Baaghi TV

Category: سیاست

  • مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں مبشر لقمان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنے منفرد انداز، جرات مندانہ مؤقف اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ وہ ان چند اینکرز میں شمار ہوتے ہیں جو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح رائے دے کر عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا، مگر انہوں نے ہر دور میں خود کو ایک “آواز” کے طور پر منوایا۔ چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انہوں نے ہمیشہ بروقت معلومات فراہم کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ بطور سی ای او باغی ٹی وی، انہوں نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آن لائن صحافت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تجزیے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔

    حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، مبشر لقمان نے جس طرح مسلسل اپڈیٹس اور تجزیے فراہم کیے، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی ان کی نظر گہری رہی ہے، اور انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صحافت محض خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور الفاظ کے درست استعمال کا نام ہے۔ ایسے میں جب کسی بھی شخصیت کے بارے میں غیر مناسب یا توہین آمیز زبان استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف اس فرد بلکہ مجموعی صحافتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ناصر ادیب جیسے افراد کو بھی اس حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی فضا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

    مبشر لقمان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہی جرات انہیں عام اینکرز سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، جو ان کی تجزیاتی صلاحیتوں اور بے باک انداز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو مہذب دائرے میں رکھنا ہی اصل شعور کی علامت ہے۔ مبشر لقمان جیسے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہمیں بطور معاشرہ برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ یہی ایک صحت مند میڈیا اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    حالیہ دنوں میں ایران کے سینئر اور نسبتاً اعتدال پسند رہنما علی لاریجانی کا قتل مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک موڑ ہے۔ علی لاریجانی کا شمار ان عالمی اور علاقائی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو تنازعات کو سفارتکاری اور پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایرانی قوم بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کی رسائی اور عزائم
    اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کی ایرانی سیکیورٹی نظام میں گہری رسائی ہے۔ یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت تک اتنی درست اور بروقت رسائی کیسے حاصل ہے؟ یہ دراصل اسرائیل کی جدید ‘ٹیکنالوجیکل انٹیلی جنس’ اور زمینی سطح پر موجود ‘ہیومن انٹیلی جنس’ (جاسوسی نیٹ ورک) کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اس دراندازی نے ایرانی سیکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ قیادت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، اس حملے سے اسرائیل کے جنگی عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے اور ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو طویل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے جلد از جلد سمیٹنے کی خواہش مند ہیں۔

    ایران کا غیر مرکزی (Decentralized) دفاعی نظام
    ان تمام تر نقصانات اور ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کے باوجود، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس متبادل قیادت کا ایک انتہائی مؤثر اور خودکار نظام موجود ہے۔ ان کے سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے میں قیادت کی کئی تہیں (Layers) بنائی گئی ہیں، جو کسی بھی اہم رہنما کی شہادت کی صورت میں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔

    مزید برآں، ایرانی جنگی مشینری کسی ایک مرکز کی محتاج نہیں ہے۔
    ملک بھر میں تقریباً 33 آزاد یونٹس (Independent Units) موجود ہیں جو ایک طے شدہ حکمت عملی (Playbook) کے تحت ‘آٹو پائلٹ’ موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے خلا کے باوجود ان کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔ یہ جنگ روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایک ‘غیر متناسب جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک علاقائی طاقت بڑی عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر کو نیٹو، یورپ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
    اندرونی محاذ: ایران کا اتحاد بمقابلہ امریکی تقسیم

    جنگ کے اندرونی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایک حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل، ایران میں مذہبی حکومت کے خلاف شدید عوامی مظاہرے جاری تھے۔ تاہم، اس بیرونی حملے نے پوری ایرانی قوم کو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر متحد کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک اب حکومت کی مخالفت نہ ہونے کے برابر ہے، اور محض بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن (Diaspora) کی جانب سے ہی تنقید کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اس کے بالکل برعکس، اس جنگ کے سب سے بڑے حامی، یعنی امریکہ میں شدید اندرونی تقسیم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے، اور یہ تقسیم اب وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اس جنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، وائٹ ہاؤس کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹیلی جنس یونٹ کے ڈائریکٹر کا احتجاجاً استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر طبقہ اس جنگ کو "امریکہ کی جنگ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جنگ” سمجھتا ہے۔

    مختصراً یہ کہ علی لاریجانی جیسے اہم رہنماؤں کے نقصان کے باوجود، ایران کا بنیادی دفاعی اور عسکری ڈھانچہ بظاہر تباہ نہیں ہوا۔ بیرونی خطرے نے ایران کو اندرونی طور پر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

  • آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا کی سب سے حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں سے اس اہم راستے کے تحفظ اور کھلے رکھنے کے لیے بھرپور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کیا ہے۔ یہ شکوہ محض ایک بیان نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں۔ کچھ یورپی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی عسکری مہم جوئی سے گریز چاہتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور داخلی سیاسی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے—نہ مکمل لاتعلقی، نہ اندھا ساتھ۔

    یہ اختلاف دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر اپنی اصل روح برقرار رکھے گا یا بدلتے عالمی حالات میں اس کے اندر ترجیحات کی نئی درجہ بندی ہوگی؟ امریکہ کی نظر میں آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، مگر یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سفارتکاری اور استحکام کا بھی ہے۔

    مستقبل قریب میں تین ممکنہ راستے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اول، محدود اور علامتی تعاون جس سے اتحاد بھی برقرار رہے اور براہِ راست تصادم سے بھی بچا جا سکے۔ دوم، نیٹو کے اندر واضح تقسیم، جہاں چند ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر فاصلے پر رہیں۔ سوم، ایک وسیع تر سفارتی حل جس میں علاقائی طاقتوں کو شامل کر کے کشیدگی کم کی جائے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا مغرب ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے پائے گا یا یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھے گا؟ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ عالمی اتحاد دباؤ میں کس حد تک متحد رہ سکتے ہیں۔

  • سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے کی حدیں واضح کرنے لگا

    الزامات، وضاحتیں اور سچ کی تلاش سرکاری طیارے کی بحث نے ذمہ دارانہ صحافت کا سوال کھڑا کر دیا

    سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی گرد میں چھپتے حقائق، سرکاری طیارہ بحث نے تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بڑھا دی

    رپورٹ شہزاد قریشی

    پروپیگنڈا، حقیقت اور ذمہ دارانہ صحافت، حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے ایک سرکاری طیارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا رخ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی باتیں یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی ہیں یا پھر ان کی بنیاد غیر مصدقہ اطلاعات پر ہے۔حکومت پنجاب کے مطابق جس طیارے کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، وہ کوئی نیا جہاز نہیں بلکہ 2019 ماڈل کا طیارہ ہے، یعنی تقریباً سات سال پرانا۔ اس کے باوجود اسے ایک بالکل نئے اور مہنگے جہاز کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کیا گیا اور اس کی مکمل تکنیکی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کا عمل بھی اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

    اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ طیارہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک کسی نجی یا غیر ضروری سفر کے لیے بھیجا گیا۔ تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ پرواز دراصل طیارے کی تکنیکی جانچ اور کارکردگی کی تصدیق کے لیے تھی۔ ایوی ایشن کے معمول کے ضابطوں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیسٹ پروازوں کے اخراجات عموماً فروخت کنندہ کمپنی برداشت کرتی ہے، تاکہ طیارے کی حفاظت، کارکردگی اور معیار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی گردش کرتا رہا کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی طیارے میں ویانا گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    واضح رہے کہ بیرون ملک کسی بھی شہری کے سفر کا ریکارڈ امیگریشن نظام میں موجود ہوتا ہے، جس کی باآسانی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا مشکل نہیں۔ اس ساری بحث کے دوران ایک اور پہلو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ شریف خاندان کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ تر وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اس مہینے کو خاندانی اجتماع اور عبادات کے لیے مخصوص رکھنے کی روایت نبھاتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایک طیارہ کب خریدا گیا یا وہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے پھیلانا مناسب ہے؟ جدید دور میں اطلاعات کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق کی تصدیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو پروپیگنڈے کی شکل دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں سوالات ہیں تو انہیں شواہد اور دستاویزات کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے۔ آخرکار جمہوری معاشروں میں شفافیت، احتساب اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور سیاسی مباحثے کو صحت مند رکھتا ہے.

  • عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائیٹ ہاؤس میں آئے تو ان کی تقاریر اور بیانات میں ایک مرکزی نکتہ بار بار سامنے آیا: دنیا میں جنگوں کو ختم کرنا اور عالمی امن کو فروغ دینا۔ اس اعلان نے بہت سے ممالک اور خطوں میں امید پیدا کی کہ شاید امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اثر و رسوخ کو اس بار جنگوں کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم موجودہ عالمی صورتحال ان توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
    خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس پورے منظرنامے میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ موجودگی نے خطے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کر رہی ہے۔

    عالمی معیشت پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اور جنگی ماحول نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال، سفری خدشات اور سیکیورٹی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کے بحران کے خدشات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ان جنگی اور سیاسی کشیدگیوں کے اثرات سب سے زیادہ عام آدمی پر پڑتے ہیں، جو نہ پالیسی سازی میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ کے فیصلوں میں اس کی کوئی رائے شامل ہوتی ہے۔
    ایسے حالات میں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ اگر واقعی عالمی امن کو ترجیح دی جائے تو ضروری ہے کہ جنگی بیانیے کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ دنیا کے کئی خطوں میں جاری تنازعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

    آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق واقعی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں گی یا عالمی سیاست بدستور طاقت کے توازن اور اسٹریٹیجک مفادات کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی استحکام اور دنیا کے عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
    دنیا اس وقت قیادت کی منتظر ہے—ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے اور سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر فوقیت دے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی قائم ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔

  • عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔

    موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

    عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔

    بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

    آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔

  • مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر جمہوریت موجود ہے، پارلیمنٹ قائم ہے، سیاسی جماعتیں فعال ہیں اور ہر روز بیانات اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری سیاسی سرگرمی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاست میں اصل قیادت اور فکری گہرائی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ کے ایوان میں حقیقی سیاستدانوں کی جگہ مصنوعی کردار ادا کرنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آج اگر کوئی شخص پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائیوں کو غور سے دیکھے تو اسے اندازہ ہوگا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور سیاسی تماشہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل کا شکار ہے، ان پر وہ توجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی ایک ذمہ دار قیادت سے توقع کی جاتی ہے۔

    پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، صنعتیں توانائی کی قلت سے پریشان ہیں اور نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو سمجھتی ہو، ان کے حل کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہو اور قوم کو اعتماد دے سکے۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ چند ایک لوگ ضرور موجود ہیں جو سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، جنہیں ملکی اور عالمی حالات کا ادراک ہے اور جو سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ باقی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک سیاست ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے بجائے محض ایک سیاسی مشغلہ بن چکی ہے۔

    یہ صورتحال صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ جماعتوں میں نظریاتی کارکن کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا سیاست سے تعلق زیادہ تر اقتدار کے حصول تک محدود ہے۔ سیاسی تربیت، مطالعہ اور فکری بحث کا جو کلچر کبھی سیاست کا حصہ ہوا کرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ان حالات میں جب قیادت کے بحران کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کی نظر ایک ہی نام پر جا کر ٹھہرتی ہے اور وہ نام ہے نواز شریف ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں کے تجربات سے گزرے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مخالفین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے۔

    تاہم ایک صحت مند جمہوری نظام کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت صرف چند افراد تک محدود نہ رہے بلکہ نئی قیادت سامنے آئے۔ نوجوان سیاستدان تیار ہوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوں اور ایسے لوگ آگے آئیں جو ملک کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کی غریب عوام اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لڑ رہی ہے۔ ان کے لیے سیاسی بیانات یا ٹی وی ٹاک شوز کی گرما گرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کی زندگی میں بہتری آئے۔اگر پاکستان کی سیاست کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو مصنوعی سیاستدانوں کے اس ہجوم سے نکل کر حقیقی قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، نظریے اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور تقریروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور مضبوط قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر:  میجر (ر) ہارون رشید

    پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
    ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
    جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔

    عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

    ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
    تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    انسانی قیمت

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
    ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
    اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
    جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
    کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
    آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

    ساختی مسئلہ
    پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
    ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

    انصاف کا سوال

    عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
    جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
    یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
    کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
    کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
    قانونی اور حکمرانی کا پہلو
    پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
    قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
    ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
    قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
    پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
    شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

    آگے کا راستہ

    پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
    حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
    ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
    ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
    کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
    توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
    سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
    پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

    اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
    کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟

  • ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگی دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں؛ امریکہ طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسرائیل جارحانہ حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ روس اور چین زیادہ تر موقع کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
    ایسے حالات میں ایران کو اپنی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایران پہلے ہی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑ چکا ہے جس میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر اس جنگ سے کوئی فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ طویل جنگیں اکثر قوموں کو کمزور ہی کرتی ہیں۔
    آج ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے پالیسی بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو ایران کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت صرف جنگ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

    حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔