Baaghi TV

Category: سیاست

  • عدالت نےتوثیق کردی کہ نوازشریف کی رپورٹس سازبازکےذریعےبنائی گئیں  وفاقی وزیرغلام سرور

    عدالت نےتوثیق کردی کہ نوازشریف کی رپورٹس سازبازکےذریعےبنائی گئیں وفاقی وزیرغلام سرور

    وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کا کہنا ہے کہ عدالت نےتوثیق کردی کہ نوازشریف کی رپورٹس سازبازکےذریعےبنائی گئیں-

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیرغلام سرور کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ن لیگ والوں کوبہت پہلےسےجانتاہوں پہلےکہاتھاکہ میڈیکل بورڈکوگمراہ کرکےمرضی کی رپورٹس لیں اب تو عدالت نےتوثیق کردی کہ نوازشریف کی رپورٹس سازبازکےذریعےبنائی گئیں تھیں-

    غلام سرور نے نواز شریو کی رپورٹس بنانے والے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی رپورٹس بنانےوالےڈاکٹروں کےخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے

    انہوں نے کہا کہ اگرنوازشریف واقعی بیمارہوتےتولندن سےکوئی میڈیکل رپورٹ توآتی-

    وفاقی وزیر غلام سرور نے مزید کہا کہ نوازشریف اس بارسب کودھوکہ دےکرگئے ہیں ہمیں نوازشریف کوباہربھیجنےکاسیاسی خمیازہ بھگتناپڑےگا-

    وفاقی وزیرغلام سرورخان نے نواز شریف پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کاانتہائی داغدارماضی ہے نوازشریف کاایجنڈااینٹی پاکستان ہے-

  • عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    تٹی وی پر نشر ہونے والی خبریں اور اخبار دیکھ کر اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری عوام کو تو بس مرنے کا اِک موقع یا بہانہ چاہئےکیونکہ ہماری عوام ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جس میں ان کے جان سے جانے کے واضح امکان موجود ہوں، اب وجہ بھلے ہی کوئی بیماری، پرانی آپسی دشمنی، ٹرین حادثہ ، ہوائی جہازحادثہ یا پھر زہریلا کھانا ہو، عام عوام اکشرہی درجنوں کے حساب مرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سیاستدانوں کی عقلمندی پر داد دینا ہوگی،وہ ایسی احمقانہ حرکتیں نہیں کرتے اور عام طور پران حادثات کاشکار بھی نہیں ہوتے۔

    کچھ گولیوں سے مرگئے کچھ وائرس سے مرگئے
    کچھ مرتے لوگوں کو دیکھ کر مرگئے

    کچھ گندا پانی پی کر مر گئے
    کچھ نہ کھانے سے مر گئے

    کچھ زیادہ کھانے سے مر گئے
    جو بچے وہ خود کو زندہ دیکھ کر مر گئے

    اگر کوئی نہیں مرا تو وہ ہے سیاستدان
    ورنہ یقین کیجئے مر گئے سارے ہی مر گئے

    نوٹ: مندرجہ بالا اشعار میں جتنےبھی لوگ اپنی جانوں سے گئے وہ تمام عام آدمی ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مر گئی دنیا ساری مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

  • انسان از وہاب ادریس خان

    انسان از وہاب ادریس خان

    دنیا چاند پر پانی ڈھونڈنے میں مصروف ہے اور ہم کراچی کے گٹروں کے پانی کو لے کر پریشان ہیں۔ ہر سال مون سون کا موسم آتے ہی کراچی کے گٹر اُبل پڑتے ہیں اور حسبِ معمول شہری چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔ سینکروں ٹی وی شوز بھی اس موضوع پر کر دئے جاتے ہیں اور اس سال محکمہ موسمیات نے بھی بیس فیصد زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے گٹر صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ سننا تھا کہ بس ہمارا دھیان فوراَ اس بات پر چلا گیا کہ ہم نے ایٹم بم بنا یا بھی ہے یاایسے ہی غلط بیانی کی ہے، لیکن پھر جب چاغی کے پہاروں کا بدلہ رنگ یاد آیا تو یقین ہوا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنایا ہےاور وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گٹر صاف نہیں کر سکتے۔ بات صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے، اسلام آباد میں تو ورلڈ ریکارڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ دنیا کہ تمام ممالک اب تک صرف جہاز اڑانے میں کامیا ب ہوئے ہمارا تو ائیر پورٹ اڑتے اڑتے رہ گیا۔ پچھلے دنوں اِک ہلکی سی آندھی نے جو تباہی مچائی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ سب دیکھ کر تو حیرانی ہی ہوئی تھی لیکن سخت پریشانی اس وقت ہوئی جب لاہور میں دو بزرگوں کا مکالمہ سُنا۔ ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھ رہے تھے اڑے بھائی کورونا وائرس کو تم کہیں دیکھے ہو کیا؟ اور جواب تو اور بھی متا ثر کُن تھا؛ نہیں میاں پتہ نہیں کیا ڈرامہ ہے ہمیں تو کہیں نہیں ملا ابھی تک، تمہیں ملے تو ضرور بتانا۔

    یکِ بعد دیگرِ تین بڑے شہروں کے واقعات بیا ن کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے مسائل علاقائی یا شہری نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، اور یہ مسائل ہماری سوچ اور ذہنیت میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی سی گورنمنٹ ہو یا کوئی کنٹریکٹر جو تھوڑے سے پیسے بچانے کی خاطر پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور منافع اور سیاست کوانسانیت پر ترجیح دیتے ہیں اور یا چاہےوہ پاکستان کا عام آدمی ہو جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسی باتیں پھیلا دیتا ہےجس کے نتائج بہت خطر ناک نکل سکتے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان نے احساس پروگرام تو شروع کر دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان میں "انسان” پروگرام شروع کیاجائے جس پر انسانوں کی ذہنی سوچ پرکام ہونا چاہئےجس کے تحت انسانوں کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا جائے۔ میرا ایمان ہےجس دن ہم مکمل انسان بن جائیں گے پاکستان دن دُگنی رات چُگنی ترقی
    کرے گا

    غالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔

    بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

  • پاکستانی ایکسپرٹ کی حقیقت بیان کرتی تحریر از احمد قریشی

    پاکستانی ایکسپرٹ کی حقیقت بیان کرتی تحریر از احمد قریشی

    ابھی ایک بڑے پاکستانی ٹی وی چینل سے کال آئی. پروڈیوسر نے کہا کہ کل پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے پر ہم ماراتھون ٹرانسمشن کر رہے ہیں. آپکا وقت چاہئے ایک گھنٹہ کیلئے. میں نے کہا کہ آپکے چینل پر بیٹھنے پر مجھے بہت خوشی ہوگی لیکن ایک مسئلہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ میں بجٹ اور معاشیات کا خبیر اور ماہر نہیں ہوں. بہت حد تک میں ایک پاکستانی شہری کے طور پر بات کر سکتا ہوں لیکن اس سے زیادہ نہیں. آگے سے آواز آئی، کوئی بات نہیں ایک دو آرٹیکل پڑھ کر آ جائیں کچھ نہیں ہوتا. میں نے مسکرا کر کہا کہ میرا یہ سبجیکٹ ہی نہیں ہے، میرا فیلڈ نہیں ہے.

    فون رکھنے کے بعد مجھے یاد آیا جب 2015 میں پاکستانی چینلز پر یمن جنگ پر مباحثے ہو رہے تھے. ایسے ایسے لوگ آ کر تجزیے دے رہے تھے جنھیں یمن کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا. ایسے ماہا پاکستانی سٹریٹجست اینکر صحافی سیاستدان عسکری ماہر اور مولوی بیٹھے ہوئے تھے یمن پر ایکسپرٹ رائے دینے جنھیں سلطنت ‘عمان’ اور اردن کا دارالحکومت ‘عمان’ میں فرق نہیں پتہ، بلکہ وہ قطر 🇶🇦 اور بحرین 🇧🇭 کے پرچم میں فرق نہیں بتا سکتے تھے لیکن ما شاء اللہ… بس شکر ہے کہ مشرق وسطی اور انٹرنیشنل میڈیا پاکستانی میڈیا کو فالو نہیں کرتا. (ویسے دو سال قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے بحرین کے أمیر یا وزیر اعظم کی پاکستان آمد پر پورے اسلام آباد میں قطر کے پرچم لگا دیئے، یہ حال ہے ان لوگوں کا جو ایک ایٹمی پاور کی خارجہ پالیسی کے نگہبان ہیں.)

    خیر، اصل بات کی طرف واپس، سوچیں کہ سالانہ بجٹ کتنا اہم موضوع ہے، اور پھر سوچیں کہ ہمارے میڈیا میں ٹی وی جرنلزم کا سٹینڈرڈ کتنا گرا ہوا ہے کہ یہ چینلز کچھ پیسے دے کر اچھے معاشیات کے ماہرین کو ایک دن کے لئیے مدعو نہیں کر سکتے، بلکہ مفتے میں کوئی بھی آ جائے ایک دو اخباری آرٹیکل پڑھ کر. الٹے سیدھے لوگ جب قومی معاملات پر بات کرتے ہیں تو پھر عوام کا بھی ریاست پر اعتماد ختم ہوتا ہے. یہ ہے پاکستانی دو نمبری. اچھا کام نہیں کرنا، بس گزارا کرنا ہے.

    میں آپکو یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ کل بجٹ پر سارے پاکستانی چینلز لمبی نشریات کر رہے ہوں گے. بہت سی مہمان شخصیات گفتگو کر رہی ہوں گی. باقی آپ خود سمجھدار ہیں.

    أحمد قریشی

  • شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان  کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    شیخ سعدی کا وزیراعظم عمران خان کو مشورہ —-از—علامہ علی شیرحیدری

    معززقارئین کرام کہتے ہیں‌کہ ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا ،بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کردیاجائے،بادشاہ کے حکم پرجلاد اسے قتل گاہ کی طرف لے کرچلے تو اس نے بادشاہ کوبُرا بھلا کہنا شروع کردیا ،کسی شخص کے لیے بڑی سے بڑی سزایہی ہوسکتی ہےکہ اسے قتل کردیا جائے ،اورچونکہ اس شخص کویہ سزاسنائی جاچکی تھی اس لیئے اس کے دل سے یہ خوف ختم ہوگیا کہ بادشاہ ناراض ہوکردرپے آزارہوگا

    بادشاہ نے یہ دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیرسے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے،؟بادشاہ کا یہ وزیربہت نیک دل تھا اس نے سوچا اگرٹھیک بات بتادی جائے تو بادشاہ غصے سے دیوانہ ہوجائے گا اور ہوسکتا ہے کہ قتل کرنے سے پہلے قیدی کو سخت سے سخت عذاب میں مبتلا کردے ،

    وزیرنے جواب دیا جناب یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ پاک ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جوغصے کو پی جانے والے ہیں ، لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں‌،

    وزیرکی بات سن کربادشاہ مسکرا اوراس نے حکم دیا کہ اس شخص کو آزاد کردیا جائے ، بادشاہ کا ایک اوروزیرپہلے وزیرکا مخالف اورتنگ دل ،تنگ نظراورسنگ دل بھی تھا وہ خیرخواہی جتانے کے اندازمیں بولا”یہ بات ہرگزمناسب نہیں ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیراسے دھوکے میں رکھیں اورسچ کے سوا کچھ اورزبان پرلائیں ،

    یہ وزیرکچھ اس انداز سے کہانی سناتا ہے کہ قیدی حضورکی شان میں گستاخی کررہا تھا ، غصہ ضبط کرنے اوربھلائی سے پیش آنے کی اس نے کوئی بات نہیں کی ،

    وزیرکی یہ بات سن کرنیک دل بادشاہ نے کہا "اے وزیرتیرے اس سچ سے جس کی بنیاد بغض اورکینے پرہے، تیرے بھائی کی غلط بیانی سے بہترہے کہ اس سے ایک شخص کی جان بچ گئی

    بادشاہ نے کہا کہ یادرکھ !اس سچ سے جس سے کوئی فساد پھیلتا ہو، ایسا جھوٹ بہتر ہے جس کوئی برائی دورہونے کی امید ہو،

    وہ سچ جوفساد کا سبب ہو بہتر ہے نہ وہ زبان پرآئے اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے جوآگ فساد کی بجائے

    حاسد وزیربادشاہ کی یہ بات سن کربہت شرمندہ ہوا ، بادشاہ نے قیدی کوآزاد کردینے کا فیصلہ بحال رکھا اوراپنے وزیروں کونصیحت کی کہ بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشورے پرعمل کرتے ہیں‌،
    وزیرروں کا فرض ہے کہ وہ ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالیں جس میں کوئی بھلائی نہ ہو.اس نے مزید کہا کہ "یہ دنیاوی زندگی بہرحال ختم ہونے والی ہے ، کوئی بادشاہ ہو یا فقیرسب کا انجام موت ہے،

    اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی شخص کی روح تخت پرقبض کی جاتی ہے فرش خاک پر

    حکایت کی اصل روح یہ ہےکہ خلق خدا کی بھلائی کا جزبہ انسان کے تمام جزبوں پرغالب رہنا چاہیے ،اورجب یہ اعلیٰ وارفعٰ مقصد سامنے ہوتو مصلحت کے مطابق رویہ اختیارکرنے میں مضائقہ نہیں

    بادشاہ وقت کواپنے آس پاس بیٹھنے والے وزیروں میں ایسے وزیرکی بات پرہمیشہ توجہ دینی چاہیے جس کی سوچ جزبہ دیدنی اورمذکورہ وزیرجیسا ہو

    حوالہ : حکایات گلستان سعدی ص نمبر12

    ازقلم : علامہ علی شیرحیدری

  • حکومت، لاک ڈاؤن،اور غریب عوام ——از—- ساجدہ بٹ

    حکومت، لاک ڈاؤن،اور غریب عوام ——از—- ساجدہ بٹ

    ہر سُو بکھرا ہوا وبا کا خوف دِن بہ دن بڑھ رہا ہے اس مرض سے بچنے کے لیے لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
    یہ سب ہماری بھلائی کے لئے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن۔۔
    اے وقت کے حکمران سنو۔۔۔
    لاک ڈاؤن سے ہم بیماری سے تو بچ جائیں گے لیکن بھوک سے مر گئے تو اُس کا حساب کون دے گا؟؟
    غریب عوام کی موت کا ذمدار کسے ٹھہرایا جائے گا؟
    حکومت نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بہت زیادہ مدد تو نہیں کر سکتے ہیں اتنا پیسہ تو ہے نہیں ۔۔۔
    اور جو حزب اختلاف پارٹیاں ہیں جو کئی عربوں کھربوں ڈالر کی ملکیت ہیں انہوں نے اس مشکل وقت میں کتنا پیسہ داؤ پر لگایا؟؟
    کس نے رات چھپ کے لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچایا؟؟
    اگر کچھ مدد کی بھی گئی تُو اُس کے لیے بھی پہلے کئی کئی اجلاس ہوئے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی گئی ۔۔۔
    اور پھر کہیں جا کر اپنے علاقوں کے کچھ لوگوں کو فوٹو گرافی کے ساتھ راشن دیا گیا۔۔۔
    حکومت نے غریب عوام تک راشن پہنچانے کے لیے اب تک کئی اجلاس کر دیے اور اب بھی کہا گیا کہ یہ معاملات ریجسٹریشن وغیرہ کے مراحل میں ہے ۔۔
    افسوس ہے اس وقت کے امیر طبقہ کی خاموشی پر ۔۔۔۔۔
    اور اگر غریب عوام کی مدد کے لیے کچھ پیسہ دینے کا کہا بھی گیا تو صرف 2,3 ہزار کی مدد ۔۔۔۔
    بھلا اتنے پیسوں میں ایک مہینے کا خرچ کیسے ممکن ہے ؟
    چلو اتنا ہی سہی مگر دو گے کب ؟؟؟
    جب بھوک سے نڈھال عوام سڑکوں پر آجائے گی
    جب عوام چوری چکاری پر اُتر آئے گی
    جب چھینا جھپٹی شروع ہو جائے گی
    غریب عوام کا جو بھوک سے بُرا حال ہو رہا ہے تو یقینا اب سے کچھ دنوں بعد یہ حال بھی شروع ہو جائے گا ۔۔۔
    ایسے حالات پیدا کیوں نہ ہوں یہاں زیادہ آبادی دیہاڑی دار طبقے کی تھی کوئی مزدوری کرتا تھا، کوئی رنگ کرنے والا،کوئی پہاڑیوں پر کام کرنے والا کسی کی چھوٹی موٹی دکان تھی ۔۔۔یہ وہ لوگ تھے جو روز کا روز کما کر لاتے تھے تو ہی شام کو کھانا کھاتے تھے ۔
    اب یہ سب بند ہے گھر سے کوئی نکل نہیں سکتا کام پر کوئی جا نہیں سکتا تو پھر کھائیں گے کہاں سے
    اور راشن پہنچانے کے لیے اجلاس پر اجلاس ہوئے جا رہے ہیں لیکن ملے گا تب شاید جب عوام بھوک سے مرنے لگے گی ۔۔۔
    اور پھر رہی بات حق،حق دار تک۔۔۔۔
    تو یہ بات تو میں نے اپنی زندگی میں پوری ہوتی دیکھی ہی نہیں
    پہلی بات تو یہ کہ غریب تک مدد پہنچتی ہی نہیں اگر پہنچ بھی جائے تو مثال کے طور پر اگر 100 ہے تو غریب آدمی تک پہنچتے پہنچتے 30 رھ جائیں گے۔۔
    سنو لوگو۔۔۔۔
    اگر یہ ہی حال رہا تو آنے والا دور اس سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے اس بیماری سے بھی زیادہ خطرناک ۔۔۔
    ہم صرف حکومت کو ہی بلیم نہیں کر سکتے جو پیسے والے ہیں عام لوگ اُن کو بھی اس مشکل وقت میں حکومت اور غریب عوام کا ساتھ دینا ہو گا
    یاد رکھنا۔۔۔
    زندگی نا رہی تو پیسہ کس کام کا؟؟
    جو دے سکتے ہیں مدد کر سکتے ہیں تو اب کریں کیوں کہ یہ وقت ہے کھلے دل سے مدد کریں غریب لوگوں کی دعائیں سمیٹ لیں۔۔
    اس سے اللہ تعالیٰ بھی خوش اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی خوش ہو گی ۔۔
    زیادہ نا صحیح اپنے گھر کے آس پاس غریب لوگوں کا پتہ کریں اُن کی مدد کریں پھر محلے کے لئے پھر اسی طرح اپنے گاؤں اور قصبے کے لئے آگے بڑھیں ۔۔۔
    گھبرانا نہیں جتنا لوگوں پر لگاؤ گے اللہ تعالیٰ اتنا مال عطا کریں گے اتنی برکتیں اور نیکیاں سمیٹتے چلے جائیں گے۔۔۔۔
    اس ساری صورتحال کے باوجود کُچھ ایسے فلاحی ادارے بھی ہیں جنہوں نے اب تک غریب عوام کی مدد کے لیے کافی حد تک راشن کا انتظام کیا اور کچھ نے رات کے اندھیرے میں چھپ کے لوگوں کی مدد کی اللہ تعالیٰ اُن کو اس کا بہت اجر عظیم عطا فرمائے گا۔۔۔
    لیکن پھر بھی جتنی ملک کی آبادی ہے اُس کے لیے حکومت،عوام سب کو نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا پھر ان شاء اللہ ۔
    اللہ نے چاہا تو اس بیماری اور غربت سے ضرور نجات حاصل ہو گی ۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

    حکومت، لاک ڈاؤن،اور غریب عوام
    تحریر: ساجدہ بٹ

  • ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    صاحب صدر , گرامی قدر , قابل عزت, قابل احترام , صدر مملکت, ہمارے قومی ہیرو, جناب وزیر اعظم پاکستان …
    اسلام علیکم….!!!
    امہد کرتی ہوں آپ خیریت, ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہونگے….
    میں مملکت پاکستان اور ریاست اسلام کی ایک ادنی سی بندی ایک چھوٹی سی عرض لے کر آپکی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں…..
    اس امید کے ساتھ کہ آپ نظر ثانی کے بعد توجہ طلب نتائج سامنے لائیں گے…اور عوام کیلئیے اپنے اصلاحی فلاحی اور مثبت اقدامات ایک اور اضافہ کریں گے…

    جناب عالی…!!!
    عرض یہ کرنا چاہتی ہوں کہ جس طرح احسن طریقے سے آپ نے کورونا وائرس کو لیتے ہوئے احتیاطی اقدامات نافذ کروائے ہیں…اور عمل درآمد کروایا ہے…اسی سے منسلک ایک چھوٹی سی سوچ میں آپکے گوش گزارنا چاہتی ہوں… جسے پروان چڑھا کر آپ تناور درخت کی ماند کھڑا کریں گے…جس کے سائے میں یہ مملکت پاکستان اس عذاب خداوندی کی کڑی دھوپ سے آرام پائے گی…

    جناب صدر ہر انسان کی فطرت میں یہ چیز پوشیدہ ہے کہ….اسکی ذہنی اور قلبی کیفیت کو جو شخصیت متاثر کرتہ ہو اسی کی بات اسکے ذہن و سوچ میں گھر کرتی ہے….اسی انسانی فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف سیلبریٹیز کو ہائر کر کے ان سے کورونا سے متعلق حفاظتی اقدامات کہلوائے گئے….تا کہ عوام دلچسپی سے سنے اور عمل کرے…. سیلیبریٹیز کی طرح آپ سے بھی قوم بہت متاثر ہے…آپکو اپنا ہیرو مانتی اور جانتی ہے…آپکو سنتی ہے…
    تو کیوں مہ اپنے سننے اور چاہنے والوں کی زندگیوں کی ضنمامت کے طور پر آپ کوتونا سے متعلق اقدامات میں ایک ایسی نئ اور متاثر کن حکمت عملی کا اضافہ کریں خو نہ صرف ان کی جان.کیلییے امان ثابت ہو بلکہ اس آفت کے مٹنے کے بعد بھی آئندہ اور بعد کی زندگی میں ان کیلئیے راحت کی موئجب بنی رہے…

    جیسے کہ ان اقدامات کے تحت عوام.میں فاصلے تو پیدا ہو گئے ہیں لیکن اس کے بر عکس ایک گھر ایک چھت ایک یونٹ کے اند رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں…
    ایک کفالت کرنے والا باپ جو منہ اندھیرے خوابیدہ بچوں کو چھوڑ کر کمانے کی فکر میں دنیا کی ےیز رفتاری میں دھکے کھا کر … سارا دن معاشرے اور حالات کی سختی کے بعد …کمائی کے چند پیسوں کے ساتھ ….دہلیز کے اس پار آرام.اور سکون کی دنیا گھر میں داخل ہوتا تو اپنے پیارون کو خواب غفلت میں ڈوبا پا کر مایوس چہرے کے ساتھ ….کھا پی کر….بستر پر آرام کیلئے…اگلے دن کی تکیلف دہ سوچوں اور فکروں کے ساتھ سو جاتا تھا…

    آج وہ باپ اپنی اولاد کو اپنے سامنے پاتا ہے انکو دیکھتا… ہے سنتا ہے…باتیں کرتا ہے…اور وعض و نصیحت کرتا ہے…ےو یہ اپکی اس حکمت عملی کے تحت ممکن ہوا ہے…
    اسی حکمت عملی کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے…اگر باپ اس وقت کو اولاد کی تربیت اور اصلاح کیلئیے استعمال کرے…
    ایک وہ تربیت ہے جو وہ بچپن سے اب تک اپنہ اولاد کی کرتا آرہا ہے…ایک یہ تربیت ہے…جو وہ اب کرے گا…قرآن اور اسکے ترجمے کی روشنی میں…

    لوگوں سے دوری اگر انسانوں کو اللہ کے قریب کر دے تو کیا یہ زیادہ فائدہ مند نہیں ? اپنے رب کو راضی کر کے اس عذاب سے بچنے میں….?
    کیا ہو اگر ہر والد نماز کے بعد اپنی اولاد کو ہمراہ لئیے چند قرآنی آیات کا ترجمہ سمجھائے…؟؟؟ جو اس نوجوان نسل میں سے برائی کی جڑ کو آہستہ آہستہ ختم کر سکتی ہیں…
    کیا ہوا اگر ہینڈ سینیٹائز کے ساتھ ہر باپ اپنی اولاد کو 5 وقت وضو کے علاوہ باقی وقت بھی باوضو رہنے کی تاکید کرے….؟؟؟

    قرآن جسھ کتاب الشفاء کہا گیا ہے ہر گھر میں موجود ہونے کے باوجود …باہر سے شفاء بخش ادویات خرید کر خود کا بچائو ممکن بنایا جا رہا ہے تو کیوں نہ تو کیوں نہ اس کتاب الشفاء کے استعمال کو معمولات زندگی اس طرح روز شامل کیا جائے کہ….صرف کورونا سے ہی نہیں…ہر طرح کی بیماری سے شفا یاب ہو جائیں…

    حفاظتی تدابیر کے ساتھ والدین بچوں کو اس کتاب الشفاء کیاوہ آیات ورد کروائیں جو جو ان کو عمر بھر کیلئے ہر بیماری سے شفا یاب کر دیں..
    وہ کتاب جو کردار کو تعمیر کر کے گوہر نایاب بنا سکتی ہے اس کتاب کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ ضروری قرار دے دیا جائے…تو ممکن نہیں بلکہ طے ہے کہ…
    قوم کو…

    ملک پاکستان کو…
    فرامنبردار اور جانثار بیٹے ملیں گے جو …جو علم و ہنر میں اتنے وسیع و فصیح ہونگے….کہ قومی صنعت و معیشت نیز ملکی ترقی میں سرمایہ ثابت ہونگے….
    گھر میں بیٹھے بچوں کو کمیوٹر اور انٹرنیٹ کے منفی استعمال سے ہٹ کر …انہیں مثبت اور تعمیری استعمال سکھایا جائے تا کہ وہ ملک و قوم کیلییے کچھ کر سکیں….
    یہ وقت ہے ایک باپ کے عملی کردار میں اترنے کا…

    تو….محترم عمران خان صاحب…آپ پوری قوم کے باپ ہیں…. یہ لائحہ عمل سروع ہوتا ہے,,,,,
    آپ سے…..
    آپ کے خطاب سے…
    آپکی حکمت عملی سے….
    آپ کے عملی کردار سے……
    ہم پاکستانی آپکی نافذ کردہ اس مہم

    Stay at Home
    میں اپکے ساتھ ہیں…جس میں آپ اس نئے نقطے کا اضافہ کر کے ….. اسے قوم.کیلئے
    مزید پر اثر…
    فائدہ مند….
    اور نفع بخش بنا سکتے ہیں…
    براہ کرم میرے اس نقطہ نظر پر….

    اپنے وجدان, اور زمانہ شناسی کی بے پناہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے…
    اپنے بیش قیمتی امور میں سے وقت نکال کر….
    تھوڑی توجہ فرما کر…
    ایک خطاب کا وقت مقرر فرما کر…

    وقت مقررہ پر پیغام بالعوام الناس کو لیکچر کے ذرئعیے ڈلیور کر کے…..
    اس پیغام کو اپنے چاہنے اور سننے والوں کے ذرئعیے عام کیجئے …. اور اس پر عمل ممکن بنائیے…..
    مجھ سمیت تمام عوام کی نگاہیں اپکے اس فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں… اس نقطہ پر عمل کروا کے ہم پاکستانیوں کو قلع اسلام کے اس سلطان عظیم,, جناب عمران خان پر فخر کا موقع فراہم کیجئیے….
    شکریہ
    عمران خان…..!!!
    فخر پاکستان…!!!
    پاکستان زندہ باد!!!!

    ✍🏻قلم نگار
    ڈاکٹر ماریہ نقاش

  • جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر

    جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر

    جنوبی پنجاب محاذ کے چیرمین سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری نے سوئی گیس فراہمی کی افتتاحی تختی کی نقاب کشی کی تو میرا زہین ماضی کے جھرونکھوں میں کھو گیا جب روجھان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مزاری اتحاد تھا اور اس اتحاد کے سربراہ سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری تھے ان کے پوتے سردار میردوست محمد مزاری ایم این اے منتخب ہوئے تو انکا ایک ہی ماٹو تھا

    روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی اس سلسلہ میں انھوں نے اس وقت کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہر ملاقات میں اپنا مطالبہ پیش کرتے رہے جس کا اقرار سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی مرحوم سردار شوکت حسین مزاری کی وفات پر اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری اور دیگر لواحقین سے تعزیت کے موقع پر اظہار کیا جب راجن پور اور روجھان کے صحافیوں نے (جن میں مجھے اعزاز حاصل ہے کہ میں بھی موقع پر موجود تھا )

    اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی سے کہا کہ اگر آپ آگئے ہیں تو آج سوئی گیس کی فراہمی کا اعلان کرکے جائے تو اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے تاریخی الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں انھوں نے کہا کہ کہاں ہیں ایم این اے دوست محمد مزاری سوئی گیس کی فائل لائے کتنا کا پراجیکٹ ہے دوست محمد مزاری اس وقت اپنے دادا سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری کے احترام میں ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ تعزیتی ماحول تھا اور تعزیت سابق وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری سے کرنی تھی

    اس لیے سردار دوست محمد مزاری اپنے بزرگ داد سردار میر بلغ شیر مزاری کے ہیچھے بیٹھے تھے تاہم یوسف رضا گہلانی کے کہنے پر سردار دوست محمد مزاری آگئے آئے اور روجھان راجن پور کو سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کو بریفنگ دی جس پر یوسف رضا گہلانی نے سوئی گیس کی فراہمی کے لیے اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی دلچسپی اور بار بار مطالبہ کا اظہار کرتے ہوئے روجھان راجن پور سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ابتدائی گرانٹ چوبیس کروڑ روپے کا اعلان کیا

    فوری جاری کرنے کی ہدایت بھی موقع پر کی اس ساری سٹرگل میں میں اس شخصیت کا زکر ضرور کرونگا جس نے اس تعزیتی ماحول میں روجھان کی عوام کو نہیں بھولے تھے جو صحافیوں کے عمدہ دوست تھے اور آج بھی ہیں جن کے باعث اتنے بڑے پراجیکٹ کی ابتدائی گرانٹ کے لیے ماحول بنا وہ تھے اس تعزیتی پروگرام کے آرگنائزر سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری جنھنوں نے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی اور سیکورٹی اداروں سے زبردستی یہ کہہ کر صحافیوں کے لیے ٹائم لیا کہ یہ ہمارے اپنے صحافی ہیں انکو ٹائم ضرور دیں جس پر صحافیوں کو الگ سے ٹائم دیا گیا جسمیں اسوقت وزیراعظم یوسف رضا گہلانی ،

    سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری ،سردار صفدر حسین مزاری ،سردار دوست میر محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری موقع پر موجود تھے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے اعلان کے بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے پائپ روجھان کے علاقہ ڈیرہ موڑ پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری اسلام آباد میں تھے انکو اطلاع دی گئ تو سوئی گیس فراہمی کو منصوبے کو بلاتاخیر شروع کرانے کے لیے باہمی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سابق سربراہ سردار طارق محمود مزاری کرینگے لہذا ڈیرہ موڑ کے مقام پر سابق وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سربراہ سردار طارق محمود مزاری نے سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کے ہمراہ سوئی گیس کی فراہمی کے میگا پراجیکٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا

    اس موقع پر میں اور میرا دوست صحافی محمد علی عامر گورچانی اور ندیم حشمت خان مزاری موقع پر موجود تھے سابق سربراہ وزیراعلی انسپیکشن ٹیم سردار طارق محمود مزاری کے پائپ لائن بچھانے کے سنگ بنیاد کے بعد پائپ لائن بچھانے کا کام تیزی سے شروع ہوا جو کہ چوک روجھان تک پائپ لائن بچھائی گئ جبکہ دوسرا مرحلہ چوک روجھان سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہوا اور سینکڑوں کی تعداد میں پائپ چوک روجھان پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری سردار سہیل ارسلان کے ساتھ موقع پر موجود تھے اور اپنی نگرانی میں روجھان چوک سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کاکام شروع کرایا روجھان شھر کی طرف پائپ لائن بچھائی جارہی تھی کہ پیلپز پارٹی کی حکومت کا میعاد ختم ہوگیا اس کے ساتھ ہی اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی ایم این اے شپ بھی ختم ہوگئ

    دوہزار تیرا کے الیکشن میں دوست محمد مزاری بدقسمتی سے دوبارہ اقتدار میں نہ آسکے اور سوئی گیس جیسا عظیم عوامی منصوبے کٹائی میں پڑ گیا بدقسمتی سے جو شخص روجھان سے ایم این اے کا ووٹ لے کر گئے روجھان کی عوام انکی شکل دیکھنے کو ترس گئے اس وقت کے ایم ہی اے نے بھاگ دوڑ میں بہت نام کمایا کئ صوبائی منصوبے بھی شروع کیے مگر وفاق میں روجھان کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث سوئی گیس فراہمی پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ایک افتاحی تقریب ہوئی شھر کی کھدائی بھی کی گئ

    مگر باقاعدہ طور پر سوئی گیس کی فراہمی پر عملی کام نہ ہوسکا جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا دوہزار اٹھارہ میں الیکشن کیمپین چلی تو الیکشن کیمپین کے دوران ایم این اے کے امیدوار سردار ریاض محمود مزاری نے روجھان کی عوام سے سوئی گیس فراہمی کا وعدہ کیا دوہزار کا اٹھارہ کا الیکشن ہوا تو روجھان سے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور سردار دوست محمد مزاری ایم پی اے بعد ازں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اقتدار سنبھالتے ہی ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری آرام سے بیٹھنے کی بجائے دبنگ انداز میں انٹری ماری اور روجھان کے مسائل حل کرنے میں لگ گئے

    یہ آئندہ الیکشن کی تیاری ہے یا عوام دوست پالیسی مگر اجمتاعی مسائل پر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میر دوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم شباب خان مزاری ،بابر خان ،عبدالجید مزاری اور دیگر افراد ایک ٹیم کی صورت میں کام کررہے ہیں الیکشن کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری ایک ٹیم کی صورت دبنگ اور عوامی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں

    انکی دن رات کی کاوش سے 70 سال بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کا خواب پورا ہوا ہے آج اللہ کے فضل وکرم سے روجھان کے گھر گھر میں سوئی گیس کے زرایعے چولہے جلنے شروع ہوگئے ہیں ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کی کاوش سے روجھان کی عوام کی لکڑیوں کی ناصرف اذیت ناک زندگی سے جان چھوٹ گئ بلکہ چولہے کی آگ کے دھواں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے چھٹکارہ مل گیا ہے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی کاوش ہے کہ جن افراد کے سوئی گیس کے کنکشن رہے گئے انکو جلد از جلد کنکنش لگ جائے تاکہ روجھان کو ملنے والی سہولت سے ہر فرد مستعفید ہوسکے

    ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور انکی ٹیم نے سوئی گیس کی فراہمی کا یہ سفر ابھی روکا نہیں نوجوان عوام دوست لیڈر سردار دوست علی مزاری نے سابق سردار اطہر علی خان مزاری اور اتحادی حمزہ کمال اور اظہر خان گوپانگ کے ہمراہ مٹھن کوٹ میں سوئی گیس کی فراہمی کا سروے کا افتتاح کردیا ہے جبکہ روجھان کی قریبی بستیوں کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی زاتی گرانٹ سے تین کروڑ روپے سوئی نادرن گیس کو مل چکے ہیں تاکہ روجھان کی قریبی بستیوں میں پائپ لائن بچھا کر سوئی گیس فراہم کردی جائے اتنی عظیم سہولت دینے پر روجھان کی عوام عوامی دبنگ لیڈر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،عوام دوست لیڈر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں خدا ایسے لیڈروں کو ہر مشکل سے دور رکھے اور خوشحال زندگی انکے مقدر رہے اللہ تعالی کا فرمان ہے جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں میں انکی مشکلیں دور کردیتا ہوں

    جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر