Baaghi TV

Category: سیاست

  • بختاور بھٹو کا والدہ کو خراج تحسین

    بختاور بھٹو کا والدہ کو خراج تحسین

    دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت بے نظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو نے سوشل میڈیا پر والدہ کی یادگار تصویر شیئر کر دی۔

    باغی ٹی وی :شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 13ویں برسی کے موقع پر اُن کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی والدہ کی خوبصورت تصویر شئیر کر کے انُہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔


    ٹوئٹر پر شیئر کردہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کا خاکہ ایک فوٹو فریم میں نصب کر کے دیوار پر لگایا ہوا ہے۔

    بختاور بھٹو نے اپنی والدہ سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے کیپشن میں دل اور پھول والا ایموجی بنایا ہے۔

    خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء میں پیدا ہوئیں وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔

    جلا وطنی کے بعد جب 18 اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں تو ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں انہیں شہید کر دیا گیا۔

    بینظیربھٹوکی13ویں برسی پر آصف زرداری کا بیان آگیا

    ے نظیر بھٹو کی برسی پاکستان ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک پاکستانی زلفی بخاری ملک کے 100 پرکشش افراد میں شامل واحد سیاستدان ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلفی بخاری کو ملٹی نیشنل پاکستانی فیشن میگزین ‘ہیلو‘ نے اپنی سالانہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے ہیلو میگزین سال کے اختتام پر فیشن، شوبز، ٹی وی، ماڈلنگ، سیاست اور دیگر شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے 100 بہترین افراد کو پرکشش افراد کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    فیشن میگزین کی جانب سے سال 2020 کی جاری کردہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں 40 سالہ زلفی بخاری واحد سیاستدان ہیں۔

    میگزین نے ‘100 پرکشش افراد‘ کے خصوصی شمارے کے سرورق پر زلفی بخاری کو زینت بنایا ہے۔


    میگزین کی جانب سے سرورق کی زینت بنائے جانے اور فہرست کا حصہ بنائے جانے پر زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میگزین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    2020 میں یو ٹیوب پر کمائی میں 9 سالہ بچہ سب سے آگے

    اس سال میگزین کی فہرست میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق اداکاری سے ہے اور مجموعی طور پر 100 سے 90 کے افراد کا تعلق اداکاری سے ہے۔

    اس سال پرکشش افراد کی فہرست میں واحد گلوکار عاطف اسلم بھی شامل ہیں جب کہ برطانوی نژاد پاکستانی میزبان تنویز وسیم المعروف تان فرانس بھی شامل ہیں۔

    ار طغرل غازی نے بھارت میں بھی نیا اعزاز اپنے نام کر لیا

    اس سال کی پرکشش افراد کی فہرست میں ترک اداکار انگین التان دوزیتان اور ایسرا بلجیک بھی شامل ہیں، جنہوں نے ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    ماہرہ خان سمیت 3 پاکستانی فنکار ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین ڈیجیٹل اسٹارز کی…

    علاوہ ازیں اس سال کی فہرست میں عائزہ خان، حرا مانی، ہمایوں سعید، یمنیٰ زیدی، سجل علی، سونیا حسین، ثروت گیلانی، اقرا عزیز، ہانیہ عامر اور دیگر اداکار و اداکارائیں شامل ہیں۔

    جبکہ فیشن میگزین کی جانب سے رواں سال کی جاری کی گئی فہرست میں مہوش حیات، ماہرہ خان، عائشہ عمر، صبا قمر، حریم فاروق، سائرہ یوسف اور حمیمہ ملک جیسی اداکاراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔

    ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار

    2020 پاکستان کی کون سی شخصیات کو گوگل پر زیادہ سرچ کیا گیا گوگل نے فہرست جاری کر…

  • ”پی ڈی ایم کا فلاپ شو۔۔۔آنکھوں دیکھا حال“    نسیم الحق زاہدی کے قلم سے

    ”پی ڈی ایم کا فلاپ شو۔۔۔آنکھوں دیکھا حال“ نسیم الحق زاہدی کے قلم سے

    ایک صحافی،اہل قلم کو ہمیشہ غیر جانب دار ہونا چاہیے حق بات کرنی اور کہنی چاہیے نتائج خواہ جو بھی ہوں۔گذشتہ شب ہمارے ایک ہردلعزیز صحافی دوست ممتاز حیدر اعوان کہنے لگے کہ اب کی بار پی ڈی ایم کی سونامی دیکھ کر کچھ لکھیں گے،حامی بھری اور پانی سے بھرے ہوئے منیار پاکستان کی طرف جانب سفر ہوئے سردی بھی اچھی تھی اور موسم بھی دلفریب تھا اوپر سے مختلف سیاسی جماعتوں کے مخصوص سیاسی ترانے گڈمڈ ہوکر عجیب ہی سماں باندھ رہے تھے،جیسے عطاء اللہ کا گانا نصیبولال کی آواز میں چل رہا ہو۔میں نہ تو لیگی ہوں نہ تحریکی ہو ں نہ ہی جیالہ ہوں الحمدللہ میں پاکستانی ہوں جو اپنے وطن سے عشق کی حد تک محبت کرتا ہے۔

    پہلی بات جو باعث تعجب تھی کہ اس جلسہ میں ملتان یا گوجرانوالہ جیسی کوئی صورت حال نہ تھی نہ تو کسی کارکن کو گرفتار کیا گیا تھا نہ ہی کہیں راستوں میں رکاوٹیں تھیں،جلسہ گاہ منیار پاکستان جس کو مشہور کیا گیا تھا کہ اسے پانی سے بھر دیا گیا تھا وہاں پر دریائے راوی کا منظر جو بتایا جارہا تھا ہماری آنکھیں اس منظر کو دیکھنے سے قاصر تھیں۔محمود اچکزئی جوش خطابت میں ہم لاہوریوں کو غلام اور یقینا غدار بھی کہہ رہے تھے۔عوام کا بحر جو بتایا جارہا تھا ایسا تو کچھ نہ تھا رش تھا مگر لوگ شاید ان گھسے پٹے نعروں کواور کھوکھلے دعوؤں کو سن سن کر تھک چکے ہیں اس لیے پنڈال میں لوگ آجارہے تھے بیٹھے ہوئے کم تھے شاید ہماری افلاس زدہ عوام کو بھٹو کی وفات کااور شیر کی دھاڑ کا یقین آچکا ہے۔میں اس بات کو مانتا ہوں کہ موجودہ حکومت نے جو جو وعدے اور دعوے کیے تھے ان پر پورا نہیں اتر سکی،مہنگائی کی عفریت بڑی تیزی سے انسانوں کو نگل رہی ہے۔ریاست مدینہ کے دعوے دار عوام کوروٹی،کپڑا،مکان،صحت اورتعلیم جیسے بنیادی حقوق دینے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔احتجاج کرنے کا حق سب کو ہے مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اگر گیارہ جماعتوں نے آج جن کا اتحاد پی ڈی ایم کی صورت میں ہے یہ ملک کے خیرخواہ تھے تو پھر ملک کو ہم جیسے افلاس زدہ روٹی چوروں نے لوٹا ہے؟؟

    آج مولانا فضل الرحمن کہہ رہے ہیں کہ وہ ملک کے سب سے بڑے وفادار ہیں انہوں نے ملک کی بہت خدمت کی ہے ہائے افسوس کہ انہوں نے مسلسل تقریباً ہر حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹے ہیں مگر اس وقت انکو سب ٹھیک کیوں لگتا تھا؟اس لیے کہ انکا دین سیاست کے لیے ہے اور انکی منزل اسلام نہیں اسلام آباد ہے۔مجھے تو ساجد میر کی سمجھ نہیں آتی کہ اہلحدیث تو بڑے توحید پرست ہوتے ہیں الحمدللہ میں بھی توحید پرست ہوں جو دین غیر محرم عورت کو دیکھنے سے بھی منع کرتا ہے آج اس دین کا داعی قوم کی پے پردہ بیٹی کا مسجد میں والہانہ استقبال کرتاہے۔افسوس کہ کبھی کسی گستاخ رسول ؐ کو سزا دلوانے کے لیے یا ملکی مفادات کی خاطر اتنی سیاسی پارٹیوں نے اتحادتونہیں کیا ہے؟؟؟ کیوں کہ کوئی بھی محب وطن نہیں کوئی بھی عوام کا خیرخواہ نہیں سبھی اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔غیر ملکی فنڈنگ کھا کر وطن عزیز سے نفرت کرنے والے آج عوام دوست بن رہے ہیں جن کا اپنا دامن تار تارہے وہ دوسروں پر پتھر پھینک رہے ہیں؟؟؟

    پی ڈی ایم کے لوگوں کا کہنا تھا کہ آج کا جلسہ عاشق رسولؐمولانا خادم حسین رضوی کے جنازے سے بڑھا ہوگا مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گیارہ جماعتوں کا اتحاد ملک بھر سے گیارہ لاکھ کارکن بھی جمع نہ کرسکا۔اس سے بڑا اجتماع تو ڈاکٹر طاہر القادری کاہر سال بارہ ربیع الاول پر ہوتا ہے۔ محترمہ مریم نواز کی تقریرشر انگیزی سے بھر پور تھی،جس میں خیر کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اقتدار کی ہوس میں انسان کو اس قدر بھی اندھا نہیں ہوناچاہیے کہ اپنے ہی محسنوں پر دشنام طرازیاں شروع کردی جائیں۔مسلم لیگ ن تو افواج پاکستان کی کردار کشی کرنے ٹھیکہ ہی لے لیا ہے۔جس کا دل چاہتاہے منہ اٹھا کہ قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے۔ جو قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو فراموش کردیتی ہیں وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔محترمہ مریم صفدر اعوان آپ نے پاکستان اور اسلام محافظ ایجنسی پر الزامات کی بوچھاڑ کی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشااور جنرل ظہیر السلام کو نشانہ بنایا آپ نے افواج پاکستان کو نشانہ بنایا محترمہ اگر آپ اس وطن عزیز میں عزت واحترام کے ساتھ آزادزندگی گزار رہی ہیں تو اس کے پیچھے بھی وری ہے۔یقین کیجئے اگر آج وطن عزیز ہے تو رب تعالیٰ کی رحمت کے بعد ان دھرتی کے عظیم سپوتوں اور جانثاروں کی قربانیوں کی بدولت ہے۔دھرتی ان جوانوں کی مقروض ہے۔محترمہ آپ بھی تو ایک فوجی کیپٹن کی بیوی ہیں کم ازکم یہ الزام تراشیاں آپکو زیب نہیں دیتیں۔دھرتی کے رکھوالوں پر باتیں کرنا بہت آسان ہیں کبھی بلاول اٹھتا ہے تو افواج پاک پراغیار کی زبان بولنا شروع کردیتا ہے۔محترمہ مریم صفدراعوان آپ کبھی انہی دسمبر کی یک بستہ راتوں میں گلیشئر کی رگوں میں خون کو منجمد کردینے والی سردی میں ایک رات تو دور کچھ لمحات ہی گزار کر دیکھاؤپھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ دھرتی کے رکھوالے اس مٹی کی حفاظت کواپنا ایمان سمجھتے ہیں اور اس کی خاطر قربان ہونا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔اس ملک کے اصل رکھوالے تو یہ وردی والے ہیں۔

    محترمہ مریم صفدر آپ نے شہیدوں کے والدین کے دلوں کو دکھایا ہے آپ اپنے بیٹے کو افواج پاکستان میں بھیجیں پھر جب آپکا بیٹا شہید ہوجائے تو پھر جب کوئی بھی افواج پاکستان پر الزام تراشی کرے گا تو اس وقت آپ کو احساس ہوگا؟آپ کو پھر اندازہ ہوگا۔بلال زرداری آپ بھی افواج پاکستان پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہوکبھی جسم کو جھلسا دینے والی ریگستانوں کی گرمی کے اندر موٹی وردی پہن کر پیدل چلناپھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ ملک جسے آپ کے آباؤاجداد سالوں سے نوچ نوچ کرکھارہے ہیں اگر قائم ودائم ہے تو انہی اللہ کے سپاہیوں،بدروحنین کے جانشینوں کی بدولت ہے مگر جناب کیا جانیں اے سی اور ہیٹر کمروں میں بیٹھنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوسکتا بلاول زرداری سندھ میں انسانیت تو دم توڑ چکی ہے مگر میں محوحیرت ہوں کہ بھٹو وہاں آج بھی زندہ ہے۔آخر میں صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا۔ پی ڈی ایم کے دعوے دھرے کہ دھرے رہ گئے ہیں اور یہ کہنا ہوگز غلط نہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کا یہ شو فلاپ ہوچکا ہے۔۔۔وہ بھی بری طرح سے۔

  • میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں   شان شاہد

    میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں شان شاہد

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں، کیونکہ نہ صرف یہ پاکستان کو بدنام کررہے ہیں بلکہ ہمارے اقدار پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں-

    باغی ٹی وی : شان شاہد نے اسحاق ڈار کے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو سے متعلق سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کیا ہے-


    اداکار شان شاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اپنی ٹوئٹ میں اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے وجود کی گہرائی تک بے شرم ہیں میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے ایسے لوگوں کا سخت احتساب کریں کیونکہ نہ صرف یہ پاکستان کو بدنام کررہے ہیں بلکہ ہمارے اقدار پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں، یعنی کرپشن کرنا ہی بڑی کامیابی ہے-

    اداکار نے کہا کہ بدعنوان افراد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال کر ان سے تمام جائیداد اور مال واپس لینا چاہیے جو انہوں نے اپنی روح کو فروخت کرکے بنائے ہیں ان کے جھوٹ ایسے ہیں جو سچ کے دامن کو تار تار کردیتے ہیں انہیں پاکستانی سیاسی تاریخ پر ایک بدنما داغ تصور کرنا چاہیے۔

    شان شاہد نے یہ بھی کہا کہ ایک دیوار بے شرمی بناکر ان کے نام اس پر لکھے جانے چاہیئں جوہمیشہ موجود رہیں تاکہ قوم جان سکیں کہ کوئی کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہوجائے جھوٹ کی جیت کبھی نہیں ہوتی اور نہ ہوگی۔ اس کا شعور پہنچایا جائے کہ ایمانداری اور سچائی ہی ہماری اصل اقدار ہیں۔

    شان شاہد نے اپنی پوسٹ کے آخر میں پاکستان زندہ باد بھی لکھا۔

  • قصور کرپشن کیس:مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    قصور کرپشن کیس:مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    قصور: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قصورمیں مسلم لیگ ن کے صدر لاہور ڈویژن شیخ وسیم اختر اور بیٹے ایم این اے سعد وسیم شیخ کے خلاف کرپشن پر ڈپٹی کمشنر نے کاروائی کا حکم دے دیا-

    سابق ایم این و موجودہ صدر مسلم لیگ وسیم اختر شیخ نے توحید ٹینری کے ساتھ جگہ پر قبضہ کیا اور وسیم اختر شیخ نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے مینجر ساتھ مل کر ٹیکس و دیگر معاملات میں سرکار کو نقصان پہنچا یا-


    رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم این اے سعد وسیم شیخ نے غیر قانونی ھاوسنگ سوسائٹی بنائی سوسائٹی کا نام پہلے سعد ٹاون بعد میں مکہ ٹاون رکھا گیا جس میں وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی

    علاوہ ازیں مسلم لیگی ایم این اے نے ایل ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر متعلقہ سوسائٹی میں زمین فروخت کی-

    ڈپٹی کمشنر نے کرپشن اختیارات سے تجاویز و گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے پر مقدمہ کی سفارش کر دی-

    ڈپٹی کمشنر نے دونوں ن لیگی باپ بیٹے وسیم شیخ اورسعد وسیم شیخ کے خلاف مقدمہ کے لئے اینٹی کرپشن کو بھی تحریری طور پر لکھ دیا-

  • صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے  سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کے بنتے ہی پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے اس علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستان کے صف اول کے سینئیر صحافی مبشر لقمان نے سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی –

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی اے جنوبی پنجاب میں بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہے معلوم کہ جلسے میں بات ہو گی یا نہیں کہ ساؤتھ پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن پارٹیز نے کیا کیا ہے اور حکومت نے کیا کیا ہے کیونکہ بہر حال جب کہ منصوبہ بننا ہوگا یا بنے گا تو دونوں کو کوآپریٹ کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی میں وہ اس کو ووٹ کرے گی عثمان بزدار نے جنوبی پبجاب میں جو سارا انتظام کیا ہے ان کے بقول اب وہاں پر بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں-

    سئینئر اینکر پرسن نے کہا کہ آج سے وہ ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مختلف ساتھیوں کو دوستوں کو دعوت دے کر کہ وہ آئیں اور ہمیں بتائیں کہ جنوبی پنجاب کے منصوبے کی حقیقت کیا ہے کیا ان کے معاملات آسان ہوئے ہیں-

    آج کی اس قسط میں مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے سوال پوچھا کہ اب ان کا صوبہ کیسا لگ رہا ہے ؟

    جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبہ تو ابھی نہیں بنا میں تو بنیاد ی طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ ماننے کے حق میں ہوں لیکن ابھی تک یہ ہوا ہے کہ وہاں پر ایک سیٹلائٹ سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے کہ اس سیکرٹریٹ کے بنتے ہیں پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے-

    جس پر مبشر لقمان نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو وزیراعظم ہے یہاں پر جنوبی پنجاب کا اور آپ کے تو بڑے وزرا ہیں وفاق میں تو آپ دوسرے درجے کے کیسے ہیں جس پر سابقہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مسئلے ہی یہی ہیں کہ ہمارے وزیراعلی بھی ہوتے ہیں اور وزرا بھی ہوتے ہیں –

    ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار اور سوکالڈ ایلیکٹیبل جو ہیں ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو تا کہ تخف لاہور پر وہ بیٹھ سکیں اور مرکز میں بڑے عہدے لے سکیں وزیراعظم بن سکیں لیکن عوام غریب کے غریب ہی رہیں محروم ہی رہیں –

    محمد علی درانی نے انکشاف کیا کہ جو کچھ سکرٹریٹ بنا ہے اس میں تخت لاہور کا کوئی کردار نہیں ہے اس کے سب ڈیزائن کو میں جانتا ہوں اس کو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے خود بنایا ہے اور خود ان کو لاگو کرایا ہے اس کا ان کو اس چیز کا ایک یہ فائدہ ہے کہ لوگ ان کے غلام ان کے غلام ہی رہیں گے اور وہاں نہ ترقی ہو گی نہ وہ ڈویلپمنٹ ہوگا بلکہ اس نئی ڈویلپمنٹ کی وجہ سے پورے پنجاب کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی-

    سابق وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کا 82 فیصد بجٹ نان ڈویلپمنٹل ہے 82 فیصد بجٹ تنخواہوں اور مراعات وغیرہ میں چلا جاتا ہے ان مراعات کا ایک اور بنڈل پنجاب کے اوپر لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا بالفرض اگر 100 ارب کا بجٹ ہو تو اس میں سے ساٹھ سے 70 ارب روہے اس سیکرٹریٹ پر لگ جائیں گے مطلب مرے کو مارے جو غریب لوگ وہاں کے ان کے ڈویلپمنٹ کا بجٹ تھا وہ اور کم ہوگیا پہلے یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے شہری پنجاب کے شہریوں کے برابر تھے تو ان میں سے کوئی بھی آکر لاہور کے سیکرٹریٹ کے اندر بتا سکتا تھا تولیکن اس نئے سیکرٹریٹ کے بعد ان کو جانوروں کی طرح ایک جنوبی پنجاب کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے –

    مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ آپ کسی بھی حالات میں خوش نہیں ہوتے سیکٹریٹ مانگا آپ کو دیا اس پر بھی آپ خوش نہی ہوئے-

    اس پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایک عوام کا نمائندہ ایک عوام کا مطالبہ ایسا دے دیں جس نے سیکرٹریٹ مانگا اور ہم نے جو صوبہ مانگا تھا وہ گوانتاما جیل بن گیا ہے میں دلیل پر بات کرتا ہوں ویسے میں بات ہی نہیں کرتا وہاں پر بیٹھا آدمی مسائل کی وجہ سے لاہور آتا تھا تو اس کے دومسائل ہوتے تھے ایک خرچہ اور دوسرا فاصلہ اب اس کے 4 مسائل ہوگئے ہیں-

    کیونکہ اب وہ تب تک یہاں آ نہیں سکتا جب تک وہاں کا آڈیشنل آئی جی اسے پرمٹ نہیں دے گا وہ آئی جی کے پاس پرابلم نہیں لا سکتا وہاں کی آڈیشنل کی سیکرٹری اسے پرمیشن لیٹر نہیں دے گی آڈیشنل آئی جی کے پاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے اس نے جو ایکشن بھی لینا ہے آئی جی کی ہدایات پر لینا ہے یا آئی جی کی آگاہی پر لے گامطلب وہ با حکم آئی جی ہے وہاں پر کوئی بھی چیز چیف سیکرٹیری اور آئی جی کے انتظام کے بغیر نہیں ہو سکتی-

    محمد علی درانی نے کہا کہ اب اس کے اوپر ظلم پر ظلم یہ کہ آدھا سیکرٹریٹ ملتان میں اور آدھا بہاولپور میں ہے آپ بتائیں پنجاب میں آدھا سیکرٹریت لاہور میں رکھیں اور آدھا اسلام آباد میں بھیج دیں تو مطلب یہ ہے کہ نہ لاہور والوں کو کچھ ملے گا نہ راولپنڈی والوں کو کچھ ملے گا ایک سیکرٹری ادھر بیٹھا ہوگا آڈیشنل سیکرٹری ادھر بیٹھا ہو گا مطلب بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق کوئی مسئلہ بھی جو ہے وہ 4 گُنا زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے اس ڈویلپمنٹ کے باعث اس کے بعد آپ کو نوکریں ملیں گی لیکن نوکریوں کا کوئی نشان ہی نہیں ہے یہ ہمارے لئے صوبہ نہیں ہے جیل خانہ ہے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ سولہ وزرا ہیں جنوبی پنجاب کے وفاق میں تو ابھی بھی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں-

    جس پر محمد علی درانی نے کہا کہ اسی لئے تو جنوبی پنجاب میں یہ حالات ہیں سیکرٹریٹ بنا کر اپ نے ایک زنجیر باندھ دی ہے جنوبی پنجاب کے آگے اس کو کوئی جنوبی پنجاب کا شہری نہیں پار کر سکتا صوبے کی ڈیمانڈ وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے صوبے کی ضرورت وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے ڈویلپمنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نان ڈویلپمینٹل بجٹ کم ہو-

  • Shame_On_BBC# پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ پر کیوں؟

    Shame_On_BBC# پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ پر کیوں؟

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو اپنی حالیہ رپورٹ میں موجودہ حکومت اور فوج کے بارے میں بیان دینے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے یہاں تک کہ #Shame_On_BBC پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں ان کی حکومت کے خلاف سلسلہ وار بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ، عمران خان پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے فوج کی حمایت یافتہ 2018 کے دھاندلی کے انتخابات میں اقتدار میں آئے۔

    بی بی سی نے لکھا کہ حکومتی دھمکی کے باوجود بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کیسوں کو روکنے کے لئے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کے باوجود ، مظاہرین نے شہر پشاور میں مظاہرہ کیا۔

    انسداد بدعنوانی کے پلیٹ فارم پر اقتدار میں آئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس مہم کا مقصد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چھوڑنے کے لئے اسے بلیک میل کرنا ہے۔

    پاکستان کی طاقتور فوج نے سیاست میں مداخلت کی تردید کی ہے اور مسٹر خان ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں جس سے ان کو جیت میں مدد ملی ہے جبکہ اگلے عام انتخابات 2023 تک ہونے والے نہیں ہیں۔

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) 16 اکتوبر سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے ممبران دائیں بازو کے مذہبی گروہ سے لے کر سینٹرسٹ اور بائیں بازو کے مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں کے علاوہ سیکولر قوم پرست بھی ہیں۔

    ملک کے چار صوبوں میں سے تین میں پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ اتوار کے روز صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم کا پہلا انعقاد ہوا۔

    بی بی سی نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ "غیرمتعلقہ” حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں ، جس پر انہوں نے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور معیشت کو بد انتظامی بنانے کا بھی الزام عائد کیا ہے پی ڈی ایم جدید اتحاد ہے جس کا مقصد پاکستان کی مستقل سول ملٹری تنازعہ میں "حقیقی” جمہوریت کی بحالی ہے۔

    لیکن اس بار ایک خاص بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عوامی سیاست میں واپسی ہے۔

    فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور اعلی فوجی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ان کے دو اعلی فوجی عہدیداروں سے براہ راست کامیابیاں ملک کی 73 سالہ تاریخ میں بے مثال ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی پریشانیوں کے ذمہ دار ہیں گوجرانوالہ ، کراچی اور کوئٹہ میں اب تک ریلیاں نکالی گئیں ، روڈ بلاکس اور حتی کہ حکام کی طرف سے کچھ گرفتاریوں جیسی رکاوٹوں کے باوجود۔

    بی بی سے نے لکھا کہ اسی طرح کے ایک واقعہ میں ، 19 اکتوبر کو کراچی کے جلسے کے بعد نواز شریف کے داماد صفدر اعوان کو صبح سویرے اپنے ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کیا گیا تھا اس اقدام سے چھاپے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد حکومت اور فوج دونوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ، جس میں سیکیورٹی اہلکار مسٹر اعوان کے کمرے میں گھس رہے تھے جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ سو رہے تھے۔

    بی بی سی نے مزید لکھا کہ جلد ہی یہ بات سامنے آئی کہ چھاپے سے گھنٹوں پہلے ، سندھ کے پولیس چیف ، جن میں سے کراچی دارالحکومت ہے ، کو ان کی رہائش گاہ سے لے کر ایک انٹیلیجنس سروس کے دفاتر میں لے جایا گیا اور مسٹر اعوان کی گرفتاری کے احکامات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔

    اس کے بعد ، سندھ پولیس کے پورے آفیسر کیڈر نے "احتجاج کی چھٹی” کے لئے درخواست دی ، جسے آرمی چیف نے پولیس چیف کے مبینہ اغوا سے متعلق اندرون خانہ تفتیش کا اعلان کرتے ہوئے ملتوی کردیا۔

    لیکن اگرچہ آرمی چیف نے کچھ آئی ایس آئی اور فوجی عہدیداروں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا ، لیکن ان کے خلاف ابھی تک کوئی قابل عمل کارروائی نہیں کی گئی ہےحکام نے میڈیا پر دباؤ بھی ڈالا ہے کہ وہ جلسوں میں ہونے والی کچھ تقاریر کو سنسر کریں۔

    براہ راست کوریج کے دوران ، ٹیلیویژن چینلز اسٹوڈیوز کو ہمیشہ کاٹ دیتے ہیں جب مسٹر شریف اپنے ویڈیو لنک ایڈریس کا آغاز لندن سے کرتے ہیں ، یا جب محسن داور جیسے قوم پرست رہنما روسٹرم پر جاتے ہیں۔

    یہ رہنما فوج پر بھڑاس ڈال رہے ہیں اور اس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ لاپتہ ہونا ، انسانی حقوق کی پامالی اور خان حکومت پر پردے کے پیچھے سے کنٹرول ہے۔

    عمران خان اور ان کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا کیونکہ وہ مسٹر شریف کی مسلم لیگ (ن) پارٹی اور سابق صدر آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کی زیر اقتدار پچھلی حکومتوں کے تحت "بڑے پیمانے پر بدعنوانی” سے منسلک تھے۔

    لیکن آزاد مبصرین کے لئے ، 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا سب سے فاصلہ تھا۔ انتخابات سے قبل سروے میں مسلم لیگ (ن) کے لئے واضح اکثریت کی پیش گوئی کی گئی تھی ، لیکن عمران خان کی تحریک انصاف ایک تھوڑے سےفرق سے جیت گئی۔

    انتخابات سے قبل ، نواز شریف کو سزا سنائی گئی جبکہ وزیر اعظم نے قانونی برادری کو وسیع پیمانے پر قابل اعتراض قرار دینے کی وجہ سے انھیں جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ بعدازاں انہیں طبی علاج کے لئے برطانیہ جانے کی اجازت دی گئی-

    بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ انتخابات کے دن ہی ، قومی نتائج کی خدمت مشکوک طور پر کریش ہوئی ، جس نے ہر حلقے سے براہ راست ووٹوں کی گنتی کی منتقلی کی امید ختم کردی۔ بہت سارے پولنگ ایجنٹوں نے الزام لگایا کہ حتمی نتائج میں دکھائے جانے والے اعداد و شمار جسمانی ووٹوں کی گنتی کے بعد ان سے مختلف تھے چنانچہ عمران خان کی حکومت نے مشتبہ جواز کے ساتھ آغاز کیا۔

    اس کے بعد سے ہی ریاستی ایجنسیوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عروج پر ہیں ، میڈیا سنسرشپ مزید خراب ہوچکا ہے اور جو صحافی فوج کو منفی روشنی میں رنگ دیتے ہیں انھیں خطرات یا یہاں تک کہ اغوا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال کراچی کے صحافی کی ہے جس نے مسٹر اعوان کے ہوٹل کے کمرے میں چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور شیئر کیا۔

    کوئی بھی اس بات کا یقین نہیں کرسکتا ہے کہ موجودہ بغاوت کہاں لے جائے گی لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ لڑائی سیاستدانوں اور فوج کے مابین ہے ، وزیر اعظم عمران خان کو ان کے مخالفین نے اس کے بعد کی باتوں کے طور پر دیکھا۔

    اپوزیشن کے جلسوں نے نہ صرف اس کی حکومت کے جواز پر سوالیہ نشان لگایا ہے ، بلکہ اس ملک میں سول ملٹری تناؤ اور بغاوت کی تاریخ والے ملک میں فوج کے سربراہوں اور آئی ایس آئی کو بھی براہ راست چیلنج پیش کیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق آخری عوامی بغاوت 2008 میں ہوئی تھی ، جب جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا اور آئین بحال ہوا تھا۔اس کے بعد سے ، اس ملک نے دیکھا ہے کہ تجزیہ کار ایک رینگتی ہوئی بغاوت کے طور پر بیان کرتے ہیں ، جو 2018 میں "ہائبرڈ ملٹری حکومت” میں تبدیل ہو گیا۔

    بی بی سی نے رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستانی فوج کی ماہر عائشہ صدیقہ کا خیال ہے کہ حزب اختلاف کے حالیہ حملے کی وجہ سے ، فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کمزور نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ، لیکن خود فوج نہیں ان کا کہنا ہے کہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے ، اپوزیشن اتحاد کے ممبروں کو "بنیادی مہارت تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جو ایک سول سول ملٹری بات چیت اور ایک ممکنہ اقدام کو ممکن بنائے گی”۔

    اس کے علاوہ ، ان کا کہنا ہے کہ ، انھیں "انتخابات جیتنے سے بالاتر معاشرتی اور معاشی اور معاشی تعلقات کی بحالی کے لئے راضی ہونا پڑے گا”۔

    آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ ظاہر ہوجائے گا کہ آیا اپوزیشن کا نیا اتحاد اس سے کہیں زیادہ حاصل کرسکتا ہے۔

    اس رپورٹ کے بعد سے فوج اور پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے غم و غصے کا اظہار کیا اور #Shame_On_BBC ٹرینڈ میں بی بی سی سے معافی مانگنے اور پاکستان میں بی بی سی نیوز کو بین کرنے کا مطالبہ کیا-


    https://twitter.com/sekbsolutions/status/1330833477491634178?s=20
    قاسم خان سوری نے لکھا کہ پیلے رنگ کی صحافت غیر قانونی ہونی چاہئے۔ وہ بے گناہ لوگوں کی زندگیوں پر حملہ کرتے ہیں اور نفع کے لئے برائی کو محفوظ رکھنے کے مقصد سے غیر مستحکم حالات پیدا کرتے ہیں۔ انہیں کچھ بھی نہیں مل سکتا ہے اور وہ تعمیر کرتے ہیں۔ –
    پیارے بی بی سی آپ نے دنیا میں اپنی ساکھ کھو دی-


    https://twitter.com/MalikArshmaan1/status/1330820706678890496?s=20


    https://twitter.com/oranxaib/status/1330819855616978945?s=20
    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی بی بی سی کے بیانیے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا-


    https://twitter.com/Masood78613/status/1330819387692081155?s=20


    https://twitter.com/mattraba/status/1330818771225862144?s=20
    جہاں صارفین نے بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بجایا وہیں کچھ لوگوں نے بی بی سی کی حمات بھی کی-
    https://twitter.com/The_Najeeb/status/1330833321019006977?s=20

  • اپوزیشن کا روڈ میپ ۔ تحریر:عدنان عادل

    اپوزیشن کا روڈ میپ ۔ تحریر:عدنان عادل

    اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ن لیگ کی ییشین گوئی ہے کہ دسمبر میں حکومت کی چھٹی ہوجائے گی۔ پیپلزپارٹی جنوری کی تاریخ دے رہی ہے۔ اب تو مسلم لیگ (ن) کی عملی طور پر سربراہ مریم نواز نے فوجی قیادت سے مطالبہ بھی کردیا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت رخصت کرے تو ان سے بات چیت ہوسکتی ہے۔یہ وہی کھیل ہے جو انیس سو نوّے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹوایک دوسرے کے خلاف کھیلتے تھے۔ دونوں نے دو باروفاق میں حکومت بنائی اور دونوں بار ایک دوسرے کی حکومت گرانے میں اسٹیبلشمینٹ کا ساتھ دیا۔ہماری سیاسی جماعتیں حکومت سے باہر بیٹھنا گوارا نہیں کرتیں۔ ہر حال میںاقتدار میں آنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کی سیاست کا سفر گول دائرہ کا سفر ہے ۔

    پاکستان میں جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں شکست خوردہ سیاسی پارٹی دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ پہلے دن سے ہارنے والی جماعت جیتنے والی پارٹی سے اقتدار چھوڑنے یا وسط مدتی الیکشن کرانے کا مطالبہ شروع کردیتی ہے۔یہ ہماری قومی سیاست کا مستقل وصف ہے۔ عمران خان جب اپوزیشن میںتھے تو انہوں نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ ایک کے بعد دوسرا دھرنا دیتے رہے۔ حالانکہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن میںکوئی منظم دھاندلی کے شواہد نہیں تھے۔ اسی طرح دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے نتائج بھی توقع کے عین مطابق تھے۔ وسطی پنجاب یعنی لاہور فیصل آباد اور لاہور ڈویژنز میں ن لیگ کا زور تھا۔ یہاں اس نے بہت زیادہ ترقیاتی کام کروائے تھے ۔اس علاقہ میں ن لیگ کے امیدوارہی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ ن لیگ نے جنوبی پنجاب کو اپنے دور حکومت میں نظر انداز کیا تھا ۔ وہاں سے اسے شکست ہوئی۔ پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک اندرون سندھ میں مضبوط تھا۔ اسے وہاں کامیابی مل گئی جس کے بل پر اس نے سندھ کی صوبائی حکومت بنا لی۔لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی پختگی نہیں آسکی کہ وہ الیکشن نتائج کو تسلیم کرلیں اور کامیاب ہونے والی جماعت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیں۔ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں دھاندلی کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔عمران خان کی حکومت آئین اور قانون کے تحت عام انتخابات کے نتیجہ میں وجود میں آئی۔ بلاول زرداری آج اس حکومت کو ناجائز اور سلیکٹڈ کہتے ہیں۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے شروع دنوں کے اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان قدم بڑھاو¿ ‘ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

    ایک منتخب حکومت کو گرانے کا ایک طریقہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لا ئی جائے۔ عمران خان کی پارٹی کو اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل نہیں۔ انکی حکومت ایم کیوایم ‘ ق لیگ اور چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے سہارے قائم ہے۔ اگر یہ پارٹیاں انکا ساتھ چھوڑ دیں تو عمران خان وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔ سوا دو برس گزر گئے اپوزیشن جماعتیں ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد تو نہیں لاسکیں حالانکہ حکومت کی ایک اتحادی جماعت بی این پی مینگل اس سے الگ ہوچکی ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت مسلم لیگ ( ق) وزیراعظم سے خوش نظر نہیں آتی لیکن وہ بھی حکومت گرانے کو تیار نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت کوشریف خاندان پر قطعاً بھروسہ نہیں۔ اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد لا کر وزیراعظم عمران خان کی چھٹی کراسکیں۔

    اپوزیشن کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ زوردار ایجی ٹیشن کرے۔ عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آجائیں۔ پورے ملک میں تاجر طویل ہڑتال کردیں۔ پورے ملک میں پہیّہ جام ہوجائے۔ یہ ایجی ٹیشن کئی ہفتے جاری رہے۔ حکومت مفلوج ہوجائے اور وزیراعظم خود سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں یا ریاستی ادارے ان سے مطالبہ کردیں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں حکومت چھوڑ دیں۔ اس بات کا بھی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اپوزیشن جماعتیں اتنی مقبول نہیں کہ عوام انکی خاطر ایسا زبردست احتجاج کریں۔عمران خان کو ہٹانے کا تیسرا راستہ غیر آئینی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں زبردستی اقتدار سے الگ کرکے اقتدار سنبھال لیں۔ مارشل لا ءیا نیم مارشل لا لگادیں جیسا جنرل ضیاالحق یا جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ملک میں عدلیہ اور میڈیا جتنے طاقتور ہوچکے ہیں عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ غیرآئینی طریقہ سے حکومت کو رخصت کیا جاسکے۔ یوں بھی جس ملک کی آبادی بہت زیادہ ہو جیسا کہ بائیس کروڑ کا پاکستان اس پر آمرانہ طور سے حکومت کرنا کسی ریاستی ادارہ کے بس کی بات نہیں۔ کوئی ریاستی ادارہ خواہ کتنا طاقتور ہو سویلین حمایت اور مقبول سیاسی جماعت کی شراکت کے بغیر ملک پر حکومت نہیں کرسکتا۔ن لیگ کی کوشش ہے کہ الزام تراشی کرکے فوجی قیادت کو مشتعل کیا جائے تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے۔ اب تک قومی سلامتی کے ادارہ نے تنقید اور الزام تراشی پر بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی بہترین حکمت عملی ہے۔

    ان حالات میں اپوزیشن کے پاس ایک آخری راستہ بچتا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے ڈالے ۔ اس سے ایک بڑا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ کم سے کم پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے تون لیگ سے تعلق رکھنے والے تقریبا چالیس پینتالیس فیصد ارکان اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے ۔ ان حالات میں پنجاب اسمبلی کے نئے الیکشن کروانا پڑیں گے۔ مشکل قومی اسمبلی کی ہے جہاں پیپلزپارٹی استعفے دینے کے حق میں نہیں۔ پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمینٹ سے فاصلے کم ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو ریاستی اداروں نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں انتخابی مہم چلانے میں مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اسمبلیاں توڑ کر سندھ میں اپنی حکومت کھونے کا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتی۔ن لیگ کے پاس یہی آپشن بچتا ہے کہ وہ اور اسکی قریب ترین اتحادی جمعیت العلمائے اسلام کے ارکان قومی اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں۔اس عمل سے سیاسی بحران پیدا ہوگا لیکن اگرحکومت نے اپنے اعصاب مضبوط رکھے تو وہ ان کی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کرواسکتی ہے جس سے ن لیگ کی قومی اسمبلی میں پوزیشن مزید کمزور ہوسکتی ہے۔نواز شریف نے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ اختیار کرکے ایک جواءکھیلا ہے۔ نواز شریف کی پالیسی بلیک میلنگ کی ہے۔ اگر ریاستی ادارے انکا دباو برداشت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ن لیگ کو بہت نقصان ہوگا۔ اس صورتحال کا بڑا فائدہ فی الحال تو وزیراعظم عمران خان کو ہوگا لیکن آنے والے دنوں میں بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہوگا۔
    ختم شد

  • سوشل میڈیا پر مریم نواز کے حلیمہ سلطان والی لُک کے چرچے

    سوشل میڈیا پر مریم نواز کے حلیمہ سلطان والی لُک کے چرچے

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کی گلگت جلسے کے دوران لی گئیں تصاویر سوشل میڈی اپر وائرل ہو رہی ہیں جن میں مریم نواز دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والے ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے مرکزی کردار حلیمہ سلطان جسیے روپ میں دکھائی دے رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کبھی بھی اپنے فیشن سینس سے متاثر کرنے اور حیران کرنے میں ناکام نہیں ہوتیں چاہے عدالت میں پیش ہوں یا کسی عوامی جلسے میں خطاب کے لئے جائیں ان کے فیشن کا انتخاب بہترین اور بعض اوقات سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے ان کی ڈریسنگ کے انتخاب پر جہاں ناقدین تنقید کرتے ہیں وہیں ان کے چاہنے والے تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں

    تاہم س بار مریم نواز کے نئے روپ نے مداحوں کے دل جیت لئے ہیں جہاں وہ بدھ کے روز گلگت بلتستان میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دیکھی جاسکتی ہیں اور ان کا یہ روپ ایسرا بلجک یعنی حلیمہ سلطان کی کاپی لگ رہا ہے-

    سوشل میڈیا چینلز پر مریم کی تصویر اور ویڈیو وائرل ہوگئی ہے اور مداحوں کی جانب سے مریم نواز کی اس لُک کی تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ مریم نواز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی مداحوں کی جانب سے تعریف و تحسین کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

  • مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں  از قلم غنی محمود قصوری

    مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں از قلم غنی محمود قصوری

    مہنگائی،بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں

    از قلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت سنت بھی ہے اور ایمان کا حصہ بھی بلکہ یہ تو تمام انبیاء کی سنت ہے ہر زمانے میں انبیاء و رسول اپنے وطن کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے اور بعض وطن کے دفاع کے لئے جنگ بھی لڑتے رہے
    وطن و دیس تبھی ترقی کرتے ہیں جب وہاں سکون ہو مکہ میں میرے نبی کریم کو کفار نے ایذا دی سو آپ نے اپنے وطن کے امن و سکون اور محبت کی خاطر مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور آخر اپنے وطن مکہ کو جہاد فی سبیل اللہ، جدوجہد اور قربانیوں سے امن کا گہوارہ بنا دیا
    اگر وطن سے محبت اور وطن کے امن و امان کی فکر نا ہوتی تو میرے نبی آخر الزماں کبھی واپس مکہ نا جاتے کیونکہ وہاں ان کو بے شمار غم و دکھ دیئے گئے تھے
    وطن سے محبت کی مثال قرآن نے موسی علیہ السلام کی طرف سے یو بیان کی ہے
    اے میری قوم ( ملک شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے سورہ المائدہ آیت 21
    گو کہ قرآن امت محمدیہ کیلئے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا مگر اس میں اللہ تعالی نے پچھلی قوموں کی بھی مثالیں ہمارے لئے رکھی ہیں
    اس آیت میں اللہ رب العزت موسی علیہ السلام کو فرما رہے ہیں کہ اے موسی ایک ظالم جابر اور ناجائز قابض خود کو رب کہلوانے والے فرعون کا مقابلہ کرنا اور پشت پھیر کر نا بھاگنا اگر ایسا کرو گے تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے سوچنے کی بات ہے اگر نبی موسٰی علیہ السلام کو صرف دنیا میں رہنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کی اتنی بڑی زمین تھی اگر فرعون یہاں رہنے سے روکتا تھا تو وہ کہیں اور جا کر رہ لیتے وہ زمین چھوڑ دیتے مگر اللہ نے حکم دیا کہ موسی اپنے مقبوضہ ملک کو اس جعلی رب سے مقابلہ کر کے چھڑوا سو کوشش تو کر نتیجہ میں دونگا سو موسی علیہ السلام نے حکم ربی کے مطابق مقابلہ کیا اور اللہ نے فرعون کو غرق کر دیا
    پیارے اور محبوب نبی جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وطن کی محبت کی خاطر اللہ ربا العزت یوں ہم کلام ہیں
    اے نبی آپ فرما دیجئے اگر تمہارے باپ اور بیٹے،بیٹیاں اور تمہارے بھائی، بہنیں اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دیگر رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو ،اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہارے نزدیک اللہ اور رسول اور اس راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔۔ سورہ التوبہ آیت 24
    چونکہ نبی کریم اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اس لئے اللہ نے نبی سے کہا کہ اے نبی اپنے اصحاب اور آنے والی امت کو کہہ دو کہ تمہاری اولادیں ،جانیں ،کاروبار ماں باپ اور تجارت اگر تمہیں اللہ کی راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہو جائیں تو پھر اللہ کے عذاب کا انتظار کرنا وہ عذاب دنیا میں تمہاری پشتی و غلامی اور کئی قسم کی صورتوں میں ہو گا کیونکہ اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں عطا کرتا
    اب سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط اور مقدس رشتے ہوتے ہوئے ان سے پہلے جہاد کو کیوں قرار دیا؟
    تو اس کا مطلب یہ ہوا اللہ تعالی نے دفاع وطن کو رشتہ داریوں سے بھی زیادہ لازم قرار دے دیا تاکہ کوئی وطن پر ناجائز قابض ہو جائے تو پھر رشتہ داریوں کی بجائے جہاد فرض ہوجاتا ہے تاکہ دفاع وطن کرکے رشتہ داروں اور معاشرے کیلئے امن و سکون لایا جائے اور یہی وطن سے محبت کی ایک عمدہ دلیل بھی ہے
    واضع رہے جہاد کفار کیساتھ اس وقت لڑنے کا نام ہے جب وہ حدود اللہ و حدود العباد پر حملہ کریں اس کے علاوہ کافروں کو بھی اللہ اور اس کے رسول نے امن و سکون سے رہنے کا درس دیا ہے اس کے برعکس اپنوں پر سو طرح کے بہانے گڑھ کر گولی چلانا ان کا قتل عام کرنا خود کش جیکٹس مسجدوں مدرسوں بازاروں میں پھاڑ کر مسلمانوں کو شہید کرنا جہاد نہیں بلکہ فساد یعنی خارجیت ہے اور اس خارجیت کی قرآن وحدیث میں سخت وعید کی گئی ہے ویسے تو ان دہشت گرد خارجیوں کی نشانیاں اتنی ہیں کہ اگر میں لکھنا شروع کر دو تو ایک پورا موضوع انہی پر لکھا جا سکتا ہے سو مختصراً ایک حدیث لکھتا ہوں
    بے شک ان کی پشت سے ایسی قوم نکلے گی جو قرآن یوں پڑھیں گے کہ وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ،وہ مسلمانوں کو قتل کرینگے جبکہ اہل اوثان کو چھوڑ دینگے وہ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکل کر شکار کے آر پار ہو جاتا ہے اگر میں انہیں پاؤ تو ضرور قوم عاد کی طرح انہیں قتل کرونگا
    یہ حدیث پہلے خارجی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا، ذوالخویصرہ التمیمی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور آگے مذید کہا گیا ہے کہ یہ لوگ قیامت تک نکلتے رہینگے اور دجال کا ساتھ دینگے جبکہ خود کو مسلمان کہینگے دوسرے مسلمانوں کو کافر مرتد کہہ کر قتل کرینگے اور زمین میں فساد برپاء کرینگے
    اس حدیث میں وضع کیا گیا یہ کہ یہ خارجی فسادی لوگ مسلمانوں کو تو حیلوں بہانوں سے قتل کرینگے مگر اوثان یعنی غیر مسلمانوں کو کچھ نا کہینگے اور یہ قرآن تو بڑے خوبصورت انداز سے پڑھینگے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی وہ خود اس قرآن کو ایسے پڑھینگے کہ ان کو بھی سمجھ نا ہو گی کہ یہ قرآن کیا فرما رہا ہے اور جو کچھ قرآن فرما رہا ہے خود اسی کا الٹ کرینگے یعنی قرآن صرف دکھلاوے کے لئے ہی پڑھینگے گے
    یہاں یہ وضاحت کرتا چلو کہ بہت سے ایسے اور لوگ بھی ہونگے جن میں ان خارجیوں والی ایک آدھ نشانی پائی جاتی ہو گی مگر وہ قطعاً خارجی نا ہونگے جب تک کہ کسی مسلمان کو قتل نا کریں اور کفر و ارتداد کے فتویٰ لگا کر ملک کا امن و امان برباد نا کر دیں جیسا کہ پیشہ ور قاتل ڈاکو بھی فساد کرتے ہیں مگر وہ شرع کا نعرہ لگا کر نہیں اپنی ذاتی آسائشوں کی خاطر فساد کرتے ہیں شاید ان کو اللہ معاف کر دے اگر نا بھی کرے تو ایسے لوگ جہنم کی سزا کاٹ کر جنت میں جائینگے اگر شرک و خارجیت کے مرتکب نا ہوئے تو کیونکہ شرک و خارجیت ایسے گناہ کبیرہ ہیں جن کی بدولت اسی پر قائم رہتے ہوئے بندہ مر گیا تو ٹھکانہ ہمیشگی جہنم ہی ہو گا یہ رب کا کھلا فرمان ہے ہاں اگر مرنے سے قبل توبہ کرکے اس توبہ پر قائم رہیں تو پھر اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
    قصہ مختصر ان خارجیوں ،دہشت گرد فسادیوں کی اولین پہچان مسلمانوں کیساتھ قتال اور کفار کیساتھ پیار ہے جیسا کہ آپ دیکھ لیں کہ پاکستان میں شریعت محمدی کے نفاذ کا خوشنما نعرہ لگا کر انہوں نے مسلمانوں کو مسجدوں،بازاروں اور بچوں تک کو سکولوں،مدرسوں میں شہید کیا اور مسلمانوں کی
    عزت مآب عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبری نکاح کیا خود ہی انہوں نے نعرہ شریعت کا لگایا اور امداد بھی انڈین را سے لی خود ہی کفار کی چیزوں سے اعلان برأت کیا اور جب بھی کسی پاکستانی و غیر ملکی کو اغواء کیا تو مطالبہ بھی کفار کے ڈالروں کا ہی کیا یہی باتیں ان کے قرآن پڑھنے اور حلق سے نیچے نا اترنے کی مضبوط ترین دلیل ہیں
    آج انہی دہشت گردوں کی بدولت پاکستانیوں کو ہزاروں فوجی جوانوں و عام پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیاں دینا پڑیں اور یہ سلسلہ ایک بار پھر سے چل پڑا ہے گزشتہ ادوار میں الحمدللہ پاکستانی فوج نے اپنی عوام سے ملک کر ان کا قلع قمع کر دیا تھا مگر اب پھر یہ لوگ سر اٹھانے لگ گئے ہیں جس کی واضع مثال حالیہ پشاور مدرسہ میں دھماکہ اور ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز پر حملے ہیں
    آخر سوچنے کی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ بار بار سر اٹھاتے ہیں اور پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیتے ہیں
    بیشک یہ لوگ خارجی ہیں اور پکے جہنمی ہیں مگر آخر وجہ کیا ہے کہ یہ خارجیت اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے اس کے لئے میں آپ کو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں جو میں نے مینگورہ سوات ،دیر اور وزیرستان کے لوگوں سے حاصل کیا ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اس سول گورنمنٹی نظام کے ستائے ہوئے تھے سارا سارا دن محنت کرکے بھی بچوں کا پیٹ نا پال سکتے تھے تھانے کچہری میں ایم پی اے،ایم این اے و افسران جاگیردارن کے بندوں کی اجارہ داری تھی اور تو اور ہسپتال سے دوائی لینے جاتے سارا دن لائن میں لگے رہتے اور جب ہماری بھاری آتی تو کوئی شفارشی چند منٹ میں اپنا کام کروا کر ہماری آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر چلتا بنتا کاروبار تباہ تھے پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیسیں ہمارے کئی دنوں کی محنت سے بھی زیادہ تھیں بنیادی سہولیات ہم سے کوسوں دور تھیں امن و امان برباد ہو چکا تھا لوگوں کی جان و مال محفوظ نا تھا جس کا دل کرتا طاقت کے بل بوتے پر مال و جان کے ساتھ عزت پر ہاتھ ڈال لیتا اور تھانے کچہری میں شنوائی بھی نا ہوتی تھی
    سو ہم اس ناانصافی کے مارے ان خارجی جماعتوں کے آلہ کار بننے پر مجبور ہو گئے
    قارئین یہاں میں آپ کو بتاؤں کہ سب سے پہلے دشمن نے چھوٹے موٹے چور ڈاکوؤں کو خرید کر دہشت کی فضاء قائم کرکے سیاحت کو ختم کیا اور سیاحت کے ختم ہوتے ہی ان کا روزگار بھی چھن گیا لوگ چاہتے ہوئے بھی دو وقت کی روٹی نا حاصل کر سکتے تھے
    مذید دشمن نے لوگوں میں ان کے ساتھ ہوتی ناانصافیوں کو ہائی لائٹ کیا ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ زنی پر انہیں جھنجھوڑا سندھی کو پنجابی ،پختون،بلوچی کے خلاف اور ان سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا ایک فرقے کو دوسرے ،دوسرے کو تیسرے اور پھر سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا
    صوبوں کو ایک دوسرے کے حق مارنے کا واویلا کیا گیا اور ان کے باسیوں کو بتلایا کہ اگر حق نا ملے تو حق لینے کیلئے لڑنا جہاد ہے اس سے جنت ملے گی تمہاری حکومت ہو گی تم شرع اللہ نافذ کرکے جنت پاؤ گے لہذہ سندھیوں تم بھی سندھو دیش کا نعرہ لگاؤ بلوچیوں تم پاکستانی فوج کا بلوچستان سے انخلاء مانگو پختونوں تمہاری سیاحت کا پیسہ گورنمنٹ کھا رہی ہے تم سب اٹھو لڑو ان سے
    قارئین دشمن نے بڑے عرصے سے پاکستان کے خلاف محاذ کھولا ہوا تھا جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے کامیابی سے بنگلہ دیش میں کیا بھی تھا اور کامیاب بھی رہے تھے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اب کھلے عام پمفلٹ شائع کروائے کہ تھر میں پانی نہیں لوگ و جانور ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں پنجاب کی فصل ہوتی ہے بلوچی سندھی پٹھان کھا جاتے ہیں وڈیرے تمہیں غلام بنا کر رکھتے ہیں تمہیں بنادی سہولیات میسر نہیں تمہارے لیڈران بیرون ملک مہنگے سفر کرتے ہیں تمہاری فوج قوم کا اسی فیصد کھا جاتی ہے فوجی عیاشیاں کرتے ہیں جو کہ تمہارے ٹیکس کی بدولت ہیں وغیرہ وغیرہ
    چند نا پختہ کچ ذہن لوگوں کو اپنے پے رول پر کر لیا جنہوں نے اپنے سے ہوئی زیادتیوں کی بنیاد پر ان غریب غرباء اور کچھ صاحب حیثیت مگر ذاتی انتقام کے مارے لوگوں کو ورغلا کر آتش و خون کا بازار گرم کر دیا جس کا سارا خمیازہ پاکستانی قوم و فوج کو بھگتنا پڑا پاکستانی فوج کے افسران و جوان شہید ہوئے جبکہ عوام پاکستان کی املاک و جان کا نقصان ہوا
    اگر دیکھا جائے تو ان ساری وجوہات کی وجہ غربت حد سے زیادہ مہنگائی انصاف کا نا ملنا سیاستدانوں کا اپنے ذاتی کارکنوں کو ڈنڈے کے زور پر سہولیات لے کر دینا اور دوسروں کو حق سے محروم رکھنا اور سیاستدانوں کی طرف سے دشمن کی زبان سرعام بولنا ہے
    اگر سابقہ گورنمنٹس اس ملک پاکستان سے مخلص ہوتیں اور موجودہ بھی مخلص ہوتی تو یہ لوگ اسلام آباد میں اپنے اے سی لگے کمرے میں بیٹھ کر تھر کے بچے کی خوراک کی کمی پر محض بات نا کرتے بلکہ اس بچے کو غذا اور صاف پانی فراہم کرتے یہ لوگ خود ہیلی کاپٹروں جہازوں میں اندرون ملک سفر کی بجائے بغیر پروٹوکول سفر کرتے تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ یہ شاہراہیں پر امن ہیں
    یہ لوگ جنسی زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی کے عوامی فیصلے پر قانون سازی کرکے ان کو لٹکاتے تاکہ امن و امان کے ساتھ عزتیں محفوظ رہتیں اگر ان کو پاکستان سے پیار ہوتا ان کی اپنی اولادیں بیرون ملک پڑھنے کی بجائے پاکستان کی یورنیورسٹی کالجز میں پڑھتیں تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ اگر لیڈران کے بچے یہاں پر پڑھتے ہیں تو ہم بھی اس ملک کے باسی ادھر پڑھینگے
    یہ بیرون ملک علاج کروانے کی بجائے میڈیکل کی تعلیم سستی کرتے تاکہ ہر پاکستانی کو ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر میسر ہوتا
    یہ اپنی تنخواہیں کم ہونے کا رونا نا روتے جہاں مزدور چھ سو روپیہ یومیہ کمائے وہاں ایک ایم پی اے لاکھوں ماہانہ لے تو نفرت بڑھتی ہے
    یقین کیجئے خارجی دہشت گرد جہنم کے کتے ہیں شک کی بات نہیں مگر ہمارے یہ افسران اور سیاستدان بھی اس خارجیت کو پروان چڑھانے کے ذمہ دار ہیں یہ ان لوگوں کو ان کا حق دیتے مہنگائی کو قابو کرتے بے انصافی لاقانونیت کو روکتے تو یہ دن نا دیکھنے پڑتے دوسری طرف وہ خارجی مسلح لوگ وڈیروں کی غلامی سے نکل کر دشمن کافر کی غلامی میں چلے گئے جن کو یہ احساس نا ہوا کہ ہم تو اپنے ہی مسلمانوں کی چھوٹی موٹی کمیوں کوتاہیوں کا شکار ہوئے ہیں جس کے بدلے اللہ جنت دے گا اور ان بے انصافوں سے حساب لے گا
    مگر وہ دشمن کے ایجنٹ بنکر اپنی فوج و عوام پر گولی و خودکش جیکٹ پھاڑ کر جہنم کے حقدار ٹھہرے
    الحمدللہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا سیاستدانوں کے چھوڑے منصوبے اب فوج خود اسی وزیرستان سوات میں پایہ تکمیل کر رہی ہے جس سے مرجھائے چہروں پر رونق آ رہی ہے تھر کے اندر کچھ محب وطن لوگ اور فوج کنویں کھود رہی ہے جس سے ان بیچاروں کو صاف پانی ملنا شروع ہوا تو ان کے اندر کا باغی کمزور ہو کر وطن کا رکھوالا بن گیا الحمدللہ بہت سے دہشت گرد خارجی اس ہمدردی سے متاثر ہو کر اس ملک پاکستان کے بازوں بن گئے ہیں
    کاش یہ حکمران بھی اپنا پیٹ بھرنے کی بجائے حقداروں کو ان کا حق دین تاکہ قائد اعظم کا پاکستان لاالہ الااللہ کی بنیاد پروان چڑھے
    اسلام زندہ باد
    پاکستان زندہ باد
    افواج پاکستان زندہ باد