Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں۔ COVID-19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    آج کی سنگین صورتحال میں سماجی فاصلہ ایک نیا معمول بن چکا ہے۔ COVID-19 وباء نے عالمی سطح پر روزمرہ کی زندگی سمیت تمام مارکیٹوں اور صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم جب ہر چیز متاثر ہو چکی ہے تو ڈیجیٹل ورلڈ کی بدولت کورونا وائرس کے پھیلاؤ یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے رقم کا ترصیل متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگی کے حل کو اپنانے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    COVID-19 بحران مختصر مدت میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس کے اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز پر سخت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے گھر میں رہتے ہوئے کساد بازاری کی حامل معیشت کو قبول کرلیا ہے تاہم اب ہمیں اس صنعت میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان حالات کے دوران یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ صورتحال کس طرح ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیتی ہے اور اس نے چھوٹے کاروباروں کو برقرار رکھنے کیلئے کس طرح سہولت فراہم کی ہے۔ بہت سے عوامل ہیں جو ڈیجیٹل ادائیگی کے حل اپنانے کی شرح میں اضافہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے کورونا وائرس کی حالیہ وباء کے دوران نقد رقم کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا شروع کردی ہے۔ اس نے بہت سے لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ پر مجبور کر دیا ہے۔

    دوئم، ای کامرس میں اچانک ترقی بھی دیکھی گئی ہے کیونکہ ایسے لوگ جو اپنے گھروں میں بند ہیں، آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی جہاں ان دنوں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے، لوگ اسٹورز پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ گروسری سے ملبوسات اور دیگر اشیاء سمیت لوگ آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے ریٹیلرز نے بھی ای کامرس کو اختیار کیا جس کی وجہ سے آن لائن ٹرانزیکشنز کا حجم بھی بڑھ گیا کیونکہ لوگ آن لائن خریداری کے لئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ایک وسیع نکتہ نظر میں چونکہ زیادہ تر کاروبار گھروں سے کام کر رہے ہیں اور طلباء اپنے فارغ وقت کو زیادہ پیداواری بنانے کے لئے فری لانسنگ کی طرف چلے گئے ہیں، ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جا رہی ہیں جس میں ایزی پیسہ صارف دوست ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ 70 ہزار سے زائد ریٹیلرز کے ساتھ ایزی پیسہ پاکستان میں برانچ لیس ایجنٹس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سروس کو تیز رفتاری سے اپنایا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے تحت چلنے والی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کی وجہ سے حالیہ جدتیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک لاجسٹک کمپنی صارف کی دہلیز سے نقد رقم وصول کر کے موبائل اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔

    ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی شرح 2019ء تک سست رہی لیکن COVID-19 وباء نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے راہ ہموار کی۔ COVID-19 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز امید کی ایک لہر ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو گھروں پر رہتے ہوئے ان کی روزمرہ کے امور انجام دینے میں مدد فراہم کی۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ کورونا وائرس بحران جلد ختم ہو جائے گا لیکن سمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں موبائل والٹ پلیٹ فارمز کی ترقی کو یقینی بنائے گی۔

  • "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”
    بقلم : شعیب بھٹی
    آج سے تقریبا پون صدی پہلے جب ٹی وی سکرین کی ایجاد ہوٸی تو یہ ایک تفریح کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعے تھا اور معاشرے میں موجود براٸیوں کو دور کرنے کے لیے اس پہ پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ دوسروں تک اپنے خیالات و آرا پہنچانے اور دوسری کی سوچ میں اپنے نظریاتی منتقل کرنے کا عمل ریڈیو کی ایجاد سے ہی شروع ہوچکا تھا اس کو مزید تقویت ٹی وی کی ایجاد نے دی۔
    اب اس جدید ٹیکنالوجی(کمپوٹر، انٹرنیٹ، موباٸل) کی ایجادات نےاس کو مزید پھیلایا۔ اب دنیا ایک گاٶں کی حثیت اختیار کرچکی ہے۔
    ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جنگ کے طریقہ کار بدل دٸیے ہیں۔
    شروع دنیا سے اب تک جنگ میں مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے افواہوں کا سہارا لیا جاتا تھا تاکہ قوم کو ذہنی طور شکست دی جاۓ اس سے ان کے حوصلے کمزور ہوجاتے تھے۔
    دشمن کو عصابی طور پہ کمزور کرنے اور اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شروع سے ہی کوٸی نا کوٸی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

    اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوۓ یہ کام میڈیا انڈسٹری سے لیا جارہا ہے۔
    میڈیا وار کے ذریعے اپنے خیالات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہترین اور پرکشش شکل دے کر دوسروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
    ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ اور مخالف قوم کی تاریخ دیکھاٸی جارہی ہے اور اس میں کرداروں کو مسخ کرکے دیکھایا جاتا ہے اور تاریخ سے ناعلم لوگوں کو آسانی سے بے وقوف بنادیا جاتا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے مخالف حکمرانوں کی ذاتی زندگی کے واقعات میں رنگ بھر کر انکی کردار کشی کی جاتی ہے۔
    فلمز اور ڈراموں کے ذریعے عوام کو دشمن کے خلاف کھڑے کرنا اور دشمن ممالک کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کا کام بہت عرصے سے عروج پہ ہے۔
    امریکہ سمیت یورپ کے اکثر ممالک،روس،انڈیا اور اب عرب ممالک بھی اس ساٸبر اور میڈیا وار میں تیزی لاۓ ہیں۔
    حالیہ وقت میں بہت سے یورپی ممالک نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو اسلام مخالف استعمال کیا ہے اور اسلاموفوبیا مہم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی کردار کشی اور مسلمانوں کے پیارے نبی ﷺ کے خلاف کارٹون مقابلےکرواۓ اور سیریز بناٸی گٸی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوٸی۔ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑا اور مسلمانوں کے اس احتجاج کو دہشتگردی کہا گیا اور اظہار راۓ کی آزادی کے خلاف گردانا گیا۔ اسی طرح انڈین میڈیا اور فلم انڈسڑی نے بھی اسلام و پاکستان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے۔
    انڈیا نے گزشتہ سال "پانی پت” کے نام پر فلم ریلیز کی ہے۔ پانی پت ایک تاریخی لڑاٸی ہے جو افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ہندٶ مرہٹوں کے خلاف لڑی تھی اور اس جنگ میں مرہٹوں کو شکست ہوٸی تھی۔ اس متنازعہ فلم کو انڈیا نے بابری مسجد کی شہادت کے دن ریلیز کیا۔ اس میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان کے قاٸمقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے انڈین سفارتکار ونے کمار کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
    میڈیا کے ذریعے اسلام دشمنی کے بعد مسلمان نے بھی اس کے ازالہ کی کوشش کی اور عمر بن خطاب پر عمر سیریز بناٸی لیکن علما نے اس کو دیکھنا حرام قرار دیا۔
    اب موجودہ وقت میں ترکی سیریز ارطغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
    ارطغل سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سلطان عثمان کا والد تھا۔
    یہ سیریز ارطغل کی زندگی پر مشتمل ہے۔ قاٸی قبیلے کی سلطنت کے قیام کے لیے جہدوجہد کو اسکا موضوع بنایا گیا ہے۔ 1191 عیسوی کی تاریخ کو ترکی کی بے مثال تاریخی جدوجہد کے طور پر دیکھایا جارہا ہے۔ دوسرے بہت سارے ممالک کی طرح پاکستان میں اسے سرکاری ٹی وی پہ ڈبنگ کرکے دیکھایا جارہا ہے پاکستان میں اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی یوٹیوب پر پہلی قسط کو 16 گھنٹوں میں 34 لاکھ افراد نے دیکھا اور پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کو صرف 15 دنوں میں ریکارڈ 10 لاکھ لوگوں نے سبسکراٸب کیا۔
    دوسری طرف عرب میں ترک عثمانیہ سلطنت کے حوالے سے ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ جس کا نام "ممالکة النار” یعنی آگ کی بادشاہت ہے۔ جسے انگلش میں
    #Kingdom_Of_Fire
    کہا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 17 سے معروف عالمی چینل #MCB پر دیکھایا جارہا ہے۔
    ترکی سیریز ارطغل کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو مصری راٸٹر نے لکھا، برطانوی ڈاٸریکٹر نے ڈاٸیریکٹ کیا، تیونس میں شوٹ ہوا، متحدہ عرب امارات نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی مصر پر قبضہ اور سلیم اول کے ہاتھوں مملوک سلطنت کے خاتمے کی منظر کشی کی گٸی ہے۔
    یاد رکھیں مملکوک سلاطین بھی ترک ہی تھے۔

    اسی طرح مصر میں بھی ایک سیریز یکم رمضان سے شروع کی گی جس کا نام "النہایہ” ہے۔ جوکہ مستقبل کے بارے میں ہے جب 2120ٕ میں امریکہ کے تقسیم اور برباد ہوجانے کے بعد صیہونی ریاست اسراٸیل تباہ کردی جاتی ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک ڈرامہ ہے لیکن اس سے اسراٸیل کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اسراٸیلی وزیر خارجہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو مخاطب کرکے اسے رکوانے کا کہا ہے۔ اس ڈرامے کو پروڈکشن کمپنی سینرجی نے تیار کیا ہے اور اسے معروف ٹی وی چینل (آن) پر دیکھایا جارہا ہے۔
    دوسری طرف یکم رمضان کو ہی عرب ممالک میں ایک ڈرامے کی پہلی قسط نشر ہوٸی۔ جس کا نام "ام ہارون” ہے۔ اسکی 30 اقساط ہیں یہ ڈرامہ کویت کی پروڈکشن کمپنی نے بنایا، اس میں کام کرنے والوں کا تعلق بحرین سے، اس میں کرداروں میں رنگ بھرنے والے اداکاروں کا تعلق کویت سے ہے اور اس کی شوٹنگ متحدہ عرب امارات میں کی گٸی ہے۔
    اس ڈرامے کے بارے کہا گیا کہ یہ عرب اسراٸیل تعلقات کے متعلق ہے لیکن یہ کہانی بحرین کی ایک یہودی نرس کے متعلق ہے جو فلسطین سے جبرا نکالے گٸے خاندانوں کا علاج کرتی ہے جو بحرین اور کویت میں پناہ لیتے ہیں اس میں ام ہارون کا کردار حیات الفہد نامی مسلم اداکارہ نے کیا ہے۔
    یہ حالیہ وقت میں مقبول اور متنازعہ ڈراموں کا تعارف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اسی طرح عوامی تاثر کو تبدیل کرنے اور نظریات کی منتقلی کے لیے میڈیا اور فلم انڈسڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ کو توڑ مروڑ اور جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا کر کہانیاں بنا کر ممالک اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ فلمز اور ڈراموں کے ذریعے سوچوں پہ یلغار کا یہ سلسلہ اس وقت مکمل عروج پہ ہے۔
    دنیا میں میڈیا جنگ کے ایک مہرے کے طور پہ اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اس کو ہتھیار کے طور پہ استعمال کررہے ہیں۔

  • موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح   تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح تحریر:جویریہ بتول

    موبائل فون کے سنگ سفر…!!![طنز و مزاح]
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    (نوٹ:یہ تحریر حس لطافت کے پیرائے میں مزاح و اصلاح کی ایک کاوش ہے)۔
    ایک وقت تھا جب ہم سکول جاتے تھے تو جب ٹیچرز کو گھر میں کسی سے رابطہ کرنے کے لیئے کوئی سورس چاہیئے ہوتا تھا تو محلے کے کسی گھرانے کا نمبر دیا جاتا تھا، وہاں سے پیغام گھر پہنچتا ہے۔
    تب کی پیڈ موبائل نئے نئے دیہات تک پہنچنا شروع ہوئے تھے۔
    آہستہ آہستہ پاکستان نے ترقی کے مدارج طے کیئے اور سیل فون ہر گھر اور پھر گھر کے ہر فرد کی ضرورت بن گیا،چاہے وہ چھوٹا تھا یا بڑا…
    پڑھا لکھا تھا یا اَن پڑھ…
    وسیع رابطوں والا تھا کہ محدود…
    ہمارے گھر بھی جب کی پیڈ موبائل نے انٹری کی تو پہلے پہل تو اتنا ڈر لگتا تھا کہ پتہ نہیں اس کو ہاتھ لگ گیا تو کچھ غلط نہ ہو جائے،
    بلکہ سیل کسی اونچی جگہ رکھا جاتا تھا کہ گھر کے بچے اور بالخصوص بچیاں اس سے دور ہی رہیں…
    الحمدللہ ہر کام کو فوراً سمجھ لینے کی صلاحیت کے باوجود مجھے سیل فون کی بہت کم ہی سمجھ آتی تھی۔
    شروع شروع میں لوگ مس بیل دینا ایک فیشن سمجھتے تھے،
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شعور نے باور کرایا کہ یہ اولڈ فیشن بن چکا ہے،اب مس کال بھلا کون دیتا ہے؟
    جب ایس ایم ایس کا سلسلہ شروع ہوا تو گھر کے سیل پر آئے کمپنی کے میسیجز اوپن کرنا رسک لگتا تھا…
    ہم کبھی دیکھتے،کہ کھول کر دیکھیں مگر کس بٹن کو دبانا ہے،اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
    یوں وہ ایک چھوٹا سا خط جو سکرین پر جھلملاتا رہتا تھا،
    کبھی مٹ نہ پاتا کیونکہ جب تک میسیجز پڑھ کر ان بکس میں یا ڈیلیٹ نہ کیئے جاتے،اسے تو بہر حال اپنا دیدار کراتے رہنا تھا۔
    وقت گزرتا گیا کہ گھر کے لیئے ایک الگ سیل لایا گیا جو گھر میں ہی رہنا تھا…
    اچانک ایک دن کسی ضروری کال کے لیئے ٹرائی کیا گیا تو بیلنس ناکافی تھا…
    اب مسئلہ یہ تھا کہ بیلنس ری چارج کیسے کیا جائے؟
    کارڈ کیسے اسکریچ کرتے ہیں اور کوڈ کونسا لگانا پڑتا ہے…؟
    والدہ کو منایا کہ آپ سیل سمیت دکان پر جائیں اور بیلنس چارج کروا لائیں…
    پھر کسی نے معلومات میں اضافہ کیا کہ اب گھر بیٹھے ایزی لوڈ بھی کروا سکتے ہیں…
    لیکن دکاندار کو نمبر بتانا پڑے گا…؟
    چلیں اس چیز کو رہنے دیا جائے اور خود ہی ری چارج کر لیا جائے…
    ہر ایسی کیفیت میں مجھے وہ آنٹی یاد آتیں کہ جن کے بیٹے نے پہلے پہل جب کی پیڈ موبائل لیا تھا،
    تو ایک دن کہنے لگیں کہ وہ سیکھنے جاتا ہے کسی کے پاس کہ کیسے کال کرتے اور سنتے ہیں،ایس ایم ایس وغیرہ…
    تب ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار ہنسی مچلتی اور اندازِ بے نیازی سے دل میں کہتے ارے یہ بھی کوئی سیکھنے والی بات ہے؟
    لیکن حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں کارڈ اسکریچ کرنا بھی سکھا دیا…
    ایک دن ایک سہیلی کو کال کی تو کالر ٹیون اسماء الحسنیٰ کی سیٹ تھی،ہمارے معصوم دل میں بھی خواہش اُبھری کہ ہم بھی یہ کالر ٹیون سیٹ کریں…
    لوگ تو انڈین سانگز لگاتے ہیں…
    اب مرحلہ ٹیون سیٹنگ کا تھا…
    جس کے لیئے بیلنس چاہیئے تھا،ہم نے سو روپے کا اس وقت میں چارج کروا کر جب لوگ بیس کے ایزی لوڈ میں بھی کام چلا لیتے تھے،کالر ٹیون سیٹ کرنا چاہی…
    ٹیون کیا سیٹ کی کہ صرف پسند کرتے کرتے ہی کہ کون سی سیٹ کرنی چاہیئے،سنتے سنتے سو روپیہ اُڑ گیا…
    جبکہ ٹیون سیٹنگ کے لیئے تو صرف بارہ روپے چاہیئے تھے…
    اب تقریباً رونی شکل بنا کر والدہ کی مجلس میں پہنچ کر روداد سنائی تو ماں نے ممتا کا اظہار کرتے ہوئے تسلی دی کہ میں اپنی بیٹی کو اور کارڈ منگوا دیتی ہوں،پریشانی کی کونسی بات ہے…
    پھر جب میسیجز ٹائپ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تو سادگی کا یہ عالم تھا کہ سالوں بغیر کسی پیکج کے بیلنس پھونکتے ہوئے سہیلیوں کو جواب دیا جاتا تھا کہ دن کے اینڈ تک بیلنس پھر ریڈ جھنڈی دکھا کر رخصت ہو جاتا…
    کُچھ عرصہ بعد یہ عقدہ ہم پر بھی کھلا کہ پیکج کر لینے سے میسیجز زیادہ بھی ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کم…
    مگر وہ تو میسیج کرو نہ کرو،
    پیکج اپ ڈیٹ ہو کر بیلنس کو چاٹتا ہی جاتا، ہم نے بھلا اتنے میسیجز کہاں کرنے ہیں؟
    جبکہ پیکج کے علاوہ دس روپے بھی ہوں تو محفوظ تو رہتے ہیں…
    بجٹ اور بچے پر دل میں بحث ہوتی تھی…
    کال پہ بات کرنے کی تو ہمت تو خیر آج تک بھی بہت کم آئی ہے…
    کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی ان ناؤن نمبر آتا تو ڈیوٹی بڑھ جاتی کہ پہلے ڈائری کی ورق گردانی شروع ہو جاتی کہ آیا یہ نمبر ڈائری میں موجود ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہی تڑپ جاتا،کال ریسیو نہیں کرنی…
    مطلب احتیاط کی حد تھی…
    پھر یہی ہوتا کہ اکثر شکوے آ جاتے کہ کال ریسیو نہیں کی…!!!
    بس ضرورت کی بات کو لازمًا ریسپانڈ کرنا ہوتا تھا…!!!
    وقت کا پہیہ چلتا رہا…
    کانوں میں گونج پڑتی وٹس ایپ،فیس بک…
    اب پتہ نہیں یہ کیا بلا اور ترقی کا کوئی بہت ہی اونچا زینہ ہے شاید؟
    دل ہی دل میں سوچتے…
    اچھا یہ کی پیڈ میں بھی چلتے ہیں؟
    جی نہیں اس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری ہے…
    اچھا…
    ہم معصومیت سے جواب دیتے…
    آہستہ آہستہ واٹس ایپ اور فیس بک نے بھی قدم جمانے شروع کیئے اور شہروں سے دیہات تک یہ ایپس پہنچنے لگیں تو…
    اب مسئلہ اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری تھا…
    ایک دم اتنی بڑی فرمائش ظاہر ہے چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف تھی اور پھر پندرہ سے بیس ہزار کا سیٹ ایک دم سے ممکن ہو بھی سکتا تھا،نہیں بھی…
    اور وہ بھی بچوں کے لیئے جن کی تربیت سنجیدگی کے اصولوں پر ہوئی ہو…
    جب بھی کہیں لکھنے کے حوالے سے بات ہوتی تو ہر ذمہ دار کی طرف سے یہ مشورہ ضرور سننے کو ملتا کہ آپ لکھ کر واٹس ایپ کر دیں…
    اب واٹس ایپ ہماری بلا سے…
    لکھنا تو ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو…
    طویل عرصہ ہمارا اور ڈاک کا تعلق قائم رہا…
    ہم نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر کے رکھنا اور بھائی کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر آہستگی سے نکالنا…
    کبھی منتوں ترلوں تک بھی نوبت جاتی تھی لیکن صد شکر کہ فرمائش کبھی مسترد نہیں کی گئی…
    اب ہمارے اس شوق کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے گلو خلاصی کروانے کا ایک یہی آپشن باقی تھا کہ اب آپ آرام سے ادب تحریر کر کے بھیج دیا کرو…جس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہمیں تحفہ میں ملا…
    اچھا بھائی اب اس پہ تو واٹس ایپ ہو جائے گی ناں؟
    اور فیس بک بھی؟
    بھائی پیار و ڈانٹ کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھتے کہ شریف لڑکیوں کے لیئے فیس بک پہ ہونا کوئی ضروری چیز بھی نہیں ہے اب…!!!
    اچھا کیوں اگر مثبت استعمال کی جائے تب بھی…؟
    ہم آگے سے خاموشی پا کر دل مسوس کر رہ جاتے کہ لگتا ہے گزارہ اب ایک ہی ایپ پہ کرنا پڑے گا…!!!
    ارے یہ انسٹا کیا ہے؟
    اور IMO اور BOTIM کیا چیز ہیں؟
    ایک دن بہت ہی پیاری دوست سے پوچھ ہی لیا…
    تب جواب نے مجھے ہنسی کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا کہ بہنا یہ ان کے لیئے ہے جو جانو وانو پہ مریں اور دوری کی وجہ سے بآسانی باہر بھی بات کر سکیں…
    اچھا یہ تو پھر بالکل ہی غیر اہم ہیں اور میرے شیڈول میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے…!!!
    یو ٹیوب پر تو کچھ دیکھ لینا چاہیئے،کیا مشورہ دیتی ہیں آپ؟
    ایک فرینڈ سے مشورہ کیا…
    ہاں یو ٹیوب پر کافی فائدہ مند مواد اور وڈیوز ہیں، آپ دیکھ لیا کریں…
    اچھا کوئی پیکج کا طریقہ بتا دیں…؟
    ہم پاکٹ منی کی ایک خطیر رقم خرچ کر کے ابھی پیکج کا طریقہ آنے کے انتظار میں تھے کہ اتنی دیر میں بیلنس ہوا ہو چکا تھا…!!!
    دل گھبرایا کہ ایپس کے لنڈا بازار میں گھومنا ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں ہے جنہوں نے ہماری زندگی میں داخل ہو کر ہمیں عبادات،رشتوں اور حقیقی کردار سے یقیناً دور کر دیا ہے…
    اب ہماری خوشی،غم،پیار اور نفرت بھی فیس بک،اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ہی گھومتے ہیں…
    نیٹ کی سپیڈ 4G نے آسانیاں بھی بہت کر دی ہیں ہر میدان میں…!!!
    آہ…!!!
    مگرہم زندگی کی فطری اور حقیقی خوشیوں سے بہت دور صرف تنہائی کا شکار ہو کر سکرین پر محبتیں اور رشتے ڈھونڈتے رہ گئے ہیں؟
    گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی اجنبی بن چکے ہیں؟
    اک گہرے درد نے انگڑائی لی…
    یہ سب بے شک ضروری تو ہے…
    مگر اسے ضرورت ہی سمجھیئے…
    اس سب کو اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد پر کبھی اثر انداز نہ ہونے دیجیئے اور کھوکھلی اور مصنوعی نگوں کی ریزہ کاری کے خول سے کبھی باہر نکل کر قدرت کی ٹھنڈی اور تازہ فضا میں بھی سانس لیتے رہنا چاہیئے…
    کہ یہ بھی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہے…!!!
    ،اپنی آنکھوں کے گرد پھیلتے سیاہ حلقوں اور اتری رنگت کا بھی خیال کر لیا کیجیئے…
    اپنی پُر سکون نیند کو محض وقت گزاری اور فریب کی نذر نہ کر دیا کیجیئے کہ آج کی نوجوان نسل کے اس رویّے نے بڑے بزرگوں کو ایک سنجیدہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے…!!!
    مثبت استعمال کیجیئے مگر وہ بھی ایک حد تک…
    قانونِ فطرت کے دائرہ میں رہتے ہوئے…
    ایک ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ…
    اپنے اہم اور ضروری فرائض کی بجا آوری کے بعد…!!!!
    کہ زندگی بہت ہی مختصر اور آگے سفر بڑا طویل ہے…
    کہیں ہم ظاہریت کو سجاتے ہوئے باطن کو داغدار اور بے وقعت تو نہیں کر رہے؟
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ( پی آئی ٹی بی) نے اساتذہ کی سہولت کیلئے سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پلے سٹور پر انسٹال کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب آئی ٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے اور لاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے۔

    پنجاب آئی ٹی بورڈ نے مزید کہا کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی جاری یے جبکہ اساتذہ یا طلبا کا ڈیٹا ہیک یا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ایپ مینٹیننس کیلئے پلے سٹور سے ہٹائی گئی جو کہ پلے سٹور پر دوبارہ بحال ہو چکی ہے۔

    پی آئی ٹی بی کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہےلاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے

    پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی بھی جاری ہے-

    پی آئی ٹی بی نے مزید کہا کہ اساتذہ کا ڈیٹا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا ہےجس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔

    پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا تھا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

  • ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

    صد احترام : پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ

    باغی ٹی وی :ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف -پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے –

    جس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔

    یہ سسٹم ابتدائی طور پر راولپنڈی میں متعارف کروایا گیا ہے ۔پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی آپریشنز فیصل یوسف ودیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

  • ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر نے ایک نئے فیچر کا تجربہ کیا ہے جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، جس میں 140 سیکنڈ تک آڈیو پیغام ریکارڈ ہو سکے گا-

    باغی ٹی وی: مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "ویولینگتھ” آئیکن استعمال کرکے اپنا ٹویٹ صوتی شکل میں شئیر کر سکیں گے-
    https://twitter.com/Twitter/status/1273313100570284040?s=20
    گذشتہ روز ٹویٹر انچارج کا کہنا تھا کہ وہ ایک نئی خصوصیت کی جانچ کر رہے ہیں جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، ایک ہی ٹویٹ میں 140 سیکنڈ تک آڈیو حاصل کرسکیں گے۔

    ٹویٹر نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ، فیچر ایپل کے آئی او ایس پلیٹ فارم پر محدود تعداد میں صارفین کے لئے دستیاب ہوگا اور آئندہ ہفتوں میں مزید آئی او ایس صارفین کے لئے تیار کیا جائے گا۔

    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "طول موج” آئیکن استعمال کرکے صوتی(آڈیو) ٹویٹ شئیر کر سکیں گے۔

    ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں پر طویل عرصے سے دباؤ رہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بدسلوکی ، ہراساں کرنے اور غلط معلومات جیسے مواد کو روکنے کے لئے پریشر میں ہیں۔

    ٹویٹر کے ترجمان ایلے پاویلا نے کہا ، "ہم سب کو اس تک پہنچانے سے پہلے مانیٹرنگ کے اضافی نظام کو شامل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔”

    "ہم کسی بھی اطلاع شدہ آڈیو ٹویٹس کا اپنے قواعد کے مطابق جائزہ لیں گے ، اور ضرورت کے مطابق لیبلنگ سمیت کارروائی کریں گے۔”

    ٹویٹر ، جس میں جوڑ توڑ یا مصنوعی میڈیا پر مشتمل مواد پر لیبل شامل کیا جاتا ہے ، نے بعض قسم کے کورونا وائرس اور انتخابات سے متعلق غلط معلومات پر بھی حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے لیبل شامل کرنا شروع کردیئے ہیں ، بشمول میل ان بیلٹس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں۔

    پچھلے مہینے ، ٹویٹر نے بھی منیپولیس احتجاج کے بارے میں ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں ایک انتباہ شامل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے۔

    واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

  • واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

    واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

    واٹس ایپ کپمنی نے ای کرنسی کا آغآز کر دیا جس میں واٹس ایپ کے ذریعے کسی بھی چیز کی ادائگی خود کر سکتے ہیں جبکہ برازیل میں چھوٹے کاروبار کا لین دین واٹس ایپ کے ذریعے کرنے کا آغاز کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق آج سے برازیل میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے لوگوں کے لئے ادائیگی شروع کرنا شروع کر رہے ہیں۔ اس طریقہ سے اتنا ہی آسان رقم بھیجنا اور وصول کرنا ہیں جیسے فوٹو شیئر کرنا۔

    اس طریقہ کار کو شروع کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم چھوٹے کاروباروں کو بھی واٹس ایپ میں ہی فروخت کرنے کے قابل بنارہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ، ہم فیس بک پر کام کررہے ہیں ، جو ہمارے ایپس میں ادائیگی کرنے کا ایک محفوظ اور مستقل طریقہ فراہم کرتا ہے۔ میں اپنے تمام شراکت داروں کو یہ ممکن بنانے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم مقامی بینکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، جن میں بینکو ڈو برازیل ، نوبینک ، سکریڈی نیز برازیل میں کاروباری افراد کے لئے معروف ادائیگی پروسیسر سییلو بھی شامل ہیں۔ برازیل پہلا ملک ہے جہاں ہم واٹس ایپ میں بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں۔

  • افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور پولیس والا رہا کردیا ، یہ قیدی اس تبادلے کا حصہ ہے جس کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے قیدی رہا کریں گے . افغان ترجمان کے مطابق یہ قید صوبہ زابل میں‌قید تھے ان کے ساتھ رہائی کے وقت بہتر سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو نئے کپڑے اور پانچ پانچ ہزار افغانی کرنسی بھی دی گئ ہے ، یہ قیدن اب اپنے اہل خانہ کے ہاں پہنچ چکے ہیں.


    اس کے علاوہ حکومت افغانستان نے بھی طالبان قیدی رہا کیے تھے ان بارے اطلاعات ہیں‌ کہ ریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت افغانستان کی جیلوں سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔ رہائی پانے والے بعض قیدیوں نے دوبارہ محاذ جنگ میں جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد افغانستان میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ان طالبان جنگجوؤں کا مستقبل کیا ہو گا۔

    رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے لگ بھگ پانچ ہزار طالبان قیدی جب کہ طالبان نے ایک ہزار سے زائد افغان حکومت کے قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اب تک افغان حکومت 3000 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 750 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والوں میں خود کش حملہ آور، خود کش جیکٹس تیار کرنے کے ماہر، اغوا کاروں سمیت کئی غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں۔

  • 28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخیں!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
    وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
    پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی.

  • نہ ویب کیم اور نہ ہی کوئی اور پرابلم. اب اپنا ڈی ایس ایل آر استعمال کریں اسکائپ کالز کے لیے

    نہ ویب کیم اور نہ ہی کوئی اور پرابلم. اب اپنا ڈی ایس ایل آر استعمال کریں اسکائپ کالز کے لیے

    باغی ٹی وی :ان دنوں ویب کیم ڈھونڈنا مشکل ہے ، لہذا یہاں آپ زوم یا اسکائپ پر کال کرنے کے لئے آپ اپنے پاس پہلے سے موجود اپنے کیمرہ کو ویب کیم میں تبدیل کرسکتے ہیں

    کوروناوائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویب کیمز کی فراہمی بہت کم ہے ، لہذا آپ اپنے میک یا پی سی میں سے بہتر کوالٹی کیمرہ تلاش کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، ان تمام زوم کالز اور اسکائپ سیشنوں کے لئے تصویر کے معیار کو بڑھانے کے لئے اپنے DSLR یا کیمکارڈر کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

    آپ اپنے فون کو ویب کیم کی طرح دوگنا کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو اسٹینڈ کیمرہ کے ذریعے رابطے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں ، لیکن اس سے آپ کو تصویر کا بہترین معیار نہیں مل سکتا۔

    اپنے DSLR کو ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کچھ مختلف طریقے ہیں۔ آپ جس کا انتخاب کرتے ہیں اس کا انحصار آپ کے کیمرا پر ہوگا ، چاہے اس میں USB ہو یا HDMI آؤٹ پٹ ، اور اگر آپ پی سی یا میک سے جڑ رہے ہیں۔

    نیز ، آپ یقینی طور پر اپنے کالوں کے دوران کمفرٹ رہنے کے لئے اپنے کیمرہ کو تپائی پر رکھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ اسے تھوڑی دیر کے لئے چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے بجلی سے جوڑ دیں۔ اگر آپ آواز کی کوالٹی بہترین چاہتے ہیں تو آپ کیمرہ مائک کے بجائے اپنے آڈیو کو الگ الگ مائیکروفون کے ذریعہ ریکارڈ کرسکتے ہیں

    اپنے کینن DSLR یا کیمرہ کو ایک ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کینن سافٹ ویئر کا استعمال کریں

    کینن کے پاس اپنے کیمرے کو اپنے کمپیوٹر سے کنیکٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے (یہ میک کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا)۔ یہاں آپ کوایک USB کیبل کی ضرورت ہے ، جو آپ کے کیمرہ باکس میں موجود ہو گی۔ ایک بار جب آپ سافٹ ویئر کو اپ لوڈ کرتے ہیں اور اپنے کیمرہ میں پلگ ان کرتے ہیں تو ، کیمرہ کو مووی موڈ میں تبدیل کریں پھر EOS ویب کیم یوٹیلٹی بیٹا کو ان پٹ کے طور پر زوم ، اسکائپ ، مائیکرو سافٹ ٹیموں یا گوگل میٹ کو سیٹ کریں۔

    یہ کینن ڈائریکٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے لیکن پہلے آپ کو یہ فہرست دیکھنی پڑے گی کہ آیا آپ کا کینن کیمرہ مطابقت رکھتا ہے۔ نیز ، یہ بیٹا سوفٹ ویئر ہے لہذا آپ کا یہ تجربہ ناکام ہو سکتا ہے ، اور صرف امریکی کینن کیمرہ ماڈل ہی سہارا یہاں پر مفید رہتا ہے۔

    اپنے DSLR کے لئے ایک ویب کیم ایپ آزمائیں جو USB سے زیادہ جڑتا ہے

    دوسرا آپشن پی سی کے لئے اسپارکو کیم ہے۔ یہ ایک مفت ٹرائل کی آفر دیتا ہے ، لیکن یہ امیج پر آبی نشان لگادیتا ہے۔ غیر مقفل ورژن کے لئے اس کی لاگت 70 ڈالر ہے ، جو کئی کینن اور نیکن کیمروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔

    ایک بار جب آپ کیمرہ کو USB کے ذریعے اپنے کمپیوٹر سےجوڑ دیں گے تو ، آپ اسپارکو کیم سے نمائش کو تبدیل کرنے اور دیگر ترتیبات کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے ، آپ کیمرہ سے آڈیو کو براہ راست ریکارڈ نہیں کرسکیں گے ، لہذا آپ کو یا تو پی سی یا میک مائکروفون استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی ، یا بیرونی مائکروفون لگانے کی ضرورت ہوگی تاکہ لوگ آپ کو سن سکیں۔ کیمرے پر انحصار کرتے ہوئے اسپارکو کیم استعمال کرتے وقت کچھ تصویری ہنگامہ آرائی کی ہے ، لہذا یہ آپ کے لئے سب سے قابل اعتماد حل نہیں ہوسکتا ۔ ایکام لائیو میک کے لئے ایک اور آپشن ہے جو نیکون صارفین کے لئے بہترین ہے ، حالانکہ اس کا خصوصی طور پر تجربہ نہیں کیا ہے۔

    متبادل کے طور پر ، اگر آپ کے پاس کینن ڈی ایس ایل آر ہے اور آپ میک استعمال کررہے ہیں تو ، آپ سافٹ ویئر کے دو ٹکڑے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: کیمرا لائیو اور کیمٹسٹ (دونوں ہی مفت ڈاؤن لوڈ ہو تے ہیں)۔ ایک بار جب دونوں انسٹال ہوجاتے ہیں اور آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمرہ لائیو کے ذریعے کیمرہ USB کے ذریعے جڑا ہوا ہے تو ، کیم ٹیوسٹ کو کھولیں اور سیفون کو ویڈیو ماخذ کے طور پر منتخب کریں۔ سیٹنگ کے ٹیب میں ، سیفن سرور کے بطور کیمرہ لائیو منتخب کریں۔ اب آپ زوم ، اسکائپ یا اپنی پسند کی ایپ پر جاسکتے ہیں اور کیمٹوسٹ کو اپنے ویڈیو ذرائع کے طور پر منتخب کرسکتے ہیں۔

    اپنے DSLR کو بہترین معیار کے لئے HDMI کے ذریعے جوڑیں

    یہ ان کیمروں کے لئے موزوں ہے جو صاف HDMI سگنل کو آؤٹ کرسکتے ہیں – اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امیج کی تفصیلات یا فوکس ٹولز جیسے اوورلیز نہیں ہیں۔ یہ میک یا پی سی کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔

    اس کے لئے پہلے ، آپ کو اپنے کیمرے سے براہ راست تصویر حاصل کرنے کے لئے HDMI کیبل کی ضرورت ہوگی۔ یہ آپ کے کیمرہ پر منحصر ہے ، یہ منی HDMI سے فل سائز HDMI سائز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

    اس کے بعد ، آپ کو ایک کیپچر ڈیوائس کی ضرورت ہوگی جیسے ایلگاٹو کیم لنک ($ 130)۔ ایک بار جب آپ اپنے مطابقت پذیر کیمرہ کو ڈونگل میں پلگ دیتے ہیں تو ، یہ HDMI سگنل کو USB سگنل میں بدل دیتا ہے تاکہ آپ اپنے کیمرہ کو ویب کیم کے طور پر استعمال کرسکیں۔ آپ کو اپنے ویڈیو کانفرنسنگ ٹول جیسے زوم یا مائیکروسافٹ ٹیموں میں کیمرا منتخب کرنا ہو گا۔

    اگر آپ اپنا اسٹریمنگ گیم اسکائپ یا زوم سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ، یہاں ایک عمدہ ٹیوٹوریل موجود ہے جو آپ کے کیمرے کے ہکنگ کے عمل سے گزارتا ہے ، پھر OBS نامی ایک مفت سافٹ ویئر ٹول کا استعمال کرتے ہوئے لائیو سٹریمنگ کی مزید سیٹنگ کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔