Baaghi TV

Category: سیاست

  • 2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے اس جماعت نے بہت بلند و بالا دعوے کر رکھے تھے۔ 2013 الیکشن کمپین کے مطابق یہ جماعت پوری تیاری کے ساتھ حکومت سنبھالنے آ رہی تھی اور ان کے دعووں کے مطابق ان کے پاس معاشی ٹیم پہلے سے موجود ہے جن کے سربراہ کے طور پر اسد عمر کا نام الیکشن جیتنے سے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا گیا تھا۔
    قصہ مختصر کہ 2013 میں تحریک انصاف سب سے ذیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اکیلے اپنی حکومت بنا سکے لہزا چیچوں کا مربہ اکٹھا کر کے عمران خان پاکستان کا بائیسواں وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا.

    حکومت ملنے کے چند ماہ کے اندر ہی انہیں احساس ہو گیا کہ حالات تو بہت خراب ہیں کیونکہ ملک کی معیشت بلکل بیٹھ چکی تھی، زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آ چکے تھے، قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے جس سے ملک میں مہنگائی کی لہر نے قمر کس لی اور ہر چیز کے نرخ بڑھنے لگے۔ جلد ہی معاشی ٹیم میں تبدیلی لائی گئی کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ عمران خان آئی ایم ایف کا سخت ناقد تھا لیکن مجبوراً ان کے پاس بھی جانا پڑا۔ سعودی عرب سے 3 ارب کا قرضہ لیا گیا جس سے پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کی گئیں۔ اس کے علاؤہ ان سے ادھار تیل لینے کا معاہدہ بھی کیا گیا کہ کسی طرح ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھنے کو ملی اور ملکی تاریخ کے بلند ترین سطح پر ڈالر ایکسچینج ہوا جو کہ 160 روپے ہو گیا جس سے مہنگائی کا طوفان آیا تاہم اس سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوا جس کا ثمر مالی سال 2020 کے اختتام میں دیکھنے کو ملا کہ ملکی تاریخ میں سب سے ذیادہ ایکسپورٹ اس سال میں ہوئی اور تقریباً 28 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹ ہوئی۔

    ہماری معیشت کچھ بہتر ہوئی تھی کہ اسی دوران کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے پوری دنیا کی معیشت کو شدید نقصان ہوا تاہم پاکستان حکومت کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان ان چند ممالک میں تھا جسے اس کا کم سے کم نقصان ہوا۔
    3 مشکل ترین سال دیکھنے کے بعد حکومت نے معیشت کو استقامت دی، ملکی خارجہ پالیسی کو بڑی اچھی طرح لے کے چلی یہ حکومت.
    60 کی دھائی کے بعد پہلی دفہ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کا کام شروع ہوا اور دیامیر بھاشا ڈیم کے ساتھ داسو ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو کہ 2029 تک مکمل ہوں گے۔
    غرض یہ کہ حکومت نے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ لوگ جو اس حکومت سے متنفر ہونا شروع ہو گئے تھے پھر سے اس حکومت کے گن گانے لگے ہیں۔

    اب آ جاتے ہیں کہ 2023 میں پاکستان کی حکومت کونسی جماعت بنائے گی؟ میرے ناقص تجزیے کے مطابق 2023 میں تحریک انصاف ایک دفہ پھر سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی اور اس دفہ اسے بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا کیونکہ اس دفہ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔ اس وقت سینیٹ میں بھی اکثریت تحریک انصاف کی ہے اور آئندہ سینیٹ انتخابات کے بعد جو کہ 2024 میں منعقد ہوں گے تو وہاں بھی تحریک انصاف 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کا مطلب ہے کہ عمران خان اگلے 5 سال میں ملکی تاریخ کا مضبوط ترین وزیراعظم ہو گا۔
    دعا ہے کہ جو بھی ہو ملک کے لیے اچھا ہو. آمین۔

    @babarshahzad32

  • ‏پاکستانی سیاست   تحریر : عثمان غنی

    ‏پاکستانی سیاست تحریر : عثمان غنی

    سب سے بڑے بھٹو جنکو عرف عام میں ایوب کی اولاد کہا جاتا ہے۔ بہت ہی مہربان ہستی تھے کہنے کو تو سب لین تھے مگر بدترین ڈکٹیٹر سے بھی زیادہ برا تھا ان کا دور لاڑکانہ چلو ورنہ جیل چلو کے نعرے انہوں نے لگوائے۔ اپنے وقت کے بدترین عامر تھے 86 سیٹیں لے کر پورے ملک پر قبضہ کیا اور خود وفادار رہ کر مجیب الرحمن کو غدار قرار دے دیا..

    ویسے تو ان تینوں کے بارے میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے صرف تین ٹکڑوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا مگر خیر وہ ایک الگ معاملہ ہے. یہاں بات ہو رہی تھی بھٹو خاندان کی بھٹو نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد ناکارہ نوے ہزار فوجی لاکر خود کو کمال مہارت سے ہیرو ثابت کردیا اس کے بعد آتے ہیں ان کی بیٹی محترمہ کی طرف سابق صدر پاکستان ذلفقار لغاری نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ ہیں بے نظیر جب دوسری بات بار پاکستان واپس آئیں تو میں ان کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا تھا بہت آبدیدہ ہو کر مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اتنی کرپشن کی کیا عوام اب بھی میرا ساتھ دیں گے اور پاگل عوام نے ان کا ساتھ دیا انڈیا کی تھری وفادار تھی کے خالصتان بنانے والے سکھوں کی لسٹ ہے انڈیا کو خیر سگالی کے طور پر دی۔

    اس کے بعد آتی ہے ان کی تیسری نسل جو سرائیکی اور سندھ دیر کی دھمکی دیتی ہے
    روز کرپشن کرنے کے بعد پلی بارگیننگ کر لیتے ہیں جی ہم نے چوری کر لی اور ہم آدھا واپس کر دیں گے اور پاکستانی عوام کو یہ تک نہیں پتا کہ پلی بارگیننگ ہوتا کیا ہے خیر یہ کمال خاندان ہے کرنا میں بہت زیادہ ہے اور سارا ہی پاکستان مخالف ان کی نسل ابھی چل رہی ہے حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہیں لیکن اب عوام کا شعور بتاتا ہے کہاں گئے یہ کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے..

    @UsmanSay_

  • ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .

    اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں,

    JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھ
    سانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .

  • جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جمہوریت کا مطلب لوگوں کی حکومت ہوتی ہے۔ لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور لوگوں کیلئے ہوتی ہے۔جمہوریت ذمہ دار اور جواب دہ حکومت کا نام ہےجموریت ایک نظریہ نہیں ہے ۔ جمہوریت حکومت چلانے کے ایک طریقہ کار کا نام ہے
    میں جب سے پیدا ہووی ہوں میں نے ہمارے پاکستان کی جہموریت کو ہمیشہ خطرے میں ہی پایا ہے ۔۔جب عوامی احتجاج ہو مہنگائی کے خلاف ۔جہموریت خطرے میں ۔جب سیاست دان الیکشن ہارنے لگے ۔جہموریت خطرے میں ۔۔جب کسی غریب کی بیٹی وڈیروں کے ہتھے چڑھ جائیں اور غریب سوشل میڈیا پر وڈیو بنا کر حکومت وقت سے مدد مانگے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام گٹر اور واٹر سپلائ کا مکس پانی پی کر بیمار ہو جائے صاف پانی کا مطالبہ کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔جب سیاست دان ضمیر فروش صحافیوں کو ساتھ ملا اداروں کو گالی گلوچ دے اور ادارے ان پر گرفت مضبوط کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام روٹی مہنگی پر احتجاج کرے تو جہموریت خطرے میں ۔۔جب لوگ حکمرانوں سے تنگ آکر ان کو چپیڑیں جوتے مارنے لگ جائیں تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔لیکن جناب حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکمران عوامی ٹیکس پر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں جہموریت کو کوی خطرہ نہیں ۔جب عوامی پیسے پر بیرون ملک ساری کابینہ کو لے جا کر عیاشی کی جاے جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوام کے فنڈ پر عوامی پیسے پر اپنے بچے کو یورپ کی مہنگی یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا جاے تو بھی جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوامی فنڈ پر اپنے شاندار بنگلہ بنایا جاے اور غریب کو ٹوٹی سڑک ٹھیک کر کہ ٹرخا دیا جاے ۔تب بھی جہموریت خطرہ میں نہیں ۔۔

    عوام کے ٹیکس کے پیسے سے عوام پر پیسہ لگا کر اگلے بیس سال تک جب عوام کو جتاتے ہے ہم تمھارے لیے یہ کیا اتناااااا کچھ کیا ۔ جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔ہسپتالوں میں غریب مریضوں ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور سیاست دانوں کو اسی ہسپتال پروٹوکول دیا جاتا ہے جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔۔جناب ۔کسی غریب والدین کا بیٹا سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا یہ جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں۔۔۔ سیاست دانوں کی سرپرستی میں سکول کا ماسٹر دو سو بچوں ساتھ بدفعلی کرتا ہے جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں ۔۔سیاست دانوں کی سرپرستی میں ایک وزیر کی بیٹی اداروں کو گالی گلوچ دیتی ہے اور ماں وزیر کی کردی پہ مزے سے عوامی فنڈ پر عیاشیاں کررہی ہوتی ہے ۔حکومتی ارکان کا حصہ ہوتی ہے لیکن جہموریت کو بالکل خطرہ نہیں۔۔۔اور جب یہ سیاست دان الیکشن ہارتے ہیں ۔۔سیاست ایک کھیل کی طرح آج توں تو کل میں ۔۔لیکن میرے پاکستان میں جو ایک بار اقتدار پہ قابض ہو گیا ۔۔وہ اترنا تو چاہتا ہی نہیں ۔تصور بھی نہیں کرتا کہ کل وہ ہار سکتا ہے ۔۔بس ایک ہی آواز ہوتی ہے کل ہم جیٹ کر مزید یہ کام کریں گے ۔۔ہم سے پانچ سال دس سال یہ اچھا نہیں ہوا ۔ہم اگلے دس سال یہ کریں گے ۔۔ینعی عوام کا خون تو ہر حال میں نچوڑتے رہنا ہے ۔جان نہیں چھوڑنی ۔۔ہارنے کے بعد بچوں کی طرح ایک دوسرے پہ الزامات کی برسات کہ تجھے فوج لیکر آئ تجھے فوج لیکر آئ توں آمر کی گود میں پیدا ہوا تو توں آمر کی گود میں کھیلا ۔توں سلیکٹڈ ہے توں سلیکٹڈ ہے ۔۔جناب آپ نے کبھی آج تک ان سیاست دانوں کو اپنی ناکام کارکردگی کا اعتراف کرتے دیکھا ہے ۔کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔۔کیونکہ اعتراف کرنا تو ان کی توہین ہے ۔۔

    یہ جہموریت نہیں ۔یہ خدا کی زمین پر کفر کا نظام ہے ۔۔یہ ایک لفافہ پر چلتے حکمرانوں کی عیاشیوں کا نام ہے ۔۔۔جی ہاں لفافے ۔۔۔اب آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ لفافہ مطلب ضمیر فروش صحافی نہیں جی یہ ضمیر فروش سیاست دانوں پہ بات ہے ۔ جو جب جاتے ہے تو آنے والوں کو بہت اہم پیغام دے کر جاتے ہیں۔۔اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے
    کسی ملک کے وزیراعظم کے خلاف جب بہت جلوس نکلنے لگے اور نعرے لگنے لگے تو اس نے مخالف جماعت کے سربراہ کو بلوایا ۔اور کہا: مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد تم ہی وزیراعظم بنو گے ۔یہ دو لفافے سنبھال کے رکھ لو ۔جب کوی مشکل درپیش آئے تو پہلا لفافہ کھول کر جو کچھ لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا ۔پھر دوبارہ مصیبت میں مبتلا ہونے پر دوسرا لفافہ کھولنا اور وہ ہی کچھ کرنا جو اس پہ لکھا ہو۔۔
    ملک میں انتخابات ہوے مخالف پارٹی کا لیڈر وزیراعظم بن گیا ۔چند سالوں تک اس کی حکومت اچھی چلتی رہی
    پھر اس کے غلط کاموں کی وجہ سے اس کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے ۔اس نے پہلا لفافہ کھولا اس میں لکھا تھا ۔
    تمام الزامات مجھ پر یعنی پرانے وزیراعظم پر ڈال دو
    نئے وزیراعظم نے یہی کیا ۔دو تین سال تک عوام خاموش ہو گئ ۔اس کے بعد پھر عوام میں بیداری کی لہر اٹھی اور وزیراعظم کے خلاف جلوس نکلنے
    ۔

  • سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل  تحریر:احمد راجپوت

    سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل تحریر:احمد راجپوت

    عید سے پہلے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سرکاری ملازمین کی عید الضحیٰ کی خوشیاں ماند پڑ گئی وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے عید الضحیٰ سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا مگر افسر شاہی نے محکمہ میں موجود ملازمین سے زیادہ ٹھیکیداروں کو عزت بخشی اور فنڈ ہونے کے باوجود ملازمین کی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے ٹھیکیداروں کو پیمنٹ کردی گئی کمیشن تنخواہوں سے کہا ملتا سندھ سرکار پورا سال پروڈنٹ فنڈ مزدوروں کی تنخواہوں میں سے کاٹ کر اس کے مانگنے پر دینے کی پابند ہے مگر سندھ کے محکموں میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ ایمپلائز سالوں سے ریٹائر ہونے کے باوجود اپنے فنڈز کے لئے چکر لگا رہے ہیں کچھ خود کشیاں بھی کر چکے اور کچھ اپنے حق کے لئے نعرے لگاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار گئے مگر اپنا اور اپنے بچوں کا حق بھٹو سرکار سے وصول نہیں کر سکے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بس ہو جائے گا کا راگ الاپنے کی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں میں پورا مہینہ گذارا ہوجائے یہ ہی بڑی بات ہے یہاں تو اپنے فنڈز کے حصول کے لئے بھی سالوں انتظار کرنا پڑرہا ہے کوئی ہے جو ملازمین کی خوشیوں کو پورا کرنے میں مدد کرے

  • عمران خان مسیحا پاکستان   تحریر : نواب فیصل اعوان

    عمران خان مسیحا پاکستان تحریر : نواب فیصل اعوان

    پچھلے ستر سالوں میں پاکستان کو کوٸ ایسا لیڈر نہیں ملا جو پاکستان کی عالمی سطح پہ کھل کر نماٸندگی کرتا .
    ایک کرکٹر اپنی ایک جماعت کی بنیاد رکھتا ہے جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا جاتا ہے .
    ایسی جماعت جس کا منشور ہی پاکستان میں انصاف کو عام کرنا ہو ہر نچلے طبقے کیلۓ انصاف کی راہیں کھولنا ہو تاکہ پاکستان میں امیر غریب کے فرق کو ختم کرتے ہوۓ مساوات کو ترجیح دی جاۓ ..
    دنیا ہنستی ہے کہ ایک کرکٹر سیاست میں آگیا ہے بہت زیادہ مذاق اڑایا جاتا ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ وہی کرکٹر پاکستان میں شوکت خانم کی بنیاد رکھتا ہے اور لوگ اس کو جی بھر کے چندہ دیتے ہیں اور ایک روز شوکت خانم پاکستان کے ٹاپ کے اسپتالوں میں شامل ہوجاتا ہے جہاں پہ بنیادی سہولیات اچھے سے میسر ہوتی ہیں جہاں غریب عوام کو علاج کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں .
    وہ پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں ستارہ بن جاتا ہے لوگ اس کے قافلے میں جوک در جوک شامل ہوتے جاتے ہیں .
    23 سال کی انتھک کوششوں کے بعد وہ کرکٹر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے .
    اب وہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے واضع اکثریت سے کامیابی کے ساتھ وہ ملک پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے ..
    ماٸک میں آواز گونجتی ہے کہ
    لیڈیز اینڈ جینٹلمین زوردار تالیوں کی گونج میں تشریف لا رہے ہیں
    پاکستان کی شان پاکستان کی آن
    ہمارے اور سب کے عمران خان
    ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ یہ تو وہی کرکٹر ہے جس کا ہم نے مذاق بنایا تھا اور آج وہ وزیراعظم پاکستان کے اعلی منصب پہ فاٸز ہوتا ہے .
    پاکستان کو عالمی دنیا میں عمران خان کی وجہ سے خوب پذیراٸ ملتی ہے جو کفر کے ایوانوں میں ہر خطاب پہ
    الحمداللہ سے شروعات کرتا ہے جو دنیا کو پاکستان کا حقیقی چہرہ دکھاتا ہے جو بھارت امریکہ و پاکستان دشمن ممالک کو انکی اوقات دکھاتا ہے .
    جس کے ایک بیان پہ عالمی میڈیا کوریج دیتا ہے جس کے ایک ایک لفظ کو عالمی رہنما بڑے احترام و خاموشی سے سنتے ہیں .
    جس کو عالمی دنیا میں پاکستان کا سب سے زیادہ اثرورسوخ والا سیاستدان گردانا جاتا ہے .
    عمران خان مسلہ کشمیر ہو یا مسلہ فلسطین بھارت و اسراٸیل کو ہر عالمی فورم میں آڑے ہاتھوں لیتا ہے جو کشمیریوں پہ بھارتی جارحیت کے بارے میں عالمی دنیا کو آگاہ کرتا ہے جو فلسطینی بہن بھاٸیوں کی حمایت میں اسراٸیل کو آنکھیں دکھاتا ہے ..
    جو افغانستان میں قیام امن کیلۓ طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لاتا ہے ..
    جو پاکستان میں کرپٹ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لاتا ہے جو پاکستان کی لوٹی ہوٸ دولت پاکستان میں واپس لاتا ہے ریکوریز کراتا ہے جو پاکستان میں مافیا کو ایک آنکھ نہہں بھاتا .
    جو عوام دوست منصوبے لاتا ہے جو ہر تھوڑے وقت کے بعد عوام سے خطاب کرتا ہے اور اپنے منصوبوں کیلۓ عوام کو اعتماد میں لاتا ہے .
    جو غریبوں اورمظلوموں کے مساٸل خود ڈاٸریکٹلی سنتا ہے
    جو پاکستان میں انصاف کے حصول کو ممکن بنانے اور ہر پاکستانی کی چوکھٹ پہ انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلۓ جدید ایپس متعارف کراتا ہے جو انصاف کے حصول کو ہمارے ایک ٹچ پہ میسر کر دیتا ہے .
    جس کو ہٹانے کیلۓ عالمی سازشیں ہوں یا ملکی دشمن انتشار پھیلاٸیں وہ بڑے تحمل و بردباری سے تمام مساٸل کا حل نکالتے ہوۓ ہر سازش کو ناکام بناتا ہے .
    اس کی عوامی مقبولیت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ و پاکستان کی غریب عوام اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہ جہاں قدم رکھتا ہے وہاں عوام کا سیلاب امڈ آتا ہے .
    جو امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیتا ہے .
    جو پاکستان کی گرتی معیشت کو اسٹیبل کرتا ہے جو کرنٹ خسارہ سرپلس کرتا ہے جو عوام دوست بجٹ لاتا ہے جو عوام کو ان کی بنیادی سہولیات دینے کیلۓ دن رات ایک کرتا ہے جو کرپشن کا الزام بھی لگنے پہ وزیروں مشیروں کو ہٹا دیتا ہے
    ایسا سیاستدان واللہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے .
    ایسا سیاستدان پاکستان کا مسیحا ہے اور یاد رکھو
    ” جس نے اپنے مسیحا کی قدر نہیں کی وقت نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ".
    @NawabFebi

  • حکمران اور ہماری عوام تحریر:  زوبیہ سدوزئی

    حکمران اور ہماری عوام تحریر: زوبیہ سدوزئی

    اپنی عوام کو حکمرانوں سے پیار کرتے دیکھتی ہوں تو اک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ حکمران بھی عوام سے اتنا پیار کرتے ہیں؟ ہر بار الیکشن آتے ہیں اور ہر بار عوام کو جھوٹے لارے لگا کر بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے غریب اور معصوم عوام جو روزی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ان کی نفسیات پڑھ لی ہیں۔ اک غریب آ دمی جس کے گھر پانی تک فراہم نہیں اس کے علاقے کا امیدوار وہاں جائے گا اور اسے پانی اور پائپ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر لے گا۔ اک غریب آدمی جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں وہاں کا امیدوار کچھ اناج اور پیسوں کا لالچ دے کر اس سے ووٹ لے لے گا۔ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم سے یہ پیار کرتے ہوں تو یہ صرف اور صرف ووٹ مانگنے کے ٹائم ہی ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ موروثی سیاست سے آگے آئے ہیں جو سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہیں غریب کے درد کا اس کی مشکلات کا کیسے احساس ہو گا؟ مریم نواز اور بلاول جیسے لیڈر کیسے ان کا احساس کر سکتے ہیں اک جس کا سب کچھ لنڈن میں ہے اور دوسرا جسے اپنی مادری زبان تک بولنا نہیں اتی۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جس نے کوشش کی ہو جو محنت کر کے آگے آ یا ہو وہی اپنی عوام کا درد رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جس کو آپ ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کر سکے گا یا نہیں۔ وہ اس ملک کے لیے کام کر رہا ہے یا صرف اپنی کرسی کے لیے اور دولت کے نشے لوٹنے کے لیے۔

  • افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے بُرا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا بنیادی کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہر گز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں ہی نے کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح چلنا ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہِ راست اور گہرا تعلق ہے۔

    ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ۔۔۔ دم ٹیڑھی ہی رہتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ افغان حکومت اور خاص طور پر بھارتی کٹھ پتلی اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ اب اپنے تازہ بیان میں اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتا ہے۔
    پاکستان کا کوئی سیاست دان اپنے ملک میں طالبان کی حکومت کا خواہاں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لیے طالبان کی حکومت چاہتے ہیں،پاکستان کا تمام میڈیابھی طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور کبھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت کی مدد کرے اور کبھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اُنہیں کچلے۔

    ۔ اب روز اشرف غنی کو صرف پاکستان کی یاد آرہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی اب کیوں اپنے
    buddy
    بھارت سے رابطہ نہیں کرتا ۔ کیوں نہیں ڈیمانڈ کرتا ہے کہ بھارتی فوج کابل میں کھڑے ہوکر انکا دفاع کرے ۔ کیوں نہیں یہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ آئے اور اس کی حکومت کو طالبان سے بچائے ۔

    ۔ سچ چاہے کڑوا ہو ۔ پر سچ یہ ہے کہ افغان حکومت کو تو نہ اب کہیں سے پیسہ مل رہا ہے نہ مدد ۔ اور افغان حکومت کی فوج ایسی ہے جیسے ہیجڑوں کی فوج ہو۔ اب یہ سارا ملبہ بھارتی ایماء پر پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ اور صرف ریاست پاکستان ہی نہیں پاکستان کے سیاستدانوں اور صحافیوں تک کو لعن طعن کررہا ہے ۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ افغان حکومت معاملات کو کنڑول کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے اور طالبان روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔

    ۔ میں آپ سب کو یاد کروادوں کہ حامد کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی ہوئی تھی ۔ یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنے ملک میں ٹریننگ سمیت ہر قسم کی مدد دی ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پیچھے افغان اور بھارتی حکومت تھی ۔ ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔

    ۔ 2014ء
    میں آرمی پبلک سکول پر بزدلانہ حملے میں تحریک طالبان، را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے۔ یہ حملہ افغانستان میں پلان ہوا، اس کے بعد جیسے ریاستِ پاکستان کے صبر کی انتہا ہوگئی۔ چن چن کردہشت گردوں، ان کے آلہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ختم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ پاک افغان باڈر کو سیل کرنے کے لیے باڑلگانے کا کام شروع ہوا۔

    ۔ مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے، نوے فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔ باقی بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ سرحد پر سینکڑوں حفاظتی چوکیاں تعمیر کی گئیں۔ بارڈر کنٹرول سسٹم اپ گریڈ کیا گیا اور وہاں جدید بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر تمام کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اور اب جو پاکستان کا موقف ہے وہ اصولی موقف ہے کہ افغانوں نے خود مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ کس کی حکومت ہوگی افغانستان میں ۔ اس سے زیادہ پاکستان کیا کرے ۔

    ۔ پھربھی یہ افغان حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے ۔ ابھی حالیہ افغان سفیر کی بیٹی والا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔ کیسے انھوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی حالانکہ لڑکی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی ۔

    ۔ جیسے اشرف غنی نے سفیر کو واپس بلایا ہے اگر اتنی ہی اس افغان حکومت اور اشرف غنی میں غیرت ہے تو پھر یہ تین ملین افغان مہاجرین جو اب بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں ان کو واپس لے جاتی ۔

    ۔ آپ دیکھیں پاکستان پھر بھی دل بڑا کرکے افغان حکومت کے ساتھ
    cooperate
    کررہا ہے مگر ۔۔۔ جیسا کہ شروع میں کہا تھا کہ یہ
    ۔۔۔۔ کی دم سیدھی نہیں ہوتی ۔ یہ ہی حال اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ ہمسایے میں کچھ بھی ہورہا ہو اس کا اثر اپنے گھر تک آتا ہی ہے ۔ کاش کہ ہم ہمسایوں کے معاملے میں خوش نصیب ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، ایک طرف ازلی دشمن ہے تو دوسری طرف ایک ایسا ملک جس میں امن کا قیام خواب معلوم ہوتا ہے۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔
    ہمیشہ افغانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، کتنے ہی افراد چمن باڈر کراس کے ہر روز پاکستان آتے ہیں۔
    یہاں اپنا علاج کراتے ہیں۔
    ضرورت کی اشیا خریدتے ہیں۔
    کتنے ہی افغان باشندے یہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ ان کے درد کو سمیٹا، انہیں چھت اور روزگار دیے۔ آج بیشمار افغان باشندے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور پاکستان میں عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

    ۔ مگر افغان قیادت ہے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

    ۔ پاکستان اب بھی اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے۔ تاہم افغان حکومت کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ بھارت کے ایما پر وہ شاید ہم سے اچھے سفارتی تعلقات کے خواہاں نہیں ہے۔ افغان سرکاری میڈیا پر پاکستان کے خلاف نغمے نشر ہو رہے ہیں،یہ نغمے
    RTA
    (ریڈیو ٹی وی افغانستان)
    کے ویریفائیڈ ٹویٹر اکائونٹ سے ٹویٹ بھی کیے گئے جس سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پھر بھی پاکستان نے افغان لیڈرزکی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور میزبانی کی پیشکش کی لیکن افغان صدر اشرف غنی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ملتوی ہو گئی۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان آرمی اور افغان ایئرفورس کو سپن بولدک میں طالبان کو نکالنے کے لیے فضائی آپریشن کرنے پر سخت نتائج اور ردعمل کی دھمکی دی۔ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے، افغان نائب صدر نے ثبوت دینے کا دعویٰ تو کیا مگر اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان ایئرفورس نے ایسا کوئی بیان دیا اور نہ ہی پاک ایئرفورس کا افغان فورسز کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا۔

    ۔ آج بھی افغانستان میں ایک خونی دن گزارا ہے ۔ صدراتی محل میں راکٹ حملے کئے گئے ۔ حملے کے وقت صدارتی محل میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جارہی تھی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مجھے تو یہ بھی ایک ڈرامہ لگتا ہے کہ طالبان کو کسی طرح بدنام کیا جائے گا یہ تاثر دیا جائے کہ عید پر بھی یہ خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ اس حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے عید کی نماز کے بعد صدارتی محل میں خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا ۔

    ۔ جبکہ امریکا سمیت 16 ممالک اور نیٹو نے طالبان سمیت افغان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عید پر امن کیلئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کیلئے جنگ بندی کریں۔

    ۔ادھر طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز سے شدید جھڑپوں کے بعد کابل کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ ارزگان کے ضلع دہراؤد پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبائی انتظامیہ نے طالبان کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے ۔ شمالی صوبے سمنگان میں افغان فورسز نے میں ضلع درہ سوف کا قبضہ چھڑوالیا ہے ۔

    ۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن فدا محمد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے سپن بولدک میں میرے دو بیٹوں کو ہلاک کردیا۔۔ تخار کے دارالحکومت طلوقان میں لڑائی کے دوران پولیس چیف شدیدزخمی ہوگیا۔ ادھر قندھار میں عمائدین کی کوششوں سے 8 روزہ جنگ بندی ہوگئی۔

    ۔ دوسری جانب اشرف غنی نے کل ہرات کا دورہ کیا،صو بے کے تمام اضلاع پر طالبان قابض ہیں جبکہ ہرات شہر طالبان کے محاصرے میں ہے ۔ دورے کے دوران اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاکہ طالبان جنگ ہارچکے ہیں،وہ اہم عوامی عمارات کو تباہ کررہے ہیں۔

    ۔ جو دیکھائی دے رہا ہے کہ طالبان اورلسانی و قومیتی گروہوں اور مقامی جنگجو گروپوں کے درمیان جنگیں شروع ہوگئیں تو یہ پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہوں گی۔ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے دونوں اطراف کے ہمسایے ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں۔

    ۔ مگر پھر بھی پاکستان امن کا داعی ہے اس لیے پاکستان نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افغان دھڑوں کے مابین حالیہ مذاکرات خوش آئند ہیں ۔

  • عنوان :  وزیراعظم عمران خان کے اقدامات   تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

    بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
    اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
    جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
    جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
    عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
    عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
    اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
    عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
    عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
    عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
    عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
    عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
    ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
    عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
    عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
    اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
    کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
    شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
    اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
    @Patriot_Mani

  • اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس   تحریر :  ملک علی رضا

    اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس تحریر : ملک علی رضا

    سائنسی جدت کے اس دور میں جہاں ممالک چاند سے بھی آگے نکل کر دیگر سیاروں پر اپنی آماجگاہ بنانے کی سوچ رہے ہیں وہاں پاکستان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جو انہی ممالک کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل بائیو ڈیٹا ان ممالک کے پاس ہے جنکی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور وہ جب چائیں جیسے چائیں اس کو استعمال کر سکتے ہیں
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق رواں سال میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
    ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر پیگا سس کے ذریعے کی گئی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام پیگاسس کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت 10 ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
    اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر وزیر اعظم عمران خان کےخلاف استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہیکنگ کا معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا، جہاں ہوشربا انکشاف کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف بھی استعمال ہوا ہے، نوازشریف کی حکومت میں سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف استعمال ہوا۔
    یہ سافٹ ویئراس وقت استعمال ہواتب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مختلف نمبرز میں ایک نمبر وزیراعظم عمران خان کے زیراستعمال تھا، اس کے علاوہ نواز حکومت میں یہی سافٹ ویئر حساس اداروں اور سیاست دانوں کےخلاف استعمال ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف نے مولانا اجمل قادری کوخفیہ اورخصوصی دورے پراسرائیل بھیجا تھا ،اس دورے پر جانے والے وفد کے سربراہ مولانا اجمل قادری نے اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے نوازشریف نے خصوصی پیغام دے کربھیجا تھا۔
    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جب کہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔
    اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئر سے دنیا کے کم سے کم50 ہزار شخصیات کے فون نمبرز ہیک کیے گئے۔ ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔
    ان تمام معاملات کے انکشافات ہونے کے بعد اور حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام اداروں کے ملازمین اور اعلی شخصیات کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی بنائی ہوئی ایک واٹس ایپ کی طرز کی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل ایپلیکیشن بننےکے ساتھ ہی یہ ایپلیکیشن استعمال میں لائی جائے گی۔ خصوصی ایپلیکیشن پبلک استعمال کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اعلی قیادت اور حساس اداروں کے ملازمین کمیونیکیشن کے لیے استعمال کریں گے۔
    پاکستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان میں پہلے اس کام کی طرف اُس طرح توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب جب معاملات کے انکشافات ہونے لگ گئے تو آنکھ کُھلنا شروع ہوگِی۔پاکستان کے سکیورٹی ادراے پہلے ہی ان معاملات سے باخبر تھی جس کی بنا پر کئی ایسے اقدامات بھی کیے گئے جس سے پاکستان کی اہم معاملات کو لیک ہونے سے بچایا جا سکے ۔پاکستان کے اداروں کی ویب سائٹس تک کو ہیک کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہیں مگر سائبر سکیورٹی کے معاملات میں باقی ادارون کی نسبت قدرے بہتر رہے۔ پاکستان کو اس چیز کے مدنظر رکھتے ہوئے خاصے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔ اس معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اور دوست چائینہ سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اپنے ملک میں اپنی ہی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہیں۔
    چین سائبر ٹیکنالوجی سے اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اور اس لیے پاکستان اسکی مدد سے بہت ساری چیزیں جو اپنے ملک کے لیےبنا سکتے ہیں تا کہ پاکستان کی عوام دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں اور یہ خطرہ ہی پیدا نہ ہو۔