Baaghi TV

Category: سیاست

  • مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    جو لوگ آج یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مصطفیٰ کمال واپس ایم کیو ایم میں چلے جائیں گے آئے ان پر تھوڑی نظر اس پر ڈالی جائے

    چھ سال پہلے وہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ 2 لوگ آتو گئے ہیں لیکن یہ خیابان سحر سے باہر نہیں آسکتے

    آج اَلْحَمْدُلِلّٰه رب نے خیابان سحر کے گھر سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلا دیا آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں، وہاں پاک سرزمین پارٹی بھی موجود ہے

    2018 کے الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ بھی افواہ پھیلائی کہ مصطفیٰ کمال پارٹی ختم کرکے دبئی واپس چلیں جائیں گے اور پھر وقت نے ثابت کردیا

    حالیہ طوفانی بارشوں میں پی ایس پی فاؤنڈیشن کے تحت پاک سرزمین کارکنان کی انتھک محنت نے پورے کراچی میں یہ بات ثابت کردی کہ آج اللّه تعالی نے پاک سرزمین پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا ہے

    انشاء اللّه حسد کرنے والے کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ظالموں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں

    بیشک جھوٹوں پر اللّه کی لعنت ہوتی ہے

  • فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
    عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
    اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

    ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
    پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

    جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا

  • میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو ۔
    پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دم ہو

    میں ایک پاکستانی ہوں میرا وطن پاکستان ہے ہر انسان کی طرح مجھے میرے وطن سے بے حد محبت ہے مجھے بھی میرے وطن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں میں آپ سب سے اپنے وطن کے بارے میں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو میرے وطن کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو میرے ملک کے ہر کونے میں تعلیم کی سہولت موجود ہو علم میرے وطن کے بچوں کی طاقت بنے یہاں کا ہر فرد علم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہو جیسا کہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے”

    میں چاہتا ہوں میرا وطن صحت کی سہولیات دینے میں سب سے آگے ہو میرے وطن میں دی جانے والی سہولیات دنیا میں کہیں بھی نہ ہوں یہاں کے ہسپتال دنیا میں بہترین ہوں یہاں مریض ہسپتال میں ڈاکٹر کو مسیحا سمجھیں یہاں ڈاکٹر خود کو خدا نہیں خدمت گزار سمجھے یہاں کے ہسپتال میں داخل مریض خود کو محفوظ سمجھے

    میں چاہتا ہوں کہ میرا وطن کھیل کے میدان میں فاتح بنے جس طرح ماضی میں ہم نے کارنامے سر انجام دیے وہی کارنامے دوبارہ سر انجام دیں جس طرح عمران خان کی قیادت میں ہم نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا بلکل اسی طرح ہم دوبارہ فاتح قرار پائیں اسی طرح اسکواش کے میدان میں جہانگیر خان کی طرح کامیابیوں کو اپنے وطن کی عزت بنائیں سب سے زیادہ خوشی کی بات تو تب ہے جب ہم اپنے قومی کھیل ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن سب سے بڑی معاشی طاقت بنے دنیا بھر سے لوگ یہاں ملازمت کرنے آئیں میرے وطن کے لوگوں کو ملازمت کے لئے باہر نہ جانا پڑے میرا وطن سب کی امید ہو میرے وطن کی معاشی اعتبار سے دنیا میں ایک الگ ٹھاٹ باٹ ہو میرا وطن عظیم معاشی طاقت بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا وطن ہو جہاں غریب اور امیر نہیں بلکہ انسان ہوں جہاں عزت کا پیمانہ دولت نہیں انسانیت ہو جس انسان میں انسانیت ہو وہی عزت دار ہو میں چاہتا ہوں میرے وطن میں غریب اور امیر میں کوئی فرق نہ ہو غریب بھی اسی طرح جیے جس طرح امیر

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی مملکت بنے جس طرح ہم نے اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا ویسے ہی یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں میں چاہتا ہوں میرے وطن میں ہر کام اسلام کے مطابق ہو

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی دنیا کا سربراہ بنے اسلامی ممالک پاکستان کے جھنڈے تلے یکجا ہوں اسلام ایک طاقت بنے جس کا محور پاکستان ہو میرے وطن کو اسلامی دنیا میں وہ مقام حاصل ہو جو بھائیوں میں بڑے بھائی کا ہوتا ہے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن امن کا گہوارہ بنے جس طرح ہماری افواج نے دہشتگردوں کا سر کچلا اسی طرح آگے بھی کچلتی رہیں یہاں پر صدا امن رہے یہ دھرتی امن کی دھرتی بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن وہ سلطنت بنے جہاں سب بھائی بھائی ہوں کہ جہاں ہر کوئی اپنا فرض دوسرے کا حق سمجھ کر ادا کرے میرے ملک میں کوئی کسی کا حق نہ مارے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا ہو جہاں سیاست خدمت کا نام ہو جہاں سیاست کرپشن سے پاک ہو جہاں سیاستدان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں

    اپنے خواب کا اختتام کرتے ہوئے کہوں گا میرا وطن ایسا ہو جیسا اقبال کا خواب اور جناح کی محنت تھی

  • وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    میری تحریر کا ایک ایک لفظ میرے دل کی اواز ہے اور جو لیکھ رہا ہوں اس پر توجہ ضرور کریں۔
    عمران خان , کارکنان اور وزیر, مشیر
    یہ تین الاگ الاگ چیزیں ہیں ایک عمران خان ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس کے کارکنان اس کی طاقت ضرور ہیں لیکن یہ وزیر مشیر عمران خان کی 25 سال کی محنت کو پانی پانی کرنے کے در پر ہیں۔ کیوں کہ ٹھنڈی گاڑی ٹھنڈا کمرا اور پروٹوکول جو مل رہا ہے تو عوام جائے جہنم میں اور عمران خان کا کیا ہے اس کی جدوجہد اور نام بھی جائے جہنم میں ہم تو ارام کرنے اہیں ہیں اور وقت گزارنے اہیں ہیں۔
    یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہر جماعت سے اچھل اچھل کر تحریک انصاف کا حصہ2018 میں بنے یہ وہ ہیں جو پولیس کے پرچوں قبضے اور بے شمار ایسے کاموں میں ملوث ہیں ۔
    یہ کسی بھی مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے
    عمران خان اپ کو اس نظام سے ناکامی کے اعلاوہ کچھ نہیں مل سکتا اپ کو سڑکوں پر نکل کر ایک نئے صدارتی نظام کی طرف انا ہوگا جو ملک کی ضرورت بن چکا ہے ۔ کرپٹ اور نااہل کابینہ سے جان چھڑواہیں ۔

    یہ کرپٹ وزرا صرف اپنا مال بنا ریے ہیں اور یہ لوگ اس نظام کو اپنے حق میں چلانا جانتے ہیں یہ سب کابینہ کے اراکین اپ سے پہلے کئی سالوں سے اس نظام کا حصہ ہیں وہ نظریہ عمران کو نہیں نظریہ پیسے کو سمجھتے ہیں اور وہ ہی کر ریے ہیں جو ہر وزیراعظم کے ساتھ رہ کر کرتے ہیں۔

    وقت اج بھی ہے قدم لیں ایک نئے نظام کا
    کل یہ وقت بھی شائد نہ ہو۔

  • لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    دنیا میں جب سے بجلی کا آغازہوا ہے، تب سے لوگ بجلی کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ بجلی کے بغیرایک لمحہ گزارنا مشکل ہوجاتا ہے. جب بجلی بند ہوتی ہے تو انسان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے وہ دنیا میں نہیں جنگل میں رہ رہا ہے. سر کے اوپرآسمان، پاؤں کے نیچے زمین، دائیں بائیں درخت، چرند پرند اور جانورملے ہوں. اس ساری بات کا مقصد یہ ہے کہ انسان بجلی کے ساتھ چل رہا ہے. بجلی کے بغیر ایک سانس بھی نہیں گزار سکتا ہے.
    پاکستان میں بجلی کا بحران پچھلی ڈیڑھ دہائیوں سے چلا آ رہا ہے. دنوں کے حساب بجلی غائب رہتی ہے، پھربھی پاکستان کی قوم کی ہمت ہے کہ زندگی ہنس کھیل کرگزار رہی ہے، جب برداشت سے باہرمعاملہ ہوجائے تو گھروں سے باہرنکل کراحتجاج کے نام پراپنی بھڑاس نکال دیتے ہیں، پھراپنے اپنے گھروں کو واپسی کرلیتے ہیں، اس معاملے کے ذمہ داران عوام کو امید کا دلاسہ دلا کر پھر سے خواب غفلت کی نیند میں مدحوش ہوجاتے ہیں، عوام امید کے سہارے صرف راہ تکتی ہے اور صبرکرکے وقت گزارتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ عادی ہوجاتی ہے، جو لوگ مالدار ہوتے ہیں وہ بجلی حاصل کرنے کے دوسرے طریقے استعمال کرلیتے ہیں، جولوگ صرف گزارے کی زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں وہ صرف گزارا ہی کرتے ہیں.
    پاکستان میں بجلی جانے کا دور2007 سے شروع ہوا تھا، جو2021 یعنی تاحال جاری ہے. پاکستان میں انرجی کے بحران کی وجہ بننے کے مختلف پہلو ہیں. 2001 سے ابھی تک پاکستان مختلف عالمی مسائل کا شکار ہے. کبھی بیرونی جنگ میں فریق بن کراپنا نقصان کروایا ہے، کبھی بیرونی پاپندیاں لگی ہیں، آئی ایم ایف جیسے ادارے کی کڑکی میں پھنسایا گیا ہے، دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی خانہ جنگی نے پاکستان کومعاشی طورپربہت نقصان پہنچایا ہے، 2008 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تھی، سیاسی حوالے سے مضبوط لوگ ہیں، اپنے دورحکومت میں اس جماعت کے ذمہ داروں نے سوائے اپنے پیٹ پالنے کے کوئی کام نہیں کیا تھا، اپنے 5 سال کے دورحکومت میں انرجی کے حوالے سے کوئی مضبوط پالیسی نہیں بنا سکے، انرجی کے نظام کوچلانے کیلئے ان کے پاس ریونیونا ہونے کے برابرتھا، حکومتی تعلقات والے فیکٹریوں کے مالک بجلی کا بل ہی نہیں دیتے تھے، ٹیکس چھوٹ چل رہی تھی، کرپشن عروج پرکی جا رہی تھی، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، جس کا جو دل چاہتا تھا وہ کرتا تھا، اداروں کی حالت ابترسے ابترہوتی گئی تھی، معیشت کو چلانے کیلئے اس حکومت نے ٹیکس ہی بڑھاۓ تھے، نوبت یہاں تک آگئی کہ ادارہ کی نجاکاری کرنا پڑ گئی تھی، حکومتی ذمہ داروں میں انرجی کے مسائل کو حل کرنے کیلیئے شعورہی نہیں تھا، پاکستان کے وسائل کو استعمال کرنے کی بجائے امریکہ سے 300 ملین ڈالرکا قرضہ لے لیا گیا تھا، پھر بھی انرجی کے مسائل پرقابو نہیں پا سکی تھی، وقت پراس حکومت سے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، آئی ایم ایف سے قرضہ لے کرنظام چلایا جا رہا تھا، اس دورحکومت میں ذمہ داراس قابل بھی نہیں تھے کہ اپنے وسائل کو بروئے کارلایا جا سکے، جی ڈی پی 4 فیصد تک آگئی تھی، پاکستان کی انڈسٹریز کومکمل بند کردیا گیا تھا، انڈسٹریز کے بند ہونے سے عوام بے روزگارہوگئی تھی، اس دورحکومت میں بجلی کا شارٹ فال 8500 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا جو کہ بجلی کی ضرورت کا 40 فیصد تھا، انرجی کی پیداوارکو بڑھانے کیلئے بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا تھا، باہر سے قرضہ لے کرادارے کے معاملات چلائے جاتے تھے، ادارے کی آمدن صرف درمیانے طبقہ کے لوگوں سے ہی آتی تھی.
    2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ 12 گھنٹے شہروں میں، 16 گھنٹے دیہاتوں میں ہوتی تھی. شروع میں تو ان پرجوں تک نا رینگی.عوام مشکلات سے دوچار سراپہ احتجاج تھی. کوئی سننے والا نہیں تھا. 2 سالہ حکومت کے بعد ان کو ہوش آنا شروع ہوگیا تھا. نئی پالیسیاں بنانے کا آغاز ہوا. اس حکومت نے انرجی کے مسائل حل کرنے کیلئے 2 پالیسیاں بنائیں. ایک یہ کہ نادہندگی کے آدھے پیسے دے دیے جائیں. دوسرا یہ کہ انرجی کی نئی پالیسی دے دی جائے. اس دورحکومت میں 260 بلین روپے انڈی پینڈنٹ پاور پلانٹس کو گردشی قرضے کی مد میں دیے گئے تھے. اس وقت شارٹ فال 6000 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا۔ قرضہ ادا کرنے سے 1700 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی تھی۔ کچھ نئے منصوبوں سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 22500 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔ اس دور حکومت ریونیو نہیں تھا۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح بہت کم تھی۔ قرضوں سے نظام چلایا جا رہا تھا۔ قرضے لے کرقرضہ دینے سے بجلی کی بندش کا مسئلہ حل تو ہوگیا تھا لیکن مستقل حل نہیں تھا. بظاہریہ لگتا تھا کہ بجلی مسئلہ مستقل حل ہوگیا ہے. فیکٹریوں کے مالک بل دینے کی بجائے ذمہ داروں کی جیب گرم کرتے تھے. کئی کئی سالوں سے کروڑوں روپے کے بقایا جات پائے جاتے ہیں. ذمہ داروں کواس کی پرواہ تک نا تھی. انکے اکاؤنٹس میں وقت پرکرپشن کا پیسہ پہنچ جاتا تھا.
    وعدوں کے پل باندھنے والے 2018 میں پاکستان کے حکمران بنے. پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ دار جو اپنی غلطیاں بھی پچھلوں پر ڈالنے کے ماہرہیں. جنہوں نے پاکستان کی ترقی کی قسم کھائی ہے. اس دورحکومت میں بھی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے. اس لوڈشیڈنگ سے تو پیپلز پارٹی کا دور تازہ ہوگیا ہے. موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خطے میں موسم خشک اورگرم ہوگیا ہے. اس کے ساتھ ہی عوام پربجلی کی لوڈشیڈنگ کا پہاڑ توڑدیا گیا ہے. حکومتی ذمہ داروں سے حالات حاضرہ پر بات کی تو حسب معمول پچھلے ادوار پرمعاملہ ڈال دیا گیا ہے. اس وقت ملک کے شہری علاقوں میں 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. اس حکومت میں کچھ عقلمند لوگ بھی ہیں جنہوں نے اصل معاملے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے. پاکستان میں اس وقت 6500 میگاواٹ کا شارٹ فال آیا ہے. انرجی کے وزیرکا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیمانڈ 24100 میگاواٹ ہے. پیداوار 22600 میگاواٹ ہے. 1500 میگاواٹ کا مسئلہ آ رہا ہے. یعنی اس حکومت کہ 3 سال میں کوئی ایسی ترقی نہیں کی گئی جس سے انرجی کے مسائل پرقابو پایا جاسکے. حالانکہ اس حکومت نے مختلف ڈیموں کی تعمیرکا کام اپنے دورحکومت کے آغاز میں ہی کردیا تھا. ٹیکس ریونیو بھی بہترہوگیا ہے. فیکٹریوں والے بھی بل ادا کررہے ہیں. یہاں تک کہ حالیہ لوڈشیڈنگ کے دوران عالمی بینک کی رپورٹ میں توانائی کے شعبہ میں اصلاحات لانے پرعالمی بینک نے حکومت وقت کی تعریف کی ہے، یہ حکومت حالات بہتر کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہے مگرکرنہیں پا رہی ہے. عوام بیچاری حکومتی ذمہ داروں کا منہ تکتی رہ جاتی ہے. حکومت وقت سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرلیا جائے.

    @its_usamaislam

  • وطن عزیز،پاکستان  .تحریر:فضیلت اجالہ

    وطن عزیز،پاکستان .تحریر:فضیلت اجالہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ،میرا وطن ،میرا حوالہ ،دنیا پہ جنت کا چھوٹا سا نظارہ ۔
    14اگست 1947 کو مانند آفتاب دنیا کے نقشے پہ طلوع ہوا
    اسلام کے نام پے حاصل کی گئ سر زمین وطن کو خدا تعالی نے ہر قسم کی رعنائ بخشی ہے ۔
    پاکستان 881913 مربع کلو میٹر کے ساتھ دنیا کا تیتیسوا بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے بڑے ممالک میں پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔
    پاکستان کے مشرق میں بھارت،شمال میں چین اور مغرب میں افغانستان ہے جبک جنوب کی طرف ساحلی پٹی ہے جو اسے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے ۔
    پاکستان ایک ایسی خط زمین جسے اللہ تعالی نے ہر قسم کی آب و ہوا سے نوازا جس میں آپکو گرمی ،سردی ،خزاں اور بہار کا موسم ملتا ہے تو وہیں لاتعداد قدرتی مناظر انسانی آنکھوں کو رعنائ بخشتے ہیں ۔اسلام آباد کو پاکستان کا درالخلافہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے تو وہی شہر قائد کراچی کو روشنیوں کا شہر اور عظیم ترین شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔پھر باری آتی ہے لاہور کی جسے زندہ دل لوگوں کا شہر مانا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف عظیم تاریخی مقامات انسان کو سنہرے ماضی میں دھکیلتے ہیں تو دوسری طرف لزیز کھانے آپکو کہیں اور جانے نہی دیتے ۔
    پاکستان میں پائ جانے والی جھیلیں دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہیں تو وہی شمالی علاقہ جات کا حسن دیکھنے والے بے خود رہ جاتے ہیں ۔
    پاکستان کے شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،ناران کاغان،خیبر پختنخوا اور شمال مغربی پاکستان شامل ہے ۔شمالی علاقہ جات میں قدرت کے بے شمار نظاروں کے ساتھ مختلف عمارتیں قلعے،جنگلات ،شاہرائیں اور وادیاں بھی قابل ستائش ہیں
    ۔سکردو میں پایا جانے والہ ٹھنڈا صحرا "دیو سائ” قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔بلوچستان کے پہاڑی سلسلے دیکھنے والوں کو مسحور کرتے ہیں ،زیارت کوئٹہ اور گوادر کی خوبصورتی کی مثال نہی ملتی ۔
    بہاولپور کا صحرا چولستان اور ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو سیاحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔

    صوبہ پنجاب ،پانچ دریاؤں کی سرزمین ،جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب ۔پنجاب میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں جن میں سے مری کو خاص مقام حاصل ہے تو جنوبی پنجاب میں واقع ملتان کو سر زمین اولیا ء کا درجہ حاصل ہے ۔تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے لاہور کو اہم مقام حاصل ہے جو قدیم ثقافتی ورثہ ،تاریخ،مزہب،سیاحت اور تفریح کے حوالے سے ہر وہ کشش اپنے اندر رکھتا ہے جو ایک سیاح کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ۔

    اسلامی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں ہر رنگ و نسل ،اور مزہب کے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو دلکش رنگوں کا مجموعہ بناتے ہیں اور وہی اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ پاکستا ن ایک مہمان نواز اور محبت بانٹنے والا ملک ہے ۔کرتار پور راہداری معاہدہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان اپنے اندر بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کرتا ہے ۔
    گو بہت سے اندرونی و بیرونی طاقتیں ملک پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں لیکن افواج پاکستان،حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ۔انٹرنیشنل سیاحوں اور کرکٹ کی واپسی ایک خوش آئندہ عمل ہے ۔
    تاہم ابھی بھی بہت محنت ،ہمت،عزم اور لگن کی ضروت ہے تاکہ ہمارا وطن ترقی پزیر مما لک کی فہرست میں شامل ہوسکے ۔اسکیلیے ہم سب کو باہم اختلاف بھلا کر قدم سے قدم ملا کر اور عزم و ہمت کیساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔
    اب قرض ہے ہم پر مٹی کا
    ،اس منزل کا،اس دھرتی کا
    تقدیر کریں تدبیر کریں،
    آو وطن تعمیر کریں۔

  • افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد سے آج تک دیکھیں تو امریکہ نے کہیں کوئی جنگ نہیں جیتی، ویت نام ہو یا صومالیہ ، سوڈان ہو یا عراق ،ہرجگہ امریکہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا،امریکہ سے پوری دنیاکے لوگ نفرت کرتے ہیں امریکہ نے جس ملک پر جنگ مسلط کی اس ملک کے وسائل لوٹے ہیں ، امریکہ نے کبھی تنہا جنگ نہیں لڑی ہمیشہ دیگر ممالک کے لائولشکر سے حملہ آور ہوامگرامریکہ کوکہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے برعکس امریکہ نے کبھی اپنی شکست بھی تسلیم نہیںکی۔
    9/11 کوبہانہ بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوںنے 2002 ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباََتمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے، ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل تھے۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں ہوائی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے اور فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ،ان گنت بم افغانیوں کی بستیوں پر گراتے جس سے جیتے جاگتے انسانوں کی بستیاں پلک جھپکتے ہی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

    گیارہ ستمبر 2001 میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس سے قبل طالبان دورحکومت میں افغانستان پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن گیارہ ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لہرنے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا۔ ملک میںامن کیلئے پاک فوج،رینجرز، ایف سی، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ 21 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکا نے اپنی ناکامی کا مبینہ اعتراف کرتے ہوئے اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی کوشش کی اور بالآخر واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا، یہ جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اگل سکتا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکا نے جنگِ افغانستان کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں کیا گیا تھا۔افغانستان کا بگرام ایئر بیس امریکی فوج نے خالی کر دیاہے، امریکی فوجی رات کی تاریکی میں خاموشی سے واپس چلے گئے، افغان انتظامیہ بھی بے خبر رہی،امریکیوں کے انخلاء کا افغان طالبان نے خیرمقدم کیا ہے۔ کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب متحدہ عرب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور افغان دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں جوکہ کسی بھی لمحے کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں،ان حالات کودیکھتے ہوئے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اپنے فیملی کے افرادکوپہلے ہی افغانستان سے نکال چکا ہے،

    خوداشرف غنی نے طالبان کے خطرے کے پیش نظرفرارہونے کیلئے جہازتیارکھڑاکیاہواہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال حکومت پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ لیکن حکومت کو مغربی سرحدوںسے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا مزیدبوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

    اس وقت تیزی سے بدلتے عالمی پس منظر میں جب ممالک عالمی طاقتوں کے اثر سے نکل کراپنے ملکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کر رہے ہیں، سی پیک کا منصوبہ اس خطے کے مختلف چھوٹے بڑے ممالک کے لیے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔نیپال سے گوادر تک بننے والا معاشی کوریڈوراور خطے کے تمام چھوٹے بڑے ممالک کے ساتھ چین کی بھاری مشترکہ سرمایہ کاری نے امریکا اور اس کے حلیفوں کے لیے نئی پریشانی اور مشکلات کھڑی کرد ی ہیں۔چین کا بنایا ہوا سی پیک دنیا کی تجارتی منڈی کو یکسر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ 62 ارب ڈالرز کی چینی سرمایاکاری سے غیر محدود رسائی اور معاشی ترقی پاکستان کے استحکام کا راستہ کھولنے جا رہی ہے جو ہمارے بعض دوست ممالک کو قابل قبول نہیںہے۔ ایسے وقت میں امریکی فوج کے انخلاء سے خطے میں انتشارپیداہونے کے خطرات مزیدبڑھ چکے ہیں ،جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑسکتا ہے اورامریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو،ایساپاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ہے، حکومت پاکستان اورہمارے اداروں کوچاہئے کہ دشمنوں کی سازشوں ،انتشار اوردہشت گردی کے مذموم مقاصدکوناکام بنانے اورخطرات سے نمٹنے کی پیش بندی ضرورکرلیں۔

  • یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    سوال:
    کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں اتنا ہی غیر سنجیدہ ہے کہ بیس سال پہلے ریاست نے ایک فیصلہ کیا تھااور بیس سال بعد پاکستان 180 ڈگری کا یوٹرن لے کر الٹا پھر گیا؟ یعنی بیس سال پہلے امریکہ کو اڈے دیے، اتحادی بن کر یس سر کیا تو اب بیس سال بعد ابسلیوٹلی ناٹ کیوں کر رہا ہے؟ جس طرح آج سے بیس سال پہلے کیے گئے مشرف کے ایک فیصلے کو عمران خان اسمبلی میں آج غلط قرار دے رہے ہیں، کیا اب سے بیس سال بعد کا کوئی حکمران اسمبلی میں کھڑے ہو کر عمران خان کے موجودہ فیصلے کو بھی غلط قرار دے رہا ہو گا؟ کیا ہم خارجہ پالیسی کے معاملے میں یوں ہی کوہلو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے؟
    جواب:
    1
    نائن الیون سے چالیس سال پہلے امریکہ نے افغان جنگجوؤں کو روس کے خلاف کھڑا کر کے پوری دنیا میں ج ہ ا د شروع کروایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے انہی لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن لیا۔ تب نا تو آپ نے امریکہ کو کوہلو کا بیل قرار دیا نا ہی آپ کو امریکی خارجہ پالیسی دائرے میں گھومتی دکھائی دی۔ بلکہ آپ نے دل و جان سے امریکہ کے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو آپ کو تکلیف کیوں ہے؟
    2
    دنیا کی ہر ریاست میں خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ریاست کا مفاد ہوتا ہے۔ نائن الیون سے دو سال پہلے پاکستان ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے معاشی اور ملٹری پابندیوں میں جکڑا جا چکا تھا۔ ہم ایٹم بم بنا چکے تھے مگر حالات واقعی گھاس کھانے والے بنتے جا رہے تھے۔ ایسے خراب معاشی حالات میں امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہوتی تو یہ دانشور جو آج مشرف پہ اڈے دینے کےلیے اعتراض کر رہے ہیں، وہ گھاس کھا کھا کے مر چکے ہوتے اور ان کی بھٹکتی آتما مشرف کو اڈنے نا دینے کی وجہ سے پورے پاکستان میں گالیاں دیتی پھرتی۔

    3
    آج عمران کے ابسلیوٹلی ناٹ اور مشرف کی یس کے درمیان بیس سال کا فرق ہے۔ ان بیس سالوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ مثلاََ
    بیس سال پہلے افغان سٹوڈنٹس کے ساتھ دنیا کا ایک بھی ملک نہیں کھڑا تھا آج درجن بھر ملک ان کے ساتھ ہیں۔
    بیس سال پہلے کا چین زمین پہ تھا آج آسمان پہ ہے اور امریکہ کو ٹکر دینے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔
    بیس سال پہلے کا روس معاشی طور پر بدحال تھا اور امریکہ اسے مردہ ریچھ قرار دے چکا تھا۔ آج وہ ریچھ امریکا کو جِن جپھا ڈالنے کےلیے ہوشیار کھڑا ہے۔
    بیس سال پہلے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے چین اور روس دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر آج ہے۔
    بیس سال پہلے کوئی سی پیک نہیں تھی، کوئی گوادر پورٹ نہیں تھی جن کی وجہ سے چینی مفادات کو خطرہ ہوتا اور وہ امریکہ کو یہاں سے نکالنے کےلیے پاکستان کا ساتھ دیتے۔ آج یہ سب کچھ ہے اور وہ پاکستان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔
    ایسے آئیڈیل حالات اگر عمران خان کے بجائے مشرف کو اس وقت ملتے جیسے آج ہیں یقیناََ مشرف امریکہ کو ناں کرتا۔
    مگر مشرف نے ہاں کی اس لیے کہ
    1 پاکستان اس وقت اس قابل نہیں تھا کہ افغانستان کی جنگ کو اپنے گھروں میں داخل کرے۔
    2 پہلے سے موجود معاشی پابندیوں کو ختم کروانے کے بجائے دوگنا کرے۔
    3 بھارت کو موقع دے کہ اپنے اڈے امریکہ کو دے اور وہ بحرہِ ہند کے پانیوں سے ہوتا ہوا بھارت میں ڈیرہ لگائے، وہاں سے پاکستان پہ حملہ کرے اور پاکستان کو کھنڈر بنا کر یہاں اڈے بنانے کے بعد یہاں سےا فغانستان کو فتح کرے۔

    اوپر لکھا ہےکہ دنیا کی ہر ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ مشرف نے ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا۔ آج بیس سال بعد ریاستی مفاد کا تحفظ امریکہ کو جگہ دینے کے بجائے نکالنے میں پوشیدہ ہے لہذا ہم نے یہی کیا۔ یہی امریکہ نے کیا تھا۔ چالیس سال پہلے جو م ج ا ہ د تھے چالیس سال بعد وہ دہشت گرد تھے۔ یہی دنیا کی ہر ریاست کرتی ہے۔ یہی مثال چودہ سو پہلے مدینہ کی ریاست میں بار بار ملتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے یہودیوں جیسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ پھر ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے ہی انہی یہودیوں کے ساتھ جنگ کی گئی۔ ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ریاستِ مدینہ نے مکہ کے کفار کے ساتھ صلحِ حدیبیہ کی تھی۔ اور پھر ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ہی انہی کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ کی گئی تھی۔ بلاشبہ ریاستِ مدینہ اور ریاستِ پاکستان کے مفادات میں یقیناََ فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وہ ریاستِ مدینہ اور یہ ریاستِ پاکستان دونوں مسلمان ریاستیں ہیں۔ آپ مشرف کے فیصلے کے بجائے اس فیصلے اثرات دیکھو۔
    کیا بیس سال یہاں رہ کر امریکہ کوئی کامیابی لے سکا؟
    کیا افغان سٹوڈنٹس ختم ہو گئے؟
    کیا آج پھر افغان سٹوڈنٹس اسی طرح طاقتور نہیں؟
    کیا پوری دنیا میں امریکہ بدنام نہیں ہوا کہ مٹھی بھر جنگجوؤں کو ختم نہ کر سکا؟
    اور سب سے بڑھ کر،
    کیا بیس سال بعد ہی سہی پاکستان اس قابل نہیں ہوا کہ امریکہ کو ابسلیوٹ ناٹ کہہ سکے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دکھ کاہے کا ہے ببوا؟
    تحریر: سنگین علی زادہ۔

  • 5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئیPPP فقط چُوں چُوں کا مربہ پارٹی تھی
    اس میں اسلام،سوشلزم،جمہوریت اور لادینیت کے تمام اجزاء شامل تھے
    بلاشبہ بھٹو جینئیس تھا لیکن زیادہ تر معاملات میں اِیول جینئیس تھا
    وہ جینئیس تھا تو صرف اس حوالے سے کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتا تھا اور انہیں کسی نکتے پر مائل بھی کر سکتا تھا
    یہی وجہ ہے کہ اس نے پی پی پی کے بے تُکے منشور پر سیاستدان بھی جمع کر لیے تھے اور اسلام کا تڑکہ لگانے کیلیے مولانا کوثر نیازی جیسے مولوی بھی ساتھ ملا لیے تھے

    یہ بھٹو کی منفی لیکن طلسماتی شخصیت اور اس کے جاہلانہ منشور کا کمال ہے کہ پی پی کو ضیاء جیسا اسلام پسند اور الطاف حسین جیسا دہشت گرد بھی ختم نہ کر سکے
    بھٹو نے پی پی میں جو مفاد پرست لوگوں کی زیریں غلام قیادت ترتیب دی تھی اس نے بھی ذاتی مفاد پرستی کا حق ادا کر دیا
    بھٹو کے دربارِ منافقت میں وڈیرے،تعلیم یافتہ افراد مزدور جب پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

    سب جونکوں کی طرح اپنی اپنی جگہ کو چاٹنے میں مصروف رہے
    کسی کو صف اول کی قیادت اور بھٹو کا متبادل بننے کی فکر نہیں تھی کہ پی پی کے سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

    یہی وجہ ہے کہ بھٹو کی پی پی کا سیاسی عمل اس کی پھانسی کے بعد جمہوریت سے موروثیت کی شکل اختیار کر گیا

    جمہوریت کیلیے شعور و قابلیت درکار ہوتی ہے جبکہ موروثیت کیلیے لا شعور اور جاہلیت مطلوب ہوتی ہے
    چنانچہ بھٹو کی پیدا کی ہوئی جہالت نے پی پی کو سیاسی سے زیادہ موروثی طور پر مستحکم کیا
    پی پی کی موروثیت کو بے نظیر نے خوب استعمال کیا،
    بھٹو کے نام کا مکمل فائدہ اٹھایا

    پھر بے نظیر کے قتل کے بعد زرداری نے موروثیت کی گاڑی کو جہالت کے دو پہیے بے نظیر کو "شہید” کہہ کر اور بلاول زرداری کو "بھٹو” کہہ کر دیے اور خود جئے بھٹو کا اسٹئرنگ سنبھال کر چلانے لگا

    یہی مرحلہ پی پی کی تباہی کا آغاز تھا

    پی پی میں جن کو بزرگ سیاستدان کہا جاتا ہے ان کی حیثیت خاندان کے بوڑھے ملازم،مالی یا خانسامے سے زیادہ نہیں۔اور نہ ہی ان میں سیاسی شعور ہے۔
    وہ کل وقتی لٹیرے تھے اور لٹیرے ہی رہے۔
    کسی کو پی پی کے سیاسی حوالے کی فکر نہ رہی۔
    یہی وجہ ہے کہ وہ بزرگ ملازم اور جیالے زرداری سے موہوم اختلاف کے باوجود پی پی کے نام سے لوٹ مار کرتے رہے۔
    ورنہ پی پی 50 سال کے بعد سندھ تک محدود نہ ہوتی۔

    پی پی کو موروثیت نے تباہ کر دیا

    نصرت بھٹو کی رفاقت،بے نظیر کی ذہانت اور زرداری کی شاطرانہ خیانت نے پی پی کو محدود سہی لیکن زندہ ضرور رکھا ہوا ہے۔

    اب نصرت کی رفاقت اور بے نظیر کی ذہانت ختم ہو گئیں۔

    زرداری کی دلیرانہ اور شاطرانہ قیادت کے ختم ہونے کی صورت میں بلاول کی مخنثانہ اور مضحکہ خیز قیادت پی پی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
    کیونکہ بلاول کے پاس اس کی انفرادی حیثیت میں بے نظیر جیسی ذہانت ہے نہ زرداری جیسی خباثت

    ابھی بھی پی پی کے برائے نام سیاستدانوں کیلیے موقع ہے کہ وہ "مرد ” بنیں، آگے آئیں۔
    پارٹی قیادت پر سوال اٹھائیں اور پارٹی کو موروثیت سے سیاست و جمہوریت کی راہ پر گامزن کریں۔
    خود بھی جیالے پن سے نکل کر سیاسی کارکن بنیں۔

    یقین جانیے بلاول کی طفلانہ، مخنثانہ اور جاہلانہ "حرکات” وہ آگ ہیں جو زرداری کی موت کے فوراً بعد پارٹی کو جلا کر بھسم کر دیں گی

    "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • ‏عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات!     تحریر: ایمان ملک

    ‏عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات! تحریر: ایمان ملک

    وہ ریاستیں جو عالمی سیاست کے گہرے پانیوں میں قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتی ہیں اور خاص طور پر دوسروں کے تنازعات میں بے جا الھجنے کی بجائے اپنے لئے ایک قابل و مؤثر خارجہ پالیسی کے انتخاب کو ترجیح دیتی ہیں دور حاضر کے چیلنجز میں صرف وہی کامیاب ہونگی۔ بدقسمتی سے ، ماضی قریب و بعید میں متعدد پاکستانی حکومتیں اس طرح کے اقدامات کو اپنانے میں ناکام رہی ہیں ، مثال کے طور پر، افغانستان پر سوویت حملے کے بعد ملک کو سرد جنگ کی سیاست میں دھکیلنا اور ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانی دلدل میں دھنسانا اور تو اور بدلے میں تیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بنا کسی عالمی امداد کے بلا چوں چراں اپنے ناتواں کندھوں پر قبول کرنا وہ چند چیدہ چیدہ غلطیاں ہیں جن کی بڑی بھاری قیمت ہم تا حال ادا کر رہے ہیں۔
    اب جبکہ خطے میں ایک اور جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی (مغربی کیمپ بمقابلہ چین کی صورت میں) سامنے آرہی ہے تو پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کچھ سخت انتخابات کرنے اور فیصلے لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوگی۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے رواں ہفتے منگل کے روز چینی ریاست کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو بتایا کہ پاکستان کسی بھی بیجنگ مخالف گروپ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے "سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں” ، عمران خان نے چینی میڈیا کو مزید بتایا ، کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین تعلقات بہت گہرے ہیں۔

    عمران خان نے انٹرویو میں ابھرتی ہوئی بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ (بی 3 ڈبلیو) اسکیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ”عجیب ، زبردست دشمنی” ہے جس کو حال ہی میں جی 7 کی صنعتی مغربی ریاستوں (اور جاپان) کے بلاک نے شروع کیا ہے۔ جیسا کہ امریکی عہدیداروں نے ریکارڈ پر کہا ہے ، یہ منصوبہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، جس کا سی پیک بھی ایک حصہ ہے۔

    یہ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے مذکورہ انٹرویو میں سی پیک کو "سب سے بڑی چیز قرار دیا جو پاکستان میں اس وقت ہو رہی ہے”۔ واضح رہے کہ بی 3 ڈبلیو کے ساتھ ، امریکہ ، چین پر قابو پانے کے لئے چار ریاستوں کے گروپ ، جس میں ہندوستان بھی شامل ہے ‘ کواڈ ‘ پر زور دے رہا ہے۔ ان جغرافیائی سیاسی پیشرفتوں پر غور کرتے ہوئے دیکھا جائے تو وزیر اعظم کے خدشات درست ہیں ، اور انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوستوں کو ترک نہیں کرے گا۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات واقعتاً دیرینہ ہیں۔ اور اس کو کسی بھی وقتی مفاد یا بے وفا و عارضی دوست کے لئے قربان گاہ پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں بھی بیجنگ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کے لئے آیا ہے ، اور پاکستان اس کے عزم و امداد کی قدر کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کے لئے نااہل اور بے بنیاد حمایت کی پوزیشن کا جائزہ لیا جانا بھی بین الا اقوامی تعلقات کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔ کیونکہ بین الااقوامی تعلقات ہمیشہ زندہ اور پر وقار قوموں کے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں ناکہ کسی کی ذاتی مفادات، خواہشات یا ایماء کے ۔
    پاکستان کی بھی خواہش ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے اور سرد جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین موجود سودی تعلقات سے آگے بڑھے۔ لہذا ، واشنگٹن کو یہ پیغام واضح ہونا چاہیئے کہ پاکستان ان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے ، لیکن امریکا کو یہ بھی باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان اپنے روایتی حلیفوں کو الگ الگ کرنے کے لئے تیار کردہ کسی بھی دشمنی کا فریق نہیں بن سکے گا۔

    مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے انخلاء کے بعد اب پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی اسی لئے امریکا اب بیہودہ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے اسے چائلڈ سولجرز روک تھام ایکٹ کی فہرست میں شامل کر دیا۔ بظاہر اور حقیقتاً یہ بے بنیاد فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان حالت جنگ میں نہیں، نہ ہی پاکستان کسی اور ملک کے ساتھ جنگ کر رہا ہے تو اس طرح سے کم عمر سپاہیوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے۔ اس سے واشنگٹن پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے نیز اس فیصلے سے پاکستان کی فوج بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس فہرست میں شمولیت کے بعد پاک فوج بین الااقوامی امن مشن اور امریکا میں پیشہ ورانہ کورسز پر اپنے فوجی نہیں بھیج سکے گی۔ بلا شبہ یہ غمازی کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت اب ختم ہو چکی ہے۔ مزید براں، اب مسقبل قریب میں بھی امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر پاکستان کے حوالے سے منفی رپورٹس قوی متوقع ہیں۔ بلکہ یورپی یونین کی طرف سے بھی ان مسائل پر رپورٹس آئیں گی تاکہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔ایسے میں امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں جبکہ وہ برابری کی بنیاد کی بجائے ہمہ وقت پاکستان کا آقا بننے کی کوششیوں میں لگا رہے؟؟؟ واضح رہے فیٹف کی تلوار بھی اسی ضمن پر پاکستان کے سر پر لٹکتی چھوڑی گئی ہے۔

    در حقیقت ، خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کی راہنمائی کرنے کا یہی مذکورہ بالا( قومی مفاد کی ترجیح) منتر ہونا چاہیئے۔ چاہے پاکستان عرب-ایران کے تنازعہ میں شامل ہو رہا ہو یا پھر خارجہ پالیسی کے دیگر سوالات میں ، پاکستان کو اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ نیز اسے عملیت ، اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق رہنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر ، پاکستان نے سنہ 2015ء میں "یمن امبرگليو” ( یمن کے الجھاؤ) میں شامل نہ ہوکر صحیح فیصلہ لیا، حالانکہ اس فیصلے نے ہمارے بہت سارے عرب ‘بھائیوں’ کو ناراض کردیا تھا۔ تاہم، اس موقع پر پارلیمنٹ کی اجتماعی دانشمندی نے پاکستان کو ایک اور دلدل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ لہٰذا ، اب بھی اور آئیندہ بھی جمہوری عمل کے ذریعے ہی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے تمام سوالات کو دانشمندانہ اور انصاف پسندانہ انداز میں طے کیا جانا چاہیئے۔