Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آج سے کم و بیش دس سے گیارہ ہزار سال پہلے انسانوں نے کھیتی باڑی کرنا شروع کی۔ اس سے پہلے انسان شکار کئے جانور یا جنگلی پھل وغیرہ کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔ اس وجہ سے انسانی آبادی کم تھی۔ خوراک کے ذرائع محدود تھے۔ آج سے بارہ ہزار سال پہلے جب آئس ایج کا دور ختم ہوا تو گندم اور دیگر اناج کے پودے شدید موسم سے بچ کر زیادہ بہتر طور پر اُگنے کے قابل ہوئے۔ انسانوں نے کھیتی باڑی کر کے مستقل آبادیاں بنائیں۔ اب کھانے کے لیے شکار کی ضرورت کم ہو گئی مگر گوشت کھانا انسان نے نہ چھوڑا۔ جانوروں کو پالنا شروع کیا گیا۔ بکریاں، گائے، سور ان سب کو گوشت، دودھ, اُون وغیرہ کے لئے رکھا گیا۔ خوراک کے بہتر ذرائع سے انسان کی نشو و نما بہتر ہونے لگی۔ آبادی بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسانی آبادی چند ہزار سالوں میں لاکھوں سے اربوں میں چلی گئی۔

    آج جانوروں کا گوشت وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانوں نے مصنوعی چناؤ سے جانوروں کی ایسی نسلیں تیار کی ہیں جو کم وقت میں زیادہ گوشت اور زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ مگر گوشت کی اس انڈسٹری سے ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا یے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق محض جانوروں سے حاصل کردہ ایک کلوگرام بیف کے لئے اوسطاً 15 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح گوشت کی انڈسٹری عالمی خوراک کی سالانہ کی پیداوار سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں 60 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

    ماحولیاتی اثرات کے اس تناظر میں اور گوشت کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیشِ نظر اب جدید طریقوں سے گوشت بنانے کا سوچا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت لیبارٹری میں تیار کردا گوشت کے حوالے سے ہے۔
    اسے عرف عام میں Lab Grown Meat یا مصنوعی گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے گوشت کہتے ہیں وہ دراصل جانور کے پٹھے ہوتے ہیں۔ اس میں مسل ٹشوز اور چربی ہوتی ہے۔ مصنوعی گوشت کی تیاری کے عمل میں جانور کو مارے بغیر اسکے کچھ خلیے پٹری ڈش میں نکال کر اُنہیں خاص حالات اور خوراک مہیا کی جاتی ہے جس سے وہ بڑھتے ہیں اور کچھ وقت میں گوشت کا ٹکڑا بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے مصنوعی گوشت کا تصور 21 ویں صدی کے اوائل میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سے لیبارٹری میں گوشت بنانے کے اور اسکے ذائقے کا موازنہ جانور سے حاصل کئے گئے گوشت سے کیا گیا۔ پہلے تجربوں میں اسے بنانا بے حد مشکل اور مہنگا تھا۔ لیب میں بنایا گیا ایک پاؤنڈ گوشت 3 لاکھ اور 30 ہزار ڈالر کا۔۔مگر وقت کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باعث اسے بنانا سستا ہوتا گیا ۔ آج اسکی قیمت تقریباً 7 سے 8 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سی نئی کمپنیاں آج اس طرح سے بنے مصنوعی گوشت کو سستا سے سستا اور کھانے کے لیے محفوظ بنا کر مارکیٹوں میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ سنگاپور پہلا ملک ہے جہاں ایک امریکی کمپنی "جسٹ ایٹ”. کا تیار کردہ مصنوعی چکن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ دیگر ممالک بھی عنقریب اس روش کو اپنائیں گے۔

    مصنوعی گوشت کی پیداوار سے ماحول پر برے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے کہ یہ طریقہ کار موثر ہے اور اس میں وسائل کا استعمال روایتی گوشت حاصل کرنے کے طریقے سے کم ہے۔ اسکے علاوہ بہت سے لوگ مستقبل میں یہ گوشت کھانا بھی چاہیں گے کیونکہ بقول اُنکے اس میں کسی جانور کی ہلاکت یا اس پر ظلم شامل نہیں۔

  • سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    جنگ ہو، شطرنج کی بازی ہو، کرکٹ کا کھیل ہو یا انسان کی مکمل زندگی۔۔ ان تمام میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دو قسم کی اپروچ چلتی ہیں۔ ایک میں جزئیات پر فوکس ہوتا ہے جبکہ دوسری میں جزئیات کی گھمن گھیری سے اوپر اٹھ کر ایک بلند نکتہ نظر سے معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس بات کو تھوڑی دیر کے لیے یہیں پر روک دیتے ہیں۔

    سرچ انجن آپٹمائزیشن (ایس ای او) سے ویب سائیٹس یا یوٹیوب چینل چلانے والے افراد آگاہ ہیں۔ جس ویب سائیٹ یا چینل کو سرچ میں اوپر جگہ مل گئی وہ بیٹھے بٹھائے کامیاب ہو گیا۔ یہ کامیابی کی اور اس کے نتیجے میں پیسہ کمانے کی کلید ہے۔

    ہر ویب سائیٹ یا یوٹیوب چینل اس وقت سرچ انجن میں اپنی رینکنگ بڑھانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ ان کی تعداد دیکھی جائے تو اربوں میں چلی جاتی ہے۔ گوگل دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن اور یوٹیوب دوسرے نمبر پر بڑا سرچ انجن ہے۔ ٹریفک کا سب سے بڑا سورس بھی یہی دو سرچ انجن ہیں، اسی لیے فوکس بھی انہی پر رکھا جاتا ہے۔

    اب واپس آتے ہیں اپنی پہلی بات پر۔ زندگی کے دیگر میدانوں کی طرح سرچ انجن میں بلند رینک حاصل کرنے کے لیے بھی دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ ایک میں آپ ایس ای او کی ٹیکنیکس پڑھتے ہیں اور انہیں آزما کر سرچ میں اوپر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    گوگل نے خود بتایا ہے کہ وہ کسی بھی ویب سائیٹ کو رینک کرنے کے لیے دو سو سے زائد پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ ان تمام کو استعمال کرنا ناممکن ہے لیکن بیس پچیس پیرامیٹرز ایسی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیاب ایس ای او کیا جا سکتا ہے۔

    لیکن ان بیس پچیس ٹیکنیکس کو بھی استعمال کرنا ایک بہت مشکل، طویل اور مشقت طلب کام ہے۔ یہ دراصل جزئیات پر فوکس کر کے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے جس میں آپ سرچ کنسول جیسے ٹولز کو سمجھتے ہیں، گوگل انالیٹکس کے سمندر میں غواصی کرتے ہیں، بیک لنکس بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، کی ورڈ کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں، ان میں شارٹ کی ورڈز اور لانگ کی ورڈز کی کھوج میں لگے رہتے ہیں، اپنے میدان میں کامیاب ویب سائیٹس یا چینلز کا مطالعہ کرتے ہیں، ڈومین اتھارٹی بڑھانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی طویل راستہ ہے جس پر چلتے چلتے زیادہ تر لوگ تھک جاتے ہیں۔

    دوسری حکمت عملی وہ ہے جسے holistic اپروچ کہا جاتا ہے جس میں آپ جزئیات کو ایک طرف رکھ کر وسیع سطح پر پلان ترتیب دیتے ہیں اور اس پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔

    میں نے زندگی میں جتنی بھی ویب سائیٹس بنائی ہیں، ان تمام کو چند ماہ میں گوگل سرچ میں اوپر لے آیا ہوں۔ درجنوں ویب سائیٹس کو کامیاب کیا ہے اور کبھی بھی جزئیات میں نہیں گیا۔ حتیٰ کہ سرچ کنسول بھی بہت کم دیکھا ہے، گوگل انالیٹکس کو ذاتی ویب سائیٹس کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا، کی ورڈز پر زیادہ غور نہیں کیا، اس کے باوجود ہر ویب سائیٹ کامیاب رہی ہے۔ اس کامیابی کی وجہ گوگل کا مزاج شناس ہونا ہے۔

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب آپ ویب سائیٹ پر کام کریں تو ذہن سے قاری کو نکال دیں اور گوگل کو فوکس میں رکھ کر فیصلے کریں۔ اگر یوٹیوب چینل ہے تو اس میں صرف تھمب نیل بناتے وقت ویور کو ذہن میں رکھیں، باقی تمام پہلوؤں پر کام کرتے ہوئے یوٹیوب کے مزاج پر فوکس رکھیں۔

    یہاں سے میں صرف گوگل کی بات کروں گا لیکن یہ تمام اصول یوٹیوب پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ گوگل سرچ انجن بنیادی طور پر یہ تلاش کرتا ہے کہ کون سی ویب سائیٹ کسی بھی موضوع پر مہارت رکھتی ہے۔ یہ ایک بات تمام ایس ای او ٹیکنیکس پر بھاری ہے۔ اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی تو آپ کی ہر ویب سائیٹ کامیاب ہو جائے گی۔ آئیے اس بات کو سمجھتے ہیں۔

    فرض کریں کوئی شخص شہد کا آن لائن کاروبار کرتا ہے اور اپنی ویب سائیٹ کی سرچ رینکنگ بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیئے کہ گوگل کے سامنے خود کو اس موضوع پر ماہر ثابت کرے۔ اس کا سادہ سا طریقہ ہے کہ شہد کے مختلف ذائقوں، اس کی تیاری، اس کے فوائد، اس پر ہونے والی ریسرچ، اس کی اقسام، غرضیکہ ہر پہلو پر اپنی ویب سائیٹ پر معیاری آرٹیکلز شامل کرتا جائے۔ تین چار ماہ میں ہی گوگل اس ویب سائیٹ کو شہد کے شعبے میں ماہر سمجھنے لگے گا اور اس کی رینکنگ ایک دم سے بلند کر دے گا۔

    لیکن یہاں چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ ایک الٹے درخت کی صورت میں پلان تیار کریں۔ سب سے اوپر وہ آرٹیکلز ہوں جو بنیادی امور کے متعلق ہوں۔ جیسے شہد کی اقسام کے متعلق ایک آرٹیکل ہو، دوسرا اس کے فوائد کے متعلق، تیسرا اس کی تیاری کے متعلق۔۔ یہ اپنے موضوع کا جامع احاطہ کریں۔

    اس کے بعد ہر آرٹیکل کے ذیلی مضامین لکھے جائیں۔ شہد کی ہر قسم پر تفصیلی مضمون ہو، اس کے ایک ایک فائدے پر الگ سے آرٹیکلز لکھے جائیں، اس کی تیاری کے مختلف طریقوں پر مزید آرٹیکلز لکھے جائیں۔ جو مین آرٹیکل ہو، اس میں ان ذیلی آرٹیکلز کے لنکس دیے جائیں تاکہ جو بھی آپ کی ویب سائیٹ پر آئے وہ زیادہ سے زیادہ پیجز پر جائے۔

    یہ ویب سائیٹ کی دو سطحیں ہو گئیں، تیسری سطح میں ذیلی آرٹیکلز میں سے ایسے پہلو منتخب کریں جن پر مزید ذیلی لکھا جا سکتا ہو۔ یہ ایک درخت کی طرح ہو جس کی جڑ سے تنا نکلے، اس پر شاخیں پھوٹیں، ان شاخوں پر پتے نمودار ہوں۔

    لیکن پہلے گوگل پر تفصیلی ریسرچ کریں، کامیاب ویب سائیٹس کا مطالعہ کریں، ایک پلان ترتیب دیں، تینوں سطحوں پر جو بھی کام کرنا ہے اس کا پیپر ورک مکمل کریں، مختلف کی ورڈز استعمال کر کے گوگل کے نتائج دیکھیں اور ان کی ورڈز کو جمع کرتے جائیں جنہیں ہر آرٹیکل میں شامل کریں۔

    یہ کامیابی کا سب سے شارٹ کٹ نسخہ ہے، بے ترتیب ویب سائیٹس سے گوگل بہت خار کھاتا ہے، ایسی ویب سائیٹس جس میں ہر قسم کا مواد جمع کر دیا گیا ہو، ان کا رینکنگ میں آنا بہت مشکل کام ہے۔

    یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جو بھی مواد آپ ویب سائیٹ پر ڈالیں وہ آپ کا اوریجنل ہو، کسی اور جگہ سے چرایا نا گیا ہو، الفاظ آپ کے اپنے ہوں، خوبصورت انداز میں ترتیب دیا گیا ہو، اس میں انٹرنل لنکس ڈالے جائیں، جس بھی پہلو پر بات کریں اسے تشنہ نا رہنے دیں بلکہ ہر پہلو سے اسے کور کریں۔

    دوسری بات یہ ہے کہ جس موضوع پر بھی ویب سائیٹ بنائیں، اس کی گوگل میں سرچ لازمی ہو۔ اگر آپ کسی ایسے موضوع پر ویب سائیٹ بناتے ہیں جس کی ماہانہ سرچ ہی چند ہزار ہو تو پھر کامیابی نہیں مل سکے گی۔

    ایک اور اہم پہلو یہاں بتانا ضروری ہے تاکہ آپ گوگل کے مزاج شناس ہو سکیں۔

    وقت کے ساتھ ساتھ سرچ انجن کا طریق کار تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے جب ہم ویب سائیٹ بناتے تھے تو اس کے آخر میں کی ورڈز ڈال دیا کرتے تھے جس سے تیزی سے رینکنگ بہتر ہوتی جاتی تھی۔ اب یہ طریق کار الٹا نقصان دیتا ہے۔

    اب گوگل کسی بھی موضوع پر سرچ کرنے والے افراد کے رویوں کو دیکھ کر رینکنگ کا فیصلہ کرتا ہے۔ فرض کریں کسی نے سرچ میں آپ کی ویب سائیٹ کا لنک دیکھ کر اس پر کلک کیا اور چند سیکنڈ بعد وہ واپس آیا اور دوسرے کسی لنک پر کلک کیا تو گوگل سمجھ جائے گا کہ آپ کی ویب سائیٹ میں اسے مطلوبہ معلومات نہیں ملیں۔ اگر ڈھیروں لوگ یہی کام کریں گے تو آپ کی ویب سائیٹ کو گوگل بہت پیچھے دھکیل دے گا جہاں سے واپس آنا بہت دشوار کام بن جائے گا۔

    اس لیے اپنا مواد دلچسپ رکھیں، اس میں تصاویر شامل کریں، ممکن ہو تو ویڈیوز بھی ڈالیں کیونکہ اس وقت ٹیکسٹ سے زیادہ ویڈیوز کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی ہی ویب سائیٹ کے دیگر لنکس بھی اس میں شامل کریں تاکہ وزٹر آپ کی ہی ویب سائیٹ میں گھومتا پھرتا رہے، اسے واپس گوگل میں جا کر کسی اور لنک پر کلک کرنے کی ضرورت پیش نا آئے۔

    اگر اس طریق کار پر عمل کریں تو ویب سائیٹ تین ماہ سے چھ ماہ کے درمیان سو فیصد کامیاب ہو جائے گی۔ یہ ذاتی تجربہ ہے جو ہر بار کامیاب ہوا ہے۔

  • انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    آج جہاں پاکستان ہے وہاں 50 ملین سال پہلے ایک سمندر تھا جس میں ڈولفنز بھی رہا کرتی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سمندر سوکھ گیا اور چھوٹے بہاؤ کے راستے یا پھر دریا بچ گئے۔

    وہ ڈولفنز جو کہ کھلے سمندروں کی باسی تھی اور صاف پانیوں کی دلدادہ تھی وہ ایک گہرے گدلے پانی میں پھنس کر رہ گئی۔ اس سروائیول کے دوران ان ڈولفنز نے خود میں ارتقائی تبدیلیاں کروائی اور ان کی آنکھوں کے جینز سائلنٹ ہوگئے۔

    اور یوں یہ ہمیشہ کے لئے اندھی ہو کر رہ گئی۔

    وقت کی اس دوڑ میں فطرت سے یہ ڈولفنز جیت گئی مگر پھر انسانوں سے ہار گئی۔

    آٹھویں کلاس میں کہیں پڑھا تھا کہ انڈس ڈولفن ناپید ہو رہی ہے۔ بہت تجسس ہوا، سرچ کیا پتا چلا کہ انسانی آلودگی ان کے لئے نقصاندہ ہے مگر اس آلودگی کیساتھ ساتھ انسانی ذہنی آلودگی بھی ان کے ناپید ہونے کی طرف جانے کی وجہ ہے۔

    یہ جاننا میرے لئے ڈسٹربنگ تھا کہ،

    سندھی کلچر میں یہ سالوں پرانی روایت ہے کہ اگر آپ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کریں گے تو آپ کی مردانہ طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ مردانہ طاقت ہمارے معاشرے میں موجود واحد طاقت ہے جس کی کمی ہر مرد کو ہے اس لئے انہوں نے کئی سالوں سے ان معصوم مچھلیوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے کا ایک کلچر بنا لیا اور یہ ایک اچیومنٹ بن گئی کہ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کیا ہے۔

    اب اس بات کو آزادانہ سورسز تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ایک معاشرے کے فرد کو ان چیزوں کے نا ہونے پہ حیرت بالکل نہیں ہوتی کیونکہ یہاں پر گدھیوں، بکریوں اور ہرن تک کو جنسی زیادتی سے کوئی نہیں بچا سکتا بلکہ یہ بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر باقاعدہ لطیفے بھی بنائے جاتے ہیں۔

    خیر،

    اب چونکہ یہ آبی مخلوق تھی گدھیوں کی طرح یہ انسانی زیادتی اور انسانی آب و ہوا دونوں برداشت نہیں کر پاتی تھی اس لئے مرنا انکی قسمت ہوا کرتی تھی۔

    اب ماحولیاتی آلودگی اور انسانی آلودگی کی وجہ سے ان مچھلیوں کی تعداد کم ہو کر ہزار سے پندرہ سو رہ گئی ہے اور اگر IUCN درمیان میں نا آتا تو شائد اب تک ان ہزار باقی ماندہ کا بھی جنسی شکار کر لیا جاتا مگر اب یہ مشکل ہو چکا ہے۔

    لیکن ابھی بھی بہت سے دوسرے جانور انسانی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور چونکہ انکی زبان نہیں ہے اس لئے کوئی یہ نہیں جان سکتا۔ مگر یہ سچ ہے اور دیہات میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

    یاد رہے،

    اس ضمن میں یہ چیز فقط پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ موجود ہے یورپ میں سور اس بات سے نہیں بچ پاتے اور اس کراہت آمیز روایت/کلچر یا پھر شوق کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ابھی تعلیم اور شعور کے بعد یہ ٹرینڈ کم ہو چکا ہے لیکن یہ کراہت آمیز عمل انسانی معاشرے میں بخوبی موجود ہے۔

    انڈس ڈولفنز ارتقاء کی بہت اچھی مثال تھی مگر ہم انہیں تقریبا مکمل طور پر کھو دینے والے ہیں اور یہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے۔

  • چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔ (جی آپ خوبرو ہیں) اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔

    سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟

    چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہے.

    ڈی این اے
    فیول
    70-100 مائٹوکانڈریا

    بس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔ یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

    یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔

    ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟

    ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔

    وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

    سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔

    ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔

    ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔ تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟

    قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر 5 میں سے ایک فرد سماعت کے مسائل کا شکار ہے۔

    دنیا میں اس وقت 49 کروڑ سننے کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 2050 تک 1.5 ارب ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

    جب پھول کی ایک ننھی کلی چٹخ کھلتی ہے۔ یا کسی شاعر کی محبوبہ بغیر آواز پیدا کیے مسکراتی ہے تو 5 ڈیسی بل کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ کلی کا چٹخنا اور کسی لڑکی کی بغیر آواز کی مسکراہٹ بھی سنی ج سکتی ہے۔ یہ آواز دنیا میں 0.5 فیصد لوگ سن سکتے ہیں۔

    نارملی ہم 15 سے 20 ڈیسی بل کی ہلکی سے ہلکی آواز سن سکتے ہیں۔ ہماری نارمل گفتگو 50 سے 60 ڈیسی بل تک کی ہوتی ہے۔ 70 ڈیسی بل تک کی اونچی آواز سننا کان کے لیے محفوظ ہے۔ 70 ڈیسی بل کی آواز موبائل فون سے ہینڈز فری لگا کر 7 نمبر والیوم پر سنی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد موبائل وارننگ دیتا ہے کہ آگے جائیں گے تو آپکی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    90 ڈیسی بل پر آواز کے ساتھ تھرتھراہٹ شامل ہوجاتی ہے۔ 90 سے اوپر کی آواز جو فرد سن سکے اسے ڈیف کہتے ہیں۔ 100 ڈیسی بل کی آواز یعنی موبائل کا ہینڈز فری میں فل والیوم کرکے 30 منٹ تک سننے پر ہم اپنے کان کے اتنا نقصان پہنچا لیتے کہ جیسے آپکی ایک انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جائے۔

    راک سٹار میوزک میں آوازیں 120 ڈیسی بل تک جا رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس آواز میں ساؤنڈ اور تھرتھراہٹ مکس ہوتی ہے۔ ووفر لگے ہوتے ہیں۔ ماہر ڈی جے آوازوں کی فریکوئنسی ہر لمحے بڑھا گھٹا رہا ہوتا ہے۔ کہ کان کا پردہ نہ پھٹ جائے۔ صرف 20 منٹ تک 120 ڈیسی بل کی آواز کان میں ڈالی جائے تو کان کا پردہ ہی نہیں دماغ کو آواز کے سگنل دینے والی نسیں بھی پھٹ جائیں۔

    اب ہو کیا رہا ہے؟ مساجد امام بارگاہوں کے اندر لگے ریگولر اسپیکرز اور دیگر مذہبی رسومات جیسے مجلس محفل جلسے میں یا شادی پر مہندی وغیرہ کی رسم پر ہم جو ساؤنڈ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ آپکو پتا ہے اسکی فریکوئنسی کتنی ہوتی ہے؟ کم سے کم 100 ڈیسی بل سے اوپر جو آواز مسلسل ہمارے کان ڈیمج کر رہی ہوتی۔

    میں اس رمضان میں تراویح پڑھ رہا تھا۔ اسپیکر کی آواز 100 سے110 ڈیسی بل کی تھی۔ دوسری تروایح میں مجھے نماز توڑ کر سپیکر بند کرنا پڑا نہیں تو میرے کان کا پردہ پھٹ جاتا۔ لوگ اتنی اونچی آواز سے اوزار ہوتے ہیں مگر مذہبی آداب کی وجہ سے چپ بیٹھے رہتے۔ اور اوپر سے کئی مولوی صاحبان گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز کی فریکوئنسی کو مزید بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    میں نے اپنے امام صاحب کو گائیڈ کیا کہ آواز کم رکھیں کیوں سارے نمازیوں کو بہرہ کرنا ہے۔

    مسجدوں کی چھتوں پر لگے یونٹ بھی بہت خطرناک ہیں۔ انکی جگہ آواز کی تھرو کی رینج بڑھانے والے سپیکرز انسٹال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ اسپیکروں کی فریکوئنسی 120 سے 140 تک ہوتی ہے۔ مسجد کے قریب گھروں میں لوگوں کی سماعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی آپ میں سے کئی مجھ پر فتویٰ لگانے آجائیں گے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اذان اور قرآن روح کو سکون تب دے سکتے ہیں جب انکی آواز متوازن ہو اور 70 سے 80 ڈیسی بل تک ہی ہو۔

    محفل نعت، میلاد النبی کی محافل، مجالس عزا، جلسے، مہندی کے فنکشن میں خدارا اسپیکروں کی آواز کم رکھیں۔ ہینڈز فری کا والیوم کبھی بھی 7 سے اوپر نہ کریں۔ مساجد کی چھتوں پر لگے یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کریں۔ نماز اور جمعہ کی تقریر کے لیے مساجد میں استعمال ہونے والے ریگولر اسپیکرز کی آواز اگر کانوں کو سکون دینے کی بجائے بیزار کرتی ہے۔ تو قاری صاحب کو سمجھائیں کہ بلند آواز زیادہ اثر نہیں کرتی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں بات دلیل و منطق سے کریں دل بدل دے گی۔

    ہمارے کانوں کے ساتھ جو ظلم مذہبی اجتماعات میں ہوتا نجی محفلوں میں ہوتا۔
    مغرب میں یہ سب وہاں لوگوں کے ساتھ بار اور میوزیکل نائٹس میں ہوتا ہے۔

    وقتی تھرل Thrill کانوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہاں بھی۔

    ہمیں مساجد اور بڑے اجتماعات میں ڈیسی بل میٹرز لگانے کی ضرورت ہے کہ جس سے معلوم ہو سکے آواز محفوظ کی حد سے بڑھ تو نہیں رہی۔

    ہینڈز فری کا استعمال خدا را کم سے کم کریں۔ اپنی سماعت کو بچائیں۔ کوئی بھی آلہ سماعت قدرتی سننے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

  • نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی آج سے 4.6 ارب سال پہلے اپنے انجام کو پہنچے ایک ستارے کے نیبولہ سے تشکیل پایا۔ یہ نیبولہ دراصل گیسوں اور خلائی گرد کا مجموعہ تھا جو وقت کیساتھ ساتھ گریویٹی کے زیرِ اثر جمع ہوتا گیا۔ ان میں سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی گیسیوں سے سورج اور نظامِ شمسی کے بڑے سیارے جیسے کہ مشتری، زحل، وغیرہ بنے جبکہ خلائی گرد سے زمین اور دیگر چٹانی سیارے جیسے کہ مریخ، زیرہ، عطارد وغیرہ۔

    مگر کچھ خلائی گرد اور گیسیں کوئی باقاعدہ سیارہ نہ بن سکے۔ یہ سیارچوں، خلائی چٹانوں، شہابیوں کی صورت پورے نظامِ شمسی میں اب بھی موجود ہیں۔ یہ نظامِ شمسی میں کم و بیش ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں کئی آج بھی زمین پر شہابِ ثاقب کی صورت گرتے ہیں اور ماضی میں بھی زمین اور دیگر سیاروں پر گرتے رہے ہیں۔

    ان سیارچوں، شہابیوں اور خلائی چٹانوں کی سب سے زیادہ تعداد مریخ اور مشتری کے درمیان کے علاقے میں ہے۔ اس علاقے کو فلکیات کی دنیا میں "مین ایسٹرآیڈ بیلٹ” کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود بونے سیارے، سیارچے، شہابیے، چٹانیں مختلف سائز اور ساخت کی ہیں۔ انکا قطر چند سینٹی میٹرز سے لیکر کئی سو کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقے کی چوڑائی زمین اور سورج کے مابین فاصلے سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ مگر ان تمام کا کل ماس محض زمین کے چاند جتنا ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ماضی میں کسی اور سیارے کی باقیات نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں رہ جانے والا کچرا ہے۔

    ان سیارچوں اور شہابیوں میں نظامِ شمسی اور زمین کی تاریخ چُھپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات اور سائنسدان شہابیوں اور سیارچوں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ شہابیے جو زمین پر گرتے ہیں اُنکا خصوصی تجزیہ کیا جاتا ہے کہ ان میں ہمارے وجود کی، ہمارے آغاز کی کہانی موجود ہو سکتی ہے۔

    2007 میں ناسا نے اسی علاقے کے سب سے بڑے سیارچے ویسٹا پر ایک مشن بھیجا جو اربوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے 2011 میں اسکے مدار میں پہنچا۔ جسکے بعد 2015 میں یہ اسی علاقے میں سب سے بڑے سیارچے یا بونے سیارے سیریس تک پہنچا۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں اور بونے سیاروں کی تہہوں میں پانی ہو سکتا ہے۔ سیریس پر نامیاتی اجزا بھی ملے جو زمین پر زندگی کے وجود کی بنیاد ہیں۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں پر نظامِ شمسی کی تاریخ کے کئی راز چھپے ہیں۔ سیریس اب تک جیولاجیکلی ایکٹو ہے اور اسکی تہوں میں پانی مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ سیریس پر ایمنیویا ملنے سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید نظامِ شمسی کے باہری علاقے میں وجود میں آیا اور بعد اندرونی ایسٹرآیڈ بیلٹ میں شامل ہوا مگر اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

  • کائنات میں ہمارے پڑوسی!!!  — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کائنات میں ہمارے پڑوسی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے کئی پڑوسی ہیں۔ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہے چاند۔ چاند میاں کے کیا کہنے۔ یہ اتنا خوبصورت ہے کہ شاعروں نے اسے محبوب کے حُسن کا استعارہ بنا رکھا ہے اور میٹرک کے نئے عاشق سے لیکر بزرگی میں پہنچے بابے سب اپنی معشوقاؤں کو چاند سے تمثیل دیتے ہیں۔ چاند زمین سے اوسطاً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ یہ فاصلہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے جسکی وجہ چاند کا زمین کے گرد مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی سیارہ نظامِ شمسی کا دوسرا سیارہ زہرہ ہے۔ زہرہ کو زمین کی جڑواں بہن بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اور بات کے گردشِ ایام اور شومئی قسمت کہ زہرہ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ستارہ سورج یے۔ سورج زمین سے اوسطاً 15 کروڑ کلومیٹر ہے۔ مگر سورج تو ہمارے نظامِ شمسی میں ہے۔
    سو سورج کے بعد جو ستارہ زمین کے سب سے قریب ہے وہ ہے پروکسیما سینٹوری۔ یہ ہم سے تقریباً 4.25 نوری سال دور ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔(946 کھرب کلومیٹر)۔

    الفا سینٹوری دراصل تین ستاروں کے ایک سسٹم کا ایک ستارہ ہے ۔ اس ستاروں کے سسٹم کو ایلفا سینٹوری کہتے ہیں جس میں پروکسیما سینٹوری کے علاوہ دو اور ستارے موجود ہیں جو اس سے بڑے ہیں اور یہ ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی یہ بائنری سٹارز ہیں۔ ان دو اور ستاروں کے نام ہیں "ایلفا سینٹوری اے” اور "ایلفا سینٹوری بی” اور یہ ہم سے 4.43 نوری سال دور ہیں۔

    پروکسیما سینٹوری جو ہمارا قریبی پڑوسی ستارہ ہے یہ سورج کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور ٹھنڈا ستارہ ہے۔ اسکا ماس سورج سے تقریباً 12 گنا کم ہے اور اسکا سائز سورج سے 33 گنا کم ہے۔ اس پڑوسی ستارے کے گرد بھی ہمارے سورج کی طرح سیارے گھومتے ہیں۔ اب تک اسکے گرد تین سیارے دریافت ہوئے ہیں جن میں سے دو کی دریافت مصدقہ ہے تاہم تیسرا سیارے کی دریافت نئی تحقیق کے مطابق مشکوک ہے۔

    جو دو مصدقہ سیارے اسکے گرد گھوم رہے ہیں اُنکے نام ہیں "پروکسیما بی” اور "پروکسیما ڈی”۔ جبکہ تیسرا سیارہ "پروکسیما سی” کی دریافت پر اسی سال یعنی 2022 میں ایک نئی تحقیق میں سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

    ان میں سے "پروکسیما بی” ستارے سے اتنا دور ہے کہ اگر اس پر پانی موجود ہے تو مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ جبکہ پروکسیما ڈی پر شاید پانی مائع حالت میں نوجود نہ ہو کہ یہ اس ستارے سے زیادہ قریب ہے۔

    ممکن ہے ان میں سے کسی سیارے پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں شاید صدیاں لگ جائیں۔

    بقول اقبالِ لاہوری:

    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

  • آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے "آئیو”سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

    آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ” ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو” کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ” یا "مدوجزری تالہ” کسی کو سمجھ نہیں آنا)

    خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

    ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن” تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن سے سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ پر لاہور کے ایک مونچھوں والے صاحب بے حد مقبول ہوئےپڑے ہیں اور کافی ٹرینڈ میں ہیں۔ ان صاحب کا نام ہے اختر لاوا۔

    پیشے کے اعتبار سے یہ ایک کاروباری شخصیت ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ٹک ٹاکر بھی ہیں۔ انکی ایک ویڈیو کچھ دن پہلے ٹک ٹاک سے ہوتی ہوئی جب ٹوئیٹر پر پہنچی تو یہ ایک ٹرینڈ بن گئے۔ بقول اختر لاوا صاحب انکے نام کے ساتھ لفظ لاوا کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

    فرماتے ہیں کہ ان کا شجرۂ نسب محمد بن قاسم سے جا ملتا ہے اور انگریزوں کے دور میں جب انگریزوں نے اِنکے گاؤں پر حملہ کیا تو اختر لاوا صاحب کے لکڑ دادا انگریزوں سے بے جگری سے لڑے اور انکو مار بھگایا۔ تب سے لوگوں نے انکے خاندان کے ساتھ یہ لاوا کا لاحقہ منسوب کر دیا کہ یہ لوگ بے حد جوشیلے ہیں۔خیر لاوا صاحب جس وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اچانک سے کسی کنگ فو فائٹر کی طرح بجلی کی سی تیزی سے ایک قدم آگے آ کر نہایت پھرتی اور اپنے لکڑ دادا کی طرح جوش سے محمد علی کلی باکسر کے سٹائل میں مُکا ہوا میں لہراتے ہیں اور یہ تاریخی اور جلی حروف میں لکھا جانے والا جملہ ارشاد فرماتے ہیں: "لہور دا پاوا۔۔۔۔۔۔۔اختر لاوا”۔ پاوا غالباً اندرون لاہور میں بدمعاش کو کہتے ہیں۔ اب چونکہ اِنکا تعارف ہو چکا تو میں نے سوچا اسی بہانے آپکو اصل لاوا جو زمین سے نکلتا ہے اسکے بارے کچھ جانکاری دیتا جاؤں۔

    لاوا دراصل زمین کے اندر موجود پگھلی چٹانوں سے بنتا ہے۔ جب یہ زمین کے اندر ہوتی ہیں تو انہیں جیالوجی میں میگما کہتے ہیں۔ میگما کا درجہ حرارت 700 سے 1300 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ میگما زمین کی اوپری سطح یعنی کرسٹ میں 6 سے 10 کلومیٹر نیچے بڑے بڑے ذخائر کی صورت پایا جاتا ہے۔ انہیں میگما چیمبرز کہا جاتا ہے۔ میگما چیمبرز خصوصاً آتش فشاں پہاڑوں کے نیچے ہوتے ہیں۔

    میگما میں گیس کے بلبلے بھی ہوتے ہیں جو گرم ہونے کی وجہ سے پھٹتے رہتے ہیں مگر یہ زمین کی پتھریلی سطح کے نیچے دب کر اوپر کو نہیں آتے تاہم کبھی کبھار جب پریشر بے حد بڑھ جائے تو یہ بلبلے میگما کو اپنے ساتھ زمین کی نرم جگہوں سے اوپر لے آتے ہیں اور یوں زور سے میگما زمین سے باہر آتش فشاؤں کے پھٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ میگما جب باہر آتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں۔ لاوا کا درجہ حرارت ںھی کم و بیش اتنا ہوتا ہے جو میگما کا ہوتا ہے۔

    زمین یا آتش فشاں سے نکلتا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک جا سکتا ہے۔ لاوے کا رنگ اسکے درجہ حرارت پر منحصر ہوتا یے۔ 1000 ڈگریی سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لاوے کا رنگ بھڑکتا نارنجی جبکہ 650 ڈگری سینٹی گریڈ سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارات کے لاوے کا رنگ بادامی مائل سرخ ہوتا ہے۔

    لاوا زمین سے نکل کر مختلف رفتار سے اسکی سطح پر بہتا یے۔ یہ اس پر منحصر کے کہ لاوے میں سیلیکا کی مقدار کتنی ہے۔ سیلیکا دراصل گلاس ہوتا ہے۔سیلیکا کی کم مقدار کا لاوا پتلا اور زیادہ علاقے میں پھیلتا ہے جبکہ زیادہ مقدار میں سیلیکا لاوے کو گاڑھا کر دیتی ہے اور یہ سست روی سے بہتا ہے۔لاوا جب زمین کے اوپر آ کر ٹھنڈا ہو کر جمتا ہے تو کالے پتھروں اور چٹانوں می صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اب آپ بتائیں اختر لاوا میں کتنا سیلیکا ہے؟