دیہاتوں کی ترقی ہی،، پاکستان کی حقیقی ترقی میں دیہاتوں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر افسوس کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں دیہی علاقے آج بھی نظر انداز ہیں۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں سے محرومی دیہاتوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ظاہر کرتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دیہی آبادی کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو شہری علاقوں کو حاصل ہے قارئین افسوس کی بات یہ کہ بیوروکریسی کی اکثریت کا تعلق دیہاتوں سے ہوتا ہے۔
آج ہم آپ کو اوکاڑہ کے ایک پسماندہ ترین گاؤں کے حوالہ سے معلومات فراہم کریں گے تو آئیں اس کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں
اوکاڑہ کا ایک ایسا گاؤں جس کی سڑکیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں وہ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 کا گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ ہے۔بھوہڑ قوم اوکاڑہ کی جانی پہچانی قوموں میں شمار ہوتی ہے
ضلع اوکاڑہ کو پنجاب کا زرعی دل کہا جاتا ہے، مگر اس زرعی ضلع کے کئی دیہات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 میں واقع گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بھی انہی دیہات میں شامل ہے۔ اوکاڑہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ گاؤں محنت کش کسانوں اور باہمت لوگوں کی بستی ہے، لیکن مسلسل حکومتی عدم توجہ اور بنیادی مسائل نے یہاں کے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔
گاؤں کی زیادہ تر آبادی کھیتی باڑی سے وابستہ ہے، مگر زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف زیر زمین پانی کڑوا ہے، جس کے باعث ٹیوب ویل کا پانی زیادہ تر فصلوں کے لیے موزوں نہیں، جبکہ دوسری جانب نہری پانی کی شدید قلت نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ راستے میں پانی کی مبینہ چوری اور نہری نظام کی ناقص نگرانی کی وجہ سے آخری ٹیل پر واقع 23 فور ایل کو اس کا جائز حصہ نہیں ملتا۔
اہلِ علاقہ کا مؤقف ہے کہ محکمہ انہار اوکاڑہ کی غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے باعث کئی دہائیوں سے کسانوں کو مسلسل مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور آخری ٹیل تک نہری پانی پہنچایا جائے تاکہ کسانوں کی معاشی مشکلات کم ہو سکیں۔
گاؤں میں سیوریج کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ بارش ہوتے ہی گلیاں، سڑکیں اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی کئی کئی دن تک کھڑا رہتا ہے، جس سے شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گاؤں کی سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے سفر کو خطرناک بنا دیتے ہیں اور کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
تعلیمی ادارے موجود ہونے کے باوجود ان کی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں۔ معیاری تعلیم اور جدید سہولیات کی کمی نوجوان نسل کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اسی طرح بنیادی مرکز صحت بھی عملے، ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث عوام کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔
بے روزگاری نے اس گاؤں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں اور کئی خاندانوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر دوسرے شہروں کا رخ کر لیا ہے، جس سے گاؤں کی معاشی اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
23 فور ایل بھوہڑانوالہ کے کسانوں کا ایک اہم مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ زیر زمین پانی کڑوا ہے اور نہری پانی کی مسلسل کمی کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت اس علاقے کے کسانوں کے لیے خصوصی سولر سسٹم پیکج متعارف کرائے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر سولر توانائی کی سہولت فراہم کی جائے تو ان کے زرعی اخراجات کم ہوں گے، وہ اپنی زمینوں کو بہتر طریقے سے آباد کر سکیں گے، اپنے بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت کا بندوبست کر سکیں گے اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔
یہ مطالبہ صرف ایک گاؤں کا نہیں بلکہ ان تمام آخری ٹیلوں پر آباد کسانوں کی آواز ہے جو برسوں سے پانی کی کمی، مہنگی بجلی، بڑھتی پیداواری لاگت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ انہار اور منتخب عوامی نمائندے اس گاؤں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم، پانی کی چوری کی روک تھام، جدید سیوریج سسٹم، نکاسی آب کا مؤثر انتظام، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر، صحت و تعلیم کی بہتری اور کسانوں کے لیے خصوصی سولر پیکج جیسے اقدامات نہ صرف 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بلکہ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
ترقی کا اصل معیار صرف شہروں کی چمکتی سڑکیں نہیں بلکہ وہ دیہات ہیں جہاں پاکستان کی معیشت کا ستون، یعنی کسان آباد ہیں۔ اگر 23 فور ایل بھوہڑانوالہ جیسے دیہات کو ان کا حق مل جائے تو یہی بستیاں پنجاب کی حقیقی ترقی کی روشن مثال بن سکتی ہیں۔
امید کا دامن تھامے رکھیں مگر پچھلے 78 سالوں سے آخر کب تک
Category: سیاست
-

23 فور ایل بھوہڑانوالہ مسلسل محرومیاں کا شکار ،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ
-

قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی
پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاک فوج، ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں کا کلیدی کردار
قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے مؤثر اشتراک میں مضمر ہے
قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کی حقیقی ضمانت ہیں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستی پالیسیوں کا امتحان لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس سفر میں پاک فوج، دیگر قومی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بارے میں دنیا کے مختلف حلقوں میں مثبت تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ریاستی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داریاں بھی کسی طور کم نہیں ہوتیں۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور حکومتیں صرف قانون سازی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی مفاہمت پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک سیاسی، سفارتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں سیاسی قیادت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں موجود احساسِ محرومی، بدامنی یا علیحدگی پسند رجحانات کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل بھی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور سنجیدہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی وحدت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور سیاسی دانش سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں اکثر سیاسی جماعتوں کی توجہ عوامی مسائل اور قومی چیلنجز کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ریاست کو درپیش خطرات، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے رہنما نظر آتے ہیں جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ سیاسی مکالمہ، برداشت اور قومی اتفاقِ رائے ان کی سیاست کا اہم حصہ تھا۔ آج بھی پاکستان کو اسی طرزِ فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جا سکے۔
پنجاب میں امن و امان، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بعض کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ منتخب قیادت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی لائے اور قومی استحکام میں اپنا حصہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی آئینی و قومی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے گا تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا سکے گا۔ -

ایران،امریکہ مفاہمت: پاکستان سفارت کاری کا سب سے بڑا فاتح؟تجزیہ:شہزاد قریشی
علاقائی امن میں کردار کے بعد کیا عالمی طاقتیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیں گی؟
پاکستان نے پل کا کردار نبھایا، اب دنیا معاشی استحکام میں ساتھ دے
تجزیہ شہزاد قریشی
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت یا ڈیل کو اگر خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا سب سے بڑا سفارتی فائدہ پاکستان کو حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی اور داخلی چیلنجز کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اس بحران کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ سفارتی پیش رفت مستقل استحکام کی طرف بڑھتی ہے تو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، یورپی ممالک اور خلیجی شراکت داروں کو پاکستان کی معیشت کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ علاقائی امن کے بغیر نہ عالمی تجارت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی توانائی کی ترسیل۔ پاکستان نے اگر سفارت کاری کے ذریعے ایک مشکل تنازع میں پل کا کردار ادا کیا ہے تو اس کے بدلے میں عالمی برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور مالی تعاون کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ ایک مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ صرف سفارتی کامیابی سے معاشی ترقی خود بخود نہیں آتی۔ پاکستان کو داخلی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ عالمی حمایت تبھی دیرپا نتائج دے سکتی ہے جب اندرونی معاشی بنیادیں بھی مضبوط ہوں۔
-

فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی
فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی
قطر کی معاونت سے پاک-امریکہ-ایران خفیہ رابطے کامیاب: پاکستان برسوں بعد عالمی تنازعے میں فریق کے بجائے ‘سفارتی پل’ بن کر ابھر آیا
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ کاری، پیغامات کی ترسیل اور بیک ڈور سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی مختلف مراحل میں متحرک رہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا، جبکہ محسن نقوی ایرانی قیادت تک خصوصی پیغامات لے کر گئے۔ اسحاق ڈار سفارتی سطح پر پاکستان کے رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کا حصہ رہے۔
پاکستان نے ثالث سے زیادہ ایک "Facilitator” کا کردار ادا کیا۔ یعنی یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ معاہدہ صرف پاکستان کی وجہ سے ہوا، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کردار معمولی تھا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے موجود تھے اور دونوں فریق اسے نسبتاً قابلِ قبول سمجھتے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار غالباً سب سے نمایاں رہا کیونکہ حساس سکیورٹی اور اسٹریٹیجک معاملات میں فوجی سطح کے رابطے بعض اوقات روایتی سفارت کاری سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ محسن نقوی نے سیاسی اور خصوصی سفارتی پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا، جبکہ اسحاق ڈار نے سفارتی اور حکومتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو آگے بڑھایا۔ البتہ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ قطر نے بھی اس عمل میں نہایت اہم اور بعض مراحل میں شاید زیادہ مؤثر کردار ادا کیا، خصوصاً آخری مرحلوں میں۔ اگر یہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوگا، کیونکہ برسوں بعد پاکستان پہلی مرتبہ کسی بڑے بین الاقوامی تنازعے میں صرف فریق نہیں بلکہ "پل” کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ معاہدہ مستقل امن کی طرف جاتا ہے یا محض ایک عارضی مفاہمت ثابت ہوتا ہے۔
-

جرائم کے خاتمے کی جنگ اور بے گناہ جانوں کا تحفظ،تجزیہ:شہزاد قریشی
ریاست کی کامیابی صرف مجرم کے خاتمے میں نہیں، بلکہ ہر بے گناہ جان کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے
اختیارات سے زیادہ اہم تربیت، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت ہے ورنہ کامیاب آپریشن بھی سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں
ایک معصوم بچی کی موت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جرائم کے خلاف جنگ میں کہیں شہریوں کی سلامتی تو قربان نہیں ہو رہی؟
تجزیہ شہزاد قریشی
پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی (Crime Control Department) کی حالیہ کارروائی میں خطرناک ملزمان کے خاتمے کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ عناصر تھے جن پر سنگین جرائم، ڈکیتیوں اور قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تاہم ریاستی طاقت کی اصل کامیابی صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ جانوں کے مکمل تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ایک آسٹریلوی خاندان کی کمسن بچی کا فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہونا اور خاندان کے دیگر افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سی سی ڈی میں کام کرنے والے اہلکار بنیادی طور پر پنجاب پولیس ہی سے لیے گئے ہیں تو پھر اس نئے ادارے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ کیا اس فورس کے قیام سے قبل اس کے اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کی خصوصی تربیت دی گئی؟ کیا شہری آبادی میں ہائی رسک آپریشنز کے لیے الگ پروٹوکول مرتب کیے گئے؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اس ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایسے بے شمار افسران گزرے ہیں جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔ کئی دہائیوں سے پنجاب پولیس نے دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر وسائل، اختیارات اور جدید سہولیات پنجاب پولیس کے موجودہ ڈھانچے کو ہی فراہم کر دی جاتیں تو کیا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے؟
حکومتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ادارہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار صرف اختیارات پر نہیں بلکہ تربیت، نگرانی، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت پر ہوتا ہے۔ماضی میں بھی بعض ادارے بڑے دعووں اور بلند مقاصد کے ساتھ وجود میں آئے مگر بعد ازاں ان کی کارکردگی اور طریقہ کار سوالات کی زد میں آ گئے۔ اسی لیے کسی بھی نئے ادارے کی تشکیل کے بعد مسلسل جائزہ لینا اور اس کی خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔یہ واقعہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص سے بھی جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ ایک غیر ملکی خاندان کے متاثر ہونے کے باعث اس سانحے کی بازگشت آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک تک پہنچی ہے۔ ایسے واقعات عالمی سطح پر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور ملک کے مجموعی تاثر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے تدبر اور سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ساتھ ہی یہ بھی جائزہ لے کہ سی سی ڈی کے قیام کے مقاصد، تربیتی معیار اور آپریشنل طریقہ کار کس حد تک مؤثر ہیں۔ ریاست کی قوت کا اصل امتحان صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کے مکمل تحفظ میں ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی معصوم جان ریاستی کارروائی کی نذر ہو جائے تو اصلاح اور احتساب کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
-

نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر ، پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہورہیں ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی مستقبل کی ہے
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی ،کپاس۔گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ناکہ اپنے مستقبل کو۔حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔
آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے ۔لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک ،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔ -

الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی
جمہوریت کی اصل روح شکست کو تسلیم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، نہ کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں
جو سیاست عوام کی خدمت کے بجائے الزام تراشی کے گرد گھومنے لگے، وہاں مسائل بڑھتے ہیں اور حل دور ہوتے چلے جاتے ہیں
قومی ترقی تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں، کارکردگی کو معیار بنائیں اور جوابدہی کو شعار بنائیں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جبکہ اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت نئی حکومت پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ایک سیاسی طرزِ عمل بن چکی ہے جس نے عوامی مسائل کے حقیقی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انتخابات کے بعد شکست تسلیم کرنے کا سیاسی ظرف بھی ہمارے ہاں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے دھاندلی، مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا بیانیہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں مداخلت کے واضح شواہد موجود نہ ہوں، تب بھی الزامات کی گرد اڑائی جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان برسوں سے بجلی کے بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی پیداوار نہیں بلکہ طویل عرصے کی پالیسی ناکامیوں اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ، ادویات میں جعل سازی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم بھی قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ان جرائم کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں ایسے عناصر کی سرپرستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ یا کسی ایک ادارے کو قرار دینا نہ تو حقیقت پسندانہ رویہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن بلا ثبوت الزامات، مسلسل کردار کشی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور عوام کے سامنے جوابدہی کا رویہ اختیار کرے۔ قومیں الزام تراشی، نفرت اور سیاسی ضد سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کا ایک حصہ اب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے سوشل میڈیا کی شوریدہ فضا اور وقتی مقبولیت کے گرد گھومنے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوالات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کریں کہ انہوں نے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو آج الزاموں کی سیاست نہیں بلکہ جوابدہی، خدمت اور قومی یکجہتی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کریں گی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈالتی رہیں گی، تب تک عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
-

غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی
مٹی کے انسان کا تکبر اور قوم کا زوال عہدے فانی ہیں، کردار امر ہے
غرور کے محل اور خدمت کے اجڑے راستے جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں
تکبر کی سیڑھی زوال کی منزل قوم کو رہنما چاہیے حاکم نہیں اقتدار امتحان ہے انعام نہیں
تجزیہ: شہزاد قریشی
یہ بات آج بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر انسان، بالخصوص سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا انسان، غرور اور تکبر کس بنیاد پر کرتا ہے؟ وہ سیاستدان جو تحصیل کی سطح سے لے کر قومی سطح تک عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بیوروکریٹ جو ریاستی امور کے نگران ہیں، اور وہ لوگ جو خود کو ممتاز رہنما یا ممتاز شخصیت کہلوانا پسند کرتے ہیں، آخر وہ کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟ اگر غرور کرنا ہی ہے تو اپنے کردار پر کریں، اپنی دیانت داری پر کریں، اپنی خدمتِ خلق پر کریں، اپنے اخلاق پر کریں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی ماحول میں کردار سازی کے بجائے کردار کشی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازنا معمول بن چکا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں، لیکن قوم کے کانوں میں یہی الزامات گونجتے رہے ہیں۔
میری عمر کا ایک بڑا حصہ ان سیاسی مناظر کو دیکھتے اور سنتے ہوئے گزرا ہے۔ چالیس برس سے زائد عرصے میں یہی سننے کو ملا کہ فلاں نے خزانہ لوٹ لیا، فلاں ملک کو نقصان پہنچا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب ہی چور ہیں تو پھر عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟ اگر تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہوں گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آج عوام بنیادی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گیس کا بحران، بجلی کی قلت، پانی کی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بے شمار مسائل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن تو جمہور کی خدمت میں ہے،لیکن افسوس کہ خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش نے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اقتدار کی کرسی کوئی دائمی شے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور امتحان بھی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، طاقت یا عہدہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، وہ تاریخ کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ لے۔ دنیا گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑے بڑے تاجداروں کو مٹی میں ملا دیا۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں لوٹ جانا ہے، پھر یہ تکبر کس بات کا؟
بدقسمتی سے اقتدار کے اردگرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم بھی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی خوشامد کرنے والے لوگ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ وہ اسے اس کی کمزوریاں نہیں بتاتے بلکہ اس کے غرور کو مزید بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ سچا خیرخواہ وہ ہے جو آئینہ دکھائے، نہ کہ وہ جو تعریفوں کے پل باندھ کر انسان کو حقیقت سے بے خبر کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹ اور تمام بااثر طبقات اپنے اندر جھانکیں۔ وہ سوچیں کہ تاریخ ان کے عہدوں کو نہیں، ان کے کردار کو یاد رکھے گی۔ لوگ ان کی گاڑیوں، لباسوں اور پروٹوکول کو نہیں، بلکہ ان کی خدمت، انصاف اور دیانت کو یاد رکھیں گے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ غرور اور تکبر سے نہیں بلکہ عاجزی، خدمت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھنا، کمزور کی آواز بننا اور ریاستی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہی اصل قیادت ہے۔ کاش ہمارے صاحبانِ اقتدار یہ حقیقت سمجھ لیں کہ عزت کرسی سے نہیں، کردار سے ملتی ہے؛ اور جو عزت کردار سے ملتی ہے، اسے نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔
-

آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے، بڑی جماعتوں میں سخت مقابلے کی توقع
معاشی فیصلے اور انتخابی نتائج آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معیشت اور سیاست ایک دوسرے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آئندہ وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا، کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں جبکہ دوسری جانب مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینا بھی ناگزیر ہے۔ بظاہر حکومت ایک ایسا بجٹ پیش کرنے کی کوشش کرے گی جو معاشی استحکام اور سیاسی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔
دوسری طرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات ملکی سیاست کا اہم رخ متعین کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی جماعتوں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کو نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل دکھائی دیتی ہے، جبکہ تحریک انصاف بھی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر مقابلے میں موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے آثار ہیں۔
مجموعی طور پر آنے والے چند ماہ پاکستان کی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت بجٹ کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہی تو اس کے سیاسی اثرات انتخابات میں بھی نظر آ سکتے ہیں، جبکہ معاشی دباؤ یا عوامی بے چینی اپوزیشن جماعتوں کے لیے سیاسی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ اور آئندہ انتخابات کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے کے دو اہم ترین امتحانات قرار دیا جا رہا ہے۔
-

دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی
دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ
امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش
بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟
تجزیہ شہزاد قریشی
دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔
حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔
دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔