Baaghi TV

Category: سیاست

  • بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں  تحریر:وسیم اکرم

    بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں تحریر:وسیم اکرم

    ہم ہر روز سیاستدانوں کو گالیاں دیتے ہیں اور کرپٹ کہتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ کرپٹ ہونے کیلئے لازم نہیں سیاستدان ہونا، بحثیت قوم ہم سب لوگ کرپٹ ہیں بس ہمیں جس جگہ جتنا موقع ملتا ہے ہم کرپشن کرتے ہیں۔۔۔

    میں نے جب سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو کرپشن میں لت پت دیکھا تو سوچ میں پڑھ گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے لیڈرز کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، فراڈ کرتے ہیں، مالی لٹیرے ہیں، منافقت کرکے ایک ڈبکی لگا کر پاک صاف بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔

    دوستو غور کریں تواصل میں سارا قصور ہمارا ہے، کرپٹ ہم ہیں، جھوٹ ہم بولتے ہیں، فراڈ ہم کرتے ہیں، دھوکہ ہم دیتے ہیں، دودھ میں پانی اور پاؤڈر ہم ملاتے ہیں، دوائیوں تک میں ملاوٹ ہم کرتے ہیں، گردے ہم چوری کرتے ہیں، یہاں تک کہ قبروں سے ہڈیاں تک نکال کر بیچ جاتے ہیں۔۔۔

    بحیثیت ڈاکٹر ہسپتال اور پرائیویٹ میں رویے الگ الگ رکھتے ہیں، بحیثیت استاد وقت کی پابندی نہیں کرتے، بحیثیت آفیسر بد دیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں، بحیثیت بوس غریب کو دباتے ہیں، پرائیویٹ سکولوں میں دھوکہ دیتے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی بجائے بزنس سمجھ کر ڈیل کرتے ہیں۔۔۔

    حکومتی محکموں میں رشوت اور سفارش کے بغیر کام نہیں کرتے، غریب کو پھیرے لگاتے ہیں، محکموں میں سیاسی تقرریاں اور تبادلے کرواتے ہیں، پھر کام صرف سیاسی محسنوں کو دیتے ہیں۔۔۔

    بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار پیسہ ہی ہے، کوٹھی کار والے کو بڑا سمجھتے ہیں، غریب سے منافقت کرتے ہیں، برادریوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں، دکھاوے کی نمازیں اور بے وضو جنازے پڑھتے ہیں۔۔۔

    جنازوں پر ثواب کی نیت چھوڑ کر منہ دکھانے پر زور ہوتا ہے، کسی بیمار کی عیادت پر جاتے ہیں تو مکان اور کھانے پینے پر زور ہوتا ہے، فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں تو سو سالہ پلان ڈسکس کرتے ہیں، قبر کی فکر کی بجائے رنگ روغن پر دھیان ہوتا ہے۔۔۔

    میرے عزیز ہم وطنوں جب اس طرح کا میں ہوں تو میرا لیڈر بھی میرے ووٹ سے بنے گا نا، وہ بھی میری طرح ہوگا نا، میں خود اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں تو لیڈر بااخلاق کیسے ہو گا، جب میں دھوکہ باز ہوں تو ایسا ہی لیڈر چنوں گا نا تو گلہ کس سے شکوہ کس سے اور شکوہ کیوں۔۔۔؟

    ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ قانون کے رکھوالے اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ تعلیم کو کاروبار بنا سکتےہیں، ہم پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ کامرس کی تعلیم رکھنے والے مزدور کا خون چوس سکتے ہیں۔۔۔

    اسکے باوجود سب سے زیادہ کرپٹ ہم خود ہیں پٹواریوں کی صورت میں، نیب قاصد کی صورت میں، منشی کی صورت میں، ڈاکٹر کی صورت میں، نرس کی صورت میں، لیبارٹری کے ٹیسٹ کرنے والوں کی صورت میں وکیل کی صورت میں اور انکے فوٹو کاپی منشی حضرات کی صورت میں، تعلیم کی صورت میں، پرائیویٹ اداروں کی صورت میں، فیس زیادہ سے زیادہ رکھنے والوں کی صورت میں، تنخواہ کم دینے والوں کی صورت میں، میڈیا کی صورت میں ہم سب کے سب کرپٹ ہیں۔۔۔

    پھر بھی ہماری عوام کی اکثریت اس بات پر پریشان ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں، ہماری عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا وغیرہ۔۔۔

    مطلب کوئی بھی ملکی ادارہ جھوٹ اور کرپشن سے پاک نہیں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ ان سب کی وجوہات کیا ہیں۔۔۔؟ ہمارا دین اسلام کی تعلیمات سے دوری اور خوف خدا کا نہ ہونا ہے۔۔۔

    ہمارے معاشرے کا اسلام پسند محبت وطن خوف خدا رکھنے والا مخلص طبقہ فقط خود تک یا وعظ و نصیحت تک محدود ہوگیا ہے۔ جبکہ موجودہ دور میں اس طبقہ کی عملی طور پہ ملک کو ضرورت ہے کہ خود کو دنیاوی علوم و فنون سے آراستہ کریں اور اپنے خلوص اور قابلیت کو لے کے ملکی اداروں میں جائیں۔۔۔

    انہوں نے اس میدان کو خود خالی چھوڑ کر لادین اور دشمن کے آلہ کار لبرل طبقے کیلئے راہ ہموار کی ہے۔۔۔ اسلئے اپنے ملک کو بچانے اور اسلام کے نام پہ حاصل کیے گئے اس ملک میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کیلئے ہمارے محب وطن اور دین پسند نوجوان نسل کو دنیاوی تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا۔۔۔

    ہمارے لوگ بہت باصلاحیت ہیں مگر موجودہ نظام اور کرپشن کو دیکھ کے مایوسی کا شکار ہیں۔۔۔ ہمیں اس مایوسی کو ختم کرنا ہے ایک نئی امید اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور پاکستان کو کرپشن سے، بددیانتی سے پاک کرکے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے حقیقی پاکستان بنانا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اپنے آپکو ٹھیک نہیں کرلیتے۔۔۔
    ت

  • اگلے الیکشنز کون فاتح  تحریر: انوارالحق

    اگلے الیکشنز کون فاتح تحریر: انوارالحق

    دیکھنا یہ ہے کہ پی۔ٹی۔آئی حکومت سوشل میڈیا کی طاقت کے بل پر کب تک پذیرائی برقرار رکھتی ہے۔ پی۔ڈی۔ایم چاروں خانے چت ہو کر عملی طور پر دوبارہ حصے بخروں میں بٹ کر اپنی اپنی بقاء کی جنگ کے روائتی مورچوں میں جاچکی ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ اپنے سیا سی محرکات کی نمائش کیلیے ایکدوسرے کیخلاف چھوٹے پیمانے پر شرلیاں پٹاخے چھوڑتے رہتے ہیں اس سلسلے میں بلاول کے بیانات تو واضح ہیں لیکن ن لیگ محتاط بیان بازی پر کاربند نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں اور شائید ٹھیک سمجھتے ہیں کہ اس طرح حکومت کی مخالفت بھی ہوتی رہے گی اور اپنا اپنا ووٹ بینک بھی مستحکم رہے گا وہ الگ بات ہے کہ مریم اور بلاول عمران مخالفت میں جتنا قریب آگئے تھے ان کے سپورٹرز شائید اتنا قریب کبھی نہ آسکیں۔ن لیگ، پی پی پی اور اب پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان جو نظریاتی تکون بن گئی ہے اس کا پاٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ پرمشکل اور مزیدار کام یہ ہے کہ اس سیاسی تکون کے دو کونوں نے عمران کی مخالفت کیساتھ ساتھ ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے ہوئے مخالفت کا تاثر بھی برقرار رکھنا ہے۔ عمران تو واضح طور پر دونوں کیخلاف ہے لیکن مصیبت ن لیگ اور پی پی پی کے ووٹرز کیلئے ہے کہ انہیں کبھی پتہ نیں چلتا کہ کب پی پی پی کی مخالفت کرنی ہے اور کب حمائیت۔ انکی جماعتوں کا چھوٹا ورکر یا بڑا لیڈر ان سے نہیں پوچھتا کہ کوئی ایک لائن کیوں نہیں اختیار کرتے اگر پی پی پی سے دوستی ہے تو دوستی کرنے دیں اور اگر مفاہمت ہی کرنی تھی تو ہماری ایک ایک دو دو نسلوں کو سیاسی مخالفت سے لیکر ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ کیو ں چڑھایا گیا۔ پھر بھی اب کھل کر بتا دیں کہ بیانیہ کیاہے پی پی پی سے دوستی ہے کہ دشمنی۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن لگتاہے کہ دنیا کے بعض خطوں میں دل کیساتھ ساتھ دماغ بھی نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ پھر سیا سی لیڈر کو سیاسی لیڈر کون کہے اگر اس کی لفظی یا عملی شعبدہ بازی عام جنتا جناردن کی سمجھ میں وقت پر آجائے، جب تک لیڈر کو ئی ایک داؤ سمجھ میں آتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ن لیگ والوں کو اب سمجھ میں آیا کہ بے نظیر بھٹو کی بطور خاتون تضحیک نہیں کرنی چاہئے تھی، صدر ضیا ء الحق کے مارشل لاء کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے تھا، جونیجو کی منتخب حکومت کیخلاف سازشیں نہیں کرنی چاہئیں تھی۔ اسی طرح آصف زرداری ایک طرف ببانگ دہل ٹی۔وی پر بیٹھ کر نواز شریف کو گریٹر پنجاب کو سہولت کار کہتا ہے غدار کہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ وہ لیڈر ہی کیا جس کو مجمع باندھ کر رکھنا نہ آتا ہو، جنتا جناردن ایک بات سمجھنے کی کوشش کرہی رہی ہوتی ہے کہ لفاظی کا اگلا بم گرادیا جاتا ہے جس میں پچھلی سمجھ بو جھ بھی غائب ہو جاتی ہے۔
    شائید اقبال نے ایسے ذہنی محکوموں کے لئے بھی کہا تھا کہ؛
    خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
    پھر سلا دیتی ہے اسکو حکمراں کی ساحری
    وہ کون سا ایسا بڑے سے بڑا یا گھٹیا سے گھٹیا الزام ہے جو سیاسی لیڈران نے ایک دوسرے پر نہ لگایا ہو؟ بھینسوں کی چوری چکاری سے لیکر ملک سے غداری تک، قادیانیت تک، یہودیت تک، بدفعلیوں سے بدکرداری تک سب عوام کو مشتعل کرنے والے الزامات لگائے گئے اور لگائے جا رہے ہیں اور عوام اس بڑھی ہوئی شرح تعلیم کے باوجود بڑھکتی جارہی ہے۔ آج بھی سیاسی مخالفت کب ذاتی مخالفت میں بدل جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ایک پارٹی کا سپورٹر دوسری پارٹی سے محض سیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر دوستیاں، یارانے حتٰی کہ رشتے داریاں تک ختم کردیتا ہے۔ الیکشنز کی چہل پہل میں گالم گلوچ، ہاتھا پائی، ماردھاڑ، ہوائی فائرنگ بلکہ سیدھی فائرنگ قتل وغارت عام بات بن گئی ہے جس سے نہ جانے کتنی معصوم جانیں چلی جاتی ہیں، گھر وں کے واحد کفیل مارے جاتے ہیں،مرنے اور مارنے والے اصل میں دونوں مر جاتے ہیں، حالیہ ضمنی انتخابات میں سیالکوٹ، دینہ اور گجرات کے علاقوں میں ہونے والی قتل وغارت اس سیاسی وحشت کی تازہ مثالیں ہیں۔ سیاسی لیڈران کی زبان سے بھڑکائی آگ میں نہ جانے کتنے جیالے، متوالے، بے نام نشان مارے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتاکہ آکے پوچھے سناؤ جذباتی ورکر صاحب کیابنا، تمھارے ماں باپ، بھائی بہن یا بیوی بچوں کی کیا خیرخبر ہے۔ بڑے ٹی وی چینلز اس ساری آگ کو برابر ہوا دیتے ہیں بڑا اینکر وہی ہے جس کے شو میں شرکاء دست و گریبان ہوں یا کم از کم گالم گلوچ کر یں جو لفظوں سے دوسرے کو گھائیل کردے اسے ہی بڑا تجزیہ کار اور ماہر مانا جاتا ہے۔عوام جانے کب سیکھے گی کہ کس لیڈر کی کون سی بات صحیح ہے اور اسکو سپورٹ کرنا ہے اور کس لیڈر کی کون سی بات غلط ہے اسکی مخالفت کرنی ہے۔
    اپوزیشن عملی طور پر ہے ہی نہیں اب حکومت ہی حکومت ہے، ہر بل پاس ہورہا ہے، ہر طرح کی قانون سازی میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی جس طرح چاہے قانون سازی کر سکتی ہے اور انتظامی طور پر بھی پرانے عدالتی نظام کے باوجود انصاف کی فراہمی اور شہری سہولیا ت کے حوالے سے بہت کچھ کرسکتی ہے۔ دیکھتے ہیں اس ڈیڑہ دو سالوں میں کیا ایساکرتی ہے کہ عوام الناس اگلے الیکشنز میں بھی دوبارہ ووٹ دیتی ہے۔ بال اب پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔

    رابطہ: +923238869398 لاہور، پاکستان

  • بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    جوں ہی بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوتا تو تمام بلدیاتی نمائندے اپنے روایتی انداز میں اچھا سوٹ بوٹ پہن کر لوگوں سے ملتے جلتے اور گھروں پر دستک دیتے دیکھائی دیتے، بیشک ہم انہیں بخوبی جانتے ہوتے لیکن ہر کوئی نمائندہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا کہ کسی طریقے سے بلدیاتی الیکشن جیت جاوں ان میں بیشتر سابقہ ممبر ہی سیٹوں پر آتے، لیکن عوام کو بھی اب زمہ دار شہری بننا پڑے گا یہ کسی فرد واحد کے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا وگرنہ یہ نسل در نسل سلسلہ چلتا رہے گا اور اپ منہ دیکھتے رہ جائیں گیں۔

    صرف عوام اگر زاتی تعلق کی بجائے آنکھیں کھول کر اپنی اپنی وارڈ کا معائنہ کریں کہ چار سالوں کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کہ ہمارے منتخب نمائندوں نے کیا گل کھلائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اگر تو منتخب نمائندہ کارکردگی کی بدولت اپنے معیار پر پورا اترتا تو دوبارہ منتخب کروانا آپ سب کی زمہ داری ہے لیکن اگر منتخب کردہ نمائندہ کی کارکردگی صفر ہے تو اس پر پوری وارڈ کی عوام کو سوچ وچار کرنی چاہیے جس پر انکا پورا حق ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں منفی سوچ کے ساتھ جڑ دیا گیا کہ ہمارے ہاں نمائندہ وہی اچھا جو لوگوں کے جنازوں میں جائے جو لوگوں کی خوشی پر باقاعدگی سے پہنچے جو یقننا ہم ایسا ہی سب چاہتے ہیں اور نمائندہ بھی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے.
    امید کرتا ہوں اپ میری بات کو سمجھیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گیں۔ شکریہ

    @shahzeb___

  • آزاد کشمیر انتخابات تحریر :  محمد حماد

    آزاد کشمیر انتخابات تحریر : محمد حماد


    آزاد کشمیر کی عوام ۲۵ جولائی بروز اتوار آزاد کشمیر کی گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا انتخاب کرے گی۔ ان انتخابات میں ۳.۲ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ۱.۷۵ ملین مرد ووٹرز جبکہ ۱.۴۶ ملین خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ۳۲ سے زائد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جن کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    وزیراعظم عمران خان، بلاول بھٹو، مریم نواز سمیت تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین نے انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خود انتخابی مہم چلائی اور جلسوں سے دھواں دار خطابات کئے۔ ان جوشیلی تقریروں نے نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید گرمایا بلکہ انتخابی وعدوں نے عوام میں ایک نئی امید کو بھی جنم دیا کہ شاید توقعات کے برعکس اس بار یہ وعدے عملی شکل بھی اختیار کریں۔

    انتخابی وعدوں کے ساتھ ساتھ تقاریر میں ایک افسوسناک چیز بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک بار پھر مودی کے یار اور غداری کے نعرے انتخابی جلسوں کی زینت بنے۔ سرحد پار کشمیریوں کی آواز بننے اور انھیں اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کشمیر کا سودا کرنے اور کشمیر بیچنے کے الزامات لگائے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ زاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ خدانخواستہ ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ سیاست بھی نہیں رہے گی۔

    بہرحال اب فیصلہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمیں دعاگو رہنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے لوگ بہترین نمائندوں کا انتخاب کریں اور انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعصے حقیقت کا روپ دھاڑیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer ,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    90 کی دہائی سے شروع ہونے والا کامیابیوں کا سفر تبدیلی کا سفر کب بنا۔ آج میں آپ کی اجازت سے اس موضوع پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

    1985 کی بات ہے جب سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور موجودہ وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی کی والدہ محترمہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر خالق حقیقی سے جا ملیں تو اس دوران مشہور زمانہ کرکٹر عمران خان نے والدہ کی تکلیف کے ساتھ ساتھ اور بھی کافی ایسے لوگوں کی تکلیف دیکھی جو اس موذی مرض میں مبتلا تھے اور وطن عزیز پاکستان میں کوئی بھی ایسا ہاسپٹل موجود نہیں تھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو۔
    ماں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر عمران خان نے ایک ایسا ادارہ بنانے کا خواب دیکھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو اور بہت زیادہ محنت اور کوشش کے بعد اس ہسپتال نے دسمبر 1994ء میں اپنے دروازے مریضوں کیلئے کھولے۔ جو کہ آج تک %70 مریضوں کا علاج مفت کر رہا ہے۔
    اس خواب کی تکمیل میں بہت سے مخیر حضرات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس نے عمران خان کے دل میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ مزید دوگنا ہوگیا۔
    1996 میں تبدیلی نظام کے نام پر ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نام سے وجود میں لائی گئی جس کے بانی عمران خان تھے اور اس جماعت کا نعرہ اور منشور جماعت کے نام سے ہی بہت واضح تھا۔ معززین اس جماعت کی بنیاد کا ساتھ ہی تبدیلی کے سفر کا آغاز ہوا۔

    سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ موجودہ وزیراعظم نے ایک ایسے منصب کا خواب دیکھا جس پر فائز ہونے کے بعد ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا نظام بھی رائج کرنا تھا جس میں امیر اور غریب کیلئے ایک قانون ہو۔
    2002ء میں میانوالی اپنے آبائی حلقے سے پہلی دفعہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مشرف دور کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ 30 اکتوبر 2011 کے لاہور جلسہ نے عمران خان کے خواب اور نظریہ میں جان ڈال دی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان تحریک انصاف کا شمار پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا۔
    الیکشن 2013ء میں تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حکومت ملی جو ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کی پہلی سیڑھی تھی۔ سیاسی بصیرت نہ رکھنے والے شخص نے پہلی دفعہ جب حکومت سنبھالی تو ایسی مثال قائم کی کہ ملک پاکستان کی عوام نے 2018ء کے الیکشن میں اس منصب کیلئے چن لیا جس منصب کا خواب عمران خان نے 1996 میں دیکھا تھا۔
    اور اس تبدیلی کی سفر میں بہت مشکلات اور تکالیف راستے میں رکاوٹ بنیں لیکن جذبہ خدمت اور تبدیلی نظام کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹک سکی۔ اور یوں کامیابیوں سے شروع ہونے والا سفر ایک لمبی جستجو اور محنت کے بعد زور و شور سے جاری ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کو وطن عزیز کی بہتری کیلئے مزید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • سیاحت میں رکاوٹ  تحریر: عمران راجہ

    سیاحت میں رکاوٹ تحریر: عمران راجہ


    پاکستانی سیاحت کو درپیش مسائل
    ‎پاکستان کے شمالی علاقے اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی علاقہ جات کا رخ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں ناران کاغان جانے والوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہوا کیونکہ ناران کاغان روڈ پر ناجائز تجاوزات کے خلاف ہونےوالے آپریشن کی وجہ سے وہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔ کشیدگی پر تو مقامی انتظامیہ نےجلد ہی قابو پا لیا، لیکن کیبن اور ہوٹلوں کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے وہاں کی خوبصورتی بے حد متاثر ہوئی۔ اگرچہ شمالی علاقہ جات کی قدرتی خوبصورتی کو بحال رکھنے کے لیے یہ آپریشن ضروری تھا لیکن مناسب یہ تھا کہ اس کام کو سردیوں میں کیا جاتا جب سیاح یہاں کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔ یا پھر یہ کام گذشتہ سال بھی کیا جا سکتا تھا جب پورا سال سیاحتی مقامات کرونا کے باعث بند رہے۔

    ‎گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گردی کی وجہ سے سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپریشن ضرب عصب اور آپریشن ردالفساد کی کامیابی کے بعد اب آہستہ آہستہ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہورہی تھیں کہ کرونا کی آمد نے شعبہ سیاحت کو ایک بار پھر بری طرح متاثر کیا۔ کرونا کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ٹورازم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    ‎دنیا بھر میں سیاحت کو ایک صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ سیاحت کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے سیاحت کے لیے موزوں ترین ملک پاکستان میں سیاحت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 7.1 فیصد سیاحت سے حاصل ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں اس کی شرح 10 فیصد ہے۔
    ‎پاکستان دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بھرپور ثقافت ، جغرافیائی اور حیاتیاتی تنوع اور تاریخ کی وجہ سے سیاحت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ بلند و بالا برف پوش پہاڑی سلسلہ کوہ ہمالیہ، جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پائی جاتی ہے، وسیع و عریض صحرا تھر اور چولستان اپنی تمام تر خوبصورتی اور اسرار لیے، سرسبز اور مسحور کن وادیاں جن میں وادئ نیلم، ہنزہ، کالاش، ناران کاغان شامل ہیں، تاریخی مقامات جیسے قلعہ روہتاس، شاہی قلعہ لاہور، شالامار باغ بادشاہی مسجد اور مسجد وزیر خان، صدیوں پرانی تہذیب کی نشانیاں ٹیکسلا، موہنجو دڑو اور ہڑپہ، مختلف مذاہب کے اہم مذہبی مقامات، اس کے علاوہ پاکستانی ثقافت جو کہ کراچی سے لے کر خیبر تک ہر طرح کے رنگ لیے ہوئے ہے، یہ سب چیزیں مل کر سیاحوں کے لئے بے پناہ کشش کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کے مقامی تہوار شندور کا میلہ، پولو فیسٹیول، مالم جبہ میں ہونے والا ski tournament اور اسی طرح کی دوسری سرگرمیاں سیاحوں کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔
    ‎پاکستان میں سیاحت کا شعبہ ابتدا سے ہی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔سیاحت کے شعبے کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، غیر معیاری ریستوران ، صفائی کا ناقص انتظام اور ناکافی سہولیات اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تاریخی عمارات جو کہ آرٹ کا بہترین شاہکار ہیں انتہائی خستہ حال ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی ناقص سہولیات کی وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار رہا۔ میڈیا خاص طور پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے دنیا بھر کے سیاحوں کے قدم روک دیے۔

    ‎موجودہ حکومت سیاحت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔کرتار پور راہداری اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔ جس کی بدولت سکھ زائرین کے ساتھ ساتھ دوسرے سیاح بھی بڑی تعداد میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیاحت کی وسعت اور فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پاکستانی حکومت 175 ممالک کو 7 سے 10 کاروباری دنوں کی مدت میں تین ماہ کا ای ویزا فراہم کرے گی اور 50 ممالک کو پاکستان آمد پر ویزا کی پیش کش کی گئی ہے۔ سی پیک کا منصوبہ ایک اہم پیشرفت ہے جو نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

    ‎یوریشین ٹائمز میگزین کے مطابق پاکستان کو 2020 میں تعطیلات کے لیے بہترین مقام قرار دیا گیا اور دنیا کا تیسرا سب سے اعلی مہم جوئی کا مقام بھی قرار دیا گیا۔ چونکہ ملک میں سیکیورٹی کے حالات بہتر ہوئےہیں، سیاحت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ دو سالوں میں ملکی سیاحت میں 300 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں ٹریول ولاگرز کی آمد ہوئی ، جنہوں نے ملک کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کیا، خاص طور پر شمالی علاقوں ہنزہ اور اسکردو۔

    ‎حکومتی کوششوں کے ثمرات تو نظر آنا شروع ہو گئے لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ میڈیا پر اکثر اوقات سنسنی پھیلانے کے لیے ایسی خبریں نشر کی جاتی ہیں کہ سیاحوں پر مقامی افراد نے حملہ کر دیا یا ان کو اغواء کر لیا ۔ ایسی خبریں نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں بلکہ بیرون ملک یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ مقام ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے میں میڈیا سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بے مقصد پروگراموں کی بجائے پاکستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے دستاویزی پروگرام پیش کیے جائیں۔ بلاگرز اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یو ٹیوب پر زیادہ سے زیادہ پاکستانی علاقوں اور پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے والی ویڈیو پیش کی جائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بہت اہم ہتھیار ہیں جن کا مثبت استعمال کر کے ہم بہت سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر سیاحت کے شعبے پر اسی طرح توجہ دی جائے جیسے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے دی جا رہی ہے تو اپنی متنوع خصوصیات کے باعث پاکستان دنیا کا بہترین سیاحتی ملک بن سکتا ہے اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دے کر اتنا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے کہ ملک کا قرضہ بھی بآسانی ادا کیا جا سکے اور ملک ترقی کی راہ پربھی گامزن ہو

    ۔
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2

  • عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس ملک خدادا کو اللہ پاک نے بڑی نعمتوں سے نوازا یہاں کے موسم ،آبی و قدرتی ذخائر،معدنی وسائل ،میدانی علائقے ،پہاڑی سلسلے ، ریگستان ، دریاوں کا پانی ،سمندر ،زرخیز زمینیں ،ہر موسم کی میوہ جات ،محنتی،خوش اخلاق اور پیارے لوگ ،مختلف زبانیں ،الگ الگ کلچر لیکن سب ایک پھولوں کے گلدستے کی طرح ہیں ،دنیا کے سب سے بہترین مذھب دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ہمارے اس عظیم ملک جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے ،اتنی نعمتوں کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن جسے دنیا کے مسلمانوں کی امامت کا فرض نبھانا تھا ،اس عظیم ملک کو دنیا کی سپر پاور بننا تھا لیکن ہم بجائے ترقی اور خوشحالی کے تنزلی اور تباہی کی طرف جانے لگے ،ہمارے لوگ بیروزگاری،بھوک ،افلاس میں پھنستے چلے گئے ،سرکار کے نام پر بننے والے ہر ادارے میں بربادی ہی نظر آتی تھی ،اس تباہی و بربادی کے پیچھے ہمارے نااہل حکمران تھے ،کروڑوں کی آبادی پر چند خاندانوں کی حکومت رہی ،جمہوریت کی بجائے بادشاہی نظام کو فروغ دیا جاتا رہا ،دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پپلزپارٹی نے اس ملک پر باری باری کا کھیل کھیلا پارٹی کے سربراہان کا خاندان خود کو بادشاہ اور اپنے چند قریبی دوستوں یاروں میں وزارتیں اور ملک کی اہم ذمہ داریا دیتے رہے ،ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام اور اس پاک دھرتی کے ساتھ بڑی ناانصافی کی ،ہمیشہ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے کا ڈرامہ کرکے حکومت میں آتے اور پھر دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک ہوجاتی ،پھر اسی طرح یہ لوگ اپنی اپنی باری پر ملک کو لوٹنا شروع ہوتے ،پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر ممالک میں لے جاکر اپنی جائیدادیں اور کاروبار بڑھاتے رہتے ،دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ اور چور کہتے آئے لیکن کیونکہ دونوں اندر سے ایک تھے تو کسی نے ہمت نہیں کی ان کا احتساب کرنے کی ان کے ساتھ چند چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ لے کر مزے لیتے رہے لیکن کرپشن لوٹ مار کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے آن پہنچا ،لوگ بیروزگاری،غربت ،مہنگائ،نا انصافی سے تنگ آچکے ،ملک کا ہر ادارہ تباہ کردیا ،صحت ،تعلیم ،پولیس سسٹم ،ٹرانسپورٹ سسٹم سب برباد کردیئے گئے ،صحت کے نظام کی تباہی کے اس سے بڑا کیا ثبوت پیش کیا جائے کہ جہاں تین بار وفاق اور ۵ بار پنجاب میں حکومت کرنے والی ن لیگ کی قیادت اپنا علاج کروانے باہر جائیں ،سوچیں اس ملک میں کون کاروبار کرے گا جس ملک کے حکمران اپنا کاروبار باہر ممالک میں کریں ،اس ملک کی کیا عزت ہونی جس ملک کا وزیراعظم عرب ملک کی کسی کمپنی میں چپڑاسی بھرتی ہو اقتدار کے نشے میں مست یہ دونوں جماعتیں عوام کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناتی رہی اور خود اس ملک کے بادشاہ بنے بیٹھے رہے ،عوام کی یہ حالت اور ملک کی تباہی دیکھ کر پاکستان کو دنیا میں عزت دلوانے والے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان پاکستان کی شان ہر دلعزیز جناب عمران خان صاحب نے سیاسی سفر کا آغاز کیا پہلے دن تقریر کی جس میں اپنا ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اس ایجنڈے نے پپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائ تو ان لوگوں نے عمران خان صاحب کو وزارتوں کی لالچ دی ،رشوت کی آفرز کی لیکن کپتان ان کے خلاف ڈٹا رہا پھر ان لوگوں نے خان صاحب کے خلاف ذاتی حملے کئے ،کردار کشی کی ،ہر طرح سے خان صاحب کو جھکانا چاہا لیکن خان صاحب نہیں جھکے اور پھر ان دو جماعتی سیاست کے نام پر بادشاہت سے پاکستانی عوام بلکل تنگ آچکی اور قوم کی امیدیں عمران خان صاحب سے وابستہ ہونا شروع ہوئ عوام جوق درجوق پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنتے گئے اور ایک قافلہ بنتا گیا الحمدللہ قوم کے اعتماد اور مسلسل ٢٠ سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد عمران خان صاحب نے ان دو جماعتی اتحاد کو پاش پاش کیا اور عوامی ووٹ کی طاقت سے اس ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ،اپنی سیاسی جدوجہد میں عمران خان صاحب نے کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کو ملک کی اعلی عدالت سے نااہل کروایا اور جب مخالفین نے عمران خان صاحب پر کرپشن کے کیسز کئے تو اسی اعلی عدالت سے عمران خان صاحب صادق و امین ثابت ہوئے جس نے خان صاحب کی حب الوطنی،سچائ ،دیانتداری پر مہر لگادی اور عوام نے اپنے لئے صادق و امین لیڈر کو منتخب کیا جس نے اقتدار میں آتے ہی تمام چور،لٹیروں اور کئ سالوں سے ملک پر حکمرانی کرکے ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب شروع کیا،ادارے سیاست سے پاک کئے ،چوروں کو پکڑ کے جیلوں میں ڈالا تو کئ بڑے چور کسی نا کسی طرح بیماری کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ گئے ،ان چوروں کی سیاست بلکل اسی طرح تباہ ہوئ جیسے ان لوگوں نے کرپشن کے زریعے اس ملک کو تباہ کیا اب وہ دنیا بھر میں رسوا ہوئے بیٹھے ہیں اور عمران خان صاحب دنیا میں پاکستان کا کھویا ہوا مقام دلانے کی کوششوں میں مگن ہیں آج وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوششوں سے پاکستان کی کھوئ ہوئ ساکھ بحال ہورہی ہے ،چوروں سے نجات کے بعد قوم نے سکون کا سانس لیا تو وہیں وزیراعظم عمران خان صاحب اس قوم کو عظیم قوم بنانے میں مصروف ہیں ،ہمارے انصاف کا نظام ،تعلیم ،صحت سمیت تمام سرکاری اداروں میں واضع بہتری آرہی ہے ملک خوشحالی طرف چل پڑا اب اس ملک میں کسی چور ،کرپٹ انسان کی کوئ گنجائش نہیں انشااللہ اگلے چند سالوں میں وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں پاکستانی ایک عظیم قوم بن کر دنیا میں ابھریں گے ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ،عوام خوشحال ہوگی اور دنیا اس عظیم انقلاب اور اس کے ہیرو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی.

    عمران خان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @MajeedMahar4

  • کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی  تحریر: محمد عدیل علی خان

    کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی تحریر: محمد عدیل علی خان

    اقوام متحدہ کو چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم نظر آتا ہے جو صرف پروپیگنڈا ہے اصل ظلم اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا کشمیر 700 دنوں سے کرفیو میں پڑا ہوا ہے اقوام متحدہ یہاں پر جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا کشمیری ماؤں کی عزتیں لیلام ہو رہی ہے …وہ نظر نہیں آتا کشمیر میں بھارتی فوج نے ماؤں بیٹیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کر رہی ہے وہ دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا جب ان کے بیٹوں کو انکے سامنے زبح کیا جاتا ہے جب انکی بیٹیوں کی انکے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے انکا بہت ہی گندے طریقے سے ریپ کیا جاتا ہے کہاں مر گئی اقوام متحدہ‏کشمیر میں انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی کی جا رہی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم پاکستانی کیا کرتے سوتے سوتے ہیش ٹیگ چلا دیتے ہیں ان کی اہمیت ہماری نظر میں اتنی ہے لیکن کشمیری پاکستان کو کس نگاح سے دیکھتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں…..!‏میری ملاقات اسلام آباد میں ایک کشمیری بھائی سے ہوئی میں جب ان سے ملا تو ان کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی جو ایک پاکستانی کو دیکھ کر ہونی چاہئیں جب میں نے ان سے اس اداسی کا سبب پوچھا کہ بھائی آپ پاکستان میں ہے آپ کو خوش ہونا چاہیے لیکن آپ اداس ہے تو اس کشمیری بھائی نے کہا کہ‏عدیل بھائی جب پاکستان کی طرف ہجرت کا سوچتے ہیں تو ہماری مائیں ہمیں ایک ہی نصیحت کرتی ہیں بیٹا جب تم پاکستان کی سرزمین پر پہنچا پہلے سیدھا پاؤں اور پھر الٹا پاؤں رکھنا اور وہ دعا پڑھنا جو مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھتے ہیں اور پھر شکرانے کے نوافل ادا کرنا پاکستان کی مٹی پر‏اس نے کہا عدیل بھائی جب پاکستان میں گوما تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی بھی ہندوستان میں ہو ہر طرف ہندوستان گانے ہندوستانی سقافت ہی نظر آئی پاکستان اور ہندوستان میں مجھےکوئی فرق محسوس ہی نہیں ہوا عدیل بھائی ہم وہاں پر ہندوستان سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہاں پر‏ہندوستانی کلچر ہندوستان لوگوں سے محبت..عدیل بھائی اس سے ہمیں یہ چیز سمجھ آتی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائی گی پاکستان سے ہم کشمیری اتنی محبت کرتے ہیں لیکن پاکستانی اب بھی ہندوستانی کلچر کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم بھی آزادی کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں‏یہ باتیں کر کے وہ کشمیری بھائی تو چلا گیا لیکن مجھے سوچ میں ڈال کر چلا گیا جب تک وہ کشمیری بھائی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تب تک میں نے شرم سے سر نہیں اٹھایا یہ ملاقات یہی ختم ہوئی ہمیں کشمیری بھائیوں کا مسئلہ اب عالمی عدالت میں پورے پاکستان کی عوام نے اٹھانا ہے کب تک‏وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں صرف تقریریں کرتا رہے گا اب بھی وقت ہے پاکستانیوں سنبھلنے کا…….

    Twitter.https://twitter.com/iAdeelalikhan?s=09

  • تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    "فاطمہ بنت محبوب عالم”
    دنیا کے تقریباً ہر براعظم میں چاہے افریقہ ہو، شمالی امریکہ ہو، جنوبی امریکہ، ایورپ ہو یا پھر ایشیاء آزادی کی تحریکیں چلیں۔ ہر جگہ پسے ہوئے اور بے بس لوگوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی قیمتی جائیدادوں اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بعض جگہ یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں اور بعض جگہ ناکام جس کی وجہ سے ان آزادی کی تحریکوں میں عارضی بندش تو ہوئی لیکن کوئی بھی ظلم و جبر کا نظام ان کو مستقل طور پر روک نہ پایا۔ ابھی بھی دور حاضر میں آپ مشاہدہ کریں تو ایسی تحریکیں ہنوز جاری و ساری ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جہاں یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاں کتنے ایسے گمنام ہیرو ہیں جنکو بھلا دیا گیا یہاں تک کہ عام لوگوں کو ان کا نام تک معلوم نہیں۔ صرف چند اک نام ہوتے ہیں جو زبان زدِ عام ہوتے ہیں باقی سب تاریخ کے پنوں میں پڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ اک دن وہ پنہ تاریخ سے بھی کٹ جاتا ہے۔ برصغیر میں بھی آزادی کی اک ایسی ہی تحریک چلی جس نے برطانوی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور دھیرے دھیرے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئی اور اک الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد آج ہم چند اک نامور شخصیات کے علاؤہ وہ کتنے ہی گمنام ہیرو ہیں جو کہ تحریک آزادی میں پیش پیش تھے کو بھلا چکے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریاستی بنیاد پر بھی ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کوئی سعی نہیں کی گئی۔ انہی گمنام ہیروز میں ایک فاطمہ بنت محبوب عالم تھیں جو 1890 میں لاہور میں مولوی محبوب عالم کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ مولوی محبوب عالم مزہبی لگاؤ رکھنے کے باوجود اک معتدل شخصیت کے مالک تھے جو کہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے تھے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے اپنی بنیادی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی اور 1901 میں پرائیویٹ میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد میں تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پرائیویٹ سکول میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتی رہی اور فورٹ نائٹلی میگزینز میں لکھتی بھی رہیں تاکہ مسلمان خواتین میں شعور اجاگر ہو۔ فاطمہ بیگم کو برطانوی انڈیا میں پہلی مسلمان صحافی کے طور بھی جانا جاتا ہے جس نے پہلے پہل تو ایک خواتین کے میگزین "شریف بی بی” میں بطور ایڈیٹر اپنی خدمات سرانجام دیں لیکن بعد میں "خاتون” کے نام سے ایک اپنا میگزین شروع کیا تاکہ وہ خاص طور پر مسلمان خواتین کی تربیت کے لیے کچھ بہتر کر سکے اور ان میں ایک سیاسی تحریک پیدا کر سکے۔ اس نے لکھنے کا کام 1909 سے ہی شروع کر دیا تھا جب وہ "عصمت” نامی رسالہ/اخبار میں مضمون لکھتی تھی۔ فاطمہ نے "حج بیت اللہ و زیارت دیار حبیب” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا۔ جیسے جیسے اس کے سیاسی شعور میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ہی وہ مختلف سیاسی فورمز کے ساتھ جڑتی گئی یہاں تک کہ وہ لاہور کی دو تنظیموں "انجمن خاتون اسلام” اور ” انجمن حامی بیگمات اُردو” میں ایک میں بطور جوائنٹ سیکرٹری اور دوسری میں سیکریٹری منتخب ہوئیں اور ماہوار میٹنگز میں بھرپور شرکت کی۔ اسکی بدولت انہوں نے خواتین میں ایک نئی تعلیمی، سیاسی اور شعوری تحریک پیدا کی۔ اس کے ساتھ ساتھ فاطمہ نے مسلمان خواتین کی ویلفئیر کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہاں تک کہ ان کاموں میں اپنے زیورات بھی پیش کیے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم سر سید احمد خان کی طرح انگریزی تعلیم کی حامی تھیں۔ ان کے خیال میں اگر مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کرنا ہے تو مرد و خواتین کو جدید تعلیم حاصل کرنا ہوگی جس کے لیے انگریزی تعلیم ضروری ہے۔ یہی جدید تعلیم منجھی ہوئی باشعور مسلمان مائیں پیدا کریں گی جو کہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں گی۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ کچھ عرصہ ممبئی میں ٹھریں جہاں انکی قائد اعظم سے ملاقات ہوئی جس میں فاطمہ بیگم کو نئی زمہ داریاں سونپی گئیں۔ 1938 میں انہوں نے لاہور میں نواں کوٹ کے علاقے میں اپنی جگہ پر "جناح اسلامیہ گرلز کالج” قائم کیا جسکا افتتاح جناح صاحب نے بذات خود اپنے ہاتھوں سے کیا جہاں لڑکیوں کی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ پردہ کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے بالعموم اور مسلمان خواتین کے لیے بالخصوص بہت خدمات سرانجام دیں۔ آئیے اک نظر انکی کاوشوں پر۔

    کیونکہ وہ بذات خود پنجاب (لاہور) سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کی سب سے زیادہ خدمات پنجاب بیسڈ ہیں۔ جناح اسلامیہ گرلز کالج کے ذریعے انہیں ایسا پلیٹ فارم میسر آیا جہاں انہوں نے لڑکیوں میں سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ساتھ تقریری جزبہ بھی پیدا کیا۔ اس کالج سے پڑھی لڑکیوں نے بعد میں بڑے بڑے فورمز پر ہوسٹنگ اور کمپیرنگ کے فرائض سر انجام دئیے۔ اسی اسلامیہ گرلز کالج کو تب گیسٹ ہاؤس بنا دیا گیا جب لاہور قرارداد منظور ہوئی اور دور دراز کے شہروں سے سیاسی ورکرز لاہور تشریف لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامیہ گرلز کالج کی طالبات اور فاطمہ بیگم بذات خود نے بھی ان انتظامات کے لیے خاصی تگ و دو کی۔ انہی خدمات کی بدولت 1943 میں فاطمہ بیگم کو مسلم لیگ کی "وومین سنٹرل سب کمیٹی” کا ممبر بنا دیا گیا۔ جس میں فاطمہ بیگم نے اپنی زمہ داری کو بخوبی سر انجام دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں اہم رول ادا کیا اور مسلمانوں میں ایک الگ ملک حاصل کرنے کا جزبہ پیدا کیا۔ قراداد لاہور کے بعد پاکستان بننے تک اور بہت سے اہم واقعات میں سے دو اہم واقعات 1946 کے عام انتخابات اور 1947 کی سول نافرمانی کی تحریک تھی۔ فاطمہ بیگم نے پنجاب میں رہتے ہوئے ان دونوں واقعات کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کی خوب مدد کی۔ 1946 کے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر وہ پنجاب کے مختلف شہری اور دیہاتی علاقوں جہلم، گجرات، وزیر آباد اور گجرانوالہ میں گئیں اور مسلمانوں کو پاکستان اور مسلم لیگ کی اہمیت سے آگاہ کیا جس کی بدولت مسلمانوں نے دل کھول کر مسلم کی حمایت کی اور مسلم لیگ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دوسری جانب جب جنوری 1947 میں پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلی تو بھی فاطمہ بیگم نے اپنی سٹوڈنٹس اور دوسرے سیاسی ورکرز کے ساتھ کلیدی رول ادا کیا۔ 27 جنوری 1947 کو سول نافرمانی کی خاطر خضر حیات کی حکومت کے خلاف لاہور میں دو بڑے جلوس نکالے گئے جن میں ایک کی قیادت فاطمہ بنت محبوب عالم کر رہی تھیں۔ اس وقت کی حکومت نے اس سول نافرمانی کی تحریک کو کچلنے کے لیے اپنا ہر حربہ استعمال کیا۔ عورتوں پر ٹیر گیس اور لاٹھی چارج کے وار کیے گئے جس کی وجہ سے اکثر خواتین بے ہوش اور زخمی ہوئیں۔ پنجاب کے علاؤہ فاطمہ بیگم نے NWFP موجودہ خیبرپختونخواہ میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اس صوبہ میں چونکہ خدائی خدمت گار اور کانگریس کا کرادر بھی کلیدی تھا تو یہاں ان کو سیشل مشن دے کر بھیجا گیا۔ NWFP میں ویسے تو 1939 سے "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کا فورم موجود تھا لیکن دوسری سیاسی جماعتوں کی وجہ سے یہ فورم معدوم ہو کر رہ گیا تھا۔ لہذا فاطمہ بیگم نے 1945 میں اس صوبہ کا رخ کیا اور اور "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کی تنظیم نو کی جس میں ان کی مدد ان پٹھان لڑکیوں نے بھی جو ان کے لاہور والے اسلامیہ گرلز کالج سے فارغ التحصیل تھیں۔ اپنے تقریباً پندرہ روزہ قیام کے دوران فاطمہ بیگم نے NWFP کے تقریباً سارے اہم علاقوں کو وزٹ کیا اور جلوسوں اور میٹنگز میں مسلم لیگ اور پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دوسرے اور لوگوں کے ساتھ ساتھ NWFP میں مسلم لیگ کو ریفرینڈم میں جتوانے میں ایک اہم کردار فاطمہ بیگم کا بھی تھا جس نے بیگم شاہنواز اور بیگم تصدق کی مدد سے پٹھان مسلمانوں میں آزادی کی تحریک پیدا کی۔

    پنجاب اور NWFP کے علاؤہ جس علاقے میں فاطمہ بیگم نے اپنی خدمات سرانجام دیں وہ تھا بیہار۔ ہوا کچھ یوں کہ اکتوبر 1946 میں جب تحریک پاکستان اپنے فل جوبن پر تھی بیہار میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں مسلم خاندانوں کو خوب تشدد اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان مسلمانوں کے تشدد کے بارے میں نومبر تک کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہونے دی گئی۔ جب فسادات رکنے کا نام نہ لے رہے تھے تو گاندھی نے احتجاج میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ان فسادات کے دوران فاطمہ بیگم نے اپنی امداد کے ساتھ پنجاب سے بیہار کا رخ کیا۔ انہوں نے بیہار میں ہندو تشدد کے ستائے ہوئے تقریباً 400 مسلمانوں کو یہاں سے پنجاب منتقل کیا اور یہاں پنجاب میں ان لوگوں کے لیے انکی رہائش اور خوراک کا مناسب انتظام کیا۔ ان بیہاری لوگوں کو پنجاب میں مستقل رہائش دینے کے لیے اپنی زمین پر اک کالونی بنا کر دی تاکہ یہ لوگ یہاں پر اپنی زندگی سکھ کے ساتھ گزار سکیں۔ بعد میں قیام پاکستان کے دوران جب قتل و غارتگری شروع ہوئی تو فاطمہ بیگم ان حالات کے مارے مہاجرین کی خدمت کے لیے پیش پیش تھیں۔ یہ حالات کی ستائی ہوئیں اور اپنے خاندان سے بچھڑی خواتین کو اپنے دفتر لاتی، انکی رہائش اور کھانے کا مناسب بندوبست کرتی اور جیسے ہی ان کے رشتے دار ملتے یہ ان کو ان کے حوالے کرتی۔ اس دوران فاطمہ بیگم نے انسانی روپ چھپے ہوئے ان منحوس درندوں کو بھی دیکھا جنہوں نے قتل و غارت کے ساتھ ساتھ عصمت دری کا بازار بھی گرم رکھا۔ کئی ایسی خواتین تھیں جو جسمانی اور جزباتی کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کا بھی شکار ہوئیں اور انکی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئیں۔ فاطمہ بیگم نے ان کے ساتھ خصوصی وقت گزارا، ان کے ساتھ کھانا کھایا باتیں کیں تاکہ وہ اس نفسیاتی ٹراما سے نکل کر نارمل ہو سکیں اور انکی ہر طرح سے مناسب مدد کی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم کی ان ساری کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ بھی ہمارے تحریک پاکستان کے دوسرے بڑے ہیروز کی طرح ایک ہیروئن تھیں جن کے بارے میں موجودہ نسل کو ضرور بتایا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی منظم ادارہ نہیں جن کی وجہ سے ایسے کئی گمنام ہیروز آج تک گمنام ہیں۔

    @muhamad__Mohsin