٹ ٹرینڈز کوبدل کر رکھ دیا ہے۔ کچھ وقت پہلے تک ٹیسلا دنیا کی وہ واحد کمپنی تھی جو کہ موجودہ دور میں الیکٹرک کاریں بنا رہی تھی لیکن اب تقریبا تمام بڑی کمپنیاں اپنی اپنی الیکٹرک کاروں پر کام کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ اپنے الیکٹرک ماڈلز کو مارکیٹ میں سیل کے لئے لانچ کرنے والی ہیں۔جیسےToyotaکا bZ4X ماڈل۔General MotorsکاCadillac Lyriqماڈل۔بی ایم ڈبلیو کاBMW iXماڈل آنے والا ہے۔KIA کاEV6AudiاپنےQ4 e-tron Sportbackماڈل پر کام کر رہی ہے۔Mercedes-Benzکا EQBماڈل۔Lexusکا LF-Z Electrifiedماڈل۔Volkswagenکا ID.8جو کہ ایک Three rowوالی ایس یو وی گاڑی ہے۔Hyundaiکا IONIQ 5ماڈل یہ بھی ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی گاڑی ہو گی۔اور اس کے علاوہ جنرل موٹرز کی ہی GMC Hummer SUVگاڑی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں 2022سے لیکر 2024تک مارکیٹ میں لانچ ہونے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہ پیشن گوئی کی جا رہی ہے 2025 تک عالمی سطح پر تمام نئی گاڑیوں کی فروخت میں بیس فیصد الیکٹرک کاریں ہوں گی۔2030 تک ان کی تعداد چالیس فیصد ہوجائے گی جبکہ 2040 میں بظاہر تمام ہی بکنے والی نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔لیکن ویڈیو کہ آغاز میں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب ایجاد ہوئی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ الیکٹرک کاروں کی طرف موجودہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔ الیکٹرک کاروں کے اس سلسلے کو ہم تاریخ کا دہرایا جانا کہہ سکتے ہیں۔1900کے شروع میں بھی چالیس فیصد گاڑیاں تیل کی بجائے الیکٹرک بیٹریوں سے ہی چلتی تھیں۔ 38 فیصد گاڑیاں بھاپ انجن سے جبکہ صرف 2 فیصد گاڑیاں تیل یا پٹرول سے چلائی جاتی تھیں۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ بیٹری پر چلنے والی یہ گاڑیاں1935تک دنیا سے تقریبا ناپید ہی ہوگئیں۔ 1835میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی کارThomas Davinنے بنائی تھی۔ یہ پہلی ہائیڈروجن کار کے تیس سال بعد بنائی گئی تھی۔ جبکہ
    Gasolineانجن 1870کے بعد بننا شروع ہوئے تھے۔ جس کے بعد پہلی پروڈکشن کار 1885میں Carl Benzکی جانب سے بنائی گئی تھی جسے بعد میںMercedes-Benzکا نام دیا گیا۔ Rudalf Dieselنے 1900میں ہونے والے پیرس عالمی میلے میں اپنے ڈیزل انجن کو پہلی بارمونگ پھلی کے تیل سے چلایا تھا۔ جس کے بعد internal combustion engines انجن دنیا میں تیزی کے ساتھ مشہور ہوئے۔اور ان انجنوں نے بھاپ سے چلنے والے انجنوں کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ بھاپ سے چلنے والے انجنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سرد موسم میں وہ گرم ہونے میں
    45 منٹ لگا دیتے تھے۔ پانی کی محدود گنجائش ہونے کی وجہ سے بھاپ سے چلنے والی گاڑیاں زیادہ فاصلہ بھی طے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس لئےgasolineپر چلنے والی گاڑیاں ان کی نسبت زیادہ موزوں تھیں۔ البتہ ان کے انجن چالو کرنے کے لیے کافی زیادہ مشقت کرنا پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ گاڑیاں بہت زیادہ شور کرتی اور لرزتی تھیں۔ ان تمام نقائص کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک کاریں اس وقت بھی ذاتی استعمال کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند تھیں۔ یہ بالکل بھی شور نہیں کرتی تھیں، انہیں اسٹارٹ کرنے میں مشقت نہیں کرنا پڑتی تھی اور گیسولین اور بھاپ والی گاڑیوں کی نسبت انہیں چلانا بھی نہایت آسان تھا۔ خاص طور پر شہر کے اندر اور کم فاصلہ تک سفر کے لیے الیکٹرک کاریں بہت موزوں تھیں۔

    کاروں کے حوالہ سے بڑے نام جیسا کہfrederick porscheجو porscheموٹر کمپنی کا مالک تھا اور Thomas Edisonسمیت زیادہ تر لوگ الیکٹرک گاڑیوں کو ہی پسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ Porscheکی پہلی کارجو1898 میں لانچ کی گئی وہ الیکڑک ماڈل تھی جس کا نام Loaner Porsche تھا۔ اس کے ایک سال بعد Thomas Edisonنے الیکٹرک گاڑیوں کو لمبے سفر کے لیے موزوں بیٹریاں بنانے پر کام شروع کیا۔ Edisonکو یقین تھا کہ الیکٹرک کاریں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔ لیکن پھر اچانک دس سال تک اس پر کام کرنے کے بعدEdisonنے اس پر مزید کام کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ٹیسلا کی کاروں کی طرح الیکٹرک کاریں اس دورمیں بھی کافی مہنگی تھی جس کی وجہ سے یہ صرف امیر لوگوں کے استعمال تک محدود رہیں۔Henry Fordنے کار کو عام عوام کی پہنچ تک لانے کے لیے بہت غور کیا۔ وہ ایسی کار بنانا چاہتا تھا جو تین سے چار افراد کو بٹھا کر آسانی سے سفر کر سکے۔ اس مقصد کے لئے بڑی بڑی فیکٹریاں بنائی گئیں جن میں مختلف مرحلوں میں پرزوں کو جوڑ کم وقت میں گاڑیاں بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس تبدیلی سے گاڑیاں بنانے کے عمل میں بہت تیزی آئی اور بڑی تعداد میں گاڑیاں بنائی جانے لگیں۔ اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جس کی بدولت درمیانہ طبقہ بھی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگیا۔ صرف 1914میں فورڈ کمپنی نے دیگر تمام کاریں بنانے والی کمپنیوں کی کل تعداد کی نسبت زیادہ کاریں بنا کر فروخت کیں۔ اس وقت فورڈ کی ماڈل ٹی کار کی قیمت 260 ڈالر تھی۔ جو آج کے تقریبا 650 ڈالر کے برابر ہے۔ جبکہ اس وقت ایک الیکٹرک کار کی قیمت ایک ہزار سات سو ڈالر تھی جو آج کے 43 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ قیمتوں کے اس فرق نے الیکٹرک کاروں کے رجحان کو تقریبا ختم کر دیا۔ جبکہ اگر ہم ٹیسلا کی موجودہ قیمتوں کو دیکھیں تو ٹیسلا کی سب سے سستی کار کی قیمت اس کے برابر بنتی ہیں۔ جبکہ باقی ماڈل تو اس سے کہیں مہنگے ہیں۔ٹیسلا کی ماڈل ایکس سب مہنگی گاڑی ہے جس کی قیمت ہے99,900$ماڈل ایس کی قیمت 90,000$
    ماڈل وائے کی قیمت55,000$اورماڈل تھری جو ٹیسلا کی سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی ہے اس کی قیمت42,000$ہے۔Henry Ford and Thomas Edisonدونوں بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے1896میں اپنی پہلی تجرباتی الیکٹرک کار بنائی تھی۔ جس کے بعد انھیں اپنی الیکٹرک کار کمپنی فورڈ موٹر کمپنی بنانے کا خیال آیا۔1914میں جب یہ دونوں الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہے تھے تو گیارہ جنوری1914میں نیویارک ٹائم میں فورڈ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں اس کا کہنا تھامجھے امید ہے کہ ایک سال کے اندر ہم کمرشل بنیادوں پر الیکٹرک کاریں بنانا شروع کر دیں گے۔ میں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک منصوبہ آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ حقیقت میں۔۔ میں اور مسٹرEdisonپچھلے کئی سال سے الیکٹرک کاریں بنانے پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے جو سستی اور استعمال میں آسان ہوں۔ تجرباتی طور پر کاریں بنائی گئیں ہیں جن کی کارکردگی سے ہم مطمئن ہیں اور یہ گاڑیاں عام دستیابی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس وقت جو مسئلہ ہے وہ زیادہ چارج کی حامل ہلکی بیٹریاں بنانا ہے جو لمبا سفر کرنے کے قابل ہوں۔

    Mr. Edisonایسی بیٹریاں بنانے پر تجربات میں مصروف ہیں۔ میرا یقین ہے کہ جلد یا بدیر الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا کے بڑے شہروں میں آنے جانے کے لیے استعال ہوں گی۔ الیکٹرک گاڑیاں ہماری سفری سہولیات کا مستقبل ہوں گی۔ سامان کی نقل و حمل والے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب نیویارک کے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔لیکن سوچیں کہ اس قدر یقین کے باوجود الیکڑک گاڑیاں کیوں نہ بن سکیں؟اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لیب جہاں الیکٹرک کاریں تجرباتی طور پر بنائی جاتی تھیں وہاں جان بوجھ کر سازش کے تحت آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد لیب مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئی تھی۔ یہ پراجیکٹ جس میں 1.4 ملین ڈالر کی رقم جھونکی گئی تھی ختم ہوگیا۔ یہ رقم آج کے 34 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بعض کے نزدیک تیزی سے ترقی کرتی آئل انڈسٹری اس کی ذمہ دار ہے جس سے وابستہ لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کو پنپنے دینا نہیں چاہتے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ فورڈ جو بیٹریاں الیکٹرک کاروں میں استعمال کرتا تھا وہ اس قابل ہی نہیں تھیں جو الیکٹرک کار کو مطلوبہ معیار تک چلا سکیں۔ حقیقت کیا ہے کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔لیکن تیل پر انحصار ختم کرنے، گلوبل وارمنگ سے بچنے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آج ہم اسی طرح الیکٹرک کاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس طرح ایک سو سال پہلے سوچ رہے تھے۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آجBattriesکی صنعت نے بھی اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب یہ خواب ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں تیل سے چلنے والی گاڑیوں کو آہستہ آہستہ کم کرکے الیکٹرک کاروں کا استعمال بڑھایا جائے۔ کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج ایسی الیکٹرک کاریں بنائی جا چکی ہیں جو ایک بار چارج کرنے پر سینکڑوں کلومیٹر تک کا سفر کرنے کے قابل ہیں۔ یعنی ٹیسلا کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کار بنائی ہے بلکہ اصل achievementیہ ہے کہ اس نے اس طرح کی بیٹریز اور سولر پینلز بنائے ہیں جس کے بعد الیکٹرک کار پہلے سے زیادہ پائیدار ہیں۔ اس طرح ایک صدی بعد ہی سہی لیکن ٹیسلا کے ایلن مسک نے تھامس ایڈیسن کی بات آخر سچ ثابت کر دکھائی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔

  • اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہے جو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    جامعہ بولونا کے پروفیسر فریڈریکو فینٹی کہتے ہیں کہ اگرچہ اٹلی ڈائنوسار کی وجہ سے مشہور نہیں لیکن اب ان جانوروں کا پورا جتھا ملا ہے جو اس ملک سے ہونے والی سب سے بڑی اور اہم دریافت بھی ہےفریڈریکو اس تحقیق کے سربراہ ہیں جنہوں نے تفصیلی روداد سائنٹفک رپورٹس میں شائع کرائی ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور میں پہلی بار 1996 میں ڈائنوسار کے کنکال کی دریافت کے بعد ڈائنوسار کے لیے جانا جاتا تھا جسے ماہر علمیات نے انتونیو کا نام دیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ "بونے کی نسل” ہے۔ لیکن تازہ ترین دریافتیں اس سے اختلاف کرتی ہیں، انتونیو کے ساتھ اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک نوجوان ڈائنوسار تھا جو اسی ریوڑ کا حصہ تھا جو ایک ساتھ مر گیا تھا۔ گروپ میں سب سے بڑے ڈائنوسارکا نام برونو رکھا گیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    سارے ڈائنوسار ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور نامی مقام سے ملے ہیں یہاں بہت سے نوجوان ڈائنوسار کی باقیات ملی ہیں جن میں سب سے مکمل برونو کی ہیں۔ برونو کا ڈھانچہ بہت حد تک مکمل اور اب تک سب سے بڑا بھی ہے ان کے ساتھ مچلھیوں، اڑنے والے ریپٹائل اور شرمپ جیسے کیڑے کی باقیات بھی ملی ہیں

    فانٹی نے کہا۔ "ہمیں معلوم تھا کہ انتونیو کی دریافت کے بعد اس جگہ پر ڈائنوسار موجود ہیں، لیکن اب تک کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی تعداد کتنی ہے ہمارے پاس اب جو کچھ ہے وہ ایک ہی ریوڑ کی متعدد ہڈیاں ہیں۔

    اس سے قبل اٹلی کی مشہور کوہِ ایلپس پر مگرمچھ جیسے ایک جانور کے قدموں کے نشانات بھی ملے تھے پیروں کے نشانات جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مگرمچھ نما پراگیتہاسک رینگنے والے جانور کے تھے اطالوی ایلپس میں ایک غیر معمولی دریافت میں پائے گئے ہیں جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 252 ملین سال قبل بڑے پیمانے پر ناپید ہونے سے بچ جانے والے افراد موجود تھے۔

    فوٹو بشکریہ گارجئین

    تقریباً 10 قدموں کے نشانات پر مشتمل اچھی طرح سے محفوظ شدہ فوسلائزڈ ٹریک، مغربی الپس کے صوبہ کونیو کے الٹوپیانو ڈیلا گارڈیٹا میں 2,200 میٹر کی بلندی پر پایا گیااگلے اور پچھلے پنجوں کے نشانات، جن کی لمبائی تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے، تقریباً 250 ملین سال پہلے کی تاریخ ہے، جب پرمین ارضیاتی دور کے اختتام پر بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کے باعث اس علاقے کو غیر مہمان بنا دیا گیا تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ گارجئین

    Trento سائنس میوزیم (Muse)، زیورخ یونیورسٹی کے Palaeontology میوزیم اور Turin، Rome La Sapienza اور Genoa کی یونیورسٹیوں کے ماہرین علمیات اور ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم اس دریافت کے پیچھے تھی۔ ان کا مطالعہ حیاتیاتی، طبی اور ماحولیاتی سائنس کے جریدے پیر جے میں شائع ہوا تھا۔

    پرنٹس کے سائز اور ہر ایک کے درمیان فاصلے سے، سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ شاید مگرمچھ کی طرح ایک رینگنے والے جانور سے تعلق رکھتے ہیں، کم از کم 4 میٹر لمبا، جو ایک دریا کے ڈیلٹا کے قریب ایک قدیم ساحلی پٹی کے ساتھ چل رہا تھا۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    پہلے قدموں کے نشانات 2008 میں اس علاقے میں چٹانوں میں پائے گئے تھے، سائنسدانوں نے اگلے برسوں میں اس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھی جب تک کہ ان کے پاس جانور کی شناخت کے لیے ضروری پرنٹس کا مکمل سیٹ نہ ہو۔

    تحقیق میں شامل ایک ماہر برنارڈی نے کہا، "ایک 4 میٹر بڑا رینگنے والا جانور اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ پورا ایکو سسٹم کسی نہ کسی طریقے سے زندہ تھا کیونکہ یہ اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔” "یہ صرف صحرا میں گھومنا نہیں تھا – اسے شکار کی ضرورت تھی، اور اس شکار کو پودوں وغیرہ کی ضرورت تھی۔”

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی معدومیت کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آج کرہ ارض پر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ خط استوا کی پٹی میں واقع یہ علاقہ اتنا غیر مہمان بن چکا ہے کہ جو جانور بچ گئے وہ دوسرے عرض بلد کی طرف ہجرت کر گئے ہوں گے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    برنارڈی نے کہا کہ سائنسدان متغیرات کو یہ سمجھنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ موجودہ موسمیاتی بحران کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

    "ہم تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں ہیں – گلوبل وارمنگ، خط استوا کی پٹی کا ارتعاش وغیرہ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کے شواہد تلاش کرنے کے بعد حیران ہو جاتے ہیں کہ کوئی زندہ بچ گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر کتنا ڈرامائی ہے-

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    نئی دہلی : بھارتی ریاست سِکِم میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت ہوئی ہے جس کا رنگ سنہرا پیلا اور کنارے چاکلیٹی رنگ کے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی رہائشی سونم وانگچک لیپچا نامی خاتون مہم جوئی کی شوقین ہیں۔ اور یہی شوق پورا کرنے کیلئے وہ قریبی سرسبز علاقے میں تتلیوں کو دیکھ اور ان کی تصاویر لے رہی تھیں دریں اثنا ایک تتلی نمودار ہوئی اور اس کی خوبصورتی کے پیش نظر سونم نے فوراً اس کی بھی تصویر اتار لی انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ تصویر تتلی کی نئی نسل کی دریافت کا باعث بنے گی۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    30 سالہ سونم اپنی تصویریں بنگلور میں نیشنل سینٹر فار بائیولوجیکل سائنسز (NCBS) کے ماہرینِ حشریات کو بھیجتی رہتی ہیں تاکہ وہ ان کی شناخت کر کے بھارتی تتیلوں کی ویب سائٹ Butterflies of India پر اپ لوڈ کر سکیں۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    اس ویب سائٹ پر جمع کرائے گئے تمام مشاہدات کا ایک ماہر پینل کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے سونم کی پیلے رنگ کی تتلی کی تصویر کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین نے نوٹ کیا کہ یہ تتلی ایک ایسی نسل تھی جو پہلے ہندوستان میں نامعلوم تھی محققین کی ٹیم جنہوں نے اس نسل کو دریافت کیا، نے انگریزی نام ‘Chocolate-bordered Flitter’ تجویز کیا ہے-

    سونم کا تعلق چین سے ہے تاہم سونم خود بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے قریبی رشتہ دار جنوب مشرقی چین میں ہیں۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

  • ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیق ادارے ناسا نے بتایا کہ ایفل ٹاور سے بھی بہت بڑی ایک خلائی چٹان اگلے ہفتے زمین کے مدار میں داخل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق انڈے کی شکل کا سیارچہ جس کا نام 4660 Nereus ہے، 1,082 فٹ لمبا ہے اور 11 دسمبر بروز ہفتہ 14,700 میل فی گھنٹے کی رفتار سے زمین کے مدار میں داخل ہوگا۔

    ناسا نے بتایا کہ توقع یہی ہے کہ چٹان زمینی سطح سے کچھ فاصلے پر بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزرے گیلیکن اس بار یہ 20 سال پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے گزرے گا خلائی چٹان کو نیریس کا نام دیا گیا ہے جو کہ یونانی سمندری دیوتا کے نام سے منسوب ہے۔

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    نیریس اندازاً 24 میل دوری کے فاصلے پر ہوگا سننے میں یہ فصلہ بڑا لگتا ہے لیکن خلائی معیار کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پتھر قریب سے گزرا ہوا۔

    خلاء میں جب کوئی چیز زمین سے 12 کروڑ میل کے فاصلے پر آتی ہے ناسا اُسے زمین کے قریب اور ساڑھے 46 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی چیز کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیتا ہے قریب یا خطرہ قرار دیے جانے کے بعد ماہرینِ فلکیات اس کی حرکات کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

    1982 میں دریافت ہونے والے نیریس کا سورج کے گرد مدار 1.82 برس کا ہے جس کی وجہ سے یہ ہر 10 سالوں میں دنیا کے قریب آتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    نیریس کے نظام شمسی کے ہمارے علاقے میں تواتر کے ساتھ آنے کی وجہ سے ناسا اور جاپانی خلائی ایجنسی JAXA نے ایک بار اس سیارچے کا نمونہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بجائے 25143 Itokawa نامی سارچے پر چلے گئے۔

    ناسا کے اندازے کے مطابق نیریس اب 2 مارچ 2031 اور نومبر 2050 میں زمین کے قریب سے گزرے گا اور اس کا اس سے بھی زیادہ قریبی گزر 14 فروری 2060 کو ہوگا جب یہ سیارچہ 7.4 لاکھ میل کی دوری سے گزرے گا۔

    چھ لاکھ سےزائد سیارچوں کی مانٹرنگ کرنے والے ڈیٹا بیس آسٹیرینگ نے اندازہ لگایا ہے کہ اس سیارچے میں نِکل، لوہا اور کوبالٹ جیسی دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں جن کی کُل مالیت 4.71 ارب ڈالرز ہے۔

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

  • دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے بعد بڑی ویب سائٹس اچانک کریش ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایمیزون کی ویب سائٹ اور ایپ منگل کو دنیا بھر کے ہزاروں صارفین کے لیے کریش ہو گئی،جس کی وجہ سے صارفین کی پریشانی کا سامنا کرانا پڑا اور ڈیلیوری ٹرک راستوں میں ہی رُک گئے کیونکہ ڈرائیور اپنے راستوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

    ڈیلی میل کے مطابق، پلیٹ فارم اور ایمیزون ویب سروسز، جو آن لائن ایپلی کیشنز پیش کرتی ہیں، کوگزشتہ روز صبح 10.40 بجے ای ٹی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

    بلومبرگ کے مطابق، دوپہر 2 بجے کے قریب، ڈیلیوری سروس کے تین شراکت داروں نے اطلاع دی کہ ڈیلیوری ڈرائیوروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایمیزون ایپ کام نہیں کر رہی تھی، جس کی وجہ سے وہ ٹرکوں کو روک رہے ہیں-

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں شمالی امریکہ اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصے شامل ہیں، جو آن لائن بندش پر نظر رکھتا ہے۔ امریکہ میں 20,000 سے زیادہ صارفین نے مسائل کی اطلاع دی۔

    زیادہ تر صارفین نے ایمیزون کی ویب سائٹ پر بندش کی اطلاع دی جبکہ کم لوگوں کو ایپ کے ساتھ مسائل تھے۔ کچھ صارفین چیک آؤٹ کرنے اور اپنی کارٹس میں اشیاء خریدنے سے قاصر تھے اس کے علاوہ، کچھ صارفین نے کہا کہ وہ ایمیزون میوزک استعمال نہیں کر سکتے، جس کے لئے وہ ماہانہ $16 فیس ادا کرتے ہیں-

    ڈیلی میل کے مطابق، بندش نے سروس فراہم کرنے والوں کو بھی متاثر کیا جن میں کیش ایپ، کیپیٹل ون، چائم، آئی روبوٹ، گو ڈیڈی، انسٹا کارٹ کنڈل، روکو اور ایسوسی ایٹڈ پریس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ صارفین کوڈزنی پلس کے ساتھ مسائل تھے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ای ٹی 1 بجے سے پہلے بحال ہو گیا ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ایمیزون نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ حادثہ اس کے ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) میں دشواریوں کی وجہ سے ہوا، جو ایپلیکیشن سافٹ ویئر بنانے اور انٹیگریٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ایمیزون نے اپنے سروس ڈیش بورڈ پر ایک رپورٹ میں کہا کہ ہم یو اسی ایسٹ 1 ریجن اے پی آئی اور کنسول کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں-

    کمپنی نے بعد میں کہا کہ وہ ‘بحالی کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہو رہے ہیں’ لیکن ‘ہمارے پاس اس وقت مکمل بحالی کے لیے کوئی ای ٹی اے نہیں ہے’۔

    ایمیزون کرسمس تک تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں کریش ہوا۔ بہت سے صارفین نے ٹویٹر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

    ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا، ‘ایمیزون ڈاؤن ہے۔ کرسمس پر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

    ایمیزون کی آخری بندش جولائی میں تھی، تقریباً دو گھنٹے کے لیے۔ 38,000 سے زیادہ صارفین نے ایمیزون کے آن لائن اسٹورز کے ساتھ مسائل کی اطلاع دی۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

  • صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں   تحقیق

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ صحت سے لے کر عالمی خبروں تک کسی بھی معاملے پر لوگ معلومات کا انتخاب اپنے احساسات کی بنا پر کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ بات سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ اگر عام افراد کو اس کا احساس ہوجائے کہ یا معلومات ان کے لیے مفید ہوگی تب ہی وہ اسے پڑھتے اور سمجھتے ہی خواہ وہ مالی معلومات ہوں، صحت کی خبریں ہوں یا پھر عالمی معلومات ہی کیوں نہ ہو۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    500 سے زائد افراد کو شامل تحقیق کیا گیا 500 افراد پر تحقیق سے پتا چلا ہے کہ معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو ان کے احساسات اور ضرورت کی بنا پر تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں یا تو علم اس کے لیے حاصل کرتے ہیں کہ حاصل شدہ معلومات ان کے احساسات اور جذبات پر اثر انداز ہوگی-

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اس معلومات سے فیصلہ سازی میں مدد لینا چاہتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ معلومات کو اس بنا پر پڑھتے ہیں کہ وہ اکثر اس بارے میں سوچتے رہتے ہیں یعنی لوگ اس معلومات کا اطلاق اپنی صحت، مالی امور اور باہمی تعلقات پر کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں جہاں تک صحت کا تعلق ہے لوگوں کی اکثریت یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کیا وہ کینسر کے شکار ہوسکتے ہیں یا نہیں اور کچھ لوگ 2100 میں کرہ ارض کا درجہ حرارت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    ماہرین کو توقع ہے کہ اس تحقیق سے نہ صرف لوگوں کے رحجان کا پتا چلتا ہے بلکہ اکتساب اور معلومات کے نئے مؤثر طریقے اختیار کرنے میں بھی مدد ملے گی ماہرین یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ آخرمعلومات کے حصول میں دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟ اور ہمہ وقت مطالعہ کرنے والے افراد آخر کس لالچ کے تحت پڑھے جاتے ہیں؟

    سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

  • ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    مسافرابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں طے کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اتحاد ریل کی توسیعی منصوبے کے تحت ابوظہبی سے دبئی کا سفر صرف 50 منٹ کا ہوگیا جب کہ فجیرہ تک کا سفر صرف 100 منٹوں میں مکمل ہوجائے گا ان ٹرینوں میں سفر کرنے والوں کی تعداد 36.5 ملین سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی گولڈن جوبلی،رہنماؤں کا اگلے 50 سال کے لئے نیا عزم

    متحدہ عرب امارات میں جدید اور تیز رفتار ریل کے ذریعے سالانہ تین کروڑ سے زائد مسافر ابوظہبی سے دبئی کا سفر محض 50 منٹ میں طے کرسکیں گے۔

    یو اے ای کے ریلوے پروگرام کے 50 پراجیکٹس زیر تعمیر ہیں جن کا مقصد 2030 تک پوری ریاست میں پٹڑیوں کا جال بچھانا ہے جسے نہ صرف مسافروں بلکہ مال برداری کے بھی کام میں لایا جائے گا۔

    متحدہ عرب امارات کا جھنڈا طاقت، فخر اور ناقابل تسخیر ہونے کی علامت ہے صدر شیخ…

    متحدہ عرب امارات ریلوے کا یہ منصوبہ ترقیاتی اور اقتصادی منصوبوں کا ایک سلسلہ ہے جس کا مقصد سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے تجارتی مسابقت اور اقتصادی برتری برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

    مستقبل میں یہ ریلوے ٹریک سعودی عرب کی سرحد پر واقع غویفت سے مشرقی ساحل پر فجیرہ کی بندرگاہ تک چلے گی اور متحدہ عرب امارات کے 11 اہم شہروں اور علاقوں کو بندرگاہ سے منسلک کردے گی۔

    یو اے ای کی ترقی کے گذشتہ 50 سالوں کے اعدادو شمار جاری

  • رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    پیرو کے دارالحکومت لیما سے سینکڑوں سال پرانی رسیوں میں جکڑی ممی دریافت کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے ماہرین نے لیما سے 25 کلو میٹر دور کاہا مورکیلا سے ممی کو دریافت کیا ہے جو رسیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    ملنے والے ممی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے اور اسے اکڑوں بٹھایا گیا تھا ماہرین کا کہنا ہے کہ رسیوں میں جکڑنا اور اکڑوں بٹھانا مردے کی بےحرمتی یا تشدد نہیں بلکہ اس وقت دفنانے کا یہی طریقہ تھا اور اس وقت کی تہذیب میں عام تھا۔

    محتاط اندازے کے مطابق دریافت ہونے والی ممی 8 سو سے 12 سو سال پرانی ہے اور یہ ہسپانوی عہد سے پہلے کا دور تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والی ممی کسی 25 سے 30 سال کے نوجوان کی لاش ہے اور یہ اسی علاقے کی پہاڑوں میں رہتا تھا۔

    واضح رہے کہ ماہرین نے رواں سال اکتوبر میں یہاں دوبارہ کھدائی شروع کی تھی جس کے بعد یہاں سے کئی اہم اشیا برآمد ہوئیں اور ممی بھی اسی دوران دریافت ہوئی۔ جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم اتنے کامیاب ہوں گے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    خیال رہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں 78 ہزار سال پرانی 3 سالہ بچے کی قبر دریافت کی تھی یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار