Baaghi TV

Category: سیاست

  • ملکی سالمیت ،تحریر: شگفتہ خان

    ملکی سالمیت ،تحریر: شگفتہ خان

    یہ وطن ہماری شان اور پہچان ہے۔ جس کو ہمارے آباؤاجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کی رہنمائی میں حاصل کیا۔ کتنی ہی قربانیاں دیں۔ جان، مال، عزت، کاروبار کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا تاکہ وہ نہ سہی ان کی آنے والی نسلوں کو اپنے وطن میں آزادی سے جینے کا حق مل سکے۔ انھوں نے یہ ملک انگریزوں اور ہندوؤں سے آزاد کروا کر دیا۔ ملکی سالمیت کی ذمہ داری اب اگلی نسل پہ تھی۔ ملکی سالمیت کا مطلب ہے اس ملک کا آزاد، متحد اور مضبوط رہنا ہے۔ ملکی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی خودمختاری، اندرونی و بیرونی سلامتی اور سرحدوں کا تحفظ ہے۔ کسی بھی ملک کے تحفظ اور امن و امان کی ذمہ داری سرحدی علاقوں میں تعینات افواج پر تو لاگو ہے۔ اس ملک کے شہریوں کا بھی فرض ہے کہ قانون کا احترام کریں۔ کسی بھی ملک کی سالمیت کا انحصار وہاں کی عوام پر ہے۔ ملک میں امن وامان ہو۔ عدل و انصاف کا قانون رائج ہو۔ مساوات کو زندگی کے ہر شعبہ میں رائج کیا ہو۔ سیاسی استحکام ہو تو اس ملک پہ دشمن بھی ٹیڑھی نظر ڈالنے سے پہلے سوچتا ہے۔

    افسوس صد افسوس کہ ہماری ملکی سالمیت داو پہ لگی ہوئی ہے۔ آج کل کے حالات اس کے مصداق ہو رہے ہیں کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے” دشمن گھر میں گھس آیا ہے۔ انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے تباہی پھیلا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تفرقہ میں ڈال کر مذہب سے دور کر رہا ہے۔ ملکی سالمیت خطرے میں ہے لیکن عوام ہوش میں نہیں آرہی۔ اس ملک کی سلامتی کےلئے ضروری ہے کہ اب نوجوان نسل میدان میں اترے۔
    سالوں پہلے اسی قوم کے جوانوں کےلئے علامہ محمد اقبال نے کہا اور کیا خوب کہا کہ

    "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”
    اب نوجوان نسل ملک کی باگ ڈور سنبھالیں اور ملکی سالمیت کی ناؤ جو بھنور میں پھنس چکی ہے۔ اس کو نکال کر وطن کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر آئیں۔

  • نئے صوبے،محض چہرے کی تبدیلی یا انتظامی ضرورت؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    نئے صوبے،محض چہرے کی تبدیلی یا انتظامی ضرورت؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کوئی نئی بحث نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں نئے صوبوں کی آواز مختلف سیاسی، انتظامی اور عوامی حلقوں سے اٹھتی رہی ہے۔ کبھی جنوبی پنجاب کے نام پر، کبھی ہزارہ صوبے کے مطالبے کی صورت میں، کبھی سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کے حوالے سے اور کبھی دیگر پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کو بنیاد بنا کر یہ سوال سامنے آتا رہا ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ واقعی پاکستان کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع، بہتر انتظامی سہولیات اور بروقت انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

    یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے عوام کے مسائل واقعی حل ہو جائیں گے؟ کیا نئے صوبے کا مطلب عام آدمی کے لیے بہتر روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور انتظامی سہولیات ہوگا؟ یا پھر نئے صوبوں کے نام پر نئے دارالحکومت، نئی اسمبلیاں، نئے سیکرٹریٹ، نئے گورنر ہاؤسز اور نئی افسر شاہی وجود میں آئے گی، جبکہ عام شہری پہلے کی طرح اقتدار کے مراکز سے دور ہی رہے گا؟میرے نزدیک پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات کے بجائے انتظامی ضرورت، معاشی استطاعت اور عوامی اختیار کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے۔
    نئے صوبوں کے حق میں سب سے بڑی دلیل انتظامی سہولت ہے
    پاکستان کے موجودہ صوبے رقبے، آبادی اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے یکساں نہیں۔ بعض صوبوں کے اندر ایسے وسیع علاقے موجود ہیں جہاں ایک عام شہری کو صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایک سرکاری کام، ایک انتظامی مسئلے یا کسی اعلیٰ سطحی داد رسی کے لیے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو طویل سفر اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

    اگر ایک نیا صوبہ واقعی انتظامی بنیادوں پر قائم کیا جائے اور اس کا دارالحکومت متعلقہ علاقے کے عوام کے لیے جغرافیائی طور پر قابلِ رسائی ہو تو اس سے انتظامی سہولت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سرکاری محکمے قریب ہوں گے، فیصلہ سازی کا عمل نسبتاً تیز ہو سکتا ہے اور عوام کی ریاستی اداروں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ صرف سیاسی نعرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض صورتوں میں یہ ایک حقیقی انتظامی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔

    نئے صوبے کے قیام کی دوسری بڑی دلیل وسائل کی تقسیم ہے۔ پسماندہ علاقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے وسائل، ٹیکس اور قدرتی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مناسب حصہ ان کے اپنے علاقوں پر خرچ نہیں ہوتا۔ایک چھوٹے اور نسبتاً منظم صوبے کے قیام سے بجٹ سازی میں مقامی ضروریات کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی خطے کی ترجیح تعلیم ہے تو وہ اپنے بجٹ میں تعلیم کو زیادہ حصہ دے سکتا ہے، اگر کسی علاقے میں صحت کا بحران ہے تو وہاں ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔لیکن یہاں بھی ایک بنیادی شرط ہے: صوبہ نیا ہو، مگر مالیاتی نظام شفاف اور جواب دہ بھی ہو۔اگر نئے صوبے کو ملنے والے وسائل بھی چند طاقتور خاندانوں، سیاسی گروہوں اور افسر شاہی کے درمیان تقسیم ہوتے رہیں تو صوبے کا نام بدلنے سے عوام کی قسمت نہیں بدلے گی۔

    نئے صوبے کے قیام سے انتظامی اداروں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، صنعتی زونز، سرکاری محکموں اور دیگر اداروں کی توسیع کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔نئے صوبائی دارالحکومت کے قیام سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نجی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیا صوبہ صرف سرکاری دفاتر کا مجموعہ بنتا ہے یا اسے ایک مکمل اقتصادی منصوبے کے تحت ترقی دی جاتی ہے۔صرف اسمبلی، سیکرٹریٹ اور سرکاری رہائش گاہیں تعمیر کر دینا ترقی نہیں۔ اصل ترقی تب ہوگی جب نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر، صنعت، کاروبار اور روزگار کے مستقل مواقع پیدا ہوں۔نئے صوبوں کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مقامی قیادت کو فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر کردار ملے۔ بڑے صوبوں میں اکثر دور دراز علاقوں کی سیاسی آواز بڑے شہروں کی سیاست میں دب جاتی ہے۔نئے صوبے کے قیام سے مقامی مسائل کو مرکزِ توجہ حاصل ہو سکتا ہے اور ایسے سیاسی و انتظامی رہنما سامنے آ سکتے ہیں جو اپنے علاقے کی حقیقی ضروریات سے واقف ہوں۔مگر یہاں بھی خطرہ موجود ہے کہ مقامی قیادت کے نام پر صرف مقامی اشرافیہ مضبوط ہو جائے۔ اگر ایک بڑے صوبے کی اشرافیہ تقسیم ہو کر چار چھوٹی اشرافیہ بن جائے تو عام آدمی کے لیے کیا بدلے گا؟ سوال یہی ہے۔

    نئے صوبے کا قیام بلاشبہ ایک مہنگا انتظامی عمل ہے۔ نئی اسمبلی، سیکرٹریٹ، محکمے، سرکاری رہائش گاہیں، اعلیٰ انتظامی عہدے، پولیس اور دیگر اداروں کے قیام کے لیے خطیر وسائل درکار ہوں گے۔پاکستان پہلے ہی مالی مشکلات، قرضوں اور محدود وسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر نئے صوبوں کا ماڈل صرف سرکاری ڈھانچے کو پھیلانے کا ذریعہ بن گیا تو اس کا بوجھ بالآخر عوام ہی پر پڑے گا۔ہمیں یہ سوال پہلے دن پوچھنا ہوگا کہ نیا صوبہ اپنے اخراجات خود کس حد تک برداشت کر سکے گا؟ اس کی آمدنی کے ذرائع کیا ہوں گے؟ مرکز اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم کا فارمولہ کیا ہوگا؟ اور نئے صوبے کے قیام سے مجموعی قومی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
    یہ سوالات جذباتی نعروں سے زیادہ اہم ہیں۔
    کہیں نئے صوبے، نئی اشرافیہ تو نہیں؟
    پاکستان کا اصل مسئلہ صرف انتظامی نقشہ نہیں بلکہ اختیار کا ارتکاز ہے۔
    اگر آج اختیارات چند بڑے شہروں میں مرکوز ہیں اور کل نئے صوبے بننے کے بعد یہی اختیارات نئے صوبائی دارالحکومتوں میں جمع ہو گئے تو عام شہری کے لیے بنیادی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔

    اس وقت بھی ایک عام شہری کو اپنے علاقے کے چھوٹے سے مسئلے کے لیے تحصیل، ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح کے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اگر نیا صوبہ بھی اسی مرکزیت کو برقرار رکھتا ہے تو یہ محض نقشے پر ایک نئی لکیر ہوگی۔لہٰذا نئے صوبوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اختیار صوبائی دارالحکومت سے ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور محلے تک کتنا پہنچا؟اصل ضرورت مضبوط بلدیاتی نظام کی ہے،پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا سب سے مؤثر ذریعہ ایک مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام ہو سکتا ہے۔گلی کی تعمیر، سیوریج، صفائی، پانی، مقامی سڑک، پارک، بنیادی صحت، مقامی تعلیم اور دیگر روزمرہ مسائل کے فیصلے مقامی نمائندوں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ایک منتخب میئر یا چیئرمین اگر اپنے علاقے کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات پر حقیقی اختیار نہیں رکھتا تو محض انتخابی نشان تبدیل کرنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔عوام کو حکومت کے قریب لانے کا بہترین راستہ حکومت کو عوام کے قریب لے جانا ہے۔

    لسانی اور سیاسی حساسیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
    نئے صوبوں کی تشکیل میں سب سے حساس پہلو شناخت اور سیاست کا ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقائی شناختوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہ تنوع ہماری طاقت ہے، لیکن اگر انتظامی تقسیم کو سیاسی یا لسانی محاذ آرائی کا ذریعہ بنا دیا جائے تو فائدے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
    اس لیے نئے صوبوں کی تشکیل کسی ایک سیاسی جماعت، گروہ یا طبقے کی خواہش کے تحت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے لیے وسیع تر قومی اتفاقِ رائے، شفاف معیار، انتظامی مطالعات، معاشی جائزوں اور متعلقہ علاقوں کے عوام کی حقیقی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
    تو پھر پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں؟
    اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جہاں حقیقی انتظامی ضرورت موجود ہو، وہاں نئے صوبوں کے قیام کو اصولی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن نئے صوبے مقصد نہیں، ذریعہ ہونے چاہئیں۔اگر کسی علاقے کا حجم، آبادی، جغرافیہ اور انتظامی مسائل اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ اسے الگ انتظامی اکائی دی جائے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ہر نئے صوبے کے قیام سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ اس کا معاشی ماڈل کیا ہوگا، آمدنی کے ذرائع کیا ہوں گے، انتظامی اخراجات کتنے ہوں گے، عوام کو کیا سہولیات ملیں گی، اختیارات کس سطح تک منتقل ہوں گے اور احتساب کا نظام کیا ہوگا۔
    اصل سوال نقشے کا نہیں، اختیار کا ہے
    پاکستان کو شاید نئے صوبوں سے زیادہ نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
    ایسا نظام جہاں اقتدار چند خاندانوں، چند شہروں یا چند دفاتر تک محدود نہ ہو؛ جہاں عام شہری کو اپنے نمائندے تک رسائی ہو؛ جہاں سرکاری دفتر عوام کے لیے جواب دہ ہو؛ جہاں بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات پر خرچ ہو؛ جہاں بلدیاتی ادارے صرف تختیاں لگانے کے لیے نہ ہوں بلکہ حقیقی اختیارات اور وسائل کے مالک ہوں۔

    اگر نئے صوبے یہ تبدیلی لے کر آتے ہیں تو یہ پاکستان کی انتظامی ضرورت بھی ہیں اور عوامی ریلیف کا ذریعہ بھی۔ لیکن اگر ان کا مقصد صرف نئے عہدے، نئی مراعات، نئی اسمبلیاں، نئے سرکاری محلات اور نئی سیاسی اشرافیہ پیدا کرنا ہے تو پھر یہ عوام کے مسائل کا حل نہیں بلکہ قومی خزانے پر ایک اور بوجھ ہوں گے۔
    پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضرورت نئے نظامِ اختیار کی ہے۔
    نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، فیصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ اختیار آخر عوام تک کب پہنچے گا؟
    کیونکہ جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ دارالحکومت کتنے ہیں، اسمبلیاں کتنی ہیں یا نقشے پر کتنی لکیریں کھینچی گئی ہیں؛ جمہوریت کی اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک عام شہری اپنے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر اپنے مسئلے کا حل، اپنے حق کی آواز اور اپنے منتخب نمائندے تک رسائی حاصل کر سکے۔
    نقشے بدلنے سے قومیں نہیں بدلتیں، نظامِ حکمرانی بدلنے سے قوموں کی تقدیر ضرور بدلتی ہے۔

  • اقتدار تو برقرار ہے، مگر کیا مسلم لیگ (ن) اپنی جماعتی قوت کھو رہی؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار تو برقرار ہے، مگر کیا مسلم لیگ (ن) اپنی جماعتی قوت کھو رہی؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مسلم لیگ (ن) کا اصل سنہری دور: جب حکومت بھی مضبوط تھی اور جماعت بھی طاقتور تھی
    نواز شریف کے پندرہ رتن سے آج کے محدود فیصلوں تک: مسلم لیگ (ن) کا بدلتا سیاسی سفر

    تجزیہ شہزاد قریشی
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) کا نام صرف ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہیں بلکہ گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے بھی لیا جاتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے مختلف ادوار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں جماعت اور حکومت ایک دوسرے کی قوت بنتے تھے، جبکہ آج حکومت اور جماعت کے درمیان وہ ہم آہنگی کمزور دکھائی دیتی ہے۔
    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتیں اور بڑی سیاسی جماعتیں صرف ایک قائد کے بل بوتے پر نہیں چل سکتیں بلکہ ان کے گرد ایک مضبوط، باصلاحیت اور بااختیار ٹیم موجود ہوتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر کے "نو رتن” تاریخ میں مشہور ہیں جنہوں نے سلطنت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی ایسے کئی سیاسی اور انتظامی دماغ موجود تھے جن کی بات نہ صرف سنی جاتی تھی بلکہ اس پر عمل بھی ہوتا تھا۔
    وفاق میں نواز شریف کے گرد موجود وزراء، مشیر اور تجربہ کار سیاسی شخصیات حکومتی نظام کا متحرک حصہ تھیں۔ بیوروکریسی انہیں سنجیدگی سے لیتی تھی اور فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) محض اقتدار کی جماعت نہیں بلکہ عوامی سطح پر ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھری۔ اس دور میں حکومت اور جماعت کے درمیان فاصلہ نہیں تھا، بلکہ دونوں ایک دوسرے کی طاقت تھے۔
    پنجاب میں بھی یہی صورتحال نظر آتی تھی۔ انتظامی معاملات میں میرٹ، جوابدہی اور کارکردگی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ بیوروکریسی خود کو عوامی خدمت کا ذمہ دار سمجھتی تھی اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون نظام کا حصہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جسے مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور حامی آج بھی سنہری دور کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
    موجودہ دور میں، اگرچہ میاں شہباز شریف وزیراعظم پاکستان ہیں اور بطور منتظم ان کی صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ہو چکا ہے۔ بعض حکومتی شخصیات اور وزراء یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی رائے کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ماضی میں وفاقی کابینہ کے ارکان کو حاصل تھی۔ یہی احساس جماعتی سطح پر بھی بے چینی پیدا کرتا ہے۔
    پنجاب میں بھی اسی نوعیت کی گفتگو سننے کو ملتی ہے کہ چند مخصوص شخصیات کے گرد اختیارات کا ارتکاز بڑھ گیا ہے، جبکہ دیگر منتخب نمائندے خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں۔ یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن سیاسی جماعتوں کی طاقت صرف اقتدار سے نہیں بلکہ کارکنوں، مقامی قیادت اور عوامی رابطے سے قائم رہتی ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت چل رہی ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) بحیثیت جماعت آج کہاں کھڑی ہے؟ کیا گاؤں، قصبے، بازار اور گلی محلوں میں وہی جوش و خروش موجود ہے جو نواز شریف کے ادوار میں دکھائی دیتا تھا؟ کیا کارکن خود کو اسی طرح بااختیار محسوس کرتے ہیں جیسے ماضی میں کرتے تھے؟
    اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی عوامی شناخت اور سیاسی مقبولیت میں میاں محمد نواز شریف کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ادوارِ حکومت نے جماعت کو ایک سیاسی برانڈ بنایا، جس کی بنیاد ترقی، انتظامی کارکردگی اور عوامی رابطے پر رکھی گئی۔ آج اگر جماعت اپنی تاریخی طاقت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف حکومتی کارکردگی پر نہیں بلکہ جماعتی ڈھانچے، کارکنوں کے اعتماد اور اجتماعی قیادت کے فروغ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
    تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حکومتیں طاقت سے چل سکتی ہیں، لیکن جماعتیں صرف اعتماد، نظریے اور اجتماعی قیادت سے زندہ رہتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اقتدار کے ساتھ ساتھ اپنی جماعتی بنیادوں کو کس حد تک مضبوط رکھ پاتی ہے۔

  • ئنے انتظامی یونٹس: سیاسی جمود یا عوامی بقا کی راہ؟تحریر: نعیم خان

    ئنے انتظامی یونٹس: سیاسی جمود یا عوامی بقا کی راہ؟تحریر: نعیم خان

    سیاست اور ریاست کا رشتہ جسم اور روح جیسا ہوتا ہے۔ علمِ سیاست کا سائنسی اور عالمگیر اصول ہے کہ جب ریاست کا انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہونے لگے اور حکومت کی رسائی عوام کی دہلیز سے دور ہو جائے تو وہاں نظام کی ازسرِنو ترتیب وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن جاتی ہے۔ ایک حساس اور ماہر نبض شناس کی طرح اگر ہم آج اپنے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھیں تو سچائی صاف نظر آتی ہے۔ عام شہری بنیادی سہولیات ، انصاف اور اپنے حقوق کی منصفانہ فراہمی کے لیے تڑپ رہا ہے جبکہ ہمارا مروجہ حکومتی نظام معاشی اور انتظامی طور پر مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔

    گزشتہ دنوں جب حکومت کے اہم ایوانوں سے یہ آواز اٹھی کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے تو سیاسی میدان میں ایک بار پھر بحث چِھڑ گئی۔ کہیں بارہ سے پندرہ نئے صوبوں یا بااختیار اضلاع کی تجاویز سامنے آئیں کہیں اربوں روپے کی سالانہ بچت کے دعوے کیے گئے اور کہیں آئین کی شقوں کا سہارا لے کر پرانے جمود کو برقرار رکھنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی آئی ہچکچاہٹ کا شکار ہے ، پیپلز پارٹی روایتی انداز میں بات کو ٹال رہی ہے اور دیگر فریق اپنے سیاسی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئینی اور سیاسی باریکیوں کے پیچھے چھپ کر کروڑوں عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا سکتا ہے؟

    ماضی کی غلطیوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب تمام اختیارات اور وسائل صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہو جاتے ہیں تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی اور احساسِ کمتری جنم لیتا ہے۔ اس ناانصافی کا خاتمہ صرف نعروں سے نہیں بلکہ حتمی اور جرات مندانہ فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا ویژن اس معاملے پر بالکل واضح ، حتمی اور شفاف ہے۔ وہ طویل عرصے سے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت تک مستحکم نہیں کیا جا سکتا جب تک اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل نہ کیا جائے۔

    جناب عبدالعلیم خان کا فکر و عمل یہ بتاتا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام کسی علاقے یا قومیت کی تقسیم نہیں بلکہ یہ گورننس کو بہتر بنانے ، عوام کے مسائل ان کے گھر کے قریب حل کرنے اور ریاست کو مضبوط بنانے کا واحد طریقہ ہے۔ جب تک صوبائی دارالحکومتوں کی بجائے اضلاع اور مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    مستقبل کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی خوف اور تعصبات کے خول سے باہر نکلیں۔ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی نقطہ نظر سے ہٹ کر ایک بااختیار قومی کمیٹی تشکیل دیں تاکہ عوام کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ ایک مضبوط ، بااختیار اور خودمختار عوام ہی ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔

  • روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا سقراطی  ڈرامہ،تحریر: نعیم خان

    روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا سقراطی ڈرامہ،تحریر: نعیم خان

    شہر کے کسی بھی پیٹرول پمپ پر چند لمحات کے لیے ٹھہر کر دیکھ لیجیے آپ کو نہ تو کسی تجزیہ کار کی باریک بینی کی ضرورت محسوس ہوگی اور نہ ہی کسی ماہرِ معیشت کی بوجھل اور پیچیدہ تقاریر کی۔ 8 ستمبر کی صبح جب پیٹرول پمپ کی ڈیجیٹل اسکرین پر پیٹرول کی نئی قیمت 358.77 اور ڈیزل کا ہندسہ 381.77 روپے پر جگمگایا تو وہاں محض نوزل کی سرسراہٹ سنائی نہیں دی بلکہ اس خاموشی میں ٹوٹتے ہوئے ضبط ، بکھرتی ہوئی خودداری اور دلوں کی گہرائیوں سے ابھرتی ہوئی سرد آہوں کا ماتم صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔

    پمپ کے ایک کونے میں ایک باپ اپنے چھ سالہ بیٹے کو موٹر سائیکل پر اسکول چھوڑنے جا رہا تھا اس کی نظریں اسکرین کے بدلتے اعداد پر ٹھہر گئیں جیب میں ہاتھ گیا اور ایک سلوٹ زدہ سو روپے کا نوٹ باہر نکلا۔ اس نے ندامت چھپاتے ہوئے سیلز مین سے کہا "بھائی ! بس سو کا ڈال دو۔” سیلز مین نے بنا کچھ بولے نوزل کا بٹن دبایا ، ایندھن کی ایک باریک دھار بائیک کے سیاہ پیٹ میں اتری اور سیکنڈ کے دسویں حصے میں میٹر ساکت ہو گیا۔ کل تین سو ملی لیٹر ! ہاف بوتل سے بھی کم۔ باپ نے ٹینکی کے اندر جھانکا جہاں پیٹرول کی صرف ایک نمناک چمک تھی، بیٹے کے معصوم چہرے پر نظر ڈالی ، نظریں جھکائیں اور بغیر کچھ بولے ہینڈل سنبھال کر آگے بڑھ گیا۔ یہ منظر کسی پمپ کا اکیلا واقعہ نہیں یہ اس ملک کا نیا قومی المیہ ہے جہاں ہر باپ روزانہ اپنے بچے کے سامنے خاموشی سے شرمندہ ہو رہا ہے۔

    اسلام آباد کے ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھے بیوروکریٹ کے لیے یہ منظر محض ایک عددی تخمینہ ہے وہ اپنی پریس ریلیز میں نفاست سے لکھ دیتے ہیں کہ "واشنگٹن اور تہران کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے خطرات کے باعث برینٹ کروڈ 97 ڈالر تک جا پہنچا ہے لہٰذا روزانہ کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ ضروری تھی”۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب عالمی سیاست کا نزلہ گرنا ہوتا ہے تو اس کا تاوان صرف فیصل آباد کے دیہاڑی دار ، ملتان کے کسان اور لاہور کے رکشے والے کے چولہے سے ہی کیوں وصول کیا جاتا ہے؟ جولائی سے نافذ العمل اس "ڈیلی پرائسنگ میکانزم” کا سائنسی ڈرامہ دیکھیے کہ جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو چپکے سے دو تین روپے بڑھا دیے جاتے ہیں اور جب احتجاج کی آوازیں اٹھتی ہیں تو دو روپے کی مراعات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اگلے ہی ہفتے 13 روپے کا بم گرا دیا جاتا ہے۔

    الم ناک حقیقت یہ ہے کہ جب حکومتیں اپنے ہی ملک سے خام تیل کی پیداوار بڑھنے کے دعوے کرتی ہیں تو عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس مقامی وسائل کی میٹھی فصل آخر کس ایوان میں بانٹی جا رہی ہے؟ اگر اپنے ہی ملک کی زمین سے نکلنے والے ایندھن کو بھی خلیجِ فارس کے مہنگے ترین برآمدی ریٹ ان لینڈ فریٹ اور مارجنز کے حساب سے بیچا جانا ہے تو پھر ان ڈرلنگ رگز اور پیٹرولیم ڈویژن کی بھاری بھرکم پالیسیوں کا عام آدمی کو کیا فائدہ؟ سچ تو یہ ہے کہ ریاست کے لیے یہ ایندھن معیشت کی حرکت کا ذریعہ نہیں بلکہ 114 روپے پیٹرول اور 100 روپے ڈیزل پر لیوی کی مد میں وصول کیا جانے والا ایک آسان اور غیر لچکدار ٹیکس بن چکا ہے۔

    جب ڈیزل 381 روپے کو چھوتا ہے تو صرف گاڑی کا انجن نہیں جلتا ، کسان کے ٹیوب ویل کا پانی مہنگا ہوتا ہے ، منڈی سے سبزی لانے والے ٹرک کا کرایہ بڑھتا ہے اور رات کو جب ایک مزدور گھر لوٹتا ہے تو آٹے دال کی تھیلی پر وہ ڈیزل ایک تازیانہ بن کر پڑتا ہے۔

    یہ بحران محض عالمی منڈی کی مجبوری نہیں بلکہ ہماری پالیسی سازوں کی ملی بھگت اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت واقعی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی معاشی اصلاحات کو فوری اپنانا ہوگا۔ اول روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی تعین کاری (Daily Pricing) کا ظالمانہ نظام فوری ختم کر کے ‘پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ’ (Buffer Fund) قائم کیا جائے تاکہ عالمی منڈی کے وقتی جھٹکوں کا بوجھ سیدھا عوام کی جیب پر نہ پڑے۔ دوئم مقامی سطح پر پیدا ہونے والے خام تیل اور ایندھن پر پیٹرولیم لیوی کا اطلاق عالمی درآمدی نرخوں کے برابر کرنے کی بجائے ایک متوازن ‘ویٹڈ ایوریج کاسٹ’ (Weighted Average Cost) ماڈل اپنایا جائے اور سوئم غریب عوام پر غیر براہ راست (Indirect) ٹیکسوں کا کوڑا برسا کر خزانہ بھرنے کی بجائے اشرافیہ کی مراعات پر کٹائی کی جائے اور پیٹرولیم لیوی کو ایک معقول حد تک نیچے لایا جائے۔
    یہ تحریر محض اعداد و شمار کا کوئی خشک دفتر نہیں بلکہ اس عام پاکستانی کا مرثیہ ہے جو اپنے بچے کی کاپی اور پیٹرول کے چند قطرے خریدنے کی کشمکش میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اگر حکومت کے پاس معیشت چلانے کا واحد طریقہ ہر عالمی طوفان کا بوجھ غریب کے چولہے پر منتقل کر دینا ہی ہے تو پھر ان بھاری بھرکم بیوروکریٹیک سسٹم اور معاشی ارسطوؤں کا وجود کس کام کا؟ پیٹرولیم لیوی کا یہ ظالمانہ بوجھ فوری کم کیجیے ورنہ یاد رکھیے پیٹرول کی یہ آگ صرف گاڑیوں کی ٹینکیوں تک محدود نہیں رہتی جب یہ غریب کے خالی چولہے سے اٹھتی ہے تو اس کا دھواں ایوانِ اقتدار کے تاج و تخت کو بھی راکھ کر دیتا ہے

  • پٹرول کی قیمت اور عوام کی کمر،تحریر: زینب جہانزیب

    پٹرول کی قیمت اور عوام کی کمر،تحریر: زینب جہانزیب

    پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی کا پہیہ مہنگا نہیں ہوتا، زندگی کا ہر پہیہ اور بھاری ہو جاتا ہے۔ ایک عام آدمی شاید پٹرول خریدتے وقت صرف چند اضافی روپے ادا کرتا ہے، مگر وہی چند روپے راستے بدلتے ہوئے اس کی روزمرہ زندگی کے نہ جانے کتنے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ سبزی مہنگی، دودھ مہنگا، سفر مہنگا، سامان مہنگا، کرایہ مہنگا۔۔۔ اور پھر ایک دن انسان حیران ہو کر اپنے ہی بجٹ کو دیکھتا ہے کہ آخر وہ چیزیں کہاں گئیں جو کل تک اسی آمدن میں پوری ہو جاتی تھیں؟

    ہم پٹرول کی قیمت کو اکثر صرف پٹرول کی قیمت سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ دراصل پوری معیشت کی حرکت سے جڑی ہوئی ہے۔ جس ٹرک پر سبزی شہر تک آتی ہے، جس گاڑی میں دودھ پہنچتا ہے، جس بس میں مزدور کام پر جاتا ہے، جس رکشے سے طالب علم کالج پہنچتا ہے، جس گاڑی سے خام مال فیکٹری تک جاتا ہے۔۔۔ ان سب کے پہیے ایندھن سے چلتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ کسی نہ کسی شکل میں آخرکار عوام کی جیب تک پہنچتا ہے۔

    اور عوام کی جیب۔۔۔ آخر کتنی بڑی ہے؟ یہ سوال شاید ہمارے پالیسی سازوں کو سب سے زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
    حکومتیں بجٹ بناتی ہیں، اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، محصولات بڑھانے کی بات کرتی ہیں، ٹیکسوں کے ذریعے آمدن میں اضافے کے منصوبے بناتی ہیں اور پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ملکی معیشت، بجٹ کے خسارے اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ یقیناً ریاست کو چلانے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، ٹیکس کسی بھی ریاستی نظام کا بنیادی حصہ ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی مالی ضرورت پوری کرتے ہوئے عام شہری کی مالی استطاعت کا بھی حساب رکھ رہی ہے یا نہیں؟

    کیونکہ ٹیکس صرف کاغذ پر ایک عدد نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق اس مزدور سے بھی ہوتا ہے جو روزانہ اپنی اجرت میں سے سفر کا کرایہ نکالتا ہے، اس دکاندار سے بھی ہوتا ہے جس کی اشیائے ضروریہ پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، اس ملازم سے بھی ہوتا ہے جس کی تنخواہ بڑھنے سے پہلے اس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، اور اس ماں سے بھی ہوتا ہے جو مہینے کے آخر میں اپنے گھر کے راشن کا حساب بیٹھ کر دوبارہ بناتی ہے۔
    ایک طرف پٹرول کی قیمت میں اضافہ، دوسری طرف بجلی کے بل، تیسری طرف اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اس کے ساتھ مختلف ٹیکس۔۔۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی اپنی آمدن میں سے آخر کیا بچائے؟

    کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ جس شخص کی آمدن محدود ہے، اس پر ہر نئی قیمت کا اثر نسبتاً زیادہ کیوں پڑتا ہے؟ ایک صاحبِ حیثیت شخص پٹرول مہنگا ہونے پر اپنی گاڑی کم چلا سکتا ہے، مگر ایک مزدور جس کا روزگار ہی سفر سے وابستہ ہے، وہ کیا کرے؟ ایک کاروباری شخص اضافی لاگت کسی حد تک اپنی قیمت میں شامل کر سکتا ہے، مگر ایک تنخواہ دار شخص اپنی آمدن میں اضافے کا فیصلہ خود تو نہیں کر سکتا۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو صرف آمدن بڑھانے کے بجائے عوام کی برداشت کی حد پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بجٹ کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست کے خزانے میں کتنا پیسہ آیا؛ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس پیسے کے حصول میں عوام کی زندگی کتنی مشکل ہوئی۔ اگر ہر سال بجٹ کے نام پر نئے بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالے جائیں اور ان کی بنیادی ضروریات اسی رفتار سے مہنگی ہوتی جائیں تو ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ آخر معاشی منصوبہ بندی کا مرکز کون ہے؟ صرف اعداد و شمار یا وہ انسان جس کے لیے یہ پوری معیشت بنائی جاتی ہے؟

    حکومت سے سوال کرنا مخالفت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی سوال کرنا دراصل ریاست کو اس کی اصل ذمہ داری یاد دلانا ہوتا ہے۔ عوام ٹیکس دینے سے بھاگنا نہیں چاہتے؛ عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا بوجھ ان کی زندگی کو ناقابلِ برداشت نہ بنا دے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی قربانی کے بدلے انہیں بہتر سہولیات، بہتر نظام، بہتر ٹرانسپورٹ، بہتر صحت، بہتر تعلیم اور ایک نسبتاً محفوظ مستقبل بھی مل رہا ہے۔ اگر عوام سے ہر طرف سے وصولی بڑھتی جائے، مگر بنیادی سہولیات ان کی پہنچ سے دور ہوتی جائیں تو پھر اعتماد کا بحران پیدا ہونا فطری ہے۔
    ایک حکومت کے لیے شاید پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ ایک معاشی فیصلہ ہو، مگر ایک عام گھر کے لیے یہی اضافہ پورے مہینے کے حساب کو بگاڑ سکتا ہے۔ اور جب ایسے فیصلے بار بار ہوں تو مسئلہ ایک اضافے کا نہیں رہتا، مسئلہ مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ کا بن جاتا ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی صرف بازار میں نہیں بڑھتی، اس کے اثرات انسان کے رویوں میں بھی اترتے ہیں۔ جب ایک باپ اپنے بچے کی خواہش پوری نہ کر سکے، جب ایک طالب علم سفر کے اخراجات کی وجہ سے تعلیم کے مواقع محدود کرے، جب ایک مریض دوا خریدنے سے پہلے قیمت پوچھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک خاندان ہر مہینے اپنی ضروریات میں سے کچھ نہ کچھ کم کرنے پر مجبور ہو۔۔۔ تو یہ صرف معاشی اعداد نہیں رہتے، یہ انسانی زندگی کے کم ہوتے ہوئے امکانات ہوتے ہیں۔
    اور شاید حکومت کو اسی مقام پر کچھ دیر ٹھہر کر غور کرنا چاہیے۔ آخر بجٹ کس کے لیے ہے؟ ریاست کی مالی ضروریات اپنی جگہ اہم ہیں، ملکی معیشت کے مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن اس سب کے درمیان ایک عام شہری بھی تو ہے جس سے ہر طرف سے کہا جاتا ہے کہ ملک کے لیے قربانی دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ اسی سے کیوں مانگی جائے جس کے پاس پہلے ہی دینے کو بہت کم ہے؟
    اگر ٹیکس بڑھانا ضروری ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو۔ اگر پٹرول مہنگا کرنا ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کا بوجھ کم آمدن والے طبقے تک کس حد تک پہنچ رہا ہے۔ اگر بجٹ میں خسارہ ہے تو صرف عوام سے مزید وصولی کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے اخراجات، حکومتی کارکردگی، غیر ضروری مراعات اور وسائل کے استعمال پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
    کیونکہ ایک ریاست کی طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنے شہریوں سے کتنا وصول کر سکتی ہے۔۔۔ اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کتنا سنبھال سکتی ہے۔

    عوام ہر بار خاموش رہ کر قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ کبھی پٹرول کی، کبھی بجلی کی، کبھی راشن کی، کبھی ٹیکس کی، کبھی کرائے کی۔ مگر خاموشی کو ہمیشہ رضامندی سمجھ لینا شاید درست نہیں۔ کچھ خاموشیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان کے پاس احتجاج سے پہلے اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کی فکر ہوتی ہے۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کو صرف ایک معاشی خبر سمجھ کر آگے نہ بڑھا دیا جائے۔ حکومت کو اس کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ بجٹ بناتے وقت یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ریاست اپنے اخراجات پورے کرتے ہوئے عوام کی کمر پر کتنا بوجھ ڈال رہی ہے اور وہ بوجھ آخر کہاں جا کر ٹوٹتا ہے۔
    کیونکہ معیشت کا سب سے اہم عدد شاید وہ نہیں جو بجٹ کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ وہ عدد تو شاید یہ ہے کہ مہینے کے آخر میں ایک عام گھر کے پاس کتنی امید باقی رہ گئی ہے۔
    اور اگر اس امید کی قیمت بھی ہر روز بڑھ رہی ہے، تو پھر ہمیں صرف مہنگائی کے اعداد نہیں گننے چاہئیں۔۔۔ ہمیں اس انسان کو بھی دیکھنا چاہیے جو ان اعداد کے نیچے دب رہا ہے۔

  • نئے صوبوں کا سوال، پاکستان ایک بار پھر اپنے نقشے کے سامنے کھڑا ہے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    نئے صوبوں کا سوال، پاکستان ایک بار پھر اپنے نقشے کے سامنے کھڑا ہے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    پاکستان کی سیاست میں کچھ سوال ایسے ہیں جو کبھی مرتے نہیں، صرف وقت کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے۔ کبھی یہ جنوبی پنجاب کے نام سے سامنے آتا ہے، کبھی ہزارہ کی آواز بن جاتا ہے، کبھی کراچی اور سندھ کی بحث کو جنم دیتا ہے اور اب ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات نے اس بحث کو قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں نہ صرف نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ عہدہ رہے یا نہ رہے وہ اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔

    یہاں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان واقعی نئے صوبوں کے لیے تیار ہے یا ہم ایک مرتبہ پھر سیاسی، لسانی اور انتظامی تنازعات کے ایسے دروازے کھولنے جارہے ہیں جنہیں بند کرنا آسان نہیں ہوگا؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جغرافیہ صرف زمین کا معاملہ نہیں ہوتا، اس کے ساتھ شناخت، وسائل، زبان، نمائندگی اور اقتدار جڑے ہوتے ہیں۔ 1971 کا سانحہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب سیاسی اور انتظامی محرومی طویل ہوجائے تو نقشے کی لکیریں صرف نقشے پر نہیں رہتیں، وہ قوموں کے احساسات کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    محسن نقوی کی موجودہ دلیل کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ نئے صوبوں کو لسانی یا نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، ایک شہر میں بیٹھ کر اتنی بڑی آبادی کا مکمل انتظام ممکن نہیں اور نئے انتظامی یونٹس بہتر حکمرانی کے لیے ضروری ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کی حمایت کی اور سوال اٹھایا کہ اگر نئے اضلاع اور ڈویژن بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟

    یہ دلیل بظاہر مضبوط ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا نیا صوبہ واقعی گورننس بہتر کرے گا؟ اگر آج لاہور سے فیصلے ہوتے ہیں اور کل نئے صوبے کا دارالحکومت بننے والے شہر سے وہی فیصلے ہوں گے، اگر بیوروکریسی کا اختیار وہی رہے گا، اگر بلدیاتی ادارے کمزور رہیں گے اور اگر وسائل کی تقسیم کا نظام تبدیل نہیں ہوگا تو صرف صوبے کا نام بدلنے سے عام آدمی کی زندگی کیسے بدلے گی؟ پاکستان کو شاید نئے صوبوں سے پہلے نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔

    اسی لیے محسن نقوی کی گفتگو میں میئر کا ذکر بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح کی قیادت عام آدمی کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہے اور وہ بہت سے صادق خان، ممدانی اور اردوان جیسے مقامی رہنماؤں کو سامنے آتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات دراصل نئے صوبوں کی بحث کو ایک دوسرے سوال سے جوڑ دیتی ہے: اگر ایک شہر کا میئر بااختیار ہو، اسے وسائل حاصل ہوں اور وہ اپنے شہریوں کے سامنے جواب دہ ہو تو کیا ہر مسئلے کا حل نیا صوبہ بنانا ہی رہ جاتا ہے؟

    سندھ میں اس بحث کی حساسیت سب سے زیادہ ہے۔ کراچی کو بااختیار کرنے کی بات ہوتی ہے تو اسے صرف انتظامی معاملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ صوبائی شناخت اور سیاسی طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ پنجاب میں جنوبی پنجاب کا سوال اپنی سیاسی تاریخ رکھتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مسئلہ صرف انتظامی فاصلے کا نہیں بلکہ امن، دہشت گردی، ترقی اور ریاستی رٹ کا بھی ہے۔ ایسے میں نئے صوبوں کی بحث اگر قومی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے بڑھی تو یہ گورننس کا حل بننے کے بجائے ایک نئی سیاسی کشمکش پیدا کرسکتی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ محسن نقوی خود بھی کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے کو جذباتی نہیں بنانا چاہیے اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریفرنڈم یا براہِ راست عوامی رائے کی بحث اہم ہوجاتی ہے۔ اگر واقعی عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو ان کی رائے معلوم کرنے میں خوف کیوں ہو؟ اور اگر عوام نہیں چاہتے تو کسی حکومت، جماعت یا شخصیت کو یہ حق کیوں حاصل ہو کہ وہ ان پر اپنی مرضی مسلط کرے؟ تاہم ایسی کسی مشق کے لیے سوال کی ساخت، آئینی طریقہ کار، ووٹرز کی حدود اور قومی اتفاقِ رائے پہلے واضح کرنا ہوگا۔

    پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنے صوبے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کتنے بااختیار مقامی ادارے ہیں۔ اگر ایک شہری کو اپنے پانی، صفائی، سڑک، ٹریفک، پارک، اسپتال اور مقامی منصوبہ بندی کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑے تو یہ گورننس کا بنیادی مسئلہ ہے۔ نئے صوبے اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں، مگر مضبوط میئر اور بااختیار بلدیاتی نظام اس فاصلے کو شاید اس سے بھی زیادہ تیزی سے کم کرسکتا ہے۔

    محسن نقوی نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جسے محض سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں نعرے لگانے کے بجائے ایک میز پر بیٹھیں اور طے کریں کہ پاکستان کو کتنے صوبے چاہییں، کتنے انتظامی یونٹس درکار ہیں، میئر کے پاس کتنے اختیارات ہونے چاہییں اور وسائل کی تقسیم کس بنیاد پر ہونی چاہیے۔ نئے صوبے اگر عوام کے قریب حکومت لاتے ہیں تو یہ پاکستان کی ضرورت ہیں، لیکن اگر وہ صرف نئے اقتدار کے مراکز بن جاتے ہیں تو یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی نئی شکل ہوں گے۔

    پاکستان کو نقشے پر نئی لکیروں سے زیادہ اختیار کی نئی تقسیم کی ضرورت ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں اصل بحث یہ نہیں ہوگی کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں، بلکہ یہ ہوگی کہ پاکستان میں اقتدار آخر عوام کے کتنے قریب ہے۔

  • فضاؤں کے پاسبان، تاریخ کے درخشندہ صفحے اور 7 ستمبر کا غرور،تحریر: نعیم خان

    فضاؤں کے پاسبان، تاریخ کے درخشندہ صفحے اور 7 ستمبر کا غرور،تحریر: نعیم خان

    آج 7 ستمبر کی روشن صبح جب طلوع ہوئی تو فضاؤں میں صرف ہوا کا دوش نہیں تھا بلکہ اس میں ہمارے شہداء کی سانسوں کی مہک ، غازیوں کی للکار اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بے مثال شجاعت کی گونج بھی شامل تھی۔ پاکستان کا افق آج ایک بار پھر اس تاریخی داستان کی یاد دلا رہا ہے جو 1965 کے معرکے میں سرگودھا اور پٹھان کوٹ کی فضاؤں میں لکھی گئی تھی۔ 7 ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ عقیدت جرات اور اس اٹل عزم کا نام ہے جس نے ثابت کیا کہ فضائی حدود کی حفاظت صرف بارود اور ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ سینوں میں دھڑکتے ہوئے جذبۂ ایمانی سے ہوتی ہے۔

    1965 کی جنگ کا وہ تاریخی لمحہ قوم کے حافظے میں آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنی تازہ صبح کی پہلی کرن ہوتی ہے۔ کون بھول سکتا ہے اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم) کا وہ ناقابلِ یقین کارنامہ جس دشمن کو اپنی عددی برتری پر زعم تھا اس کے پانچ غرور آمیز چیل کوؤں کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فضا سے زمین بوس کر کے انہوں نے دنیا کے جنگی ہوابازی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ وہ لمحہ صرف ایک ریکارڈ نہیں تھا وہ دنیا پر یہ ثابت کرنے کا وقت تھا کہ جب بات مادرِ وطن کے مقدس وجود کی آئے تو پاک فضائیہ کا ایک ایک شاہین ابابیل بن کر لشکرِ جرار کو تار تار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    تاریخ کی یہ چمک صرف 1965 تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ برس ‘معرکۂ حق’ (مئی 2025) میں شاہینوں نے ثابت کیا کہ وقت بدلا ہے ٹیکنالوجی بدلی ہے مگر 1965 کا وہی خون اور وہی جذبہ آج بھی پاک فضائیہ کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ جدید ترین حکمتِ عملی مقامی دفاعی صلاحیتوں اور جراتمندانہ قیادت کے ذریعے پاک فضائیہ نے ثابت کیا کہ چیلنج کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو دفاعِ وطن کا عزم ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہتا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے پیغامات دراصل اسی قومی جذبے کے ترجمان ہیں کہ شاہینوں کا یہ اتحاد اور پیشہ ورانہ برتری ہی ہماری سرحدوں کی حقیقی ضامن ہے۔

    آج جب پورے ملک میں پرچم لہرائے جا رہے ہیں اور راشد منہاس (نشانِ حیدر) جیسے عظیم سپوتوں کی مزارات پر پھول نچھاور کیے جا رہے ہیں تو پاک فضائیہ کا نیا ریلیز کردہ نغمہ "فضاؤں کے پاسبان” ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکتا ہوا نغمہ بن چکا ہے۔ یہ نغمہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر اس نوجوان کے دل کی آواز ہے جو اس پاک سرزمین کی فضاؤں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کا غرور خاک میں ملانے کا عزم رکھتا ہے۔
    ہماری فضاؤں کے پاسبانو! تمہاری بیدار مغزی اور شجاعت پر اس قوم کو کل بھی ناز تھا آج بھی فخر ہے اور ان شاء اللہ تا ابد رہے گا۔ جب تک اس نیلی چھت تلے پرچمِ ستارہ و ہلال لہراتا رہے گا پاک فضائیہ کا ہر شاہین اس پاک دھرتی کی حرمت کا محافظ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد – پاک فضائیہ پائندہ باد

  • جب سیاست سے اخلاق نکل جائے تو …تحریر: زینب جہانزیب

    جب سیاست سے اخلاق نکل جائے تو …تحریر: زینب جہانزیب

    ہم اکثر سیاست کو اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں۔ کون جیتا، کون ہارا، کس کی حکومت بنی، کس کی کرسی گئی، کس کے پاس اختیار ہے اور کس کے پاس نہیں۔ مگر شاید ہم سیاست کا سب سے اہم سوال کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں؛ اس سارے اقتدار کے درمیان انسان کہاں ہے؟ ریاستیں صرف آئین، اسمبلیوں، اداروں اور سرحدوں سے نہیں بنتیں، ریاستیں اس اعتماد سے بنتی ہیں جو ایک عام آدمی اپنے نظام پر کرتا ہے۔ وہ مزدور جو صبح اپنے بچوں کے لیے روٹی کمانے نکلتا ہے، وہ ماں جو مہینے کے آخر میں اخراجات جوڑتے ہوئے اپنی ضرورتیں کم کر دیتی ہے، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا ہے، وہ دکاندار جو مہنگائی کے باوجود اپنی چھوٹی سی دکان چلا کر گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کرتا ہے، یہی لوگ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ مگر افسوس، سیاست کی بڑی بحثوں میں اکثر یہی لوگ سب سے کم نظر آتے ہیں۔

    ہم نے سیاست میں اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے۔ ایک شخص اگر ہماری جماعت کے ساتھ ہے تو اس کی ہر بات ہمیں درست لگتی ہے، اور اگر وہ دوسری طرف کھڑا ہے تو ہمیں اس کی سچائی بھی سازش محسوس ہونے لگتی ہے۔ اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر اختلاف کرنے والے کو انسان سمجھنا جمہوریت کی اخلاقی ضرورت ہے۔ ہم کسی کے سیاسی نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کی پالیسی کو غلط کہہ سکتے ہیں، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھا سکتے ہیں، مگر کیا ضروری ہے کہ اس اختلاف کے ساتھ ہماری انسانیت بھی ختم ہو جائے؟

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاست میں مفاد کیوں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ مفاد نے اصولوں کو کیوں نگل لیا ہے۔ اقتدار عارضی چیز ہے۔ آج جو شخص کرسی پر بیٹھا ہے، کل کوئی دوسرا بیٹھے گا۔ آج جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کل وہی شخص اختیار کے دروازے کے باہر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جو عہدے کے ختم ہونے کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے، اس کا کردار۔
    ہماری سیاست کو شاید نئے نعروں سے زیادہ نئے اخلاق کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایسے شہری بھی چاہیے جو اپنے مخالف کے حق کو بھی اتنا ہی اہم سمجھیں جتنا اپنے حق کو۔ کیونکہ اخلاق صرف اس وقت اخلاق نہیں رہتا جب وہ ہمارے مفاد میں ہو؛ اصل اخلاق تو تب سامنے آتا ہے جب سچ ہمارے خلاف کھڑا ہو۔ اگر ہمارا پسندیدہ رہنما غلط کرے اور ہم پھر بھی اسے غلط کہنے کی ہمت رکھیں، تو شاید ہم واقعی سیاسی شعور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ملک بدلنا چاہیے، نظام بدلنا چاہیے، سیاست بدلنی چاہیے۔ مگر تبدیلی ہمیشہ ایوانِ اقتدار سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی تبدیلی ایک عام انسان کے اس فیصلے سے شروع ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ کو صرف اس لیے قبول نہیں کرے گا کہ جھوٹ اس کے مفاد میں ہے۔ وہ ناانصافی پر اس لیے خاموش نہیں رہے گا کہ مظلوم اس کا اپنا نہیں۔ وہ غلط بات کو صرف اس لیے درست نہیں کہے گا کہ اسے کہنے والا اس کا پسندیدہ رہنما ہے۔
    کیونکہ قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں، اچھے اجتماعی کردار سے بنتی ہیں۔ اور شاید ہماری سب سے بڑی سیاسی شکست یہ نہیں کہ ہم نے غلط لوگوں کو منتخب کیا؛ ہماری بڑی شکست یہ ہے کہ ہم نے اپنے پسندیدہ لوگوں کی غلطیوں کو بھی سچ کا نام دینا شروع کر دیا۔ ہم نے شخصیات کو اصولوں سے بڑا بنا دیا، جماعتوں کو ضمیر سے بڑا بنا دیا، اور جھنڈوں کو انسانوں سے بڑا بنا دیا۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں برداشت کیوں نہیں رہی۔

    جس دن ہم اپنے سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنا چھوڑ دیں گے، شاید اسی دن ہماری سیاست میں انسان دوبارہ زندہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ جس دن ہم یہ مان لیں گے کہ میرے مخالف کو بھی وہی عزت، انصاف اور بنیادی حقوق حاصل ہیں جو میں اپنے لیے چاہتا ہوں، اسی دن سیاست محض اقتدار کا کھیل نہیں رہے گی بلکہ اجتماعی ذمہ داری بن جائے گی۔
    ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے طاقتور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ ریاست کا اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب ایک کمزور آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو اور اس کے پاس سفارش، دولت یا طاقت کچھ بھی نہ ہو۔ اگر اسے پھر بھی انصاف مل جائے، اگر اسے اپنی آواز سنانے کے لیے کسی بااثر شخص کی ضرورت نہ پڑے، اگر قانون اس کے لیے بھی اتنا ہی ہو جتنا طاقتور کے لیے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست ابھی زندہ ہے۔

    ہمیں شاید سیاست میں سب سے پہلے یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار انسان کو بڑا نہیں بناتا، اقتدار انسان کے اندر موجود کردار کو بےنقاب کرتا ہے۔ عہدہ ملنے سے کوئی عظیم نہیں ہو جاتا، بلکہ عہدہ ملنے کے بعد وہ کمزور انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، یہی اس کی اصل عظمت کا پیمانہ ہے۔
    اور آخر میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کس کے ہاتھ میں حکومت تھی، کس کے پاس اختیار تھا اور کس نے کتنے سال اقتدار کیا۔ سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ جب اختیار ہمارے ہاتھ میں تھا، تب ہم نے انسان کے ساتھ کیا کیا؟
    کیونکہ کرسی ایک دن خالی ہو جاتی ہے، عہدہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے، نام کتابوں میں چند سطروں تک رہ جاتا ہے۔ مگر کسی مظلوم کی آہ، کسی غریب کی بھوک، کسی بےآواز انسان کی محرومی اور کسی کمزور کے ساتھ کیا گیا انصاف یا ناانصافی، یہ سب کہیں نہ کہیں محفوظ رہتا ہے۔
    اور شاید تاریخ سے زیادہ خوف ہمیں اپنے ضمیر سے ہونا چاہیے۔
    کیونکہ تاریخ شاید ہمیں بھول جائے، لوگ شاید ہمیں معاف کر دیں، وقت شاید ہمارے کیے ہوئے فیصلوں کو مٹا دے، مگر ضمیر وہ عدالت ہے جہاں اقتدار ختم ہونے کے بعد بھی مقدمہ چلتا رہتا ہے۔

  • سابقہ ایم پی اے حافظ عمار  یاسر کا سیاسی مستقبل خطرے میں،تحریر:عرفان اعوان

    سابقہ ایم پی اے حافظ عمار یاسر کا سیاسی مستقبل خطرے میں،تحریر:عرفان اعوان

    گزشتہ دنوں انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ کی تقریب کے سلسلہ میں مجھے تلہ گنگ جانا ہوا،یہ تقریب معصوم بچوں کے بارے آگاہی تحفظ کے سلسلہ میں سیمینار تھا ،اس تقریب کی صدارت بھی بندہ ناچیز نے کی اس تقریب کا مقصد والدین کو بچوں کے تحفظ ، تربیت ، تعلیم ، اور انسانی حقوق کی آگاہی تھا ،اس تقریب میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے سر براہان کے علاؤہ تلہ گنگ سے کثیر تعداد میں والدین نے شرکت کی،

    در اصل ضلع تلہ گنگ میں اس وقت معصوم بچوں کے اغوا اور جنسی ہرا سگی کے حادثات آئے روز ہو رہے تھے جس کے لئے ایسی تقریب کا انعقاد انتہائی اہم حیثیت کا حامل تھا اس تقریب میں اسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ ، ڈی ایس پی تلہ گنگ نے بھی شرکت کرنی تھی لیکن کسی سرکاری اہم میٹنگ کی وجہ سے دونوں افسران اس تقریب میں شرکت نہ کر پائے، ضلع تلہ گنگ کی انتظامیہ انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ نے انتہائی اہم سیمینار منعقد کروا کر انسانی حقوق کی پاسداری کا حق ادا کر دیا۔

    تلہ گنگ کی بات ہو تو عمار یاسر کا نام نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ سابقہ ایم پی اے حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کا ہیرو سیاست دان ہے جس نے تلہ گنگ کو ضلع بنانے میں اہم کردار ادا کیا، سیاست کا شملہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف سر بدلتا ہے اس کے بدلنے کی وجہ کچھ یوں ہے کہ بڑے شہروں میں سیاست دان کا چناؤ۔ برادری ازم نہیں کرتا بلکہ کسی وزیر ایم پی اے کی کار گردگی پر ہوتا ہے یا پھر دوستی یاری یا بڑی سرکار سے خاص تعلق سے ہوتا ہے .مضافات میں اصل مزہ سیاست کا پایا جاتا ہے جہاں کار گردگی نہیں بلکہ چناؤ برادری کے فیصلے پر ہوتا ہے دیہاتوں میں برادری ازم انتہائی اہم اور سیاست کا ستون ہوتا ہے برادری جب چاہے جس کو چاہے ہرا دے جتوادے، کچھ ایسی ہی ہوٹل سیاست اور تھڑا سیاست کی خبریں چلتی رہتی ہیں جن میں کبھی کبھی تو پورا سچ ہوتا ہے اور کبھی کبھی پورا جھوٹ اور پراپیگنڈا ہوتا ہے،

    ایسی ہی خبر گزشتہ دنوں ہونے والی تقریب کے بعد علاقائی لوگوں میں تھوڑی تھوڑی سیاسی ہلچل سے ملی جس کا لب لباب مجھے جو حاصل ہوا وہ یو نین کونسل ٹہی تلہ گنگ کی برادری ننھیال خاندان کے متعلق آواز تھی کہ حافظ عمار یاسر کا خاندان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے خاندان کے اپنے سیاسی اختلافات ہیں جس کی وجہ حافظ عمار یاسر کو شاید خاندان کی جانب وہ سیاسی طاقت نہ مل سکے جو اسے پہلے ملی تھی شاید اس کی وجہ حافظ حافظ عمار یاسر کی وطن سے دوری ہو ۔

    یونین کونسل ٹہی کی سیاست میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ مقامی سیاسی حلقوں میں ننھیال خاندان کے اندر اس خاندان کے حوالے سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال اب محض گھریلو معاملہ نہیں رہی بلکہ سیاسی بیٹھکوں، محفلوں اور انتخابی صف بندیوں میں بھی موضوعِ بحث بن چکی ہے۔تاہم حلقے اس تاثر سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاملہ صرف سیاسی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی خاندانی، تنظیمی اور مقامی سیاسی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔یعنی سوال اب صرف یہ نہیں کہ اختلاف ہے یا نہیں؟
    بلکہ سوال یہ ہے کہ اختلاف کی اصل وجہ کیا ہے، حاجی عمر حبیب اور حاجی طلحہ زبیر بھی سوالات کی زد میں ہیں دوسری جانب ان کے حامی اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض قیاس آرائی قرار دے سکتے ہیں۔

    ووٹرز ٹہی میں نئی سیاسی صف بندی کی سرگوشیاں کرتے ملتے ہیں اور یہی وجہ ہے ایم پی اے حافظ عمار یاسر کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے ،اگر ننھیال خاندان کی مبینہ تقسیم مستقل دھڑے بندی میں تبدیل ہوگئی تو اس کا سب سے بڑا سیاسی امتحان حافظ عمار یاسر کی قیادت کا ہوگا۔ٹہی کی سیاسی نظریں اب حافظ عمار یاسر کی طرف ہیں۔کیا وہ خاندان کے دونوں حصوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مبینہ خلیج ختم کر سکیں گے یا نہیں۔ یہ تو مجھے معلوم نہیں مگر انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ کی تقریب برائے تحفظ اطفال کے اختتام پر نئے عہدہ دران کو انکے تقرر نامے تقسیم کئے گئے ، بے لوث انسانی خدمات پر عرفان اعوان کو ،،محسن انسانیت ،، ایوارڈ سر ٹیفکیٹ ، اور سینئیر وائس چیئرمین پنجاب ظفر گوندل کو ،،اپریسیشن ،، سر ٹیفکیٹ ، سے نوازا۔گیا ایس ایچ او تلہ گنگ امان اللہ کو انکی اعلی کار گر دگی پر اپریسیشن سر ٹیفکیٹ سے نوازا گیا اس طرح مختلف تنظیم کے عہدہ دران کو بھی انکی انسانی خدمات پر سراہا گیا ۔