Baaghi TV

Category: سیاست

  • امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والی چنگاریاں کسی بھی وقت پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے کر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ایسے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے ایک بار پھر "امن کے پیامبر” کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا۔

    حالیہ امریکہ و ایران مذاکرات کا اسلام آباد میں کامیاب انعقاد اور ان کا حل ہونا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کی بہت بڑی جیت ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے تو شاید آج دنیا ایک ایسی تباہی کا منظر دیکھ رہی ہوتی جس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ ٹکراؤ کا مطلب نسلِ انسانی کا خاتمہ تھا۔

    پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست ہے جو جنگوں میں فریق بننے کے بجائے امن کے پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد کی پرسکون فضاؤں میں ہونے والے ان فیصلوں نے ثابت کیا کہ بڑی سے بڑی غلط فہمی اور دیرینہ دشمنی کا حل بھی بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ میز پر موجود مکالمے میں ہے۔اس کامیابی نے جہاں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکالا ہے، وہاں پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ آج پوری دنیا سکھ کا سانس لے رہی ہے، اور اس امن کا سہرا ان تمام قوتوں کے سر ہے جنہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے تباہی کے دہانے سے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔بلا شبہ، اسلام آباد نے آج تاریخ کا رخ موڑ کر دنیا کو ایک نئی زندگی کی امید دی ہے۔

  • تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی پلٹے جائیں گے، اکیسویں صدی کے اس عشرے کو انسانیت کے لیے انتہائی نازک دور قرار دیا جائے گا۔ ایک ایسا وقت جب جدید ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں نے انسان کو طاقت کے نشے میں چور کر دیا تھا، عین اسی وقت مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والی امریکہ اور ایران کی کشیدگی نے دنیا کو ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ عالمی مبصرین پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے بعد شاید زمین پر زندگی کے آثار باقی نہ رہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور امن کی اس تلاش کا مرکز بنا پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد۔

    حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے کامیاب مذاکرات محض دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی بقا کا پروانہ ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے، وہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمی آتش فشاں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ بحیرہ عرب سے لے کر خلیجِ فارس تک پھیلے ہوئے تنازعات نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کر دیا تھا۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آ رہی تھیں۔
    ایسے میں اسلام آباد کا بطورِ میزبان سامنے آنا اور دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر جرات مندانہ فیصلے کروانا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے اس کا کردار ناگزیر ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی نے ان تمام سازشی نظریات کو دفن کر دیا جو پاکستان کو تنہائی کا شکار دیکھنا چاہتے تھے۔

    اس امن معاہدے کے اثرات دور رس ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچ گئی جو شاید انسانی تہذیب کا آخری باب ثابت ہوتی۔ اسلام آباد کی پُرکشش فضاؤں میں ہونے والے ان مکالموں نے ثابت کیا کہ سفارت کاری وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی فوج اور مہلک ترین میزائل سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور درمیان میں پاکستان جیسا مخلص ثالث موجود ہو، تو دہائیوں پرانی دشمنی بھی دوستی اور مفاہمت میں بدل سکتی ہے۔

    آج جب دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومت جنگ کے سائے میں سہمے ہوئے تھے، اسلام آباد سے نکلنے والی امن کی اس کرن نے پوری دنیا کو امید کی نئی روشنی دی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو خطے میں معاشی اور سفارتی مرکز کے طور پر منوائے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ ترقی کا راستہ صرف اور صرف امن کی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ جان محمد رمضان کی یہ تحریر اس بات کی گواہ ہے کہ آج اسلام آباد نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکال کر تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کا کردار: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید
    سعودی عرب کی متوازن حکمتِ عملی: جنگ کے بجائے سفارتکاری
    خطے کے بحران میں دانشمند قیادت: محمد بن سلمان کا وژن
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بدامنی، کشیدگی اور جنگی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک اور حساس وقت میں علاقائی قیادت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بحرانی صورتحال میں جس حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف محتاط بلکہ دوراندیشی پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
    سعودی عرب، جو کہ عالمِ اسلام کی ایک اہم اور بااثر طاقت ہے، اگر چاہتا تو براہِ راست کسی بھی تنازع میں فریق بن سکتا تھا، مگر موجودہ قیادت نے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی پالیسی میں توازن، تحمل اور مکالمے کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک طرف اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان رابطوں کا فروغ، اس پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اب محض ایک تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    مزید برآں، سعودی قیادت نے عالمی سطح پر بھی امن کے پیغامات کو تقویت دی ہے۔ جنگی ماحول میں ثالثی کی پیشکش اور مذاکرات کی حمایت، اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اب تنازعات کے حل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے، جہاں جنگ کے بجائے استحکام، معیشت اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں یہ طرزِ عمل نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔

  • خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تناؤ کے سائے میں اُبھرتی امن کی کرن
    آبنائے ہرمز سے امید کا سفر
    تجزیہ شہزاد قریشی
    آبنائے ہرمز، عالمی سیاست اور امن کی امید
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حالات بظاہر کشیدہ ضرور ہیں، مگر پسِ پردہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی بھی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ ہے، اس پر ایران کا کردار انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہے۔
    ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے تو نہ صرف عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں دنیا کی وہ ہمدردی، جو کسی حد تک ایران کے ساتھ ہے، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث اس کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران غالباً مکمل بندش کے بجائے دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، کسی نئی بڑی جنگ کے حق میں نظر نہیں آتے۔ امریکی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ دباؤ اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب داخلی سیاسی حالات اور انتخابات قریب ہوں۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ ایک نیا عالمی بحران جنم لے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔

    اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی روابط اور مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پسِ پردہ سنجیدہ کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے حل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حالات مکمل طور پر نارمل نہیں ہوئے، مگر ایک بڑی جنگ کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے جہاں دانشمندی، سفارتکاری اور تحمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

    امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید کم ہوگی اور صورتحال بتدریج بہتری کی جانب بڑھے گی، کیونکہ نہ ایران کسی عالمی معاشی بحران کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ ایک نئی جنگ کا۔ یہی عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے کی طرف جا رہا ہے

  • پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    “پاکستان کا بدلتا عالمی چہرہ: پروپیگنڈے سے حقیقت تک”
    “بیانیے کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی: عالمی اعتماد کی بحالی”
    “اسلام آباد سے امن کا پیغام: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار”
    “دہشتگردی کے الزامات سے امن کے علمبردار تک: پاکستان کا سفر”
    “عالمی منظرنامے میں پاکستان: ایک ذمہ دار ریاست کا نیا تعارف”
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر جس بیانیے کا سامنا رہا، وہ زیادہ تر سکیورٹی خدشات، دہشتگردی کے الزامات اور علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتا تھا۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد کے دور میں پاکستان کو ایک طرف “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے طور پر تسلیم کیا گیا، تو دوسری جانب اس پر دوہری پالیسیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ اس ماحول میں نے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط اور منظم بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس میں اسے دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

    تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پاکستان نے داخلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری کا نقطہ نظر بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔

    علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصاً میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل ذکر رہیں۔ کے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم رہا بلکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو ایک “مسئلے کا حصہ” نہیں بلکہ “حل کا حصہ” سمجھا جانے لگا۔

    آج ایک ابھرتے ہوئے سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اب پاکستان کے حوالے سے بیانیہ یک رخی نہیں رہا بلکہ اس میں معاشی بہتری، سکیورٹی استحکام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مثبت پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
    تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کا امیج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، شاید قبل از وقت ہو گا۔ عالمی سیاست میں بیانیے ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، گورننس، اور علاقائی توازن جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کے عالمی امیج کو متاثر کرتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے “بیانیے کی جنگ” میں ایک اہم موڑ ضرور حاصل کیا ہے۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ اس کی مسلسل کوششوں، قربانیوں اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی کا تسلسل اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔

    یہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ ہے، مگر یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں کامیابی کا دارومدار مستقل کارکردگی اور دانشمندانہ فیصلوں پر ہو گا۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    یورپی یونین کی حمایت اور عالمی کوششیں کیا سیز فائر مستقل امن بن سکے گا؟

    جنگ سے وقفہ یا امن کی شروعات؟ مشرقِ وسطیٰ ایک فیصلہ کن موڑ پر

    تجزیہ شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ: جنگ سے وقفہ یا امن کی ابتدا؟ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی سیز فائر نے جہاں وقتی سکون فراہم کیا ہے، وہیں ایک اہم سوال بھی جنم لیا ہے: کیا یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے یا واقعی خطے کو مستقل امن کی طرف لے جانے کی سنجیدہ کوشش؟ یہ سیز فائر، جس میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، بظاہر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا، پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف جنگ کو وقتی طور پر روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم، اس سیز فائر کی نوعیت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ جنگ بندی بنیادی مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک مہلت ہے—ایک ایسا وقفہ جس میں فریقین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی اور بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ جب تک ان بنیادی تنازعات کا حل نہیں نکلتا، کسی بھی سیز فائر کو مستقل امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے اگرچہ امن کے لیے سرگرم ہیں، لیکن خطے کے ممالک کے درمیان بداعتمادی اور مفادات کا ٹکراؤ کسی بھی پیش رفت کو نازک بنا دیتا ہے۔ خلیجی ممالک بھی اس سیز فائر کو مکمل اطمینان سے نہیں دیکھ رہے، جو اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کا کردار یہاں محض ایک ثالث تک محدود نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات واقعی اسلام آباد میں ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ سیز فائر فی الحال ایک عارضی وقفہ ہے، نہ کہ حتمی حل۔ تاہم اسے کم اہم بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں کئی بڑے امن معاہدے ایسے ہی چھوٹے وقفوں سے شروع ہوئے ہیں۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے—کیا فریقین اس موقع کو ضائع کریں گے یا اسے مستقل امن کی بنیاد بنائیں گے؟

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ: یہ سیز فائر امن نہیں، بلکہ امن کا ایک نادر موقع ہے۔ اگر سنجیدگی، تدبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہی وقفہ تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک اور عارضی خاموشی ثابت ہوگا، جس کے بعد شور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آئے گا۔

  • جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاصم منیر کی قیادت: سفارتکاری کا نیا باب
    دنیا جنگ کے قریب، پاکستان امن کے ساتھ

    تجزیہ: شہزادقریشی

    جنگ کے دہانے پر دنیا اور پاکستان کی خاموش سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جس کے لاوے نے عالمی امن، معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی عالمی ترسیل پر خطرات، اور خطے میں پھیلتی ہوئی بے یقینی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ٹیم نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر منظرِ عام پر کم نظر آتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاموش سفارتکاری، بیک چینل رابطے اور طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد سازی یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے۔

    امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو ممکنہ جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس وقت پاکستان کے اسی کردار پر مرکوز ہے، جہاں اسے ایک “میڈی ایٹر اسٹیٹ” یعنی ثالثی کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن، مربوط حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چند سال پہلے تک عالمی تنہائی کا تاثر رکھنے والا پاکستان آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں “متوازن غیر جانبداری” کی پالیسی اپنائی یعنی نہ کسی ایک فریق کا حصہ بننا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر رہ جانا، بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنا، اندرونی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا، معاشی دباؤ کا سامنا کرنا، اور علاقائی طاقتوں کی ممکنہ مخالفت یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک مستقل امتحان ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے جس تدبر، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    آج دنیا ایک بار پھر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں دنیا جنگ کے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، وہاں پاکستان نے امن، توازن اور دانشمندی کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے

  • پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ سیاست ایک بار پھر “پسِ پردہ جوڑ توڑ” کے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے، جہاں حتمی فیصلوں سے زیادہ افواہیں اور ابتدائی رابطے گردش کر رہے ہیں۔

    اس وقت چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اور ممکنہ طور پر گورنر بنائے جا سکتے ہیں ابھی تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی ہمیشہ ایک لچکدار اور موقع کے مطابق فیصلے کرنے والے سیاستدان رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسی قیاس آرائیاں نئی بات نہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں ان خبروں کو زیادہ تر سیاسی فضا کا حصہ اور ممکنہ مستقبل کی صف بندیوں کا اشارہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ کوئی حتمی پیش رفت۔

    اگر فرض کیا جائے کہ یہ خبریں درست ثابت ہو جاتی ہیں اور وہ واقعی پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کا سب سے بڑا اثر پنجاب کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ گجرات اور وسطی پنجاب میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے، اور پیپلز پارٹی کو ایک ایسا چہرہ مل سکتا ہے جو اسے پنجاب میں دوبارہ جگہ بنانے میں مدد دے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رجحان ایک بار پھر اس بات کو مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریات سے زیادہ “الیکٹیبلز” یعنی جیتنے والے امیدوار اہم ہوتے ہیں۔

    جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، تو فی الحال اس کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے، خصوصاً پنجاب میں جہاں مریم نواز شریف وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف حکومتی اختیارات ہیں بلکہ انتظامی مشینری اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ اس لیے صرف ایک یا دو بڑی سیاسی شخصیات کی ممکنہ وفاداری کی تبدیلی سے فوری طور پر (ن) لیگ کی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ البتہ اگر بڑے پیمانے پر الیکٹیبلز کا رخ بدلتا ہے تو آئندہ انتخابات میں اس کے اثرات ضرور ظاہر ہو سکتے ہیں۔

    مریم نواز شریف کے مستقبل کو اگر دیکھا جائے تو وہ اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انہیں پہلی بار براہِ راست گورننس کا تجربہ مل رہا ہے، جو ان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر وہ عوامی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور گورننس کے معاملات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتی ہیں تو ان کی سیاسی پوزیشن نہ صرف پنجاب بلکہ قومی سطح پر بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتری تو سیاسی مخالفین کے لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کی سیاست کسی بڑے فوری بدلاؤ کے بجائے ایک تدریجی صف بندی کے مرحلے میں ہے۔ پرویز الہٰی سے متعلق خبریں ابھی قیاس آرائی کے دائرے میں ہیں، اور جب تک کوئی واضح اور باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، انہیں حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی اتحادوں، وفاداریوں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو بالآخر آئندہ انتخابات کی سمت کا تعین کریں گی۔

  • ریاستی ذمہ داری یا سوشل میڈیا تماشا؟ ایک قوم کا بڑا المیہ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاستی ذمہ داری یا سوشل میڈیا تماشا؟ ایک قوم کا بڑا المیہ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    کتاب سے اسکرین تک: سنجیدہ قوم کا تماشائی بننے کا سفر

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کے سیاسی گلیاروں میں کبھی وقار، سنجیدگی اور فکری بلوغت کی روایت ہوا کرتی تھی۔ پارلیمنٹ کے ایوان ہوں یا سیاسی جلسے، وہاں دلائل کی گونج سنائی دیتی تھی، نظریات کی جنگ لڑی جاتی تھی اور قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ ہوتا تھا۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست اب سنجیدہ عمل کے بجائے ایک تماشہ بن چکی ہے، جہاں اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی “ٹک ٹاکر کلچر” کا شکار ہو چکے ہیں۔

    سیاست دانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ قومی پالیسی، معیشت، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ مختصر ویڈیوز، جذباتی بیانات اور سستی شہرت حاصل کرنے کی دوڑ نے سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ رجحان صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان بھر کی ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس افسران بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ جن کا بنیادی فریضہ عوامی خدمت، قانون کی عملداری اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہے، وہ بھی سوشل میڈیا پر “ٹک ٹاکر” بننے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

    اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سنجیدہ فکر اور علمی ماحول دم توڑتا جا رہا ہے۔ وہ لائبریریاں جو کبھی علم کا مرکز ہوا کرتی تھیں، آج ویران پڑی ہیں۔ نوجوان نسل، جو کتابوں سے روشنی حاصل کر سکتی تھی، اب اسکرینوں کی چکاچوند میں کھو چکی ہے۔ مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی سوچ کی جگہ وقتی تفریح اور سطحی معلومات نے لے لی ہے۔

    یہ صورتحال صرف ثقافتی زوال نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔ جب ایک معاشرہ سنجیدہ مکالمے سے دور ہو جائے، جب اس کے رہنما مسائل کے حل کے بجائے مقبولیت کے کھیل میں مصروف ہو جائیں، تو پھر ریاستی ترجیحات بھی بکھر جاتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل—مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف—پر توجہ کون دے گا؟

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم اس رجحان کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور سنجیدہ سیاست کو فروغ دیں۔ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو بھی اپنی پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھنا ہوگا۔ اسی طرح معاشرے کو بھی کتاب، علم اور شعور کی طرف واپس آنا ہوگا۔

    سیاست محض ویڈیوز اور نعروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اسے تماشہ بنا دیا تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

  • قرضوں پر چلتی معیشت اور مہنگا ہوتا ایندھن: ایک عالمی اور پاکستانی المیہ۔تجزیہ شہزاد قریشی

    قرضوں پر چلتی معیشت اور مہنگا ہوتا ایندھن: ایک عالمی اور پاکستانی المیہ۔تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے معاشی دباؤ سے گزر رہی ہے جہاں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی سے لے کر حکومتوں تک سب کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی بڑی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سپلائی چین کی رکاوٹیں، عالمی سیاسی کشیدگیاں اور خصوصاً روس-یوکرین جنگ شامل ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ان عالمی اثرات کا بوجھ ہر ملک یکساں طور پر برداشت نہیں کرتا۔
    یہاں اصل فرق ان ممالک کے درمیان نظر آتا ہے جنہوں نے دہائیوں تک اپنے وسائل پر توجہ دی اور ان ممالک کے درمیان جو مسلسل قرضوں کے سہارے اپنی معیشت چلاتے رہے۔ ترقی یافتہ اور مستحکم معیشتوں والے ممالک نے نہ صرف اپنی مقامی صنعت کو فروغ دیا بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر بھی سرمایہ کاری کی۔ ان کے ٹیکس نظام مضبوط ہیں، کرنسی مستحکم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ درآمدی ایندھن پر کم انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ان ممالک میں نہ حکومتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی ہیں اور نہ ہی عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔
    اس کے برعکس پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ یہاں نظامِ حکومت بڑی حد تک قرضوں پر کھڑا ہے، اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بار بار International Monetary Fund جیسے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانا ایک معمول بن چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ان ممالک نے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دی؟
    حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے پاس ایک بڑی نوجوان آبادی موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے ناقص منصوبہ بندی، پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان، سیاسی عدم استحکام اور کرپشن جیسے عوامل نے ان وسائل کو طاقت میں بدلنے نہیں دیا۔ ہر آنے والی حکومت قلیل مدتی فائدے کے لیے فیصلے کرتی رہی، جبکہ طویل مدتی اصلاحات کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔
    ایک اور بڑا مسئلہ درآمدی معیشت کا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ڈالر مہنگا ہوتا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بجلی مہنگی ہو جاتی ہے اور یوں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
    سیاسی عدم استحکام بھی اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ بار بار حکومتوں کی تبدیلی سے پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، اور ادارے مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور اشرافیہ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جو ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے مگر اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے گریز کرتی ہے۔
    اصل سوال یہی ہے کہ قرضوں کا یہ سلسلہ کیوں نہیں رکا؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ قرض لینا ایک آسان راستہ ہے۔ یہ وقتی طور پر مسائل کو حل کر دیتا ہے مگر طویل مدت میں معیشت کو ایک ایسے جال میں پھنسا دیتا ہے جسے “ڈیٹ ٹریپ” کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے وسائل کو ترقی دینا ایک مشکل، وقت طلب مگر پائیدار حل ہے، جس کے لیے مضبوط قیادت، مستقل مزاجی اور شفاف نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر عالمی تجربات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جن ممالک نے برآمدات بڑھائیں، توانائی میں خودکفالت حاصل کی، ٹیکس نظام کو بہتر بنایا اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا، وہی آج معاشی طور پر مضبوط ہیں۔ ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس کی واضح مثال ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل ایک علامت ہیں، بیماری نہیں۔ اصل بیماری وہ کمزور معاشی ڈھانچہ ہے جو دہائیوں کی غلط پالیسیوں، قرضوں پر انحصار اور وسائل کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ جب تک پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دیتے، اس وقت تک ہر عالمی بحران ان کے لیے ایک نیا طوفان لے کر آتا رہے گا۔