Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ  سٹراٹولانچ ، جلد آسمانوں پر پرواز کرتا نظر آئے گا

    دنیا کا سب سے بڑا طیارہ سٹراٹولانچ ، جلد آسمانوں پر پرواز کرتا نظر آئے گا

    د نیا کے سب سے بڑے سٹراٹولانچ نامی طیارے نے دوسری آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے یہ بہت جلد آسمانوں پر اکثر پرواز کرتا نظر آئے گا-

    باغی ٹی وی :رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ بالائی خلا میں سیٹلائیٹ لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جسے سب سے پہلے جون 2017 میں متعارف کرایا گیا تھا جسکے بعد سے اس طیارے کی آزمائش جاری رہی اس نے 2019 میں پہلی آزمائشی پرواز کی تھی۔

    یہ طیارہ سٹراٹولانچ سسٹم نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی ملکیت پہلے مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کے پاس تھی جن کا اکتوبر 2018 میں انتقال ہوا پال ایلن کا اس کمپنی کی تشکیل کا مقصد ایسے طیارے کو بناتا تھا جو زمین کے نچلے مدار تک آسان، قابل بھروسا رسائی فراہم کرسکے-

    تاہم ان کے انتقال کے بعد کمپنی کی ملکیت بدل گئی اور اب یہ طیارہ ہائپر سونک گاڑیوں کے موبائل لانچ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

    اس طیارے کے ذریعے راکٹوں کو فضاءمیں لانچ کرنے میں مدد ملے سکے گی اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سے یہ عمل زیادہ سستا ہوجائے گا جبکہ کمرشل اسپیس پروازیں بھی ممکن ہوسکیں گی۔

    اس کے 385 فٹ کے پر یا بازو کسی فٹ بال فیلڈ سے زیادہ چوڑے ہیں اور اس طرح اسے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بناتے ہیں یہ اتنا بڑا ہے کہ اسے چلانے کے لیے دو کیبن اور کاک پٹس کی ضرورت ہے۔

    اس طیارے کو جنوبی کیلیفورنیا کی موجیو ایئر اینڈ اسپیس پورٹ سے 29 اپریل کو اڑایا گیا اور یہ 3 گھنٹے 14 منٹ تک فضا میں رہا۔پرواز کے دوران یہ طیارہ 14 ہزار فٹ کی بلندی تک گیا اور 199 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی جسے کمپنی نے کامیابی قرار دیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق سٹراؤلانچ طیارے کی کارکردگی پر ہمیں اطمینان ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے پہلے ہائپر سونک طیارے کو متعارف کرانے کے قریب ہیں۔

    اس طیارے کے نوز سے دم تک لمبائی 238 فٹ ہے جبکہ یہ 50 فٹ لمبا ہے اور اس میں 6 انجن نصب کیے گئے ہیں اس کا وزن پانچ لاکھ پونڈ ہے اور اس کے دونوں کیبن کے لیے 28 پہیے لگے ہوئے ہیں۔

    سٹراٹو لانچ کی دوسری کامیاب پرواز، بہت جلد آسمانوں پر اکثر پرواز کرتا نظر آئے گا-

  • کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    سائنسدانوں نے گدھوں، خچروں اور جنگلی گھوڑوں کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے کنویں کھودتے ہیں بعد ازاں اس کا پانی دیگر جانور وں کے پینے کے کام آتا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آرہس یونیورسٹی، ڈنمارک ایرک لیونڈ گرن اور ان کے ساتھیوں نے ایریزونا کے سونورن ریگستان میں چار چشموں کا بغور مشاہدہ کیا ہے اگرچہ یہ چشمے زمین سے پھوٹتے ہیں لیکن جلد ہی خشک ہوجاتے ہیں-

    سائنسدانوں کی ٹیم نے 2015،2016 اور2018 کے موسمِ گرما میں کئی بار ان چشموں کو جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس علاقے کے گدھے اور گھوڑے زمینی پانی نکالنے کے لیے کنویں کھودتے ہیں۔

    ایرک کے مطابق یہ بہت گرم اور خشک ریگستان ہے اور کئی جادوئی جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ تازہ پانی دیکھ سکتے ہیں گھوڑے اور گدھے دو میٹر گہرائی تک گڑھا کھودتے ہیں جسے کنواں کہا جاسکتا ہےتحقیقی ٹیم نے ان جانوروں کے کنووں پر 59 اقسام کے فقاریئے جانوروں کو دیکھا جن میں سے 57 ان کنووں کا پانی پی رہے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں کنویں عام تھے وہاں دیگر بنجر علاقوں کے مقابلے میں 51 زائد اقسام کے جانور دیکھے گئے جو عین اسی عرصے میں دونوں جگہوں پر ریکارڈ ہوئے۔

    اس طرح جانوروں میں ہرن، گلہریاں، عام بٹیر، سیاہ ریچھ اور دیگر جانور شامل تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے یہ وسائل کس طرح اور کتنی اقسام کے جانوروں نے استعمال کئے۔ پھران کنووں کو پودوں کی افزائش کا اہم وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں پیپل، شاہِ بلوط اور دیگر اقسام کے مفید درخت شامل ہیں۔ اس طرح گدھے اور گھوڑے ایک ریگستان کو سبز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    بیجنگ: چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ خلا میں انسانوں کے قیام اور مختلف معاملات کی کھوج کے چین کے بلند عزائم کا ایک اہم سنگ میل ہے’تیانہے‘ نامی اس موڈیول میں 3 افراد کی رہائش کے لیے کوارٹر موجود ہیں اور اسے 28 اپریل کو لانگ مارچ 5 بی راکٹ سے لانچ کیا گیا۔

    یہ خلائی اسٹیشن 2022 تک مکمل فعال ہونے کی توقع ہے اور اس سے قبل 10 مشنز کے ذریعے زمین کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کے مزید حصے بھیج کر اسمبل کیے جائیں گے۔

    تاہم 28 اپریل کو لانچ کے بعد خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کو کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کی رات 11 بجکر 11 منٹ پر چین کی وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے لانچ کیا گیا جسے چین کی جانب سے خلائی مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک زمین کے گرد مدار میں کئی چھوٹی موٹی تجربہ گاہیں بھیجی جاچکی ہیں لیکن صحیح معنوں بڑے خلائی اسٹیشنوں کی تعداد صرف 2 رہی ہے: سابق سوویت یونین کا ’میر‘ اور امریکی قیادت میں ’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن‘ (آئی ایس ایس)۔ اس طرح چین وہ تیسرا ملک ہوگا جو تنِ تنہا ایک بڑا خلائی اسٹیشن زمین کے گرد مدار میں پہنچائے گا۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول کا نام ’تیانہے‘ رکھا گیا ہے جس کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف کے وقت وزن 22.5 ٹن ہے۔

    یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ ہے جس میں تین خلانورد سائنسی تحقیق کےلیے طویل عرصے تک قیام کرسکیں گے۔

    ’تیانہے‘ کے خلاء میں پہنچ جانے کے بعد خلائی اسٹیشن کےلیے نئی ٹیکنالوجیز، مثلاً روبوٹ بازو، کی جانچ پڑتال اور توثیق کی جائے گی اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو آئندہ ماہ چینی خلانورد اس ماڈیول تک بھیجے جائیں گے جو اس کے باہر کئی طرح کی اہم سرگرمیاں انجام دیں گے۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی منصوبے کے مطابق 2021 سے 2022 کے دوران 11 خلائی پروازوں کے ذریعے ’تیانگونگ 3‘ کے دیگر ماڈیولز، ضروری ساز و سامان اور عملہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔

    2022 تک مدار میں اپنی تکمیل مکمل کرنے کے بعد، چین کا یہ خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں رہتے ہوئے کام کرسکےگا۔

    امریکی جریدے ’سائنٹفک امریکن‘ کے مطابق ’تیانگونگ 3‘ میں سائنسی تجربات کےلیے اندرونی طور پر 14 الماریاں نصب کی جائیں گی جبکہ بیرونی حصے میں 50 ایسے مقامات (ایکسٹرنل ڈاکنگ پوائنٹس) مخصوص ہوں گے جہاں خلائی تحقیق سے متعلق آلات منسلک کیے جاسکیں گے۔

    خلائی تحقیق کے چینی ادارے نے ’تیانگونگ 3‘ میں انجام دینے کےلیے تقریباً 100 تجربات ابھی سے منتخب کرلیے ہیں جن میں 9 بین الاقوامی خلائی تحقیقی تجربات بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ چین کی جانب سے خلائی کھوج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ٹیکنالوجی پیشرفت بھی کی جارہی ہےچین کے خلائی پروگرام نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نمونے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آئندہ ماہ مریخ پر اس کا مشن لینڈ ہونے کی توقع ہے۔

    خلائی اسٹیشن کے موڈیول کو بھیجنے کے مشن کو روانہ ہوتے ہوئے بیجنگ میں چینی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ قیادت نے لائیو دیکھاچین کا یہ اسپیس اسٹیشن مکمل ہونے پر زمین کے زیریں مدار میں 15 سال تک موجود رہے گا۔

    کم از کم 12 خلابازوں کی جانب سے پرواز اور اسٹیشن میں رہنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے جبکہ چین کا پہلا انسان بردار مشن جون میں بھیجے جانے کا امکان ہے2022 کے آخر تک مکمل ہونے پر ٹی شکل کے اس اسپیس اسٹیشن کا وزن 66 ٹن ہوگا جو کہ موجودہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے چھوٹا ہےچین کی جانب سے اپنے اسپیس اسٹیشن کو آئی ایس ایس کی طرح استعمال کرنے کا منصوبہ تو نہیں مگر چینی حکام کا کہنا ہے کہ گیرملکی شراکت داری کی راہ کھلی ہے۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • پاکستان میں موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان

    پاکستان میں موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان

    موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق کنسلٹنٹ کا کہنا ہے کہ موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی پاکستان میں کامیابی ہوگی کیونکہ یہاں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ایڈوائزری کمیٹی کے فنانس ڈویژن میں ہونے والے اجلاس میں ایک کنسلٹنٹ کی جانب سے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) اسپکٹرم سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران کمیٹی نے اسپیکٹرم کی فروخت کی منظوری دے دی کنسلٹنٹ آگلے مرحلے میں سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کریں گے اور انہیں نیلامی کے عمل کے حوالے سے بریف کریں گے اوراس کے بعد اگلے مرحلے میں کنسلٹینٹ نیلامی سے متعلق طریقہ کار پر مبنی معلوماتی یادداشت پیش کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن سید امین الحق، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد، متعلقہ وفاقی اداروں کے سیکریٹریز، چئیرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آف فریکوئنسی الوکیشن بورڈ (ایف اے بی) اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسپیکٹرم کی فروخت ملک بھر میں مواصلات اور آئی ٹی سروس کے فروغ اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    کنسلٹنٹ کی جانب سے کمیٹی کو 1800میگا ہرٹس اور 2100 میگا ہرٹس بانڈز کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی بتایا گیا کہ ‘اسپیکٹرم نیلامی 21-2020’ میں سرمایہ کاروں کے لیے مستقل مزاجی پر مرکوز اور موبائل بروڈ بینڈ کے پھیلاؤ کے باعث پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    کنسلٹنٹ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں براڈ بینڈ اور ٹیلیفونی کی ترقی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے اور موجودہ چار سیلولر کمپنیاں ترقی کے مواقع کو بروئے کار لانے کے لیے اضافی اسپیکٹرم حاصل کرنے کی خواہاں ہیں اسپکٹرم کی نیلامی کامیاب ثابت ہوگی جس سے حکومتی ریونیو پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

    ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے ٹوئٹرمیں صارفین کے لیے کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر سپورٹ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کوویڈ 19 ویکسینیشن اب عام ہوتی جارہی ہے، تو اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے ضروری سمجھا کہ آپ کے ملک میں ویکسین کی تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1386676306369253378?s=20

    کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کی ٹائم لائن کے اوپر کوویڈ 19 ویکسینز کی تفصیلات دیکھی جاسکیں گی ان تفصیلات میں لوگوں کو ویکسینز کے محفوظ ہونے اور افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور یہ تفصیلات طبی ماہرین کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یوٹیوب نے بھی 27 اپریل کو کوویڈ 19 ویکسین پی ایس ایز کو نشر کرنے کا اعلان کیا تھا ان ویڈیوز میں ایسی تمام چیزوں کو ہائی لائٹ کیا جائے گا جو لوگ وبا کے خاتمے کے بعد جاننا چاہتے ہوں گے۔

    دوسری جانب فیس بک کی جانب سے نوٹیفکیشنز کے ذریعے لوگوں کو اس وقت آگاہ کیا جائے گا جب اس علاقے میں تمام بالغ افراد کے لیے ویکسینیشن کو اوپن کردیا جائے گا۔

    کمپنی کی جانب سے فی الحال یہ فیچر امریکا میں دستیاب ہے مگر جلد دیگر ممالک تک اسے توسیع دی جائے گی۔

  • ٹیلیگرام میں صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرزمتعارف

    ٹیلیگرام میں صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرزمتعارف

    میسجنگ ایپ ٹیلیگرام نے صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن میں وائس چیٹ میں ویڈیو سپورٹ، پیمنٹس 2.0، شیڈولنگ وائس چیٹس، وائس چیٹس کے لیے منی پروفائلز، نیا ویب ورژن اور دیگر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : ٹیلیگرام کی جانب سے جاری بلاگ میں ان تمام اپ ڈیٹس کی تفصیلات بتائی گئیں ان اپ ڈیٹس میں وائس چیٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ سپورٹ، سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میسجنگ ایپ مائیکرو سافٹ ٹیمز، زوم اور گوگل میٹ کو ٹکر دینے کی کوشش کررہی ہے۔


    یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں صارفین کو دستیاب ہوگا۔


    اپ ڈیٹ پیمنٹ 2.0 کے تحت کسی بھی چیٹ میں کریڈٹ کارڈ سے ادائیگیوں کے لیے سپورٹ فراہم کی جائے گی اس مقصد کے لیے 8 تھرڈ پارٹی پیمنٹ سروسز کو ٹیلیگرام میں ایڈ کیا جارہا ہے جبکہ صارفین کو ایپ میں کسی خریداری پر طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے گا اسی طرح ٹیلیگرام کی کسی بھی ایپ بشمول ڈیسک ٹاپ سے بھی ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے اب گروپس اور چینیلز کے ایڈمنز کو وائس چیٹس شیڈول کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے شیڈول وائس چیٹ پر رنگا رنگ کاؤنٹ ڈاؤن دکھایا جائے گا اور صارفین کے پاس آپشن ہوگا کہ واٹس چیٹ شروع ہونے پر ایک نوٹیفکیشن موصول کرسکیں گے۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے صارفین کے لیے منی پروفائلز کے ذریعے یہ جاننا بھی آسان بنایا جارہا ہے کہ وہ کس سے وائس چیٹ کررہے ہیں اس اپ ڈیٹ کے ذریعے صارفین پروفائل پکچرز اور بائیو کو وائس چیٹ ونڈو سے نکلے بغیر دیکھ سکیں گے۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے 2 ویب ایپس کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جس میں مختلف فیچرز جیسے انیمٹڈ اسٹیکرز، ڈارک موڈ، چیٹ فولڈز اور دیگر موجود ہوں گے ٹیلیگرام ویب K اور ویب Z محض 400 کے بی حجم کی ایپس ہوں گی اور اسٹینڈ آلون ایپس کے طور پر کام کریں گی۔


    دیگر فیچرز میں چیٹ میں تصاویر اور ویڈیوز کو انگلیوں سے زوم کرنے کا آپشن بھی قابل ذکر ہے جبکہ آئی او ایس میں ویڈیو کو 15 منٹ فاسٹ فارورڈ اور ریوائنڈ بھی کیا جاسکے گا اینڈرائیڈ میں اسکرین کو دائیں یا بائیں سائیڈ کو دبا کر رکھ کر ایسا کیا جاسکے گا اور 10 سیکنڈ فارورڈ یا ریوائنڈ کیا جاسکے گا۔


    ٹیلیگرام کو اب اینڈرائیڈ صارفین پلے اسٹور کی بجائے براہ راست ٹیلی گرام ڈاٹ او آر جی سے بھی ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے بلکہ وہاں کئی دن یا ہفتے پہلے نئے ورژن کو بھی انسٹال کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ

    دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50…

  • مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    پیساڈینا، کیلیفورنیا: مریخ پر ناسا کے ’انجینیٹی‘ ہیلی کاپٹر کی پروازوں کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، پہلی دو پروازوں کے بعد تیسری پرواز بھی کامیابی سے مکمل ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : جیٹ پروپلشن لیبارٹری، ناسا کے مطابق تیسری پرواز میں ’انجینیٹی‘ ہیلی کاپٹر 5 میٹر (16 فٹ) کی بلندی تک پہنچا۔ اپنی دوسری پرواز میں بھی یہ اتنی ہی اونچائی تک پہنچا تھا۔

    البتہ، پاکستانی وقت کے مطابق 25 اور 26 اپریل 2021 کی درمیانی رات ہونے والی اس تجرباتی پرواز میں ’انجینیٹی‘ نے اضافی طور پر 50 میٹر (164 فٹ) کا فاصلہ بھی طے کیا، جس کے بعد وہ اسی جگہ آکر واپس اتر گیا کہ جہاں سے اُس نے اُڑان بھری تھی۔

    اس پرواز کے دوران انجینیٹی کی رفتار 2 میٹر فی سیکنڈ (7.2 کلومیٹر فی گھنٹہ) رہی جو بلاشبہ خاصی تیز قرار دی جاسکتی ہے۔

    جیٹ پروپلشن لیبارٹری نے یوٹیوب پر انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی تیسری تجرباتی پرواز کی ویڈیو بھی جاری کردی ہے جو ایک منٹ 16 سیکنڈ کی ہے۔

    مریخ پر موجود گاڑی ’پرسیویرینس روور‘ کے ’ماسٹ کیم زی‘ سے بنائی گئی اس ویڈیو میں انجینیٹی ہیلی کاپٹر کو دائیں جانب پرواز کرکے کیمرے کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے، اور کچھ دیر بعد واپس آکر اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اس دوران انجینیٹی ہیلی کاپٹر پر نصب کیمرے سے بھی ارد گرد کی کچھ تصویریں کھینچی گئی ہیں جن میں سے کچھ جیٹ پروپلشن لیبارٹری نے اپنی پریس ریلیز میں بھی شامل کی ہیں۔

    آنے والے دنوں میں مزید آزمائشی پروازوں کے ذریعے انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی کارکردگی کے بارے میں مزید اطمینان کرنے کے بعد اس کا مشن آگے بڑھاتے ہوئے مریخ کے وسیع تر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    19 اپریل کے روز انجینیٹی کی پہلی تجرباتی پرواز کی تھی یہ پرواز اگرچہ صرف چند سیکنڈوں پر محیط تھی لیکن یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے یوٹیوب پر یہ ساری کارروائی یوٹیوب پر لائیو اسٹریم کے ذریعے نشر کی جسے سوا لاکھ سے بھی زائد افراد نے دنیا بھر میں دیکھا تھا-

    بعد ازاں 22 اپریل کو دوسری پرواز کی پہلی کے مقابلے میں یہ پرواز نہ صرف زیادہ دیر تک جاری رہی بلکہ اس دوران یہ ہیلی کاپٹر زیادہ اونچائی تک پہنچا جبکہ اس نے فضا میں معمولی سا جھکتے ہوئے دائیں اور بائیں حرکت بھی کی۔

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے مطابق، انجینیٹی نے ’مریخی وقت‘ کے حساب سے وہاں اپنے 18 ویں دن (18 ویں سول) یہ پرواز کی، جبکہ زمین پر 22 اپریل کا دن تھا۔

    انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی دوسری پرواز 51.9 سیکنڈ تک جاری رہی جبکہ اس دوران اس نے خود کو صرف 5 ڈگری کے معمولی زاویئے پر جھکاتے ہوئے (اُڑتے دوران) دائیں بائیں معمولی حرکت بھی کی اور اپنی اصل جگہ پر واپس آگیا۔

    اپنی دوسری پرواز میں یہ ’ننھا مریخی ہیلی کاپٹر‘ 16 فٹ کی بلندی تک پہنچا اور ایک جانب 7 فٹ ہٹنے کے بعد واپس اپنے پہلے مقام پر آگیا جبکہ پرواز مکمل ہونے پر وہ ٹھیک اسی جگہ دوبارہ اُترا کہ جہاں سے اس نے پرواز کی تھی۔

    مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

    ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

  • ’کے نیکٹ‘  ہاتھ میں پہنا جانے والا پاور بینک

    ’کے نیکٹ‘ ہاتھ میں پہنا جانے والا پاور بینک

    آج کے تیز رفتار دور میں ہمہ وقت فون چارجر یا پاوربینک ساتھ رکھنا پڑتا ہے لیکن اب ہاتھ میں پہنا جانے والا ایک کڑا پاور بینک اور چارجر کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے جسے ’’کے نیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    انڈی گوگو کے مطابق آج کل کے تیز رفتار دور میں بالخصوص سفر کے دوران فون چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اسی مشکل کے پیشِ نظر ہاتھوں میں پہنا جانے والا ایک کڑا بنایا گیا ہے جو پاوربینک کا کام دیتا ہے۔ اس کے برخلاف روایتی پاور بینک بھاری بھرکم اور تاروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کے نیکٹ ایک پاکٹ چارجر کا کام کرتا ہے۔


    اس کڑے کی بدولت بجلی کے پلگ، تاروں اور جارچر وغیرہ سے خلاصی مل جاتی ہے۔ کے نیکٹ ایک دھاتی کڑا ہے جو پانچ رنگوں اور تین سائز میں دستیاب ہے۔ اس چارجر کو ایک زیور کی طرح کلائی پر پہنا جاسکتا ہے۔ یہ کڑا آئی فون اور آئی پیڈ کے تمام ماڈل کے لیے کارآمد ہے۔ کے نیکٹ کی گنجائش 2000 ایم اے ایچ ہے۔

  • کیا بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے سے ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

    کیا بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے سے ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

    متعدد سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنا ہمیں ہیکرز کے لیے آسان ہدف بنا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو اپنا پاس ورڈ ہی یاد نہ رہا ہو، اور آپ غلط پاس ورڈ کا اندراج کرتے ہیں اور بلآخر آپ کو درست پاس ورڈ کے لیے دوبارہ نیا پاس ورڈ بنانا پڑتا ہے-

    لیکن متعدد سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق وقتی زحمت محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنا ہمیں ہیکرز کے لیے آسان ہدف بنا سکتا ہےاس سے ہمارے ای میل، زوم اکاؤنٹ یا جو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں اس کے ہیک ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ نیا پاس ورڈ ہماری انٹرنیٹ سکیورٹی پر سمجھوتے کا باعث ہو؟اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم نیا پاس ورڈ بنانے کے لیے پرانے کو تبدیل کرتے ہیں تو اس میں کم سے کم رد وبدل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نیا پاس ورڈ ہمیں یاد رہے اور یہ ہی سائبر ہیکرز اور کریمنلز کے لیے ان پاس ورڈ کو جاننے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

    مثال کے طور پر ہم اپنے پرانے پاس ورڈ ‘0001’ سے تبدیل کر کے ‘0002’ رکھ دیتے ہیں یا کسی بھی پاس ورڈ کے آخر میں اپنی پیدائش کا سال لگا دیتے ہیں۔ یا پھر اپنے پاس ورڈ کا آخری حرف مہینے کے عدد سے رکھ دیتے ہیں۔

    اور اگر پاس ورڈز بہت زیادہ پیچیدہ ہوں تو کچھ صارفین ان کو ’سٹِکی نوٹس‘ پر لکھ کر کمپیوٹر سکرین پر چسپاں کر دیتے ہیں۔

    غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یوروکیٹ آٹی سکیورٹی سینٹر کے ڈائریکٹر یویان کوبے نے بتایا کہ آخر میں ہم ان ہی پاس ورڈز میں معمولی رد وبدل کر کے نئی شکل بنا لیتے ہیں کیونکہ ہم نیا پاس ورڈ یاد رکھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ’اس کے علاوہ بہت سی سروسز کے لیے ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنا ایک عام بات ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی دھوکا دہی یا فشنگ مہم کے دوران آپ کا پاس ورڈ چوری ہو گیا ہے تو ہیکرز کو آسانی سے یہ علم ہو سکتا ہے کہ آپ دیگر پلیٹ فارمز پر کون سا یا کس طرح کا پاس ورڈ استعمال کر رہے ہیں اور وہ حاصل کردہ پاس ورڈ میں لفطوں یا عددوں کا رد و بدل کر کے آپ کے دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی ہیک کر سکتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق سائبر سکیورٹی کے ماہر کا کہنا تھا کہ لیکن ایک طریقہ ایسا ہے جس سے ہم ہیکرز اور سکیمرز کے لیے اس کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تو جب بھی ہمیں پاس ورڈ تبدیل کرنے کا کہا جائے تو ہمیں پاس ورڈ مکمل طور پر ہی نیا رکھنا چاہیے۔ یہ اقدام کافی مضبوط اور محفوظ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ عمل بہت زحمت طلب ہے کیونکہ ہم بیک وقت متعدد پلیٹ فارمز پر پاس ورڈز استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگ بہت عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محفوط پاس ورڈ کیسے بنایا جائے۔ لیکن پاس ورڈ کو لازمی تبدیل کرنے کا یہ دور جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ آخر میں ایک مضبوط پاس ورڈ متعدد کمزور پاس ورڈز سے بہتر ہو گا۔’

    لیکن ایسا سوچنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ درحقیقت آٹی ٹی سکیورٹی ماہرین کافی عرصے سے بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے پر خبردار کرتے رہے ہیں چند برس قبل، کمپیوٹر پاس ورڈز کے بارے میں رہنما ضوابط کی کتاب کے مصنف بل بر پاس ورڈ کے متعلق اپنے ہی مشورے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

    ان کے مطابق پاس ورڈ کو ہر تین ماہ بعد تبدیل کیا جانا چاہیے اور اس میں شامل عددوں اور کریکٹرز اور الفاظ کو ملا کر لکھنا چاہیے جیسا کہ ‘Protected‘ بدل کر‘pr0t3ct1d‘ بن جائے تاہم، کمپیوٹرز کو کسی آسان لفظ جیسا کہ ‘پاس ورڈ’ کے برعکس الفاظ کے بے ترتیب مجموعہ کو سمجھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاس ورڈز کے رہنما اصول مرتب کرنے والے 72 سالہ ریٹائرڈ ماہر کا کہنا تھا کہ جو میں نے تجویز کیا تھا اس پر مجھے زیادہ تر افسوس ہے۔ میرے خیال میں یہ مشورہ شاید بہت سارے لوگوں کے لیے بہت مشکل طلب کام تھا انہوں نے یہ کتاب سنہ 2013 میں شائع کی تھی اور اپنا یہ بیان سنہ 2017 میں دیا۔

    آج بھی بہت سارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ادارے وقتا فوقتاً پاس ورڈ تبدیل کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ لیکن چند ایسا کوئی مطالبہ نہیں کرتے ان میں سے ایک کمپنی مائیکرو سافٹ بھی ہے جس نے سنہ 2019 میں کہا تھا کہ یہ وقتاً فوقتاً پاس ورڈ تبدیل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرنے جا رہی ہے جبکہ یہ دہائیوں تک اس کی تجویز دیتی رہی ہے مائیکروسافٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک پرانا اور متروک عمل ہے۔