از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں
پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔
عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟
ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
انسانی قیمت
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔
ساختی مسئلہ
پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
انصاف کا سوال
عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
قانونی اور حکمرانی کا پہلو
پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔
آگے کا راستہ
پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔
اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟