Baaghi TV

Category: سیاست

  • افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان میں اس وقت کیا گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے، وہاں پر عالمی اور علاقائی طاقتیں کیا چاہتی ہیں اور وہاں کون کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہ طالبان کون ہیں ، افغانستان پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ اور امریکہ کیا چاہتا ہے۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ افغانستان کی اسی فیصد آبادی چالیس سال سے کم عمر ہے اور جب انہوں نے انکھ کھولی تو ان کے ملک میں کبھی خانہ جنگی تو کبھی غیر ملکی فوجوں کا جنگ اور خون کا کھیل جاری تھا۔ تشدد نے اس قوم کی چولیں ہلا دی ہیں اور آدھی سے زائد قوم شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔
    اب آپ کے سامنے ایسے ایسے انکشافات سے پردہ اٹھائے گی جس سے آپ کو اس مسئلہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ، پاکستان، ایران، چین اور دیگر ممالک افغانستان میں کن مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ میدان جنگ افغانستان ہے، لڑنے والے افغانی ہیں لیکن پلاننگ، پیسہ اور سوچ کسی اور کی ہے۔
    اس وقت افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہر طرف پراپیگنڈا جاری ہے۔ کوئی عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم پر رو رہا ہے تو کوئی داڑھی رکھنے سے خوفزدہ کر رہا ہے، کوئی کہتا ہے کہ گناہ کرنے پر سنگسار کر دیا جائے گا تو کوئی فلم اور میوزک کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان آنے کے بعد زیادہ سے زیادہ سخت پابندیاں لگا دیں گے اور لوگوں کی آزادی ختم ہو جائے گی۔
    یہ طالبان کون ہیں۔؟؟ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے انیس سو اسی کی دہائی میں پوری قوم کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جہاد کیا۔ اور امریکہ اور مغرب نے اپنے مفادات کے لیئے خوب حصہ ڈالا۔جب روس
    نوے کی دہائی
    میں افغانستان سےنکلنا شروع ہوا تو 1992 میں سول وار شروع ہو گئی اور ملک پر قبضے کے لیئے وار لارڈز نے کھینچا تانی شروع کر دی۔ طالبان نے کابل پر انیس سو بانوے میں قبضہ کر لیا جس کے بارے میں پاکستان پر الزام لگا کہ اس کے حاضر سروس افسران نے بھی طالبان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ پاکستان کا اس میں کیوں مفاد ہے کہ طالبان افغانستان پر حکومت کریں ،دراصل یہ معاملہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ جسے دنیا کے لیئے سمجھنا ضروری ہے۔
    اب بات کرتے ہیں نوے کی دہائی میں ۔۔افغانستان کے دارلحکومت کابل پر جب طالبان کا قبضہ ہو گیا تو کیا ہوا۔؟
    طالبان کے افغانستان میں اقتدار کے بعد داڑھی کو کپڑے سے چیک کرنے اور سڑکوں پر سزائیں دینے کے قصے مغرب سے مشرق تک پھیل گئے اور ایسا ظاہر کیا گیا کہ دنیا ہزار سال پیچھے چلی گئی ہے۔اس حوالے سے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر طالبان کے پاس میڈیا اور سوشل میڈیا ہوتا تو امریکہ طالبان کو کبھی نہ ہرا پاتا۔

    طالبان پر نائن الیون کو سپورٹ کرنے اور اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر امریکہ بہادر نے چڑھائی شروع کر دی یہ الگ بات ہے کہ امریکی سی آئی اے ہی اسامہ بن لادن کو افغانستان لائی تھی۔
    افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ نے ایک کٹھ پتلی حکومت بنا کر دوہزار چار میں ایک آئین بھی متعارف کروا دیا۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان جو امریکی بمباری سے بچتے ہوئے روپوش ہو گئے تھے انہوں نے گوریلا وار کا آغاز کر دیا اور سب اکھٹے ہونے لگے۔ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور پیسے کے باوجود حالات کو نہ تو کنٹرول کر سکا اور نہ ہی طالبان پر غلبہ پا سکا۔ کسی نہ کسی صورت میں طالبان نے افغانستان کے تیس سے زائد فیصد حصہ پر اپنا کنٹرول جاری رکھا۔ ہر صوبے کے دارلحکومت پر افغان حکومت اور امریکہ کا کنٹرول تھا تو دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں طالبان کی حکمرانی رہی۔
    اب جب امریکہ کو سمجھ آگئی کہ امریکہ اگلے سو سال بھی یہاں اپنے فوجی مرواتا رہے اور اربوں ڈالر پھونکتا رہے تو اسے کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ تو اس نے وہاں سے فوری نکلنے کا فیصلہ کر لیا، امریکہ اب باہر سے بیٹھ کر تماشا لگانا دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اس کا افغانستان میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ رہے جو لوکل سرداروں کی مدد کر کے اپنی مرضی کی حکومت بنوا کر حاصل کیا جا سکتا ہے اور دوسرا اس کے دشمن ملک چین، روس اور دیگر ممالک کو یہاں اپنے مفادات کا تحفظ اور اثرورسوخ قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
    بڑی طاقتیں ہمیشہ چھوٹے ملکوں میں اپنی مرضی کی پارٹیز کی مدد کر کے انہیں اقتدار دلواتی ہیں اور پھر اپنے اشاروں پر نچاتی ہیں تو یہی مقاصد اور طریقہ کار عالمی طاقتوں کا افغانستان میں ہے۔
    امریکہ کو ساری دنیا چیخ چیخ کے کہہ رہی ہے کہ امن قائم کیئے اور کوئی سیاسی حل نکالے بغیر جانا افغانستان کی تباہی ہے لیکن امریکہ بہادر نہ کسی کی سن رہا اور نہ ہی وہ سننا چاہتا ہے، امریکہ سویت یونین کو افغانستان میں ہروا کر بھی ایسے ہی بھاگا تھا جیسے آج خانہ جنگی میں دھکیل کر جا رہا ہے۔
    اب امریکہ کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ گروپو‏ں کو پیسے دے کر اپنے مفاد کے لئے بد امنی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین روس پاکستان سمیت سینٹرل ایشین ممالک نے بھی افغانستان کے بغیر تجارتی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے جو بظاہر مشکل ضرور ہیں لیکن کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں بہت مفید ہیں۔ اس حوالے سے گولڈن رنگ اور ماسکو ٹو گوادر روٹ اہمیت کے حامل ہیں۔

    اب بات ہو جائے کچھ افغانستان میں امریکہ کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر۔ امریکہ کے جانے کے بعد تو کیا ۔۔پہلے ہی خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ۔ طالبان ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کریں گے تو دوسری طرف وہ تیزی سے افغانستان پر قبضہ کی جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ انہوں نے ایک نہ ایک دن مذاکرات کی میز پر آنا ہی آنا ہے ۔ تو اس وقت جتنے زیادہ علاقے جس پارٹی کے پاس ہوں گے اسے اتنا ہی طاقتور کردار اور حصہ ملے گا۔ طالبان مزاکرات کیوں کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ افغانستان پر قبضہ کی طاقت رکھتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ اگر دنیا نے افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا تو وہ مدد جو دنیا اسے دے گی اور دے رہی ہے اور جو افغانستان کے مفاد میں ہے وہ بند ہو جائے گی، جس کے بغیر افغانستان کی تعمیر ممکن نہیں۔ دوسرا طالبان اپنی تمام تر طاقت کے باوجود بھی گزشتہ دور میں عبدالرشید دوستم سمیت کئی جرنیلوں کو سرنڈر کروانے میں ناکام رہے تھے ابھی بھی طالبان کابل پر تو قبضہ کر سکتے ہیں لیکن پورے افغانستان پر ممکن نہیں۔ اس لیے طالبان معاہدے کی بات کر رہے ہیں اور مزاکرات کی بھی۔
    طالبان کی اصل طاقت پشتوں قبائل ہیں جبکہ افغانستان میں ساٹھ فیصد لوگ پشتون نہیں ہیں وہ دیگر قوموں سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان نے انہیں ملانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی بھی ملک میں کسی ایک جماعت کی سو فیصد مقبولیت ہونا ممکن نہیں اس لئے طالبان کو پتا ہے کہ ان کو ملائے بغیر اور ایک قومی حکومت کے بغیر افغانستان میں کبھی امن نہیں ہو پائے گا۔
    لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔
    شیعہ طالبان پر ایران کا اثر و رسوخ ہے جبکہ پشتو ن طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کی بات کی جاتی ہے جسے پاکستان کہتا ہے کہ وہ ایک محدود حد تک ہے کہ ان کے خاندان یہاں پاکستان میں رہتے ہیں۔
    بھارت افغان نیشنل لیڈران جن میں امراللہ صالح، اشرف غنی، حامد کرزئی سمیت دیگر ہیں ان کو پیسے کی مدد اور ترقیاتی پراجیکٹس کی صورت میں کنٹرول کیئے ہوئے ہے۔ اور جہاں بھارت ہو گا وہاں پاکستان نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔

    اب افغانستان میں جس ملک کا حمایت یافتہ جتنا زیادہ مضبوط ہو گا اس کا افغانستان میں اتنا ہی اثرورسوخ ہو گا۔
    یہی وجہ ہے کہ بھارت اربوں روپے پاکستانی کیش کی صورت میں کرائے کے قاتلوں کو خرید کر اور بلوچ قوم پرستوں کو پیسا دے کر پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہا ہے اور وہ ایسا اس لئے کر پا رہا ہے کہ اس کے ہمایت یافتہ گروپ کی افغانستان میں حکومت ہے۔ اس حکومت نے بھارت کو افغانستان میں کئی ہزار اہلکار اور گیارہ کونسلیٹ رکھنے کی اجازت دی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف جو مرضی کرے۔ اب جبکہ طالبان زیادہ تر علاقوں میں قبضہ کر رہے ہیں تو انہیں پاکستان کی بلوچستان میں سرحد کے قریب واقع شہروں سے اربوں روپے پاکستانی کیش گھروں میں مل رہا ہے جسے پاکستان کے خلاف شر انگیزی پیدا کرنے کے لیئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اور یہ بھارت کے علاوہ ہم سے اتنی محبت کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اور اب طالبان یقینا بھارت کو یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گےجس کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اب دشمن اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی وجہ سے مرتے سانپ کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے اس نے پاکستان کی سر زمین پر حملے تیز کر دیئے ہیں جو اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ دم توڑنے سے پہلے زور لگا رہا ہے۔
    افغانستان میں عالمی طاقتوں کے کھیل اور گریٹ گیم جاری ہے۔اب یہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس گریٹ گیم کا حصہ بنتے ہیں یا افغانستان اور افغانیوں کے لئے کوئی بہتر حل نکالتے ہیں۔

  • "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    پچھلے کچھ دن سیاحت کی غرض سے جنت ارضی کے آزاد ٹکڑے آزادجموںو کشمیر میں گزرے، جہاں اس جنت ارضی میں خوبصورت وادیاں، شوریدہ سر نالے، تند و تیز دریا اور برفون سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ مووجود ہیں وہیں محرومیاں، شکوے شکایات اور بعض جگہوں پر تو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے. سالہا سال سے جموں و کشمیر کے ان حلقوں سے منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے والے مراعات سے تو لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جموں کشمیر کے شہریوں کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے.
    ہمارا سیاحتی ٹور کا ہدف ویسے تو نیلم کو خوبصورت وادی اور اس میں موجود آبشاریں، جھیلیں وغیرہ تھیں لیکن جیسے ہی ہم کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے تو ہمیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی نظر آئی، ہر طرف انتخابی تصاویر اور نعروں سے مزین پوسٹرز اور بینرز لہراتے پھر رہے تھے تو ہم نے سوچا چلو سیاحت کے ساتھ ساتھ کشمیر کے انتخابات اور انتخابی مہم کو ہی تنقیدی و تعریفی نگاہوں سے دیکھتے جاتے ہیں. اس غرض سے نارووال سے کے انتخابی حلقوں سے لے کر نیلم تک سفر کیا اور دیکھا اس کے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.
    بنیادی طور پر یہ انتخابات ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہورہے ہیں جن میں جموں اور مقبوضہ وادی کے مہاجرین کی نشستیں بھی شامل ہیں. کچھ انتخابی حلقہ جات نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور دیگر ان علاقوں پر بھی مشتمل ہیں جہاں جہاں مہاجرین کشمیر مقیم ہیں. اس سفر کے دوران تقریباً سبھی ہی حلقہ جات میں چکر لگا تو حالات ماڑے ہی نظر آئے. مہاجرین کے حلقوں میں ریاستی مہاجرین کے مسائل کا کسی کو ادراک نہیں، آزاد جموں کشمیر کے حلقوں میں بھی اب تک منتخب ہونے والوں نے الا ماشاءاللہ اپنی جائدادیں ہی بنائی ہیں.
    ریاست آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بےشمار سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں. ان میں سے بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو باری باری حکومت بناچکی ہیں لیکن ان کے پلے سوائے بیانات اور بڑھکوں کے کچھ بھی نہیں ہے. ابھی بھی مریم نواز اور اس کے ہمنواء انتخابی جلسوں میں یہی بیان بازیاں کررہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو تو دودھ اور شہر کی نہریں بہائیں گے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ بی بی ابھی آپ کا ہی دور حکومت گزرا ہے اس میں آپ لوگوں نے کیا کرلیا راولا کوٹ جیسے علاقے میں بچوں کو پینے کے لیے 150 روپے کلو میں بھی دودھ میسر نہیں ہے.
    اسی طرح پیپلز پارٹی کے حالات ہیں کہ بلاول بھی اپنے آپ کو کشمیر کا بیٹا کہلوانے کی کوشش میں خاصی بانسریاں بجاکر کر گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو حال پیپلز پارٹی نے سندھ کا کیا ہوا ہے اپنے دور حکومت میں وہی حال آزاد ریاست جموں و کشمیر کا بھی رہا ہے لیکن ابھی بھی وہ حکومت بنانے کے دعوے دار ہیں لیکن اس بار ریاستی عوام سیاسی طور پر قدرے باشعور ہے ہم نے دوران سفر صاف آواز سنیں کہ” نہ تو بلاول کشمیر کا بیٹا ہے اور نہ ہی مریم کشمیر کی بیٹی ہے دونوں مفاداتی پنچھی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں”.
    ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات بارے ایک بات زبان ذد عام ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہوتی ہے کشمیر میں بھی وہی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو اس لیے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اڑنے والے پنچھی اڑ کر تحریک انصاف کی ڈالیوں پر آ بیٹھے تھے. قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف بنائے گی لیکن جس طرح پاکستان میں تانگہ پارٹی بن کر حکومت میں آئی کچھ ایسا ہی حال کشمیر میں ہونے جارہا ہے. تحریک انصاف کی انتخابی کمپین انتشار کا شکار ہے حتیٰ کہ ابھی سے وزیراعظم کے لیے لڑائی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ کشمیر و کی تعمیر و ترقی پر خاک توجہ دیں گے.
    ریاستی انتخابات میں مسلم کانفرنس، تحریک لبیک و دیگر سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک ایسا نہیں کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے سکیں. مقبوضہ کشمیر میں پچھلے سال ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر بھی عوام میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے. ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور آزاد کشمیر کو اس کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے.
    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت نے آزاد جموں کشمیر اور ریاستی مہاجرین کی اکثر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی مہم خاصی دکھائی دے رہی ہے. اس جماعت نے کئی ایک علاقوں میں کامیاب امتخابی جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی ہیں جس کی وجہ سے یہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے ہیں.
    انتخابی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہوئے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران کی مصروفیات دیکھیں وہاں جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کے امیدواران اور پارٹی قیادت سے بھی ملاقات رہی. ان کا ماننا تھا کہ گوکہ وہ ان انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ تو نہیں لے سکیں گے لیکن ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کو آزاد کروانا ہمارا بنیادی منشور ہے. ہم الیکشن جیت کر اسمبلی میں بیٹھیں یا الیکشن میں کم ووٹ لے سکیں ہم عوام سے رشتہ نہیں توڑیں گے.
    آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے منجھے ہوئے سیاستدان سردار بابر حسین اس جماعت کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجربہ کار اور مخلص لوگ ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں یقین میں رکھتے ہیں. موجودہ انتخابات میں اپنی سرگرمیوں کے ساتھ وہ ریاستی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کا سورج اپنے غروب کے ساتھ مظفرآباد کے تحت پر کس کو طلوع کرکے جاتا ہے.

    محمد عبداللہ
    محمد عبداللہ

  • مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ مظفرگڑھ کو انگریز دور میں ہی ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا اس کی بنیاد نواب مظفر خاں نے 1794 میں رکھی تھی اس کی پانچ تحصیلیں ہوا کرتی تھیں جن میں (جتوئی،علی پور،کوٹ ادو،لیہ اور مظفرگڑھ) لیکن 1988 میں لیہ کو ایک علیحدہ ضلع بنا دیا گیا یہاں کی مقامی زبان سرائیکی ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی ابادی تقریباً 45 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہاں پر 90 فیصد سے زیادہ لوگ کسان ہیں ۔ ضلع مظفرگڑھ میں کپاس،گندم،چاول اور گنے کی کاشت زیادہ ہوتی ہے.

    ضلع مظفرگڑھ میں بہت سے مشہور پرائیویٹ کالج ہیں جن سے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں چند ایک درج ذیل ہیں ( آصف سلیم کالج،پنجاب گروپ آف کالجز،راشد منہاس کالج،مثالی پنجاب کالج جتوئی،سر سید احمدکالج )ان کالج میں بچے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر گھر رہ کر مزدوری وغیرہ کرتے ہیں کیوں کہ ضلع مظفرگڑھ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے اور یہاں کی غریب عوام اپنے بچوں کو مزید پڑھانے کیلئے بڑے شہروں میں نہیں بھیج سکتی حالانکہ ہر سال بورڈ کے امتحانات میں ضلع مظفرگڑھ سب سے آگے ہوتا ہے پوزیشن ہولڈر طلبا مظفرگڑھ سے ہی ہوتے ہیں ۔ مظفرگڑھ کی سیاسی شخصیات نے بھی اپنی غریب عوام کے لیے کبھی نہیں سوچا اس 74 سالہ پاکستان کی تاریخ میں ضلع مظفرگڑھ کو یونیورسٹی تو دور کسی بھی یونیورسٹی کا کیمپس تک نہیں ملے ۔ مظفرگڑھ کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے آئے روز طلبا احتجاج کرتے ہیں یونیورسٹی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن بے سود۔
    اس کے برعکس مظفرگڑھ سے علیحدہ شدہ ضلع لیہ اُس میں کم وبیش چار یونیورسٹیوں کے کیمپس ہیں اور کچھ دن پہلے لیہ میں ایک بڑی یونیورسٹی (یونیورسٹی آف لیہ) بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے لیکن مظفرگڑھ میں نوجوان ایف ایس سی کرنے کے بعد بھی مزدوری کرتا نظر ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    اکثر والدین بچوں کو اس لیے بھی سکول نہیں بھیجتے کہ ہم تو آگے آپ کی پڑھائی کا خرچہ نہیں اٹھا سکیں گے تو کیوں نا ابھی سے مزدوری شروع کر دو اور اپنے ماں باپ کا سہارا بنو۔
    ہماری نوجوان نسل کا حق کھایا جا رہا ہے ہماری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ ہمیں ایک یونیورسٹی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کر کے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں اور اپنے ماں باپ کا سہارا بن سکیں ۔

    @Korai92

  • مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    کیا ایم کیو ایم ہی مہاجر ہے؟
    کیا مہاجر ہی ایم کیو ایم ہے؟

    کیا تحریک انصاف میں مہاجر ہیں؟
    جی ہاں ہیں

    کیا مسلم لیگ ن میں مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پیپلز پارٹی میں بھی مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پاک سرزمین پارٹی میں مہاجر ہیں
    جی ہاں بلکل ہیں اور بڑی تعداد میں موجود ہیں

    جب مہاجر ہر جماعت میں اکثریت کے ساتھ موجود ہے تو ایم کیو ایم کیوں زبردستی مہاجر نام کو استعمال کیے جارہی ہے آخر کیوں ایم کیو ایم دنیا کو یہ تصور دےرہی ہے کہ مہاجر ہونے کر لیے ضروری ہے کے آپ کا تعلق ایم کیو ایم سے ہو؟

    کیا مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والوں نے ایم کیو ایم اور حقیقی کے نام پر مہاجروں کو شہداء قبرستان آباد نہیں کیے کیا ؟

    ایم کیو ایم تو 32 سال سے مہاجر نعرہ لگارہی ہے اب تک مہاجروں کے مسائل حال کیوں نہیں ہوے اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ایم کیو ایم ایک فلپ نظریہ پر کام کررہی ہے یہ بات صاف ہے کہ ایم کیو ایم کے نظریے سے مہاجر قوم کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے انکا مقصد MPA MNA بنکر رہنماؤں کی عیاشی کیلئے اے سی والی مہنگی مہنگی لگژری گاڑیاں اور خوبصورت محلات حاصل کرنے کیلئے جۓ مہاجر کا نعرہ لگا کر اپنی قوم کا استعمال کرتے ہیں

    الیکشن کے وقت ‎مہاجر کارڈ اور ‎سندھی کارڈ کھیل کر کراچی کی عوام کو بےوقوف بنانے والے ہی کراچی کی بربادی کے اصل ذمہ دار ہیں.
    ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کبھی عوام میں فرقہ پرستی اور لسانی فساد پھیلایا تو کبھی ‎سندھو دیش اور ‎مہاجر صوبہ کے نام پر عوام کے جذبات کو بھڑکایا.

    ‏32 سالوں میں تعلیم کو تباہ کر دیا ہے، شہدا کا قبرستان آباد کر دیا، سوریج نظام تباہ، انڈسٹریز یہاں سے چلی گئی، ذاتی مفادات کے خاطر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم عوام کو بے قوف بنا رہے ہیں۔ لیکن اب ‏ کراچی والوں کو سوچنا ہوگا کہ انکا اپنا کون ہے انشاء اللّه انے والے وقت میں تمام کراچی والوں کو چاہیے کہ اپنا ووٹ ( ڈولفن🐬 ) کو دیکر سید مصطفی کمال کا ہاتھ مضبوط کریں تاکہ کراچی اور کراچی کے لوگ ایک بار پھر تعمیر و ترقی کا سفر کامیابی حاصل کر سکیں.
    ثاقب شیخ
    @Saqib194

  • ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟   تحریر: ملک منیب محمود

    ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟ تحریر: ملک منیب محمود

    آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 73 سال ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے قیام پاکستان کے لیے جیسا مقدمہ لڑا ویسا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی نے نہ لڑا۔ 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’آپ کا تعلق کسی مذہب سے ہوسکتا ہے۔کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدہ کے ساتھ ہوسکتا ہے،یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاستِ پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
    یقین جانیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفریقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں عقیدے ،رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوچکے ہوتے۔ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔
    آپ آزاد ہیں ،آپ آزاد ہیں ، آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں۔کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘
    قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوںگے ۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔‘‘ان تقاریر کا ایک ایک لفظ پڑھ یا سن لیں اور سوچیں کہ ہم کس قدر ’’بے وفا ‘‘نکلے، ہم تو اس متن کے ایک جملے پر بھی پورا نہ اُتر سکے۔ خیر ہمیں کم از کم یہ تو علم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔لیکن ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی مذکورہ بالاتقریر(11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر )کو متنازع بنا دیا گیا۔
    بہت سی سازشیں ہوئیں، ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔ انھیں شہید کرنا والا افغان باشندہ تھا۔یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی جنھیں آمر نے پیدا کیا ہوا۔
    خیر یہ تو سیاسی باتیں تھیں، پاکستان میں سیاست اور کرکٹ دونوںکے مستقبل کے بارے میں بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی غلط ثابت ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے اپنے قومی پرچم جس میں سفید سبز رنگ ہے کی بے حرمتی کر دی!بلکہ کر رہے ہیں، قائد اعظم نے 11اگست والی تقریر کے بعد ہونے والے اجلاس ہی میں جس قومی پرچم کی منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ سفید رنگ اقلیتوں کی آزادی کی علامت ہے۔ لگتا ہے آج ہم نے اس خیال کو ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
    الغرض قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آپ ؒ پاکستان کے قیام کے بعد محض 13ماہ زندہ رہے۔ ان کی زندگی میں تو ’’پاکستان‘‘ تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا، مگر آج ہم کیا کررہے ہیں، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگا۔ مگر دھڑلے سے لگایا گیا اور آج بھی ویسے ہی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔
    الغرض قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں، آج ہم سب Look Busy Do Nothing کے محاورے پر چل رہے ہیں ، ہم مذہبی طور پر خود کو سب سے زیادہ مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں، ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک دکھاوا ہے۔ ہم ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کو اُس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نہ کرو، اس حوالے سے قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔
    سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھااور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔
    ‎@MMuneebPTI

  • پاکستان کے دو ہی اصل دُشمن۔ تحریر: محمد شعیب

    پاکستان کے دو ہی اصل دُشمن۔ تحریر: محمد شعیب

    میں تو اس نیتجے پر پہنچ چکا ہوں کہ پاکستان کے دو دشمن ہیں ایک تو بھارت جس کے بارے سب جانتے ہیں دوسرا مریم ۔ کیسے ہیں یہ میں آپکو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    ۔ اس وقت آزاد کشمیر میں پارلیمانی نشستوں کے انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ پہلے بلاول اور مریم ، پھر آصفہ اور اب عمران خان کے آزاد کشمیر میں جانے سے اس الیکشن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ مگر سیاست کے نام پر ۔ الیکشن کے نام پر وہاں گند ڈالا جا رہا ہے اور اچھالا جا رہا ہے ۔

    ۔ اب آزاد کشمیر میں بھی وہ ہی سلیکٹڈ ، دھاندلی ، کٹھ پتلی ، گالم گلوچ ، فائرنگ ، گاڈ فادر ، مافیا ، چور ، ایجنٹ اور غدار کا کھیل شروع ہوچکا ہے ۔

    ۔ حکومت کی نااہلی ، کرپشن ، مہنگائی، بیڈ گورننس اور کرتوت اپنے جگہ ہیں ۔ اس پر میں اکثر انکو آڑے ہاتھوں بھی لیتا رہتا ہوں ۔ اپوزیشن کو بھی حق ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرے اور جہاں وہ غلط ہو اس کو ٹف ٹائم دے۔ مگر اس تنقید میں مریم نواز نے آج لائن کراس کر دی ہے ۔ آج وہ بغض عمران میں ریاست مخالف بیان دے گئی ہیں اور وہ بھی آزاد کشمیر میں کھڑے ہوکر ۔ ان کو پتہ نہیں ہے یا اندازہ ہے کہ نہیں یا پھر انھوں نے جان بوجھ کر اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان دیا ہے ۔

    ۔ بلکہ بیان نہیں مطالبہ کیا ہے جھوٹی شہزادی نے ۔ کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا پر وزیر اعظم عمران خان افغانستان سے معافی مانگیں کیونکہ افغان سفیر کی بیٹی کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری تھی ۔ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ وہ اس لئے اغواء ہوئی کیوں کہ اکیلی باہر نکلی تھی ۔

    ۔ اب ان کے اس بیان کو افغان میڈیا ، بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پاکستان کے خلاف ایک پرپیگنڈاہ کے طور پر استعمال کررہا ہے اور تاریخ کےاس اہم موڑ پر جب ہم ہر جگہ سے دشمنوں کے بیچ گھرے ہوئے ہیں ۔ اس سے عمران خان کو تو پتہ نہیں نقصان ہوتا ہے یا نہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض بھی نہیں ہے ۔ مگر آج مریم نے ریاست پاکستان کو یقینی طور پر زک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

    ۔ مریم نے یہ ایک بیان دے کر حکومت کی crediability کے ساتھ تو جو کرنا تھا کیا مگر ساتھ ہی ریاست پاکستان اور اداروں کو بھی کٹہرے میں کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ حالانکہ وہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔ ان کی پارٹی بھی جانتی ہے ۔ کہ اشرف غنی کس کے ایماء پر افغان سفیر کو واپس بلا رہا ہے ۔ اور یہ سب ایک ڈرامہ ہے ۔ مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا اور افغانستان کے حالات کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنا ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں سفیر کی بیٹی نہ تو صحیح بیان دے رہی ہے نہ سوالات کے جواب دے رہی ہے اور کس نے اس کو کہا تھا کہ بغیر سیکورٹی کے وہ باہر نکلیں ۔

    ۔ مریم کو یہ ہمت تو نہیں ہوئی کہ وہ یہ سوال کرتی۔ کٹھ پتلی افغان حکومت اور اشرف سے پوچھیں کہ وہ کس کے ایماء پر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔ الٹا وہ ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان کے دشمنوں کی زبان بول رہی ہیں۔ آج کے ان کے اس بیان سے بھارت میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں ۔

    ۔ یہ خارجہ پالیسی پر بڑے لیچکر دے رہی ہیں ۔ پر مریم بھول گئیں ان کے دور میں تو وزیر خارجہ کا عہدہ کسی کو دیا ہی نہیں گیا ۔ جس کو نقصان ایف اے ٹی ایف سمیت پتہ نہیں کس کس معاملے میں ہم کو اٹھنا پڑا ہے ۔ اب یہ جو چینخ چلا رہی ہیں کشمیر میں ۔ برہان وانی ، کلبھوشن یادو کے معاملے پر ان کی زبان کوتالے لگ جاتے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب بھارت میں ایک اسکینڈل آیا ہے جس کا ڈائریکٹ تعلق پاکستان کے ساتھ ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جاسوسی کےاسرائیلی نظام کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کا نمبر بھی ہیک کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔

    ۔ چھوڑ دیں عمران خان کی گورننس کیا ہے یا نہیں ہے ۔ بھارت نے وزیر اعظم پاکستان کا فون ہیک کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر مریم اس پر نہیں بولیں گی ۔ مودی کی بینڈ نہیں بجائیں گی ۔ ہاں البتہ ساڑھیاں اور آم ضرور بجھوائیں گی ۔

    ۔ ایف اے ٹی ایف پر جے شنکر کا بیان آپ نے سن لیا ہوگا اور اب یہ ۔ اس کے بعد بھی ہمارے لیڈر ایسے بیان دیں جو مریم نے دیا ہے تو پھر تف ہے اُن پر بھی۔۔

    ۔ امریکی اخبار نےیہ بھی بتایا ہے کہ جاسوسی کے اسرائیلی نظام سے پاکستان سمیت کئی ملکوں کی شخصیات کے فون ہیک کیےگئے ہیں۔ جبکہ بھارت میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے فون کی بھی ہیکنگ کی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر ۔۔۔ پیگا سس ۔۔۔ کے ذریعے کی گئی۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام ۔۔۔ پیگاسس ۔۔۔ کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت دس ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔

    ۔ اب مریم ان صحافیوں کے حق میں بات نہیں کریں گی جن کے فون مودی ہیک کر رہا تھا ۔ اب مریم نہیں بولیں گی جو سازشیں بھارت پاکستان کے خلاف کر رہا ہے ۔ اب مریم کو یاد نہیں آئے گا وہ ایکٹنگ کرنا اور رونا دھونا کہ مودی پاکستان توڑنے کی سازشوں میں ملوث ہے ۔ اور ہمارا دشمن نمبر ون ہے ۔

    ۔ یقینی طور پر پاکستان ، ادارے اور عوام ان دشمنوں سے نبڑ لیں گے ۔ مگر یہ جو جونکیں مریم کی شکل میں پاکستان کے اندر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ ان کو ہینڈل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ جو پاکستان کو اندر سے کمزور کررہے ہیں ان کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے ۔

    ۔ یہ جو ووٹ کو عزت دو ، دھاندلی ، کرپشن اور نااہلی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کو آڑے ہاتھوں لیے بغیر پاکستان اپنے دشمنوں کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ۔

    ۔ میری نظر میں تو جو مریم کشمیر کی پاک دھرتی پر کھڑے ہوکر یہ کٹھ پتلی افغان حکومت کے بیانیے کو پروان چڑھانے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے یہ treason ہے ۔ یہ مریم کھاتی پاکستان کا ہے اور گن بھارت اور کٹھ پتلی اشرف غنی کے گاتی ہے ۔ یہ کشمیر میں کھڑے ہوکر باتیں تو بڑی بڑی کر رہی ہے مگر مودی کو للکارتے ہوئے اس کی زبان لڑ کھڑا جاتی ہے ۔ یہ اجیت ڈول اور جے شنکر کو شٹ اپ کال دینا بھول جاتی ہے ۔ یہ کلبھوشن یادو کا نام لیتے ہوئے ڈر جاتی ہیں ۔

    ناجانے کس نے انہیں یہ کہہ دیا ہے کہ ایسے اگر یہ بولیں گی تو کشمیر کا کیس صحیح طریقے سے لڑ پائیں گی۔اور عمران خان کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔نہ جانے کس نے ۔

  • عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان صحیح معنوں میں صحافت کی حق ادا کر رہا ہے اور غیر جانبدارانہ صحافی ہے کھل کر اپنا موقف دیتا ہے جو بھی غلط کر رہا ہوں سب کی مخالفت کرتا ہے محب وطن ہے اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتا ہے.

    صحافت کے عظیم پیشہ سے وابستہ ہزاروں صحافی ہیں لیکن عمران خان نے صحافت کا عملی نمونہ پیش کیا، پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کیا، ہمیشہ سے بنا خوف کے صحیح خبر بیان کرتا ہے قوم کا درد رکھتا ہے، پاک فوج سے بھرپور محبت رکھتا ہے، ٹھوس دلیل کے ساتھ ساتھ بات کرتا ہے ٹھیک کو ٹھیک غلط کو غلط کہتا ہے چاہے سامنے کوئی بھی ہوں صحافت کے نام پر جو صحافی پارٹیوں سے وفاداری نبھاتے ہیں ان پر بھی کھل کر تنقید کرتا ہے میڈیا کی منافقت پر بھی کھل کر بے خوف بات کرتا ہے.

    کچھ عرصہ پہلے جب مولانا طارق جمیل صاحب نے کہا تھا کہ میڈیا پر زیادہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اس پر میڈیا کو آگ لگی تھی لیکن عمران ریاض خان نے مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت کی تھی جس پر کچھ میڈیا چینلز نے عمران ریاض خان کو اپنا موقف دینے سے بھی روکا تھا.

    یہیں وجہ تھی کہ کچھ وقت پہلے عمران ریاض خان نے اپنی یوٹیوب چینل بنائی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت میں اپنی پہلی ویڈیو بنائی جس پر لوگوں نے عمران ریاض خان کو بہت سراہا

    پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب بہت کم عرصے میں عمران ریاض خان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو ملین سبسکرائبر مکمل ہونے کو ہے جو کہ بہت بڑی بات ہے بہت سارے نام نہاد صحافی کو کئی سال گزرنے کے باوجود عمران ریاض خان کی طرح کامیابی نہیں ملی وجہ یہی ہے کہ عمران خان اپنا پورا حق ادا کر رہا ہے اور لوگ اسے دیکھنا سننا پسند کرتے ہے.

    بہت ساری باتیں جو عمران ریاض میڈیا پر کھل کر نہیں کہہ سکتے اپنے چینل کے زریعے لوگوں کو بے خوف ہو کر سارا حقیقت کھل کر بتاتا ہے.

    اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھیں اور مزید استقامت دے.

    @DirojayKhan1

  • پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں کئی دور ایسے گزرے جس میں عوامی حکومت رہی تو کبھی مارشل لاء ملک میں رائج رہا- لیکن ان چیزوں سے پاکستانی عوام کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ملک میں کون حکمران جماعت ہے کیوں کہ ان بے حس حکمرانوں نے عوام کو اتنا سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ اپنی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ صحت روزگار تعلیم اور بچوں کی پرورش میں ہی الجھا رہے- اسے آپ سابقہ حکمرانوں کی سازش کا حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں حالانکہ کہ یہ سب سہولیات کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہداری ہوتی ہے کہ وہ صحت تعلیم روزگار جیسی بنیادی چیزیں عوام کی چوکھٹ تک پہنچائے پاکستان میں بہت سی ایسی سیاسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان موٹر وے ڈیم ایٹم بم جیسی ریاستیں پراپرٹی کو بنانے کا سہرا اپنے سر پر چڑھنے کی کوشش کی ہر تقریب میں یہ سیاستدان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے ہے اور پس پردہ یہ آپس میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں- ایسے نام نہاد سیاستدان جلسوں میں تقریری کرکے پاکستانی قوم کا خون گرما کر ان سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب قوم ان سے ان کی چوری کا حساب مانگے تو یہ لوگ پاکستان سے باہر بھاگ جاتے ہیں اور اگر وہاں بھی پکڑے جائیں تو یہ یہ چور اور ملک سے بھاگے ہوئے نااہل اور خود ساختہ سیاستدان گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں گذشتہ دن عابد شیر علی کا ایک پاکستانی شہری سے انگلینڈ میں سامنا ہوا پاکستانی شہری نے عابد شیر علی اور ان کے لیڈر کی چوری کے بارے میں ان سے جواب لینا چاہا لیکن عابد شیر علی گالیوں اور غلاظت بھرے الفاظ کا ذخیرہ جو انھیں ان کی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا ہے سب کے سامنے اس شہری پر برساتے رہے بات یہ نہیں کہ ان دونوں کے بیچ کیا معاملہ تھا فکر کی بات یہ ہے کہ ان بے حس لوگوں نے سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ ایک صاف ستھرا آدمی سیاست میں آنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے عابد شیر علی کو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جمہوریت کا چیمپیئن اور نواز شریف کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی چوری اور مکاری کا سوال ان کے منہ پر ہی کر سکے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر یہ سب سوالات عابد شیر علی سے پاکستان میں کیے جاتے تو عزیز دوستو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ جاگیر دار وڈیرے اور چور حکمران اس کا اور اس کے خاندان کا کیا حشر کرتے- ایک قوم کے لئے یہ ایک باعث شرم بات ہے کہ ہمارے نوجوان عابد شیر علی کو اس کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے پر اس کی داد رسی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ٹرینڈز چلائے جارہے ہیں جب سے پاکستان میں عمران خان نے احتساب کا عمل شروع کیا ہے یہ چور حکمران عمران خان کی نفرت میں اتنا گر چکے ہیں کہ یہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مجھے اپنا اسٹیٹس بھی نہیں دیکھتے اور میرے خیال سے ان کا کوئی اسٹیٹس بھی نہیں ہے عمران خان پر پرسنل اٹیک کرنا موجودہ سیاست اور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ہم سب کو سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان پاکستان کی ترقی اور سابقہ حکمرانوں سے وہ لوٹا ہوا پیسہ نکلوانا چاہیے جو انہوں نے پاکستان کی غریب عوام کو دھوکا دے کر اپنے محلات اور فیکٹریوں میں تبدیل کیا ہے اور جب ان سے اس چیز کا حساب مانگا جائے تو یہ لوگ بیماری کے بہانے بنا کر پاکستان ملک سے بھاگ جاتے ہیں- انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ہیں جب عابد شیر علی جیسے لوگوں کو ان ہی کے سپوٹر اور پاکستان کی غریب عوام گریبانوں سے پکڑ کر رڈو پر گھسیٹیں گے اور اپنا حق مانگیں گی.

    @iamhaiderzaidi

  • انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    دنیا میں سب سے بڑے جمہوریت کے دعویدار ھندوستان کس منہ سے دنیا کی سب سے بڑے جمہوریت کا دعوی کررہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہم اکیلئے نہیں بلکہ کوئی بھی ملک جو دل میں توڑا سا بھی انسانی ہمدردری رکھتا ہو ان کی بغرتیاں ظلم اور جبر کو کبھی بھول پائنگے اور نہ کبھی ان کی یہ بھونگیاں تسلیم کرینگے کیونکہ بظاہر ھندوستان جہاں ایک طرف اپنی اپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلا جارہا ہے تودوسری طرف تقریبان ایک سال سے کشمیر میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کشمیریوں پر نماز جمعہ تک ادا کرنے کی پابندی ہیں کشمیری مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے انکو انسان ماننے کو تیار نہیں نہیں دوسرے طرف اپنے ملک میں مقیم مسلمانوں کو چن چن کر مارہے ہیں مسلم فسادات کروارہے ہیں مسلمان طبقہ کو ملک بدر کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔

    اقلیت کو انکے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اقلیتوں کیلئے غنڈی بن گئے ہیں ھندوں نے ایک راج قائم کیا ہے پورے ھندوستان میں اقلیتوں پر زمین تنگ کردیا ہے دوسرے طرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام جاری ہیں انکے انکھوں کی روشنی چھینی جارہی ہیں پلیٹ گن کا استعمال کثرت سے جاری ہیں عزتیں پامال ہورہے ہیں ماوں بہنوں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں وہی مکروہ چہرہ جو ھندوستان کی غنڈہ گرد حکومت کی ہیں وہ اس نقاب سے چھپانا چاہتی ہیں کہ وہ 26 جنوری کو بطور جمہوریت کہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت ہے مناتے ہیں خالانکہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت نہیں دہشتگرد ملک ہیں دنیا میں فسادات راء کے اوارا کتے ار ایس ایس بجرنگ بلی اور شیوسینا جیسے لوگ کررہے ہیں لیکن اخرکار یہ دنیا کو کیوں نظر نہیں اتی یہ اقوام عالم کو نظر کیوں نہیں اتی ھندوستان لاکھ بار جمہوریت منائے لیکن وہ دہشتگرد تھا ہے اور رہیگا لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ھندوستان نہ دنیا کا بڑے جمہوریت ہوسکتا ہے اور نہ تھا اگر ھندوستان سب بڑا جمہوریت ہے تو کشمیری مسلمانوں کو حق خود اردیت کیوں نہیں دیا جارہا مسلمان اقلیت کو اپنا حقوق کیوں نہیں دیا جارہے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے مسلمان اور باقی اقلیتوں کو حق خود کو انکے حقوق دیا جائے تب جاکر یہ دہشتگرد جمہوریت منائے۔

    Femikhan_01@

  • پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ بہت درد ناک ہے۔بانیانِ پاکستان نےیہ خطہِ ارض اسلام اور نظامِ انصاف کے قیام کیلیے حاصل کیا۔ مگر بدقسمتی یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے چند سال بعد ہی پاکستان حقیقی اورمخلص قیادت سےمحروم ہوگیا۔ قاٸداعظم کی اچانک وفات اوربعد ازلیاقت علی کی قتل پاکستان کی درِ و دیوار ہلاگیا۔اس کے بعد ملک کی باگ ڈورایسےلوگوں کے ہاتھوں میں چلی گٸ۔ اس میں بیوروکریسی اور فوجی قیادت کابڑاکردار رہا۔سیاستدان چونکہ اتنےتعلیم یافتہ نہیں تھے اور مختلف شعبہ ہاۓزندگی سےتعلق رکھنے والےماہرین کابھی فقدان تھا تو اس خلا کو بیوروکریسی نے بھردیا۔ اسی وجہ سےبیوروکریسی شروع سے نظام پرمکمل طور پر قابض ہے۔ مختلف حکومتوں نےبیوروکریسی کے ملک کےنظام پرغیرمعمولی کنٹرول کےخاتمےکیلیےکوششیں کیں مگر سیاسی عدم استحکام کیوجہ سےبیوروکریسی نے یہ کوششیں ناکام بنادیں۔ بیوروکریسی برطانوی سامراج کی پیداوار ہے۔ برطانوی سامراجی دور میں بیوروکریٹس عوام کیساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کرتےتھے۔ سامراجیت کی باقیات آج بھی پاکستانی بیوروکریسی میں پاٸی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Public Service Delivery پاکستان کاسب سےبڑا مسٸلہ ہے۔ جس سے نظام بہت سست روی کاشکارہے۔ کٸ کٸ مہینے فاٸیلیں ایک دفترسےدوسرےدفترمنتقل ہوتی رہتی ہیں۔ مالی سال 2019-20میں سابقہ فاٹاکےاضلاع کیلیے 100 ارب سے زیادہ مالیت کےترقیاتی فنڈز مختص کیےگۓ مگر بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سےسال کےاختتام پر صرف چند ارب ہی خرچ ہوپاۓ۔ اس جیسی بہت سی رپورٹس آۓدن پڑھنےکوملتی ہیں۔عوامی مساٸل کی کوٸی شنویدنہیں ہوتی۔ کٸ کٸ گھنٹوں تک شہریوں کو انتظار کروایاجاتاہے۔ میرٹ پرکام کروانےکیلیےبھی شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہےاورشہریوں کےذہنوں میں بات بٹھادی گٸ ہے کہ کوٸی کام بغیررشوت یاسفارش کےکرواناممکن نہیں ۔ Red Tapism بہت ہے۔ ایک چھوٹےسےکام کیلیےکٸ مہینےلگ جاتےہیں۔

    @WaqasRizviJutt