Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی پہچان میں فنگر پرنٹ کا بہت بڑا کردار ہے، کسی فرد کی الگ سے پہچان اٹھارہ سو اسی میں ڈاکٹر ہنری فالڈز جنکا تعلق فرانس سے تھا، انہو نے کی تھی. تب سے انسانی پہچان کا سلسلہ شروع ہوا جو آجکل کے جدید دور میں بھی سرِ نمایاں ہے جسکا متبادل کوئی اور زریعہ نہیں ہے. دنیا میں کم و بیش سات ارب نوے کروڑ سے زیادہ انسان رہتے ہیں اور کئ ارب سے زیادہ انسان اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں اور نہ جانے قیامت تک کتنے انسان اس فانی دنیا میں جنم لیں گے لیکن تمام انسانوں کی فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے جدا ہونگی حتیٰ کہ جُڑوا بھائیوں کے فنگر پرنٹس بھی جدا تھے اور ہوں گے. اس سب کے باوجود کئی لوگ جو اللہ تعالی کو نہ ماننے والوں میں سے ہیں وہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی میں مِل جاتا ہے اور اسکے جسم کی ہڈیاں خاک میں مِل جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیکہ انسان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کرکے انسان کو پہلی والی شکل میں اتارا جائے گا، یہ ناممکن ہے لیکن اگر اسطرح ہو بھی جائے تو روزِ محشر کیسے اس انسان کی پہچان واضح ہوگی.

    اس کا جواب اللہ تعالی نےقرآن مجید کی سورۃ قیامت کی آیت نمبر 3 اور 4 میں دیا ہے.
    "أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ”
    ترجمہ
    "کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں”

    یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقیناٙٙ انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں

    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    "بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ”
    ترجمہ
    "ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں”

    بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا. جن میں اللہ تعالیٰ کو نہ فقط بوسیدہ ہڈیوں کے جمع کرنے بلکہ انسان کے انگلیوں کے سروں کو بھی دوبارہ بنانے پر قادر قرار دی گئی ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آج سے چودہ صدیوں پہلے کسی کو علم تھا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے سے جدا ہیں ؟
    بالکل یہ علم رکھنے والی زات الله تعالیٰ کی ہے اور کوئی زات نہیں.

    @ObaidVirk_717

  • سوشل میڈیا اور  آج کی جنریشن   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سوشل میڈیا اور آج کی جنریشن تحریر: ایمن زاھد حسین

    میڈیا ان دنوں کی ایک اہم ضرورت بن گیا ہے ، ہم کچھ کھائے پیئے بغیر دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے بغیر ایک دن زندہ رہنا مشکل ہے کیونکہ ہم نے ٹیکنالوجی کو ہم پر حاوی ہونے دیا۔

    کبھی کبھی کاش سیل فون کبھی ایجاد نہ ہوتے۔ بلاشبہ ، اس کے بہت سے فوائد ہیں مثلا فون کالز ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا ، لیکن اس کے اثرات مضر ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کے لئے منی سوشل کنٹرول رومز میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو ان کے دماغی خلیوں کو تنزلی کا شکار کررہا ہے۔

    بیس سال پہلے کا طرز زندگی بالکل مختلف تھا۔ جہاں سیل فونز اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو عالمگیر بنادیا ہے ، وہیں وقت کے ساتھ آمنے سامنے گفتگو اور خاندانی منسلکات بھی ویران ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی جھوٹی خبروں نے کیریئر کو بھی ختم کردیا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا ایک لذت کا نشہ بن گیا ہے ، جو ہمیں اس سے بے خبر کر دیتا ہے کہ ہم اس کی کتنی عادت ڈال چکے ہیں۔ سائبر بدمعاشی ، ہیکنگ ، گھوٹالے اور دھوکہ دہی یہ سب سوشل میڈیا کی برکات ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں میں کچھ بھی نجی نہیں رہتا ہے اور اب ، وہ سب کچھ بانٹنا پسند کرتے ہیں۔ ٹِک ٹوک جدید دور کا ایک بہت بڑا فساد ہے۔ یہ نوجوانوں کو تباہ کررہا ہے۔ ٹک ٹوک نوجوانوں کو خودغرض رہنے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کسی حد تک جانے پر مجبور کررہا ہے۔ وہ اس بکواس کے ساتھ نہ صرف اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں بلکہ اخلاقیات کی تمام حدیں بھی عبور کررہے ہیں۔ اور اسلامی نکتہ سے یہ دیکھا جاسکتا ہے جب ویڈیوز میں لڑکوں کو لڑکیوں کی طرح بنا دیا جاتا ہے جو شرمناک ہے اور قیامت کے دن کی ایک بہت سی علامت ہے۔ ’لڑکیاں لڑکے اور لڑکے لڑکیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ ، ٹک ٹوک ہمارے معاشرے میں ایک فطری اقدار کو فروغ دیتا ہے کم سے کم مغربی لباس و ملبوس لڑکیاں جو کہ فحاش کو فروغ دی رھی ھیں اور فضول باتوں سے بھری ویڈیو عام طور پر پائی جاسکتی ہے ، جس کا کوئی مذہب اور اخلاقیات تائید نہیں کرسکتے۔ بہت اچھا فیصلہ کیا تھا اس پر پابندی لگا کر گورنمنٹ آف پاکسان نے۔…

    @ummeAeman

  • جدت کی زندگی   تحریر: مزمل مسعود دیو

    جدت کی زندگی تحریر: مزمل مسعود دیو

    جیسے جیسے دنیا میں آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے اللہ تعالی نے انسانوں کے ذہن میں نئی نئی چیزوں کی ایجاد کی سوچ ڈالی تاکہ انسان بہتر طریقے سے اپنی زندگی بسر کریں۔ دیکھا جائے تو بہت سی چیزوں کی ایجاد نے دنیا میں اک انقلاب برپا کیا جیسے بجلی، الیکٹرونکس، موٹر انڈسٹری اور پٹرولیم۔ ان شعبوں میں مزید ترقی آئی اور انسان روز روز نئی چیزیں ایجاد کرنے لگے۔
    دیکھا جائے تو بجلی سے پہلے کیسی زندگی ہوگی کہ ہر طرف شام ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا تھا اور زندگی رک سی جاتی تھی اور صبح ہونے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ موٹر انڈسٹری نے فاصلے کم کردئیے۔ مہینوں کے فاصلے گھنٹوں میں ہونے لگے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر گھنٹوں میں طے پانے لگا۔ الیکٹرونکس کی ایجاد میں بہت کچھ ایجاد ہوا لیکن ایک حیران کن چیز ایجاد کی گئی جس کو موبائل فون کا نام دیاگیا۔
    کہتے ہیں کہ پہلا موبائل فون 1973 میں ایجاد کیا گیا اور اسکے موجد کا نام مارٹن کوپر ہے جس نے موٹرولا کمپنی کے اشتراک سے پہلا فون بنایا۔
    موبائل فون میں اصل جدت 1990 کے بعد آئی جب بہت سی کمپنیوں نے اس کاروبار کو وسیع کیا اور نت نئے ماڈل متعارف کروائے جس سے لوگوں میں اسکی خریداری کا رجحان بڑھتا گیا۔ آجکل تو سمارٹ فون کھانا کھانے سے زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ موبائل فون کی آمد سی پہلے زمانہ بہت حسین تھا بے شک وسائل کم تھے لیکن لوگوں میں محبت بہت زیادہ تھی۔ کسی رشتے دار یا دوست کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اس کے پاس جانا پڑتا تھا تو وہ ملاقات آپس میں محبت اور زیادہ بڑھا دیتی اور موبائل نے یہ کام قریبا ختم کردیا۔
    ہر چیز کے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں دیکھا جائے تو جہاں موبائل فون کے فوائد ہیں جیسے آسان اور تیز رابطہ، دنیا کے حالات سے آگاہی۔، تعلیمی میدان میں معاونت وغیرہ وہیں نقصانات بھی ہیں۔
    رابطہ تو بہت تیز ہے لیکن اس میں محبت ختم ہوگئی، گھریلو اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا کیونکہ ہر فرد کو موبائل چاہئیے۔ بچوں میں اکیلا رہنے کی عادت زیادہ ہو گئی جس سے بڑوں کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، انسانی جسم پر اسکے بہت منفی اثررات ہو رہے ہیں جیسے نظر کا کمزور ہونا، دماغی کمزوری وغیرہ۔ انٹرنیٹ کے استعمال سے فحش چیزوں کو دیکھنے سے معاشرے میں بے حیائی بھی بڑھ رہی ہے۔
    موبائل فون کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ اسکے استعمال سے بچایا جائے لیکن یہ ناممکن ہی نظر آتا ہے۔ موبائل فون کو معاشرے کی بہتری کے لیے زیادہ استعمال میں لائیں نہ کہ بس فضول گیمز اور فلمیں دیکھنے کے لیے۔ اسلامی تعلیمات کو عام کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کیا جائے۔
    جدت انسان کو دو راستے دکھاتی ہے ایک جو بہت مہنگا ہے اور دوسرا وہی پرانے سٹائل طرز زندگی اب یہ ہماری مرضی کہ اپنے وسائل کے مطابق کونسا راستہ اختیار کریں۔

    ‏@warrior1pak

  • پاکستان اور سایبر جنگ  کی تیاری  تحریر: شہزاد احمد

    پاکستان اور سایبر جنگ کی تیاری تحریر: شہزاد احمد

    ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
    ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
    دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
    پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
    ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
    ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
    خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
    کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
    جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
    پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
    پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
    موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
    بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
    (@imshehzadahmad)

  • چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟    روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    روسی میڈیا نے سوالات اٹھا ئے ہیں کہ چین کے معاملات پرشور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے؟

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سوفٹ ویئر کمپنی این ایس او گروپ کی جانب سے بنائی گئی خفیہ ٹیکنالوجی پیگاسس کے ذریعے حکومتوں نے دنیا بھر میں صحافیوں، سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے فون ٹیپ کیےجس پر پوری دنیا مشتعل ہے۔ تاہم ، اس دعوے کے مقابلے میں اسرائیلی معاملے پر غصہ اس قدر نہیں جتنا چین کی جانب سے ہواوے (Huawei) کمپنی سے اس مطالبہ پر سامنے آیا تھا کہ وہ فون میں بیک ڈور رکھے جو کبھی ثابت نہیں ہوا۔

    اس ہفتے کے شروع میں ، واشنگٹن پوسٹ اور ممنوعہ کہانیاں بشمول انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر ، خبر رساں اداروں کے ایک گروپ نے پریشان کن نتائج کا انکشاف کیا پوری دنیا کی حکومتیں این ایس او گروپ سے پیگاسس سپائی ویئر خرید رہی ہیں اور اسے صحافیوں کی جاسوسی کے لئے استعمال کررہی ہیں ، عوامی شخصیات ، اور یہاں تک کہ دوسرے عالمی رہنما بھی۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    واضح رہے کہ موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔

    پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔

    آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

    ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔

  • ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی پیچیدہ لگتی ہے ، اور یہ یقینی طور پر ہے ، لیکن اس کا بنیادی تصور واقعی بہت آسان ہے۔ بلاک چین ایک قسم کا ڈیٹا بیس ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لئے، اس سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں ڈیٹا بیس کیا ہے۔

    ‎ڈیٹا بیس معلومات کا ایک مجموعہ ہے جو الیکٹرانک طور پر کمپیوٹر سسٹم میں اسٹور کیا جاتا ہے۔ ڈیٹا بیس میں موجود معلومات ، یا ڈیٹا کو عام طور پر ٹیبل فارمیٹ میں تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ مخصوص معلومات کے لئے easier آسان تلاش اور فلٹرنگ کی سہولت ہو۔ کسی میں ڈیٹا بیس کے بجائے معلومات کو ذخیرہ کرنے کے لئے اسپریڈشیٹ استعمال کرنے میں کیا فرق ہے؟

    ‎اسپریڈشیٹ ایک شخص ، یا لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے لئے ، محدود مقدار میں معلومات کو اسٹور کرنے اور ان تک رسائی کے لئے تیار کی گئی ہیں۔ اس کے برعکس ، ایک ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد میں معلومات رکھی جاسکتی ہیں ، جس کو ایک ہی بار میں کسی بھی تعداد میں صارفین کے ذریعہ تیزی سے اور آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ، فلٹر کیا جاسکتا ہے۔

    ‎بڑے ڈیٹا بیس اس سرور پر ہاؤسنگ ڈیٹا کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں جو طاقتور کمپیوٹرز سے بنے ہیں۔ یہ سرور بعض اوقات سیکڑوں یا ہزاروں کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے بنایا جاسکتا ہے تاکہ متعدد صارفین کو بیک وقت ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کمپیوٹیشنل پاور اور اسٹوریج کی گنجائش ضروری ہو۔ اگرچہ کسی اسپریڈشیٹ یا ڈیٹا بیس پر کسی بھی تعداد میں لوگوں تک رسائی ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اکثر ایک کاروبار کی ملکیت ہوتی ہے اور ایک مقررہ فرد کے ذریعہ اس کا انتظام ہوتا ہے جس میں اس کے کام کرنے اور اس کے اندر موجود ڈیٹا پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔

    ‎تو بلاک چین کس طرح ایک ڈیٹا بیس سے مختلف ہے؟

    ‎اسٹوریج ڈھانچہ
    ‎عام ڈیٹا بیس اور بلاک چین کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ جس طرح سے ڈیٹا تشکیل دیا جاتا ہے۔ بلاک چین گروپوں میں ایک ساتھ معلومات اکٹھا کرتا ہے ، جسے بلاکس بھی کہا جاتا ہے ، جس میں معلومات کے سیٹ ہوتے ہیں۔ بلاکس میں کچھ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور جب بھری جاتی ہے تو ، پہلے سے بھرے ہوئے بلاک پر جکڑے جاتے ہیں ، جس کو "بلاک چین” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تمام نئی معلومات جو اس کے بعد تازہ اضافی بلاک کو ایک نو تشکیل شدہ بلاک میں مرتب کیا گیا ہے جو اس کے بعد ایک بار بھرا ہوا سلسلہ میں بھی شامل ہوجائے گا۔

    ‎ایک ڈیٹا بیس اپنے ڈیٹا کو ٹیبلز میں تشکیل دیتا ہے جبکہ ایک بلاک چین، جیسے اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، اپنے اعداد و شمار کو ٹکڑوں (بلاکس) میں تشکیل دیتا ہے جو ایک ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ اس سے ایسا ہوتا ہے کہ تمام بلاک چین ڈیٹا بیس ہیں لیکن تمام ڈیٹا بیس بلاک چین نہیں ہیں۔ یہ نظام غیر فطری طور پر اعداد و شمار کی ایک ناقابل واپسی ٹائم لائن بھی بناتا ہے جب ایک غیر منطقی نوعیت میں نافذ کیا جاتا ہے۔ جب بلاک بھر جاتا ہے تو یہ پتھر میں سیٹ ہوتا ہے اور اس ٹائم لائن کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ جب سلسلہ میں شامل کیا جاتا ہے تو سلسلہ میں ہر بلاک کو ایک عین ٹائم اسٹیمپ دیا جاتا ہے۔
    غیر مرکزی ہونا
    ‎بلاک چین کو سمجھنے کے مقصد کے لئے ، اسے اس تناظر میں دیکھنا زیادہ معاملہ فہم ہے کہ بٹ کوائن نے اسے کس طرح نافذ کیا ہے۔ ڈیٹا بیس کی طرح ، بٹ کوائن کو اپنے بلاک چین کو ذخیرہ کرنے کے لئے کمپیوٹروں کا ایک مجموعہ کی ضرورت ہے۔ بٹ کوائن کے لئے ، یہ بلاک چین صرف ایک مخصوص قسم کا ڈیٹا بیس ہے جو اب تک کی گئی ہر بٹ کوائن لین دین کو محفوظ کرتا ہے۔ ویکیپیڈیا کے معاملے میں ، اور بیشتر ڈیٹا بیس کے برعکس ، یہ کمپیوٹر سبھی ایک ہی چھت کے نیچے نہیں ہوتے ہیں ، اور ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹرز کا گروپ ایک انفرادی فرد یا افراد کے گروپ کے ذریعہ چلتا ہے

    ‎ذرا تصور کیجیے کہ ایک کمپنی کے پاس ایک سرور ہے جس میں 10،000 کمپیوٹرز شامل ہیں اور اس کے پاس اپنے مؤکل کے اکاؤنٹ کی تمام معلومات موجود ڈیٹا بیس ہیں۔ اس کمپنی کے پاس ایک گودام ہے جس میں یہ تمام کمپیوٹرز ایک ہی چھت کے نیچے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کمپیوٹر اور اس کے اندر موجود تمام معلومات کا مکمل کنٹرول ہے۔ اسی طرح ، بٹ کوائن ہزاروں کمپیوٹرز پر مشتمل ہوتا ہے ، لیکن ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹر کا ایک گروپ جس میں اس کا بلاک چین ہوتا ہے وہ مختلف جغرافیائی مقام پر ہوتا ہے اور یہ سب الگ الگ افراد یا لوگوں کے گروپوں کے ذریعہ چلتے ہیں۔ یہ کمپیوٹرز جو بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو میک اپ کرتے ہیں انہیں نوڈز کہتے ہیں۔

    ‎اس ماڈل میں ، ویکیپیڈیا کے راستے میں بٹ کوائن کا بلاک چین استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ، نجی ، سنٹرلائزڈ بلاک چین ، جہاں کمپیوٹر اس کے نیٹ ورک کو تشکیل دیتے ہیں ، وہ ایک ہی ملکیت کے زیر ملکیت اور چل رہے ہیں۔

    ‎بلاک چین میں ، ہر نوڈ میں اس ڈیٹا کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جو اپنے آغاز سے ہی بلاک چین پر محفوظ ہے۔ ویکیپیڈیا کے لئے ، اعداد و شمار تمام ویکیپیڈیا لین دین کی پوری تاریخ ہے۔ اگر کسی ڈیڈ میں کسی نوڈ میں خرابی ہوتی ہے تو وہ خود کو درست کرنے کے لئے ہزاروں دوسرے نوڈس کو ریفرنس پوائنٹ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔ اس طرح ، نیٹ ورک کے اندر کوئی بھی نوڈ اس کے اندر موجود معلومات کو تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ، ہر بلاک میں لین دین کی تاریخ جو بٹ کوائن کا بلاک چین بناتے ہیں ناقابل واپسی ہے۔

    ‎اگر کوئی صارف بٹ کوائن کے لین دین کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو ، دوسرے تمام نوڈس ایک دوسرے کو عبور کرتے ہیں اور غلط معلومات کے ساتھ نوڈ کو آسانی سے نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ نظام واقعات کا درست اور شفاف نظم قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بٹ کوائن ، یہ معلومات لین دین کی ایک فہرست ہے ، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بلاک چین کے لئے مختلف قسم کی معلومات رکھنا ، جیسے قانونی معاہدوں ، ریاست کی شناخت ، یا کسی کمپنی کی مصنوع کی فہرست کو رکھنا۔

    ‎یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے ، یا اس میں موجود معلومات کو تبدیل کرنے کے لئے ، وکندریقرت نیٹ ورک کی کمپیوٹنگ طاقت کی اکثریت کو ان تبدیلیوں پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ جو بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ اکثریت کے مفاد میں ہیں۔

    ‎شفافیت
    ‎ویکیپیڈیا کی نوعیت کی وجہ سے بٹ کوائن کے بلاک چین ، تمام لین دین کو شفاف طور پر یا تو ذاتی نوڈ رکھنے یا بلاک چین ایکسپلورر کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے جو کسی کو بھی براہ راست واقع ہونے والے لین دین کو دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر نوڈ کی زنجیر کی اپنی ایک کاپی ہوتی ہے جس میں تازہ کاری ہوتی ہے کیونکہ تازہ بلاکس کی تصدیق اور شامل ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے تو ، آپ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں بٹ کوائن کو ٹریک کرسکتے ہیں۔

    ‎مثال کے طور پر ، ماضی میں تبادلے ہیک کیے گئے تھے جہاں تبادلے پر بٹ کوائن رکھنے والوں نے سب کچھ کھو دیا۔ اگرچہ ہیکر مکمل طور پر گمنام ہوسکتا ہے ، لیکن انہوں نے جو بٹ کوائن نکالا اسے آسانی سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ان میں سے کچھ ہیکوں میں چوری کی گئی بٹ کوائنز کو کہیں منتقل کیا جاتا یا خرچ کیا جاتا تو یہ معلوم ہوجائے گا۔

    ‎کیا بلاک چین محفوظ ہے؟
    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی سیکیورٹی اور اعتماد کے معاملات کو کئی طریقوں سے محو کرتی ہے۔ پہلے ، نئے بلاکس ہمیشہ خطوط اور تاریخی اعتبار سے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ یعنی ، انہیں ہمیشہ بلاکچین کے "آخر” میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بٹ کوائن کے بلاکچین پر ایک نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر بلاک کی زنجیر پر ایک پوزیشن ہوتی ہے ، جسے "اونچائی” کہا جاتا ہے۔

    ‎بلاک چین کے اختتام پر بلاک کا اضافہ ہونے کے بعد ، اس بلاک کے مندرجات میں تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے جب تک کہ اکثریت اس پر اتفاق رائے نہیں کر پائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بلاک کی اپنی ہیش ہوتی ہے ، اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے اس بلاک کی ہیش کے ساتھ ساتھ پہلے بیان کردہ ٹائم اسٹیمپ بھی۔ ہیش کوڈز ایک ریاضی فنکشن کے ذریعہ تخلیق کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل معلومات کو اعداد اور حروف کی تار میں بدل دیتا ہے۔ اگر اس معلومات میں کسی بھی طرح ترمیم کی گئی ہے تو ، ہیش کوڈ میں بھی تبدیلی آتی ہے۔

    ‎سیکیورٹی کے لئے یہ کیوں اہم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک ہیکر بلاک چین کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور ہر کسی سے ویکیپیڈیا چوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنی واحد کاپی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ، یہ اب باقی سب کی کاپی کے ساتھ سیدھ میں نہیں ہوگا۔ جب باقی ہر شخص اپنی کاپیاں ایک دوسرے کے خلاف کراس کا حوالہ دیتے ہیں تو ، وہ دیکھیں گے کہ اس کی ایک کاپی کھڑی ہوجائے گی اور اس سلسلہ کا ہیکر کا نسخہ ناجائز قرار دے دیا جائے گا۔

    ‎اس طرح کے ہیک کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا تقاضا ہوگا کہ ہیکر نے بیک وقت بلاک چین کی کاپیاں کو کنٹرول اور تبدیل کردے تاکہ ان کی نئی کاپی اکثریت کی کاپی بن جائے اور اس طرح اتفاق رائے سے زنجیر بن جائے۔ اس طرح کے حملے کے لئے بے تحاشا رقم اور وسائل کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں ان تمام بلاکس کو دوبارہ کرنا ہوگا کیونکہ اب ان کے پاس مختلف ٹائم اسٹیمپ اور ہیش کوڈ ہوں گے

    ‎بٹ کوائن کے نیٹ ورک کی جسامت اور اس میں کتنی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ سے ، اس طرح کے کارنامے کو دور کرنے کی قیمت شاید ناقابل تلافی ہوگی۔ نہ صرف یہ انتہائی مہنگا ہوگا ، بلکہ یہ بے نتیجہ بھی ہوگا۔ ایسا کام کرنے سے کسی کا دھیان نہیں جائے گا ، کیونکہ نیٹ ورک کے ممبران بلاک چین پر اس طرح کے سخت رخ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد نیٹ ورک کے ممبران اس سلسلہ کا ایک نیا ورژن تشکیل دے دیں گے جو متاثر نہیں ہوا ہے۔

    ‎اس سے بٹ کوائن کے حملہ شدہ ورژن کی قیمت کم ہوجائے گی ، اور یہ حملہ حتمی طور پر بے معنی ہوجائے گا کیونکہ خراب اداکار کے پاس بیکار اثاثہ ہے۔ خرابی اداکار بٹ کوائن کے نئے کانٹے پر حملہ کرنے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح بنایا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک میں حصہ لینا اس پر حملہ کرنے سے کہیں زیادہ معاشی طور پر حوصلہ افزائی کر سکے۔

    ‎بلاک چین کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟
    ‎جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں کے blockchain مالیاتی لین دین کے بارے میں ڈیٹا اسٹور ہوتا ہے۔ لیکن یہ پتہ چلتا ہے کہ بلاک چین دراصل دیگر قسم کے لین دین کے بارے میں بھی ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے۔

    ‎کچھ کمپنیاں جو پہلے ہی بلاک چین کو شامل کر چکی ہیں ان میں والمارٹ ، فائزر ، اے آئی جی ، سیمنز ، یونی لیور ، اور بہت سے دیگر شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ، آئی بی ایم نے اس فوڈ ٹرسٹ کا بلاک چین تیار کیا ہے جس کا پتہ لگانے کے لئے فوڈ پروڈکٹ اپنے مقامات تک جانے کے لئے لے جاتی ہے۔

    ‎ایسا کیوں کرتے ہو؟ فوڈ انڈسٹری نے ای کولئی ، سالمونیلا ، لیٹیریا کے بے شمار وبا پھیلائے ہیں ، اور ساتھ ہی حادثاتی طور پر کھانے پینے میں مضر مواد متعارف کروائے ہیں۔ ماضی میں ، لوگوں کو جو کھا رہے ہیں اس سے ان وباء کا سبب یا بیماری کی وجہ معلوم کرنے میں ہفتوں کا عرصہ لگا ہے۔

    ‎بلاکچین استعمال کرنے سے برانڈز کو فوڈ پروڈکٹ کے راستے کو اپنی اصل میں سے ہر ایک اسٹاپ کے ذریعہ ، اور آخر میں اس کی ترسیل سے باخبر رکھنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ اگر کوئی کھانا آلودہ پایا جاتا ہے تو پھر اسے ہر راستے سے اس کی اصل تک جانے والے راستے کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ نہ صرف یہ ، بلکہ یہ کمپنیاں اب باقی سب کچھ بھی دیکھ سکتی ہیں جو اس کے ساتھ رابطے میں ہوسکتی ہیں ، جس سے ممکنہ طور پر جانوں کی بچت سے اس مسئلے کی شناخت جلد ہونے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ عملی طور پر بلاک چین کی ایک مثال ہے ، لیکن بلاک چین پر عمل درآمد کی بہت سی دوسری شکلیں ہیں۔

    ‎بینکنگ اور فنانس
    ‎شاید کوئی صنعت بلاک چین کو بینکاری سے زیادہ اپنے کاروباری کاموں میں ضم کرنے سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ مالیاتی ادارے صرف کاروباری اوقات کے دوران ، ہفتے میں پانچ دن کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ جمعہ کے روز شام 6 بجے چیک جمع کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو ، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں پیسہ دیکھنے کے لئے پیر کی صبح تک انتظار کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کاروباری اوقات میں اپنی جمع رقم کرتے ہیں تو ، اس لین دین کی تصدیق کے لئے ابھی بھی ایک سے تین دن لگ سکتے ہیں جن کی بینکوں کو آباد ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف ، بلاک چین کبھی چھٹی نہیں کرتا۔

    ‎بینکوں میں بلاک چین کو مربوط کرکے ، صارفین ان کے لین دین کو 10 منٹ سے بھی کم وقت میں دیکھ سکتے ہیں ، بنیادی طور پر اس وقت بلاک چین میں کسی بلاک کو شامل کرنے میں ، چاہے تعطیلات ہوں یا دن یا ہفتے کا وقت۔ بلاک چین کے ساتھ ، بینکوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ تیزی اور محفوظ طریقے سے اداروں کے مابین فنڈز کا تبادلہ کریں۔ اسٹاک ٹریڈنگ کے کاروبار میں ، مثال کے طور پر ، تصفیہ کرنے اور صاف کرنے کے عمل میں تین دن (یا اس سے زیادہ وقت ، اگر بین الاقوامی سطح پر تجارت ہوسکتے ہیں) لگ سکتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اس مدت کے لئے رقم اور حصص کو منجمد کردیا جاتا ہے۔

    ‎اس میں شامل رقوم کی جسامت کو دیکھتے ہوئے ، یہاں تک کہ چند دن کہ رقم ٹرانزٹ میں ہے ، بینکوں کے لئے اہم اخراجات اور خطرات اٹھاسکتی ہے۔ یورپی بینک سینٹینڈر اور اس کے تحقیقی شراکت داروں نے ایک فرانسیسی کنسلٹنسی کے مطابق سالانہ 15 بلین ڈالر سے 20 ارب ڈالر تک کی بچت رکھی ہے۔ تخمینہ ہے کہ صارفین بلاک چین پر مبنی درخواستوں کے ذریعے ہر سال بینکنگ اور انشورنس فیسوں میں 16 بلین ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں

    کرنسی
    ‎بلاک چین بٹ کوائن جیسی ہزاروں کرپٹو کرنسیوں کے لئے بیڈروک تشکیل دیتا ہے۔ امریکی ڈالر فیڈرل ریزرو کے زیر کنٹرول ہے۔ اس مرکزی اتھارٹی سسٹم کے تحت ، صارف کا ڈیٹا اور کرنسی تکنیکی طور پر ان کے بینک یا حکومت کی طرح ہوتی ہے۔ اگر صارف کا بینک ہیک ہوجاتا ہے تو ، مؤکل کی نجی معلومات کو خطرہ ہوتا ہے۔ اگر موکل کا بینک گر جاتا ہے یا وہ غیر مستحکم حکومت والے ملک میں رہتے ہیں تو ، ان کی کرنسی کی قیمت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ 2008 میں ، کچھ بینکوں میں جو پیسہ ختم ہوچکے تھے ان کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو جزوی طور پر خارج کردیا گیا تھا۔ یہ وہ پریشانی ہیں جن میں سے سب سے پہلے بٹ کوائن ایجاد ہوا تھا ۔

    ‎کمپیوٹروں کے نیٹ ورک میں اپنی کاروائیوں کو پھیلاتے ہوئے ، بلاک چین بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کرنسیوں کو مرکزی اتھارٹی کی ضرورت کے بغیر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ پروسیسنگ اور لین دین کی بہت ساری فیسیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ غیر مستحکم کرنسیوں یا مالی انفراسٹرکچر والے ممالک میں زیادہ مستحکم کرنسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درخواستوں اور افراد اور اداروں کے وسیع نیٹ ورک کو بھی دے سکتا ہے جو وہ گھریلو اور بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرسکتے ہیں۔

    ‎بچت کھاتوں کے لئے یا ادائیگی کے ذرائع کے طور پر کریپٹورکرنسی والیٹ کا استعمال خاص طور پر ان لوگوں کے لئے گہرا ہے جن کی ریاست کی شناخت نہیں ہے۔ کچھ ممالک جنگ زدہ ہوسکتے ہیں یا ان کی حکومتیں ہیں جن کے پاس شناخت فراہم کرنے کے لئے حقیقی ڈھانچے کی کمی ہے۔ ایسے ممالک کے شہریوں کو بچت یا بروکریج اکاؤنٹس تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی ہے اور اس وجہ سے ، دولت کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

    ‎صحت کی دیکھ بھال
    ‎صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اپنے مریضوں کے طبی ریکارڈ کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ جب میڈیکل ریکارڈ تیار اور دستخط ہوتا ہے تو ، اسے بلاک چین میں لکھا جاسکتا ہے ، جو مریضوں کو اس بات کا ثبوت اور اعتماد فراہم کرتا ہے کہ ریکارڈ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ صحت کے ان ذاتی ریکارڈوں کو انکوڈ کرکے نجی کلید کے ساتھ بلاک چین پر محفوظ کیا جاسکتا ہے ، تاکہ وہ صرف کچھ افراد ہی قابل رسائی ہوں ، اس طرح رازداری کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ‎پراپرٹی کے ریکارڈ
    ‎اگر آپ نے کبھی بھی اپنے مقامی ریکارڈر کے دفتر میں وقت گزارا ہے تو ، آپ کو معلوم ہوگا کہ جائیداد کے حقوق کی ریکارڈنگ کا عمل دونوں ہی بوجھ اور ناکارہ ہے۔ آج ، مقامی ریکارڈنگ آفس میں کسی سرکاری ملازم کے پاس جسمانی عمل کرنا لازمی ہے ، جہاں اسے دستی طور پر کاؤنٹی کے مرکزی ڈیٹا بیس اور عوامی اشاریہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ جائیداد کے تنازعہ کی صورت میں ، جائیداد کے دعوے کو عوامی اشاریہ کے ساتھ صلح کرنا ضروری ہے۔

    ‎یہ عمل محض مہنگا اور وقت طلب نہیں ہے – بلکہ یہ انسانی غلطی سے بھی چھلنی ہے ، جہاں ہر غلطی جائداد کی ملکیت سے باخبر رہنا کم موثر بنا دیتی ہے۔ بلاکچین مقامی ریکارڈنگ آفس میں دستاویزات کو اسکین کرنے اور جسمانی فائلوں کو ٹریک کرنے کی ضرورت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر بلاک چین پر جائیداد کی ملکیت کو ذخیرہ کرکے اس کی تصدیق کی گئی ہے ، تو مالکان اعتماد کرسکتے ہیں کہ ان کا عمل درست اور مستقل طور پر ریکارڈ ہے۔

    ‎جنگ زدہ ممالک یا ان علاقوں میں جن کا سرکاری یا مالی انفراسٹرکچر بہت کم ہے ، اور یقینی طور پر کوئی "ریکارڈر آفس نہیں ہے” ، جائیداد کی ملکیت ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہوسکتا ہے۔ اگر اس طرح کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کا ایک گروہ بلاک چین کا فائدہ اٹھانے کے قابل ہو تو ، جائیداد کی ملکیت کی شفاف اور واضح ٹائم لائنز قائم کی جاسکتی ہیں

    ‎سپلائی چین
    ‎جیسا کہ آئی بی ایم فوڈ ٹرسٹ کی مثال میں ہے ، سپلائی کرنے والے اپنے خریداری کردہ مال کی اصلیت کو ریکارڈ کرنے کے لئے بلاک چین استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو "نامیاتی” ، "مقامی” ، اور "منصفانہ تجارت” جیسے عام لیبلوں کے ساتھ ، ان کی مصنوعات کی صداقت کی تصدیق ہوگی۔

    ‎جیسا کہ فوربس کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے ، کھیت تا صارف کے سفر میں کھانے کی صنعت تیزی سے راستے اور خوراک کی حفاظت کے لئے بلاک چین کے استعمال کو اپنارہی ہے۔

    ‎ووٹنگ
    ‎جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے ، جدید ووٹنگ کے نظام کی سہولت کے لئے بلاک چین استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلاک چین کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے انتخابی دھوکہ دہی کے خاتمے اور ووٹرز میں اضافے کو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے ، جیسا کہ مغربی ورجینیا میں نومبر 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں جانچا گیا تھا۔ بلاک چین پروٹوکول انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی برقرار رکھے گا ، جس سے انتخاب کرانے کے لئے ضروری اہلکاروں کو کم کیا جائے گا اور اہلکاروں کو فوری طور پر فوری نتائج فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے دوبارہ گنتی کی ضرورت یا کسی ایسی حقیقی تشویش کا خاتمہ ہوگا جو دھاندلی سے الیکشن کو خطرہ بن سکتا ہے۔

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی کے بعد کیا ہے؟
    ‎سب سے پہلے 1991،97 میں ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تجویز کردہ بلاک چین بیس کی دہائی کے آخر میں آرام سے ترقی کررہاہے۔ اس کی عمر کے ہزاروں سالوں کی طرح ، بلاک چین نے پچھلے دو دہائیوں کے دوران عوامی سطح پر جانچ پڑتال میں اپنا منصفانہ حصہ دیکھا ہے ، جس میں دنیا بھر کے کاروباری افراد قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے قابل کیا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کا رخ کس طرف ہے۔

    ‎اس ٹیکنالوجی کے لئے بہت سے عملی ایپلی کیشنز کو جو پہلے ہی بلاک چین پر بنایا جا چکا ہے اور بنائی جا رہی ہیں ، بلاک چین آخرکار ستائیس سال کی عمر میں اپنے لئے ایک نام بنا رہا ہے ، بٹ کوائن اور کریپٹوکرنسی کی وجہ سے اس کا کوئی چھوٹا حصہ نہیں۔ قوم میں ہر سرمایہ کار کی زبان پر ایک بزور لفظ کے طور پر ، بلاک چین کاروبار اور سرکاری کاموں کو اوسط درجے کاروباری لوگوں کے ساتھ زیادہ درست ، موثر ، محفوظ ، اور سستا بنانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔

    ‎جیسا کہ ہم بلاک چین کے تیسرے عشرے میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اب یہ "اگر” بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھائیں گی تو سوچنا ہوگا کہ ہم سوال کب ‎کریں گے- ؟
    Twitter : MMKUK1

  • اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس   تحریر :  ملک علی رضا

    اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس تحریر : ملک علی رضا

    سائنسی جدت کے اس دور میں جہاں ممالک چاند سے بھی آگے نکل کر دیگر سیاروں پر اپنی آماجگاہ بنانے کی سوچ رہے ہیں وہاں پاکستان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جو انہی ممالک کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل بائیو ڈیٹا ان ممالک کے پاس ہے جنکی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور وہ جب چائیں جیسے چائیں اس کو استعمال کر سکتے ہیں
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق رواں سال میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
    ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر پیگا سس کے ذریعے کی گئی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام پیگاسس کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت 10 ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
    اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر وزیر اعظم عمران خان کےخلاف استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہیکنگ کا معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا، جہاں ہوشربا انکشاف کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف بھی استعمال ہوا ہے، نوازشریف کی حکومت میں سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف استعمال ہوا۔
    یہ سافٹ ویئراس وقت استعمال ہواتب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مختلف نمبرز میں ایک نمبر وزیراعظم عمران خان کے زیراستعمال تھا، اس کے علاوہ نواز حکومت میں یہی سافٹ ویئر حساس اداروں اور سیاست دانوں کےخلاف استعمال ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف نے مولانا اجمل قادری کوخفیہ اورخصوصی دورے پراسرائیل بھیجا تھا ،اس دورے پر جانے والے وفد کے سربراہ مولانا اجمل قادری نے اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے نوازشریف نے خصوصی پیغام دے کربھیجا تھا۔
    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جب کہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔
    اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئر سے دنیا کے کم سے کم50 ہزار شخصیات کے فون نمبرز ہیک کیے گئے۔ ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔
    ان تمام معاملات کے انکشافات ہونے کے بعد اور حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام اداروں کے ملازمین اور اعلی شخصیات کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی بنائی ہوئی ایک واٹس ایپ کی طرز کی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل ایپلیکیشن بننےکے ساتھ ہی یہ ایپلیکیشن استعمال میں لائی جائے گی۔ خصوصی ایپلیکیشن پبلک استعمال کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اعلی قیادت اور حساس اداروں کے ملازمین کمیونیکیشن کے لیے استعمال کریں گے۔
    پاکستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان میں پہلے اس کام کی طرف اُس طرح توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب جب معاملات کے انکشافات ہونے لگ گئے تو آنکھ کُھلنا شروع ہوگِی۔پاکستان کے سکیورٹی ادراے پہلے ہی ان معاملات سے باخبر تھی جس کی بنا پر کئی ایسے اقدامات بھی کیے گئے جس سے پاکستان کی اہم معاملات کو لیک ہونے سے بچایا جا سکے ۔پاکستان کے اداروں کی ویب سائٹس تک کو ہیک کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہیں مگر سائبر سکیورٹی کے معاملات میں باقی ادارون کی نسبت قدرے بہتر رہے۔ پاکستان کو اس چیز کے مدنظر رکھتے ہوئے خاصے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔ اس معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اور دوست چائینہ سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اپنے ملک میں اپنی ہی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہیں۔
    چین سائبر ٹیکنالوجی سے اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اور اس لیے پاکستان اسکی مدد سے بہت ساری چیزیں جو اپنے ملک کے لیےبنا سکتے ہیں تا کہ پاکستان کی عوام دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں اور یہ خطرہ ہی پیدا نہ ہو۔

  • پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    ہمالین نمک قدرتی طور پر پاکستان کو عطا کر دا ایک اثاثہ ہے کیونہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نمک ہمالین نمک ہے۔
    بہت سے لوگ اس کے نام سے یہ بات اخذ کر لیتے ہیں کہ یہ ہمالیہ سے نکالا جاتا ہوگا لیکن حقیقت میں اسکا ہمالیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ گلابی نمک ہے جو صرف اور صرف پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے۔ اس کو ہمالیہ کے نام سے منسوب کرنے کے پیچھے ہمارے شریر پڑوسی کا ہاتھ ہے۔ بھارت میں نمک صرف ہمالیہ کے پہاڑوں ڈے ہی نکلتا ہے جو کہ مقدار میں انتہائی کم ہے۔ لیکن عیار بھارتی حکومت نے اس ہمالیہ والی نمک کی کانوں کا استعمال کرتے ہوئے نمک کی ایکسپورٹ کے جملہ حقوق حاصل کر لئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان سے ٹنوں کے حساب سے درآمد ہونے والا گلابی نمک کو بھی بھارت نے ہمالین نمک کا نام دے کر پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا لیکن ہماری حکومت سوئی رہی۔ بھارت نے باسمتی چاولوں کو بھی خود سے منسوب کیا اور دھڑا دھڑ ایکسپورٹ کی لیکن ہماری حکومت بدستور سوئی رہی۔ خیر اب جا کے کچھ ہوش آیا اور بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔

    خیر ہم واپس آتے ہیں گلابی نمک کی طرف۔ یہ روالپنڈی سے تقریباً دو سو کلو میٹر کے فیصلے پر واقع ایک قدیم پہاڑی علاقے کھیوڑا سے نکالا جاتا ہے۔ کھیوڑا دنیا میں دوسری بڑی نمک کی کان ہے۔ جس کے بارے میں بہت سے ماہرین نے لکھا کہ یہ اسکی دریافت سکندر مقدونوی کی فوج نے کی۔ لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں پہلی بار کان کنی "جنجوعہ قبیلے ” کی جانب سے 1200ء میں کی گئی۔

    "گلابی نمک دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے”
    یہ جملہ پڑھ کر آپ سب کے ذہن میں یقیناً یہ سوال گردش کر رہا ہوگا کہ کھیوڑا تو دنیا کی دوسری بڑی کان ہے، پہلی بڑی کان کا نمک کیوں زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا؟ اسکا جواب ہمالین نمک میں پائی جانے والی قدرتی خصوصیات ہیں۔ سائنسی ماہرین بتاتے ہیں کہ ہمالین نمک سب سے زیادہ خالص نمک ہے اس میں 96% سے 99% تک خالص سوڈیم کلورائیڈ پائی جاتی ہے اور زنک، کیلشیم ،آئرن اور میگنشیم جیسے باقی اجزا کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ صحت افزا ہے

    محققین اسکی سائنسی شفاء یابی کی صلاحیتوں کو ثابت کررہے ہیں۔ ہمالین نمک عام نمک سے بہترہے کیونکہ بغیر کسی ملاوٹ کے نمک کی کانوں سے نکالا جاتاہے۔ یہ نمک پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے لیکن کیا ہم نے اسکو اہمیت دی؟
    کیا اسکا صیحح طور پر فائدہ اٹھایا گیا؟ اس کا جواب اس بات میں موجود ہے کہ پاکستان اپنا زیادہ تر نمک انڈیا کو خام مال کی صورت میں برآمد کرتا رہا یے۔ خام مال میں ہمالین نمک کی قیمت بیس روپے کلو سے بھی کم بنتی ہے جب کہ انڈیا اسی نمک کو ٹھوڑی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کر کے تقریبا نو سو روپے کلو کے حساب سے پوری دنیا کو برآمد کرتا رہا ہے کرونا سے پہلے تک ہمالین نمک کا سب سے بڑا اکسپورٹر بھارت ہی تھا۔ کرونا جہاں پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک اور نقصان کا باعث بنا وہاں پاکستانی ہمالین نمک کے لیے قدرت کی جانب سے ایک محافظ بنا۔

    کرونا کی پہلی لہر کے دوران جہاں سارے بارڈر اور تجارت پر پابندی لگا دی گئی وہاں حکومت کو ہمالین نمک کا بھی خیال آگیا۔
    بھارت کو ہمالین نمک کی ایکسپورٹ پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔
    ایسا لگا سالوں سے سوئی حکومت پاکستان ایک دم جاگ اٹھی ہو۔
    کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ہمالین نمک کو خود پروسیس کر کے ایکسپوٹ کرے گا اسکے لیے پاکستان کو ہمالین نمک کی پاکستان ٹیگنگ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

    حکومت پاکستان نے اپنے اداروں کو ٹیگ کے حصول کے لیے ٹاسک دے دیے۔
    پھر پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC ) نے پاکستانی ہمالین نمک کو دنیا میں پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ کروانے کی ٹھان لی۔
    ماہ اپریل میں ادارے نے Geographical Indications کی رجسٹریشن کی تمام تر ضروریات کو پورا کر لیا تھا۔اب پاکستان ہمالین نمک کی( GI Tagging) لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب پاکستان قدرتی طور پر عطا کردہ ہمالین نمک جیسی نعمت کا صیحح طور پر فائدہ اٹھائے گا اپنی معیشت کو مظبوط بنائے گااور ہماری مظبوط معیشت ہماری خودمختاری کی ضمانت ہوگی۔ ان شاء الله
    پاکستان پائندہ باد

    Twitter ID @KamranRMKs

  • اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔

    آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

    ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔

    اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔

    این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-

    اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    اس سپائی ویئر کا نام افسانوی پنکھوں والے گھوڑے پیگاسس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ٹروجن گھوڑا ہے جسے فون کو متاثر کے لئے "ہوا کے ذریعے” بھیجا جاسکتا ہے۔

    23 اگست ، 2020 کو ، اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے ذریعہ حاصل کردہ انٹلیجنس کے مطابق ، این ایس او گروپ نے مخالف حکومت کی نگرانی کے لئے سیکڑوں لاکھوں امریکی ڈالر میں پیگاسس اسپائی ویئر سافٹ ویئر ، عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں بیچا تھا بعدازاں ، دسمبر 2020 کو ، الجزیرہ کی تحقیقات میں دی ٹپ آف دی آئسبرگ ، جاسوس کے پارٹنروں نے ، پیگاسس اور میڈیا پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے فونوں میں اس کے دخول کے بارے میں خصوصی فوٹیج دکھائی ، جسے اسرائیل اپنے مخالفین اور حتی اس کے اتحادیوں کے بارے میں چھپاتا ہے۔

    جولائی 2021 میں ، پراجیکٹ پیگاسس انکشافات کے وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے گہرائی سے تجزیے کے ساتھ ہی پتا چلا کہ ہائی پروفائل اہداف کے خلاف پیگاسس کا اب بھی وسیع پیمانے پر استحصال کیا جارہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیگاسس آئی او ایس کے استحصال کے ایک صفر پر کلک کرکے تازہ ترین ریلیز ، iOS 14.6 تک کے iOS کے تمام جدید ورژن کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

  • تحریر  شمیل:  سوشل میڈیا کا کردار

    تحریر شمیل: سوشل میڈیا کا کردار

    آج کل ہر طرف ایک نفسانفسی ہے ہر کوئی اپنے مہیا پلیٹ فارم سے آواز اٹھا چاہتا ہے اپنی آواز کو حکام بالا تک یا کم از کم اس بند کواڑ تک لے جانا چاہتا ہے جس سے یا جہاں سے اس کے مسئلے کا یا ان لوگوں کے مسائل کا مداوا ہو سکے جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہا ہے.

    مختلف قسم کے لوگ ہر طبقے ہر میڈیم پہ آواز اٹھاتے ہیں
    کہیں کوئی سڑکوں پہ احتجاج کر رہا ہے
    کہیں کوئی تھانے کچہری کے سامنے
    کہیں کوئی ہسپتال کے سامنے عمل پیرا ہے

    غرض یہ کہ جس کی جہاں تک رسائی ہو پاتی ہے وہ وہاں تک جاتا ہے.
    ہمارے معاشرے اور ہماری زندگیوں میں بہت بڑا بدلاؤ جو چیز لے کر آئ وہ ہے سوشل میڈیا کا دور
    یوٹیوب
    فیس بک
    انسٹا گرام
    ٹویٹر
    وغیرہ وغیرہ.
    ان کا کردار بہت ہی مثبت ہے لیکن ایک بات واضع کر دوں کہ کردار مثبت تب ہی ممکن ہوتے ہیں جب آپ کا اپنا عمل مثبت ہو اور اس کے ثمرات اس سے بھی بڑھ کے نکلتے ہیں..
    بہت سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی بروقت بھی میسر ہوئی اور بہت سے لوگوں کے سالوں لٹکے کام بھی پورے ہوے جب بہت سے لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پہ مثبت آواز کو مسئلے کو اجاھر کیا جن میں زینب قتل کیس ہو گیا جو سرفہرست ہے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہی اداروں کو حرکت میں لے کر آیا..
    قصہ مختصر یہ کہ جہاں منفی سوچ کو مار دینا ہو منفی نیت کو ختم کرنا ہو وہاں مثبت پہلو اور ارادہ لازم ہے.

    @Shameel512