Baaghi TV

Category: سیاست

  • وزیر اعلی مریم نواز کی ٹیم نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دلا دی،تحریر:قمر شہزاد مغل

    وزیر اعلی مریم نواز کی ٹیم نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دلا دی،تحریر:قمر شہزاد مغل

    عالمی اعزاز نے ثابت کر دیا، میرٹ پر بننے والی ٹیمیں ہی تاریخ رقم کرتی ہیں

    تحریر: قمرشہزاد مغل

    اچھی قیادت کی اصل طاقت ایک مضبوط، باصلاحیت اور باکردار ٹیم ہوتی ہے، اور پنجاب میں اس کی نمایاں مثال پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔ 2026 کے بین الاقوامی آئی اے سی پی (IACP) لیڈرشپ اِن دی پریوینشن آف وہیکل کرائمز ایوارڈ کے لیے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی "اپلیکیشن” کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ میرٹ، جدید سوچ اور مسلسل محنت عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بناتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی انتظامی حکمتِ عملی میں میرٹ، کارکردگی اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے افسران کو ذمہ داریاں سونپیں جو نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی حکومت کی کامیابی ایک پوری ٹیم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے، تاہم مؤثر قیادت اس ٹیم کو ایک سمت، اعتماد اور حوصلہ فراہم کرتی ہے، اور پنجاب میں اس طرزِ حکمرانی کے اثرات مختلف شعبوں میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی محمد احسن یونس ایک قابل، محنتی اور وژن رکھنے والے پولیس افسر ہیں، جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکمتِ عملی اور شبانہ روز محنت کے ذریعے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو ایک فعال اور عوام دوست ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں 27 اکتوبر 2026، بروز منگل، امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں واقع اورنج کاؤنٹی کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی IACP سالانہ ایوارڈز تقریب میں ایڈیشنل آئی جی محمد احسن یونس یہ بین الاقوامی اعزاز وصول کریں گے۔ یہ اعزاز صرف پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا پیغام بھی ہے کہ جب قیادت میرٹ کو فروغ دے، ٹیم خلوص اور محنت سے کام کرے اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنایا جائے تو کامیابیاں سرحدوں کی محتاج نہیں رہتیں۔

  • آئین کی بالادستی کا تقاضا سب سےیکساں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئین کی بالادستی کا تقاضا سب سےیکساں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئین کی بالادستی کا تقاضا صرف دوسروں سے نہیں، بلکہ سیاست دانوں، اداروں اور عوام سب سے یکساں طور پر ہوتا ہے

    پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، جن کا احترام اور اعتراف ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے

    ملکی استحکام الزام تراشی سے نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری، قومی یکجہتی اور تمام اداروں کے باہمی احترام سے حاصل ہوتا ہے۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں آئین، جمہوریت، ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے حوالے سے بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایک بنیادی سوال ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا آئین پر عمل درآمد صرف دوسروں سے مطالبہ کرنے کا نام ہے یا خود بھی اس کی مکمل پابندی ضروری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آئین کسی ایک ادارے، جماعت یا فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ہوتا ہے۔ آئین کی پاسداری کا تقاضا سیاست دانوں، حکومتی عہدیداروں، ریاستی اداروں اور عام شہریوں سب پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما آئین کی بالادستی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنی سیاسی زندگی، فیصلوں اور طرزِ عمل میں بھی آئینی اصولوں کی پاسداری کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر تنقید یا حمایت دونوں حقائق، دلیل اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونی چاہئیں۔پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک کی سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، شہداء اور غازیوں کی خدمات قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرحدوں پر کھڑے سپاہی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں اور قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دوسری طرف جمہوری معاشروں میں عوام کو یہ حق بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، حکومتوں اور سیاسی قیادت کی کارکردگی پر سوال اٹھائیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔ لیکن یہ اظہارِ رائے ذمہ داری، شائستگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ بے بنیاد الزامات، نفرت انگیز زبان یا ایسے بیانات جو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں، کسی کے حق میں نہیں ہوتے۔ پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل الزام تراشی، محاذ آرائی اور مسلسل تناؤ میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مضبوط جمہوری روایات اور ریاستی اداروں کے باہمی احترام میں ہے۔ اگر سیاست دان، ادارے اور عوام سب اپنی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ملک کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ کردار، ذمہ داری، قربانی اور آئین و قانون کی حقیقی پاسداری سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی اتحاد، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

  • کور کمانڈرز کانفرنس، قومی عزم، دفاعی بصیرت اور فولادی حوصلے کی تعبیر،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کور کمانڈرز کانفرنس، قومی عزم، دفاعی بصیرت اور فولادی حوصلے کی تعبیر،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاک فوج اس عزمِ صمیم، غیر متزلزل ایمان اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی روشن علامت ہے جس نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کے دفاع کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھا۔ ہمارے بہادر سپاہی برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے صحرائو ں، سرحدوں کی حفاظت سے لے کر دہشت گردی کے خلاف محاذوں تک ہر لمحہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کے امن، آزادی اور وقار کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی جرأت و بہادری، نظم و ضبط، قربانی اور حب الوطنی کی داستانیں تاریخ کے سنہری اوراق پر ہمیشہ روشن رہیں گی۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھا، افواجِ پاکستان فولادی دیوار بن کر اس کے ناپاک عزائم کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ شہدا کا مقدس لہو اس سرزمین کی مٹی میں شامل ہو کر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت ایمان، عزت اور غیرت کا تقاضا ہے۔ قوم اپنے ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جنہوں نے اپنے آج کو ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ کل پر قربان کر دیا۔ ایک طرف سرحدوں پر وطن کے دفاع کیلئے پاک فوج کے جوان ہمہ وقت مستعد وتیار کھڑے رہتے ہیں تو دوسری طرف پاک فوج کی اعلی قیادت بھی کور کمانڈر کانفرنس میں وقتاََ فوقتاََ سکیورٹی کے حوالے سے ملک کو درپیش حالات ومعاملات کا جائزہ لیتی رہتی ہے ۔
    پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے نئے رجحانات، ہائبرڈ جنگ، آبی تنازعات اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس بھی اسی نوعیت کا ایک اہم قومی اجتماع تھا۔ اس کانفرنس نے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

    کانفرنس کا آغاز افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے دعائے مغفرت سے کیا گیا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ پاکستان کی سلامتی کسی ایک دن کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے مقدس لہو کی امانت ہے۔ انہی قربانیوں نے وطن عزیز کو دہشت گردی کے اندھیروں سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج بھی یہی قربانیاں قومی وحدت اور دفاع کی مضبوط بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
    کانفرنس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جنگی استعداد کے اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق عسکری تیاری، انٹیلی جنس تعاون، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور ہمہ جہت دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
    کانفرنس میں دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ یہ بھی باور کرایا گیا کہ پاکستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، مربوط حکمت عملی اور قومی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    کانفرنس میں ہائبرڈ وار اور منظم گمراہ کن مہمات کا بھی خصوصی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر زور دیا کہ دشمن اب صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ جھوٹی اطلاعات، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، نفسیاتی دباؤ اور پراکسی ذرائع کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پس منظر میں قومی یکجہتی، عوامی شعور، ذمہ دار صحافت اور اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

    آبی وسائل کے حوالے سے بھی کانفرنس میں اہم گفتگو ہوئی۔ فورم نے پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی اور قومی مفاد کے مطابق ہر ضروری اقدام کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو اس کا حق مل سکے۔ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا گیا۔
    کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش کیا گیا اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کے پاکستانی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی علاقائی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو بھی اہم قرار دیا گیا، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو سکے۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اختتامی گفتگو میں کمانڈرز کو ہدایت کی کہ افواج کی جدید خطوط پر تبدیلی کے منصوبے پر تیزی سے عمل جاری رکھا جائے، آپریشنل تیاری کی بلند ترین سطح برقرار رکھی جائے اور پاکستان کی خودمختاری، قومی مفادات اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل آمادگی رکھی جائے۔ یہ ہدایات اس بات کی عکاس ہیں کہ بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ وژن، تربیت، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط بھی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔

    پاکستان کی مسلح افواج نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ سرحدوں کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں سے لے کر امن و استحکام کے قیام تک، افواج نے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاتعداد اہلکار زخمی ہوئے، بے شمار خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کی، مگر قومی پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ یہ قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
    یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مضبوط افواج اور باشعور قوم ایک دوسرے کی طاقت ہوتی ہیں۔ جب قوم متحد ہو، اداروں پر اعتماد کرے، قانون کی پاسداری کرے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے تو دشمن کے تمام عزائم ناکام ہو جاتے ہیں۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط، محنت اور حب الوطنی کے ذریعے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہو۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو قوم سکون سے سوتی ہے، اور جب قوم اپنے محافظوں کے حوصلے بلند رکھتی ہے تو دفاعِ وطن ناقابلِ تسخیر بن جاتا ہے۔

    276ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ کانفرنس صرف عسکری حکمت عملی کا اجلاس نہیں بلکہ قومی عزم، اجتماعی اعتماد اور مستقبل کے لیے واضح سمت کا اظہار بھی تھی۔ پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، اپنے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع، امن، استحکام اور خوشحالی کے سفر میں وہ اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل قوت ہے، یہی ہماری امید ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی اداروں کے ساتھ پوری قوم کو میدان میں آنا ہوگا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی اداروں کے ساتھ پوری قوم کو میدان میں آنا ہوگا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر قانونی عناصر اور قومی سلامتی اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے

    پاکستان کے امن کے خلاف سازشیں ناکام بنائیں قومی یکجہتی ہی کامیابی کی ضمانت ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ محض داخلی نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بیرونی عناصر بھی سرگرم ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے جو شواہد سامنے آتے رہے ہیں، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے دشمن عناصر ملک کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

    اس تناظر میں غیر قانونی غیر ملکیوں، خصوصاً غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماضی میں ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی جانب سے مؤثر اور بلاامتیاز کارروائیاں کی جاتیں تو آج بار بار اس بات کی ضرورت پیش نہ آتی کہ غیر قانونی مقیم افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ یہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ضلعی اور تحصیل سطح کی انتظامیہ بھی اس حوالے سے جوابدہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں رجسٹریشن، شناخت اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی فرد ریاستی نگرانی سے باہر نہ رہے۔ اسی طرح نجی سیکیورٹی اداروں میں بھرتی ہونے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال، بائیو میٹرک تصدیق اور پس منظر کی چھان بین بھی ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی کے تقاضے یہی ہیں کہ ہر ایسے شعبے پر کڑی نظر رکھی جائے جو حساس نوعیت کا حامل ہو۔

    تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج، سیکیورٹی اداروں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری قوم کی اجتماعی جنگ ہے۔ جب تک عوام، سیاسی قیادت، سول انتظامیہ، میڈیا اور تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر کھڑے ہو کر اپنا اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی سیاسی، لسانی اور علاقائی تقسیم سے بالاتر رکھا جائے۔ پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی بالادستی اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قومی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور غیر متزلزل عزم سے جیتا جاتا ہے۔ جب پوری قوم ایک آواز بن جائے تو کوئی دشمن، خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

  • بلوچستان ہے میرا پاکستان

    بلوچستان ہے میرا پاکستان

    قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آتے ہیں جب دشمن میدانِ جنگ سے زیادہ دلوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر خوف، بداعتمادی اور انتشار پھیلا دیا جائے تو شاید قوم کے حوصلے متزلزل ہو جائیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ہر آزمائش کو اتحاد، قربانی اور استقامت سے شکست دی ہے۔بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والوں کا مقصد پاکستان کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی پر وار کرنا تھا۔ مگر دہشت گرد ایک بار پھر اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہے، کیونکہ یہ دھرتی ہمیشہ اپنے محافظوں کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے، کمزور نہیں۔

    بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی طاقت کا اہم ستون ہے۔ اس سرزمین کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے، اور اس کا امن پورے ملک کے استحکام کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن برسوں سے بلوچستان کو اپنے ناپاک عزائم کا ہدف بناتے رہے ہیں، مگر ہر بار انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ہمارے شہداء نے اپنے خون سے یہ پیغام لکھا ہے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک ادارے یا ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ جب ایک سپاہی، ایک پولیس اہلکار یا کوئی بے گناہ شہری وطن کی خاطر جان قربان کرتا ہے تو وہ دراصل آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ ایسی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

    دہشت گردی کسی مذہب، قوم یا تہذیب کی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔ بے گناہوں کا خون بہانے والے انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ ایسے عناصر چاہے کسی بھی نام، نعرے یا سرپرستی کے ساتھ سامنے آئیں، ان کا انجام ہمیشہ عبرت اور شکست ہی ہوتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ہدف اس کی معاشی ترقی، قومی یکجہتی اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ لیکن دشمن شاید یہ بھول جاتا ہے کہ یہ وہ ملک ہے جو کلمۂ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد محض سرحدوں پر نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایمان اور بے شمار قربانیوں پر رکھی گئی ہے۔ نظریات کو دھماکوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    بلوچستان کے غیور عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کی طاقت ہیں، کمزوری نہیں۔ اس سرزمین کے قبائل، نوجوان، بزرگ اور ہر محبِ وطن شہری نے مشکل ترین حالات میں بھی ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ یہی قومی یکجہتی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ قومی اتحاد، قانون کی پاسداری، باہمی احترام اور وطن سے عملی محبت کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر قومی سلامتی اور ملکی استحکام پر پوری قوم کا ایک صفحے پر ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    دشمن چاہے کتنی ہی سازشیں کر لے، کتنی ہی نفرتیں بو دے، کتنی ہی خونریزی کر لے، حقیقت یہی رہے گی کہ بلوچستان پاکستان تھا، پاکستان ہے اور ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ پاکستان کی سالمیت، آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اس وطن کے محافظ، اس کے عوام اور اس کی آنے والی نسلیں ہر اس قوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی رہیں گی جو اس مقدس سرزمین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ سازشیں وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر قوموں کا عزم نہیں توڑ سکتیں۔ ان شاء اللہ، بھارت کی ہر مذموم سازش ناکام و نامراد ہوگی، دہشت گردی کے اندھیرے چھٹیں گے، اور پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور باوقار ہو کر ابھرے گا۔

  • بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    کچھ سرزمینیں صرف مٹی نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی غیرت، تاریخ، قربانیوں اور مستقبل کی علامت ہوتی ہیں۔ بلوچستان بھی ایسی ہی مقدس دھرتی ہے جس کے پہاڑ شہادتوں کے امین ہیں، جس کی وادیاں وفاداری کی خوشبو سے مہکتی ہیں، اور جس کے باسی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ چند دنوں میں بلوچستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی سازش کی گئی۔ لیکن دشمن شاید یہ بھول گیا کہ یہ وہ قوم ہے جو شہادتوں سے کمزور نہیں، بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے۔جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہ اس وطن کی سلامتی کے امین تھے۔ ان کے لہو کی ہر بوند اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور قربانی سے محفوظ ہیں۔دہشت گرد چاہے کسی بھی نام، کسی بھی نظریے یا کسی بھی سرپرستی کے ساتھ آئیں، ان کا انجام ہمیشہ شکست اور رسوائی ہی ہوگا۔ معصوم جانوں کا خون بہانے والے کبھی کسی قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ جو عناصر نفرت، خوف اور انتشار کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں، تاریخ انہیں کبھی عزت نہیں دیتی۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا مقصد صرف ایک ہے، اس ملک کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا۔ مگر دشمن شاید اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ یہ وطن کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور مشترکہ قومی عزم ہے۔ ایسے نظریے کو نہ بارود جھکا سکتا ہے، نہ پروپیگنڈا مٹا سکتا ہے۔بلوچستان پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ اس دھرتی کو نفرت کی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بلوچستان کے پہاڑوں میں پاکستان کی محبت گونجتی ہے، اس کے صحراؤں میں سبز ہلالی پرچم کی شان لہراتی ہے، اور اس کے نوجوانوں کے دل وطن کی محبت سے دھڑکتے ہیں۔

    اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کی مکاریوں،افغانستان کی عیاریوں، بیرونی سازشوں، دہشت گردی یا خونریزی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہر آزمائش کا سامنا صبر، اتحاد اور قربانی سے کیا ہے۔ ہر شہید کا خون اس وطن کی جڑوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، کمزور نہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے شہداء کو سلام پیش کریں، بلوچستان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، اور ہر اس آواز کو مسترد کریں جو پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اپنے وطن، اپنی سرزمین اور اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے متحد رہیں گے۔

    پاکستان زندہ باد۔
    بلوچستان پائندہ باد۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز کو ہر داخلی و خارجی سازش سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟
    بعض پولیس افسر سازش پر اترآئے، اپنے ہی ادارے کی بدنامی کا سبب بننے لگے
    ملک کو بدنام کرنے ،اداروں کو متنازع بنانے اور بغیر ثبوت الزام تراشی بند کی جائے
    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی امن کیلئے جو کردار اداکیا ،وہ کسی ڈھکا چھپا نہیں
    وزیراعلیٰ پنجاب نے ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی ،اس کیس میں بھی میرٹ نظر آیا ،پھر تنقید کیوں؟
    لاہور کے افسوسناک واقعے پر بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسی قسم کی مداخلت کی نہ نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نہ ہی کسی اور حکومتی شخصیت نے تحقیقات پر کوئی دباؤ ڈالا ، پولیس نے مقدمہ درج کیا، تحقیقات کا آغاز کیا، گرفتاریاں کیں اور قانونی کارروائی اپنے راستے پر چل رہی ہے،ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور بے بنیاد الزامات یا سیاسی مقاصد کے تحت چلائی جانے والی مہمات سے گریز کیا جائے، اگر قانون حرکت میں آ چکا ہے تو پھر سوشل میڈیا پر مسلسل شور شرابا، کردار کشی اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟اطلاعات ہیں کہ پولیس کے اندر بعض عناصر اپنی پسند کی پوسٹنگ یا ترقی کے حصول کے لئے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بعض افراد کو استعمال کر کے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارے کے وقار کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے،ان افسران سے گزارش ہے کہ ذاتی مفادات، گروہی سیاست یا بہتر پوسٹنگ کی خواہش کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیں،پاکستان پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ملک کو بدنام کرنے، اداروں کو متنازع بنانے اور منتخب قیادت پر بغیر ثبوت الزامات لگانے کے بجائے قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اورنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کسی بھی عوامی عہدے دار پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے، خصوصاً اسحاق ڈار نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری بھی قانون کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانا ہے، اس لئے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے ملک، اداروں اور منتخب نمائندوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کسی طور قومی خدمت نہیں،آئیے اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، لیکن حقائق، قانون اور قومی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر

  • مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ شخصیات عارضی اور ادارے دائمی حیثیت رکھتے ہیں

    پاکستان کی خارجہ اور دفاعی کامیابیاں قومی اداروں، پاک فوج اور مؤثر سفارت کاری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں

    ملکی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے اداروں کو مضبوط بناتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، ان سے نمٹنے میں ہمارے قومی اداروں، پاک فوج اور سفارتی محاذ پر کام کرنے والوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک آج اپنے مفادات کے تحت نئے فیصلے کر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بالادستی کو بلا چون و چرا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی قوت اس کی قومی یکجہتی، مضبوط ادارے اور مؤثر خارجہ پالیسی ہے۔

    ملک کے اندر بھی سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ایسے وقت میں نفرت، انتشار اور بے یقینی پھیلانے کے بجائے قومی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
    تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر ادارے باقی رہتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہی ریاست کی بنیاد، استحکام اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن تنقید اگر اصلاح کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت، ذمہ داری اور قومی شعور کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط، اپنی سیاست کو باوقار اور اپنی قومی ترجیحات کو واضح رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کی ترقی اور استحکام کے سفر کو روک نہیں سکے گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا راستہ ہے۔

  • مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک تاریخ، ایک جدوجہد، پھر کشمیریوں کے درمیان اختلاف کیوں؟

    دھرنوں کے بجائے مکالمہ: مہاجر کشمیریوں کے حقوق اور قومی یکجہتی کا تقاضا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہونے والے احتجاج، جلسے، جلوس اور دھرنوں نے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے حقِ نمائندگی اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں کشمیری اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہو کر پاکستان آئے۔ ان خاندانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں اور پاکستان میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ آج ان مہاجر خاندانوں کی تیسری، چوتھی بلکہ بعض مقامات پر پانچویں نسل بھی پاکستان میں آباد ہے۔ ان مہاجرین نے نہ صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے اور ان نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار برسوں سے آئینی اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے تو پھر آج اس پر اعتراضات کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

    دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری خاندانوں کو آج بھی "مہاجر کشمیری” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مقامی آبادی بھی انہیں اسی شناخت سے جانتی ہے، حالانکہ کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی شناخت آج بھی کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے بعض حلقے پاکستان میں آباد مہاجرین کی سیاسی نمائندگی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انہیں اپنے مؤقف کی معقول اور منطقی وضاحت کرنی چاہیے۔ اختلاف رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، لیکن ایسے معاملات کا حل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کا مقدمہ ہمیشہ اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری ہوں یا پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر، دونوں ایک ہی تاریخ، ایک ہی جدوجہد اور ایک ہی مقصد سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ایسے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں باہمی احترام، سیاسی بصیرت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ ادارے ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ دھرنوں، احتجاجوں اور سیاسی کشیدگی سے نہ صرف داخلی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منقسم تاثر سامنے آتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے اور تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے کے وجود، قربانیوں اور حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

  • ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ اداروں کو سیاسی غلام بنانے کا فرسودہ کلچر ختم کیا جائے

    سرکاری افسران ریاست کے ملازم، کسی ڈیرے پر حاضری کے پابند نہیں انتظامیہ کو دباؤ سے آزاد کیا جائے

    منتخب نمائندے عوامی مسائل ضرور اٹھائیں، انتظامی اختیارات میں مداخلت اور افسران کی تذلیل کا کوئی حق نہیں

    ملک کو جدید اور منصفانہ ریاست بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو واضح ‘مداخلت مخالف’ پالیسی بنانا ہوگی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم، سیاسی مداخلت اور قانون کی حکمرانی، پاکستان کو درپیش متعدد انتظامی اور سماجی مسائل کی جڑوں میں ایک اہم مسئلہ وہ فرسودہ سیاسی رویہ ہے جسے عرفِ عام میں "ڈیرہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو جمہوری اقدار، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات اس طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری افسران ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، کسی فرد، خاندان یا سیاسی شخصیت کے نہیں۔ وہاں پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران قانون اور آئین کے تابع ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی ڈیرے یا ذاتی بیٹھک پر حاضری دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر طلب کیا جاتا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا انہیں مخصوص مفادات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس مجروح کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کسی افسر کو یہ احساس ہو کہ اس کی ترقی، تبادلہ یا پوسٹنگ میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی وابستگی یا کسی ڈیرے پر حاضری سے مشروط ہے، تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی حکمرانی مضبوط ہو جاتی ہے۔جرائم کے خاتمے، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔

    منتخب نمائندوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھیں، عوامی شکایات اجاگر کریں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کریں، لیکن انہیں سرکاری افسران کے انتظامی اختیارات میں مداخلت یا ان کی تذلیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کی اصل روح اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے، افراد کی بالادستی میں نہیں۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، منظم اور قانون پسند ریاست بنانا ہے تو ڈیرہ کلچر، سفارش، سیاسی دباؤ اور شخصی اثر و رسوخ کی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ سرکاری افسران کو صرف آئین، قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت یا بااثر خاندان کے سامنے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح پالیسی مرتب کریں جس کے تحت کسی بھی سرکاری افسر کو سیاسی ڈیروں پر طلب کرنے، غیرضروری سیاسی دباؤ ڈالنے یا سرکاری امور میں ذاتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور پاکستان کو ایک باوقار، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی تبھی قائم ہوگی جب ریاست کے ملازمین کو غلام نہیں بلکہ قانون کے محافظ سمجھا جائے گا۔