Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

    ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

    خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

    حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

    @hidesidewithak

  • موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی  بیماری   تحریر : فرح بیگم

    موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

    موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
    موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
    موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
    اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال آج کل عام ہے، اور ایک نشہ بن کر لوگوں کی زندگیوں سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر عمر کے لوگ خصوصاً نوجوان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کا بنیادی مقصد تفریح حاصل کرنا، وقت گزاری اور نت نئ دوستیاں بنانا اور خبریں وغیرہ حاصل کرنا ہے۔ لوگ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا استعمال کرنے کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہیں۔ لیکن اس کا استعمال کثرت سے نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ آج کل عام ہے۔ لوگ  تنہائی، ڈپریشن، ایگزاٹی اور مختلف ذہنی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، یہ ان کے لیے حتی الامکان اطمینان بخش ہو سکتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے استعمال سے ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نقصانات بہر حال کافی زیادہ ہیں۔

    لوگ صحت مندانہ زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات کا مسلسل استعمال بہت خطرناک ہے، ان سے نکلنے والی شعاعیں انسانی جسم پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لوگ ان آلات کو استعمال کرنے کے لیے بیشتر وقت ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں اور صحت مندانہ سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، جس کے صحت پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا لوگوں کی زہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کے علاوہ روز مرہ زندگی پر بھی بری طرح سے اثر انداز ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر دوستیاں پالی ہوئی ہیں اور دن کا بیشتر وقت سوشل میڈیا اور اس پر بنائے گئے دوستوں کے ساتھ مشغول رہتے ہیں، اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور وقت نہیں دے پاتے۔ لوگوں نے آپس میں ملنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنی زاتی زندگی نظر انداز کرتے ہیں۔ بہت سے کام ان کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ لوگ حقیقی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنا وقت سوشل میڈیا پر گزار کر بھی لوگ غیر مطمئن رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بننے والی دوستیاں ٹوٹنے پر اکثر نوجوان افسردہ رہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر بہت جلدی پھیلتی ہے۔ سوشل میڈیا جھوٹی خبریں پھیلانے کا گڑ بنتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی خبر یا بات نشر کی جائے تو لوگ بلا تصدیق اس کو آگے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں۔جس سے بعض اوقات سنگین قسم کی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ مہذب بن کر شر انگیز مواد شائع کرتے ہیں اور نفرت پھیلاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اپنی اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کو بھلا کر اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بری زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کا رواج عام ہو رہا ہے۔ جس کا اثر بہت سے نوجوانوں اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔ جو کہ تشویشناک صورتحال ہے۔

    لوگ سوشل میڈیا پر مثبت کام بھی کرتے ہیں، نوجوانوں اور لوگوں کے لیے کورسز وغیرہ اور دیگر چیزیں سیکھنے کے بہت زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں، لوگ اپنے کاروبار وغیرہ کی اشاعت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے زریعے کامیاب کاروبار بھی کرتے ہیں۔ مختلف مذہبی اور دیگر موضوعات پر راہنمائی کے پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں۔

    بہرحال لوگوں کو خصوصاً نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا استعمال اپنی بہتری کے لیے کرنا چاہیے، انہیں کسی بھی صورت اپنی زندگی عذاب بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ایک جال ہے، جو آپ کو بری طرح جکڑ سکتا ہے، آپ کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے ہوش و حواس بحال رکھیں اور توازن کے زریعے اس کا استعمال کریں۔ خود کو حقیقی اور صحت مندانہ زندگی کی طرف راغب کریں اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں۔ سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی خواہش ہے کہ وہ لمبے عرصے تک جئیں اس حوالے سے ارب پتی جیف بیزوس اور یوری ملنر ایسی بائیوٹیکنالوجی فرم کو فنڈز دے رہے ہیں جس کا مقصد عمر کو بڑھانا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الٹس نامی لیب کے لیے امریکہ اور برطانیہ میں 270 ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں اور ممکنہ طور پر انسانوں میں سیل ری پروگرومنگ ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    پروگرام میں ایک جاپانی ڈاکٹر شنیا یاماناکا بھی شامل ہیں جنہوں نے سیل ریپروگرامنگ میں تحقیق کی اور انہیں اس تحقیق کے لیے 2012 کا نوبل انعام دیا گیا۔

    انہوں نے دریافت کیا کہ خلیوں میں صرف چار مخصوص پروٹینز کو شامل کرکے انہیں دوبارہ پرانی حالت میں واپس لایا جاسکتا ہے جو جانوروں کو نئی زندگی کی طرف لاسکتے ہیں2016 میں بھی ایسی ہی تحقیق میں ایک سیل بنایا گیا تھا جس کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا، جس کے مثبت اثرات دیکھے گئے تھے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف خلیوں کو جوان نہیں بناتی، بلکہ انہیں سٹیم سیلز میں تبدیل کر کے ان کے کردار کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر آزمانا اب بھی بہت خطرناک ہے۔

  • ففتھ جنریشن وار اور ہم   تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار اور ہم تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار

    دراصل hybrid  war ہے یعنی مخلوط طریقہ جنگ

    جس میں 

    عسکری

    انفارمیشن

    ڈس انفارمیشن

    مسلسل پروپیگنڈا سے رائے کی تبدیلی

    پر تسلسل سے کام کیا جاتا ہے اور عام رائے کو اپنے مقصد کیلئے کسی ریاست کے حق میں یا خلاف ہموار کرنے کیلئے منصوبہ بندی سے کوشش کی جاتی ہے

    اس کے کئی حصے ہیں

    1۔ مخالف ریاستوں میی کسی حکومت ، ادارے یا کسی عالمی یا مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    2۔ اپنی ریاست کے حق میں

    3۔ اپنی ہی ریاست میں کسی خاص علاقے، ادارے یا عالمی و مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    4۔ عالمی رائے عامہ کو کسی موقف کے حق میں یا خلاف بدلنے کیلئے 

    5۔ چونکہ اسے وار فیئر کا نام دیا گیا ہے اس لئے ہر ملک کی افواج  کے حق میں یا خلاف رائے بدلنے کیلئے بھی یہی وارفیئر مسلسل استعمال کی جاتی ہے

    ففتھ جنریشن وار فیئر کا پروپیگنڈا بھی ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جہاں آپ کے اعصاب کو تناؤ میں رکھ کر متوقع ردعمل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ تہہ در تہہ پلاننگ ہے

    اسلئے اسے درست طور پر سمجھنا ضروری ہے 

    قریبا ہر ملک میں کچھ شخصیات ، ادارے اور شعبے مقدس ٹھہرائے جاتے ہیں 

    جن کے حق میں ملک کے اندر سے اور انکے خلاف باہر سے اس طریقہ جنگ کے تحت پلاننگ کی جاتی ہے

    جس کا مثبت اور منفی استعمال یہی شخصیات ، ادارے اور شعبے بھی کرتے ہیں اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر من مانی کرنے کے ساتھ ذاتی ایجنڈے بھی پروموٹ کرتے ہیں

    اسلئے میڈیا اور سوشل میڈیا 

    ‏کیلئے صحیح بات معلوم ہونا ضروری ہے پھر وہ خود فیصلہ کریں کہ کیا بتانا اور کیا چھپانا مناسب ہے

    مثبت پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ ڈس انفارمیشن اس طریقہ جنگ کا بڑا ہتھیار ہے

    جس سے رائے کیلئے check لگا کر تجزیہ کر کے آئندہ کیلئے پلاننگ کی جاتی ہے

    اسے ہم ابھی اگر صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو

    پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا لیبل لگانے کیلئے اسے استعمال کیا گیا اور ہم اس کا دفاع خاصے عرصے تک نہ کر سکے

    ہمیں عالمی پابندیوں، سیاحت کے نقصان اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا رہا بڑے فورمز پر ہمیں کئی دفعہ شکست کا سامنا کرنا پڑا جس میں اب جا کر کسی حد تک تبدیلی آ سکی ہے

    لیکن 70 کی دہائی سے اس جنگ کا ایک حصہ اندرون ملک بھی لڑا جارہا ہے جسے عسکری ادارے lead کر رہے ہیں

    بطور پاکستانی ہمارے لئے اس جنگ کا درست طریقہ کار کیا ہے

    ہماری ترجیحات کی کسوٹی پاکستان کا مفاد ہو

    کوئی حکومت

    کوئی شخصیت

    کوئی ادارہ

    اسکی کسوٹی نہ ہو

    کوئی حکمران ، کوئی جج کوئی جرنیل کوئی بیوروکریٹ کوئی میڈیا آئیکون کوئی رائٹر جس کا کوئی کام پاکستانی مفاد سے متصادم ہو ہم اسے گرفت کر سکیں

    مگر اس سے پہلے بیرونی ممالک کے عالمی فورم پر launched پروپیگنڈا کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی اہلیت بھی ہم پیدا کریں

    اور

    عالمی اور مقامی سطح پر کوئی پروپیگنڈا لانچ کرتے ہوئے یا کسی پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے ہم یہ مدنظر ضرور رکھیں کہ اس کا اثر پاکستان کیلئے کیا ہو گا

    اس کیلئے کئی دفعہ ہمیں اپنے الفاظ ، اور کئی دفعہ حقائق بھی دبا کر رکھنا پڑیں گے 

    ففتھ جنریشن وار

    بڑی سطح پر کھیلی جانے والی وہ شطرنج ہے جس میں بعض دفعہ ایک چھوٹی سی چال کسی بڑے معاملے کو سلجھا یا خراب کر سکتی ہے

    ففتھ جنریشن وار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ 

    آپ وہ موقف تسلیم کر کے اس جنگ کا حصہ بنیں جو اس وار فیئر کے ڈیزائنر آپ کو بتاتے ہیں وہ ڈیزائنر غیر ملکی ہوں یا ملکی

    اسی وجہ سے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جو اس جنگ میں حق میں یا خلاف ایک ہی مخصوص ایجنڈا پر کام کرتے نظر آئیں گے ‏ایسے میں ہم کس طرح دشمن کا آلہ کار بننے سے بچ سکتے ہیں

    جبکہ اداروں کی طرف سے پالیسیز پر مکمل خاموشی کیلئے وجہ سیکیورٹی بتائی جاتی ہے

    آج کل کوئی معاملہ انفرادی نہیں ہے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا تعلق مقامی اور عالمی پالیسی ، سسٹم اور براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول سے جڑا ہوا ہے

    اسی طرح صرف اس چیز کی وضاحت کیلئے ایک کتاب بھی ناکافی ہے کہ ہم کب کیا اور  کس طرح سمجھیں اور ردعمل کا اظہار کریں

    مسلسل نظر، درست معلومات، تجزیہ اور سیاق و سباق سے واقفیت ضروری ہے جو سب کو میسر نہیں اور اسی چیز سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے

    اسلئے ضروری ہے کہ ہر لیول پر غیر جانبدار تھنک ٹینک اور ڈسکشن بورڈ ہوں جو تازہ ترین صورتحال پر بات کر کے واضح کر سکیں

    ‏ڈس انفارمیشن سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں

    پہلا موثر ترین طریقہ حکومتی سطح پر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سب سے زیادہ غیر فعال ہیں

    دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں انفرادی یا چھوٹی جماعتوں اور ٹیموں کی شکل میں انالسز ونگ اور جوابی سٹریٹجی اختیار کرنے کے ہیں لیکن اس معاملے میں اکثر صحیح واقفیت نہ ہونا رکاوٹ ہے درحقیقت اس پر بڑے لیول پر کام کرنے کیلئے میدان قریبا خالی پڑا ہے

    ‏بیانیہ کی جنگ میں ہم پاکستانیوں میں صبر اور صحیح تجزیہ کی کمی ہے کیونکہ ہم فوری ردعمل ضروری سمجھتے ہیں

    اور درحقیقت یہی وہ چیز ہے جو ففتھ جنریشن وار کے منصوبہ ساز استعمال کرتے ہیں

    ہمیں رکنا ، دیکھنا ، سوچنا اور سمجھنا شروع کرنا پڑیگا

    "کسی ردعمل سے پہلے”

    Twitter handle 

    @ShafqatChMm

  • ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا ہے جس میں ٹوئٹرصارفین اپنے سبسکرائبرز کے لیے شیئر کیے گئے مواد کے پیسے وصول کرسکیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ ان کی ٹوئٹس صرف سپرفالوورز کی ٹائم لائنز پر نظر آئیں گی جنہوں نے انہیں سبسکرائب کیا ہوگا سپر فالوورز کی شناخت ان کے نام کے نیچے نظر آنے والے ایک بیج کے ذریعے ہوگی جب وہ کسی بھی ٹوئٹ کا جواب دیں گے۔

    نئے فیچر کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا اور اب یہ فیچر آئی او ایس ٹوئٹر کی ایپ پر دستیاب ہے ، اسےامریکہ اور کینیڈا میں لوگوں کے ایک ٹیسٹ گروپ تک محدود کیا گیا ہےٹوئٹر اس فیچر کو آئندہ ہفتوں میں دیگر ممالک میں بھی آئی او ایس پر فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے بعد میں یہ اینڈرائیڈ اور ویب پر بھی دستیاب ہوگا۔

    ٹوئٹر کے مطابق سپر فالووز صارفین ماہانہ بنیادوں پر 3، 5 یا 10 ڈالر اسٹرائپ سے ہونے والی ادائیگی کے ذریعے وصول کرسکتے ہیں تھرڈ پارٹی فیس کے صارفین سبسکرپشن سے 97 فیصد آمدنی کماسکتے ہیں جب تک وہ 50 ہزار ڈالر کی لائف ٹائم مونیٹائزیشن تک نہیں پہنچ جاتے۔اس حد کو عبور کرنے کے بعد 80 فیصد تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل ٹویٹر نے کہا تھا کہ وہ ایک حفاظتی فیچر لانچ کرے گا جو صارفین کو نقصان دہ زبان استعمال کرنے یا بلائے گئے جوابات بھیجنے کے لیے سات دن کے لیے اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    ایک بار جب سیفٹی موڈ آن ہوجاتا ہے ، ٹویٹر کے سسٹم ٹویٹ کے مواد کو چیک کریں گے تاکہ منفی مصروفیت کے امکان اور مصنف اور جواب دہندہ کے مابین تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ کمپنی نے کہا کہ جن اکاؤنٹس کے ساتھ اکثر بات چیت ہوتی ہے وہ خودکار طور پر بلاک نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ موجودہ تعلقات کو مدنظر رکھتا ہے۔

    کمپنی نے کہا ، “ہم چاہتے ہیں کہ ٹویٹر پر لوگ صحت مندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوں ، لہذا ہم حد سے زیادہ اور ناپسندیدہ بات چیت کو محدود کر رہے ہیں جو ان گفتگو کو روک سکتی ہے۔”

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    گوگل نے افغان حکومت کے نامعلوم تعداد میں ای میل اکاؤنٹس بند کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق افغانستان کا کنڑول سنبھالنے کے بعد اگرچہ طالبان نے سابقہ حکومت میں شامل عہدیداروں اور ان سے تعاون کرنے والے ہم وطنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن برطانوی خبر رساں ایجنسی ” روئٹرز” کا کہنا ہے کہ طالبان سابق افغان حکومت میں شامل عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    جمعے کو ایک بیان میں گوگل الفابیٹ انکارپوریٹڈ نے بتایا کہ کمپنی افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی کہ افغان حکومت کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سابق افغان حکومت کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ طالبان سابق حکام کی ای میلز تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبان نے گذشتہ ماہ ان سے کہا تھا کہ وہ اس وزارت کے سرورز پر موجود ڈیٹا کو محفوظ کریں جس کے لیے وہ کام کرتے تھےاگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ سابقہ وزارت کے ڈیٹا اور سرکاری مواصلات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد…

    سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی اور اب وہ روپوش ہیں۔

    عوامی طور پر دستیاب میل ایکسچینجر ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً دو درجن افغان حکومتی اداروں نے سرکاری ای میلز کے لیے گوگل سرورز کا استعمال کیا جن میں وزارت خزانہ، وزارت صنعت، اعلیٰ تعلیم اور معدنیات کی وزارتیں شامل ہیں کچھ مقامی حکومتوں کی طرح افغانستان کے صدارتی پروٹوکول کا دفتر بھی گوگل اکاؤنٹس استعمال کرتا رہا ہے۔

    سرکاری ڈیٹا بیس اور ای میلز سابق انتظامیہ کے ملازمین، سابق وزرا، سرکاری ٹھیکے داروں، قبائلی اتحادیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

  • سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کی متبادل ایپلیکیشن تیار کر لی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایپ سے متعلق وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اگلے چند ہفتوں کے بعد ہم بیپ ایپلیکیشن لانچ کرنے جارہے ہیں یہ ایپ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو گی اس ایپ کی دیکھ بھال این ٹی سی کریں گی، اس لیے یہ محفوظ ہو گی، یہ ایپ بن چکی ہے ٹرائل پر ہے، چند ہفتوں میں لانچ کر دی جائے گی۔

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد…

    سید امین الحق کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں اس ایپ میں صرف ٹیکسٹ میسج کی سہولت ہو گی دوسرے مرحلے میں وائس اور ویڈیو کال کی سہولت بھی موجود ہو گی اس ایپ کو ابتدائی سٹیج میں صرف وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے لانچ کیا جائے گا۔

    سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع ، نوٹیفیکیشن جاری

    واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سرکاری ملازمین کو خط لکھ کر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا تھا نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا تھا کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ ان حاضر سروس سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اس سوشل میڈیا گروپ کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

  • صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرز تنقید کے بعد مؤخر کردیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکورٹی فیچرز متعارف کرایا تھا جس کے تحت فون پرنازیبا تصاویر بھیجنے یا آنے پر بچوں کے والدین کو اطلاع دی جائے گی۔

    نئے فیچر کے تحت کسی بھی آئی فون میں بچوں کی نازیبا تصاویر ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بھی خودکار طریقے سے آگاہ کردیا جائے گا۔ آئی فون کے نئے سیفٹی ٹولز متعارف کرادیئے گئے ہیں۔ یہ فیچرز ابتدائی طورپر امریکہ، پھر دنیا بھر میں دستیاب ہوں گے۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    ایپل کا کہنا تھا کہ نئے فیچرز نازیبا تصاویر بھیجنے یا وصول کرنے والے بچوں کی نگرانی اور ان کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے متعارف کرایا جائے گا لیکن صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے نئے فیچر کو مؤخر کردیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز کمپنی نے اپنے متنازع نئے اینٹی چائلڈ پورنوگرافی فیچر کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہےکمپنی نے یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی ایپل کے نئے فیچر کو تنقید کا نشانہ بناتے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر مستقبل میں جاسوسی کرنے کا زریعہ بن سکتا ہے۔

    ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز کا کہنا ہے کہ ایپل فون کے آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیلی موبائل میں ممکنہ بیک ڈور بناتا ہے جس سے حکام اور مختلف گروہ صارفین کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو…

  • سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

     
    یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ دور جدید میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اب سوشل میڈیابعض مقامات پر کسی بھی خبر سے متعلق پہلا ذریعہ تصور کیا جانے لگا ہے۔یہاں تک کہ مین اسٹریم میڈیا اور نیوز چینلز بھی سوشل میڈیا کو بطور پرایمری سورس استعمال کرر ہے ہیں۔ زمانہ کی تبدیلیوں اور گلوبل ولیج کے تصور کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے معاشروں پر اپنے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ عالمی استعمار کی ایک کوشش یہ بھی رہی ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سافٹ وئیرز اور نت نئی ایپلیکیشنز کی ایجاد کے پس پردہ مقاصد میں دنیا کی قوموں اور اذہان کو کنٹرول کرناہے۔حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عالمی استعماری نظام اور قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا کی دیگر قومیں ان کے سامنے محکوم رہیں۔عالمی استعمار کا سب سے بڑا ہدف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو بطور آلہ یا ہتھیار استعمال کر کے یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا کی دیگر اقوام کے سوچنے کا طرز کیا ہے؟ یا یہ کہ اقوام کا طرز تفکر کیا ہے اور اسے استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لئے کس طرح تبدیل کر سکتی ہیں۔اس مقالہ میں نہ تو سوشل میڈیا کے فوائد کی لسٹ بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے استعمال کے نقصانات کی فہرست بیان کرنا مقصود ہے۔
    موجودہ حالات کے تناظر میں کہ جب پاکستان ایک ایسے حساس دور سے گزر رہا ہے کہ جب اندرونی اور بیرونی دشمن ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے خالی نہ جانے دیا جائے۔ ایک طرف عالمی استعمار بالخصوص امریکی نظام حکومت ہے کہ جس کا مقصد ہمیشہ سے پاکستان جیسے ممالک کو کمزور کرنا ہی رہا ہے تا کہ اس بہانے سے ہی پاکستان اور ایسے دیگر ممالک پر براہ راست فوجی تسلط یا بالواسطہ تسلط حاصل رہے۔لہذا امریکہ پاکستان کا ایک ایسادشمن ہے کہ جس نے دوست کا لباس پہن رکھا ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی ناجائز اولاد اسرائیل ہے کہ جس کا نظریاتی دشمن ہی پاکستان ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کے لئے ہی پاکستان مہم ہے۔ دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کا اثر ونفوذ بڑھ جائے۔ ویسے تو امریکہ اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف کئی ایک مذموم عزائم ہیں لیکن ایک سب سے بڑا ناپاک منصوبہ جس کے لئے ہمیشہ دونوں ہی سرگرم عمل رہتے ہیں وہ مسلم دنیا میں پاکستان کی طاقتور اور باصلاحیت افواج کو کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں لکھے گئے کئی ایک مقالہ جات میں اس کی تفصیلات بھی بیان کی جا چکی ہیں۔ امریکہ سمیت اسرائیل اور دیگر دشمن طاقتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ کسی بھی مسلم دنیا کے مضبوط ملک کو اگر کمزور کرنا ہے یا اس کے خلاف سازش کرنا ہے تو پہلے اس کے سب سے مضبوط اور آہنی ستون یعنی فوج پرحملہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں حملہ سے مراد کوئی فوجی اور عسکری حملہ نہیں ہے بلکہ ایسا حملہ ہے کہ جس کے ذریعہ لوگوں کے اذہان کو تبدیل کیا جائے۔لوگوں کے دلوں میں اپنے ہی وطن کی افواج اور رکھوالوں کے خلاف زہر گھول دیا جائے تا کہ جب دشمن کاری ضرب لگانے کے لئے تیاری کرے تو اس ضرب کو روکنے والی فرنٹ لائن قوت ہی ناکارہ ہو چکی ہو۔ یہی کام امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی حواریوں نے مسلم دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص شام، عراق، لیبیا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں انجام دیا اوربعد ازاں اپنے من پسند عزائم کی تکمیل کو پروان چڑھایا۔
    حالیہ دور میں دشمن اپنے اسی منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب سے زیادہ جس ہتھیار کا استعمال کر رہاہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔سوشل میڈیا پر نوجوانوں ک اذہان کو خراب کرنے اور انہیں اپنے ہی ملک و قوم اور افواج کے مقابلہ پر لا کھڑا کرنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔اسی سوشل میڈیا پر بھارت، یورپی ممالک اور کچھ عرب ممالک سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ منفی پراپیگنڈا ایسے اوقات میں شدت اختیار کر لیتا ہے جب ملک ک ی اندرونی سیکورٹی سے متعلق حالات تبدییل ہو رہے ہوتے ہیں۔یا اس طرح کہہ لیجئے کہ جب سیکورٹی فورسز غیر ملکی ایماء پر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کاری ضرب لگانا شروع کرتے ہیں تو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے، لسانی اختالافات کو ہوادینے سمیت افواج پاکستان کے خلاف منفی اور غلیظ زبان کا استعمال کرنے میں یورپی ممالک سمیت بھارت، دبئی اور کچھ عرب ممالک سے نیٹ ورکنگ کے تانے بانے ملتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ماضی کی حکومت ہو یا موجودہ حکومت ہو ابھی تک ملک کے اندر سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا کے بارے میں کنٹرول کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا کے موجد مغربی ممالک سب سے پہلے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر حملہ جیسے نعروں کا واویلا شروع کرتے ہیں۔حالانکہ خود ان مغربی ممالک کی حالت دیکھی جائے تو وہاں سی این این جیسے خود کے نیوز چینل کو بھی بند کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی آزادی اظہار پر قد غن کا نعرہ بلند کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔
    دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جن ممالک سے پاکستان میں آگ بھڑکانے کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں خود ان ممالک کی حکومتوں نے اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لئے کئی ایک رکاوٹی نظام متعارف کروا رکھے ہیں۔ خود بھارت کی بات کریں تو بھارت میں کسی بھی سوشل میڈیا کے سافٹ وئیر اور ایپلیکیشن کے ادارے کو اس وقت تک بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ جب تک اس کمپنی کا آفس بھارت کے اندر سے کام نہ کرے اور اس کمپنی کا ایک نمائندہ بھارت میں موجود نہ ہو۔ اسی طرح عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر چند عرب ممالک میں سوشل میڈیا کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد ہیں۔باہر سے جانے والے مسافر یا عارضی طور پر رہائش رکھنے والے باقاعدگی سے کسی بھی طرح کا سافٹ وئیر آزادانہ استعمال نہیں کر سکتے۔
    ان تمام باتوں کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کو جدید طرز فکر س ے دور کر دیا جائے یا سوشل میڈیا کا استعمال نہ کیا جائے۔البتہ ان باتوں کو بیان کرنے کے اہم مقاصد میں سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان او ر ذی شعور طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کو عاقلانہ انداز میں استعمال کرے اور نیچے دوسروں لوگوں تک اس کی ترغیب دے۔ اسی طرح ان باتوں کو بیان کرنے کا دوسرا اور سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ سوشل میڈیا کو مادر پدر آزاد رکھنے کی بجائے اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ضروری پابندیاں یا کچھ روک تھام کی ضرورت ہو تو ایسے اقدامات سے ہر گز گریز نہ کیا جائے۔دور جدید کے سیاسی نظام کا یہ تقاضہ ہے کہ ہر ملک اور ریاست اپنے قومی اور مشترکہ مفاد کے لئے ایسی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں کہ جو ریاست کے مفاد اور عوامی مفاد میں ہو۔ اس کام کے لئے اگر وقتی طور پر قانون سازی کی ضرورت بھی ہو تو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے۔ان اقدامات سے جہاں معاشرے میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے میں مدد حاصل ہو گی وہاں ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی مدد بھی ہو گی کہ جو فرنٹ لائن پر نہ صرف عسکری جہاد میں مصروف عمل ہیں بلکہ سرحدوں کے اندر بھی دشمن کی گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات چوکس رہتے ہوئے خدمات انجام دیتے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور عوام الناس کو با شعور کرنا ہر ذی شعور پاکستانی شہری کی قومی ذمہ داری ہے اور ہم سب کو مل کر اس قومی ذمہ داری کو انجام دینا ہو گا اور وطن عزیز کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔