Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے نام کامیابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان کے سپورٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ کپتان اٹھاتا ہے وہ کر کے رہتا ہے جلد یا بدیرکرکٹ کھیلنے سے لے کے ٹیم کا کپتان بننے تک اور پھر ورلڈکپ جیتنا , یہ سب سمجھتے تھے کہ یہ خان کی کامیابیوں کا اختتام ہے لیکن خان نے کامیابیوں کا سفر جاری رکھا اور شوکت خانم , نمل یونیورسٹی بنانے کے علاوہ سیاست میں قدم رکھ دیا جو کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک رسک اور غلط فیصلہ تھا خان کو پتا تھا کہ یہ جدوجہد لمبی اور مشکل ہے لیکن خان نے ٹھان لی اور ایک سیٹ والی پارٹی سے پاکستان کی نمبرون پارٹی بناڈالی باٸیس سالہ جدوجہد رنگ لاٸی اور کپتان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا کپتان اور ان کے سپورٹرز کامیاب ہوۓ.

    جب اسمبلی میں سپیکر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کیا تو خان کی آنکھوں میں چمکتے موتی صاف دیکھے جاسکتے تھے کیونکہ اس لمحے کا کپتان نے باٸیس سال تک انتظار کیا تھا اب کپتان کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انہیں باٸیس سالوں کے کۓ وعدے اور عوام کو دلاٸی گٸ امیدیں پوری کرنی ہیں اور احتساب کے وعدے کو بھی پورا کرنا ہے
    تین سالوں میں لۓ گۓ مشکل فیصلے , مہنگاٸی کی عالمی لہر اور مافیاز کی سازشیں , ان سب مشکلات پہ خان صاحب عوام کو یقین دلاتے رہے کہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا گھبرانا نہیں ہے کچھ سپورٹرز گھبراۓ جبکہ اکثریت خان کے ساتھ کھڑی نظر آٸی اور اب ان کی طرف سے بہت یقین سے کہا جا رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا یقین بھی ہے کہ اگلی حکومت بغیر بیساکھیوں کے ہو گی اور عمران خان تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاٸیں گے.

    عمران خان کے سپورٹرز کا جوش و خروش دیکھ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سب بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے خان جس کام کی ٹھان لیتا ہے وہ کر کے چھوڑتا ہے ماضی کا کامیاب ریکارڈ ہے جو خان کے سپورٹرز کے یقین کی وجہ ہے ان تین سالوں کے اقدامات اور بہتر ہوتی معیشت پہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھوں گا.

    @ch_danishh

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    دوستو! میرا تعلق صوبہ پنجاب ضلع راجن پورتحصیل روجھان یونین کونسل کچہ راضی سے ہے اور یہ کچے کا علاقہ (No go area) ہے۔اس علاقے میں تعلیم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں 3,4 پرائمری سکول کے علاوہ نہ مڈل سکول ہے نہ ہی ہائی سکول۔تعلیمی فقدان کی وجہ سے اس علاقے میں‏ امن بالکل بھی نہیں ہے۔لوگ معمولی رنجش کو بنیاد بنا کر کئ کئ عرصے تک لڑائی جھگڑے میں مصروف رہتے ہیں۔نوجوان نسل اکثریت بے روزگار ہے کیونکہ ادھر فنی تعلیم کا بھی خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ چوری و ڈکیٹی یہاں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ‏Ngo’s جو کہ پسماندہ عاقے میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہاں أنے سے کتراتے ہیں۔ صحت کے لیے کوئی ہسپتال نہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے ضلع رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔‏ نادرہ کا کوئی نظام نہیں لوگ نادرہ ضلع رحیم یارخان کے تحصیل صادق اباد کا رخ کرتے ہیں۔یہاں کے لوگ زراعت سے منسلک ہیں اور مال مویشی کا کام کرتے ہیں۔دریاۓ سندھ پاس ہے لیکن یہاں کے کسان نہری نظام سے محروم ہیں۔ اکثریت کے پاس مال مویشی ہے ادھر لیکن ویٹرنری کا کوئی نظام نہیں۔ اگر کوئی‏ جانور بیمارہوجائے تو وہ مرجاۓ گا کیونکہ ویٹرنری سسٹم نہیں علاج کون کرے۔ ‏وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت سے درخواست ہے اس پسماندہ علاقے پرتوجہ دیں کیونکہ ہم بھی صوبہ پنجاب کا حصہ ہیں۔

    @GN_bloch

  • عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان نے جس تبدیلی کا خواب دیکھا تھا اس خواب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اٹھارویں ترمیم کو سمجھا جاتا ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم نہ ہوتی تو پاکستان کی حالت بہتر ہوجاتی ۔
    اٹھارویں ترمیم کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستاں کی ترقی میں اٹھارویں ترمیم
    رکاوٹ ہے؟

    اسلام آباد جو صرف 24 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے وہاں کوئی اٹھارویں ترمیم نہیں ہے وہاں وفاقی حکومت کا کنٹرول ہے اسلام آباد میں کونسی تبدیلی آئی ذرا دیکھئیے ۔
    شفقت محمود وفاقی وزیر تعلیم ہے لیکن ہر صوبے کا علیحدہ وزیر تعلیم بھی ہے اس لیے شفقت محمود 24 کلومیٹر کا وزیر تعلیم ہےتو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
    شفقت محمود 24 کلومیٹر کے علاقے میں کیا تعلیمی تبدیلی لے کر آیا؟
    کیا کبھی شفقت محمود نے اسلام آباد کے نامی گرامی سکول ٹیچرز کو بلایا کبھی ان سے پوچھا کہ حضور جو سہولتیں پرائیویٹ سکولز مالکان آپکو دیتے ہیں اس سے بڑھ ہم آپ کو سہولیات دیں گے لیکن جو رزلٹ جو محنت آپ پرائیویٹ سکول میں کرتے ہیں وہ یہاں کئیجیے جب پرائیویٹ سکول سے بچے سرکاری سکول میں آئیں گے تو حکومت کی طرف سے آپ کو اتنا بونس ملے گا تبدیلی ہمیشہ کچھ بڑا کرنے سے آتی ہے ۔

    پولیس کو دیکھ لیں صوبوں کو چھوڑ دیں صرف اسلام آباد پولیس میں کیا تبدیلی آئی؟
    اگر اسلام آباد پولیس چاہے تو اسلام آباد سے ایک سوئی باہر نہیں جا سکتی وہاں اسی اسلام آباد میں نائٹ کلبز چل رہے ہیں اور پولیس ہفتہ لیتی ہے اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
    عمران خان صاحب شہد کی دلدل سے نکلئیے اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ کیجئے صوبوں میں اٹھارویں ترمیم آڑے آتی ہے لیکن اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد میں تعلیمی نظام کو بدلئیے تاکہ لوگوں کو آپ پر بھروسہ ہو.

    @khanasad253

  • عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان آیا تو ملک چاروں اطراف سے سائل میں گھرا پڑا تھا معیشت بدحال تھی ،انڈسٹری کا پہیہ بند تھا ،زراعت تباه ہوچکی تھی اور ملک کئی اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار تھا شاید یہی وجوہات تھیں کہ غربت اور مفلسی سے ستائی عوام نے عمران خان کا انتخاب کیا عمران خان نے آتے ہی ملکی معیشت کی بحالی اور ملکی داخلہ و خارجہ مسائل سے نمٹنے کے لئیے عملی اقدامات کئیے۔معیشت کی بحالی کے لئیے کئی اقدامات کئیے گئے ملکی انڈسٹری کے زوال کی بڑی وجہ بجلی کی کمی تھی عمران خان نے آتے کئی ڈیمز جن پر کام کئی دہائیوں سے رُکا ہوا تھا ان پر کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کروایا اور ساتھ ساتھ کئی سستی بجلی کے منصوبے شروع کئیے بجلی کے علاوه کئی مراعات اور انڈسٹریز کو سبسڈیز دیں یہ ہی وجہ ہے کہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جہاں پاور سیل لوہے کے بھاؤ بک رہا تھا اب کئی لاکھ مزدوروں کی کمی کا شکار ہے اور متواتر لوگوں کو روزگار فراہم کررہا ہے.

    صنعت کی بحالی کے علاوه ملکی معیشت اور عام عوام کے حالات ٹھیک کرنے کے لئیے سبز معیشت پر بھی زور دیا زراعت کی بحالی کے لئیے سستے بیج اور کھادوں کے علاوه عام کسان کی فصلیں "انشورڈ” کردیں اب فصلوں کے نقسان(کیڑا،آگ،سیلاب ) کی صورت میں عام کسان اس کے تباه کن معاشی اثرات سے بچ سکے گا اور اگلے سال پھر سے فصل اگانے کے قابل ہوگا.

    معیشت کی بحالی کے لئیے صنعت اور زراعت کے روایتی طریقہ کار کے علاوه غیر روایتی طریقہ کار بھی اپنایا۔ایک طرف روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ملکی معیشت اور بیرون ممالک پاکستانیوں کو فائده ہوا تو دوسری طرف مذہبی ٹورزم ،سیاحتی ٹورزم،تاریخی ٹورزم اور تفریحی ٹورزم کی نئی جہتوں کو کھولا تاکہ پاکستان روایتی طریقوں کے علاوه غیر روایتی طریقوں سے معاشی ترقی حاصل کرسکے
    عمران خان کا سی پیک کے فلیگ شپ منصوبے اور اس سے جڑے چھوٹے بڑے منصوبوں پر متواتر کام بھی ملکی معیشت کے لئیے اکسیر ہے.

    عمران خان نے معیشت کی بہتری کے علاوه عوامی اور معاشرتی مسائل کے سدباب کے لئیے عملی اقدامات کئیےغریب افراد اور خاندانوں کی بھوک،افلاس ختم کرنے اور ان کے سر پر چھت دینے کے لئیے لنگر خانے ،احساس پروگرام،ہیلتھ کارڈ اور وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم کا اجرا کیا ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر شہری کے صحت کا خرچہ کم کیا اور گھروں کے لئیے وسیع پیمانے پر قرض دینے سے عام عوام ایک تو گھر جیسی سہولت حاصل کرنے لگے تو دوسری طرف کنسٹرکشن کی صنعت کو خوب فائده ہوا عام عوام کے ان مسائل کے علاوه اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئیے معاشرتی کے سدباب کے لئیےبھی سعی کی۔والدین کے حقوق کے لئیے آرڈینینس لایا اور معاشرے میں بڑھتی اس برائی کو ہمیشہ کے لئیے ختم کرنے کی کوشش کی ،وراثت کا قانون لاکر خواتین کے شرعی حق کو محفوظ کیا اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےراه روی کو "پردے "کے حکم کی تلقین کرکے کم کرنے کی کوشش کی گئی.ٕ

    عمران خان ناصرف معشت،عوامی مسائل اور معاشرتی خامیاں دور کرنے کے لئیے سامنے آیا بلکہ ماحولیات پر بھی خاص توجہ دی عمران خان کا بلین ٹری سونامی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی آلودگی کم ہوئی بلکہ کلائیمیٹ چینج پر بھی بین الااقوامی ایشو میں پاکستان کا کردارنمایاں ہوااور دنیا نے پاکستان ان ماحول دوست اقدامات کی تعریف کی اور کورونا وبا میں بھی پاکستان کا کردار بھی کچھ کم نہ تھا WHO قومی اداره صحت نے بھی کورونا وبامیں پاکستان کے مثبت اقدامات کی تعریف کی اور باقی اقوام کو پاکستان سے سیکھنے کا کہا یہ بھی عمران خان کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اقدام تھا جس سے نا صرف کورونا وبا کے اثرات سے عوام محفوظ رہی بلکہ غریب کو روٹی بھی ملتی رہی اور معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رہا.

    خارجہ محاذ پر پاکستان کئی دہائیوں سے مسائل کا کا شکار تھا دشمن ممالک نہ صرف اسے سفارتی طور پر "اکیلا” کرنا چاہتے تھے بلکہ اسے ایک دہشت گرد ملک کے طور پر دنیا کو ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے آتے ہی بھارت ،اسرائیل کو اصل دھشت گرد قرار دے دیا اور دنیا کو بتایا ہم پاکستان امن مپسند ملک ہیں اور بھارت RSS کے نظرئیے پر چل رہا ہے اور دنیا کے سامنے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور درندگی کو واضح کردیا .

    قارئین موجوده حالات میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلئیے بہت دباؤ بھی ڈالا گیا اور کئی معاشی فائدوں کا لالچ بھی دیا گیا لیکن قابل تحسین ہے عمران خان کا کردار جس نے نہ صرف ان ساری آفرز اور دباؤ کو ٹھکرایا بلکہ قائداعظم اور پاکستان کا اصولی کو دہرایا اور فلسطینوں کو ان کا حق نہ ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا.
    دشمن ممالک افغانستان میں بدامنی کے باعث پاکستان کو مسلسل بدامنی کی دلدل میں رکھنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے کمال دوراندیشی اور دانشوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصرف امریکہ افغان امن معاہدہ کروایا بلکہ افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی ہر پاکستان مخالف قوت کو منہ توڑ جواب دیا .

    امریکہ چین کی بڑھتی کشیدگی اور سپرپاور کے کھیل میں پاکستان کا کردار بہت واضح ہے پاکستان دونوں ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن کسی بھی ملک کے لئیے اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا جس کی واضح مثال وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو "absolutely not ” کا جواب دے کر واضح کردی ہے .
    الغرض وہ وقت دور نہیں جب عمران خان اور پاکستانی عوام کا نا صرف "اسلامی فلاحی ریاست” والا خواب پورا ہوگا بلکہ پاکستانیوں اور پاکستانی پاسپورٹ کی پوری دنیا میں عزت ہوگی اور ہم سب فخر سے بتا سکین گےکہ ہم پاکستانی ہیں .

    @Naseem_Khera

  • قومی حکومت تشکیل دے کرملکی مفادات میں آئینی اصلاحات کی جائیں مافیاز کا رستہ روکا جائے تحریر:ڈاکٹر راہی

    الیکشن سے زیادہ وطن عزیز کوایسی آئینی اصلاحات کی ضرورت ہےجن کے ذریعے بیس کروڑ کے عوام کی اسمبلی چند افراد کے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال ہونے کا تدارک ہو
    ایسی پارلیمنٹ بنے جو قوم کی آواز ہو

    ایسی حکومت آئے جومسائیل کے حل کے لیے بہترین قانون سازی کرے
    جہاں جرم کے لیے قانون میں کمزوری نظر آئے اس کمزوری کو مقننہ دور کرے
    ہو یہ رہا ہے کہ مقننہ چوروں کو استثنی دے کر ان کی حفاظت کرتی ہے
    ان کو بڑے بڑے عہدوں پر پہنچاتی ہے
    پارلیمنٹ چوری ہضم کروا کر بعد میں اس واردات کو گڑا مردہ کہہ کر این آر او کر لیتی ہے
    اس ملک کے ادارے یرغمال ہیں انہیں سیاسی مداخلت سے نجات چائیے

    اس وقت نون لیگ پی پی پی قاف لیگ جماعت اسلامی جے یو آئی ایم کیو ایم فنکشنل مسلم لیگ تحریک انصاف میں موجود لوگوں اوران سب پارٹیوں نے کسی نہ کسی صورت اقتدار کا حصہ رہ کر جو تیر مارنا تھا وہ مار لیا عوام نے دیکھ لیا
    پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کو کس قدر بدلا ہے یہ وہاں کے عوام بتلا سکتے ہیں

    اسوقت ملکی سیاست پارٹیوں سے زیادہ چند سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے
    ایک حلقے میں کسی خاندان کا کوئی فرد سیاسی طور پر مضبوط ہے تو پارٹیاں اسی کے چچا ماموں یا کسی رشتہ دار کو اس کے مقابلے میں تکٹ کو ترجیح دیتی ہیں

    اعلی قیادت کرپشن نہ بھی کرے ثانوی قیادت دونوں ھاتھوں سے ملکی خزانے پراپنا ہاتھ صاف کر لیتی ہے

    ملکی قانون تو بیچارہ کرپٹ مافیا کے گھر کا غلام ہے

    قومی اسمبلی اور سینٹ نے گزشتہ دنوں نا اھلی کی شرط ختم کرکے کسی اک شخص یا خاندان کو جو فائدہ دینے کی کوشس کی یہ بات نئی نہیں مشرف اور زرداری کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بھی قانون میں کئی بار ترمیم کی گئی
    کوئی سیاسی پارٹیاں قبضہ گروپوں سےخود کو الگ نہیں کرسکتیں
    حال یہ ہو چکا ہے کہ بدعنوان لوگ سیاسی پارٹیوں کی مجبوری بن گئے ہیں
    ان کرپٹ لوگوں کے سرمایے نے ان پارٹیوں کو بچا رکھا ہے
    بڑی پارٹیوں کی اعلی کمان ان لوگوں کے کرتوت جان کر بھی ان کو تحفظ دیتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی بھی بادشاہت قائم ہے
    بد عنوان لوگوں کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جب قانون ان پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے یہ سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو کر سیاسی انتقام کا واویلا کرنا شروع کر دیتے ہیں
    علاوہ ازیں یہ اقتدار میں موجود پارٹیوں پر اپنی سیاسی حیثیت جتلا کر اپنے حق میں رعائیت کروا لیتے ہیں
    کئی سیاسی گروہ قرضے معاف کروا گئے کئی این آر او کے ذریعے جیلوں سے نکل گئے
    وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو عوام کے حق میں مضبوط کیا جائے
    قانون سازوں کو صرف قانون سازی تک محدود رکھا جائے

    یا تو پورا ملک ایک حلقہ ہو تمام پارٹیوں کا باہمی مقابلہ کرایا جائے
    یاپھرہر ضلع میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کا مقابلہ پارٹیوں کے درمیان ہو
    پورے ضلع میں کسی پارٹی کو پڑنے والےووٹ کے تناسب سے پارٹیوں کواس ضلع میں نشستیں الاٹ کی جائیں

    وڈیروں جاگیرداروں ٹھیکیداروں کی دلچسپی سیاست میں کیوں ہے ؟
    کیونکہ انہوں نے اسمبلیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا ہوتی ہے
    مندرجہ بالا تحفظات اور تجاویز کے ساتھ میری محب وطن لوگوں اور مقتدر لوگوں سے اپیل ہے کہ بیشک الیکشن کے انعقاد میں تین سال لگ جائیں نگران حکومت کے اس عرصہ میں ملک کو درست سمت میں چلانے کے لیے قومی حکومت تشکیل دے کر کڑے فیصلے کیے جائیں
    وسائیل کی منصفانہ تقسیم فاٹا کے الحاق سے لے کر تمام فیصلے مل بیٹھ کر کیے جائیں
    ملک لٹیروں سے نجات کا یہی واحد راستہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ بیس سالوں کاکڑا احتساب کیاجائے
    جو سیاسی لوگ گھپلوں میں ملوث پائے جائیں انہیں جیل بھیجا جائے
    اس صفائی کے بعد الیکشن کا انعقاد کرایا جائے
    تمام استثنی وغیرہ ختم کیے جائیں
    ہر عہدیدار کو جوابدہ بنایا جائے چاہے وہ پاک فوج کا جرنیل ہی کیوں نہ ہو
    عوامی عہدوں پر لوگوں کا بے جا پروٹوکول واپس کیا جائے
    اسمبلی اراکین و وزراء کو ایک سے زیادہ گاڑی نہ دی جائے

    ڈاکٹر راہی

  • پاکستان میں بیوروکریسی  تحریر:  سید محمد مدنی

    پاکستان میں بیوروکریسی تحریر: سید محمد مدنی

    بیورو کریسی یہ ایسی چیز ہے جس سے معاشرہ تباہ و برباد ہوتا ہے آپ کتنا ہی ایماندار ہوں آپ کو چلنے نہیں دیا جاتا اور کُھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے (مطلب ٹرانسفر)
    پاکستان میں بیوروکریسی میں کرپشن انتہا کو ہے یہ حکومتیں گراتے اور بناتے ہیں میرے اپنے ایک جاننے والے رشتہ دار کسی دور میں پنجاب حکومت میں لگے نام بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہتے ہیں کہ آپ ایمانداری سے کام نہیں کر سکتے ہیں جب کوئی سی ایس پی کی ٹریننگ حاصل کرنے اور لاہور والٹن سی ایس پی کے حوالے سے اکیڈمی میں رہتا ہے تو انھیں سب سے پہلے سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ اگر تمھارا باپ بھی تم سے ملنے آئے تو کم از کم آدھا گھنٹہ چالیس منٹ اسے اپنے دفتر کے ویٹنگ روم میں انتظار کرواؤ چاہے تم مصروف بھی نہ ہو یہی وہ چیز ہے جس سے فرعونیت پیدا ہوتی ہے اور آپ عام سے آدمی کو بھی ایک چیونٹی جتنا سمجھتے ہیں ان کا کام بس رشوت اور سفارش پر چلتا ہے اگرچہ ان کی تنخواہیں کم اور اختیارات زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ دو نمبر کی کمائی سے خوب پیسہ بناتے ہیں دپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر عوام کی خدمت کے لئے بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ تر یہ صرف اپنی اور دوستی یاری کی پرواہ کرتے ہیں اگر ان کا کوئی ساتھی کسی مشکل میں پھنسا ہو تو سارے مدد کو نکل پڑتے ہیں یہی اگر آپ ایمانداری سے چلیں گے تو آپ کے اپنے ساتھی ہی آپ کا ساتھ نہیں دیں گے
    ہمارے ہاں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس مافیا سے متعلق ہیں ایک غریب آدمی کو جب ان سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ اس کی فائل ادھر ادھر گھماتے ہیں اور درپردہ پیسوں کا تقاضہ کرتے ہیں اب آپ بتائیں کہ غریب آدمی جس کے پاس کچھ نا ہو وہ بھلا اس مافیے کی جیب کیسے گرم کرے گا آپ جب تک ایمانداری سے چلتے رہیں گے مار کھاتے رہیں گے ایسی بات نہیں کہ ایمانداری کا صلہ نہیں ملتا ملتا ضرور ہے مگر ہمارے معاشرے میں کرپشن کے بیج نے اتنی سختی سے نظام کو جکڑا ہؤا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے
    آپ خود تصور کریں کہ ایک ایسا ماحول جہاں برسا برس سے کرپشن ہورہی ہو یا ہم جیسے لوگ جنھوں نے آنکھ ہی کرپشن دیکھتے ہوئے کھولی ہو وہ بھلا اس کو کیسے ختم کریں گے ہم کبھی کبھی خود مجبور اور تنگ آکر اپنے معاملے کے لئے رشوت دیتے ہیں اب آپ بتائیں کہ ہم کیسے اسے ختم کرسکتے ہیں بات صرف اتنی کے کہ اگر قانون سخت اور عمل درآمد سخت ہو تو سب کچھ ممکن ہے
    بیورو کریسی آپ سے مجبوری کا فائدہ بھی اٹھاتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ اسے پیسے نہیں دیں گے تو یہ آپ کا کام بھی نہیں کرے گی اور اگر پیسے دیں گے بھی تو کسی اور کو نہیں بتائین گے کیونکہ آپ کو ڈر ہوگا کہ کہیں میں بھی ساتھ ہی رگڑا نا جاؤ‌ں
    بیورو کریسی کو اگر نکیل ڈال کر رکھی جائے تو یہ کام نہیں ہوسکتے آپ اگر قانون پر عمل کروائیں گے تو سزا کاخوف ہوگا الیگل کام لوگ اسی دھڑلے سے کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں
    یاد رکھیں جب تک بیوروکریسی کرپٹ رہے گی کام نہیں پورے ہوں گے سسٹم نہیں چلےگا
    اس کے لئے آپ کو اسٹینڈ لینا ہوگا
    معاشرے میں جب تک جھوٹ پنپتا رہے گا مسائل جنم لیتے رہیں گے اس کے لئے عوام اٹھے اور ایک ہوجائے مگر مہذب انداز سے ارباب اختیار سے مطالبہ کرے کہ نظام بدلو اگر آپ خود کچھ نہیں کریں گے تو قصور وار آپ بھی برابر کے ہوں گے اس مافیے کے خلاف
    صفیں مضبوط کریں اور کرپشن کے بیج کو ملک سے ختم کرنے میں کردار ادا کریں

    یہ مختصر سا ہی کالم ہے ایک حقیر سی کوشش

    @ M1Pak Twitter id

  • ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    عام آدمی پریشان حال، گرمیوں کے سخت دن، گھر کے حالات، بجلی کی بندش، بچوں کی پڑھائی،بیٹیوں کی شادی، یہ بچوں کو نوکری نا ملنا، کہیں طرح کے مسائل میں گھرا ہوا، شیر کو بھی دیکھ چکا، تیر سے بھی زخم کھائے، مہاجروں نے جو امیدیں توڑی، نیا پاکستان کا خواب لیے چلا، لیکن کیا پایا؟؟

    وہی مسائل وہی پریشانیاں، وہی نظام، وہی عدالتوں کے دھکے، اب تو روز مرہ کی اشیاء سے بھی گیا، جمہوریت کا حسن دیکھ رہا ہے، مارشل لاء بھی آزماچکا، کہیں قومیں کہا سے کہا چلی گئی، اور ہم جہاں تھے وہاں سے بھی کہیں پیچھے، تنگ آ کر کوشش کرتا ملک چھوڑ کے کسی دوسرے ملک چلا جاؤں، پردیس چلا جاؤں، وہاں جا کے کماؤ کے گھر کا خرچ چل سکے، کیوں اُسے یہ سوچنا پڑتا؟ یہ سوال کا جواب ہم سب جانتے ہیں، ایسا نظام نہیں ہے کہ خوش خالی ہو، وہی بندے جو پہلے پچھلی حکومت میں تھے اب نئی حکومت میں آ جاتے، ہر ادارہ اپنے کام میں ناکام نظر آ رہا، سوائے چند ایک کے، کیا ہم کم تر انسان ہیں؟ یا ہم میں عقل کم ہے؟ یا یہ ملک صرف اشرافیہ کے لیے ہی ہے، لیکن کب تک؟

    حکومت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اُسے عام آدمی کے مسائل مہنگائی پریشانی دکھ سب نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن جب وہی حکومت میں آتے ہیں تو سب غائب ہو جاتا ہے، خود بھی وہی کر رہے ہوتے ہیں جو گزر جانے والی حکومت کر رہی تھی، گزشتہ حکومت کو قصور ور ٹھہرا رہے ہوتے ہیں، لیکن ایسا کب تک چلے گا؟
    پھر وہی کام حکومت کر رہی ہوتی ہے جس پے پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا، کس پے یقین کرے؟ کون بدلے گا یہ نظام، کہیں مدینہ کی ریاست کی شنوائی، تو کہیں روشن پاکستان ، کہیں روٹی کپڑا مکان ،
    اِن میں سے کتنا ملا کتنا چھینا، یہ عام آدمی سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تو پھر کیا کرے؟ ہر حکومتی نظام کو جو دیکھ چکا ہے، دن بھر دن حالت بہتر ہونے کے بجائے اُسے خراب نظر آ رہے ہیں، کس در پے جائے؟؟

    تقریباً ہرادارے میں بہتری کی گنجائش بہت زیادہ ہے، جب تک ادارے اپنا کام نہیں کرے گے ایمانداری کے ساتھ، نظام بہترنہیں ہوگا، کام لینا اداروں سے حکومت کا کام ہے، اور حکومت میں بیٹھے لوگ جب تک مخلص نہیں ہوں گے، کچھ بھی بدلے گا نہیں، ریلوے کا نظام، ماحولیات کا نظام، صفائی کا نظام، ٹرافک کا نظام، ارسال کا نظام، پانی کا محکمہ، بجلی, گیس کا محکمہ، سیکیورٹی، عدالتوں کا نظام، کاروبار کا نظام،تعلیم کا نظام، ہاؤسنگ سوسائٹی کا نظام، اس طرح سے ہر ادارہ کو اپڈیٹ کرنے کی ایمرجنسی ضرورت ہے،
    جب تک سوچ نہیں بدلے گی، سیاست کو حقیقی معنی میں خدمت نہیں سمجھا جائے گا، بلکے کاروبار سمجھا جّائے گا، اور افسر شاہی والا نظام نہیں بدلہ جائے گا، عام آدمی ہی پسے گا، سب سے کمزور طبقہ ہے، مہنگائی کا بوجھ ڈال کے ٹیکس وصول کر کے، اُسے دبا کے سب عیاشی کر تو رہے ہیں،؟ لیکن کب تک؟

    نہیں رہے گا یہ باغبان، جس کے مالی ہی پھولوں کے چور اور چہکتے پرندوں کے شکاری ہے، ایک دن تو اُن کی نسلیں بھی تباہ ہو گی، پر کہیں دیر نا ہو جائے عام آدمی کی پریشانی کہیں، ان کی نسلوں کو بھی تباہ نا کردے تو اس بات کو سمجھو اور سینسر ہو جاؤ خود کے ساتھ اپنی نسلوں کے ساتھ.

    @kazAli16

  • ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    پاکستان کے صوبے سندھ میں اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے پاکستان پیپلزپارٹی مشرف کا دور ختم ہونے کے بعد سے اب تک لگاتار تیسری بار سندھ میں اور ایک بار وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے مگر ان تینوں جنرل الیکشن میں کوئی ایسی جماعت سندھ میں نہیں تھی جو پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرسکے مگر اس بار صورتحال کافی مختلف ہے پہلی بار وفاق اور دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف 2023 میں پھر سے وفاق اور پہلی بار سندھ میں حکومت بنانے کی بھرپور تیاری کر رہی ہے.

    سندھ کے بڑے بڑے سیاسی نام جن میں شامل حروں کے روحانی پیشوا اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کی سیاسی جماعت کے صدر پیر صاحب پاگارا, نوشہرو فیروز کے جتوئی خاندان جن شامل مسلم لیگ (ن) کے دور میں انڈسٹریل وزیر اور 1990 کی نگران حکومت میں وزیراعظم رہنے والے غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی انکے بیٹے راضی خان جتوئی سابقہ صوبائی اسمبلی کے ممبرعاقب خان جتوئی اور گھوٹکی کے موجودہ صوبائی اسمبلی کے ممبراورسابقہ وزیراعلیٰ سندھ علی محمد خان مہرکے بھائی علی گوہر مہر سمیت کئی جی ڈی اے رہنماؤں کو باقاعدہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دے دی گئی ہے. یے کام گورنر سندھ عمران اسماعیل, سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور کچھ دن پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے اور پرویز مشرف کے دور میں وزیراعلیٰ سندھ رہنے والے ڈاکٹر غلام ارباب رحیم کو دیا گیا ہے.

    پاکستان تحریک انصاف اس مقصد میں کامیاب ہوتی ہے یاں نہیں وہ تو وقت بتائے گا مگر اس بار سندھ کی عوام بھی تبدیلی کے منتظر ہیں پیپلزپارٹی پچھلے 13 سال میں سندھ کی عوام کے لئے وہ کام نہیں کر سکی جن سے عوام مطمئن ہو عوام کو تعلیم جیسے زیور اور روزگار بھی میسر نہیں کچے کے علاقوں میں بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر رہے ہیں ہسپتالوں میں ان کو مناسب علاج کی سہولت میسر نہیں ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امکان یہی ہے کہ 2023 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف عمران خان پاکستان کے باقی صوبوں کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں.

    @Nadir0fficial

  • پاکستان کی ترقی اور کرپشن  تحریر :  نوید بونیری

    پاکستان کی ترقی اور کرپشن تحریر : نوید بونیری

    کرپشن انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کی اردو معنی بدعنوانی ہے
    اگر اقوامِ عالم پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بھی قوم اپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جس نے بدعنوانی کی خاتمے کے بغیر ترقی کی ہو ایک قوم تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ متحد ہو کر معاشرے میں موجود بدعنوان عناصر کو سخت سزائیں دے کر بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکتے

    ہمارے ملک کی ترقی میں سب سے بڑی روکاٹ کرپشن ہے پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ کرپشن ہی ہے ستر سالو سے جو بھی حکومت اتی ہے تو ان کا سب سے بڑا دغوا کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے لیکن جب حکومت اپنی اختتام کو پہنچ جاتی ہے تو وہی حکومت کرپشن کا ذمہ دار ٹھہر جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں بڑے افسر سے لے کر ایک ادنیٰ کلرک تک ہر بندہ اپنی ڈیوٹی کی فرائض کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا کرپشن کے بارے میں جانتے ہیں کرپشن اور رشوت خوری کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک ازاد اور آئینی ادارہ موجود ہے جس کا نام قومی احتساب بیورو ہے جس کا بنیادی کام ملک سے کرپشن اور اقرباءپروری کا خاتمہ ہے اور ملک میں موجود بدعنوان عناصر پر نظر رکھنا ان کے خلاف تحقیقات کر کے سزائیں دلوانا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں کرپش ایک لاعلاج مرض بن کر ایک ناسور کی طرح ہر طرف پھیل رہا ہے جس نے نہ صرف ہمارے اداروں کو تباہ کر رکھا ہے بلکہ ہمارے اخلاقی اور سماجی اقدار کو بھی تباہ کر رکھا ہے ہر جگہ سفارش اور اقرباءپروری اپنی عروج پر ہے ہمارے تعلیمی نظام ہو صحت کا نظام ہو ایک ادارہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو اج اس بد عنوانی نے پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے اج معمولی سطح پر اگر کسی شخص کو کسی بھی ادارے میں کوئی کام درپیش آئے اور لائن میں کھڑا ہونا ہوتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے وہ رشوت دیتا ہے اور اس کا کام سب سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے باقی جس کے پاس رشوت دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لائنوں میں خوار ہوجاتے ہیں ہمارے معاشرے پر کرپشن نے اتنا اثر کر رکھا ہے کہ اج ہم گھر میں کسی بچے کو تب تک دکان سے سامن لینے نہیں بھیج سکتے جب تک کہ ہم اس کو سو میں سے دس نہیں دیتے اج ہم نے اپنے بنیاد کو ہی کرپشن پر رکھا ہے جس سے خاص کر نوجوان طبقے میں احساس محرومی پیدا ہوئی ہے بد عنوان عناصر نے ان کے حقوق کو غضب کر رکھا ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اج علم اور تجربے کی بجائے پیسہ ہی سب کچھ ہےجس کی وجہ سے اداروں میں نااہل لوگ تعینات ہوجاتے ہیں

    پاکستان میں کرپشن کی خاتمے میں سب سے بڑی روکاٹ احتساب کا نظام ہے کیونکہ ہمارے احتساب کی عدالتیں انتہائی سست روی کا شکار ہے ملزمان سالہا سال جیلوں میں بند ہوتے ہیں اور عدالتوں میں تاریخ پے تاریخ دی جاتی ہے اس لیے اج تک کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکی جس کا بدعنوان عناصر بھر پور پیدا اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے سب سے پہلے ہمیں احتساب کا نظام مظبوط بنانا ہوگا موثر قانون سازی کے زریعے احتساب عدالتوں میں ایسے جج تعینات کرنے ہوگے جو بدعنوانی کے بارے وسیع تجربہ رکھتے ہوں جن کی دامن کرپشن اور سیاست سے پاک ہو اور ان کے فیصلوں سے انصاف ہوتا ہوا نظر آئے جب انصاف کا نظام کسی کے اثر میں آئے بغیر کام کرتا ہے تو کوئی بھی ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا
    اگر ہمیں اس ارضِ پاک سے کرپشن ختم کرنا ہے اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا معاشرے کے ہر فرد کو خود اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ میں کرپشن کی اس مرض میں کتنا مبتلا ہو جب ہر فرد اپنی خود احتسابی شروع کرے اور اس مرض سے چھٹکارا پائے تب ہم معاشرے میں موجود بااثر بدعنوان عناصر کے خلاف اواز اٹھا سکتے ہیں
    @Naveedk07

  • موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    مریم نواز صاحبہ کی بات کریں تو میں انہیں موروثی راجکماری یا جعلی ملکہ پاکستان کہوں گی۔ مریم نواز صاحبہ کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ پاکستان کی عوام شعور سے عاری ہے۔ اگر شعور کی بات کریں تو شعور آئے گا بھی کیسے؟ صدیوں سے پاکستان پہ حکومت لٹیروں اور چوروں کی رہی۔ ان چوروں اور لٹیروں نے عوام کو شعور نہیں غلامی باننٹی۔ اگر شعور دیا ہوتا تو آج یہ موروثی راجکماری کیا ہزاروں لوگوں کی لیڈر ہوتی؟ اگر اس عوام میں شعور ہوتا تو کوئی اک بھی بندہ موروثی راجکماری کے جلسوں میں شرکت کرتا نظر نہ ائے۔ اگر تقاریر اور ویژن کی بات کی جائے تو موروثی راجکماری اپنے حسن کے جلوے دکھانے میں مصروف نظر آتی ہیں اور جاہل عوام ان حسن کے جلوؤں سے لطف اندوز ہوتی نظر آتی ہے۔ جب کہ اگر عوام باشعور ہو تو مریم کو لیڈر ماننے سے پہلے ان سے ان کی کارگردگی پہ سوال کرے۔ موروثی راجکماری سے یہ سوال پوچھے کہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کے جائیداد بنانے کے علاوہ آپ نے کیا کیا اس ملک کے لیے؟ آپ کی اپنی کیا کریڈیبیلٹی ہے؟ لیکن یہ شعور آتے اور اک تربیت یافتہ قوم بنتے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ اور جس دن عوام میں شعور آگیا کوئی اک بندہ بھی موروثی راجکماری کے جلسوں میں نظر نہیں آئے گا۔

    @KhatoonZobia