Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان میں یک جماعتی سیاسی نظام . تحریر:سنگین علی زادہ

    پاکستان میں یک جماعتی سیاسی نظام . تحریر:سنگین علی زادہ

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو دیکھا، مجھے یوں لگتا ہے کہ مستقبل میں تمام سیاسی جماعتوں میں سے قابل لوگوں کو منتخب کر کے، ایک ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قابل ترین افراد شامل ہوں گے۔
    پاکستانی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک سیاسی جماعت میں ضم کر کے صرف واحد قومی سیاسی جماعت بنے۔ بالکل اسی طرح جیسے چین میں یک جماعتی سیاسی نظام ہے۔ اس کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ایک تو ملک سے انصافیوں، جیالوں، پپلیوں اور پٹواریوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور پیچھے خالص اور سیاست سے پاک پاکستانی رہ جائیں گے۔ دوسرا یہ اسلامی نظامِ حکومت کے نزدیک ترین ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت میں پارٹیاں نہیں ہوتیں۔
    خود عمران خان چین میں صدر کے چناؤ اور صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے طریقہ کار کی تعریف کر چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں عمران خان کے زہن میں چینی نظامِ سیاست امریکہ کے نظامِ سیاست سے بھی بہتر ہے۔
    یک جماعتی سیاسی نظام میں صرف ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب نہیں کرتے۔ بلکہ سیاسی پارٹی کے ارکان کا آپس میں مقابلہ کروا کے پارٹی کے ارکان کے زریعے ہی قومی و صوبائی اسمبلیوں کےلیے لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
    پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں کچھ قابل اور ایماندار سیاست دان موجود ہیں۔ نا تو ایسا ہے کہ سارے سیانے لوگ صرف پی ٹی آئی یا ن لیگ میں ہیں۔ اور نا ہی ایسا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی یا تحرiیکِ لبیIک میں تمام کے تمام لوگ قابل ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کچھ ہیرے، کچھ موتی، جبکہ کچھ کنکر پتھر ہیں۔اگر ایسا ہو جائے کہ ہر جماعت کے ان ہیرے موتیوں کو الگ کر دیا جائے۔ اور کنکروں پتھروں وغیرہ کی چھانٹی کر کے باہر کر دیا جائے۔ پھر تمام ہیروں کو اکھٹا کر ایک جماعت میں ضم کر دیا جائے اور باقی کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا جائے، تو ایک ایسی سیاسی پارٹی بن سکتی ہے جس میں امریکہ کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہو گی۔
    اس کے کئی فائدے ہوں گے مثلاََ
    1 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی اور خارجہ معاملات سنبھالنے کا اضافی فوج جی ایچ کیو سے کم ہو جائے گا۔
    2۔ سفارت کاری کے میدان میں جس طرح پاکستان اب بہت پیچھے دھکے کھاتا پھر رہا ہے، یہ دھکے کھانے سے بچ جائے گا۔
    3 کثیر جماعتی سیاسی نظام ملک میں جو انتشار اور افراتفری پیدا کرتا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔
    4 سول اداروں کے اندر جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے وہ سو فیصد سے کم ہو کر صرف دس فیصد رہ جائے گی۔ درجنوں سیاسی جماعتوں کے بجائے صرف ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے۔
    5 ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے معاملات میں جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے اور اس کے جواب میں سیاست کے اندر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، یہ آپس کی چھیڑ چھاڑ اور لڑائی بھی ہمیشہ کےلیے ختم ہو جائے گی۔
    6 سیاسی مقاصد اور مفادات کے تحت ملک میں جو لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تقسیم سیاسی جماعتیں پیدا کرتی ہیں وہ ختم ہو جائے گا۔
    7۔ سیاسی جماعتیں آپس میں الیکشن لڑنے کےلیے ہر پانچ سال بعد مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ یہ اربوں روپے خرچ کر کے اسمبلی تک پہنچتی ہیں اور اسمبلی پہنچنے کے بعد کھربوں روپے کی دیہاڑیاں لگاتی ہیں۔ اگر ایک ہی سیاسی جماعت ہو ملک میں تو الیکشن کی وجہ سے ہونے والے کھربوں روپے کے یہ ہیر پھیر بھی ختم ہو جائیں گے۔
    8 ملک سے نسل در نسل چلنے والی موروثی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بادشاہت کی طرح جو پہلے دادا ایم این اے بنتا ہے، پھر بیٹا منسٹر بنتا ہے اور پھر پوتا وزیر بنتا ہے اس کا ہمیشہ کےلیے خاتمہ ہو جائے گا۔
    9 غیر ملکی ایجنسیوں کےلیے کثیر سیاسی جماعتی نظام میں اپنے مطلب کے لوگوں کی منڈی لگی ہوتی ہے۔ یونین کونسل کے چیئرمین سے لے کر فیڈرل منسٹر تک، غیر ملکی ایجنسیاں ہمیشہ اپنے مطلب کا بندہ ڈھونڈنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ایک ہی سیاسی جماعت ہو تو یہ لعنت کم ہو جائے گی۔
    10 یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سرمائے کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یعنی ارب پتی آدمی اپنے ایک ارب روپے میں سے دس کروڑ روپے کا خرچہ کر کے الیکشن جیت جاتا ہے۔ اور پھر کئی ارب کماتا ہے۔ اگر مناسب چیک اینڈ بیلنس رہے تو یک جماعتی نظام میں یہ لعنت بھی نہیں رہے گی۔
    11 جاگیردار، نوابزادے، رئیس، انڈسٹریل لوگوں کا سیاست سے قبضہ ختم ہو جائے گا۔ بس سیاست صرف قابل لوگوں کا عقلی کھیل رہ جائے گی۔
    یک جماعتی سیاسی نظام کے فائدے تو اتنے ہیں کہ ان پہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ چین اسی یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سپر پاور بننے جا رہا ہے۔
    دیکھیے آپ کے پاس پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی گاڑی موجود ہو۔ مگر سڑک جس پہ وہ گاڑی چل رہی ہو، اس میں جمپ ہی اتنے ہوں کہ گاڑی ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر جا ہی نہ سکے تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس سڑک کو اتنا بہتر کرو کہ اس پہ گاڑی پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ دوڑ سکے۔ موجودہ سیاسی نظام پہ آپ ملک کی گاڑی کو ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑا رہے ہیں۔ جبکہ یہ گاڑی پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ سکتی ہے۔ تو بہتر ہے کہ سیاسی نظام کی اس سڑک کو اب تبدیل کر لیا جائے۔ کیوں کہ ہمسائے ملک بھارت کے علاوہ اب بنگلہ دیش جو سنہ 71 میں ہم سے آزاد ہوا تھا، اس کی گاڑی بھی ہم سے بہتر دوڑ رہی ہے۔ ہمیں بھی اب اپنی سیاسی سڑک بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

  • آٹھ سیٹوں سے حکومت بنائیں گے فیاض الحسن

    آٹھ سیٹوں سے حکومت بنائیں گے فیاض الحسن

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ بلاول زرداری گلگت بلتستان کے بعد اب کشمیر انتخابات میں ہارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، ایک دفعہ پھر سے بلاول زرداری نے ہارنے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا ہے، 45 سیٹوں پر 8 امیدوار کھڑے کر کے پیپلز پارٹی جیتنے کے سہانے خواب سجا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی ہے، بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں راجیو گاندھی کا 1989 کا دورہ پاکستان سب کو یاد ہے۔ اس وقت راجیو گاندھی کو خوش کرنے کے لیے کشمیر کے بورڈز اتروا لیے گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر بغیر کسی مصلحت کے کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو منہ کی کھانی پڑے گی.

  • امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    ایک علاقے کا چودھری جو عام لوگوں کو کمی سمجھتا تھا، وہ ان سے من چاہے کام اور ان کو پیسوں کے عوض خرید کر ان سے مشکل کام لیتا تھا اور وہ کمی بیچارے زائدہ پسیوں کی خاطر بساط سے بڑھ کر چودھری کا کام کرتے تھے ، لیکن کمیوں کا ایک لڑکا پڑھ لکھ کر جوان ہوا اور وہ بڑا انسان بنتا ہے، اور ایک دن وہ پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے، امریکا چونکے پہلے چودھری تھا تو وہ پاکستان کو حقیر نظروں سے دیکھتا ہے. ایسا کیوں ؟ جب نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکا کے ہاتھوں دیا تو ایک امریکی عہدیدار نے کہا پاکستان پیسوں کے لئے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں، زرداری نے حسین حقانی کے زریعے امریکا کو کہا مجھے پاکستانی فوج سے بچا لیں، مشرف نے ایک کال پر فوجی اڈے دیا. تو امریکا اس دور کا عادی تھا جب پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوجاتا تھا. تو اب ایک وزیراعظم آیا ہے جس نے پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے.

    لیکن یہ سب اک طرف لیکن جوبائیڈن اب کس طرح اس چیز کو ہنڈل کرے گا؟ ظاہر ہے وہ اس طرح سے ہار ماننے والا نہیں ، کیونکہ وہ ایک چودھری ہے تو چودھری کی شان میں فرق ہے. اب امریکا کا پلان کیا ہے ؟ وہ افغانستان میں کیا کرنے والا ہے ؟ دراصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا،

    امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    تو امریکا اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی منصوبہ بندیاں کر رہا ہے، لیکن اگر امریکا قطر میں اڈے لیتا ہے تو وہ پھر بھی پاکستان کے زمینی راستے کا محتاج ہے کیوںکہ اس کی ہیوی مشینری افغانستان میں مجود ہے جو وہ چاہتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور پاکستان اور چین کے ہاتھ نہ لگ جائے. تو جوبڈن کیلئے عمران خان کو کال کرنا اسکی مجبوری ہے.

  • بیگم صفدر اعوان کا فیٹف پر تنقید کرنا شرمناک بیان قرار فیاض الحسن چوہان

    بیگم صفدر اعوان کا فیٹف پر تنقید کرنا شرمناک بیان قرار فیاض الحسن چوہان

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے فیٹف گرے لسٹ سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ 27 میں سے 26 شرائط پوری کرنے کے باوجود پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ پر رکھنا حیرت انگیز بات ہے، اس سے بھی زیادہ شرمناک بات بیگم صفدر اعوان کا اس پر تنقید کرنا ہے، فیٹف کی پوری نہ ہونے والی واحد شرط منی لانڈرنگ اور اس سے جڑے قوانین سے متعلق ہے، آل شریف کی لازوال، بے مثال اور تابناک کرپشن اور منی لانڈرنگ نے پاکستان کو اس نہج پہ پہنچایا ہے، گزشتہ دس سال میں آل شریف و زرداری کے معاشی جرائم اور کوتاہیاں پاکستان کو لے ڈوبی ہیں، اپنے کالے دھن کو بچانے کے لیے دونوں گزشتہ جماعتوں نے منی لانڈرنگ قوانین نہ بنائے گئے، ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے والوں سے آج ہماری معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے، آل شریف و زرداری کے خلاف کرپشن کیسز کو اب ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ فیٹف صرف معاشی واچ ڈاگ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں معاشی اور انتظامی ترقی کا سفر جاری رہے گا.

  • پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    آج ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کوگرے لسٹ میں ہی رکھا ہے ۔ اور کہا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے ۔ مزید کرتا رہے ۔ اس حوالے سے حماد اظہر نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سے 26 نکات پر عمل کرچکا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر Dr. Marcus Pleyer نے کہا کہ اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھارت کی حوالے سے دونمبری تو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔ پراس حوالے سے حماد اظہر نے کہا ہے کہ جلد اس پر بھی عمل درآمد کر لیا جائے گا ۔

    ۔ پر اس حوالے سے کچھ چیزوں اور معاملات کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو جب بھی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے والا ہوتا ہے تو کچھ اہم واقعات اور چیزیں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جاتا ہے ۔ ۔ سب جانتے ہیں کہ انڈیا کی سازشوں کے نتیجے میں حافظ سعید کو اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ جبکہ پاکستان نے حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا جبکہ اس سے پہلے انھیں ان کے گھر میں نظر بند اور واچ لسٹ پر بھی ڈالا ہوا ہے۔

    ۔ توعین اجلاس سے پہلے لاہور میں ایک دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے اور یہ خاص حافظ سعید کے گھر کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ بڑا معنی خیز واقعہ تھا ۔ اس کے پیچھے کون ہے اس کا سراغ تو یقینی طور پر ایجنسیاں لگا رہی ہوں گے ۔ عنقریب اس میں ملوث کردار کیفر کردار تک بھی پہنچ ہی جائیں گے ۔ پر اس واقعہ سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پھنسا رہے ۔ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل نہ ہوسکے ۔ کوئی ہے جو مسلسل پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی طور پر سازشیں جاری رکھے ہوئے ۔ اس ہی بارے چند روز قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بغیر کسی لگی لپٹی نام لے کر کہا تھا کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا تھا اس سے واضح ہو گیا تھا کہ معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔ اور پہلے سے معلوم تھا کہ اس بار کوئی ریلیف نہیں ملنا ۔

    ۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں انڈیا کو قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ ساتھ ہی اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جاتا ہوا ہی نظر آ رہاتھا۔ کیونکہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کو ایک سائیڈ پر بھی رکھ دیں تو دوسری جانب افغانستان والا معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے پاکستان بڑھتا ہوا پریشر بھی آپ کے سامنے ہے ۔ تو افغان صورتحال کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا آپ رد نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں کئی حکومتی نمائندے جیسے کہ معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے خود ایسے بیانات دیے گئے ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد نہ کیا جائے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں سے یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف اس طرح کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد ایف اے ٹی ایف اور اس جیسے دیگر فورمز کو پاکستان کے خلاف استعمال کیاجانا مقصود ہے ۔

    ۔ دوسری جانب جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی فورمز تکنیکی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ویسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ ہونا ایف اے ٹی ایف کی اپنی ساکھ کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ورنہ ایسے فورمز پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے جو کہ ہو رہا ہے کیونکہ سیاست استعمال ہو رہی ہے۔ مگر طاقت کا اپنا اصول ہوتا ہے ۔ اس چیز کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جس کو استعمال کرکے بڑے ممالک چھوٹوں کو سرنگوں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    ۔ اس حوالے سے پاکستان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا اور اپنا house in order کرنا بھی ضروری ہے ۔ سازشوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنی بے وقوفیوں پر بھی نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک نمائندہ یا ترجمان ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی وقت کئی حکومتی وزرا اس حساس موضوع پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک فردوس عاشق اعوان بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے دیتی رہتی ہیں ۔ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ کئی ترجمان اور وزراء اپنے اپنے نمبر ٹانگنے کی چکروں میں ایف اے ٹی ایف پر سیاسی بیانات کا جواب دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو نیچا دیکھانے کے لیے بلاوجہ کے گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں ۔ جس سے ہمارا کیس عالمی برادری کے سامنے کمزور ہو جاتا ہے اور جو مخالفین ہیں ان کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    ۔ کیونکہ انڈین میڈیا میں خبریں اور تجزیے دیکھ کر اور پڑھ لیں آپکو واضح تصویر پتہ چل جائے گی کہ انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے۔ اس وقت بھی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے تو وہاں پرخوب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جا رہے ہیں ۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ادارے اور قیادت بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنا چکے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں رہے لیکن اب بھارت چاہتا ہے کہ مزید سوالات اور اعتراضات ہوں۔ اور پاکستان پھر سے پیچھے کے طرف جائے اور گرے سے نکل کر کسی طرح بلیک لسٹ میں شامل ہو ۔ یوں ہم ایف اے ٹی ایف کے گھن چکر میں پھنسے رہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات دیکھ لیں ۔ ساتھ ہی انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا تو رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔ جس کا وہ اس صورتحال میں فائدہ اٹھاتا ہے ۔ ۔ دوسرا سازشی تھیوریوں پر بھی کم دھیان دینا چاہیئے جیسے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستانی وزارت خزانہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ انٹرنیشنل ۔۔۔ کوآپریشن ریویو گروپ ۔۔۔کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فرانس پاکستان کا ایک فعال پارٹنر ہے جو تکنیکی معاونت اور ہدایات فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسی کے پس منظر میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ افواہوں پر مبنی یا سسنی خیز خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے ہمارے بین الاقوامی تعاون اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔ دیکھا جائے تو ایف اے ٹی ایف کی اس وقت رہ جانے والی سفارشات پر پاکستان نے بھرپور کام کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہے ہیں ۔ ان کا بھی پاکستان جواب دیتا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔ بالکل جائز خواہش تھی ۔

    ۔ مگر دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی شفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بڑی شدید لابنگ اور بہترین سفارت کاری کی ضرورت بھی ہے۔ اور اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ ۔ کیونکہ جب ایف اے ٹی ایف کے سربراہ
    Dr. Marcus Pleyer سے سوال پوچھا گیا کہ کیا باقی ماندہ ایک آئٹم پورا کرنے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایکشن پلان پر بھی عمل در آمد گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک آئٹم جو کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سزاؤں سے متعلق ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔ ۔ دوسری جانب اس موقع پر اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی نے بھارت میں یورینیم کے لیک اور بھارت کے جائزے پر سوال کیا جس پر ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا۔ میں یورینیم سے متعلق میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں مگر جب تک ہم ان کا جائزہ نہ لے لیں تب تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تو اس سے آپ اس فورم کی baisness
    کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ۔ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔ تو ہم کو vigilant رہنے کی بھی ضرورت ہے اور عقل وفہم کا استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے ۔ ۔ ہم کو یاد رکھنا چاہیے اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے۔ وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ اور افغانستان کا غصہ پاکستان پر نکالنے کی راہ تلاش کر رہا ہے ۔

  • نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن ان دونوں نگر کے نوجوانوں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی حقوق کو لیکر سڑکوں پر ہیں آج ہم صحت کے مسائل پر بات کریں گے کہ آخر نگر میں صحت کے اتنے گھمبیر صورتحال کیسے پیدا ہوئے اور ان کا حل کیسے ممکن ہیں سب سے پہلے نگر میں موجود ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کا جائزہ لینگے اور سرکاری اعداد شمار پر ہی بات کریں گے۔
    ضلع نگر میں اس وقت دو 30 بیڈ ہسپتال ہیں ایک حلقہ پانچ نگر خاص اور ایک حلقہ چار سکندر آباد میں، نگر خاص کے ہسپتال میں کل 149 آسامیاں ہیں جن میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت گریڈ 1 تک کے ملازمین شامل ہے لیکن سرکاری کاغذات اور زمینی حقائق میں بہت بڑا تضاد ہے 30 بیڈ ہسپتال کے لئے 149 ملازمین کی ضرورت ہے جبکہ سرکار نے اب تک صرف 53 آسامیاں پر ملازمین بھرتی کی ہے اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیا ہم 53 ملازمین سے دن رات بھی کام لئے تو 96 ملازمین کی کمی کو پوری کر سکتے ہیں اس سے بھی سنگین صورتحال 30 بیڈ سکندر آباد ہسپتال کے ہیں جہاں کل آسامیاں 149 ہیں اور بھرتی ملازمین کی تعداد صرف 27 ہے جبکہ اس ہسپتال میں ہنزہ نگر سمیت شاہراہ قراقرم پر ہونے والے تمام حادثات کے زخمی اور مریضوں کو فوری یہاں منتقل کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے صورتحال آپ کے سامنے ہیں ایسے میں کیسے 27 ملازمین 122 ملازمین کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں، افسوس علاقے کی عوامی نمائندے غفلت کے نیند سو رہیں۔
    نگر کے مصائب ابھی ختم نہیں ہوئے اسکرداس 10 بیڈ ہسپتال میں کے لئے 39 ملازمین بھرتی ہونے تھے لیکن ابھی تک کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا گیا ہے، میاچھر میں موجود ضلع نگر کی واحد مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال جس کو چلانے کے لئے سرکاری کاغذ میں 7 ملازمین کی ضرورت ہے کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا جاسکا۔

    اس کے علاوہ ڈاڈیمل نگر، اور سونی کوٹ چھلت نگر کے فرسٹ ایڈ سنٹرز کی بلڈنگز تو تعمیر ہوئے لیکن 7 میں سے کسی ایک ملازم کو بھرتی نہیں کیا گیاہے یہ صرف چند علاقوں کے کے تفصیلات ہیں باقی علاقوں میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
    نگر کے مصائب بہت زیادہ ہیں جن کو ایک کالم میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے یہاں کے عوام اکیسویں صدی میں بھی صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے گزشتہ 30 سالوں سے عوام کے درمیان اتنے نفرتیں پیدا کی ہے جس کے بدولت یہاں بھائی بھائی کا دشمن بنا ہے عوام تقسیم در تقسیم ہیں سیاسی و مذہبی لوگ اپنے ذاتی مفادات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو مشترکہ مفاد کا خیال ہی نہیں لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں نگر کے نوجوانوں کو چاہئے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی، طلبہ یا علاقے جماعت سے ہے اس وقت نگر کے حقوق کے لئے ایک ہونے کی بھرپور کوشش کر رہیں اور کسی حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں جن میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت کے ملازمین کی نوٹیفکیشن سمیت باب نگر کے ایشوز کو بہت ہی احسن طریقے سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہیں۔
    نگر کی ضلعی انتظامیہ خصوصآ ڈپٹی کمشنر نگر جناب ذوالقرنین حیدر خان اور ڈی ایچ او نگر، ایس پی نگر کی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی قابل ذکر اور خوش آئند بات ہیں گلگت بلتستان خصوصآ نگر میں ایسا پہلے بار ہو رہا نوجوان اور ضلعی انتظامیہ مل کر مسائل کو حل کرنے مصروف ہیں۔
    ہماری دعا ہیں اللہ تعالٰی ان تمام لوگوں کی توقعات میں اضافہ فرمائیں جو خالق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ آمین

  • آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آج کافی دنوں بعد بڑی خبریں ہیں ۔ آج تمام چیزیں کھول کر آپ سامنے رکھوں گا کہ زرداری کا مشن لاہور کیا ہے ۔ کیسے جنوبی پنجاب محاذ دوبارہ سرگرم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن کے لیے کن چالیس لاکھ ووٹروں سے امید باندھ لی ہیں ۔ اور دو سال پہلے ہی جنرل الیکشن کی تیاری کیوں شروع ہوگی ہے ۔

    ۔ مگر ان سب چیزوں پر بات کرنے سے پہلے چند آج کی خبریں ہیں ۔ آئل ٹینکر والے احتجا ج رہے ہیں جس سے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت ہوسکتی ہے ۔ فلور ملز والے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قلت ہوسکتی ہے اور ریٹ اوپر جا سکتا ہے ۔ پھر سندھ میں گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے ۔ لاہور میں واسا نے پانی کے بلوں میں
    45
    فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ آئل ٹینکر والے اور فلور مل والے بھی اضافی ٹیکسوں کی ہی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ حالانکہ بجٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی بجٹ نے پاس ہونا ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا شروع ہوگئے ہیں ۔

    ۔ سیاست کی بات کریں تو کچھ ہفتے پہلے اپوزیشن میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا۔ اب وہ سرد پڑ گیا ہے ۔ لے دے کر شہباز شریف ہی دیکھائی دیتے ہیں ۔ مریم نواز کی گھن گرج بھی اب ختم ہوگئی ہے ۔ وہ بھی تب ہی میڈیا کو اپنا درشن کرواتی ہیں جب کوئی پیشی ہو ۔ ورنہ سب سے سستی شائد خاموشی ہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کبھی کبھی میڈیا پراپنا چہرہ دکھاتے ہیں لیکن ہیں وہ بھی خاموش ہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب لوگوں کو دیکھانے کے لیے ہو اور اندر کھاتے ایک بڑی پلاننگ چل رہی ہے ۔

    ۔ مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہٹ کر ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی ۔۔۔ ۔ اس تمام منظر میں مفاہمت کے بادشاہ اور سیاست کے جادوگر سابق صدر آصف زرداری آئندہ انتخابات میں سرپرائز دینے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ ۔ زرداری کی پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔ میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں۔ فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ جلد جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔ ۔ اس موقع پر پرویز الٰہی نے بھی بلاول بھٹو کی تعریف کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی بہت میچور بات کرتے ہیں۔۔ اس گفتگو سے حساب لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری میں کمر کس چکے ہیں۔

    ۔ اب یہاں زرا رک جائیں ایسا نہیں ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی اس پلاننگ سے غافل ہے یا ان کو پریشانی نہیں ہے ۔ یہ جو تارکین وطن کو ووٹ کا حق اور ای ووٹنگ کا شور ہے اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 88 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ان میں اضافہ بھی ہوا ہو گا ۔ اور کمی بھی ہوئی ہو گی ۔ ان میں چند لاکھ پاکستانی وہ بھی ہوں گے جن کے کاغذات کا مسئلہ ہو گا ۔ جو بطور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں تو کم و بیش چالیس سے پچاس لاکھ نئے ووٹر تو ہوں گے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ ۔ اب گزشتہ الیکشن میں کُل ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار ووٹ حاصل کیے تھے ۔ اسی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔۔ یوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹ میں چالیس لاکھ کا فرق ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے اٹھاون لاکھ جبکہ پی ٹی آئی سے ننانوے لاکھ ووٹ پیچھے ہے۔ ۔ اب اگر مقبولیت میں کمی بیشی کا حساب سامنے رکھیں تو شہروں میں مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہوا ہے۔ ۔ تو اس جمع تفریق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر اُمیدوں کا محور سمندر پار پاکستانی ہیں۔ اس لیے یہ حکومت ہر حال میں جائز ناجائز طریقے سے ان کو ووٹ کا حق اور سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ صرف یہ ہی ایک واحد صورت باقی رہ گئی ہے جس کے بدولت وہ دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں ورنہ تو جو کارکردگی ہے اس بنیاد پر تو شاید اس بار پی ٹی آئی کے پی کے میں بھی حکومت نہ بنا سکے ۔ ۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی ہر قیمت پر انتخابی اصلاحات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ ووٹ بینک کہاں جانا ہے اور یہ فیصلہ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ۔ اب جو بات زرداری کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں نقب لگائیں گے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سالوں میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا ہے ۔

    ۔ اگرآپ کو یاد ہو تو جس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا کر جنوبی پنجاب کے سیاستدان تحریکِ انصاف سے بالواسطہ طور پر منسلک ہوئے تھے تو تحریکِ انصاف کی ایک لہر موجود تھی۔ لوگ ایک نئی سیاسی جماعت کو آزمانے کے موڈ میں تھے۔ تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ اس پر جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی فتح ملی تھی۔ پر اب صورتحال یہ ہے کہ شاید تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے اپنی جیتی ہوئی نشستیں حاصل نہ کر سکے۔

    ۔ زرداری نے اس چیز کو پڑھ لیا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان مجبوری میں اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ ۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔۔ یہاں آپکو یاد کروا دوں کہ جنوبی میں زیادہ تر electables ہیں ۔ جن کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ ہی electables جب ن لیگ میں گئے تھے تو ان کی حکومت بن گئی تھی اور جب یہ ہی گزشتہ الیکشن میں ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں گئے تو ان کی حکومت بن گئ تھی ۔۔ شاید اسی لئے زردری کو یہ امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوگیا تو یہ ایک بہت بڑا کرشمہ ہوگا۔۔ سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستیں اگر پیپلز پارٹی کو مل گئیں تو اگلے الیکشن میں مرکز میں پیپپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک ۔۔۔ کے پی کے ۔۔۔ کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔۔ یوں جنوبی پنجاب اور کے پی کے سے اگر آصف زرداری کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں وفاق پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یوں اگر پیپپلز پارٹی اگلے الیکشن میں 90کے قریب سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ جوڑ توڑ کرکے ، ق لیگ ، جے یو آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بآسانی وفاق میں حکومت بنا سکتی ہے ۔

    ۔ اس لیے فی الحال جنوبی پنجاب کے امیدواروں پر ’’باریک بینی سے کام‘‘ شروع کئے جانے کی اطلاعات نے حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچائی ہوئی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ وہ بات جو عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سوچی مگر دبا لی۔ اس نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی جماعت اندر خانے کام کرنے میں مصروف ہے ۔ یوں تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن میں ہوجائے گا ۔

  • آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں
    پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنے اور
    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہشمند ہیں، عام انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی پارٹیاں اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امید وار ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ضمن میں کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار 2021 کے انتخابات میں اپنے کارکنوں اور انتخابی ٹیموں کو منظم کرنے اور ووٹروں کو پولنگ کے لیے متحرک کر کے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں جیسا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کا تعلق بیرون ملک سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے خواہشمند بھی ہیں. لہٰذا اطلاعات کے مطابق کئی سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے winelection.ai کی اس ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی کے لیےکانسٹچوینسی مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس ) بنایا اور اس پر عملدرآمد کرایا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے اس سسٹم کی افادیت کے بھرپور اعتراف کے ساتھ ساتھ نیوز ایجنسی رائٹرز اور معروف بین الاقوامی اخبارات نے انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ میں، پی ٹی آئی کی کامیابی میں سی ایم ایس کے نمایاں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ایک کلیدی ہتھیار قرار دیا تھا. جس کے ذریعے پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل الیکشن ڈے مینجمنٹ کی مکمل تیاری کے علاوہ اپنے تمام ووٹروں کی نشاندہی، پولنگ کے دن تمام ووٹروں سے رابطہ، پولنگ اسٹیشن ٹیموں کے ذریعے ہر ووٹ کی کاسٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں سے بروقت نتائج کا حصول یقینی بنایا تھا. پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی اکثریت نے عمران خان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں سی ایم ایس پر عملدرآمد کرایا تھا. جس کی بدولت ان علاقوں میں بھی جہاں رابطے کے دیگر ذرائع ناقص تھے، وہ اپنے ہر ووٹ کے حصول میں کامیاب رہے جبکہ دیگر پارٹیاں ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئیں تھیں.

  • حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ملاقات کی ہے. صوبائی وزراء راجہ بشارت اور چودھری ظہیر الدین بھی اس موقع پر موجود تھے، باہمی دلچسپی کے امور، بجٹ اجلاس، ورکنگ ریلیشن اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے.

    وزیراعلی نے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلانے پر چودھری پرویز الہی کی تعریف کی ہے،
    وزیر اعلیٰ کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 560 ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے، اپوزیشن عوام دوست بجٹ پر تنقید کر کے عوام سے دشمنی کر رہی ہے، سیاسی تماشا لگانے کی ہر سازش کو ملکر ناکام بنایا جائے گا، عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اتحادی جماعت سے مل کر کام کر رہےہیں اور کرتے رہیں گے، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے، اتحادی جماعت کو ہر موقع پر ساتھ لیکر چل رہے ہیں، پی ڈی ایم کا اکٹھ بکھر چکا، ہم ایک پیج پر ہیں اور ایک رہیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے صرف سازشیں کیں اور ان عناصر کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، سازشیں کرنیوالے پیچھے رہ گئے اور ہمارا اتحاد آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،

    چودھری پرویز الہی نے کہا کہ عوام دوست پر وزیراعلی عثمان بزدار کے اقدامات کو سراہا گیا، تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، موجودہ حالات میں انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہمارا نصب العین صرف عوام کی خدمت ہے.

  • وزیراعظم کی  ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم عمران خان سے ارکانِ قومی اسمبلی نے ملاقات کی.

    ملاقات میں مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر، ارکانِ قومی اسمبلی عاصم نذیر، رضا نصر اللّہ گھمن، خرم شہزاد اور صنعت کار شاہد نذیر نے ملاقات ٰکی ہے، ملکی سیاسی صورتحال، بجٹ میں عوام کے ریلیف اور صنعتوں کی سہولت و ترقی کیلئے کیے گے اقدامات پر گفتگو کی ہے، عاصم نذیر نے وزیرِ اعظم کو ٹیکسائل شعبے سے متعلقہ معاملات خصوصا موجودہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے شعبہ جات کا فروغ اور ترقی برآمدات میں شعبے کے کردار سے متعلق تفصیلی بریف کیا ہے. شعبے کی مزید بہتری و فروغ کے حوالے سے حل طلب معاملات اور تجاویز بھی پیش کی ہیں.