Baaghi TV

Category: سیاست

  • بھٹو: ایک خاندان، ایک داستان، ایک المیہ۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو: ایک خاندان، ایک داستان، ایک المیہ۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    چار اپریل محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ باب ہے جسے پڑھتے ہوئے دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک منتخب وزیراعظم، ایک عوامی رہنما، اور ایک عالمی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا۔ ہر سال اس دن پاکستان پیپلز پارٹی اور لاکھوں چاہنے والے نہ صرف انہیں یاد کرتے ہیں بلکہ اس سوال کو بھی زندہ رکھتے ہیں کہ کیا واقعی انصاف ہوا تھا؟

    ذوالفقار علی بھٹو محض ایک سیاستدان نہیں تھے، وہ ایک سوچ، ایک وژن، اور ایک تحریک کا نام تھے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی،ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، اور عوام کو سیاسی شعور دیا۔ عالمی سطح پر بھی ان کی شخصیت ایک مضبوط اور خوددار رہنما کے طور پر جانی جاتی تھی۔ لیکن ان کی زندگی کا اختتام جس طرح ہوا، وہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا۔

    بھٹو کی پھانسی کے بعد جو کچھ ان کے خاندان پر گزرا، وہ کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ ایک عہد کی کہانی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو نے ایک ماں اور ایک سیاسی کارکن کے طور پر ناقابلِ بیان صدمات برداشت کیے۔ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو، جو بعد میں خود وزیراعظم بنیں، جلاوطنی، قید، اور مسلسل خطرات کے سائے میں زندگی گزارتی رہیں۔ ان کے دونوں بیٹے—مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو—بھی پراسرار اور المناک حالات میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    یہ ایک ایسا خاندان تھا جس نے اقتدار بھی دیکھا، عوامی محبت بھی، اور پھر وہ دکھ بھی جھیلے جو تاریخ میں کم ہی خاندانوں کے حصے میں آتے ہیں۔ اس داستان کو قلمبند کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ جذبات، قربانیوں اور ناانصافیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر اگر دیکھا جائے تو بھٹو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لیے بڑی قیمت ادا کی۔ ان کی پھانسی کو دنیا بھر میں متنازع قرار دیا گیا، اور آج بھی کئی حلقے اسے عدالتی قتل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یاد صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاسی تاریخ میں بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

    چار اپریل ہمیں صرف ایک رہنما کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ طاقت، انصاف، اور جمہوریت کے درمیان توازن کہاں کھو جاتا ہے۔ بھٹو خاندان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اقتدار کی راہیں ہمیشہ پھولوں سے نہیں سجی ہوتیں، بلکہ ان میں کانٹے بھی ہوتے ہیں—اور کبھی کبھی یہ کانٹے پورے خاندان کو لہولہان کر دیتے ہیں۔

    آج جب ہم بھٹو کو یاد کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک شخص کی یاد نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک جدوجہد، اور ایک قربانی کی یاد ہے

  • کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    آبنائے ہرمز، پیٹرو ڈالر اور عالمی طاقت کا مستقبل

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ سلطنتیں ابھرتی ہیں، اپنے مفادات کے مطابق عالمی نظام کو تشکیل دیتی ہیں اور بالآخر اپنی طاقت کی حدود سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
    مثال کے طور پر برطانوی سلطنت نے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں اپنی عروج کی انتہا کو پہنچا، مگر 1956 میں جب اس کا سویز نہر پر کنٹرول ختم ہوا تو اس کے زوال کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے۔ یہ اسٹریٹجک گزرگاہ برطانیہ کی عالمی تجارت اور اثر و رسوخ کی شہ رگ تھی؛ جیسے ہی اس پر خطرہ پیدا ہوا، سلطنت کی معاشی اور سیاسی قوت کمزور ہونے لگی اور عالمی برتری سے اس کی واپسی تیز ہو گئی۔

    آج کئی تجزیہ کار اس صورتحال کا موازنہ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ جس طرح سویز نہر برطانیہ کے لیے آزمائش ثابت ہوئی، اسی طرح آبنائے ہرمز امریکی عالمی طاقت کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی گزرگاہ ہے۔ یہاں استحکام عالمی توانائی کی منڈیوں، امریکی معیشت کی طاقت اور پیٹرو ڈالر نظام کی بالادستی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت تیل کی تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے.

    سرد جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی بلا مقابلہ سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ واشنگٹن کی بحری برتری نے عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، کو محفوظ رکھا۔ اسی کنٹرول نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر برقرار رکھے، عالمی سطح پر اپنی معاشی پالیسیاں نافذ کرے اور بے مثال اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم رکھے۔

    تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چین کی معاشی ترقی، روس کی واپسی اور ترکیہ، ایران اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر نے امریکی یک قطبی نظام کو چیلنج کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل صلاحیتیں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں نے آبنائے ہرمز کو پہلے سے زیادہ حساس اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس راستے میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو پیٹرو ڈالر نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دوسری کرنسیوں میں تجارت کی طرف تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں امریکی معیشت اور ڈالر کی عالمی بالادستی کمزور پڑ سکتی ہے۔

    داؤ بہت بڑا ہے
    اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے اور کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، پیٹرو ڈالر نظام برقرار رہے گا، امریکی معیشت اپنی مضبوطی برقرار رکھے گی اور امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ جاری رہے گا۔ ایسی کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی بھی امریکی قیادت کو عالمی سطح پر اپنی طاقت دکھانے میں مزید تقویت دے گی۔

    لیکن اگر امریکہ خطے میں اثر و رسوخ کھو بیٹھتا ہے تو نتائج انتہائی ڈرامائی ہو سکتے ہیں۔ پیٹرو ڈالر نظام تیزی سے کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ ممالک متبادل کرنسیوں میں تیل کی تجارت شروع کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کمزور پڑے گا، امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ایسا منظرنامہ امریکہ کے عالمی سپر پاور کے طور پر زوال کو تیز کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سویز بحران کے بعد برطانیہ کی عالمی حیثیت کمزور ہو گئی تھی۔

    یہ صورتحال جغرافیائی سیاست میں محلِ وقوع کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جس طرح سویز نہر نے برطانیہ کے عالمی اثر کو متعین کیا تھا، اسی طرح آبنائے ہرمز اور اس کے ذریعے توانائی کی ترسیل یہ طے کر سکتی ہے کہ آیا امریکی دور جاری رہے گا یا تیز رفتار زوال کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    پاکستان اور دیگر درمیانی طاقتوں کے لیے بھی یہ پیش رفت براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ اس گزرگاہ میں استحکام یا خلل توانائی کی سلامتی، تجارتی راستوں اور پورے خطے کی معاشی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اسٹریٹجک بصیرت، متوازن سفارت کاری اور علاقائی تعاون انتہائی ضروری ہوں گے۔

    نتیجہ
    امریکی دور اچانک ختم نہیں ہو رہا، لیکن اس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور پیٹرو ڈالر نظام کی پائیداری ممکنہ طور پر وہ اہم عوامل ہوں گے جو امریکہ کی عالمی طاقت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔اگر امریکہ کامیاب حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، معیشت محفوظ رہے گی اور امریکی اثر و رسوخ مزید عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں ڈالر کمزور پڑ سکتا ہے، امریکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے، ٹرمپ یا اس وقت کی امریکی قیادت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے زوال کا عمل تیز ہو سکتا ہے—بالکل ویسے ہی جیسے سویز نہر کے بعد برطانیہ کی واپسی تیز ہو گئی تھی۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتوں کا عروج و زوال اکثر اہم اسٹریٹجک گزرگاہوں کے کنٹرول سے جڑا ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا آبنائے ہرمز امریکی طاقت کا فیصلہ کن امتحان بنے گی یا وہ مقام جہاں سے عالمی نظام میں اگلی بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

  • اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،دفاعی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    طویل جنگوں اور علاقائی محاذ آرائی کے مسلسل سلسلے نے اسرائیل کے اندر گہرے ساختی دباؤ کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو ریاست کبھی تکنیکی طور پر برتر اور عسکری لحاظ سے غالب سمجھی جاتی تھی، وہ اب بڑھتے ہوئے آبادیاتی، معاشی اور اسٹریٹجک دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جو اس کے مستقبل کے سیکیورٹی منظرنامے کو ازسرِ نو تشکیل دے سکتے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی ہجرت اور برین ڈرین
    حالیہ تعلیمی مشاہدات اور ہجرت کے اعداد و شمار اسرائیل کے لیے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 2023 میں تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جبکہ 2024 میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ ہجرت کر گئے۔

    ان مہاجرین میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقے سے تعلق رکھتی ہے—جن میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہر شامل ہیں—جو زیادہ تر United Kingdom، United States اور Europe کے دیگر ممالک میں جا کر آباد ہو رہے ہیں۔جاری جنگی ماحول نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہزاروں افراد پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ بہت سے دیگر نقل مکانی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ابھرتا ہوا برین ڈرین اسرائیل کے ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جو اس کی معیشت کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔

    اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم
    ایک اور بڑا چیلنج اسرائیلی معاشرے کے اندر سے سامنے آ رہا ہے۔ مختلف طبقات کی جانب سے جنگی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    خاص طور پر آرتھوڈوکس یہودی برادری کے کچھ حلقوں—چاہے وہ اسرائیل کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک—نے Zionism کی سیاسی سوچ کی مخالفت کی ہے۔
    آرتھوڈوکس یہودی گروہوں نے Europe اور United States کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی پالیسیاں ان کے مذہبی عقائد کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ یہ نظریاتی اختلافات اب زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور اسرائیلی قیادت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

    متعدد محاذوں پر سیکیورٹی دباؤ
    سیکیورٹی کے محاذ پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ Lebanon سے ملحقہ شمالی اسرائیل کے علاقوں میں بار بار راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث بہت سے شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
    سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث بعض شمالی بستیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ شہری محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

    اسی دوران Israel Defense Forces کئی برسوں سے مسلسل عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔
    مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ریزرو فورس کی طلبی پر ردعمل بھی کمزور بتایا جا رہا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ریزرو فوجیوں کو طلب کیا گیا مگر ان میں سے صرف چند ہزار نے جواب دیا۔ بہت سے افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ کچھ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں باقاعدہ فوجیوں کے فرار اور غیر حاضری کے واقعات پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

    جنگ کا معاشی بوجھ
    مسلسل جنگ نے اسرائیل کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاری جنگ پر اب تک تقریباً 57 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جس سے قومی بجٹ پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
    اگر یہ تنازعہ جاری رہا تو معاشی استحکام کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق کچھ بین الاقوامی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری واپس لے رہے ہیں یا نئے منصوبے روک رہے ہیں جبکہ غیر یقینی صورتحال کے باعث داخلی معاشی سرگرمیاں بھی سست پڑ گئی ہیں۔
    اس کے علاوہ مزدوروں کی کمی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ بہت سے افراد ملک چھوڑ چکے ہیں یا فوجی خدمات کے لیے طلب کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹریٹجک تنہائی
    سفارتی سطح پر بھی اسرائیل خود کو بڑھتی ہوئی تنہائی میں محسوس کر رہا ہے۔ اگرچہ United States اس کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور Narendra Modi کی قیادت میں India نے بھی حمایتی مؤقف برقرار رکھا ہے، تاہم کئی یورپی حکومتوں نے جاری جنگ کے حوالے سے زیادہ محتاط یا تنقیدی رویہ اختیار کیا ہے۔
    اسرائیل کے اندر بھی عوامی مباحثے میں جنگ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کچھ حلقے پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے مخالفین کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کے بجائے اتحادیوں پر زیادہ انحصار کیوں کر رہا ہے۔

    نتیجہ
    آج اسرائیل بیک وقت کئی غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے: آبادی کا انخلا، بڑھتا ہوا داخلی اختلاف، معاشی دباؤ اور طویل جنگی تھکن۔

    یہ تصور کہ جنگیں تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں لڑی جا سکتی ہیں، اب ایک طویل اور مہنگے تنازعے کی حقیقتوں کے سامنے چیلنج ہو رہا ہے۔
    اگر جنگ بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسرائیل کی معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عالمی حیثیت کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی قیادت کے لیے اصل سوال اب صرف جنگ جیتنے کا نہیں رہا بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک سیاسی، معاشی اور سماجی اخراجات کو مزید برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں

    کشیدگی کے دہکتے میدان میں پاکستان کی حکمت و تدبر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے بیچ امن کا ابھرتا ہوا ثالث

    تجزیہ شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے—ایک ایسا کردار جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور سنجیدہ فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ترکی، سعودیہ اورمصر جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پاکستان کی کوششوں کو ایک وسیع تر سفارتی فریم ورک فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی متوازن خارجہ پالیسی ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ گہرے علاقائی اور ثقافتی روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات اسے دونوں اطراف کے لیے قابلِ قبول رابطہ کار بناتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو اس پیچیدہ بحران میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ تاہم، سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز کم نہیں۔ فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی، متضاد اسٹریٹیجک مفادات، اور زمینی سطح پر جاری عسکری کارروائیاں کسی بھی فوری پیش رفت کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایران کی جانب سے مغربی تجاویز پر تحفظات، اسرائیل کی مسلسل فوجی حکمتِ عملی، اور امریکہ کے علاقائی مفادات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اگرچہ قلیل مدت میں مکمل اور پائیدار جنگ بندی کے امکانات محدود ہیں، تاہم پاکستان اور اس کے شراکت دار ممالک کی کوششیں ایک عارضی سیزفائر یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بالآخر، اس بحران کا حل انہی بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جو براہِ راست اس میں ملوث ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں اکثر درمیانی قوتیں ہی مکالمے کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں۔

  • خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی کردار مضبوط، مگر بیانیہ کمزور: پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟
    اشتہارات سے آگے: ریاستی ابلاغ کی اصل ذمہ داری
    جب ریاست بولتی نہیں، تو دنیا اس کے بارے میں خود بولتی ہے
    دنیا اس وقت ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف علاقائی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی حرکیات تک پھیل چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی نئی لہریں، اور معاشی غیر یقینی — یہ سب اب کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک مشترکہ عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

    ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور کثیرالجہتی نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک جانب ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع جاری ہے، تو دوسری طرف اندرونی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ خطے میں افغانستان کی صورتحال اور اس سے جڑے پیچیدہ عوامل، پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بھی ہیں اور ذمہ داری بھی۔ مزید برآں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ایک محتاط مگر فعال سفارتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔

    یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
    مگر اس کے ساتھ ایک اہم سوال جنم لیتا ہے:
    کیا یہ کردار دنیا تک صحیح انداز میں پہنچ رہا ہے؟ اور کیا خود پاکستان کے عوام اس سے پوری طرح آگاہ ہیں؟
    بدقسمتی سے، اس کا جواب حوصلہ افزا نہیں۔
    آج کے دور میں ریاستی طاقت کا ایک اہم ستون مؤثر ابلاغ بھی ہے۔ جدید دنیا میں صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ اس کی وضاحت، تشریح اور درست تناظر میں پیشکش بھی ناگزیر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو ایک واضح خلا کا سامنا ہے۔
    وزارتِ اطلاعات، جو کہ قومی بیانیے کی تشکیل اور ترسیل کا بنیادی ادارہ ہے، بظاہر اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ کا عمل محدود ہو کر رسمی بیانات اور اشتہارات تک سمٹ گیا ہے، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور دنیا دونوں کو باقاعدہ بریفنگز، مدلل مؤقف اور جامع تجزیات کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے۔

    اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر صحافیوں، دانشوروں اور پالیسی ماہرین کو منظم انداز میں آگاہ کرنا، ایک مربوط بیانیہ تشکیل دینا، اور بروقت معلومات فراہم کرنا — یہ سب وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے ابلاغی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔
    حال ہی میں وزیراعظم کے متوقع خطاب کے حوالے سے جو فضا بنی، وہ اس خلا کی ایک واضح مثال تھی۔ عوام ایک جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والے پیغام کے منتظر تھے، مگر جو سامنے آیا وہ ایک رسمی بیان سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کر سکا۔ اس موقع پر نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد سازی ممکن تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

    یہ محض ایک موقع کا ضیاع نہیں، بلکہ ایک بڑی ابلاغی کمزوری کی علامت ہے۔
    اگر ایک ریاست اپنے کردار کو خود مؤثر انداز میں بیان نہ کرے، تو یہ خلا دوسروں کے بیانیے سے پُر ہو جاتا ہے — اور اکثر یہ بیانیہ اس کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔
    پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کی پالیسیز، اس کے اقدامات، اور اس کا علاقائی کردار سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کی اصل قوت تبھی سامنے آئے گی جب انہیں واضح، مربوط اور پُراعتماد انداز میں دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
    خاموشی بعض اوقات حکمت ہوتی ہے، مگر مسلسل ابہام کمزوری بن جاتا ہے۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ابلاغی نظام کو محض معلومات کی ترسیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مؤثر سفارتی اور قومی طاقت کے طور پر استعمال کرے۔
    کیونکہ آج کی دنیا میں صرف درست ہونا کافی نہیں ،

  • جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے حس دنیا اور سسکتی انسانیت
    جنگ کے سائے میں خاموش عالمی طاقتیں
    انصاف کی تلاش میں بے بس انسان

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی، طاقت اور ٹیکنالوجی کے تمام دعوے انسانی جان کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں نہ صرف جغرافیہ کو بدل رہی ہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی شدید زخمی کر رہی ہیں۔ معصوم شہری، بچے، عورتیں اور بزرگ اس کشمکش کا ایندھن بن چکے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اب بھی تذبذب، مفادات اور خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں اخلاقیات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ وہ ممالک جو امن کے داعی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر یا تو خاموش تماشائی ہیں یا پھر اس کشمکش کو اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس رویے نے عالمی سطح پر انصاف کے تصور کو کمزور کر دیا ہے اور عام انسان کے دل میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے، جو عالمی امن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، آج اپنی افادیت پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر زمین پر حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی نظام کو ازسرِ نو دیکھنے اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    دنیا بھر کا عام آدمی اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی کا شکار ہے۔ میڈیا کے ذریعے جب وہ روزانہ تباہی کے مناظر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا؟ کس کے دروازے پر جا کر فریاد کی جائے؟ اور کون ہے جو اس آگ کو بجھانے کی حقیقی کوشش کرے گا؟

    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف نفرت کو بڑھاتی ہے، معاشروں کو تقسیم کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی انسانی بھلائی کو ترجیح دے۔

    آخرکار، جب زمینی قوتیں ناکام نظر آئیں تو انسان کی امید ایک اعلیٰ طاقت کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ یقین کہ خدا دلوں میں رحم پیدا کر سکتا ہے اور حالات کو بدل سکتا ہے، آج بھی انسان کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

    اگر دنیا نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ اسے ایک بے حس اور ناکام دور کے طور پر یاد رکھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو، نفرت کے بجائے انسانیت کو، اور طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی

    پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھنا ضروری ہے، ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی روابط موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں۔ٕ، مزید برآں، امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ایک محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔

    یہ پالیسی بظاہر سادہ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت پیچیدہ حکمتِ عملی ہے، پاکستان نے بیک وقت تین محاذوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے: ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا، خلیجی اتحادیوں کو مطمئن رکھنا، اور عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا۔ اس دوران اس نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

    تاہم، اس حکمتِ عملی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور خلیجی ممالک براہِ راست اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر فرقہ وارانہ تناؤ کی صورت میں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

    ان تمام چیلنجز کے باوجود، اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ایک حد تک کامیابی کے ساتھ اپنی پوزیشن کو سنبھالا ہوا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں احتیاط، توازن اور وقتی ضرورتوں کو مدنظر رکھنے کا عنصر نمایاں ہے، عسکری قیادت نے بھی کسی جذباتی یا جلد بازی پر مبنی فیصلے کے بجائے ایک محتاط رویہ اپنایا ہے، جو کہ موجودہ حالات میں دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے اب تک کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا کرے گا، اگر جنگ محدود دائرے میں رہتی ہے تو پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر یہ تصادم ایک بڑی عالمی صف بندی میں بدل جاتا ہے تو پھر پاکستان کو زیادہ واضح اور شاید مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس کی حکمتِ عملی بظاہر کم نمایاں ضرور ہے، مگر اس میں بقا، تواز ن اور دور اندیشی کے عناصر واضح طور پر موجود ہیں، موجودہ حالات میں شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان خود کو اس آگ سے دور رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  • سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور طاقت کے توازن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ایک ایسے نازک مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں ہر ریاست کو نہایت دانشمندی اور محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متوازن اور محتاط رہنا ایک قابلِ غور پہلو ہے۔

    وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جس انداز میں سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے بیچ پاکستان کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن پر قائم رکھنا ایک مشکل مگر اہم کامیابی ہے۔

    اسی طرح ریاستی سطح پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ یہ ہم آہنگی دراصل ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے ایسے نازک دور میں ناگزیر ہوتی ہے۔
    اسحاق ڈار کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف شعبوں میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے دور میں ان کی مصروفیات، معیشت کی بہتری کے لیے ان کی کوششیں، اور اب بطور وزیر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرمی،یہ سب ان کی کثیرالجہتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ وہ پیشہ ور قانون دان نہیں، مگر قانون سازی کے عمل میں ان کی شمولیت اور سیاسی بصیرت ایک تجربہ کار سیاستدان کی پہچان ہے۔

    مزید برآں، نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے اہم سیاسی معاہدے میں ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ ماضی کے اہم موڑ پر بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کی دانشمندانہ سمت، اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی مسلسل کاوشیں وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً آج کے یہ اقدامات مستقبل میں ایک مثبت مثال کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

  • افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    خطے میں بگڑتی صورتحال میں افغانوں کا پاکستان سے پنگا بدنیتی کی علامت
    احسان فراموش افغان اسلام آباد کی میزبانی بھول گئے،ہم ذمہ داراور زندہ قوم ہیں
    مسائل کا واحد حل ڈائیلاگ،کشیدگی امن کیلئے خطرہ،محاذ آرائی بندکی جائے
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    خطے کی بدلتی صورتحال اور افغانستان کے لئے ایک سنجیدہ پیغام،جنوبی ایشیاءاس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے تناز عات کو جنم دے سکتی ہیں،ایسے میں افغانستان کی موجودہ پالیسیوں اور علاقائی طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میںیہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر سفارتی اور انسانی امداد تک، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیا،یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں پر قائم رہے،تاہم حالیہ برسوں میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش ناک ہے،یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بعض ایسے عناصر کے لئے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں،مزید برآں بھارت کے ساتھ افغانستان کی بڑھتی قربت بھی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں،افغانستان کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی طاقت اور عسکری تیاری دنیا میں تسلیم شدہ ہے،اس تناظر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب افغانستان کو درپیش اصل چیلنج اندرونی استحکام ہے،دہائیوں پر محیط جنگ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنی توجہ اپنے عوام، خصوصاً نوجوان نسل کی تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل پر مرکوز کرے،ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے،

    آخرکار، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کریں کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگ نہیں، بلکہ تعاون ہی خطوں کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

  • مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں مبشر لقمان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنے منفرد انداز، جرات مندانہ مؤقف اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ وہ ان چند اینکرز میں شمار ہوتے ہیں جو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح رائے دے کر عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا، مگر انہوں نے ہر دور میں خود کو ایک “آواز” کے طور پر منوایا۔ چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انہوں نے ہمیشہ بروقت معلومات فراہم کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ بطور سی ای او باغی ٹی وی، انہوں نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آن لائن صحافت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تجزیے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔

    حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، مبشر لقمان نے جس طرح مسلسل اپڈیٹس اور تجزیے فراہم کیے، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی ان کی نظر گہری رہی ہے، اور انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صحافت محض خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور الفاظ کے درست استعمال کا نام ہے۔ ایسے میں جب کسی بھی شخصیت کے بارے میں غیر مناسب یا توہین آمیز زبان استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف اس فرد بلکہ مجموعی صحافتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ناصر ادیب جیسے افراد کو بھی اس حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی فضا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

    مبشر لقمان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہی جرات انہیں عام اینکرز سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، جو ان کی تجزیاتی صلاحیتوں اور بے باک انداز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو مہذب دائرے میں رکھنا ہی اصل شعور کی علامت ہے۔ مبشر لقمان جیسے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہمیں بطور معاشرہ برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ یہی ایک صحت مند میڈیا اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔