Baaghi TV

Category: سیاست

  • مبشر لقمان صاحب کا مشکور ہوں کہ ہماری آواز بنے ، میاں مصطفی رشید سیکرٹری جنرل مسلم لیگ فنکشنل

    مبشر لقمان صاحب کا مشکور ہوں کہ ہماری آواز بنے ، میاں مصطفی رشید سیکرٹری جنرل مسلم لیگ فنکشنل

    سیکرٹری جنرل مسلم لیگ فنکشنل میاں مصطفیٰ رشید کا کہنا ہے کہ وہ مبشر لقمان صاحب کا مشکور ہیں کہ وہ ہماری آواز بنے اور اس مشکل کی گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا –

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے راوی ریور فرنٹ کے نام سے پراجیکٹ کا افتتاح کیا تھا جس پر اہل علاقہ جن کی زمینیں اس پراجیکٹ میں آ رہی ہیں انہوں نے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا تھا جس میں پاکستان کے سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے ان مصیبت زدہ لوگوں کی آواز بنے اور اس مشکل کی گھڑی میں غریب عوام کی رہنمائی کی-


    اس حوالے سے سیکرٹری جنرل مسلم لیگ فنکشنل میاں مصطفی رشید نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مبشر لقمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مبشر لقمان جیسے سینئیر دوستوں نے ہمارے احتجاج کے پہلے روز ہی ہماری رہنمائی کی بہت شکریہ مبشر بھائی-

    میاں مصطفی رشید نے مسئلے کے حوالے سے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راوی ریور فرنٹ کے جتنے قانون موجودہ وزیراعظم عمران خان ، گورنر چوہدری سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب قومی اسمبلی سے جو ایکٹ پاس کیا ہے اور جو اتھارٹی بنائی ہے اس سے ہم اہل علاقہ اس اتھارٹی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس اتھارٹی کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے اور انشاءاللہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ ہمارے حقوق کے اوپر لینڈ مافیا قبضہ نہیں کر سکتے-

  • ایاز صادق شرم مگر تمہیں نہیں آتی، فوج کے خلاف بیان مہنگا پڑگیا  لاہور یے برس پڑے

    ایاز صادق شرم مگر تمہیں نہیں آتی، فوج کے خلاف بیان مہنگا پڑگیا لاہور یے برس پڑے

    ایاز صادق کو فوج کے خلاف بیان دینا مہنگا پڑ گیا ایاز صادق شرم تم کو مگر آ تی نہیں لاہوریے ایاز صادق پر برس پڑے-

    باغی ٹی وی : فوج کے خلاف بیان دینے پر لاہوریوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس بیان کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا –

    لاہور کے ایک شہری کا باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے ایاز صادق کو یہ بات ہر گز نہیں کرنی چاہیئے تھی پاکستان نے عالمی شہرت پر مبنی کامیابی حاصل کی تھی اور انہوں نے اپنے اس بیان سے پاکستان کا امیج انہوں نے خراب کیا ہے-

    شہری کا کہنا تھا کہ ہمارے دنیا بھر میں پہلے ہی حالات اچھے نہیں اور اب پاکستان کا عالمی سطح پر امیج کچھ بہتر ہونے لگا ہی تھا یہ اب انہوں نے ایک نئی سیاست شروع کر دی ہے جو پاکستان کے لئے اچھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان نے اُس وقت جو قدم اٹھایا تھا اس کے بعد دشمن نے پاکستان کے خلاف کوئی اٹھانے کی دوبارہ جرات نہیں کی-

    شہری نے مزید کہا کہ ابھینندن کو انڈیا کے حوالے کر کے پاکستان نے ایک بہت اچھا پوزیٹیو اقدام کیا تھا امن کا قیام کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا ابھینندن انہیں واپس دیا تھا اور پاکستان نے بتا دیا کہ ہمارا ڈیفینس اتنا کمزور نہیں ہے اورانڈیا کے جس جنرل صاحب نے اس کو ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس وقت تو ہماری اندرونی سچویشن کو کیش کرتے ہوئے ایڈوانٹیج لے رہے ہیں-

    شہری کا مزید کہانا تھا کہ الحمداللہ پاکستان کی فوج دنیا کی نبر ون فورس ہے لیکن یہ پوری دنیا میں ہماری فورسز اور ائیر فورس کا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کے لئے اچھی بات نہیں ہے انڈیا کی اوقات نہیں پاکستانی فوج کا مقابلہ کرنے کی پاکستان کی فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے-

    ایک شہری نے کہا کہ اگر اپنی فوج کو بُرا بھلا کہیں گے تو آپ ہی برے بنیں گے فوج ہمارے لئے ہے نہ کہ وزیروں کے لئے ہم ہمیشہ فوج کے ساتھ ہی ہیں -شہری نے کہا کہ ابھینندن کو وہ لے کر نہیں گئے ہم نے چھوڑا ہے اور اس لئے چھوڑا ہے کہ دونوں ملکوں میں پیار محبت بڑھے نہ کہ وزیروں میں-

    ایک شہری نے باغی ٹی وی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایاز صادق کا بیان تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے انہوں نے اس طرح نہیں کہا تھا جس طرح پیش کیا جا رہا ہے شہری نے کہا کہ ایا ز صادق نے بیان پاکستان کے حق میں دیا ہے جسے اب تروڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے انہوں نے ترجیح انڈیا کو نہیں دی بلکہ پاکستان کے حق میں بات کی تھی –

    شہری نے کہا کہ سیاست ایسی چیز ہے جس میں انسان اپنی ماں کو بیچ دیتا ہے-ساتھ ہی شہری نے کہا کہ فوج کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں یہ بات بالکل غلط ہے اور ایسی بات کوئی غدار ہی کر سکتا ہے –

    ایک شہری نے کہا کہ یہ بالکل بھی بیان ٹھیک نہیں تھا کہ ابھینندن کو کسی ڈر کی وجہ سے چھوڑا تھا ہمارا معاشی نظام انڈیا کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے اس لئے چھوڑا تھا اور یہ بھی اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے انہوں نے سیاست میں یہ بات کی-

    شہری نے کہا کہ اور یہ تب نہیں بولے تھے جب انہوں نے کہا تھا کہ چھوڑ دینا ہے پہلے کمیٹی بیٹھی چھوڑنے سے پہلے اس وقت اپوزیشن والے کچھ نہیں بولے اب اسے چھوڑ دیا اور اتنا عرصہ گزر گیا اب ان کو یہ بات یاد آئی اس وقت کیوں نہیں یاد آئی تھی پاکستان کی فوج کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کی فوج دنیا میں پہلے نمبر پر ہے پاکستان کی فوج جیسی کوئی فوج ہو ہی نہیں سکتی-

    شہری نے کہا کہ اس لئے انڈیا خود ڈرتاہے پاکستان سے پنگا لیتے ہوئے 10 مرتبہ ان کے آرمی جنرل نے کانفرنس بلا کر اعلان کیا ہم جنگ کرنے کے لئے تیا رہیں لیکن جب پاک فوج آگے سے ایکشن دیتی ہے تب ڈر کر بیٹھ جاتے ہیں اگر اتنے بہادر اور اس قابل ہوتے تو اب تک جنگ نہ ہوجاتی ایاز صادق کو یہ بیان نہیں دینا چاہیئے تھا یہ بالکل غلط ہے اگر اس پر آتے ہیب تو تب ہی بولنا چاہیئے تھا جب اسے یعنی ابھینندن چھوڑا تھا –

    ایک اور شہری نے ایاز صادق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط بات ہے یہ ایاز صادق کی چھوٹی سوچ ہے سب سے پہلی بات یہ کہ پاکستان کی فوج کسی سے نہیں ڈرتی فوج کے عالوہ الحمداللہ جو سچا مسلمان ہے وہ کسی بھی غیر مذہب سے نہیں ڈرے گا کلمہ پڑھنے والا اللہ کی راہ میں جان دے بھی سکتا ہے اور لے بھی سکتا ہے یہ غلط ہے کہ ہندوؤں سے ڈر کر ابھینندن کو چھوڑا گیا ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ تو بس چاہت کی وجہ سے تھوڑا اور ان کو دکھایا ہے کہ پاکستانیوں کا دل بہت بڑا ہے پاکستان اسے قید بھی کر سکتاتھا سزا بھی دے سکتا تھا لیکن ہم نے انہیں سزا نہیں دی ہمارا دل بہت بڑا ہے ہم پاکستانی کسی سے بھی نہیں ڈرتے-

    واضح رہے کہ ایاز صادق نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں ابھینندن کی رہائی کے حوالہ سے بیان دیا تھا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی ایاز صادق کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور عوام نے غم و گصے کا شدید مظاہر کرتے ہوئے ایاز صادق کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اسلام آباد میں ایک شہری نے ایازصادق کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی ہے ، اس درخواست میں کہا گیا ہےکہ سردارایازصادق ملک وقوم کونقصان پہنچانے والے بیانات نے بھارت کوبہت زیادہ فائدہ پہنچایا ہے-

    درخواست گزار نے کہا تھا کہ ان کی عقل کے مطابق ایاز صادق ایک انڈین ایجنٹ کا کردار ادا کررہے تھے اور وہ پاکستان کی سلامتی اور عزت پر کھلم کھلا حملہ کررہے تھے جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایازصادق کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    اس کے بعد ن لیگی رہنما ایاز صادق کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ابھینندن سے متعلق بھارتی میڈیا پر میرے بیان کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ابھینندن کے جہاز کو گرانا پاکستان کی فتح تھی ،وزیر اعظم نے کیوں اپوزیشن کا سامنا نہیں کیا وہ جانتے ہیں،ابھینندن کے دینے کی کوئی جلدی نہیں تھی تھوڑا انتظار کر لیتے،وزیراعظم نےوزیر خارجہ کےتوسط سے کہلوایا کہ ابھی نندن کو فوری بھارت کےحوالے کرنا ہے،میٹنگ میں تاخیر کی کیا وجہ تھی کیا وہ مودی سے ڈکٹیشن لے رہے تھے وزیراعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کی ابھی نندن سے متعلق میٹنگ بلائی جو تاخیر کا شکار ہوئی،ابھی نندن پاکستان مٹھائی بانٹنے نہیں آیا تھا،اس نے پاکستان پر حملہ کیا تھا،

    ایاز صادق اکیلا نہیں، ہم ساتھ ہیں، اہم شخصیت ایاز صادق کے گھر پہنچ گئی

    مودی کا جو یار ہے،ایاز صادق غدار ہے،لاہور کی سڑکوں پر بینرز لگ گئے

    غداری کا مقدمہ، کیپٹن ر صفدر کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    مولانا فضل الرحمان نے بھی ایاز صادق کے بیان کی حمایت کر دی،کہا ایاز صادق نے سنجیدہ بات کی

    میرے پاس قومی سلامتی کے بے شمار راز،معافی نہیں مانگوں گا،ایاز صادق

    ایاز صادق کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لیے درخواستیں،وزیر داخلہ کا ردعمل آ گیا

    حساب لیا جائے گا کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،شبلی فراز کا دبنگ اعلان

    تحریک انصاف نے بھی ایاز صادق کے خلاف درخواست دائر کر دی

  • ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :28اکتوبر 1973 مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق صدر نواز شریف اور بیگم کلثوم کے گھر پیدا ہونے والی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں-

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے کے باعث مریم نواز کی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں ہیں۔

    ٹوئٹر پر لیگی کارکنان اپنی لیڈر کو سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اسی حوالے سے ایک ٹرینڈ بھی ’#HBDMaryamNawaz‘ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر سرفہرست ٹرینڈز میں شامل ہے۔

    مذکورہ ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کے چاہنے والے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اُن کی یادگار تصویریں بھی شیئر کررہے ہیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ مریم بی بی نے پشاور دھماکے کے سوگ میں غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیلئے اپنی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردیں۔


    حنا بٹ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ پارٹی ورکرز نے مریم بی بی کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کررکھا تھا۔

    اپنی ایک اور ٹوئٹ میں حنا پرویز نے مریم نواز کی تصاویر کا ایک کولاج شئیر کرتے ہوئے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ آج اس بہادر خاتون کی سالگرہ ہے جس نے پاکستان کے لوگوں کوخوف کی زنجیریں توڑنا سکھایا۔اسے ڈرایا ،دھمکایا گیا مگر وہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی سے نہیں ڈرتی۔


    لیگی رہنما نے لکھا کہ میں کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کو مریم نواز کی صورت میں مستقبل کی لیڈر مل گئی۔ مستقبل کی وزیراعظم کو سالگرہ مبارک-

    https://twitter.com/S_RAJ5/status/1321319574449623040?s=20
    مریم نواز کے مداح ان کی بچپن سے اب تک کے زندگی کے سفر کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے مریم نواز کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ٹوئٹر صارفین نے مریم نواز کو پاکستان کی مستقبل کی وزیراعظم قرار دیا-
    https://twitter.com/AizaMalik22/status/1321326497165180928?s=20


    https://twitter.com/Hafsa_RG/status/1321314499517915136?s=20


    https://twitter.com/R_ShoaibWardag/status/1321374040850944001?s=20

    واضح رہے کہ رواں ہفتے لاہور سے کوئٹہ جاتے ہوئے مریم نواز پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کیا کیک کاٹا تھا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو ئیں تھیں جبکہ اس سے قبل بھی گوجرانوالہ میں بھی پارٹی کارکنو‌ں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا تھا-

    خیال رہے کہ مریم نواز 28اکتوبر 1973 میں پیدا ہوئیں اور 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    2013 میں اپنے والد میاں نواز شریف اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کی انتخابی مہم بھی چلائی مریم نواز چئیر پرسن آف شریف ٹرسٹ، شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کےعہدوں پر بھی فائز رہیں۔

    مریم نواز 25 جولائی کو ہونے والے الیکشن میں 127 اور پی پی 173 سے مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدوار تھیں تاہم عدالت سے نااہل ہونے کے بعد وہ الیکشن نہیں لڑسکیں۔

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    کوئٹہ جلسے میں مریم نوازکو بلوچی چادر پیش کرنے والا نامی گرامی مجرم نکلا

    مریم کی نیب پیشی پر ہنگامہ آرائی کیس، ن لیگی کارکن کی درخواست ضمانت خارج

    مریم نوازنےسالگرہ کا کیک کاٹ کرکارکن کے منہ ڈالا،کیپٹن صفدردیکھتےرہ گئے،ایک ہفتے…

     

  • شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    27 اکتوبر (آج بروز منگل) کو قفاقی ویز ریلوے شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ہیش ٹیگ پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور ابھی سہ پہر تک اس ArrestSheikhRashid # ٹوئٹر پر دوسرے نمبر ہے اور اس کے حوالے سے 6 ہزار 60 ٹوئٹس میں تبصرے کئے جا چُکے ہیں-

    باغی ٹی وی : یہ ٹرینڈ اس وقت سامنے آیا جب دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ کے بعد آج دوسرا دھماکہ پشاور میں ایک مدرسے میں ہوا اور لوگوں نے سیخ رشید کے اس بیان پر جو انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے دیا تھا کی وجہ سے شیخ رشید کو ان سانحوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اس ٹرینڈ کے ذریعے وفاقی وزیر کی گرفتاری اور انویسٹی گیشن کا مطالبہ کر دیا-

    واضح رہے کہ شیخ رشید نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے اپنے پغام میں کہا تھا کہ میں نے پی ڈی ایم کو کہا تھا کہ جلسے نہ کرو کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے ، کورونا پھیل سکتا ہے،دہشت گردی ہو سکتی ہے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو چُکے ہیں کوئٹہ پشاور میں کوئی واقعہ ہو سکتا ہے کوئٹہ اور پزاور کے لئے دعا گو ہوں- شیخ رشید کے اس بیان کے بعد سے ہیش ٹیگ شیخ رشید کو گرفتارکرو کا ٹرینڈ سامنے آیا اور لوگوں نے تبصروں میں اپنے مطالبات پیش کئے اور شیخ رشید کے اس بیان پر سوالات اُٹھائے-


    ایک ٹوئٹر صارف نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وزیر داخلہ کے بجائے وزیر ریلوے کیسے واقف تھے ؟؟؟
    https://twitter.com/Imran_0U/status/1321028678084661252?s=20
    امان اللہ نامی صارف نے لکھا کہ اس شخص کو گرفتار کریں وہ پشاور میں ہونے والے اس دھماکے کے پیچھے ماسٹر مین ہے-


    رمضان نامی صارف نے لکھا کہ اس کا مطلب ہے اس کے بارے میں پہلے ہی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی-


    ماجد نامی صارف نے لکھا کہ کچھ دن پہلے ، شیخ رشید ، جو وزیر اعظم عمران خان کا ایک خاص آدمی تھا دہشت گردوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے ہوسکتے ہیں۔ آج بھی وہی ہوا ہے۔ ہم پشتونوں کی مذمت کرتے ہیں ۔


    https://twitter.com/arshadsherani/status/1321025228030545920?s=20
    ارشد سہرانی نامی صارف نے لکھا کہ شیخ رشید سب کچھ جانتے ہیں اور دھماکے کے بارے میں انھیں کس نے بتایا۔ وہ وزیر داخلہ تو نہیں ہیں بلکہ کچھ لوگوں کا ترجمان بھی ہے۔


    مبین نور علی نامی صارف نے متعلقہ حکام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چونکہ سب سے زیادہ دانشور آدمی ، شیخ رشید ، وزیر ریلوے جو ہر سیاسی معاملے میں دخل اندازی کرتا ہے ، کوئٹہ اور پشاور میں دھمکیوں کے بارے میں پہلے ہی جانتا تھا پھر متعلقہ حکام نے پہلے ہی متعلقہ اقدامات کیوں نہیں کیے؟


    اعجازالحق نامی صارف نے شیخ رشید کو ایک بڑا دہشت گرد قراردیا-


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹھیک ہے. اگر آپ گرفتاری نہیں کرسکتے ہیں تو پھر اس سے اپنا منہ بند رکھنے کو کہیں۔اس منحوس بندے کو چپ کراؤ-


    ایم صابر محمود نامی صارف نے لکھا کہ امید ہے یہ ٹرینڈ آج رات کے ٹاک شوز میں ڈسکس ہوگا اور شیخ رشید سے دہشت گردی کی پیشگوئی بابت سوال ہونگے –


    سلیم سلیمانی صارف نے لکھا کہ اس پریس کانفرنس کو سامنے رکھتے ہوئے پشاور اور کوئٹہ دھماکوں کی ایف آئی آر شیخ رشید کے خلاف درج ہونی چاہیے اور انکو شامل تفتیش کرنا چاہیے۔


    ارم نامی صارف نے لکھا کہ ذمہ دار عمران نیازی اور اسکے لانے والے ہیں یاد کریں جب نیازی شیطان دھرنہ ختم کروانا چاہتا تھا تب بھی پشاور کے سکول میں دھماکہ کروا کر کتنے معصوم جانوں سے کھیلا گیا تھا اس وقت مُلک شیطانوں کے نرغے میں ہے جو اپنے گناہوں کا ذمہ دار دہشت گردوں کو قرار دے کر بری ہوجاتے ہیں۔
    https://twitter.com/MalikMahboobSul/status/1321027041182048256?s=20
    ملک محبوب نامی صارف نے لکھا مجھے إن دھماکوں کا کُھرا شیخ رشید تک کیوں لے کر جارہا ہے-
    https://twitter.com/Ladla74/status/1321028664885153793?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور دھماکہ یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کوئی بھی درد دل رکھنے والا شخص یہ نہی دیکھ سکتا جو بھی اس سانحے میں ملوث ہے ان سب کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے –


    میاں رمضان شفیق نامی صارف نے سیکیورٹی ایجنسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ پی ڈی ایم جلسے میں سکیورٹی رسک کی انفارمیشن سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے سے موجود تھی اور یہ جو پشاور میں ہوا ہے اُس وقت سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی تھی؟ اب عوام ہوش کے ناخن لے اصل دہشتگرد گروہ کون ہے مُلک میں وہ اب اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کی خاطر ملک تباہ-


    ارشد سلیم خان نامی صارف نے لکھا کہ اللہ کے جانب سے وحی کا نظام تو 1300 سال پہلے ختم ہوگیا ہے-تب شیدا ٹلی کو کیسا پتہ چلا کہ دھماکہ ہوگا؟


    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور اور کوئٹہ میں دھماکوں کی خبر تین دن پہلے شیخ رشید نے دی تھی یا تو دھماکے کرنے والے کو خبر ہوتی ہے یا کرانے والے کو اس لیے تحقیقات کا آغاز شیخ رشید سے کیا جائے-


    ایک صارف حمید اللہ نے لکھا کہ دیکھتے ہیں، کب جی آئی ٹی بنتی ہے؟ کب قومی قیادت سر جوڑ کر بھیٹتی ہے؟ اور کب نیشنل ایکشن پلان بنتا ہے؟ اور ہاں کب دہشت گردوں کے ترجمان شیخ رشید کو گرفتار کیا جاتاہے؟؟


    https://twitter.com/HasnaDasti/status/1321028095449681920?s=20

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 7 افراد شہید اور 100 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا۔ مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں، ریسیو ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا-

    خیال رہے کہ اس سے دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ میں بھی دھماکہ ہوا تھا جس مین کافی جانی مالی نقصان ہو اتھا-

    پشاور میں دھماکا، مدرسے کے 5 طلبا جاں بحق، 50 زخمی

    مشکوک شخص مدرسے میں آیا اور یہ چیز چھوڑ کر گیا جس کے بعد دھماکہ ہوا، پولیس

    پشاورمدرسے میں دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیو

    مدرسے میں کلاس جاری تھی،مہتمم پڑھا رہے تھے، اچانک دھماکہ ہو گیا، کلاس کی ویڈیو وائرل

    ریسکیو 1122 نے کتنے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا؟ زخمیوں کو خون کاعطیہ دینے کی اپیل

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    یوم سیاہ کشمیر کے باعث دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے

    پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑا اعلان

    پشاور دھماکہ، آصف زرداری بھی خاموش نہ رہ سکے، تنقید کے ساتھ مطالبہ بھی کر دیا

    پشاور دھماکہ، زخمیوں میں اضافہ،ہدف کون تھا؟ مدرسہ مہتمم نے کا بیان آ گیا

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    وفاقی کابینہ اجلاس، پشاور مدرسہ حملے بارے کیا ہوئی بات؟

    پشاور دھماکہ،دیر باجوڑ میں کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں،آئی جی کا انکشاف

    پشاور مدرسہ دھماکہ،اموات اورزخمیوں میں اضافہ

     

  • وینا ملک کا مریم نواز کو وزیر اعظم عمران خان سے تمیز سیکھنے کا مشورہ

    وینا ملک کا مریم نواز کو وزیر اعظم عمران خان سے تمیز سیکھنے کا مشورہ

    پاکستان شوبز انڈ سٹری کی نامور اداکارہ اوعر میزبان وینا ملک نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کو پاکستانی وزیراعظم اور سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چئیرمین سے تمیز سیکھنے کا مشورہ دے دیا-

    باغی ٹی وی : اداکارہ و میزبان اور پی ٹی آئی کی سپورٹر وینا ملک سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سیاسی بیانات بالخصوص ن لیگ اور مریم نواز شریف کے خلاف سیاسی اور غیر اخلاقی بیانات دینے کے باعث مشہور ہیں-

    وینا ملک مریم نواز کے خلاف بولنے اور بیانات دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس مین نازیبا اور غیر اخلاقی زبان کا ستعمال کرتے یوئے شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں جس پر وینا ملک شدید تنقید کی زد میں رہتی ہیں-

    حال ہی میں وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وینا ملک نے دو تصاویر شئیر کیں جس میں ایک تصویر ن لیگ کی نائب صدر کی کوئٹہ مین جلسے کے دورن کی ہے جس میں صوفے پر اپنی نشست پر بیٹھی ہیں جبکہ ایک غریب عورت مریم کے پاؤں کے پاس ہی زمین پر بیٹھی ہے اپنا مسئلہ بات رہی ہے جسے مریم نواز پوری توجہسے سُن رہی ہیں-


    وینا ملک کی شئیر کردہ دوسری تصویر وزیراعظم عمران خان کی ہے جو ایک تقریب میں بیٹھے ہیں اور ایک غریب عورت ان کے ساتھ رکھے گئے صوفے پر بیٹھی ہے –

    وینا ملک نے ان دونوں تصاویر کا فرق واضح کرتے ہوئے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جاہل عورت کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے جس میں سب سے پہلے تمیز ہے-

    وینا نے لکھا کہ تمیز جو گھر میں کسی نے نہیں سکھائی تو مریم نواز اب عمران خان سے سیکھ لے-

  • شیر دلان گجرات  میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    شیر دلان گجرات میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    یہ گجرات کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے دو بہادر بھائیوں میاں اکبر اور میاں مسعود کی ولولہ انگیز داستان حیات ہے۔ ان کے والد محترم الحاج میاں برکت علی صاحب انتہائی وضع دار ایک نیک آدمی تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار معتبر مدبر پنچایتی اور صلح جو مشہور تھے لوگ ان کی خوبیوں کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے تما ذی شعور ان کی اعلیٰ انتظامی و سماجی صلاحیتوں کے معترف تھے انہیں خوبیوں کی بدولت 19ویں صدی کے شروع میں انہیں عوامی نمائندگی کے لئے آگے لایا گیا اور سن 1920 میں بھر پور عوامی پذیرائی سے میونسپل کمشنر گجرات منتخب ہوئے-

    یہ انگریز دور حکومت میں گجرات میں کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے براہ راست انتخاب کے نتیجے میں یہ پہلی تقرری تھی بعد ازام میاں برکت علی پہلے منتخب وائس چئیرمین میونسپل کمیٹی بھی بنے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہرت کی منزلیں طے کرتے رہے-

    الحاج میاں برکت
    الحاج میاں برکت علی کارواباری صلاحیتوں کی سوجھ بوجھ سے بھی مالا مال تھے اور ان کی کاروباری ترقی میں بھی عوامی فلاح و خدمت ان کا مطمع نظر آتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے ٹرانسپورٹ کاروبار کا آغاز کیا اور عوام کو معیاری سستی بس فراہم کی اس سے نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب بھر کے عوام کو آمدو رفت میں بڑی آسانی حاصل ہو گئی-

    الحاج میاں برکت علی نے بحثیت چئیرمین گجرات پنجاب بس سروس کے معاملات کو بخوبی انجام دیا اور ضلع بھر کے ممتاز خاندانوں اور برادریوں کی بھی گجرات پنجاب بس سروس میں بطور ڈائریکٹر نمائندگی کی اور اپنی خدا ترس طبعیت کی بناء پر ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے-

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار تقسیم ہو گیا اور ان کے صاحبزادے میں محمد اکبر نے بحثیت چئیرمین پنجاب بس سروس گروپ بی ذمہداری سنبھالی اور کاروباری معاملات کا ادراک رکھنے کے ساتھ میاں محمد اکبر اپنے بزرگوں کی طرح عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھےاور سیاست ان کی گٹھی میں تھی اور الحاج میاں برکت کے دونوں صاحبزادے میاں محمد اکبر اور میں محمد مسعود اختر سیای معاملات مین والد کی معاونت بھی کرتے تھے-

    میاں محمد اکبر نے سن 1962 میں مغربی پاکستان ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اس وقت قانون ساز اسمبلی ممبران کا انتخاب بی ڈی ممبران کیا کرتے تھے حلقہ انتخاب میں کُل باسٹھ پی ڈی مبران تھے جن مین سے پچپن نے میاں محمد اکبر کو ووٹ دیئے اور یوں میاں محمد اکبر نے ضلع بھر میں اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھا دی-

    میاں محمد اکبر
    میاں محمد اکبر ایک غیر متزلزل آہنی عزم رکھنے والے بہادر اور نڈر انسان تھے وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ببانگ دہل بال خوف و خطر ٹکرائے مگر کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہ لائے اور کبھی انا کا مسئلہ نہ بنایا وہ دوستوں کے دوست اور مخالفوں کے دل میں بھی اپنا احترام رکھتے تھے میاں محمد اکبر سھر انگیز شخصیت کے مالک تھے جو بھی ان سے ایک بار ملتا دوسری ملاقات کی بھی چاہ رکھتا اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ بن جاتا-

    میاں محمد اکبر کو تعلقات بنانے اوراور نبھانے میں ملکہ حاصل تھا سن 1962 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے بی ڈی ممبران جنہیں آجکل ناظم چئیرمین کہا جاتا ہے میں 6 آزاد 3 چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے حامی جبکہ باقی تمام 51 ممبران نے میاں محمد اکبر کے حق میں ووٹ دیا-

    میاں محمد اکبر سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر اُبھرے اور بلا تفریق ذات پات برادری عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا یہی وہ خوبی تھی کہ غیر کاشتکار ہونے کے باوجود انہیں تمام برادریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی میاں محمد اکبر اکثر کہا کرتے تھے کہ حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ تمام لوگ انسانی برادری ہیں یہ وہ وقت تھا جب نوابزادگان طویل عرصہ سے ضلوع گجرات کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے-

    پگانوالہ اور جوڑا خاندان بھی بھر پور اثرو رسوخ کے مالک تھے مگر تمام تر مخالفتوں کے باوجود میاں محمد اکبر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوئے یہ ان کے بے لوث خدمات کا عوامی اعتراف تھا میاں محمد اکبر سن 1962 میں مختصر اپوزیشن کا حصہ تھے حمزہ صاحب، تابش علوری، خواجہ محمد صفدر ان کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر تھے- خواجہ صفدر میاں ، محمد اکبر کے قریبی رفقاء میں رہے اور میاں محمد اکبر کی اچانک بے وقت رحلت کے بعد میاں اکبر فیملی کے سرپرست رہے-

    واقفان حال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے زعماء کہتے ہیں کہ اگر گورنر پنجاب میر محمد خان ٹکٹ میاں محمد اکبر کو دے دیتے تو ضلع گجرات کی سیاست میں مزید بہتری آ سکتی تھی مگر ٹکٹ میاں محمد اختر پگانوالہ جو کراچی کے لئے دے دیا گیا اور انہوں نے میاں محمد اکبر کی نیک نامی کو استعمال کرتے ہوئے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی میاں محمد اکبر کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹکٹ آپ کے بھائی میاں اختر پگانوالہ کو دے دی گئی ہے یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد اکبر نے نوابزادگان کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کی بجائے اُٹھ کر چوہدری ظہور الہیٰ شہید کی طرف دست رفاقت بڑھایا اور مشترکہ انتخابی مہم کا آغاز کیا میاں محمد اکبر چوہدری ظہور الہیٰ گوجروں کے حلقہ میں لے گئے اور انہیں قریہ قریہ متعارف کرایا-

    چوہدری ظہور الہیٰ شہید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے بعد ان کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین ، صاحبزادے چوہدری وجاہت حسین پوتے چوہدری حسین الہیٰ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں نوابزادگان کی بے رخی کے باوجود گوجر برادری میاں اکبر خاندان کے ساتھ بے پناہ انس و محبت رکھتی ہے جو آج بھی قائم ہے صد حیف کچھ نادیدہ قوتوں حاسدین کو ضکع کے عوام کی ترقی فلاح و بہبود اور رواداری کی سیات کا یہ چلن پسند نہ آیا اور پھر وہ دردناک المیہ رونما ہوا کہ جس سے انسانیت کانپ اُٹھی 25 اکتوبر 1970 کو میاں محمد اکبر کو ان کے بھائی میاں محمد مسعود اختر سُسر میجر محمد عبداللہ محافظ سکندر کے ہمراہ بےدردی سے اجتماعی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا-

    میاں صاحبان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائدین کی بے وقت رحلت پر غم و حسرت کی تصویر بنے نظر آئے ایک ہفتہ تک شہر کے تمام بازار بند رہے میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر حقیقی معنوں میں یکجان دو قالب تھے انہوں نے یہ بھائی چارہ آخری دم تک خوب نبھایا-

    میاں محمد مسعود اختر
    میاں صاحبان کے اجتماعی قتل کا اندہناک سانحہ خاندان پر انتہائی قرب و مصائب کا سبب بنا سکول جاتے 6 معصوم بچوں نے اپنا وقت نہایت خوف کی کیفیت میں گزارا ان کے سامنے زندگی کے طویل کٹھن مراحل تھے اب غمناک شکستہخاندان کی باگ دوڑ تین پردیہ نشین خواتین اور کالج میں زیر تعلیم ایک ک عمر نوجوان کے کندھوں پر آن پڑی اور یہ نوجوان پُر عزم اور باہمت تھا مگر ابھی معاملات زندگانی اور سیایس اثرارو رموز سے واقف نہ تھا آفرین ہے اس باہمت نوجوان پر جس نے تمام تر غم و الم اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاز پر سے خلوص لگن کا اعلٰی مظاہرہ تھا-

    خاندانی علم تھامے رکھا اور تن تنہا اپہنے بزرگوں سے خلوص سے اپنے بزرگوں کے عوامی فلاحی مشن کو جاری رکھا غم میں ڈوبے ایل خان کے سامنے ایک طویل اور صبر آزما سفر تھا وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک عظیم سدقے سے ہل چکے تھے نہ صرف میاں اکبر خاندان بلکہ تمام اہل علاقہ کے لئے یہ ناگہانی صدمہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا-بربریت کے اس شرمناک اور بزدلانہ فعال کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جس مین 4 بے گناہ انسانون کو بڑی سفاکی سے دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہر آنے والا 25 اکتوبر کا دن 1970 کے اس قومی المیہ کی یاد لاتا رہے گا-جس کی قومی سطح پر بھر پور مزمت کی گئی آزمائش کی گھڑی میں میاں اکبر خاندان کے ساتھ وسیع حلقہ احباب ،دوستوں اتحادیوں اور خیرخوایوں نے بڑا ساتھ نبھایا-

    پھر دنیا سنے اس خاندان کو نہایت باوقار طریقہ سے گھمبیر صورتحال سے نکلتے دیکھا یہ بدرجہ اتم پختہ ایمان اعتماد اور مشن اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاذ پر سے پر خلوص لگن کا اعلیٰ مظاہرہ تھا اولیٰ تربیت کا اثر ان کی اولاد مین دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر سب کا بھلا کیا کسی کا بپرا نہیں چاہا اور نہ کبھی عیدے و اختیار کا غلط استعمال کیا بلکہ حکومت و سماجی پوزیشن کو خاندانی روایات کے مطابق فلاح عامہ کا ذریعہ بنایا آج خاندان سیاسی و سماجی خدمت کے 100 سال پورے کر چکا ہے جس مین میاں محمد اکبر اور میان محمد مسعود اختر کا سانحہ ارتحال کے بعد اس نصف صدی میں شامل ہے-

    یہ فیصلہ کرنے کے لئے دنیا ایک مشکل اسکریننگ سنٹر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو کیسے آگے بڑھایا۔ میاں برکت خاندان کی جانشین نسلوں کو سلام۔ ہم صحیح ، غلط یا اس دور تک پہنچے ہیں ، اب یہ نوجوان نسل پر منحصر ہے۔ انہیں اپنے بڑوں کے انہیں اپنے بڑوں کے مشن کو آگے کیسے بڑھانا ہے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

    میاں ہارون مسعود اور گجرات کے میاں عمران مسعود اس خاندان کے سپوت ہین جو اپنے فلاحی منصوبوں اور سیاسی کیریئر کے لئے جانا جاتا ہے۔

    میاں ہارون مسعود


    میاں عمران مسعود

    تحریر: چودھری مقصود انور

  • ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ کی تباہ کن بولنگ جاری

    ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ کی تباہ کن بولنگ جاری

    ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان)
    نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جہاں اپوزیشن جماعت ٹاس جیت کرحکومت مخالف تحریک کی بیٹنگ کا آغاز کر چکی ہے۔وہی حکومت کے نوجوان باؤلر ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ نے اپنی تباہ کن بولنگ کا آغاز کر دیا۔اپنےپہلے ہی سپیل میں نوجوان باؤلر نےحریف جماعت کے تین بیسٹ مین کو آؤٹ کر کے آپنے ڈگ آؤٹ کا حصہ بنا لیا۔پی ٹی آئی کے ڈگ آؤٹ کا حصہ بننے والوں میں
    منڈی فیض آباد سے ریاض بھٹہ،حاجی اشرف قاضیاور مغلاں والا سے محمد اکمل شامل ہیں۔
    اس موقع پر حکمران جماعت کی نمائندگی کرنے والوں میں پیر قیصر شاہ(چیرمین زکوٰۃ و عشر کمیٹی ننکانہ)،رائے فیصل محمود کھرل(صدرآئی ایس ایف ضلع ننکانہ),لیاقت سندھواور رائے عمر حیات تھے۔

  • نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں  فواد چودھری

    نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں فواد چودھری

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کاقوم سےتقریرمذاق ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف جس طرح انقلاب لارہےہیں ہم نےکبھی نہیں دیکھا نوازشریف کاقوم سےتقریرمذاق ہے-

    فوادچودھری نے کہا کہ نوازشریف اپنےکاروبارکی بات کررہےہیں کہ وہ ان کےدورمیں بہت اچھاتھا نوازشریف پاکستانی معیشت کابیڑاغرق کرکےگئے-

    فوادچودھری نے مزید کہا کہ نوازشریف اداروں کوآپس میں لڑاناچاہتےہیں نوازشریف کی تقریروں کوبراہ راست دکھانامیڈیاکی آزادی کاثبوت ہے

    فوادچودھری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کبھی سرکاری عہدےپرنہیں رہےلیکن اس کےباوجود انہوں نے منی ٹریل پیش کیا-

  • نواز شریف نے سچ بولنا شروع کیا ہے اور حق اور سچ کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے  مریم نواز

    نواز شریف نے سچ بولنا شروع کیا ہے اور حق اور سچ کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نےاپنے خطاب میں کہا کہ نواز شریف نے سچ بولنا شروع کیا ہے اور حق اور سچ کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے-

    باغی ٹی وی : مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں دھرنے، ڈان لیکس سمیت سب کچھ نواز شریف نے اپنے سینے پر لیا جب اداروں کو یرغمال بنا لیا گیا تو نواز شریف نے سچ بولنے کا فیصلہ کر لیا ہے-

    مریم نواز نے کہا کہ تمام تر ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد بھی معاملات ان کے حق میں نہیں چلے تو اب یہ سب کچھ کیا جا رہا ہےمیڈیا بھی خوف کی زنجیروں میں تھا لیکن اب زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں-

    مریم نواز نے کہا حق اور سچ کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے میں نے پہلے بھی قیمت ادا کر رکھی ہے اور اب میرا خود مکمل ختم ہو چکا ہے مجھے گرفتار کیا گیا تو سیاہی آپ کے اپنے چہرے پر ملی جائے گی-

    مریم نوز نے اپنے خطاب میں کہا کہ نواز شریف لندن سے پارٹی کی قیادت کرینگے ہمارے پاس لیڈروں اور کارکنوں کی کوئی کمی نہیں
    آپ انہیں گرفتار کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن لیگی کارکنوں کی تعداد میں کمی نہیں آئے گی مشکلات آتی ہیں تو تاریخی طور پر لوگ پیچھے ہٹ جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا-

    مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ میری ریلی کے بعد لیڈر نہیں کارکن گرفتار ہوئے مسلم لیگ ن متحد ہے اور ہمیشہ رہے گی اب آئین اور قانون کی بالادستی کی بات ہو گی-

    مریم نواز نے پی ٹی آئی حکومت کے بارے میں کہا کہ اس حکومت کی بنیاد کمزور ہے جسے گرانا کوئی مشکل بات نہیں ہےادارہ کوئی بھی استعمال ہو رہا ہے، ان کے پیچھے چہرے ایک ہی ہیں عمران خان کمزور، نااہل، اور سازش سے آیا تو جب خود کر نہیں سکتا تو اداروں کو سامنے لے آتا ہے مذاکرات قانون اور انصاف والے شخص یا ریاست سے ہو سکتے ہیں لیکن ایسی حکومت کو میں ماننے کو تیار نہیں
    میں اسے وزیراعظم ماننے کو تیار نہیں

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر کے بعد 10 لوگ ان کی تقریر کا اثر زائل کرنے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں جس پر غداری کے الزامات لگتے رہے ہیں، ان سے بڑا محب وطن کوئی نہیں ہے نواز شریف کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے یہ حکومت والے نواز شریف کی باتوں کا جواب دیں نواز شریف چوتھی بار بھی وزیراعظم بنیں گے-

    مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ہمارے سیاسی مخالفین ہیں ان سے انتخابی میدان میں مقابلہ ہوتا رہے گا-

    مریم نے کہا کہ ملکی دفاع کی بات آتی ہے تو نواز شریف ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کی کوشش کرتا رہے گا اگر یہ جنگ عوام کے بل بوتے پر لڑیں گے میری گاڑی پر حملہ ہوا اور مجھ پر ہی مقدمہ درج کر لیا گیا میں نے اس مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری نہیں کروائی
    مجھے گرفتار کرنا ہے تو بے شک کر لیں-

  • گرفتاری کا کوئی خوف نہیں اگر مجھے گرفتار کیا تو 10لوگ اورہیں جواس تحریک کوچلائیں گے  مریم نواز

    گرفتاری کا کوئی خوف نہیں اگر مجھے گرفتار کیا تو 10لوگ اورہیں جواس تحریک کوچلائیں گے مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوز کا کہنا ہے کہ گرفتاری کا کوئی خوف نہیں اگر مجھے گرفتار کیا تو 10لوگ اورہیں جواس تحریک کوچلائیں گے-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نےجوراستہ چنا توپتہ تھا کہ مشکلات آئیں گی لیکن ہم ان مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کریں گے-

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن متحد ہے،ووٹ بینک کم نہیں زیادہ ہواہے گرفتاری کاکوئی خوف نہیں شاہدخاقان عباسی گرفتارہوئےتورانا ثنااللہ آجائیں گے اور اگر مجھےگرفتارکیا گیا تو10 لوگ اورہیں جواس تحریک کوچلائیں گے اور نوازشریف لندن سےبیٹھ کرلیڈ کریں گے-

    مریم نواز نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں کی وجہ سےوقت سےپہلےگرجائےگی میں موجودہ حکومت کوتسلیم نہیں کرتی عمران خان سازش کےذریعےآئےہیں-

    مریم نواز نے کہا نوازشریف نےکہاہےکہ تمام جماعتوں کوساتھ مل کرچلناہے موجودہ حکمرانوں سےنوازشریف کاموازنہ نہیں کیاجا سکتا وہ 3 بار وزیراعظم رہے اور نوازشریف چوتھی باربھی وزیراعظم بنیں گے-

    مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کےلوگ مشکلات سےنہیں گھبرائیں گے مسلم لیگ ن پورےپاکستان کی جماعت ہے ہم لانگ مارچ کریں گے اور لانگ مارچ اسلام آبادکی طرف ہی ہوگا-