Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون  تحریر ; حسن خان

    پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون تحریر ; حسن خان

    جہاں حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے وہی پر ہم پاکستانی بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم غیر ملکی اشیا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے مہنگی گاڑیاں مہنگے جوتے کپڑے کھانے پینے کی اشیا سب غیر ملکی استعمال کرتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم جو یہ پانی خرید کر پی رہے ہیں یہ ہمارے ملک کا ہی پانی ہےصرف ملٹی نیشنل کمپنی اپنا لیبل لگا کر ہم سے پیسے بٹور رہی ہیں اور یہ پیسہ ملک سے ڈولر کی شکل میں باہر جاۓ گا
    جس دن غیر ملکی اشیا خریدنی کم ہوگئی اس دن ہم مہنگائی پر قابو پا لیں گے
    ہمارے سابقہ حکمرانوں نے نا ہم کو شعور دیا نا ہی بتایا کہ معیشت کیا ہوتی ہیں ترسیلات زر کیا ہوتی ہے ایکسپورٹ انپوٹ کیا ہوتی ہیں ملکی معیشت کو کیسے مستحکم بنایا جاتا ہے صرف قرضہ لیتے گئے سبسڈی دیتے گئے ملک لوٹتے گئے
    دس سال بعد جب قرضوں کی واپسی کا وقت آیا تو سارا نزلہ عمران سرکار پر گرا ملک معاشی طور پر مفلوج ہوگیا حکومتی ایوانوں میں افرا تفری مچ گئی عمران خان کبھی ایک ملک کبھی دوسرے ملک مدد کیلئے بھاگا بھاگا پھر رہا تھا وجہ ملکی قرضے واپس کرنے تھے وہ بھی ڈولر کی صورت میں ڈولر تو کرپٹ حکمران بیرونی ممالک لوٹ کر لے گئے تھے تب جاکے ہماری سعودی عرب اور چین نے مدد کی تو ملک مزید تباہی سے بچ گیا آج بہترین معیشت کے ساتھ سارے ادارے خساروں سے نکل چکے ہیں
    مہنگائی ڈولر کی وجہ سے اپر ہے اور ویسے بھی پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے
    کرونا وائرس اس کی مین وجہ بنی
    مہنگائی سے بچے کیلئے پاکستانی عوام کو غیر ملکی اشیا کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ ملک مزید ترقی کرے
    میری چھوٹی سی تحریر پڑھ کر اگے شیر ضرور کریں

    @Hk_isi_

  • کیا موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے . تحریر : میاں اسد

    کیا موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے . تحریر : میاں اسد

    پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے کچھ عرصہ بعد قائد اعظم کی وفات ہوئی۔اور قائد کی وفات کئی سوالات کو جنم دے گئی۔
    قائد اعظم کو ٹی بی جیسے خطرناک مرض کی تشخیص کے بعد زیارت جیسے ٹھنڈے مقام پہ کیوں بھیج دیا گیا؟
    طبیعت کی ناسازی پہ زیارت سے واپسی کے لئے خراب ایمبولینس کس کے کہنے پہ مہیا کی گئی؟ ملک پاکستان کے سربراہ گورنر جنرل کے لئے اضافی ایمبولینس کیوں نہیں رکھی گئی؟

    ان سوالات کے جوابات آج تک نہیں مل سکے۔
    اس واقعے کے تین سال بعد ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو جلسے کے دوران سکیورٹی کے باوجود شہید کر دیا گیا۔ انہیں شہید کرنے والا ایک افغان باشندہ تھا جسے گرفتار کرکے تفتیش کرنے کی بجائے جائے وقوعہ پر ہی گولی مار دی گئی۔یہ سازش بھی ان تک بےنقاب نا ہو سکی۔
    اس کے بعد پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل جو اب دوسرے وزیراعظم بن چکے تھے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔۔
    اور پھر مارشل لاء کا دور آیا ۔ جی وہی دور جب ہمیں حقیقی سیاستدانوں کی ضرورت تھی اپنی مرضی کے سیاستدان لانچ کیے گئے۔جن کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اسی قائد کے پاکستان میں قائد اعظم کی ہمشیرہ کو غدار کہا گیا اور نجس جانور سے تشبیہہ دی گئی۔۔۔

    قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ مگر آج اس کے برعکس وزراء ہاوسز،گورنر ہاؤسز،صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچہ اربوں میں بنتا ہے۔
    قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر غریب عوام کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار قائد اعظم کی گاڑی گزارنے کے لئے ریلوے کا بند پھاٹک کھولا گیا تو قائد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: اگر میں قانون کی پاسداری نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟ آپ نے پھاٹک بند کرنے کا حکم دیا۔
    زیارت میں ایک بار نرس نے تبادلہ کروانے کے لئے آپ سے درخواست کرنا چاہی، مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا: سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے۔

    قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں۔ آج ہم سب (Look Busy Do Nothing) کے محاورے پر چل رہے ہیں۔ ہم خود کو مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں۔ ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کواس کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نا کرو۔اس حوالے سے قرآن وحدیث کی باتیں بھی کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہےاور وہ بھی گندہ ہو جائے تو دکان دار لیتا ہے نا خریدار سفر لمبا ہے کم سے کم ابتداء اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا۔اور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یہی راستہ ہے قائد اعظم کے نظریے اور تصورات کو عملی جامہ پہنانے کا۔ بات ہے مساوی حقوق کی۔ بات ہے مساوی قانون کی۔ جو قانون ایک عام شہری کے لئے بنایا گیا کیا اس پر عمل کرنا حکومت اور عوام کی توہین کی ہے؟

    سوچیے اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے

    @Asad_Tells

  • واپڈا، کرپشن اورعوام . تحریر :‌ منیب خان

    ھمارے علاقے مطلب کے پی بنوں میں زیادہ تر بجلی نہیں ہوتی جتنی ہوتی ہے ان سے گھر کے ضروریات بامشکل پوری ہوتی ہے جیسے پانی وغیرہ جس وقت بجلی ہوتی تو ولٹیج اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام نارمل بجلی سے نہیں ہوتا مجبور بڑا والا سٹیبلیزر لگانا پڑتا ہے۔

    کنڈہ سسٹم اور زیادہ جرمانے کی وجہ سے واپڈہ والوں نے لوگوں کے میٹر تو ضبط کرلئے لیکن دوبارہ لگائے نہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے چوری کی بجلی استمعال شروع کردی ہے۔جسکا نقصان خکومت کو ہورہا ہے. 100 میں 10 لوگ بجلی کا بل ادا کرتے ہیں۔
    باقیوں سے یہاں کے واپڈا والے 500 روپے نقد گھر کا لیتے ہیں جہاں تک میں نے سننا ہے بل یا رسید کے بغیر پیسوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ یہ پیسے کہا جاتے اللہ بہتر جانتا ہے۔ اوپر سے امیر، غریب کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں۔ جہاں پر غریب کے گھر میں بمشکل ایک پنکھا اور بالب ہوتا ہے تو دوسری طرف امیر کے گھر میں اےسی ،فریج اور ہائی ولٹیج بالب لاگے ہوئے ہوتے ہیں۔

    ٹرانسفارمر ٹھیک کرنا واپڈا والوں کا کام ہے لیکن یہ کام بھی ھمارے ہاں علاقے والے خود کرتے ہیں اپس میں پیسے جمع کرکے۔
    اسکا خال ہوسکتا ہے اگر واپڈا والے اخساس سروے کا ڈیٹا لیکر اسی کے مطابق لوگوں پہ بوجھ ڈالے۔ میں نے بہت عرصے اپنے علاقے میں میٹر ریڈر نہیں دیکھا۔ مسجد کے بل میں بھی پی ٹی وی کا بل اتا ہے۔ یہی سے ھماری زوال شروع ہوتا ہے۔
    اگرخکومت وقت نے اس طرف توجہ دی اور اسکو ٹھیک کرے تو خکومت اور عوام کے بہت سے مسلے ٹھیک ہوجایئنگے ایک تو پیسہ خکومت کو ملنا شروع ہونگے اور دوسری طرف عوام کو کچھ خد تک ریلیف بھی مل جائے گا۔ پاکستان کے ہر مخکمہ میں اصلاحات ضروری ہے لیکن شروعات وپڈا سے کرے ۔

    @Moneebk6759367

  • بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں  تحریر:وسیم اکرم

    بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں تحریر:وسیم اکرم

    ہم ہر روز سیاستدانوں کو گالیاں دیتے ہیں اور کرپٹ کہتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ کرپٹ ہونے کیلئے لازم نہیں سیاستدان ہونا، بحثیت قوم ہم سب لوگ کرپٹ ہیں بس ہمیں جس جگہ جتنا موقع ملتا ہے ہم کرپشن کرتے ہیں۔۔۔

    میں نے جب سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو کرپشن میں لت پت دیکھا تو سوچ میں پڑھ گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے لیڈرز کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، فراڈ کرتے ہیں، مالی لٹیرے ہیں، منافقت کرکے ایک ڈبکی لگا کر پاک صاف بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔

    دوستو غور کریں تواصل میں سارا قصور ہمارا ہے، کرپٹ ہم ہیں، جھوٹ ہم بولتے ہیں، فراڈ ہم کرتے ہیں، دھوکہ ہم دیتے ہیں، دودھ میں پانی اور پاؤڈر ہم ملاتے ہیں، دوائیوں تک میں ملاوٹ ہم کرتے ہیں، گردے ہم چوری کرتے ہیں، یہاں تک کہ قبروں سے ہڈیاں تک نکال کر بیچ جاتے ہیں۔۔۔

    بحیثیت ڈاکٹر ہسپتال اور پرائیویٹ میں رویے الگ الگ رکھتے ہیں، بحیثیت استاد وقت کی پابندی نہیں کرتے، بحیثیت آفیسر بد دیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں، بحیثیت بوس غریب کو دباتے ہیں، پرائیویٹ سکولوں میں دھوکہ دیتے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی بجائے بزنس سمجھ کر ڈیل کرتے ہیں۔۔۔

    حکومتی محکموں میں رشوت اور سفارش کے بغیر کام نہیں کرتے، غریب کو پھیرے لگاتے ہیں، محکموں میں سیاسی تقرریاں اور تبادلے کرواتے ہیں، پھر کام صرف سیاسی محسنوں کو دیتے ہیں۔۔۔

    بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار پیسہ ہی ہے، کوٹھی کار والے کو بڑا سمجھتے ہیں، غریب سے منافقت کرتے ہیں، برادریوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں، دکھاوے کی نمازیں اور بے وضو جنازے پڑھتے ہیں۔۔۔

    جنازوں پر ثواب کی نیت چھوڑ کر منہ دکھانے پر زور ہوتا ہے، کسی بیمار کی عیادت پر جاتے ہیں تو مکان اور کھانے پینے پر زور ہوتا ہے، فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں تو سو سالہ پلان ڈسکس کرتے ہیں، قبر کی فکر کی بجائے رنگ روغن پر دھیان ہوتا ہے۔۔۔

    میرے عزیز ہم وطنوں جب اس طرح کا میں ہوں تو میرا لیڈر بھی میرے ووٹ سے بنے گا نا، وہ بھی میری طرح ہوگا نا، میں خود اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں تو لیڈر بااخلاق کیسے ہو گا، جب میں دھوکہ باز ہوں تو ایسا ہی لیڈر چنوں گا نا تو گلہ کس سے شکوہ کس سے اور شکوہ کیوں۔۔۔؟

    ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ قانون کے رکھوالے اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ تعلیم کو کاروبار بنا سکتےہیں، ہم پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ کامرس کی تعلیم رکھنے والے مزدور کا خون چوس سکتے ہیں۔۔۔

    اسکے باوجود سب سے زیادہ کرپٹ ہم خود ہیں پٹواریوں کی صورت میں، نیب قاصد کی صورت میں، منشی کی صورت میں، ڈاکٹر کی صورت میں، نرس کی صورت میں، لیبارٹری کے ٹیسٹ کرنے والوں کی صورت میں وکیل کی صورت میں اور انکے فوٹو کاپی منشی حضرات کی صورت میں، تعلیم کی صورت میں، پرائیویٹ اداروں کی صورت میں، فیس زیادہ سے زیادہ رکھنے والوں کی صورت میں، تنخواہ کم دینے والوں کی صورت میں، میڈیا کی صورت میں ہم سب کے سب کرپٹ ہیں۔۔۔

    پھر بھی ہماری عوام کی اکثریت اس بات پر پریشان ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں، ہماری عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا وغیرہ۔۔۔

    مطلب کوئی بھی ملکی ادارہ جھوٹ اور کرپشن سے پاک نہیں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ ان سب کی وجوہات کیا ہیں۔۔۔؟ ہمارا دین اسلام کی تعلیمات سے دوری اور خوف خدا کا نہ ہونا ہے۔۔۔

    ہمارے معاشرے کا اسلام پسند محبت وطن خوف خدا رکھنے والا مخلص طبقہ فقط خود تک یا وعظ و نصیحت تک محدود ہوگیا ہے۔ جبکہ موجودہ دور میں اس طبقہ کی عملی طور پہ ملک کو ضرورت ہے کہ خود کو دنیاوی علوم و فنون سے آراستہ کریں اور اپنے خلوص اور قابلیت کو لے کے ملکی اداروں میں جائیں۔۔۔

    انہوں نے اس میدان کو خود خالی چھوڑ کر لادین اور دشمن کے آلہ کار لبرل طبقے کیلئے راہ ہموار کی ہے۔۔۔ اسلئے اپنے ملک کو بچانے اور اسلام کے نام پہ حاصل کیے گئے اس ملک میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کیلئے ہمارے محب وطن اور دین پسند نوجوان نسل کو دنیاوی تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا۔۔۔

    ہمارے لوگ بہت باصلاحیت ہیں مگر موجودہ نظام اور کرپشن کو دیکھ کے مایوسی کا شکار ہیں۔۔۔ ہمیں اس مایوسی کو ختم کرنا ہے ایک نئی امید اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور پاکستان کو کرپشن سے، بددیانتی سے پاک کرکے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے حقیقی پاکستان بنانا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اپنے آپکو ٹھیک نہیں کرلیتے۔۔۔
    ت

  • اگلے الیکشنز کون فاتح  تحریر: انوارالحق

    اگلے الیکشنز کون فاتح تحریر: انوارالحق

    دیکھنا یہ ہے کہ پی۔ٹی۔آئی حکومت سوشل میڈیا کی طاقت کے بل پر کب تک پذیرائی برقرار رکھتی ہے۔ پی۔ڈی۔ایم چاروں خانے چت ہو کر عملی طور پر دوبارہ حصے بخروں میں بٹ کر اپنی اپنی بقاء کی جنگ کے روائتی مورچوں میں جاچکی ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ اپنے سیا سی محرکات کی نمائش کیلیے ایکدوسرے کیخلاف چھوٹے پیمانے پر شرلیاں پٹاخے چھوڑتے رہتے ہیں اس سلسلے میں بلاول کے بیانات تو واضح ہیں لیکن ن لیگ محتاط بیان بازی پر کاربند نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں اور شائید ٹھیک سمجھتے ہیں کہ اس طرح حکومت کی مخالفت بھی ہوتی رہے گی اور اپنا اپنا ووٹ بینک بھی مستحکم رہے گا وہ الگ بات ہے کہ مریم اور بلاول عمران مخالفت میں جتنا قریب آگئے تھے ان کے سپورٹرز شائید اتنا قریب کبھی نہ آسکیں۔ن لیگ، پی پی پی اور اب پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان جو نظریاتی تکون بن گئی ہے اس کا پاٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ پرمشکل اور مزیدار کام یہ ہے کہ اس سیاسی تکون کے دو کونوں نے عمران کی مخالفت کیساتھ ساتھ ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے ہوئے مخالفت کا تاثر بھی برقرار رکھنا ہے۔ عمران تو واضح طور پر دونوں کیخلاف ہے لیکن مصیبت ن لیگ اور پی پی پی کے ووٹرز کیلئے ہے کہ انہیں کبھی پتہ نیں چلتا کہ کب پی پی پی کی مخالفت کرنی ہے اور کب حمائیت۔ انکی جماعتوں کا چھوٹا ورکر یا بڑا لیڈر ان سے نہیں پوچھتا کہ کوئی ایک لائن کیوں نہیں اختیار کرتے اگر پی پی پی سے دوستی ہے تو دوستی کرنے دیں اور اگر مفاہمت ہی کرنی تھی تو ہماری ایک ایک دو دو نسلوں کو سیاسی مخالفت سے لیکر ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ کیو ں چڑھایا گیا۔ پھر بھی اب کھل کر بتا دیں کہ بیانیہ کیاہے پی پی پی سے دوستی ہے کہ دشمنی۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن لگتاہے کہ دنیا کے بعض خطوں میں دل کیساتھ ساتھ دماغ بھی نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ پھر سیا سی لیڈر کو سیاسی لیڈر کون کہے اگر اس کی لفظی یا عملی شعبدہ بازی عام جنتا جناردن کی سمجھ میں وقت پر آجائے، جب تک لیڈر کو ئی ایک داؤ سمجھ میں آتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ن لیگ والوں کو اب سمجھ میں آیا کہ بے نظیر بھٹو کی بطور خاتون تضحیک نہیں کرنی چاہئے تھی، صدر ضیا ء الحق کے مارشل لاء کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے تھا، جونیجو کی منتخب حکومت کیخلاف سازشیں نہیں کرنی چاہئیں تھی۔ اسی طرح آصف زرداری ایک طرف ببانگ دہل ٹی۔وی پر بیٹھ کر نواز شریف کو گریٹر پنجاب کو سہولت کار کہتا ہے غدار کہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ وہ لیڈر ہی کیا جس کو مجمع باندھ کر رکھنا نہ آتا ہو، جنتا جناردن ایک بات سمجھنے کی کوشش کرہی رہی ہوتی ہے کہ لفاظی کا اگلا بم گرادیا جاتا ہے جس میں پچھلی سمجھ بو جھ بھی غائب ہو جاتی ہے۔
    شائید اقبال نے ایسے ذہنی محکوموں کے لئے بھی کہا تھا کہ؛
    خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
    پھر سلا دیتی ہے اسکو حکمراں کی ساحری
    وہ کون سا ایسا بڑے سے بڑا یا گھٹیا سے گھٹیا الزام ہے جو سیاسی لیڈران نے ایک دوسرے پر نہ لگایا ہو؟ بھینسوں کی چوری چکاری سے لیکر ملک سے غداری تک، قادیانیت تک، یہودیت تک، بدفعلیوں سے بدکرداری تک سب عوام کو مشتعل کرنے والے الزامات لگائے گئے اور لگائے جا رہے ہیں اور عوام اس بڑھی ہوئی شرح تعلیم کے باوجود بڑھکتی جارہی ہے۔ آج بھی سیاسی مخالفت کب ذاتی مخالفت میں بدل جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ایک پارٹی کا سپورٹر دوسری پارٹی سے محض سیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر دوستیاں، یارانے حتٰی کہ رشتے داریاں تک ختم کردیتا ہے۔ الیکشنز کی چہل پہل میں گالم گلوچ، ہاتھا پائی، ماردھاڑ، ہوائی فائرنگ بلکہ سیدھی فائرنگ قتل وغارت عام بات بن گئی ہے جس سے نہ جانے کتنی معصوم جانیں چلی جاتی ہیں، گھر وں کے واحد کفیل مارے جاتے ہیں،مرنے اور مارنے والے اصل میں دونوں مر جاتے ہیں، حالیہ ضمنی انتخابات میں سیالکوٹ، دینہ اور گجرات کے علاقوں میں ہونے والی قتل وغارت اس سیاسی وحشت کی تازہ مثالیں ہیں۔ سیاسی لیڈران کی زبان سے بھڑکائی آگ میں نہ جانے کتنے جیالے، متوالے، بے نام نشان مارے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتاکہ آکے پوچھے سناؤ جذباتی ورکر صاحب کیابنا، تمھارے ماں باپ، بھائی بہن یا بیوی بچوں کی کیا خیرخبر ہے۔ بڑے ٹی وی چینلز اس ساری آگ کو برابر ہوا دیتے ہیں بڑا اینکر وہی ہے جس کے شو میں شرکاء دست و گریبان ہوں یا کم از کم گالم گلوچ کر یں جو لفظوں سے دوسرے کو گھائیل کردے اسے ہی بڑا تجزیہ کار اور ماہر مانا جاتا ہے۔عوام جانے کب سیکھے گی کہ کس لیڈر کی کون سی بات صحیح ہے اور اسکو سپورٹ کرنا ہے اور کس لیڈر کی کون سی بات غلط ہے اسکی مخالفت کرنی ہے۔
    اپوزیشن عملی طور پر ہے ہی نہیں اب حکومت ہی حکومت ہے، ہر بل پاس ہورہا ہے، ہر طرح کی قانون سازی میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی جس طرح چاہے قانون سازی کر سکتی ہے اور انتظامی طور پر بھی پرانے عدالتی نظام کے باوجود انصاف کی فراہمی اور شہری سہولیا ت کے حوالے سے بہت کچھ کرسکتی ہے۔ دیکھتے ہیں اس ڈیڑہ دو سالوں میں کیا ایساکرتی ہے کہ عوام الناس اگلے الیکشنز میں بھی دوبارہ ووٹ دیتی ہے۔ بال اب پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔

    رابطہ: +923238869398 لاہور، پاکستان

  • بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    جوں ہی بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوتا تو تمام بلدیاتی نمائندے اپنے روایتی انداز میں اچھا سوٹ بوٹ پہن کر لوگوں سے ملتے جلتے اور گھروں پر دستک دیتے دیکھائی دیتے، بیشک ہم انہیں بخوبی جانتے ہوتے لیکن ہر کوئی نمائندہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا کہ کسی طریقے سے بلدیاتی الیکشن جیت جاوں ان میں بیشتر سابقہ ممبر ہی سیٹوں پر آتے، لیکن عوام کو بھی اب زمہ دار شہری بننا پڑے گا یہ کسی فرد واحد کے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا وگرنہ یہ نسل در نسل سلسلہ چلتا رہے گا اور اپ منہ دیکھتے رہ جائیں گیں۔

    صرف عوام اگر زاتی تعلق کی بجائے آنکھیں کھول کر اپنی اپنی وارڈ کا معائنہ کریں کہ چار سالوں کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کہ ہمارے منتخب نمائندوں نے کیا گل کھلائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اگر تو منتخب نمائندہ کارکردگی کی بدولت اپنے معیار پر پورا اترتا تو دوبارہ منتخب کروانا آپ سب کی زمہ داری ہے لیکن اگر منتخب کردہ نمائندہ کی کارکردگی صفر ہے تو اس پر پوری وارڈ کی عوام کو سوچ وچار کرنی چاہیے جس پر انکا پورا حق ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں منفی سوچ کے ساتھ جڑ دیا گیا کہ ہمارے ہاں نمائندہ وہی اچھا جو لوگوں کے جنازوں میں جائے جو لوگوں کی خوشی پر باقاعدگی سے پہنچے جو یقننا ہم ایسا ہی سب چاہتے ہیں اور نمائندہ بھی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے.
    امید کرتا ہوں اپ میری بات کو سمجھیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گیں۔ شکریہ

    @shahzeb___

  • آزاد کشمیر انتخابات تحریر :  محمد حماد

    آزاد کشمیر انتخابات تحریر : محمد حماد


    آزاد کشمیر کی عوام ۲۵ جولائی بروز اتوار آزاد کشمیر کی گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا انتخاب کرے گی۔ ان انتخابات میں ۳.۲ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ۱.۷۵ ملین مرد ووٹرز جبکہ ۱.۴۶ ملین خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ۳۲ سے زائد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جن کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    وزیراعظم عمران خان، بلاول بھٹو، مریم نواز سمیت تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین نے انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خود انتخابی مہم چلائی اور جلسوں سے دھواں دار خطابات کئے۔ ان جوشیلی تقریروں نے نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید گرمایا بلکہ انتخابی وعدوں نے عوام میں ایک نئی امید کو بھی جنم دیا کہ شاید توقعات کے برعکس اس بار یہ وعدے عملی شکل بھی اختیار کریں۔

    انتخابی وعدوں کے ساتھ ساتھ تقاریر میں ایک افسوسناک چیز بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک بار پھر مودی کے یار اور غداری کے نعرے انتخابی جلسوں کی زینت بنے۔ سرحد پار کشمیریوں کی آواز بننے اور انھیں اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کشمیر کا سودا کرنے اور کشمیر بیچنے کے الزامات لگائے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ زاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ خدانخواستہ ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ سیاست بھی نہیں رہے گی۔

    بہرحال اب فیصلہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمیں دعاگو رہنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے لوگ بہترین نمائندوں کا انتخاب کریں اور انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعصے حقیقت کا روپ دھاڑیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer ,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    تبدیلی کا سفر تحریر : تہران الحسن خان

    90 کی دہائی سے شروع ہونے والا کامیابیوں کا سفر تبدیلی کا سفر کب بنا۔ آج میں آپ کی اجازت سے اس موضوع پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

    1985 کی بات ہے جب سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور موجودہ وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی کی والدہ محترمہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر خالق حقیقی سے جا ملیں تو اس دوران مشہور زمانہ کرکٹر عمران خان نے والدہ کی تکلیف کے ساتھ ساتھ اور بھی کافی ایسے لوگوں کی تکلیف دیکھی جو اس موذی مرض میں مبتلا تھے اور وطن عزیز پاکستان میں کوئی بھی ایسا ہاسپٹل موجود نہیں تھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو۔
    ماں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر عمران خان نے ایک ایسا ادارہ بنانے کا خواب دیکھا جس میں کینسر کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو اور بہت زیادہ محنت اور کوشش کے بعد اس ہسپتال نے دسمبر 1994ء میں اپنے دروازے مریضوں کیلئے کھولے۔ جو کہ آج تک %70 مریضوں کا علاج مفت کر رہا ہے۔
    اس خواب کی تکمیل میں بہت سے مخیر حضرات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس نے عمران خان کے دل میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ مزید دوگنا ہوگیا۔
    1996 میں تبدیلی نظام کے نام پر ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نام سے وجود میں لائی گئی جس کے بانی عمران خان تھے اور اس جماعت کا نعرہ اور منشور جماعت کے نام سے ہی بہت واضح تھا۔ معززین اس جماعت کی بنیاد کا ساتھ ہی تبدیلی کے سفر کا آغاز ہوا۔

    سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ موجودہ وزیراعظم نے ایک ایسے منصب کا خواب دیکھا جس پر فائز ہونے کے بعد ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا نظام بھی رائج کرنا تھا جس میں امیر اور غریب کیلئے ایک قانون ہو۔
    2002ء میں میانوالی اپنے آبائی حلقے سے پہلی دفعہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مشرف دور کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ 30 اکتوبر 2011 کے لاہور جلسہ نے عمران خان کے خواب اور نظریہ میں جان ڈال دی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان تحریک انصاف کا شمار پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا۔
    الیکشن 2013ء میں تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حکومت ملی جو ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کی پہلی سیڑھی تھی۔ سیاسی بصیرت نہ رکھنے والے شخص نے پہلی دفعہ جب حکومت سنبھالی تو ایسی مثال قائم کی کہ ملک پاکستان کی عوام نے 2018ء کے الیکشن میں اس منصب کیلئے چن لیا جس منصب کا خواب عمران خان نے 1996 میں دیکھا تھا۔
    اور اس تبدیلی کی سفر میں بہت مشکلات اور تکالیف راستے میں رکاوٹ بنیں لیکن جذبہ خدمت اور تبدیلی نظام کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹک سکی۔ اور یوں کامیابیوں سے شروع ہونے والا سفر ایک لمبی جستجو اور محنت کے بعد زور و شور سے جاری ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کو وطن عزیز کی بہتری کیلئے مزید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • سیاحت میں رکاوٹ  تحریر: عمران راجہ

    سیاحت میں رکاوٹ تحریر: عمران راجہ


    پاکستانی سیاحت کو درپیش مسائل
    ‎پاکستان کے شمالی علاقے اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی علاقہ جات کا رخ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں ناران کاغان جانے والوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہوا کیونکہ ناران کاغان روڈ پر ناجائز تجاوزات کے خلاف ہونےوالے آپریشن کی وجہ سے وہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔ کشیدگی پر تو مقامی انتظامیہ نےجلد ہی قابو پا لیا، لیکن کیبن اور ہوٹلوں کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے وہاں کی خوبصورتی بے حد متاثر ہوئی۔ اگرچہ شمالی علاقہ جات کی قدرتی خوبصورتی کو بحال رکھنے کے لیے یہ آپریشن ضروری تھا لیکن مناسب یہ تھا کہ اس کام کو سردیوں میں کیا جاتا جب سیاح یہاں کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔ یا پھر یہ کام گذشتہ سال بھی کیا جا سکتا تھا جب پورا سال سیاحتی مقامات کرونا کے باعث بند رہے۔

    ‎گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گردی کی وجہ سے سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپریشن ضرب عصب اور آپریشن ردالفساد کی کامیابی کے بعد اب آہستہ آہستہ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہورہی تھیں کہ کرونا کی آمد نے شعبہ سیاحت کو ایک بار پھر بری طرح متاثر کیا۔ کرونا کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ٹورازم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    ‎دنیا بھر میں سیاحت کو ایک صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ سیاحت کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے سیاحت کے لیے موزوں ترین ملک پاکستان میں سیاحت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 7.1 فیصد سیاحت سے حاصل ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں اس کی شرح 10 فیصد ہے۔
    ‎پاکستان دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بھرپور ثقافت ، جغرافیائی اور حیاتیاتی تنوع اور تاریخ کی وجہ سے سیاحت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ بلند و بالا برف پوش پہاڑی سلسلہ کوہ ہمالیہ، جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پائی جاتی ہے، وسیع و عریض صحرا تھر اور چولستان اپنی تمام تر خوبصورتی اور اسرار لیے، سرسبز اور مسحور کن وادیاں جن میں وادئ نیلم، ہنزہ، کالاش، ناران کاغان شامل ہیں، تاریخی مقامات جیسے قلعہ روہتاس، شاہی قلعہ لاہور، شالامار باغ بادشاہی مسجد اور مسجد وزیر خان، صدیوں پرانی تہذیب کی نشانیاں ٹیکسلا، موہنجو دڑو اور ہڑپہ، مختلف مذاہب کے اہم مذہبی مقامات، اس کے علاوہ پاکستانی ثقافت جو کہ کراچی سے لے کر خیبر تک ہر طرح کے رنگ لیے ہوئے ہے، یہ سب چیزیں مل کر سیاحوں کے لئے بے پناہ کشش کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کے مقامی تہوار شندور کا میلہ، پولو فیسٹیول، مالم جبہ میں ہونے والا ski tournament اور اسی طرح کی دوسری سرگرمیاں سیاحوں کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔
    ‎پاکستان میں سیاحت کا شعبہ ابتدا سے ہی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔سیاحت کے شعبے کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، غیر معیاری ریستوران ، صفائی کا ناقص انتظام اور ناکافی سہولیات اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تاریخی عمارات جو کہ آرٹ کا بہترین شاہکار ہیں انتہائی خستہ حال ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی ناقص سہولیات کی وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار رہا۔ میڈیا خاص طور پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے دنیا بھر کے سیاحوں کے قدم روک دیے۔

    ‎موجودہ حکومت سیاحت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔کرتار پور راہداری اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔ جس کی بدولت سکھ زائرین کے ساتھ ساتھ دوسرے سیاح بھی بڑی تعداد میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیاحت کی وسعت اور فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پاکستانی حکومت 175 ممالک کو 7 سے 10 کاروباری دنوں کی مدت میں تین ماہ کا ای ویزا فراہم کرے گی اور 50 ممالک کو پاکستان آمد پر ویزا کی پیش کش کی گئی ہے۔ سی پیک کا منصوبہ ایک اہم پیشرفت ہے جو نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

    ‎یوریشین ٹائمز میگزین کے مطابق پاکستان کو 2020 میں تعطیلات کے لیے بہترین مقام قرار دیا گیا اور دنیا کا تیسرا سب سے اعلی مہم جوئی کا مقام بھی قرار دیا گیا۔ چونکہ ملک میں سیکیورٹی کے حالات بہتر ہوئےہیں، سیاحت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ دو سالوں میں ملکی سیاحت میں 300 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں ٹریول ولاگرز کی آمد ہوئی ، جنہوں نے ملک کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کیا، خاص طور پر شمالی علاقوں ہنزہ اور اسکردو۔

    ‎حکومتی کوششوں کے ثمرات تو نظر آنا شروع ہو گئے لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ میڈیا پر اکثر اوقات سنسنی پھیلانے کے لیے ایسی خبریں نشر کی جاتی ہیں کہ سیاحوں پر مقامی افراد نے حملہ کر دیا یا ان کو اغواء کر لیا ۔ ایسی خبریں نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں بلکہ بیرون ملک یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ مقام ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے میں میڈیا سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بے مقصد پروگراموں کی بجائے پاکستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے دستاویزی پروگرام پیش کیے جائیں۔ بلاگرز اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یو ٹیوب پر زیادہ سے زیادہ پاکستانی علاقوں اور پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے والی ویڈیو پیش کی جائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بہت اہم ہتھیار ہیں جن کا مثبت استعمال کر کے ہم بہت سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر سیاحت کے شعبے پر اسی طرح توجہ دی جائے جیسے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے دی جا رہی ہے تو اپنی متنوع خصوصیات کے باعث پاکستان دنیا کا بہترین سیاحتی ملک بن سکتا ہے اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دے کر اتنا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے کہ ملک کا قرضہ بھی بآسانی ادا کیا جا سکے اور ملک ترقی کی راہ پربھی گامزن ہو

    ۔
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2