گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ کےراہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال صاحب اور راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر میں الیکشن ہارنے کے بعد پریس کانفرنس کی اور آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کو بڑی شد و مد کے ساتھ مسترد کیا۔
الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے لیکن اِس کا کوئی ٹھوس ثبوت دکھانے سے قاصر رہے۔ خیر یہ تو پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ ہونے والے ہر الیکشن کو اپوزیشن دھاندلی زدہ قرار دیتی اور آئیندہ الیکشن تک اِسی بیانیہ کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
لیکن میں یہاں خاصیت کا ساتھ ذکر پروفیسر احسن اقبال صاحب کے بیان کا کرنا چاہتا ہوں۔
احسن اقبال نے ویراعظم عمران خان کے اُس بیان پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اُسے پاکستان کے بنیادی نظریے اور آئین پرحملہ قرار دیا، جس میں عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ ہم آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروائیں گے اور کشمیریوں کو اس بات کا حق دیں گے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔
احسن اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے اس بیان میں آئین کی بڑی خلاف ورزی اور بنیادِ پاکستان کے خلاف بیان دیا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود احسن اقبال کو شائد آئین کا مکمل طور پر ادراک ہی نہی۔ یوں تو وہ ایک لمبے عرصے سے قانون ساز اسمبلی کے میمبر بنتے چلے آ رہے ہیں اور کسی کالج میں لیکچرار ہونے کے دعویدار ہیں لیکن شائد اتنی مصروفیت کے باعث وہ آئینِ پاکستان کا مطالعہ نہ کر سکے۔ آییے میں آپ کو آئین کی آرٹیکل 257 کی وہ دفعہ دکھاؤں جو معاملہِ جموں و کشمیر پر تفصیلی ظاہر کرتا ہے:
“ دفعہ257 کہتی ہے کہ جب ریاست جموں اور کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو پھر پاکستان اور ریاست کے مابین تعلقات کا فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔”
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جب خود کو پروفیسر اور سینئر سیاستدان کہنے والے احسن اقبال صاحب صاحب علم ہیں یا ۔۔۔۔۔۔
عمران خان صاحب نے جو بیان دیا وہ بیعینہٖ آئین کے آرٹیکل 257 کی اس دفعہ کا عکاس ہے جبکہ احسن اقبال صاحب کا بیان نہ صرف محض سیاسی بیان بازی بلکہ بنیادِ پاکستان اور آئینِ پاکستان سے لاعلمی اور بہتان بازی۔
یہی المیہ ہے ہمارے سیاستدانوں کا کہ جب تنقید کرنے کو کُچھ ٹھوس بات نہ ملے تو محض جھوٹ اور بہتان بازی کا بھی سہارا لینے سے نہی کتراتے، اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
تحریر: شاہزیب
@shahzeb___
Category: سیاست

پروفیسر احسن اقبال اور آرٹیکل 257 تحریر: شاہ زیب

صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں تحریر : راجہ حشام صادق
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب
عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو خستہ حال قوم کو امید لگ گئی کہ اب سب کچھ سیٹ ہوجائے گا۔ہچکولے گھاتی کشتی یا دور بہت دور کہیں بجتی شمع کے پروانے ادھر کو ہی لپکے۔اور تصوراتی امیدوں اور خیالات کا مرکز عمران خان جیسے ہی کرسی پہ بیٹھے گا۔
ادھر بنجر زمین میں سبزہ اگنے لگے گا، دوبٹتی معیشت سنبھل جائے گی، چوری، ڈاکا، رشوت ،مہنگائی وغیرہ سب ختم ہوجائے گی ۔
نوکریوں کی کمی کا مسئلہ ایسے حل ہو جائے گا۔کہ دوسرے دن ہی سب بے روزگاری کام پے ہوں گے۔
عدالت سے مظلوم جیت کر نکلے گے۔ کینہ،بغض،حسد اور وعدہ خلافی ختم ہوجائے گی۔ لوگ مل جل کر رہنے لگیں گے۔تاجر ایماندار اور دکاندار دیانتدار ہوجائے گا۔
ایسے جیسے ہر طرف امن و سکون ہوجائے گا تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
مگر پھر ہوا کیا؟مہنگائی بھی ویسی رہی باقی کے حالات بھی ویسے ہی رہے؟
تو جناب اگر قیادت ہی بدلنے سے سب مسائل حل ہونے ہوتے تو کب کے ہو گئے ہوتے۔ اسلئے قیادت کے ساتھ ساتھ عادت بھی بدلیے۔
یاد رکھیں کوئی آسمان سے نہیں اتر گا جو اپنے پیشے سے ایمانداری کرے گا، جھوٹ نہیں بولے گا، وعدہ خلاف نہیں کرئے گا، انصاف قائم کرے گا،لین دین مین کھرا ہوگا، جو دکھائے گا وہی بیچے گا،رشوت نہیں لے گا اور قانون کو اپنے اور دوسرے کے لیے ایک جیسا رہنے دے گا۔
اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے۔اور اچھائی، برائی، نیکی اور بدی کا راستہ دکھا کر بھیجا ہے۔ اب اچھائی کے راستے پر چلتے ہوئے شیطان کی پیروی کرو گے تو کامیاب کیسے ہو گے؟
وہ تو ایسے ہی ہوگا کہ کوئی طلب علم اردو کے پرچے میں انگریزی سبجیکٹ کی تیاری کرکے چلا جائے۔
ہم ہر چیز کو ٹھیک دیکھنا چاہتے ہیں مگر جب خود کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو خرابی بلکل نظر نہیں آتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ صرف میرے کرنے سے کیا ہوجائے گا۔
میرے عزیز ہم وطنوں صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں۔
ہماری قوم کو سوچنا ہوگا اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ اس وقت اللہ نے ہم کو ایک لیڈر دیا ہے کچھ وہ کر رہا ہے کچھ تم بھی کر کے دیکھ لو۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
@No1Hasham

کشمیر عمران خان کا مگر تحریر:محمد شہباز سرکانی
آذاد کشمیر میں حالیہ الیکشن ہوۓ جس میں پاکستان تحریک انصاف کا سادہ اکثریت سے 25 کے قریب سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگٸ ہے ۔ اب وفاقی کی ایک اور حکومت آذاد کشمیر میں بھی بن گٸ ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں فرق نظر آۓ گا یا ان کی طرح یہ بھی ویسے چلیں گے ۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں بہت سے وعدے تو کیے مگر یہ تو ویسے ہی ہے جس طرح عمومی الیکشن کمپین میں ہوتا ہے ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کو اور حکومتوں کے درمیان فرق تو دکھانا پڑے گا تاکہ ایک واضع صورتحال نظر آۓ اور عمران خان کا نعرہ کرپشن سے پاک اور ترقی پسند کشمیر کی تقدیر بدلے
حالیہ الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جس سے ان کو عوامی مساٸل پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کرپٹ کہتی رہی ہے اب تو ان کی اپنی حکومت بنے گی اب یہ کرپشن سے پاک حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی معنوں میں مساٸل حل کرے تاکہ تھوڑے بہت عوام کے مساٸل حل ہوں ۔
آذاد کشمیر میں عمران خان پہلی بار حکومت بنانے جارہے ہیں اور اس حکومت کو بہت سے مساٸل کا سامنا بھی ہوگا اور یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ کشمیر میں حکومت کو ایک چیز کا ہمیشہ سے فاٸدہ رہا ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے اس کی حکومت آذاد کشمیر میں بنتی ہے اور اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ایسا ہوا ہے اور اب عمران خان کی وفاق میں حکومت ہونے کے ناطے وہ اپنا بجٹ عوام کے مساٸل حل کرنے پر صرف کریں اور نا صرف مساٸل حل کریں بلکہ سیاحت کےلیے بہت سے اور نۓ راستے کھولیں اور سیاحتی مقامات کو پر رونق بنانے کےلیے حقیقی معنوں میں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت سا ریونیو حاصل کرکے ہم دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کریں ۔
کشمیر جنت نظیر وادی ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقامات قابل ذکر ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی قابل رشک ہے ۔ حکومت کا چاہیے کہ وہ بہت سے نۓ مواقع پیدا کرے جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو اور اس کا براہ راست فاٸدہ حکومت اور عوام کو پہنچے اس سے روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہونگے اور مقامی افراد کو ترقی کا موقع حاصل ہوگا اور بہت سے مساٸل حل ہونگے. تحریر : https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09
کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار نام: محمد عمران خان
وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔
مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بیان دیا کہ "کشمیری غلامانہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔”
کشمیریوں کو دی گئی اس شرمناک گالی سے قطع نظر اس نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی نہیں ہوئی ہے اور عمران خان کشمیریوں کے ووٹ سے ہی یہ الیکشن جیتے ہیں ۔”
پورے پانچ سال میں کشمیر کا وزیراعظم رہتے ہوئے جس بندے نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالا، ان کے فنڈز ہڑپ کر گیا، کشمیر میں پانچ سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، کشمیری عوام کو ہمیشہ مایوس کیا، جب کشمیریوں نے اس مایوسی کا بدلہ لیا تو راجا فاروق حیدر نے نہایت ہی شرمناک شکست کھانے کے بعد کشمیریوں کو ہی الٹا گالیاں دینا شروع کر دیں جو کہ نا صرف کشمیریوں بلکہ پورے پاکستان کیلئے انہتائی افسوسناک بات ہے۔ تم کس قسم کے وزیراعظم ہو کہ اپنے ہی عوام کو غلام ذہن سوچ رکھنے والا کہہ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی قربانیاں یاد نہیں آئیں؟ کیا کئ سالوں سے کشمیریوں کا حق کھانے کے بعد تمہیں الٹا وہی کشمیری غلام لگنے لگے؟ قابل مذمت بیان دیا ہے راجا فاروق حیدر نے، جس پر کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ، کوئی بھی نہیں کیونکہ قوم سب سمجھتی ہے ۔
کشمیر انتخاب میں اینٹی انڈیا اور پرو انڈیا بیانیہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جب بھی جلسہ کیا تو اپنی ذاتی گاڑیاں بھر بھر کے جلسہ گاہ کو سجایا گیا، یا وہاں کے لوگ جلسے میں آئے بھی تو مریم نواز صاحبہ کا تماشا دیکھنے آئے، ووٹ دینے کا انکا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا،
اور ووٹ دیتے بھی کیسے؟ جب بھی مریم نواز نے تقریر کی تو ہمیشہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بات کی، ہمیشہ ہر جلسے میں پاک فوج کے خلاف بولتی رہیں ۔ اپنے ہر جلسے میں عمران خان نے یہ کر دیا عمران خان نے وہ کر دیا، بس صرف عمران خان عمران خان کرتی رہیں،
کشمیر پہ مظالم انڈیا نے ڈھائے ہوئے ہیں، اور ڈھا رہا ہے ۔
کشمیری عوام کو ہر طرح کی تکلیف نریندر مودی دے رہا ہے اور مریم نواز صاحبہ نے وہاں جا کے مودی کا نام تک نہیں لیا، کیا کشمیری اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ آپ کی مکاری نہیں سمجھ سکے؟
عمران خان جب اپنی ہر تقریر میں انڈیا اور نریندر مودی کو جھاڑ رہا تھا تو مریم نواز اور بلاؤل مودی کا نام تک لینے سے کترا رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ
عمران خان مقبوضہ کشمیر میں مودی کو مظالم کا ذمہ دار ٹہرا رہا تھا تو مریم نواز عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذمہ دار ٹہراتی رہی۔کشمیری گھاس نہیں کھاتے۔ نا ہی کشمیری ابھی دودھ پیتے بچے ہیں، مریم نواز صاحبہ کی تقریریں سن سن کر کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ "اگر مریم نواز کی تقریروں سے "عمران خان” کا نام
نکال لیا جائے تو وعدہ کرو، آو گے، دو گے اور لوگے وغیرہ ہی رہ جاتا ہے۔”عین مہم کے دوران نواز شریف کی جعلی تصویر فوٹو شاپ کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ "کشمیر سے رشتہ پرانا ہے ”
پکڑی گئی تو ڈیلیٹ کردی ۔ مگر ڈلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا، آج کل تیز زمانہ ہے لوگوں نے سکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کیے تو مریم صفدر کا جھوٹ فریب نا صرف کشمیر والوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا میں بہت رسوائی ہوئی اور اس جعل سازی پر معذرت بھی نہیں کی۔ جس کا صلہ اسے کشمیر میں بد ترین شکست کی صورت میں مل چکا ہے۔
لہذا عرض ہے نانی یہ اپنا چورن لاہور میں بیچے ،یا پھر سندھ کا رخ کرے۔ کیونکہ یہ جہاں بھی جائے گی رسوائی اس کا مقدر ہو گی، امید ہے کہ اب پاکستان کا ہر ذی شعور یہ بات سمجھ چکا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کے اصل محب وطن لیڈر ہیں جو پاکستان کو اپنے وطن کو سپر پاور بنا کر ہی دم لیں گے ان شاء اللہ!
پاکستان زندہ باد عمران خان پائندہ باد!!@Imran1Khaan

ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری
اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
فوج نے انہیں گود میں پالا
اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
مگر ان کی بلا سے،
اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
وہ تو بچی ہے ! #تحریر سید لعل بُخاری
@lalbukhari
آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان
آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں@_Faizakhann

عمران خان ، مافیا اور عوام۔ تحریر :احسن وقار خان
ہم روز مافیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ مافیا اتنا طاقتور بنا کیوں ؟
ہم مافیا کو پاکستان کی بربادی کا سبب تو قرار دیتے ہیں لیکن کبھی خود اس مافیا کے خلاف کھڑے ہوۓ؟
ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملے گا ۔
اگر آج کا مافیا اتنا طاقتور ہے تو اس کی قصور وار عوام خود بھی ہے ۔
ایک طرف غریب عوام مافیا کو گالیاں نکالتی ہے تو دوسری طرف خود یہی عوام اگر اس مافیا کو کچھ کہو تو اس مافیا کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔پاکستانی عوام کی سوچ روٹی کپڑے اور مکان سے شروع ہوتی ہے اور دکھ سکھ میں شرکت سے ہوتی ہوئی گٹر کی صفائی ، نالیاں اور روڈیں پکی کرنے پر پورا ہو جاتی ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کے ہمارے پیارے پاکستان کی ایک ایسی جماعت نے تین دفعہ حکومت کی۔ جس نے نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان “کا لگایا لیکن بیرون ملک ”مسٹر 10 پرسنٹ“ کے نام سے مشہور رہی۔
اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کہ کیوں اس جماعت کو سپورٹ کرتے ہو ؟ تو ان کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا ہے ۔””۔۔بھٹو لیڈر تھا اس لیے سپورٹ کرتے ہیں““۔۔ ان سپوٹروں کو نا پاکستان کی تصویر بیرون ملک خراب ہونے کی فکر ہے نا پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے پر اس جماعت پر غصہ ۔۔۔۔۔۔بس فکر ہے تو اس مردہ بھٹو کی جس نے پاکستان کو تقسیم کر دیا ۔اس جماعت کے چوروں ڈاکوں پر ہاتھ ڈالو تو یہی عوام جو روتی ہے ان کی خاطر ان کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے تو مافیا طاقتور کیوں نا ہو ۔؟
اب آتے ہیں دوسری جماعت کی طرف جس کے لیڈر کو عدالت عظمٰی کی طرف سے”” سسیلہن مافیا ““کے لقب سے نوازا گیا لیکن وہ جناب آج بھی کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”مجھے کیوں نکالا “؟؟اور پھر یہی عوام تالیاں مارتی ہے ۔
حمزہ شہباز کہتا ہےکہ
” کرپشن تو ہوتی رہتی ہے“ـ
مریم نواز کہتی ہے
”” میرے باپ کو جان کی گارنٹی دو پھر پاکستان آۓ گا““
اس شخص کو پاکستان آتے ڈر لگتا ہےجو پاکستان کا تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔
سب سے بڑا مافیا اس جماعت میں ہے لیکن طاقتور ہے عوام کی طاقت سے۔اس مافیا کو پتا ہے ہم جو مرضی کریں یہ عوام ہماری حفاظت کے لیے باہر نکل آۓگی ۔
اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کیوں سپورٹ کرتے ہو تو کہیں گے کہ اس نے موٹر وے بنائی اس نے روڈیں بنائیں۔
کوئی مجھے یہ نہیں بتاتا کہ کیا روڈیں بنانے سے ان کے گھر کا چولہا جلے گا ؟؟؟؟؟۔اب آتے ملک کی تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف جو تعلیم ، روزگار کے نعرہ کے ساتھ 2018 میں اقتدار میں آئی جس کا سربراہ عمران خان آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرتا ہے ۔کشمیر کا سفیر بن کر”” کلمہ حق ““بلند کرتا ہے ۔
جو روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے پر عمل کرتے ہوۓلنگر خانے بھی چلا رہا ہے اور سستے گھر بھی بنا کر دے رہا ہے ۔
روڈیں اور پل بھی بنا رہا ہے
صرف اتنا نہیں ملک میں بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
بہت سی کمپنیاں کارخانےلگا رہی ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گا ۔لیکن عوام کو یہ سب ایک رات میں چاہیے ۔
اس عوام کو سمجھنا چاہیے کارخانے، فیکٹریاں اور ڈیم ایک دن میں نہیں بنتے ۔انھیں وقت درکار ہے ۔
عوام کو سوچنا چاہیے کے اسے کس کو سپورٹ کرنا ہے ایک ایسے شخص کو جس کی وجہ سے ہر شخص کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے ۔ایک ایسا شخص جس کے آنے کے بعد پاکستان ہمیشہ سامنے کھڑا رہتا ہے ۔جس شخص کی وجہ سے اب تمام اہم معاملات میں پوچھا جاتا ہے ۔
وہ شخص جو اقوام متحدہ میں” کلمہ طیبہ“ یہودیوں کے سامنے سر بلند کرتا ہے ۔جو شخص پاکستان کو دن رات محنت کر کے اندھیرے سے اجالوں میں لا رہا ہے ۔
یا دوبارہ اس مافیا کو سپورٹ کرنا ہے جس نے پاکستان کو لوٹنے کی سوا کچھ نہیں دیا ۔خدارا!!!
تمام پاکستانی سب سے پہلے پاکستان کا سوچیں ۔کبھی کسی کرپٹ کے بازو نا بنیں ۔
سب سے پہلے پاکستان کو رکھیں ۔
پاکستان زندہ باد@KhanKh23151672

عنوان : ایسا کیوں؟؟ تحریر : شاہ زیب
یہ میرا ہی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے اور بالکل سچ ہے
پاکستانی تاریخ میں نواز شریف تقریباً سب سے زیادہ وقت اقتدار میں براجمان رہے لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان بھی نواز شریف نے ہی پہنچایا
پہلے تو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ایسا لوٹا کہ ایک لوہار کے بیٹے صرف چار سال کی عمر میں اربوں روپے کے مالک بن گئے
اور صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان سے باہر لندن میں مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس کے مالک نکلے
نواز شریف نے ان کا جواز پاکستانی سپریم پارلیمنٹ میں یہ دیا کہ میرے والد ایک معروف انڈسٹریلسٹ تھے جن سے وراثت میں ہمیں اتنی جائیداد ملی
دوسری طرف بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ
شہباز شریف نے بھی اسی ایوان میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں ایک غریب کسان کا بیٹا ہوں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچا
اب نواز شریف اور شہباز شریف دونوں سگے بھائی ہیں
لیکن دونوں کا باپ کے بارے میں اختلاف ہے جو پاکستانی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے
نواز شریف سے معصوم سمجھے جانے والے شہباز شریف کی داستانِ کرپشن دیکھی جائے تو موصوف ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
درجنوں ملازمین اور نامعلوم پاپڑ والے/ ٹھیلے والے وغیرہ وغیرہ کے اکاؤنٹ سے ان کی رقم نکل رہی ہے
یہاں تک کہ ان کے ذاتی اکاؤنٹس سے بھی اربوں روپے کی رقم نکل رہی ہے
پوچھنے پر ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرتا رہا
الغرض ان کی کرپشن کی داستانیں ایسی مشہور ہیں کہ یہ خاندان کرپشن میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اور ان کی پارٹی مسلم لیگ نواز دنیا میں دوسرے نمبر پر 🙏
نون لیگ اور پیپلز پارٹی بدل بدل کے باریاں لیتے رہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے کے میں آپ کے حلق سے پیسے نکال لوں گا اور میں آپ کو لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا لیکن یہ صرف بیان بازیاں تھیں لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے
پانامہ لیکس وکی لیکس میں ان کی ہوشربا کرپشن کے انکشافات کیے گئے
2018 کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ان کو مزید ایکسپوز کیا جس کے بعد ایک نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا جن میں ان کی اصلیت عام عوام تک پہنچی
جس کے بعد یہ جماعت عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگی
نواز شریف حسبِ سابق جیل کے ڈر سے مختلف بیماریوں کا بہانہ بنا کر پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پارٹی کی کمان ظاہری طور پر شہباز شریف اور عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں آ گئی
مریم نواز کے عمران مخالف بیانات پاکستان مخالفت کا روپ دھارتے گئے
حتی کہ جو پاکستان کے خلاف کوئی بات کرتا ہے یہ محترمہ ان کے حق میں بیان کرتی نظر آتی ہیں
یہ پارٹی شروع سے فوج محالف تو رہی ہی ہے اب پاکستان مخالفت میں بھی کوئی شک نہیں رہا
نواز شریف واحد پاکستانی سابق وزیراعظم ہیں جن کا بیان پاکستان ہی کے خلاف عالمی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا
انڈیا امریکہ اور اسرائیل جیسے بد ترین دشمن بھی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں تو یہ ان کی حمایت کرتے ہیں
آخر ایسا کیوں؟؟
کیا وجہ ہے؟؟
مریم نواز کے آنے سے پارٹی کی جو تباہی ہوئی سو ہوئی پاکستان کی بھی دنیا میں بدنامی ہوئی
اور ان محترمہ کو کوئی پچھتاوا بھی نہیں بلکہ الٹا مزید یہ کھل کر پاکستان کے خلاف بول رہی ہیں
وجہ صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے اور کچھ نہیں 🙏
اقتدار میں آ کے یہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اس کا مشاہدہ آپ ان کے گذشتہ ادوار سے بخوبی لگا سکتے ہیں
دنیا کے مہنگے ترین منصوبے انہوں نے پاکستان میں شروع کیے کس لئے؟؟ صرف اور صرف بھاری کمیشن کی غرض سے
اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آیا کنٹریکٹر اصل میٹریل استعمال کر رہا ہے یا ناقص
اورنج ٹرین کے منصوبے کو دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ قرار دیا گیا ہے
مہر 27 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط اورنج ٹرین پر جتنا پیسہ لگایا گیا اس سے لاہور تا کراچی مکمل نیا ریلوے ٹریک بچھایا جا سکتا تھا
یا پورے پاکستان میں ہسپتالوں کا ایک بہترین نظام بنایا جا سکتا تھا
یہی حال میٹرو بسوں کا ہے جو کہ ادھار پر لی گئیں اور ان پہ لاگت بھی ہم پاکستانی عوام افورڈ نہیں کر سکتے
کیا اب بھی ہم بحیثیت پاکستانی اس کرپٹ لیگ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟
یقیناً نہیں
کیوں کہ ہمیں پاکستان اور پاکستان کے وسائل عزیز ہیں ہم ایک بہترین قوم ہیں جو کم ترین بجٹ کے باوجود دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہیں واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے عالم اسلام میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں دنیا میں ایک نمایاں جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں ہر موسم اور ہر طرح کا خطہ ارض رکھتے ہیں
وسیع معدنی ذخائر اور ہر طرح کے پانیوں کی سرزمین کے باسی ہیں الحمدللہ
دشمن پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی افادیت سے بخوبی واقف ہے
اور اس کی نظر میں یہی چیزیں سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے
دشمن نے پاکستان کی سرزمین کو نقصان پہنچانے کی خاطر پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جس سے نواز شریف جیسے لوگوں کو خرید کر اپنی مرضی کے کام کروائے افغانستان کے ذریعہ پاکستان میں امن کو نقصان پہنچایا اور بلوچستان میں کئی نام نہاد تحریکیں چلوائیں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچایا
پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بے مثال فتح حاصل کی اور اب اس فتح کو برقرار رکھنے میں پاکستانی عوام کا کردار نہایت اہم ہے.
ہمیں چاہئے کہ اپنے ووٹ کی طاقت ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے استعمال کریں جو پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں پاکستان کو لے کر چلتے ہیں نہ کہ دشمنوں کو مضبوط کریں
پاکستان ہمارا ہے اور فرمانِ قائد کے مطابق "دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی”

تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی تحریر چوہدری عطا محمد
25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات نے یہ واضح کر دیا کہہ جس طرح پاکستان میں 25جولائی 2018میں تبدیلی کی ہوا چلی اور تبدیلی آگئ اسی طرح کشمیر میں بھی الیکشن سے پہلے بہت سے مبصرین نے تبدیلی کی پیشین گوئی کی اور تقریباً سب نے ہی اسی طرح کے رزلٹ کی پیشین گوئی کی جو رزلٹ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت کی صورت میں آیا
کشمیر کی عوام نے تو وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین کی آواز پر نہ صرف جلسوں میں نعرے لگاۓ بھر پور شرکت کی بلکہ الیکشن والے دن تبدیلی والوں کے انتخابی نشان بلے پر مہر لگا کر اپنا حق ادا کر دیا
کشمیری عوام نے سادہ اکثریت 25سیٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن جتوا کر وزیز اعظم عمران خان سے اب بہت سی توقعات کر لی ہیں
پاکستان تحریک انصاف یہ بات یاد رکھے کہ عوام کو ترقی اور کمزور علاقوں کو اگر اٹھانا ہے تو اختیارات کو نچلی سطع پر لانا ہوگا اس کا طریقہ بہت آسان ہے اور پوری دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ان ممالک میں بلدیات کا نظام بہت ہی موثر ہے اگر پاکستان تحریک انصاف کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کا فائدہ نچلی سطع پر غریب عوام کو ضرور حاصل ہوگا
یہاں یہ بات بھی یاد کرواتا چلوں کہ کشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991ء میں ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجئے کہ کشمیر میں گزشتہ کتنے لمبے عرصے سے جمہوریت بغیر بلدیاتی اداروں کے چل رہی ہے۔ زرا سوچیں جہاں جمہوریت بھی ہو اور بلدیاتی ادارے نہ ہوں کیا بلدیاتی نظام کے بغیر حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک بہتر طریقہ سے پہنچاۓ جا سکتے ہیں پوری دنیا میں تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری ادارے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور اختیارات انتہائی نچلی سطح تک تقسیم کیے جاتے ہیں
اگر ترقی یافتہ دنیا کی بات کی جاۓ تو دُنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی سے لے کر بیشتر اختیارات شہری حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا
یہاں یہ بات بھی یاد دلاتا چلوں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ ادوار میں جب آزاد کشمیر میں الیکشن کے جلسے جلوس کئے تھے اس وقت ہر جلسے میں بھی اور اپنے منشور میں بھی لکھا تھا کہ ہم بہت جلدی بلدیاتی انتخابات کروائیں گے پیپلز پارٹی کی جب حکومت تھی تو مسلم لیگ ن کے ابھی کے وزیز اعظم راجہ فاروق حیدر نے بہت یہ مسلہ اٹھایا کہ بلدیاتی انتخابات کرواۓ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کے پانچ سال مکمل ہوگے لیکن بلدیاتی الیکشن نہ ہوا پاکستان مسلم لیگ نواز نے 2016ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ ہی یہ تھا کہ ہم ہر صورت میں بلدیاتی انتخابات کروایں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جس راجہ فاروق حیدر نے بہت آواز اٹھائی وہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں عدالتی حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے اور اس کا نقصان آج کے الیکشن میں انہیں بہت زیادہ ہوا
اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے تو عوامی خواہش کے مطابق اور کشمیر جیسے خوبصورت علاقے کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہوگا کہہ ایسا وزیز اعظم کشمیر میں لایا جا سکے جو ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی بہتری کے لئے کام کرے اور بلدیاتی انتخابات کا جلد سے جلد انعقاد کرے جس دن کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوگے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت پہلے سے دوگنا ہوجاۓ گی ان شاءاللہاللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین
@ChAttaMuhNatt

کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
اس وقت پنجاب ،کے پی کے ،گلگت ،وفاق پر مکمل پی ٹی آئ کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے ان تمام صوبوں میں زبردست ترقیاتی کام جاری ہیں ،صحت کارڈ دیئے جارہے ہیں ،قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن جاری ہیں ،عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جارہا ہے ،عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جارہا ہے ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف انڈسٹریز کو مزید بہتر بنانے کے لئے سہولیات دی جارہی ہیں ،صحت ،تعلیم اور پولیس سسٹم میں کافی حد تک بہتری آرہی ہے کسی بھی طرح عوام کو تنہا بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جارہا ہے ابھی کشمیر الیکشن جیتنے کے بعد یقینن کشمیر کی عوام کو بھی تمام سہولیات دی جائیں گی اور کشمیر کی خوشحالی کا دور اب شروع ہوا چاہتا ہے ایسے حالات میں صرف ایک صوبہ سندہ رہ گیا جو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونے کی بجائے مزید تباہی وبربادی کی طرف جارہا ہے تعلیم ہے نا صحت اور پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ جسے سندہ حکومت اپنی سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کررہی ہے ،سندہ میں پچھلے ١٣ سال سے مسلسل پپلزپارٹی کی حکومت چلتی آرہی ہے ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن وہ پیسہ عوام پر استعمال ہونے کی بجائے کرپشن لوٹ مار کی نظر ہورہا ہے عوام غربت کی زندگی گزارہی ہے جبکہ وزراء اور حکومتی مشیر اربوں کی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں ،سندہ کی عوام کو بلکل بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے پپلزپارٹی کے اس ظلم وستم سے سندہ کی عوام تنگ آچکی وہ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی سے امیدیں لگائ بیٹھی ہے ،پی ٹی آئ واحد پارٹی ہے جو سندہ سے بھی پپلزپارٹی کا صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ان حالات میں وزیراعظم صاحب نے کشمیر الیکشن کے فوری بعد سندہ میں پارٹی کو مضبوط بنانے کی حکمت بنالی اور آئندہ بلدیاتی الیکشن ہوں یا ٢٠٢٣ کا الیکشن پپلزپارٹی کو عبرتناک شکست دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندہ میں پی ٹی آئ قیادت کو متحرک ہونے کا ٹاسک دے دیا اور وزیراعظم صاحب خود بھی سندہ کا دورہ کریں گے.
سندہ میں پی ٹی آئ کو مضبوط کرنے کے لئے سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کو پی ٹی آئ میں بیٹھے الطاف حسین کی سوچ رکھنے والے تعصب پرست عناصر کی زبان بند کرنی پڑے گی یہ لوگ آئے روز کراچی کو سندہ سے الگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے سندہ کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بات کا فائدہ پپلزپارٹی اٹھاتی ہے Mqmمہاجر کارڈ اور پپلزپارٹی سندھی کارڈ کے زریعے عوام میں تعصب پھیلاکر ووٹ لیتے آئے ،mqm کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر کراچی شہر سے جیتتی آئ ہے جبکہ پپلزپارٹی باقی سندہ کے اضلاع سے مرسوں مرسوں سندہ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر الیکشن جیتتی رہی دونوں پارٹیاں اس حد تک تعصب پھیلاتی رہی ہیں کہ نا mqm کبھی سندہ کے دیہی علائقوں میں اپنی جگہ بنا پائ اور نا پپلزپارٹی کبھی سندہ کے شہری علاقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی دونوں تعصب کی بنیاد پر عوام کو آپس میں لڑواکر الیکشن جیتتے رہے.
لیکن پی ٹی آئ کو یہ غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ،پی ٹی آئ کو کراچی تا کشمور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،سندھی مہاجر کی تعصب کی لڑائ کو ختم کرکے دونوں کو ایک دوسرے کو قریب لانے کی ضرورت ہے اس وقت بھی پی ٹی آئ میں کراچی شہر کے کچھ لوگ ایسے بیٹھے ہیں جو الطاف حسین والی سوچ کے تحت تعصب پھیلاتے نظر آتے ہیں وہ ہر وقت کراچی والے کراچی والے کرتے نظر آتے ہیں ان کو لگتا ہے شائد پپلزپارٹی شہر کراچی کے علاوہ باقی پورے سندہ میں بڑے ترقیاتی کام کروارہی ہے بس کراچی کے ساتھ ذیادتی کررہی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں پپلزپارٹی بلاتفریق پورے سندہ کو تباہ کررہی آپ کراچی سے تھرپارکر ،شکارپور،لاڑکانہ ،نوابشاہ ،گھوٹکی کہیں بھی چلے جائیں کسی جگہ آپ کو کوئ ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آئے گا البتہ ان کراچی والے کراچی والے کرنے والوں کی وجہ سے پی ٹی آئ کو سندہ کے باقی اضلاع میں جگہ بنانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پپلزپارٹی دیہی علائقوں میں پی ٹی آئ کے ان کراچی والے کا نعرہ لگانے والوں کی باتیں عام سندھی کو سناکر یہ تعصب پھیلانے کی کوشش میں لگی ہے کہ اگر پی ٹی آئ بھی اقتدار میں آگئ تو یہ بھی mqmکی طرح کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کی کوئ سازش کریں گے اور سندہ کی عوام بھوک ،پیاس،تکلیفیں سب برداشت کرکے ایک بار پھر پپلزپارٹی کی طرف چل پڑتی ہے تاکہ سندہ کی تقسیم نا ہو پپلزپارٹی اس کام کے لئے سندہ کی قومپرست جماعتوں کی بھی خدمات لیتی ہے تاکہ پی ٹی آئ کو سندہ دشمن مان لیا جائے ،ایسی صورتحال میں پی ٹی آئ پہلے تو بلکل واضع احکامات جاری کرے اپنی ان کراچی اور سندہ کہنے والے پارٹی قیادت کو کہ شہر کراچی کے حقوق کی جب بات کرو تو ساتھ سندہ کے باقی اضلاع کے بھی حقوق کی بھی بات کریں کسی بھی طرح اپنی زبان سے ایسے کوئ الفاظ ادا نا کریں جہاں سندہ کے باقی اضلاع کے لوگوں کو آپ کے الفاظ سے کوئ تعصب کو بو آئے.
پورے سندہ میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کریں مہاجر اور سندھی بھائیوں کو آپس میں قریب لائیں ان کے درمیان سے نفرت یا تعصب ختم کریں سندہ میں رہنے والے سب ایک ہیں کا نعرہ لگائیں ،پھر سندہ کی بڑی سیاسی شخصیات ،پڑھے لکھے نوجوانوں اور بڑا قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات کو اپنے ساتھ ملائیں ،سندہ میں اپنے کارکنوں کی داد رسی کریں ،مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں ،سندہ کے عوام کی رائے کو تسلیم کریں ،آپ کے کسل لفظ سے کسی کی دل آزاری کسی صورت نا ہو.
ہر ضلع اوریونین کاونسل تک تنظیم سازی کی جائے ،زرداری لیگ کی سندہ میں کرپشن لوٹ مار بے نقاب کی جائے ،قومپرست جماعتوں سے بھی بات چیت کرکے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں ،سندہ میں پپلزپارٹی مخالف تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں یا ان سے اتحاد کریں ایک بہترین حکمت عملی اور واضع پالیسی کے ساتھ سندہ میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے اترا جائے تاکہ سندہ سے پپلزپارٹی کی بادشاہی دور کا اختتام ہو اور ایک نیا سندہ بن سکے تاکہ سندہ میں پی ٹی آئ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے.
@MajeedMahar4









