Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس ملک خدادا کو اللہ پاک نے بڑی نعمتوں سے نوازا یہاں کے موسم ،آبی و قدرتی ذخائر،معدنی وسائل ،میدانی علائقے ،پہاڑی سلسلے ، ریگستان ، دریاوں کا پانی ،سمندر ،زرخیز زمینیں ،ہر موسم کی میوہ جات ،محنتی،خوش اخلاق اور پیارے لوگ ،مختلف زبانیں ،الگ الگ کلچر لیکن سب ایک پھولوں کے گلدستے کی طرح ہیں ،دنیا کے سب سے بہترین مذھب دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ہمارے اس عظیم ملک جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے ،اتنی نعمتوں کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن جسے دنیا کے مسلمانوں کی امامت کا فرض نبھانا تھا ،اس عظیم ملک کو دنیا کی سپر پاور بننا تھا لیکن ہم بجائے ترقی اور خوشحالی کے تنزلی اور تباہی کی طرف جانے لگے ،ہمارے لوگ بیروزگاری،بھوک ،افلاس میں پھنستے چلے گئے ،سرکار کے نام پر بننے والے ہر ادارے میں بربادی ہی نظر آتی تھی ،اس تباہی و بربادی کے پیچھے ہمارے نااہل حکمران تھے ،کروڑوں کی آبادی پر چند خاندانوں کی حکومت رہی ،جمہوریت کی بجائے بادشاہی نظام کو فروغ دیا جاتا رہا ،دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پپلزپارٹی نے اس ملک پر باری باری کا کھیل کھیلا پارٹی کے سربراہان کا خاندان خود کو بادشاہ اور اپنے چند قریبی دوستوں یاروں میں وزارتیں اور ملک کی اہم ذمہ داریا دیتے رہے ،ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام اور اس پاک دھرتی کے ساتھ بڑی ناانصافی کی ،ہمیشہ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے کا ڈرامہ کرکے حکومت میں آتے اور پھر دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک ہوجاتی ،پھر اسی طرح یہ لوگ اپنی اپنی باری پر ملک کو لوٹنا شروع ہوتے ،پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر ممالک میں لے جاکر اپنی جائیدادیں اور کاروبار بڑھاتے رہتے ،دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ اور چور کہتے آئے لیکن کیونکہ دونوں اندر سے ایک تھے تو کسی نے ہمت نہیں کی ان کا احتساب کرنے کی ان کے ساتھ چند چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ لے کر مزے لیتے رہے لیکن کرپشن لوٹ مار کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے آن پہنچا ،لوگ بیروزگاری،غربت ،مہنگائ،نا انصافی سے تنگ آچکے ،ملک کا ہر ادارہ تباہ کردیا ،صحت ،تعلیم ،پولیس سسٹم ،ٹرانسپورٹ سسٹم سب برباد کردیئے گئے ،صحت کے نظام کی تباہی کے اس سے بڑا کیا ثبوت پیش کیا جائے کہ جہاں تین بار وفاق اور ۵ بار پنجاب میں حکومت کرنے والی ن لیگ کی قیادت اپنا علاج کروانے باہر جائیں ،سوچیں اس ملک میں کون کاروبار کرے گا جس ملک کے حکمران اپنا کاروبار باہر ممالک میں کریں ،اس ملک کی کیا عزت ہونی جس ملک کا وزیراعظم عرب ملک کی کسی کمپنی میں چپڑاسی بھرتی ہو اقتدار کے نشے میں مست یہ دونوں جماعتیں عوام کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناتی رہی اور خود اس ملک کے بادشاہ بنے بیٹھے رہے ،عوام کی یہ حالت اور ملک کی تباہی دیکھ کر پاکستان کو دنیا میں عزت دلوانے والے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان پاکستان کی شان ہر دلعزیز جناب عمران خان صاحب نے سیاسی سفر کا آغاز کیا پہلے دن تقریر کی جس میں اپنا ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اس ایجنڈے نے پپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائ تو ان لوگوں نے عمران خان صاحب کو وزارتوں کی لالچ دی ،رشوت کی آفرز کی لیکن کپتان ان کے خلاف ڈٹا رہا پھر ان لوگوں نے خان صاحب کے خلاف ذاتی حملے کئے ،کردار کشی کی ،ہر طرح سے خان صاحب کو جھکانا چاہا لیکن خان صاحب نہیں جھکے اور پھر ان دو جماعتی سیاست کے نام پر بادشاہت سے پاکستانی عوام بلکل تنگ آچکی اور قوم کی امیدیں عمران خان صاحب سے وابستہ ہونا شروع ہوئ عوام جوق درجوق پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنتے گئے اور ایک قافلہ بنتا گیا الحمدللہ قوم کے اعتماد اور مسلسل ٢٠ سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد عمران خان صاحب نے ان دو جماعتی اتحاد کو پاش پاش کیا اور عوامی ووٹ کی طاقت سے اس ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ،اپنی سیاسی جدوجہد میں عمران خان صاحب نے کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کو ملک کی اعلی عدالت سے نااہل کروایا اور جب مخالفین نے عمران خان صاحب پر کرپشن کے کیسز کئے تو اسی اعلی عدالت سے عمران خان صاحب صادق و امین ثابت ہوئے جس نے خان صاحب کی حب الوطنی،سچائ ،دیانتداری پر مہر لگادی اور عوام نے اپنے لئے صادق و امین لیڈر کو منتخب کیا جس نے اقتدار میں آتے ہی تمام چور،لٹیروں اور کئ سالوں سے ملک پر حکمرانی کرکے ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب شروع کیا،ادارے سیاست سے پاک کئے ،چوروں کو پکڑ کے جیلوں میں ڈالا تو کئ بڑے چور کسی نا کسی طرح بیماری کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ گئے ،ان چوروں کی سیاست بلکل اسی طرح تباہ ہوئ جیسے ان لوگوں نے کرپشن کے زریعے اس ملک کو تباہ کیا اب وہ دنیا بھر میں رسوا ہوئے بیٹھے ہیں اور عمران خان صاحب دنیا میں پاکستان کا کھویا ہوا مقام دلانے کی کوششوں میں مگن ہیں آج وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوششوں سے پاکستان کی کھوئ ہوئ ساکھ بحال ہورہی ہے ،چوروں سے نجات کے بعد قوم نے سکون کا سانس لیا تو وہیں وزیراعظم عمران خان صاحب اس قوم کو عظیم قوم بنانے میں مصروف ہیں ،ہمارے انصاف کا نظام ،تعلیم ،صحت سمیت تمام سرکاری اداروں میں واضع بہتری آرہی ہے ملک خوشحالی طرف چل پڑا اب اس ملک میں کسی چور ،کرپٹ انسان کی کوئ گنجائش نہیں انشااللہ اگلے چند سالوں میں وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں پاکستانی ایک عظیم قوم بن کر دنیا میں ابھریں گے ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ،عوام خوشحال ہوگی اور دنیا اس عظیم انقلاب اور اس کے ہیرو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی.

    عمران خان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @MajeedMahar4

  • کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی  تحریر: محمد عدیل علی خان

    کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی تحریر: محمد عدیل علی خان

    اقوام متحدہ کو چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم نظر آتا ہے جو صرف پروپیگنڈا ہے اصل ظلم اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا کشمیر 700 دنوں سے کرفیو میں پڑا ہوا ہے اقوام متحدہ یہاں پر جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا کشمیری ماؤں کی عزتیں لیلام ہو رہی ہے …وہ نظر نہیں آتا کشمیر میں بھارتی فوج نے ماؤں بیٹیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کر رہی ہے وہ دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا جب ان کے بیٹوں کو انکے سامنے زبح کیا جاتا ہے جب انکی بیٹیوں کی انکے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے انکا بہت ہی گندے طریقے سے ریپ کیا جاتا ہے کہاں مر گئی اقوام متحدہ‏کشمیر میں انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی کی جا رہی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم پاکستانی کیا کرتے سوتے سوتے ہیش ٹیگ چلا دیتے ہیں ان کی اہمیت ہماری نظر میں اتنی ہے لیکن کشمیری پاکستان کو کس نگاح سے دیکھتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں…..!‏میری ملاقات اسلام آباد میں ایک کشمیری بھائی سے ہوئی میں جب ان سے ملا تو ان کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی جو ایک پاکستانی کو دیکھ کر ہونی چاہئیں جب میں نے ان سے اس اداسی کا سبب پوچھا کہ بھائی آپ پاکستان میں ہے آپ کو خوش ہونا چاہیے لیکن آپ اداس ہے تو اس کشمیری بھائی نے کہا کہ‏عدیل بھائی جب پاکستان کی طرف ہجرت کا سوچتے ہیں تو ہماری مائیں ہمیں ایک ہی نصیحت کرتی ہیں بیٹا جب تم پاکستان کی سرزمین پر پہنچا پہلے سیدھا پاؤں اور پھر الٹا پاؤں رکھنا اور وہ دعا پڑھنا جو مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھتے ہیں اور پھر شکرانے کے نوافل ادا کرنا پاکستان کی مٹی پر‏اس نے کہا عدیل بھائی جب پاکستان میں گوما تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی بھی ہندوستان میں ہو ہر طرف ہندوستان گانے ہندوستانی سقافت ہی نظر آئی پاکستان اور ہندوستان میں مجھےکوئی فرق محسوس ہی نہیں ہوا عدیل بھائی ہم وہاں پر ہندوستان سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہاں پر‏ہندوستانی کلچر ہندوستان لوگوں سے محبت..عدیل بھائی اس سے ہمیں یہ چیز سمجھ آتی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائی گی پاکستان سے ہم کشمیری اتنی محبت کرتے ہیں لیکن پاکستانی اب بھی ہندوستانی کلچر کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم بھی آزادی کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں‏یہ باتیں کر کے وہ کشمیری بھائی تو چلا گیا لیکن مجھے سوچ میں ڈال کر چلا گیا جب تک وہ کشمیری بھائی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تب تک میں نے شرم سے سر نہیں اٹھایا یہ ملاقات یہی ختم ہوئی ہمیں کشمیری بھائیوں کا مسئلہ اب عالمی عدالت میں پورے پاکستان کی عوام نے اٹھانا ہے کب تک‏وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں صرف تقریریں کرتا رہے گا اب بھی وقت ہے پاکستانیوں سنبھلنے کا…….

    Twitter.https://twitter.com/iAdeelalikhan?s=09

  • تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    "فاطمہ بنت محبوب عالم”
    دنیا کے تقریباً ہر براعظم میں چاہے افریقہ ہو، شمالی امریکہ ہو، جنوبی امریکہ، ایورپ ہو یا پھر ایشیاء آزادی کی تحریکیں چلیں۔ ہر جگہ پسے ہوئے اور بے بس لوگوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی قیمتی جائیدادوں اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بعض جگہ یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں اور بعض جگہ ناکام جس کی وجہ سے ان آزادی کی تحریکوں میں عارضی بندش تو ہوئی لیکن کوئی بھی ظلم و جبر کا نظام ان کو مستقل طور پر روک نہ پایا۔ ابھی بھی دور حاضر میں آپ مشاہدہ کریں تو ایسی تحریکیں ہنوز جاری و ساری ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جہاں یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاں کتنے ایسے گمنام ہیرو ہیں جنکو بھلا دیا گیا یہاں تک کہ عام لوگوں کو ان کا نام تک معلوم نہیں۔ صرف چند اک نام ہوتے ہیں جو زبان زدِ عام ہوتے ہیں باقی سب تاریخ کے پنوں میں پڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ اک دن وہ پنہ تاریخ سے بھی کٹ جاتا ہے۔ برصغیر میں بھی آزادی کی اک ایسی ہی تحریک چلی جس نے برطانوی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور دھیرے دھیرے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئی اور اک الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد آج ہم چند اک نامور شخصیات کے علاؤہ وہ کتنے ہی گمنام ہیرو ہیں جو کہ تحریک آزادی میں پیش پیش تھے کو بھلا چکے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریاستی بنیاد پر بھی ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کوئی سعی نہیں کی گئی۔ انہی گمنام ہیروز میں ایک فاطمہ بنت محبوب عالم تھیں جو 1890 میں لاہور میں مولوی محبوب عالم کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ مولوی محبوب عالم مزہبی لگاؤ رکھنے کے باوجود اک معتدل شخصیت کے مالک تھے جو کہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے تھے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے اپنی بنیادی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی اور 1901 میں پرائیویٹ میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد میں تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پرائیویٹ سکول میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتی رہی اور فورٹ نائٹلی میگزینز میں لکھتی بھی رہیں تاکہ مسلمان خواتین میں شعور اجاگر ہو۔ فاطمہ بیگم کو برطانوی انڈیا میں پہلی مسلمان صحافی کے طور بھی جانا جاتا ہے جس نے پہلے پہل تو ایک خواتین کے میگزین "شریف بی بی” میں بطور ایڈیٹر اپنی خدمات سرانجام دیں لیکن بعد میں "خاتون” کے نام سے ایک اپنا میگزین شروع کیا تاکہ وہ خاص طور پر مسلمان خواتین کی تربیت کے لیے کچھ بہتر کر سکے اور ان میں ایک سیاسی تحریک پیدا کر سکے۔ اس نے لکھنے کا کام 1909 سے ہی شروع کر دیا تھا جب وہ "عصمت” نامی رسالہ/اخبار میں مضمون لکھتی تھی۔ فاطمہ نے "حج بیت اللہ و زیارت دیار حبیب” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا۔ جیسے جیسے اس کے سیاسی شعور میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ہی وہ مختلف سیاسی فورمز کے ساتھ جڑتی گئی یہاں تک کہ وہ لاہور کی دو تنظیموں "انجمن خاتون اسلام” اور ” انجمن حامی بیگمات اُردو” میں ایک میں بطور جوائنٹ سیکرٹری اور دوسری میں سیکریٹری منتخب ہوئیں اور ماہوار میٹنگز میں بھرپور شرکت کی۔ اسکی بدولت انہوں نے خواتین میں ایک نئی تعلیمی، سیاسی اور شعوری تحریک پیدا کی۔ اس کے ساتھ ساتھ فاطمہ نے مسلمان خواتین کی ویلفئیر کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہاں تک کہ ان کاموں میں اپنے زیورات بھی پیش کیے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم سر سید احمد خان کی طرح انگریزی تعلیم کی حامی تھیں۔ ان کے خیال میں اگر مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کرنا ہے تو مرد و خواتین کو جدید تعلیم حاصل کرنا ہوگی جس کے لیے انگریزی تعلیم ضروری ہے۔ یہی جدید تعلیم منجھی ہوئی باشعور مسلمان مائیں پیدا کریں گی جو کہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں گی۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ کچھ عرصہ ممبئی میں ٹھریں جہاں انکی قائد اعظم سے ملاقات ہوئی جس میں فاطمہ بیگم کو نئی زمہ داریاں سونپی گئیں۔ 1938 میں انہوں نے لاہور میں نواں کوٹ کے علاقے میں اپنی جگہ پر "جناح اسلامیہ گرلز کالج” قائم کیا جسکا افتتاح جناح صاحب نے بذات خود اپنے ہاتھوں سے کیا جہاں لڑکیوں کی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ پردہ کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے بالعموم اور مسلمان خواتین کے لیے بالخصوص بہت خدمات سرانجام دیں۔ آئیے اک نظر انکی کاوشوں پر۔

    کیونکہ وہ بذات خود پنجاب (لاہور) سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کی سب سے زیادہ خدمات پنجاب بیسڈ ہیں۔ جناح اسلامیہ گرلز کالج کے ذریعے انہیں ایسا پلیٹ فارم میسر آیا جہاں انہوں نے لڑکیوں میں سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ساتھ تقریری جزبہ بھی پیدا کیا۔ اس کالج سے پڑھی لڑکیوں نے بعد میں بڑے بڑے فورمز پر ہوسٹنگ اور کمپیرنگ کے فرائض سر انجام دئیے۔ اسی اسلامیہ گرلز کالج کو تب گیسٹ ہاؤس بنا دیا گیا جب لاہور قرارداد منظور ہوئی اور دور دراز کے شہروں سے سیاسی ورکرز لاہور تشریف لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامیہ گرلز کالج کی طالبات اور فاطمہ بیگم بذات خود نے بھی ان انتظامات کے لیے خاصی تگ و دو کی۔ انہی خدمات کی بدولت 1943 میں فاطمہ بیگم کو مسلم لیگ کی "وومین سنٹرل سب کمیٹی” کا ممبر بنا دیا گیا۔ جس میں فاطمہ بیگم نے اپنی زمہ داری کو بخوبی سر انجام دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں اہم رول ادا کیا اور مسلمانوں میں ایک الگ ملک حاصل کرنے کا جزبہ پیدا کیا۔ قراداد لاہور کے بعد پاکستان بننے تک اور بہت سے اہم واقعات میں سے دو اہم واقعات 1946 کے عام انتخابات اور 1947 کی سول نافرمانی کی تحریک تھی۔ فاطمہ بیگم نے پنجاب میں رہتے ہوئے ان دونوں واقعات کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کی خوب مدد کی۔ 1946 کے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر وہ پنجاب کے مختلف شہری اور دیہاتی علاقوں جہلم، گجرات، وزیر آباد اور گجرانوالہ میں گئیں اور مسلمانوں کو پاکستان اور مسلم لیگ کی اہمیت سے آگاہ کیا جس کی بدولت مسلمانوں نے دل کھول کر مسلم کی حمایت کی اور مسلم لیگ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دوسری جانب جب جنوری 1947 میں پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلی تو بھی فاطمہ بیگم نے اپنی سٹوڈنٹس اور دوسرے سیاسی ورکرز کے ساتھ کلیدی رول ادا کیا۔ 27 جنوری 1947 کو سول نافرمانی کی خاطر خضر حیات کی حکومت کے خلاف لاہور میں دو بڑے جلوس نکالے گئے جن میں ایک کی قیادت فاطمہ بنت محبوب عالم کر رہی تھیں۔ اس وقت کی حکومت نے اس سول نافرمانی کی تحریک کو کچلنے کے لیے اپنا ہر حربہ استعمال کیا۔ عورتوں پر ٹیر گیس اور لاٹھی چارج کے وار کیے گئے جس کی وجہ سے اکثر خواتین بے ہوش اور زخمی ہوئیں۔ پنجاب کے علاؤہ فاطمہ بیگم نے NWFP موجودہ خیبرپختونخواہ میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اس صوبہ میں چونکہ خدائی خدمت گار اور کانگریس کا کرادر بھی کلیدی تھا تو یہاں ان کو سیشل مشن دے کر بھیجا گیا۔ NWFP میں ویسے تو 1939 سے "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کا فورم موجود تھا لیکن دوسری سیاسی جماعتوں کی وجہ سے یہ فورم معدوم ہو کر رہ گیا تھا۔ لہذا فاطمہ بیگم نے 1945 میں اس صوبہ کا رخ کیا اور اور "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کی تنظیم نو کی جس میں ان کی مدد ان پٹھان لڑکیوں نے بھی جو ان کے لاہور والے اسلامیہ گرلز کالج سے فارغ التحصیل تھیں۔ اپنے تقریباً پندرہ روزہ قیام کے دوران فاطمہ بیگم نے NWFP کے تقریباً سارے اہم علاقوں کو وزٹ کیا اور جلوسوں اور میٹنگز میں مسلم لیگ اور پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دوسرے اور لوگوں کے ساتھ ساتھ NWFP میں مسلم لیگ کو ریفرینڈم میں جتوانے میں ایک اہم کردار فاطمہ بیگم کا بھی تھا جس نے بیگم شاہنواز اور بیگم تصدق کی مدد سے پٹھان مسلمانوں میں آزادی کی تحریک پیدا کی۔

    پنجاب اور NWFP کے علاؤہ جس علاقے میں فاطمہ بیگم نے اپنی خدمات سرانجام دیں وہ تھا بیہار۔ ہوا کچھ یوں کہ اکتوبر 1946 میں جب تحریک پاکستان اپنے فل جوبن پر تھی بیہار میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں مسلم خاندانوں کو خوب تشدد اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان مسلمانوں کے تشدد کے بارے میں نومبر تک کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہونے دی گئی۔ جب فسادات رکنے کا نام نہ لے رہے تھے تو گاندھی نے احتجاج میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ان فسادات کے دوران فاطمہ بیگم نے اپنی امداد کے ساتھ پنجاب سے بیہار کا رخ کیا۔ انہوں نے بیہار میں ہندو تشدد کے ستائے ہوئے تقریباً 400 مسلمانوں کو یہاں سے پنجاب منتقل کیا اور یہاں پنجاب میں ان لوگوں کے لیے انکی رہائش اور خوراک کا مناسب انتظام کیا۔ ان بیہاری لوگوں کو پنجاب میں مستقل رہائش دینے کے لیے اپنی زمین پر اک کالونی بنا کر دی تاکہ یہ لوگ یہاں پر اپنی زندگی سکھ کے ساتھ گزار سکیں۔ بعد میں قیام پاکستان کے دوران جب قتل و غارتگری شروع ہوئی تو فاطمہ بیگم ان حالات کے مارے مہاجرین کی خدمت کے لیے پیش پیش تھیں۔ یہ حالات کی ستائی ہوئیں اور اپنے خاندان سے بچھڑی خواتین کو اپنے دفتر لاتی، انکی رہائش اور کھانے کا مناسب بندوبست کرتی اور جیسے ہی ان کے رشتے دار ملتے یہ ان کو ان کے حوالے کرتی۔ اس دوران فاطمہ بیگم نے انسانی روپ چھپے ہوئے ان منحوس درندوں کو بھی دیکھا جنہوں نے قتل و غارت کے ساتھ ساتھ عصمت دری کا بازار بھی گرم رکھا۔ کئی ایسی خواتین تھیں جو جسمانی اور جزباتی کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کا بھی شکار ہوئیں اور انکی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئیں۔ فاطمہ بیگم نے ان کے ساتھ خصوصی وقت گزارا، ان کے ساتھ کھانا کھایا باتیں کیں تاکہ وہ اس نفسیاتی ٹراما سے نکل کر نارمل ہو سکیں اور انکی ہر طرح سے مناسب مدد کی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم کی ان ساری کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ بھی ہمارے تحریک پاکستان کے دوسرے بڑے ہیروز کی طرح ایک ہیروئن تھیں جن کے بارے میں موجودہ نسل کو ضرور بتایا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی منظم ادارہ نہیں جن کی وجہ سے ایسے کئی گمنام ہیروز آج تک گمنام ہیں۔

    @muhamad__Mohsin

  • سندھ برباد، آزاد کشمیر میں جیت کے  خواب .تحریر :فضیلت اجالہ

    سندھ برباد، آزاد کشمیر میں جیت کے خواب .تحریر :فضیلت اجالہ

    پاکستان کے جنوب مشرقی حصہ میں واقع صوبہ سندھ قدیم ورثے کا مالک ہے ،جہاں پچھلے تیرہ سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جنہوں نے سندھ کو تباہ کرنے میں کوئ کسر نہی چھوڑی ۔
    سندھ میں ہر طرف کتوں کا راج ہے اور جیے بھٹو کا نعرہ لگانے والے آزاد کشمیر میں جیتنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔

    13برس کے طویل عرصے میں بھٹو سرکار نے سندھ کی عوام کو غربت،بے روزگاری،کچرا کنڈیوں ،قحط اور خشک سالی کے سوا کچھ نہی دیا ۔ایک طرف بلاول زرداری آزاد کشمیر میں بلند و باگ جھوٹے دعووں کے سنہری جال پھینکنے میں مصروف تو دوسری طرف طویل لوڈشیڈنگ سے بے حال،پانی کی بوند بوند کو ترستا شہر قائد اور بھوک کے ہاتھوں دار فانی سے کوچ کرتے صحرا تھر کے نومولود بچے زرداری حکومت کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔

    کچھ دن قبل سوشل میڈیا پہ بلاول بھٹوں یہ دعوای کرتے نظر آئے کہ کشمیر میں تیر چلے گا ، بلاول بھٹو اور ان کے جیالے شائد یہ بات فراموش کر چکے ہیں کہ بھٹو خاندان نے کشمیریوں کے حقوق خود داریت پر تیر تو اسی دن چلا دیا تھا جب راجیو گاندھی کی اسلام آباد تشریف آوری پر شاہرہ کشمیر کے بورڈز کو سفید کپڑے سے بھٹو خاندان کی ایما پہ ہی ڈھانپا گیا تھا ۔

    آج بلاول زرداری وزیر اعظم پاکستان پر کشمیر فروشی کا الزام لگاتا ہے تو انسانیت خون کہ آنسو روتی ہے ،تاریخ 27دسمبر 2007 کے وہ تاریک اوراق پلٹتی ہے جہاں بلاول کی والدہ ماجدہ محترمہ بینظیر بھٹو ایک انگریزی اخبار میں یہ شرمناک اقرار کرتی ہیں کہ انہوں نے سکھوں کی لسٹیں راجیو گاندھی تک پہنچاتے ہوئے اسکی مدد کی ۔

    کشمیری لاشوں پر جھوٹے وعدوں کی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی پہلے اپنے گزشتہ پچاس سالوں کی سیاست کا حساب دے کہ کھوکھلے دعووں،اور جھوٹے الزامات کے علاوہ انہوں نے کشمیر کیلیے کیا کیا؟کس پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حقوق کی بات کی ؟کشمیر کو چھوڑیں پیپلز پارٹی صرف سندھ کا حساب ہی نہی دے سکتی ۔وہ سندھ جہاں قتل و غارت ،راہ زنی اور عزت زنی عام ہیں ،جہاں عوامی سیاست کی بجائے نوٹوں کی اور ظلم و جبر کی سیاست ہے ۔وہ پیپلز پارٹی نے جس نے ثقاتی ورثہ کیلیے مشہور سندھ کو کچرا کنڈی اور گندے نالوں میں تبدیل کردیا ہے آج جنت نظیر وادی آزاد کشمیر میں جیت کے دعوے کر رہی ہے ۔ کشمیری عوام بھٹو کی آڑ لیے بلاول و زرداری کے گھناؤنے چہروں کو خوب پہچانتی ہے کہ جو سندھ کی عوام کیلیے کچھ نا کرسکے، جنہوں نے روشنیوں کے شہر ،شہر کراچی کو لوڈ شیڈنگ کی تاریکیوں میں دھکیل رکھا ہے وہ کشمیری عوام سے کیے وعدے کیا خاک پورے کریں گے ۔

    نعروں اور نوٹوں کی سیاست کرنے والے بلاول کشمیر میں حکومت کی بات کرتے سندھ کی بربادی کے سوال پہ آئیں ،بائیں ،شائیں کرتے نظر آتے ہیں ،گزشتہ تیرہ سالوں میں زرداری حکومت نے سندھی عوام کو مسائل کے انبار دیے ہیں ،لاچار سندھی عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہی ،تھر میں ہزاروں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن امرا وقت کے کان پہ جوں نہی رینگتی ،آئے روز سیکڑوں لوگ ناقص نظام صحت اور علاج کے فقدان کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں ، پیپلز پارٹی نے بھٹو تو زندہ رکھا لیکن مظلوم عوام کو زندہ درگور کر دیاہے ،آوارہ کتوں کی بہتات اور انکا شکار بن کے ابدی نیند سوجانے والوں کی لاشوں پہ بین کرتی مائں بہنیں بھٹوں کے زندہ ہونے کا ماتم کرتی نظر آتی ہیں ۔

    سندھ کی حالت زار چیخ چیخ کر آزاد کشمیر کے باسیوں سے التجا کرتی ہے کہ ان کے دھوکے اور ہوائ وعدوں پہ یقین نا کرنا جو 50 سال سے کچھ نہی کر سکے وہ اب کیا کریں گے ۔کشمیری عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کے ،مریم ہو یا بلاول انکا مقصد صرف اور صرف زاتی مفادات اور اپنے اپنے ابا کی کرپشن اور لوٹ مار کو محفوظ کرنا ہے۔
    آزاد کشمیر کے باسیوں کی آخری امید عمران خا ن ہے۔

  • افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان میں اس وقت کیا گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے، وہاں پر عالمی اور علاقائی طاقتیں کیا چاہتی ہیں اور وہاں کون کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہ طالبان کون ہیں ، افغانستان پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ اور امریکہ کیا چاہتا ہے۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ افغانستان کی اسی فیصد آبادی چالیس سال سے کم عمر ہے اور جب انہوں نے انکھ کھولی تو ان کے ملک میں کبھی خانہ جنگی تو کبھی غیر ملکی فوجوں کا جنگ اور خون کا کھیل جاری تھا۔ تشدد نے اس قوم کی چولیں ہلا دی ہیں اور آدھی سے زائد قوم شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔
    اب آپ کے سامنے ایسے ایسے انکشافات سے پردہ اٹھائے گی جس سے آپ کو اس مسئلہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ، پاکستان، ایران، چین اور دیگر ممالک افغانستان میں کن مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ میدان جنگ افغانستان ہے، لڑنے والے افغانی ہیں لیکن پلاننگ، پیسہ اور سوچ کسی اور کی ہے۔
    اس وقت افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہر طرف پراپیگنڈا جاری ہے۔ کوئی عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم پر رو رہا ہے تو کوئی داڑھی رکھنے سے خوفزدہ کر رہا ہے، کوئی کہتا ہے کہ گناہ کرنے پر سنگسار کر دیا جائے گا تو کوئی فلم اور میوزک کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان آنے کے بعد زیادہ سے زیادہ سخت پابندیاں لگا دیں گے اور لوگوں کی آزادی ختم ہو جائے گی۔
    یہ طالبان کون ہیں۔؟؟ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے انیس سو اسی کی دہائی میں پوری قوم کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جہاد کیا۔ اور امریکہ اور مغرب نے اپنے مفادات کے لیئے خوب حصہ ڈالا۔جب روس
    نوے کی دہائی
    میں افغانستان سےنکلنا شروع ہوا تو 1992 میں سول وار شروع ہو گئی اور ملک پر قبضے کے لیئے وار لارڈز نے کھینچا تانی شروع کر دی۔ طالبان نے کابل پر انیس سو بانوے میں قبضہ کر لیا جس کے بارے میں پاکستان پر الزام لگا کہ اس کے حاضر سروس افسران نے بھی طالبان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ پاکستان کا اس میں کیوں مفاد ہے کہ طالبان افغانستان پر حکومت کریں ،دراصل یہ معاملہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ جسے دنیا کے لیئے سمجھنا ضروری ہے۔
    اب بات کرتے ہیں نوے کی دہائی میں ۔۔افغانستان کے دارلحکومت کابل پر جب طالبان کا قبضہ ہو گیا تو کیا ہوا۔؟
    طالبان کے افغانستان میں اقتدار کے بعد داڑھی کو کپڑے سے چیک کرنے اور سڑکوں پر سزائیں دینے کے قصے مغرب سے مشرق تک پھیل گئے اور ایسا ظاہر کیا گیا کہ دنیا ہزار سال پیچھے چلی گئی ہے۔اس حوالے سے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر طالبان کے پاس میڈیا اور سوشل میڈیا ہوتا تو امریکہ طالبان کو کبھی نہ ہرا پاتا۔

    طالبان پر نائن الیون کو سپورٹ کرنے اور اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر امریکہ بہادر نے چڑھائی شروع کر دی یہ الگ بات ہے کہ امریکی سی آئی اے ہی اسامہ بن لادن کو افغانستان لائی تھی۔
    افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ نے ایک کٹھ پتلی حکومت بنا کر دوہزار چار میں ایک آئین بھی متعارف کروا دیا۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان جو امریکی بمباری سے بچتے ہوئے روپوش ہو گئے تھے انہوں نے گوریلا وار کا آغاز کر دیا اور سب اکھٹے ہونے لگے۔ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور پیسے کے باوجود حالات کو نہ تو کنٹرول کر سکا اور نہ ہی طالبان پر غلبہ پا سکا۔ کسی نہ کسی صورت میں طالبان نے افغانستان کے تیس سے زائد فیصد حصہ پر اپنا کنٹرول جاری رکھا۔ ہر صوبے کے دارلحکومت پر افغان حکومت اور امریکہ کا کنٹرول تھا تو دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں طالبان کی حکمرانی رہی۔
    اب جب امریکہ کو سمجھ آگئی کہ امریکہ اگلے سو سال بھی یہاں اپنے فوجی مرواتا رہے اور اربوں ڈالر پھونکتا رہے تو اسے کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ تو اس نے وہاں سے فوری نکلنے کا فیصلہ کر لیا، امریکہ اب باہر سے بیٹھ کر تماشا لگانا دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اس کا افغانستان میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ رہے جو لوکل سرداروں کی مدد کر کے اپنی مرضی کی حکومت بنوا کر حاصل کیا جا سکتا ہے اور دوسرا اس کے دشمن ملک چین، روس اور دیگر ممالک کو یہاں اپنے مفادات کا تحفظ اور اثرورسوخ قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
    بڑی طاقتیں ہمیشہ چھوٹے ملکوں میں اپنی مرضی کی پارٹیز کی مدد کر کے انہیں اقتدار دلواتی ہیں اور پھر اپنے اشاروں پر نچاتی ہیں تو یہی مقاصد اور طریقہ کار عالمی طاقتوں کا افغانستان میں ہے۔
    امریکہ کو ساری دنیا چیخ چیخ کے کہہ رہی ہے کہ امن قائم کیئے اور کوئی سیاسی حل نکالے بغیر جانا افغانستان کی تباہی ہے لیکن امریکہ بہادر نہ کسی کی سن رہا اور نہ ہی وہ سننا چاہتا ہے، امریکہ سویت یونین کو افغانستان میں ہروا کر بھی ایسے ہی بھاگا تھا جیسے آج خانہ جنگی میں دھکیل کر جا رہا ہے۔
    اب امریکہ کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ گروپو‏ں کو پیسے دے کر اپنے مفاد کے لئے بد امنی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین روس پاکستان سمیت سینٹرل ایشین ممالک نے بھی افغانستان کے بغیر تجارتی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے جو بظاہر مشکل ضرور ہیں لیکن کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں بہت مفید ہیں۔ اس حوالے سے گولڈن رنگ اور ماسکو ٹو گوادر روٹ اہمیت کے حامل ہیں۔

    اب بات ہو جائے کچھ افغانستان میں امریکہ کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر۔ امریکہ کے جانے کے بعد تو کیا ۔۔پہلے ہی خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ۔ طالبان ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کریں گے تو دوسری طرف وہ تیزی سے افغانستان پر قبضہ کی جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ انہوں نے ایک نہ ایک دن مذاکرات کی میز پر آنا ہی آنا ہے ۔ تو اس وقت جتنے زیادہ علاقے جس پارٹی کے پاس ہوں گے اسے اتنا ہی طاقتور کردار اور حصہ ملے گا۔ طالبان مزاکرات کیوں کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ افغانستان پر قبضہ کی طاقت رکھتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ اگر دنیا نے افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا تو وہ مدد جو دنیا اسے دے گی اور دے رہی ہے اور جو افغانستان کے مفاد میں ہے وہ بند ہو جائے گی، جس کے بغیر افغانستان کی تعمیر ممکن نہیں۔ دوسرا طالبان اپنی تمام تر طاقت کے باوجود بھی گزشتہ دور میں عبدالرشید دوستم سمیت کئی جرنیلوں کو سرنڈر کروانے میں ناکام رہے تھے ابھی بھی طالبان کابل پر تو قبضہ کر سکتے ہیں لیکن پورے افغانستان پر ممکن نہیں۔ اس لیے طالبان معاہدے کی بات کر رہے ہیں اور مزاکرات کی بھی۔
    طالبان کی اصل طاقت پشتوں قبائل ہیں جبکہ افغانستان میں ساٹھ فیصد لوگ پشتون نہیں ہیں وہ دیگر قوموں سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان نے انہیں ملانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی بھی ملک میں کسی ایک جماعت کی سو فیصد مقبولیت ہونا ممکن نہیں اس لئے طالبان کو پتا ہے کہ ان کو ملائے بغیر اور ایک قومی حکومت کے بغیر افغانستان میں کبھی امن نہیں ہو پائے گا۔
    لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔
    شیعہ طالبان پر ایران کا اثر و رسوخ ہے جبکہ پشتو ن طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کی بات کی جاتی ہے جسے پاکستان کہتا ہے کہ وہ ایک محدود حد تک ہے کہ ان کے خاندان یہاں پاکستان میں رہتے ہیں۔
    بھارت افغان نیشنل لیڈران جن میں امراللہ صالح، اشرف غنی، حامد کرزئی سمیت دیگر ہیں ان کو پیسے کی مدد اور ترقیاتی پراجیکٹس کی صورت میں کنٹرول کیئے ہوئے ہے۔ اور جہاں بھارت ہو گا وہاں پاکستان نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔

    اب افغانستان میں جس ملک کا حمایت یافتہ جتنا زیادہ مضبوط ہو گا اس کا افغانستان میں اتنا ہی اثرورسوخ ہو گا۔
    یہی وجہ ہے کہ بھارت اربوں روپے پاکستانی کیش کی صورت میں کرائے کے قاتلوں کو خرید کر اور بلوچ قوم پرستوں کو پیسا دے کر پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہا ہے اور وہ ایسا اس لئے کر پا رہا ہے کہ اس کے ہمایت یافتہ گروپ کی افغانستان میں حکومت ہے۔ اس حکومت نے بھارت کو افغانستان میں کئی ہزار اہلکار اور گیارہ کونسلیٹ رکھنے کی اجازت دی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف جو مرضی کرے۔ اب جبکہ طالبان زیادہ تر علاقوں میں قبضہ کر رہے ہیں تو انہیں پاکستان کی بلوچستان میں سرحد کے قریب واقع شہروں سے اربوں روپے پاکستانی کیش گھروں میں مل رہا ہے جسے پاکستان کے خلاف شر انگیزی پیدا کرنے کے لیئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اور یہ بھارت کے علاوہ ہم سے اتنی محبت کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اور اب طالبان یقینا بھارت کو یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گےجس کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اب دشمن اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی وجہ سے مرتے سانپ کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے اس نے پاکستان کی سر زمین پر حملے تیز کر دیئے ہیں جو اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ دم توڑنے سے پہلے زور لگا رہا ہے۔
    افغانستان میں عالمی طاقتوں کے کھیل اور گریٹ گیم جاری ہے۔اب یہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس گریٹ گیم کا حصہ بنتے ہیں یا افغانستان اور افغانیوں کے لئے کوئی بہتر حل نکالتے ہیں۔

  • "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    پچھلے کچھ دن سیاحت کی غرض سے جنت ارضی کے آزاد ٹکڑے آزادجموںو کشمیر میں گزرے، جہاں اس جنت ارضی میں خوبصورت وادیاں، شوریدہ سر نالے، تند و تیز دریا اور برفون سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ مووجود ہیں وہیں محرومیاں، شکوے شکایات اور بعض جگہوں پر تو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے. سالہا سال سے جموں و کشمیر کے ان حلقوں سے منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے والے مراعات سے تو لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جموں کشمیر کے شہریوں کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے.
    ہمارا سیاحتی ٹور کا ہدف ویسے تو نیلم کو خوبصورت وادی اور اس میں موجود آبشاریں، جھیلیں وغیرہ تھیں لیکن جیسے ہی ہم کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے تو ہمیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی نظر آئی، ہر طرف انتخابی تصاویر اور نعروں سے مزین پوسٹرز اور بینرز لہراتے پھر رہے تھے تو ہم نے سوچا چلو سیاحت کے ساتھ ساتھ کشمیر کے انتخابات اور انتخابی مہم کو ہی تنقیدی و تعریفی نگاہوں سے دیکھتے جاتے ہیں. اس غرض سے نارووال سے کے انتخابی حلقوں سے لے کر نیلم تک سفر کیا اور دیکھا اس کے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.
    بنیادی طور پر یہ انتخابات ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہورہے ہیں جن میں جموں اور مقبوضہ وادی کے مہاجرین کی نشستیں بھی شامل ہیں. کچھ انتخابی حلقہ جات نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور دیگر ان علاقوں پر بھی مشتمل ہیں جہاں جہاں مہاجرین کشمیر مقیم ہیں. اس سفر کے دوران تقریباً سبھی ہی حلقہ جات میں چکر لگا تو حالات ماڑے ہی نظر آئے. مہاجرین کے حلقوں میں ریاستی مہاجرین کے مسائل کا کسی کو ادراک نہیں، آزاد جموں کشمیر کے حلقوں میں بھی اب تک منتخب ہونے والوں نے الا ماشاءاللہ اپنی جائدادیں ہی بنائی ہیں.
    ریاست آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بےشمار سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں. ان میں سے بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو باری باری حکومت بناچکی ہیں لیکن ان کے پلے سوائے بیانات اور بڑھکوں کے کچھ بھی نہیں ہے. ابھی بھی مریم نواز اور اس کے ہمنواء انتخابی جلسوں میں یہی بیان بازیاں کررہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو تو دودھ اور شہر کی نہریں بہائیں گے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ بی بی ابھی آپ کا ہی دور حکومت گزرا ہے اس میں آپ لوگوں نے کیا کرلیا راولا کوٹ جیسے علاقے میں بچوں کو پینے کے لیے 150 روپے کلو میں بھی دودھ میسر نہیں ہے.
    اسی طرح پیپلز پارٹی کے حالات ہیں کہ بلاول بھی اپنے آپ کو کشمیر کا بیٹا کہلوانے کی کوشش میں خاصی بانسریاں بجاکر کر گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو حال پیپلز پارٹی نے سندھ کا کیا ہوا ہے اپنے دور حکومت میں وہی حال آزاد ریاست جموں و کشمیر کا بھی رہا ہے لیکن ابھی بھی وہ حکومت بنانے کے دعوے دار ہیں لیکن اس بار ریاستی عوام سیاسی طور پر قدرے باشعور ہے ہم نے دوران سفر صاف آواز سنیں کہ” نہ تو بلاول کشمیر کا بیٹا ہے اور نہ ہی مریم کشمیر کی بیٹی ہے دونوں مفاداتی پنچھی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں”.
    ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات بارے ایک بات زبان ذد عام ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہوتی ہے کشمیر میں بھی وہی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو اس لیے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اڑنے والے پنچھی اڑ کر تحریک انصاف کی ڈالیوں پر آ بیٹھے تھے. قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف بنائے گی لیکن جس طرح پاکستان میں تانگہ پارٹی بن کر حکومت میں آئی کچھ ایسا ہی حال کشمیر میں ہونے جارہا ہے. تحریک انصاف کی انتخابی کمپین انتشار کا شکار ہے حتیٰ کہ ابھی سے وزیراعظم کے لیے لڑائی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ کشمیر و کی تعمیر و ترقی پر خاک توجہ دیں گے.
    ریاستی انتخابات میں مسلم کانفرنس، تحریک لبیک و دیگر سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک ایسا نہیں کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے سکیں. مقبوضہ کشمیر میں پچھلے سال ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر بھی عوام میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے. ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور آزاد کشمیر کو اس کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے.
    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت نے آزاد جموں کشمیر اور ریاستی مہاجرین کی اکثر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی مہم خاصی دکھائی دے رہی ہے. اس جماعت نے کئی ایک علاقوں میں کامیاب امتخابی جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی ہیں جس کی وجہ سے یہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے ہیں.
    انتخابی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہوئے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران کی مصروفیات دیکھیں وہاں جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کے امیدواران اور پارٹی قیادت سے بھی ملاقات رہی. ان کا ماننا تھا کہ گوکہ وہ ان انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ تو نہیں لے سکیں گے لیکن ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کو آزاد کروانا ہمارا بنیادی منشور ہے. ہم الیکشن جیت کر اسمبلی میں بیٹھیں یا الیکشن میں کم ووٹ لے سکیں ہم عوام سے رشتہ نہیں توڑیں گے.
    آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے منجھے ہوئے سیاستدان سردار بابر حسین اس جماعت کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجربہ کار اور مخلص لوگ ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں یقین میں رکھتے ہیں. موجودہ انتخابات میں اپنی سرگرمیوں کے ساتھ وہ ریاستی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کا سورج اپنے غروب کے ساتھ مظفرآباد کے تحت پر کس کو طلوع کرکے جاتا ہے.

    محمد عبداللہ
    محمد عبداللہ

  • مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ کو یونیورسٹی دو . تحریر: اویس کورائی

    مظفرگڑھ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ مظفرگڑھ کو انگریز دور میں ہی ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا اس کی بنیاد نواب مظفر خاں نے 1794 میں رکھی تھی اس کی پانچ تحصیلیں ہوا کرتی تھیں جن میں (جتوئی،علی پور،کوٹ ادو،لیہ اور مظفرگڑھ) لیکن 1988 میں لیہ کو ایک علیحدہ ضلع بنا دیا گیا یہاں کی مقامی زبان سرائیکی ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی ابادی تقریباً 45 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہاں پر 90 فیصد سے زیادہ لوگ کسان ہیں ۔ ضلع مظفرگڑھ میں کپاس،گندم،چاول اور گنے کی کاشت زیادہ ہوتی ہے.

    ضلع مظفرگڑھ میں بہت سے مشہور پرائیویٹ کالج ہیں جن سے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں چند ایک درج ذیل ہیں ( آصف سلیم کالج،پنجاب گروپ آف کالجز،راشد منہاس کالج،مثالی پنجاب کالج جتوئی،سر سید احمدکالج )ان کالج میں بچے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر گھر رہ کر مزدوری وغیرہ کرتے ہیں کیوں کہ ضلع مظفرگڑھ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے اور یہاں کی غریب عوام اپنے بچوں کو مزید پڑھانے کیلئے بڑے شہروں میں نہیں بھیج سکتی حالانکہ ہر سال بورڈ کے امتحانات میں ضلع مظفرگڑھ سب سے آگے ہوتا ہے پوزیشن ہولڈر طلبا مظفرگڑھ سے ہی ہوتے ہیں ۔ مظفرگڑھ کی سیاسی شخصیات نے بھی اپنی غریب عوام کے لیے کبھی نہیں سوچا اس 74 سالہ پاکستان کی تاریخ میں ضلع مظفرگڑھ کو یونیورسٹی تو دور کسی بھی یونیورسٹی کا کیمپس تک نہیں ملے ۔ مظفرگڑھ کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے آئے روز طلبا احتجاج کرتے ہیں یونیورسٹی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن بے سود۔
    اس کے برعکس مظفرگڑھ سے علیحدہ شدہ ضلع لیہ اُس میں کم وبیش چار یونیورسٹیوں کے کیمپس ہیں اور کچھ دن پہلے لیہ میں ایک بڑی یونیورسٹی (یونیورسٹی آف لیہ) بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے لیکن مظفرگڑھ میں نوجوان ایف ایس سی کرنے کے بعد بھی مزدوری کرتا نظر ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    اکثر والدین بچوں کو اس لیے بھی سکول نہیں بھیجتے کہ ہم تو آگے آپ کی پڑھائی کا خرچہ نہیں اٹھا سکیں گے تو کیوں نا ابھی سے مزدوری شروع کر دو اور اپنے ماں باپ کا سہارا بنو۔
    ہماری نوجوان نسل کا حق کھایا جا رہا ہے ہماری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ ہمیں ایک یونیورسٹی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کر کے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں اور اپنے ماں باپ کا سہارا بن سکیں ۔

    @Korai92

  • مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    مہاجر . تحریر : ثاقب شیخ

    کیا ایم کیو ایم ہی مہاجر ہے؟
    کیا مہاجر ہی ایم کیو ایم ہے؟

    کیا تحریک انصاف میں مہاجر ہیں؟
    جی ہاں ہیں

    کیا مسلم لیگ ن میں مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پیپلز پارٹی میں بھی مہاجر ہیں
    جی ہاں ہیں

    کیا پاک سرزمین پارٹی میں مہاجر ہیں
    جی ہاں بلکل ہیں اور بڑی تعداد میں موجود ہیں

    جب مہاجر ہر جماعت میں اکثریت کے ساتھ موجود ہے تو ایم کیو ایم کیوں زبردستی مہاجر نام کو استعمال کیے جارہی ہے آخر کیوں ایم کیو ایم دنیا کو یہ تصور دےرہی ہے کہ مہاجر ہونے کر لیے ضروری ہے کے آپ کا تعلق ایم کیو ایم سے ہو؟

    کیا مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والوں نے ایم کیو ایم اور حقیقی کے نام پر مہاجروں کو شہداء قبرستان آباد نہیں کیے کیا ؟

    ایم کیو ایم تو 32 سال سے مہاجر نعرہ لگارہی ہے اب تک مہاجروں کے مسائل حال کیوں نہیں ہوے اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ایم کیو ایم ایک فلپ نظریہ پر کام کررہی ہے یہ بات صاف ہے کہ ایم کیو ایم کے نظریے سے مہاجر قوم کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے انکا مقصد MPA MNA بنکر رہنماؤں کی عیاشی کیلئے اے سی والی مہنگی مہنگی لگژری گاڑیاں اور خوبصورت محلات حاصل کرنے کیلئے جۓ مہاجر کا نعرہ لگا کر اپنی قوم کا استعمال کرتے ہیں

    الیکشن کے وقت ‎مہاجر کارڈ اور ‎سندھی کارڈ کھیل کر کراچی کی عوام کو بےوقوف بنانے والے ہی کراچی کی بربادی کے اصل ذمہ دار ہیں.
    ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کبھی عوام میں فرقہ پرستی اور لسانی فساد پھیلایا تو کبھی ‎سندھو دیش اور ‎مہاجر صوبہ کے نام پر عوام کے جذبات کو بھڑکایا.

    ‏32 سالوں میں تعلیم کو تباہ کر دیا ہے، شہدا کا قبرستان آباد کر دیا، سوریج نظام تباہ، انڈسٹریز یہاں سے چلی گئی، ذاتی مفادات کے خاطر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم عوام کو بے قوف بنا رہے ہیں۔ لیکن اب ‏ کراچی والوں کو سوچنا ہوگا کہ انکا اپنا کون ہے انشاء اللّه انے والے وقت میں تمام کراچی والوں کو چاہیے کہ اپنا ووٹ ( ڈولفن🐬 ) کو دیکر سید مصطفی کمال کا ہاتھ مضبوط کریں تاکہ کراچی اور کراچی کے لوگ ایک بار پھر تعمیر و ترقی کا سفر کامیابی حاصل کر سکیں.
    ثاقب شیخ
    @Saqib194

  • ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟   تحریر: ملک منیب محمود

    ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟ تحریر: ملک منیب محمود

    آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 73 سال ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے قیام پاکستان کے لیے جیسا مقدمہ لڑا ویسا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی نے نہ لڑا۔ 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’آپ کا تعلق کسی مذہب سے ہوسکتا ہے۔کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدہ کے ساتھ ہوسکتا ہے،یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاستِ پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
    یقین جانیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفریقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں عقیدے ،رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوچکے ہوتے۔ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔
    آپ آزاد ہیں ،آپ آزاد ہیں ، آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں۔کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘
    قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوںگے ۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔‘‘ان تقاریر کا ایک ایک لفظ پڑھ یا سن لیں اور سوچیں کہ ہم کس قدر ’’بے وفا ‘‘نکلے، ہم تو اس متن کے ایک جملے پر بھی پورا نہ اُتر سکے۔ خیر ہمیں کم از کم یہ تو علم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔لیکن ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی مذکورہ بالاتقریر(11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر )کو متنازع بنا دیا گیا۔
    بہت سی سازشیں ہوئیں، ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔ انھیں شہید کرنا والا افغان باشندہ تھا۔یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی جنھیں آمر نے پیدا کیا ہوا۔
    خیر یہ تو سیاسی باتیں تھیں، پاکستان میں سیاست اور کرکٹ دونوںکے مستقبل کے بارے میں بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی غلط ثابت ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے اپنے قومی پرچم جس میں سفید سبز رنگ ہے کی بے حرمتی کر دی!بلکہ کر رہے ہیں، قائد اعظم نے 11اگست والی تقریر کے بعد ہونے والے اجلاس ہی میں جس قومی پرچم کی منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ سفید رنگ اقلیتوں کی آزادی کی علامت ہے۔ لگتا ہے آج ہم نے اس خیال کو ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
    الغرض قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آپ ؒ پاکستان کے قیام کے بعد محض 13ماہ زندہ رہے۔ ان کی زندگی میں تو ’’پاکستان‘‘ تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا، مگر آج ہم کیا کررہے ہیں، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگا۔ مگر دھڑلے سے لگایا گیا اور آج بھی ویسے ہی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔
    الغرض قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں، آج ہم سب Look Busy Do Nothing کے محاورے پر چل رہے ہیں ، ہم مذہبی طور پر خود کو سب سے زیادہ مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں، ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک دکھاوا ہے۔ ہم ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کو اُس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نہ کرو، اس حوالے سے قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔
    سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھااور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔
    ‎@MMuneebPTI

  • پاکستان کے دو ہی اصل دُشمن۔ تحریر: محمد شعیب

    پاکستان کے دو ہی اصل دُشمن۔ تحریر: محمد شعیب

    میں تو اس نیتجے پر پہنچ چکا ہوں کہ پاکستان کے دو دشمن ہیں ایک تو بھارت جس کے بارے سب جانتے ہیں دوسرا مریم ۔ کیسے ہیں یہ میں آپکو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    ۔ اس وقت آزاد کشمیر میں پارلیمانی نشستوں کے انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ پہلے بلاول اور مریم ، پھر آصفہ اور اب عمران خان کے آزاد کشمیر میں جانے سے اس الیکشن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ مگر سیاست کے نام پر ۔ الیکشن کے نام پر وہاں گند ڈالا جا رہا ہے اور اچھالا جا رہا ہے ۔

    ۔ اب آزاد کشمیر میں بھی وہ ہی سلیکٹڈ ، دھاندلی ، کٹھ پتلی ، گالم گلوچ ، فائرنگ ، گاڈ فادر ، مافیا ، چور ، ایجنٹ اور غدار کا کھیل شروع ہوچکا ہے ۔

    ۔ حکومت کی نااہلی ، کرپشن ، مہنگائی، بیڈ گورننس اور کرتوت اپنے جگہ ہیں ۔ اس پر میں اکثر انکو آڑے ہاتھوں بھی لیتا رہتا ہوں ۔ اپوزیشن کو بھی حق ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرے اور جہاں وہ غلط ہو اس کو ٹف ٹائم دے۔ مگر اس تنقید میں مریم نواز نے آج لائن کراس کر دی ہے ۔ آج وہ بغض عمران میں ریاست مخالف بیان دے گئی ہیں اور وہ بھی آزاد کشمیر میں کھڑے ہوکر ۔ ان کو پتہ نہیں ہے یا اندازہ ہے کہ نہیں یا پھر انھوں نے جان بوجھ کر اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان دیا ہے ۔

    ۔ بلکہ بیان نہیں مطالبہ کیا ہے جھوٹی شہزادی نے ۔ کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا پر وزیر اعظم عمران خان افغانستان سے معافی مانگیں کیونکہ افغان سفیر کی بیٹی کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری تھی ۔ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ وہ اس لئے اغواء ہوئی کیوں کہ اکیلی باہر نکلی تھی ۔

    ۔ اب ان کے اس بیان کو افغان میڈیا ، بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پاکستان کے خلاف ایک پرپیگنڈاہ کے طور پر استعمال کررہا ہے اور تاریخ کےاس اہم موڑ پر جب ہم ہر جگہ سے دشمنوں کے بیچ گھرے ہوئے ہیں ۔ اس سے عمران خان کو تو پتہ نہیں نقصان ہوتا ہے یا نہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض بھی نہیں ہے ۔ مگر آج مریم نے ریاست پاکستان کو یقینی طور پر زک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

    ۔ مریم نے یہ ایک بیان دے کر حکومت کی crediability کے ساتھ تو جو کرنا تھا کیا مگر ساتھ ہی ریاست پاکستان اور اداروں کو بھی کٹہرے میں کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ حالانکہ وہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔ ان کی پارٹی بھی جانتی ہے ۔ کہ اشرف غنی کس کے ایماء پر افغان سفیر کو واپس بلا رہا ہے ۔ اور یہ سب ایک ڈرامہ ہے ۔ مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا اور افغانستان کے حالات کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنا ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں سفیر کی بیٹی نہ تو صحیح بیان دے رہی ہے نہ سوالات کے جواب دے رہی ہے اور کس نے اس کو کہا تھا کہ بغیر سیکورٹی کے وہ باہر نکلیں ۔

    ۔ مریم کو یہ ہمت تو نہیں ہوئی کہ وہ یہ سوال کرتی۔ کٹھ پتلی افغان حکومت اور اشرف سے پوچھیں کہ وہ کس کے ایماء پر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔ الٹا وہ ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان کے دشمنوں کی زبان بول رہی ہیں۔ آج کے ان کے اس بیان سے بھارت میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں ۔

    ۔ یہ خارجہ پالیسی پر بڑے لیچکر دے رہی ہیں ۔ پر مریم بھول گئیں ان کے دور میں تو وزیر خارجہ کا عہدہ کسی کو دیا ہی نہیں گیا ۔ جس کو نقصان ایف اے ٹی ایف سمیت پتہ نہیں کس کس معاملے میں ہم کو اٹھنا پڑا ہے ۔ اب یہ جو چینخ چلا رہی ہیں کشمیر میں ۔ برہان وانی ، کلبھوشن یادو کے معاملے پر ان کی زبان کوتالے لگ جاتے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب بھارت میں ایک اسکینڈل آیا ہے جس کا ڈائریکٹ تعلق پاکستان کے ساتھ ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جاسوسی کےاسرائیلی نظام کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کا نمبر بھی ہیک کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔

    ۔ چھوڑ دیں عمران خان کی گورننس کیا ہے یا نہیں ہے ۔ بھارت نے وزیر اعظم پاکستان کا فون ہیک کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر مریم اس پر نہیں بولیں گی ۔ مودی کی بینڈ نہیں بجائیں گی ۔ ہاں البتہ ساڑھیاں اور آم ضرور بجھوائیں گی ۔

    ۔ ایف اے ٹی ایف پر جے شنکر کا بیان آپ نے سن لیا ہوگا اور اب یہ ۔ اس کے بعد بھی ہمارے لیڈر ایسے بیان دیں جو مریم نے دیا ہے تو پھر تف ہے اُن پر بھی۔۔

    ۔ امریکی اخبار نےیہ بھی بتایا ہے کہ جاسوسی کے اسرائیلی نظام سے پاکستان سمیت کئی ملکوں کی شخصیات کے فون ہیک کیےگئے ہیں۔ جبکہ بھارت میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے فون کی بھی ہیکنگ کی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر ۔۔۔ پیگا سس ۔۔۔ کے ذریعے کی گئی۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام ۔۔۔ پیگاسس ۔۔۔ کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت دس ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔

    ۔ اب مریم ان صحافیوں کے حق میں بات نہیں کریں گی جن کے فون مودی ہیک کر رہا تھا ۔ اب مریم نہیں بولیں گی جو سازشیں بھارت پاکستان کے خلاف کر رہا ہے ۔ اب مریم کو یاد نہیں آئے گا وہ ایکٹنگ کرنا اور رونا دھونا کہ مودی پاکستان توڑنے کی سازشوں میں ملوث ہے ۔ اور ہمارا دشمن نمبر ون ہے ۔

    ۔ یقینی طور پر پاکستان ، ادارے اور عوام ان دشمنوں سے نبڑ لیں گے ۔ مگر یہ جو جونکیں مریم کی شکل میں پاکستان کے اندر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ ان کو ہینڈل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ جو پاکستان کو اندر سے کمزور کررہے ہیں ان کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے ۔

    ۔ یہ جو ووٹ کو عزت دو ، دھاندلی ، کرپشن اور نااہلی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کو آڑے ہاتھوں لیے بغیر پاکستان اپنے دشمنوں کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ۔

    ۔ میری نظر میں تو جو مریم کشمیر کی پاک دھرتی پر کھڑے ہوکر یہ کٹھ پتلی افغان حکومت کے بیانیے کو پروان چڑھانے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے یہ treason ہے ۔ یہ مریم کھاتی پاکستان کا ہے اور گن بھارت اور کٹھ پتلی اشرف غنی کے گاتی ہے ۔ یہ کشمیر میں کھڑے ہوکر باتیں تو بڑی بڑی کر رہی ہے مگر مودی کو للکارتے ہوئے اس کی زبان لڑ کھڑا جاتی ہے ۔ یہ اجیت ڈول اور جے شنکر کو شٹ اپ کال دینا بھول جاتی ہے ۔ یہ کلبھوشن یادو کا نام لیتے ہوئے ڈر جاتی ہیں ۔

    ناجانے کس نے انہیں یہ کہہ دیا ہے کہ ایسے اگر یہ بولیں گی تو کشمیر کا کیس صحیح طریقے سے لڑ پائیں گی۔اور عمران خان کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔نہ جانے کس نے ۔